Struggle for the Soul of Islam
ڈاکٹر ابصار احمد
متعدد سیٹلائٹ چینلز‘ انٹرنیٹ اور یوٹیوب پر اسلام اور عصری دنیا کے سیاسی و تہذیبی و ثقافتی پس منظر میں مسلمانوں کے افکار اور تحریکی گروپس کے حوالے سے اس قدر مواد موجود ہے کہ اس کا احاطہ مشکل ہو جاتا ہے۔ راقم کو اس تحریر کے سر عنوان کے لیے انگریزی کی یہ عبارت اس قدر فکر انگیز لگی کہ اس کو جوں کا توں دینا مناسب خیال کیا۔ کرنٹ افیئرز پر لکھنے والے ایک معروف سکالر اور عالمی شہرت کے حامل طارق عثمان نے انٹرنیٹ پر موجود اپنی ایک مبسوط تجزیاتی تحریر کا عنوان اسی کو بنایا ہے۔طارق عثمان نے اپنی کتابوں اور لیکچرز میں سلطنت ِعثمانیہ اور اس کے خاتمے سے عصر ِحاضر تک عالمی سطح پر سیاسی اسلام کے لیے فعال معتدل اور متشدد دونوںگروہوں کا ذکر کیا ہے۔ موخر الذکر میں ISIS اور داعش شامل ہیں۔ تاریخی پس منظر کے بیان میں انہوں نے استعمار اور اس کے اثرات کا ذکر بھی کیا ہے۔ اُمّت کے علمائے حقہ کے خیال میں ہر ذی عقل شخص مغربی تہذیب کی تاثیر و تسخیر اور قوت و وسعت سے واقف ہے۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ مشرقی ممالک روحانی اور مادی حیثیت سے کمزور ہو چکے ہیںـ۔ ان کی قوتِ ایمانی اور خوداعتمادی میں انحطاط رونما ہو گیا ہے ۔ اس صورت حال کا مداوا حقیقی اسلام کی روح اور اسپرٹ کی بازیافت ہی سے ممکن ہو سکتا ہے۔
مدیر اعلیٰ ’’البرہان ‘‘ڈاکٹر محمد امین نے زیر نظر موضوع پر ’’مسلم نشا ٔۃ ِثانیہ ----- عروجِ اُمّت ِمسلمہ‘‘کے عنوان سے ۳۸۲ صفحات پر مشتمل ایک مفصل کتاب تصنیف کی ہے۔ ڈاکٹر محمد امین سرتاپا ایک صاحب درد و جذبہ ‘ اسلامی ایمانیات اور تہذیب و تمدن کے پرچارک ہیں۔ راقم آثم اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اس موضوع کی شرح و بسط میں انتہائی محنت کی ہے لیکن میرا احساس ہے کہ مسلمانوں کے عروج و زوال کے تصورات کے ضمن میں انہوں نے وہی موقف اپنایا ہے جو تجدد پسند (modernist) مسلم مفکرین کا ہے‘ یعنی وہ جو یقیناً راسخ العقیدہ (orthodox) ہیں اور متجددین ایک ہی پیج پر نظر آتے ہیں۔ چنانچہ ان کے قلم سے یہ جملہ بھی صادر ہوا ہے : ’’کسی قوم کا نظریۂ حیات غلط ہو لیکن وہ ا س سے محکم طور پر وابستہ ہو کر ترقی و عروج کے معروضی اصولوں پر عمل کر رہی ہو تووہ بھی حتماً ترقی و عروج سے ہمکنار ہو گی ۔‘‘(عروجِ اُمّت ِمسلمہ‘ ص ۴۰)
قبل ازیں ڈاکٹر صاحب دنیا میں ترقی اور اسبابِ دنیا کی وافر فراہمی کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے طے کردہ کچھ معروضی اصول بایں الفاظ بیان کرتے ہیں:
’’اللہ کی اطاعت کرنے والا (بشرطیکہ معاشرہ اس کا ہم خیال اور پشت پناہ ہو) جب اسلامی احکام پر عمل کرتا ہے تو ترقی کے ان معروضی اصولوں پر خود بخود عمل ہوجاتا ہے اور وہ دنیا میں ترقی کرنے لگتا ہے۔ اسی طرح ایک کافر جو بنیادی طور پر اللہ کے احکام کی اطاعت نہیں کرتا‘ وہ بھی اگر ترقی کے ان معروضی اصولوں پر عمل کرے تو وہ دنیا میں ترقی کر سکتا ہے‘ بشرطیکہ معاشرہ اس کی مزاحمت نہ کرے۔‘‘(ایضاً‘ صفحہ ۳۷)
قرآن وسُنّت کے مطالعے سے انہیں دنیا میں ترقی کے جو اصول معلوم ہوئے ہیں‘ وہ یہ ہیں: کسی نظریۂ حیات سے محکم وابستگی‘ تعلیم و تربیت‘ محنت‘ تنظیم و منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی۔ دوسری جانب مغربی دنیا کے کامیاب سیکولر لوگوں نے اس لسٹ میں اضافہ کرتے ہوئے وقت کی پابندی‘ مسلسل سیکھنا‘ خود اعتمادی‘ تعلقات کی تعمیر‘ اہداف کا تعین‘ لچک دار رویّہ وغیرہ کا اضافہ کیا ہے۔ ڈاکٹر امین صاحب نے عجز و انکساری کا اظہار کرتے ہوئے رقم فرمایا ہے کہ ان کا اسلوب نہ فلسفیانہ ہے اور نہ ادیبانہ بلکہ سادہ ہے اور اسے ہی وہ افہام و تفہیم کے لیے موزوں سمجھتے ہیں۔ راقم نے ڈاکٹر صاحب کی کتاب کے بالاستیعاب مطالعہ اور کچھ اہم عبارتوں کو کئی کئی بار پڑھ کر ان کے موقف کو سمجھنے اور تجزیہ کرنے کی کوشش کی تو ان کی پوزیشن اور قرآن و سُنّت کی وہ تفسیر و تعبیر جو صحابہ و تابعین سے چلے آتے کنونشنز اور فریمز کے اندر رہ کر ہوتی ہے‘ میں فرق محسوس ہوا۔ قرآنی نص کے مطابق مسلمانوں کو جب تمکن اور ترفع حاصل ہوتا ہے تو اوّلین کام جنہیں انجام دینے کا حکم دیا گیا ہے وہ یہ ہیں: وہ صلوٰۃ (نماز) اور زکوٰۃ کا نظام قائم کرتے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہیں:
{اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِط وَلِلہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ(۴۱)}(الحج)
’’وہ لوگ کہ اگر انہیں ہم زمین میں تمکن عطا کر دیں تو وہ نماز قائم کریں گےاور زکوٰۃ ادا کریں گے اور وہ نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے۔اور تمام امور کا انجام تو اللہ ہی کے قبضہ ٔ قدرت میں ہے ۔‘‘
گویا کلام اللہ کا پورا فوکس ایمانی‘ روحانی اور اخلاقی ازدیاد اور روحانی رفع درجات پر ہے نہ کہ مادی اور دنیاوی شان و شوکت اور تنعم کی زندگی۔ چنانچہ یہ عروج و زوال کا بالکل مختلفperspective ہے‘ اور اس کو کسی طور پر بھی نواستعماری جدیدیت(modernity) کےپروردہ تصوّراتِ ترقی و رفعت کے بالمقابل نہیں لایا جاسکتا۔ تعمیر و تزئین ِدنیا اور بے دینی یعنی سیکولرازم کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جدید دنیا کو ایک جامع تعریف میں سمیٹنا دشوار کام ہے‘ لیکن جن مراحل اور مظاہر میں اس کی تعمیر ہوئی ہے ان کی خصوصیات بہرحال بتائی جا سکتی ہیں۔ معروف امریکی ماہر عمرانیات Peter Berger (۱۹۲۹ - ۲۰۱۷ء) نے خاص حوالے سے جدیدیت کی تعریف یوں کی ہے:’’ ٹیکنالوجی کے ماتحت ترقی کے لیے ادارہ جاتی اور ثقافتی گٹھ جوڑ جدیدیت کہلاتی ہے ۔ ادارہ جاتی سطح پر جدید قومی ریاستیں‘ سائنس و ٹیکنالوجی کی اجارہ داری‘ سرمایہ دارانہ یا اشتراکی نظامِ معیشت‘ ذرائع ابلاغ اور جدید اعلیٰ نظامِ تعلیم سماج کی جدیدیت کو قائم رکھنے کا کام کرتے ہیں۔ دوسری جانب ثقافتی سطح پر جدیدیت کے مظاہر میں نرگسیت کی حد تک بڑھی ہوئی انفرادیت پسندی‘ عملی نوعیت کی سرگرمیوں کو ترجیح دینا ‘ مذہبی روایت سے انحراف اور نفرت شامل ہیں۔‘‘
قبل ازیں راقم نے ڈاکٹر محمد امین صاحب کو راسخ العقیدہ لکھا ہے لیکن دقت نظر سے دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی ایک درجے میں عصری جدیدیت سے متاثر ’’فکر ِاسلامی‘‘ کے ٹریپ سے بچ نہیں پائے ہیں۔ چنانچہ وہ معذرت خواہانہ فکر اسلامی جو برصغیر پاک و ہند پر انگریزوں کے تسلط کے دور میں سرسید احمد خاں اور ان کے ہم خیال ساتھیوں کے افکار کے تحت اس خطے میں پھیلا تھا‘ اس کے کچھ پہلوئوں سے وہ بھی متاثر نظر آتے ہیں۔ انہوں نے جس طرح عروج و زوال کے thesis کو جدولوں کی شکل میں پیش کیا ہے‘ ان میں علمی اعتبار سے خاصا کھوکھلاپن اور بودا پن نظر آتا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی مسلّمہ امر ہے کہ سماجیات میں استقرائی تعمیم کے ذریعے کلی تصدیقات (judgments) برآمد کرنا حتمی اور قطعی علم نہیں ہوتا۔ اس میں صرف احتمال یا امکان کا عنصر ہوتا ہے۔
اسبابِ زوال و اِدبار میں صحیح نظریہ حیات سے عدم وابستگی بیان کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سبب کوئی سادہ اور اچانک معرضِ وجود میں آنے والا وصف نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں دو تین صدیوں کے دوران مسلمانوں کے عقائد اور اخلاق و احوال میں جو زوال و انحطاط آیا اور غیر مسلم استعماری طاقتوں نے جو کردار ادا کیا‘ اس کا شعور انتہائی ضروری ہے۔المیہ یہ ہے کہ وطن عزیز میں آزادی کے طویل عرصے بعد بھی انگریزوں کے دیے گئے نظامِ تعلیم کو جوں کا توں برقرار رکھا گیا جس کے نتیجے میں استعماری فکر و تمدن کے ارتسامات ہماری موجودہ نسلوں میں بہت گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ پوسٹ کولونیل مطالعات میں چند دوسرے دانشوروں کے ساتھ پروفیسر ناصر عباس نیر کی نگارشات اور تجزیے بھی بہت گہرے اور چشم کشا ہیں‘جو اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہمیں اپنی دینی اساسات سے نہ صرف قولی عقیدے بلکہ وجودی و حالی کیفیت کے ساتھ جڑنے کی ضرورت ہے۔
سائنس اور ٹیکنالوجی میں تخلّف اور پچھڑا پن جس کی بات عموماً کی جاتی ہے‘ میں بھی صرف جدیدیت گزیدہ اور مادی قوت ہی کو سب کچھ ماننے والوں کے لیے مسئلہ ہے اور وہ اسے اہل ِمذہب کی پس ماندگی کی اہم ترین وجہ قرار دیتے ہیں۔ اس کے علاج کے طور پر سائنس و ٹیکنالوجی میں تعلیم و تحقیق اور قرآن کے الفاظ میں ’’تسخیر کائنات‘‘ کا عمل اور جستجو ہے۔ ان کے خیال میں نت نئی ایجادات اور انکشافات کسی بھی قوم کی معاشی حالت مضبوط اور حربی قوت میں اضافہ کر کے اسے عالمی سیادت پر فائز کر دیتی ہیں۔قرآن کریم کی متعدد آیات میں سے ایک آیت جس میں یہ الفاظ آئے ہیں وہ یہ ہے:
{وَسَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہُط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ(۱۳)}(الجاثیۃ)
’’اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے‘ اس سب کو اُس نے اپنی طرف سے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے۔ یقیناً اس میں اُن لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو غور و فکر سے کام لیں۔‘‘
علمائے تفسیر تصریح کرتے ہیں کہ اس آیت میں سخر خبر ہے‘ انشاء نہیں ہے ۔ یعنی یہ اللہ کے تکوینی امر میں سے ہے کہ اُس نے آسمانوں اور زمین کو انسانوں کے لیے مفید اور تابع(subservient) بنا دیا ہے۔ ان میں تحقیق و مطالعے کا اصل ہدف خالق کائنات کی معرفت و پہچان ہونی چاہیے نہ کہ قوت کا حصول اور تاخت و تاراج کی صلاحیت۔ الغرض یہ تکوین الٰہی کابیان ہے‘ تشریع نہیں ہے۔ منہاجیات کے موضوع پر گزشتہ نصف صدی کے دوران متعدد مغربی مفکرین کے جو اہم مقالات شائع ہوئے ہیں‘ان میں گزشتہ صدی سے رائج وحدانی اور لاقدری (value-free or positivist) سائنٹیفک منہاج شدید تنقید کا نشانہ بنا ہے۔ ان مفکرین میں پال فیئرآبینڈ‘ اوپن ہائمر‘ شوڈنگز اور فرتھ جوف کے نام سرفہرست ہیں۔مغربی ممالک کا نام نہاد عروج جس کا ڈھنڈورا ہمارے ہاں کے اسلام پسند حلقے بھی پیٹتے ہیں‘ بڑے پیمانے پر سفاکی کے ساتھ قتل عام (genocide)‘ غلاموں کی تجارت اور نوآبادیاتی تسلط کے ذریعے ہوا۔ ان کے اپنے انصاف پسند دانش وروں نے استعمار کے مظالم اور لوٹ مار کے دستاویزی ثبوت نہ صرف فراہم کیے ہیں بلکہ ان موضوعات پر شرح و بسط سے لکھا ہے کہ کس طرح سائنس‘ ٹیکنالوجی اور فلسفہ ٔمادیت پر مبنی جدیدیت نے انسانیت کو اخلاقی زوال اور پستی میں دھکیل دیا۔ چنانچہ سماجی علوم پر گہری دسترس رکھنے والے متعدد دانشوروں میں معروف لاطینی امریکن میگ نیلو نے The Darker Side of Western Modernity کے عنوان سے بہت چشم کشا کتاب تصنیف کی۔ اسی طرح ایک اور نقادِ تہذیب ِ حاضر سٹیفن ٹولمن نے Cosmopolis: The Hidden Agenda of Modernity کے عنوان سے مفصل کتاب شائع کی اور اسے بھی دوسری کتابوں کے ساتھ علمی حلقوں میں خوب پزیرائی حاصل ہوئی۔ ٹیکنالوجی اور انڈسٹرائیلائزیشن کے جو مضر اور منفی اثرات ماحولیات (ecology)اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے سامنے آ رہے ہیں وہ اب پوری انسانیت کے لیے مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ کیا اسرائیل اور امریکہ کو (ہر طرح کی) جدید ترین ٹیکنالوجی نے بطور انسان بہتر اخلاق سکھائے؟ واقعہ یہ ہے کہ ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی نے انہیں گلوبل سطح پر سفاکیت اور بربریت کے لیے تیار کیا‘ جس کو ہم مسلمان مسلسل پونے دو سال سے غزہ پر حملوں اور بمباری کی شکل میں دیکھ رہے ہیں جس میں اب تک ستر ہزار کے لگ بھگ انسان ختم ہوئے ہیں۔ گزشتہ ماہ ایران پر حملہ بھی کیا کسی اخلاقی بنیاد پر جواز رکھتا تھا؟
وحی کے نور سے بے بہرہ اہل ِمغرب جان لیں کہ (تمام سائنسی‘ ٹیکنیکل اور اعلیٰ ترین سیکولر تعلیم کے باوجود) ان کے افکار و تہذیب کے شجرئہ خبیثہ کو تو کوئی ثبات نہیں لیکن اسلام اور اہل اسلام کی علمی و فکری جڑیں بہت گہری اور شاداب ہیں۔ مذہبی شعور اپنی اصلیت میں ذہن‘ ارادے اور طبیعت کی یکجائی اور یکسوئی سے عبارت ہے۔ انسانی شخصیت اور اس کی تشکیل کا قرآنی تصوّر شعور اور ارادے کی مرکزیت پر اصرار کرتا ہے۔ اس لیے اپنی ماہیت میں یہ تصوّر اخلاقی ہے۔ یعنی انسان اپنی خداداد‘ معیاری اور مستحکم حالت میں ایک اخلاقی اور ذمہ دار مسئول (accountable) وجود ہے۔ معرفت ِربّ اور تعلق مع اللہ ہی دل کو ثبات و جمائو عطا کرتا ہے۔ظاہر ہے کہ وہ اصولِ اخلاق جن پر انسانی فرد کا سٹرکچر قائم ہے‘ محض انسانی عقل (صحیح معنی میں جہل ِخرد) کے زائیدہ نہیں بلکہ صرف تنزیل ِربانی کی روشنی میں ہمیں حتمی طور پر اور قطعیت کے ساتھ ملتے ہیں۔
مادّی ترقی اور ٹیکنالوجی کا بھوت ہم مسلمانوں پر اتنا سوار ہے کہ دینی مزاج رکھنے والی آن لائن بزعم خود علمی و فکری مکالمہ پیش کرنے والی مجلس فکر و دانش نے نئے ہجری سال کے آغاز پر ’’ہجرت مدینہ کے راہنما اصول: مادی ترقی و ٹیکنالوجی‘‘کے موضوع پر سیمینار و مکالمہ کا اہتمام کوئٹہ کی ایک یونیورسٹی میں کیا ہے جو ہمارے پڑھے لکھے حضرات کی دینی فکر کے افلاس کا مظہر ہے : ؎
ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہیے
خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھیے!
آغازِ نبوت کے بعد رسول اللہﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ جزیرہ نمائے عرب کو ہدایت و حق اور توحید کے نور سے منور کرنے کی سعی کی تھی جس میں ہجرتِ مدینہ اللہ کے حکم سے ایک اہمstrategic واقعہ تھا۔اس کا اوّلین ہدف توحید کی روشنی میں نظریئے اور تصور کی درستگی‘ حقیقت ِدین کا بیان اور اس کی عملی تنفیذ اور مشرکانہ تصورات کی تطہیر تھا۔ مزید برآں‘ مسلمانوں کی اجتماعیت کے لیے قرآنی عقائد کی بنیاد پر ایک ٹھوس نمونہ پیش کرنا تھا۔ اس میں اولیت عقیدہ و ایمان کی قوت کو اور اس کے بعد اسلامی اخوت کے تحت وحدت و ارتباط کو حاصل تھی۔ اس کے برعکس عصر حاضر کی جدیدیت اور اس سے فریب خوردہ ذہن صرف ایک فکری یا سائنسی ظاہرہ نہیں بلکہ ایک گہرا اور انتہائی منفی تہذیبی منصوبہ ہے جو عالمی سطح پر غالب ہے۔ اس نے دنیا کو مخصوص خانوں میں بانٹااور ’’آزادی‘‘ اور’’ترقی‘‘ کے نام پر طاقت‘ علم اور اقدار کی ایک خاص حسی و حیوانی شکل کو پوری انسانیت پر مسلط کردیا۔ جدیدیت مادی ترقی اور زندگی کے لیے آسائشیں تو یقیناً لائی ہے‘لیکن ساتھ ہی روحانی و اخلاقی اور ایمانی پستی و زوال بھی لائی ہے۔ اس نے مذہبی اذہان تک کو متاثر کر کے قرآنی آیات سے من چاہے مطالب نکالنے پر جری کر دیا ہے۔ سورۃ الصف کی آیات ۱۰ تا ۱۳ میں بالکل واضح انداز میں ’’خیر‘‘ اور’ ’فوزِ عظیم‘‘ (جو ایک بندہ مؤمن کا اصل مطلوب ہونا چاہیے) کو ایک جانب رکھ کر بیان کیا گیا ہے :
{یٰٓــاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ھَلْ اَدُلُّــکُمْ عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنْجِیْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ(۱۰) تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْط ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّــکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۱۱) یَغْفِرْلَــکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَیُدْخِلْکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ وَمَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍط ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۲) وَاُخْرٰی تُحِبُّوْنَہَاط نَصْرٌ مِّنَ اللہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌط وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ(۱۳)}
’’ اے ایمان کے دعوے دارو! کیا میں تمہیں ایسی تجارت کے بارے میں بتائوں جو تمہیں دردناک عذاب سے چھٹکارا دلا دے؟(وہ یہ کہ) تم ایمان لائو اللہ اور اُس کے رسول ؐپر اور جہاد کرو اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔وہ تمہارے لیے تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں داخل کرے گا اُن باغات میں جن کے دامن میںنہریں بہتی ہوں گی اور بہت پاکیزہ مساکن عطا کرے گا رہنے کے باغات میں۔ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔‘‘
آخری آیت کا ترجمہ مفتی تقی عثمانی صاحب نے اس طرح کیا ہے :
’’اور ایک اور چیز تمہیں دے گا جو تمہیں پسند ہے (اور وہ ہے) اللہ کی طرف سے مدد‘ اور ایک ایسی فتح جو عنقریب حاصل ہو گی۔ اور (اے پیغمبر!) ایمان والوں کو (اس بات کی) خوشخبری سنا دو۔‘‘
معلوم ہوا کہ فتح و غلبے کو شارع نے ثانوی حیثیت دی ہے اور اسے انسان کی بشری طبیعت کا تقاضا قرار دیا ہے‘ جبکہ عظیم ترین فوز و فلاح اور خیر کل کا کل حیاتِ اُخروی سے تعلق رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے سرسید احمد خان اور ان کے رفقائے کار نے دینی حقائق کے ادراک کے لیے عقل اور سائنس کو جس انتہا تک متصرف قرار دیا ہے وہ ہمارے ہاں گمراہ فرقوں کے عقائد کا جزو بن گیا ہے۔ معجزات کا انکار ‘ مغربی معاشرت اور آداب کی تحسین اور بزرگانِ سلف کے اجتہادات کے متعلق شک و بدظنی ان کی تصانیف میں عیاں ہے۔ ڈپٹی مولوی نذیر احمد اور دیگر کا دین دار تارکِ دنیا عابد و زاہد نہیں بلکہ دنیاوی فہم و فراست (prudence) سے آراستہ ہے۔ اس کی خدا پرستی اسے دنیا داری سے نہیں روکتی بلکہ ایک کامیاب دنیا دار بناتی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات نے کتب احادیث صحیحہ میں وارد کتاب الرقاق میں وارد ابواب فضل الفقراء وما کان من عیش النبیﷺ، باب البکاء و الخوف، باب الحرص و الامل وغیرہ میں دی گئی احادیث سے بالکل اعتناء نہیں کیا۔
مرکزی انجمن خدّام القرآن کے زیر انتظام قرآن اکیڈمی اور جامعہ کلیۃ القرآن (قبل ازیں: قرآن کالج) کم و بیش نصف صدی سے قرآن و سُنّت اور دینی علوم کی تدریس و تعلیم کا اہتمام کر رہے ہیں ۔یہ دونوں ایک طرح سے انجمن کے پریمیئر تحقیقی ادارے اور فکر گاہیں ہیں۔ پاکستان کے موجودہ مذہبی منظر نامے کو دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ٹھوس اور مثبت علمی مزاج اور علمی رویوں کی شان دار روایات نہ صرف یہ کہ عملاً نظر انداز ہیں بلکہ اب یہ ہمارے معاشروں کے لیے نامانوس اور اجنبی محسوس ہوتی ہیں۔ فکر و خیال میں تنوع اور نام نہاد ارتقا اور اساسیاتِ دین سے انحراف کے درمیان فرق کا شعور باقی نہیں رہا ہے۔ دینی اداروں اور مدارسِ عربیہ سے بیسیوں رسالے اور مجلے نکلتے ہیں لیکن ان میں قدیم کتابوںکے حوالے (بغیر وضاحت اور تنقیح کے) اور پرانے مضامین کی تکرار کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ بحمداللہ ‘قرآن اکیڈمی کے اساتذہ نے چند برسوں سے علومِ نبوت اور علم و دانش کے معاصر سوتوں‘ سماجیاتی علوم‘ استعمار اور نواستعمار کے ہمارے دینی افکار پر اثرات ‘ نیو لبرل فکری و تہذیبی جدیدیت اور تحقیقی مناہج میں رسوخِ علمی کا اکتساب کیا ہےاور ان کے محاضرات تحریری شکل میں آ کر ’’حکمت قرآن‘‘ کے علمی وقار و وقعت میں اضافہ کر رہے ہیں۔
قرآن اکیڈمی کے کئی پرانے سینئر فاضلین ہفتہ وار تین گھنٹے طویل ’’محاضراتِ اصول الدین‘‘ کی کلاس میں باقاعدگی سے آکر اصولِ فقہ‘ تفسیر قرآن ‘ کلامی مباحث (عقیدہ) اور دوسرے کلاسیکی texts پڑھتے ہیں۔ اس طرح ان کے فہم ِ دین اور ذوقِ عبودیت میں ازدیاد ہوتا ہے۔ اکیڈمی کے ان اساتذہ کے لیکچرز کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جاتی ہے تاکہ ان کی افادیت کا حلقہ وسیع ہو اور انہیں تحریری شکل (transcribe) میں لا کر’ ’حکمت ِقرآن‘‘ میں شائع بھی کیا جاتا ہے۔ چنانچہ توقع ہے کہ مجلے کے ریگولر اور سنجیدہ قارئین نے گزشتہ چند برسوں سے اس عنصر کو نوٹ کیا ہوگا۔ راقم کے خیال میں یہ ’’حکمت قرآن‘‘ کا تازہ ترین دور ہے جس میں مؤقر اور بزرگ فاضل و قابلِ احترام قلمی معاونین کے ساتھ عصری فہم و فراست اور تفقہ فی الدین رکھنے والے یہ نسبتاً نوجوان مقامی (indigenous) مدرسین کا گلدستہ فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ خاکسار اپنے اور ان تمام کے لیے قارئین ِمجلّہ سے دعائوں کا خواست گار ہے کہ اللہ تعالیٰ اسلام کی بے آمیز خالص تعلیمات پیش کرنے کی مساعی کو شرفِ قبولیت بخشیں اور اس طرح برادر محترم مؤسس انجمن و تنظیم ڈاکٹر اسرار احمدؒکا تحریک رجوع الی القرآن کا پودا خوب برگ و بار لا کر قرآن و سُنّت کی تابانی سے دنیا کو منور کر سکے۔ آمین‘ ثم آمین!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026