(مشاہدات و تاثرات) رجوع الی القرآن کورس: ناقابلِ فراموش یادیں - محمد عثمان عباس

13 /

رجوع الی القرآن کورس: ناقابلِ فراموش یادیںمحمد عثمان عباس

علم کا اصل فائدہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ انسان کے زاویۂ نظر‘ ترجیحات اور تعلق مع اللہ کو درست سمت دے۔ ایسا ہی کچھ مشاہدہ قرآن اکیڈمی لاہور میں زیر تعلیم طلبہ کے بارے میں میرا رہا کہ کس طرح ان کے افکار‘ نظریات اور ترجیحات کی تشکیل نو ہوئی۔ مَیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں جس کی توفیق‘ فضل اور کرم ہی سے یہ سب کچھ ممکن ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ مَیں کسی طور پر بھی ان اساتذہ تک پہنچنے والا نہ تھا‘ خاص طور پر اپنے بعض دینی رجحانات کی وجہ سے۔ یہ خاص اللہ تعالیٰ کا کرم ہوا کہ اُس نے مجھے یہاں تک پہنچایا‘ اور بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کے مبارک فرمان کے مطابق ’’ مَن لَا یَشْکُرُ النَّاسَ لَا یَشْکُرُ اللّٰہ ‘‘یعنی جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا‘ اسی نسبت سے میں اپنے کچھ تاثرات قلم بند کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔
لاہور آنے سے قبل اپنے شہر ملتان میں ایک دوست حمزہ جاوید کے ہمراہ اُستادِ محترم ڈاکٹر طاہر خان خاکوانی سے دعا اور نصیحتوں کے لیے اُن کے گھر گیا۔ اسی دوران اُن سے کچھ فقہی نوعیت کے اشکالات کا اظہار کیا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ پریشان نہ ہوں‘ جہاں آپ جا رہے ہیں وہ آپ کا ذہن صاف کر کے واپس بھیجیں گے۔ پھر ایسا ہی ہوا۔ میری حوصلہ افزائی کے لیے قرآن اکیڈمی ملتان کے عربی کے اُستاذ جناب جمشید الرحمٰن بھی اس سفر میں میرے ساتھ ہو لیے۔ یہ ان کا بڑا پن تھا۔قرآن اکیڈمی ملتان کے ناظم جناب عمران فاروق نے اس داخلہ میں بھرپور معاونت کی۔
راقم نےرجوع الی القرآن کورس کا پارٹ ون ملتان سے کیا تھا‘ جہاں اساتذہ نے بہت محبت اور شفقت سے پڑھایا۔ اس کے بعد بعض وجوہات کی بنا پر تعلیم آگے جاری نہ رکھ سکا۔ جو دو سال کا خلا آیا‘ اُس میں کتابوں سے میرا تعلق تقریباً نہ ہونے کے برابر ہو گیا۔ اس دوران حصولِ علم کا بنیادی ذریعہ صرف انٹرنیٹ ہی رہا۔ مختلف ویڈیو لیکچرز‘ فتاویٰ وغیرہ پڑھنا‘ اور اختلافی مسائل سننا ایک معمول بن چکا تھا۔ معاملہ یہاں تک رُکا نہیں بلکہ میرا ذاتی یوٹیوب چینل بھی بن گیا‘ جس پر مختلف موضوعات پر ’’بھاشن‘‘ جاری ہوتے تھے۔ پھر میں نے قرآن اکیڈمی لاہور کے سابق ریسرچ اسکالر جناب ڈاکٹر حافظ محمد زبیر کے کچھ لیکچرز سننے شروع کیے‘ جو ’’شارٹ درسِ نظامی‘‘ کے عنوان سے معروف ہیں۔ان سےعلومِ عالیہ جیسے کہ اصولِ فقہ‘ اصولِ حدیث‘ اصولِ تفسیر‘ بلاغت‘ عقیدہ وغیرہ پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔
جس تیزی کے ساتھ میری سوشل میڈیا فیڈ پر بعض گمراہ کن نظریات اور افکار کی ویڈیوز نظر آنا شروع ہوئیں‘ وہاں ڈاکٹر حافظ محمد زبیر ایک ایسا بند ثابت ہوئے جس نے بہتے پانی کا رُخ ہی موڑ کر رکھ دیا۔بالآخر وہ وقت آیا جب میں نے قرآن اکیڈمی لاہور آنے کا فیصلہ کیا۔یہاں آ کر تو جیسے دنیا ہی بدل گئی اور علمِ دین حاصل کرنے کا درست منہج ہاتھ لگ گیا۔
سب سے پہلا لیکچر اُستادِ محترم جناب رشید ارشد کا ہوتا تھا۔ حدیث کی روایت اور درایت کا جو فہم ان سے ملا‘ اللہ اسے ضبط کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ سامعین کی ذہنی اور علمی سطح کو سامنے رکھتے ہوئے جس جامعیت اور عمدگی کے ساتھ انہوں نے العقيدة الطحاوية پڑھایا‘ کاش کہ وہ ریکارڈ ہو جاتا۔اگرچہ نوٹس بنائے ہیں‘ لیکن اس میں بہت سے نکات رہ جاتے ہیں۔ بہرحال ‘ جوclarity of thought ان سے ملی ‘ وہ غیر معمولی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے دروس نے میرے لیے ایک ریفائنری کا کردار ادا کیا جس نے بہت سے باطل نظریات کو فلٹر کیا۔ البتہ اس بات کا ملال ہے کہ جس طرح ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے تھا‘ نہیں اٹھا سکا۔ ان کے خصوصی محاضرات میں جو مختلف جگہوں پر ہوتے ہیں‘ کورس کے آخر میں جانا شروع کیا۔میری تجویز ہے کہ ہفتہ میں ان کی ایک غیر نصابی کلاس کو اختیاری کر دیا جائے تاکہ نصاب کے علاوہ بھی ان سے استفادہ کیا جا سکے۔
جناب مکرم محمودکا بھی کیا خوب ساتھ رہا‘ جنہوں نے ’’اربعین فی اصول الدین‘‘ پڑھا دی‘ تو پتہ چلا کہ اب علمِ کلام کا تعارفی کورس پڑھایا جائے گا۔ چونکہ مجھے علمِ کلام سے کافی بُعد تھا‘ میں جناب مؤمن محمود کے پاس بھاگا بھاگا گیا کہ کسی طرح یہ کورس رک جائے اور اس کی جگہ اصولِ تفسیر پڑھایا جائے۔تاہم‘ علم کلام ہی پڑھایا گیا ۔ اس کی تدریس بہت اختصار‘ سادگی‘ عمدگی اور ہماری ذہنی سطح کے مطابق ہوئی۔ دراصل علمِ کلام سے بُعد کی وجہ انٹرنیٹ پر موجود بعض لیکچرز تھے۔ آج کل بعض لوگ ایسی بحثیں چھیڑ کر بیٹھ جاتے ہیں جو ایک عام آدمی کو ایسی باتوں کا مکلف بنانے کے مترادف ہیں جن کی وہ طاقت نہیں رکھتا۔میرے خیال میں علمِ کلام کے مناظروں کا رُخ الحاد اور گمراہ فرقوں کی طرف ہونا چاہیے‘ نہ کہ دوسرے مسالک کی طرف۔ پھرامام ابن تیمیہ کا مقدمہ اصولِ تفسیر اور منطق کا کچھ تعارف بھی پڑھایا گیا۔ اس کے ساتھ اگر منظم اصولِ تفسیر کا کوئی کتابچہ اور کچھ بنیادی اصول ازبر کروائے جائیں جو قرآن فہمی کے لیے ضروری ہوں‘ تو یہ اچھا اضافہ ہوگا۔ واقعتاً‘ ان سب مضامین سے ایک طالب علم کی ذہنی صلاحیتیں بھی نکھرتی ہیں‘ جو قرآن و سُنّت کے فہم میں ممد و معاون ہیں۔
جناب ثاقب اظہرکو میں نے اپنی سوچ سے بھی زیادہ شفیق اُستاد پایا۔ ان کی بے پناہ محنت کہ چالیس چالیس منٹ مسلسل بورڈ پر لکھ کر پڑھانا‘ اور اسی کوشش میں لگے رہنا کہ کسی طرح طالب علموں کو بات سمجھ آ جائے‘ واقعی قابلِ تحسین ہے۔
مفتی ارسلان محمود اعتدال‘ ٹھہراؤ اور عمدہ اخلاق کا پیکر تھے۔ سخت سے سخت نوعیت کے اختلافی سوالات کے جواب انتہائی بردباری سے دیتے تھے۔ جب کوئی سوال کیا جاتا تو توقف کرتے اور بہت گہرے تفکر کے بعد حکمت کے موتی بکھیرتے۔ ہم ان سے اپنے ذاتی نوعیت کے سوالات بھی پوچھتے اور وہ ہمیں کلاس کے علاوہ بھی وقت دینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ ان میں اکابر علما ءکی جھلک نظر آتی تھی۔ جس طرح آسان اصولِ فقہ کی ایک مختصر کتاب لگائی گئی تھی‘ اسی طرح ’’کتاب البیوع‘‘ کی بھی کوئی مختصر کتاب مقرر کر دیں۔ اگرچہ مفتی صاحب نے ہر چیز کے نوٹس بھی بنوائے‘ لیکن اگر ساتھ ایک باقاعدہ نصابی کتاب بھی ہو تو زیادہ بہتر ہوگا۔
استاد محترم جناب مومن محمود کی کلاس درحقیقت ایک عارف باللہ کی صحبت تھی جو ہمیں دس ماہ میسر آئی۔ البتہ اس بات کا ادراک ہونے میں ابتدائی تین ماہ لگ گئے۔ تفسیر کی کلاس میں ہم رواں ترجمہ اور مختصر تفسیر کے عادی تھے‘ جو ایک مبتدی طالب علم کے لیے کافی ہوتی ہےکیونکہ اس میں ہدف تذکیر بالقرآن ہوتا ہےجبکہ مومن صاحب کی تفسیر کی کلاس Advanced Level کلاس تھی۔ میرا ذہن ابھی مکمل طور پر اس کے لیے شاید تیار بھی نہ تھا۔ کلاس فیلو ڈاکٹر انجم نذیر کہا کرتے تھے کہ جب مومن صاحب کہتے ہیں :’’اس لفظ کے ۱۶ معنی ہیں‘‘ تو ساتھ ہی بندہ کتاب بند کر دیتا ہے۔ یعنی اب ۱۶ معنی کون یاد رکھے!مومن صاحب کے لیکچرز کا ایک طائرانہ جائزہ پیش خدمت ہے:
’’اس آیت میں مفسرین کا اختلاف ہے اور اس میں چار آراء ہیں۔ میں ساری عرض کر دیتا ہوں‘ پھر آخر میں بتاؤں گا کہ زیادہ قوی رائے کون سی ہے۔‘‘
یا ان کا یہ فرمانا:
’’اس آیت میں متکلمین کی تفصیلی بحث ہے۔ زیادہ قوی استدلال اشاعرہ کا ہے‘ مگر عوام کو ماتریدیہ کے طریقے پر زیادہ آسانی سے سمجھ آتی ہے۔‘‘
یا پھر یہ کہنا:
’’اس حرف کی قراءت اختلاس کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے اور اشباع کے ساتھ بھی۔‘‘
ظاہر ہے یہ وہ باتیں ہیں جو کسی ایسے شخص کو چکرا دیں گی ‘ جو یہ طے کر چکا ہو کہ اُس کے موبائل میں موجود اسلامک ایپ (جس میں قرآن کا ترجمہ اور بخاری و مسلم کے حوالے موجود ہیں) کافی ہے‘ تو اُسے علم میں گہرائی پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے! وہ تو خود’’اجتہاد‘‘ کر سکتا ہے۔ ایپ میں فقط حدیث کا انٹرنیشنل نمبر ڈالو‘ ترجمہ پڑھو‘ سند دیکھو‘ اور بڑے سے بڑے اختلافی مسئلے کو تین منٹ میں حل کر لو۔ اگر پھر بھی کوئی کسر رہ جائے تو Chat GPT ہے نا۔ ایک ایسا شخص جو سطحی علم پر اکتفا کر چکا ہے اور گہرائی میں اُترنے سے خائف ہے‘ وہ کیسے اور کیوں کر اتنی بڑی تبدیلی آسانی سے قبول کرے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ آج کے اس پُرفتن دور میں جناب مومن محمود جیسے علماء اہل السنّت والجماعت کی علمی روایت سے تمسک اختیار کرتے ہوئے قرآن میں تدبّر کرتے ہیں۔ خوفِ خدا رکھنے والے اور عاجزی اختیار کرنے والے ایسے شفیق اساتذہ اس دور میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں۔
قرآن اکیڈمی علم کا ایک باغ ہے اور اس باغ کے ہر پھول کی اپنی خوشبو ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان اساتذہ کی قدر کرنے اور ان سے بھرپور استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے!
بعض اوقات استاد محترم کے دروس میں مجھے اپنی علمی پستی کی بنا پر یہ خیال بھی آتا کہ دورانِ تفسیر وہ علمِ کلام اور عقیدہ کی جزئیات کی تفصیلات اور پیچیدہ مباحث کو صرف اپنے ان طلبہ میں بیان کریں جو پچھلے کئی سالوں سے ان کے پاس زیرِ تعلیم ہیں‘ یا پھر وہ طلبہ جو الحاد یا دوسرے باطل نظریات پر تخصص کرنا چاہتے ہیں۔ پارٹ ٹو کے طالب علموں کے لیے شاید یہ گہرے مباحث تھوڑے ثقیل ہو جاتے ہیں۔
ان فروعات کے حوالےسے ایک عرض میں نے استاد محترم کی خدمت میں یہ بھی رکھی تھی کہ عقیدہ کی وہ جزئیات جو فی زمانہ بہت زیادہ بگاڑ کا شکار ہو گئی ہیں‘ اُنہیں متفرق دروس میں طویل عرصہ تک اشارتاً اور مختصر ذکر کرنے کے بجائے تفصیل کے ساتھ کچھ دن خصوصی محاضرات کی شکل میں مکمل بیان کیا جائے تاکہ ذہن الجھنوں کا شکار نہ ہو اور ایک منضبط صورت طالب علم کے سامنے رہے۔اگر کوئی ریکارڈنگ سے استفادہ کرتے ہوئے ایسے موضوعات کو کتابچہ کی شکل میں لے آئے تو یہ بہت بڑا علمی کارنامہ ہوگا۔
میں ذاتی طور پر اس بات کا قائل ہوں کہ ایک طالب علم کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ استاد کی ہر بات کو سوفیصد قبول کرے۔ اگر اسے کسی بات میں شبہ محسوس ہو تو اپنا خارجی مطالعہ اور اساتذہ سے سوال و جواب کا سلسلہ جاری رکھے ۔وہ اپنے آپ کو کسی ایسی چیز کا مکلف نہ بنا لے جو کسی استاد کا خاص مزاج یا ذاتی شغف ہو‘ اور طالب علم کے لیے شاید ابھی ان علوم میں غور وخوض کرنا قبل از وقت ہو۔ تاہم‘ اس بات کا خیال رہے کہ یہ سب خالصتاً اخلاص کی بنیاد پر ہو‘ نہ کہ ہوائے نفس یاpick & choose کی بنیاد پر۔
ہاسٹل والوں کے لیے مغرب کی نماز کے متصل بعد آدابِ زندگی پر ایک تربیتی کلاس کچھ اس طرح کی تھی گویا ایک شفیق باپ اپنی اولاد کی تربیت کر رہا ہو۔ یہ کلاس محترم حافظ قاسم رضوان لیا کرتے تھے۔ ہر طالب علم سے ان کا ایک علیحدہ اور منفرد تعلق تھا۔ مزاج شناس تھے۔ جب کسی قرآنی آیت‘ حدیث کا حوالہ یا کوئی شعر آتا تو کہا کرتے :’’لکھ پتر! تُو نہ بھی پڑھے‘ تو کوئی دوسرا پڑھ لے گا اور اس کا فائدہ ہو جائے گا۔‘‘
ہاسٹل کی لائف بھی کیا عجیب تھی! یوسف بھائی اور صدیق بھائی انتہائی محنت سے تین وقت تازہ‘معیاری‘ لذیذ کھانا بناکر دیتے۔ چائے کی بابت تو یہی کہا جائے گا کہ:’’The tea was fantastic‘‘اگر چینی کچھ کم ہو۔
جناب قاری احمد ہاشمی خوب صورت آواز میں قرآن پاک کی تلاوت سے دل کو منور کرتے۔ شام کو اکثر ہم لوگ جناب آصف علی سے استفادہ کیا کرتے۔ سب ان کے ارد گرد جمع ہو جاتے اور دیر تک ادب‘ اخلاقیات ‘ عالمی سیاست پر گفتگو ہوتی۔ ہاسٹل میں جناب کی موجودگی سے بہت رونق رہتی۔
محترم ڈاکٹرعارف رشید نے کورس کے آغاز میں ہاسٹل کے طلبہ کا اکرام کیا۔ تعارف حاصل کیا اور پھر گاہے بگاہے ہم لوگوں کے احوال دریافت کرتے رہتے۔
قرآن اکیڈمی میں مینیجر مکتبہ جناب شاہد ندیم میرے مسجد فیلو تھے‘ جو بے حد محبت فرماتے۔ کسی شام ذاتی طور پر چائے سے تواضع کرتے ۔نمازوں کے بعد ان سے مختصر تبادلۂ خیال ایک معمول تھا۔
محترم و مکرم ڈاکٹر ابصار احمد اس کورس میں میرے لیے ایک مربی کی حیثیت رکھتے تھے۔ ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے اور آگے بڑھنے کا جذبہ دیتے۔ میری اس تحریر کو قلم بند کرنے کے پس پردہ بھی انہی کی کاوش ہے۔
قرآن اکیڈمی کے ناظمِ اعلیٰ جناب عاطف وحید کا بہترین نظم و ضبط اور سہولیات کی فراہمی کے ذریعہ سے اس علمی سفر کو آسان بنانے پر تہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اسی طرح انتظامی ٹیم کے احباب‘ جناب سجاد سندھو اور دیگر معاونین کا بھی شکر گزار ہوں۔
اپنے ان تاثرات کا اختتام میں مولانا مکی حجازی کے الفاظ پر کرتا ہوں۔جب کسی صاحب نے کہا کہ ڈاکٹر اسرار صاحب کو نہ سنا کرو ‘انہوں نے کسی عالم سے نہیں پڑھا ۔ تو مولانا نے ناراضی کے انداز میں جواب دیا: ’’تم نے کس عالم سے پڑھا ہے؟ صرف اعتراض کرنا جانتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر اسرار صاحب کو قرآن مجید کی خدمت کی بہت توفیق دی اور اب ان کی اولاد بھی کر رہی ہے۔ اللہ اس مرکز کو قائم و دائم رکھے۔‘‘ میری بھی یہی دعا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس مرکز کو قائم و دائم رکھے۔ آمین!