سائنسی علوم کی ایک مثالیاسلامی یونیورسٹی کی ضرورت(۸)ڈاکٹر محمد رفیع الدیننفسیاتی علوم کی تشکیل ِجدید
نفسیاتی اور انسانی علوم کے دائرہ میں خدا اور سائنس کی بے تعلقی کے نظریہ پراصرار کرنے والے مغربی سائنس دانوں کی پراگندہ خیالی اس سے کہیں زیادہ ہے جو ہمیں ان کے حیاتیاتی علوم میں نظر آتی ہے۔
ان میں سے ایک گروہ تو ان لوگوں کا ہے جو سِرے سے انکار کرتے ہیں کہ ہمیں یہ فرض کرنے کی ضرورت ہے کہ انسانی اعمال و افعال کا سر چشمہ کوئی ایسی چیز ہے جسے نفس انسانی (Human Mind) کہا جاتا ہے ۔وہ سمجھتے ہیں کہ انسان فقط کسی بیرونی محرک (Stimulus) سے متاثر ہو کر اور اس کے جواب (Response) میں کسی کردار (Behaviour) کا اظہار کرتا ہے۔ انسان کا نفس یا ذہن ہمیں نظر نہیں آتا اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ درحقیقت موجود ہے لیکن ہم انسان کے کردار کو دیکھ سکتے ہیں اور سمجھ سکتے ہیں۔ یہ واٹسن (Watson) اور اس کے شاگرد ہیں اور جو کرداریت (Behaviourism) کے حامی ہیں۔ ان لوگوں کے نزدیک نفسیات کی تعریف یہ ہے:
" Psychology is the Science of behaviour."
’’نفسیات کردار کا علم ہے۔‘‘
دوسرا گروہ اُن لوگوں کا ہے جو نفس انسانی کے وجود کے قائل توہیں اور نفسیات کی تعریف اس طرح سے کرتے ہیں:
" Psychology is the Science of mind."
’’نفسیات‘ نفس انسانی کا علم ہے۔‘‘
لیکن نفس انسانی کے بلند ترین وظائف کو جو انسان کے ساتھ مخصوص ہیں‘ انسان کی حیوانی فطرت کے بعض تقاضوں کی پیداوار اور انہی کا خدمت گزار سمجھتے ہیں۔ یہ دوسرا گروہ فطرتِ انسانی کے بارے میں جن حقائق پر اب تک متفق ہو سکا ہے وہ یہ ہیں:
(۱) انسان کی بعض خواہشات ایسی ہیں جو حیوان اور انسان دونوں میں مشترک ہیں اور وہ انسان کی حیوانی جبلتیں ہیں‘ جن کا مقصد یہ ہے کہ حیوان یا انسان ان کی تشفی کر کے اپنے آپ کو اور اپنی نسل کو قائم رکھ سکے۔
(۲) انسان کی بعض خواہشات ایسی ہیں جو انسان سے خاص ہیں اور جن میں وہ حیوان کے ساتھ شریک نہیں۔ ان سب خواہشات کا مقصد کسی نہ کسی صور ت میں حسن کی طلب ہے ۔ ان میں سب سے بڑی اور مرکزی خواہش کسی ایسے تصوّرِ محبّت یا جستجو کی خواہش ہے جس کی طرف انسان حسن کے بعض اوصاف منسوب کرتا ہو۔ اس قسم کے تصوّرِ حسن کو نظریہ یا نصب العین (Ideal) بھی کہا جاتا ہے۔
(۳) انسان کی فطری خواہشات میں سے ایک خواہش ایسی ہے جو اس کی تمام خواہشات پر ‘جن میں اس کی حیوانی جبلتیں بھی شامل ہیں‘ حکمران ہے اور اس کے سارے اعمال و افعال کو اپنے ماتحت و منظّم کرتی ہے۔ گو یا ایسی خواہش انسانی افعال کی قوتِ محرکہ ہے۔ یہی سبب ہے کہ انسان کے سارے اعمال و افعال کے اندر ایک وحدت ہے ‘جس کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ ہر فردِ انسانی ایک شخصیت یا انفرادیت رکھتا ہے۔
لیکن اگر انسان کی کوئی خواہش ایسی ہے جو اس کے سارے اعمال و افعال کی قوتِ محرّکہ اورمنظّمہ ہے توضروری ہے کہ انسان کے تمام انفرادی اور اجتماعی مشاغل خواہ وہ اخلاقی ہوں یا سیاسی‘ یا اقتصادی‘ یا قانونی‘ یا تعلیمی‘ یا علمی‘ یا فنی‘ اسی کے مظاہر ہوں اور تمام انسانی علوم یعنی فلسفہ سیاست‘ فلسفہ اقتصادیات‘ فلسفہ اخلاق‘ فلسفہ قانون‘ فلسفہ تعلیم‘ فلسفہ علم اور فلسفہ فن وغیرہ اسی پر مبنی ہوں اور اس کی ماہیت اور حقیقت کے مختلف پہلوئوں کے فلسفے ہوں اور اسی کے وظائف کے تشریحی اورتفصیلی علوم ہوں۔ انسان کی یہ خواہش گویا تمام انسانی علوم کے لیے کلید کا درجہ رکھتی ہے۔
یہ خواہش جس قدر اہم ہے اسی قدر اس دوسرے گروہ سے تعلق رکھنے والے عیسائی مذہب کے سائنس دان اس کی نوعیت اور حقیقت کے متعلق کوئی یقینی یا قطعی رائے قائم کرنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے اس کے متعلق جتنے نظریات قائم کیے ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسا مدلل اور منظّم نہیں کہ انسانی فعلیتوں میں سے کسی فعلیت کے فلسفہ کی بنیاد اس پر رکھی جا سکے۔ چنانچہ مغربی فلسفیوں میں سے (سوائے کارل مارکس کے جس کا فلسفہ محرّکِ اعمالِ انسانی فطرتِ انسانی کے حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا ‘ لہٰذا درست نہیں ہو سکتا)کوئی بھی ایسا نہیں کہ جس نے اپنے فلسفہ سیاست‘ یا فلسفہ اخلاق ‘یا فلسفہ اقتصادیات ‘یا فلسفہ قانون ‘یافلسفہ تعلیم ‘یا فلسفہ علم ‘یا فلسفہ جمالیات ‘یا فلسفہ تاریخ کی بنیاد انسانی اعمال کی قوتِ محرّکہ کے کسی واضح فلسفہ پر رکھی ہو۔ ان میں سے ایک فریق کا خیال یہ ہے کہ انسانی اعمال کی قوتِ محرّکہ جبلت ِجنس ہے اور نظریات یا نصب العین جبلت ِجنس سے پیدا ہوتے ہیں اور اسی کے خدمت گزار ہیں۔ جب انسان کی جبلتی خواہشات اپنا صحیح اظہار نہیں پا سکتیں تو وہ بگڑ کر کسی نظریہ کی صورت اختیار کر لیتی ہیں تاکہ انسان ان سے ایک قائم مقام تسلی حاصل کر سکے۔ یہ فرائڈ اور اس کے شاگرد ہیں۔ دوسرا فریق یہ سمجھتا ہے کہ انسان کے اعمال کی قوت ِمحرکہ‘ جبلت ِتفوق یا جبلت ِاستیلاء ہے اور نظریات جبلت ِاستیلاء سے پیدا ہوتے ہیں۔ جب انسان کی جبلت ِتفوق مطمئن نہیں ہو سکتی تو انسان کو ئی ایسا بلند قسم کا خیالی نظریہ پیدا کر لیتا ہے جو اُس کی مسدود خواہش ِتفوق کی تشفی کر سکے اور پھر اس کی جستجو کرنے لگتا ہے۔ یہ ایڈلر اور اس کے شاگردوں کا گروہ ہے۔ ایک اور فریق یہ سمجھتا ہے کہ انسان کے اعمال کا سر چشمہ تمام جبلّتوں کا مجموعہ ہے اور نظریات جبلّتوں کے ایک نفسیاتی مرکب سے جسے وہ جذبہ ذات اندیشی (Sentiment of Self-regard) کہتے ہیں‘ پیدا ہوتے ہیں اورپھر جبلت ِتفوق اس مرکب کو اُکساتی ہے‘ جس کا نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ انسان کسی نظریہ کے مطابق عمل کرنے لگتا ہے۔ یہ خیال میکڈوگل اور اس کے ہم نوائوں کا ہے۔ ایک اور فریق یہ سمجھتا ہے کہ انسانی اعمال کی قوتِ محرکہ‘ جبلت ِتغذیہ یا ضرورتِ خوراک ہے ‘جس میں وہ موسم کے مطابق لباس اور اقامتی مکان بھی شامل کرتے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ جب انسانی زندگی کی یہ بنیادی ضرورتیں ٹھیک طرح سے پوری نہیں ہوتیںتو وہ فرض کر لیتا ہے کہ اس کو ان چیزوں کی نہیں بلکہ کسی نظریہ یا نصب العین کی ضرورت ہے‘ لہٰذا وہ کوئی مناسب خیالی نظریہ پیدا کر لیتا ہے‘ جس کے تتبع کے پردہ میں وہ درحقیقت اپنی اقتصادی ضرورتوں کی تشفی کا سامان پیدا کرنا چاہتا ہے۔ دراصل اس کا نظریہ اس کی اقتصادی ضرورتوں کی ایک بگڑی ہوئی شکل ہوتا ہے۔ یہ کارل مارکس اور اس کے شاگروں کا نظریہ ہے۔ ان نظریات میں سے ہر نظریہ کے اندر عقلی اور علمی نقطہ نظرسے بہت سی کمزوریاں اورخامیاں ہیں جن کی وجہ سے ہر نظریہ نا تسلی بخش ہے۔ ان تمام نظریات میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کسی ایک حیوانی جبلت کو یا تمام حیوانی جبلّتوں کو انسان کے اعمال کا محرک قرار دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے موجد فلسفیوں کے ذہن خدا اور سائنس کے افتراق کی فضا میں نشوونما پائے ہوئے ہیں۔ ڈارون کے نظریہ کے زیر اثر ان کا خیال یہ ہے کہ سب سے پہلے مادّہ تھا۔ مادّہ سے پہلے کچھ نہیں تھا اور کسی قادرِ مطلق خدا کا ارادۂ تخلیق مادّہ کے ظہور کا سبب نہ تھا۔ مادّہ کے بعد حیوان وجود میں آیا اور حیوان سے انسان پیدا ہوا۔ لہٰذا اگر انسان میں کوئی ایسی خواہش ہے جو حیوان میں نہیں تھی مثلاً یہی نظریہ یا نصب العین کی محبّت‘ تو لا محالہ حیوان کی بعض خواہشات سے جن کو جبلتیں کہا جاتا ہے پیدا ہو سکتی ہے ورنہ اس کا وجود ممکن نہیں ۔لہٰذا یہ جبلّتیں ہی ہیں جن میں سے کوئی ایک یا جن کا مجموعہ آخرکار انسان کے اعمال کی قوتِ محرکہ ہے۔
اس کے برعکس قرآن حکیم کی تعلیم یہ ہے کہ انسان کے سارے اعمال و افعال کی قوتِ محرکہ خدا کی محبّت ہے جو کائنات کا خا لق اور رب ہے۔ خدا کی محبّت خد اکی ستائش اور عبادت اور اطاعت کا تقاضا کرتی ہے اور یہ وہ اعمال ہیں جن کو دین کہا جاتا ہے۔ اس دین پر یکسوئی سے قائم رہنا یعنی ان تمام خواہشات کو جو اس سے ہٹانے والی ہوں ترک کرنا اور اپنے تمام اعمال کو اس کے تابع رکھنا اور اسی کو اپنے سارے اعمال کا محرک بنانا‘ نوعِ انسانی کی فطرت ہے ‘جو مستقل اور محکم ہے اور تبدیل نہیں ہو سکتی ۔اور چونکہ یہ دین انسانی فطرت کی پختہ اور محکم بنیادوں پر قائم ہے لہٰذا پختہ اور محکم ہے۔
{فَاَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًاط فِطْرَتَ اللہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَاط لَاتَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللہِ ط ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ ق} (الروم:۳۰)
’’(اے پیغمبرﷺ!) دین پر یکسوئی سے قائم رہیے ۔ یہ اللہ کی پیدا کی ہوئی وہ فطرت ہے جس پر اُس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے ۔ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ یہی دین محکم ہے۔‘‘
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انسان کو سوائے عبادت کے کسی اور کام کے لیے پید اہی نہیں کیا۔ اللہ کی عبادت کا جذبہ اس کی فطرت میں رکھ دیا گیا ہے اور عبادت یہ ہے کہ انسان کسی کام کو اللہ کی محبّت اور رضامندی کے لیے کرے۔ گویا اگر انسان اپنی فطرت کا پابند رہے تو اللہ کی محبّت کے سوائے اس کے اعمال کا کوئی اور محرک نہیں ہوسکتا۔
{وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶)} (الذّٰریٰت)
’’مَیں نے جنوں اور انسانوں کو سوائے عبادت کے اور کسی غرض کے لیے پید انہیں کیا۔‘‘
حضور ﷺ کو یہ حکم ہو اکہ کہہ دیجیے کہ میری نماز اور قربانی ہی نہیں بلکہ میرا جینا اور مرنا ہر چیز اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے وقف ہے۔ اور اس میں اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک کرنا یعنی اپنی زندگی کے بعض اعمال کو اللہ کے لیے وقف کرنا اور بعض کو غیر اللہ کے لیے وقف کرنا ‘جس میں میری ذات بھی شامل ہے ‘ممکن نہیں۔مجھے یہی حکم دیا گیا ہے اور میں اس کے حکم کے سامنے سب سے پہلے سر جھکاتا ہوں۔
{قُلْ اِنَّ صَلَا تِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۱۶۲) لَاشَرِیْکَ لَہٗ ج وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ(۱۶۳)} (الانعام)
’’(اے پیغمبرﷺ!) کہہ دیجیے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور موت سب اللہ کے لیے ہیں جواہل جہاں کا پروردگار ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ‘اور مجھے یہی حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔‘‘
ان آیاتِ مبارکہ کا مطلب سوائے اس کے اور کیا ہے کہ اگر انسان کے تمام اعمال و اشغال خدا کی محبّت کے لیے سرزد ہوں تو اس کی فطرت کا عین تقاضا ہوگا۔
قرآن حکیم نے انسان کی جبلّتی خواہشات اور نصب العینی یا نظریاتی خواہشات کے باہمی تعلق کی وضاحت کردی ہے۔ انسان کی جبلّتی حیوانی قسم کی خواہشات کو قرآن کی اصطلاح میں ھَوٰی کہا گیا ہے۔ جب انسان خدا کی محبّت کو چھوڑ کر اپنی جبلّتی خواہش کو اپنے اعمال کا محرک بناتا ہے تو وہ اپنی اس خواہش کو خدا کا مقام دیتا ہے کیونکہ انسان کی فطرت کی رُو سے خد اکی محبّت ہی کو یہ مقام حاصل ہے کہ وہ انسان کے اعمال کا محرک بنے۔
{اَرَئَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہٗ ہَوٰىہُ ط} (الفرقان:۴۳)
’’(اے پیغمبرؐ! )کیا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے اپنی جبلتی خواہشات کو اپنا خدا بنا لیا ہے۔‘‘
انسان کا جو عمل خدا کی محبّت کے لیے سرزد ہو وہ عمل صالح ہے اور جو اس کی جبلّتی یا حیوانی خواہشات کے ماتحت اور ان ہی کی اعانت یا خدمت کے لیے سرزد ہو وہ غیر صالح ہے ۔انسان کی فطرت کا تقاضایہ ہے کہ اس کے سارے اعمال صالح ہوں اور اس کا کوئی ایک عمل بھی غیرصالح نہ ہو۔ یعنی اس کے سارے اعمال خدا کی محبّت کے سرچشمہ سے نکلیں اور خدا کی محبّت ہی ان کا محرک بنے۔ عمل صالح کو عمل غیرصالح سے مخلوط کرنا انسان کی فطرت نہیں۔ اگر کوئی ایسا کرے گا تو اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے اور توبہ کرنے سے وہ نجات تو پا جائے گا لیکن خدا کے مقربین میں داخل نہیں کیاجائے گا۔
{وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِہِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّاٰخَرَ سَیِّئًاط عَسَی اللہُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْہِمْ ط} (التوبۃ:۱۰۲)
’’اور دوسرا گروہ جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا ‘انہوںنے عمل صالح کو عمل غیر صالح سے خلط ملط کر دیا۔اُمید ہے کہ اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا۔‘‘
مؤمن خدا کی محبّت کے تقاضوں پر سختی سے کاربند رہتا ہے اور اپنے کسی عمل کو ان تقاضوں کے خلاف سرزد نہیں ہونے دیتا۔
{وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلہِ ط} (البقرۃ:۱۶۵)
’’وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اللہ تعالیٰ سے شدید محبّت رکھتے ہیں۔‘‘
اب سوال یہ ہے کہ جن لوگوں کا عمل خدا کی محبّت کے تقاضوں کے مطابق سرزد نہیں ہوتا ‘اس لیے کہ وہ خد اکو مانتے نہیں یا کسی اور سبب سے‘تو قرآن کی رُو سے ان کا فطرتی محرک ِعمل کیوں کام نہیں کرتا؟ قرآن حکیم اس سوال کا جواب یہ دیتا ہے کہ ان کا فطرتی محرکِ عمل برابر اپنا کام کر رہا ہوتا ہے لیکن وہ اللہ کو نہ جاننے یا کم جاننے کی وجہ سے اللہ کی صفاتِ حسن وکمال کسی غیر اللہ کے وجود کے تصوّر کو سونپ کر اُسی کو اپنا خدا بنا لیتے ہیں۔ پھر اُسی کی محبّت ان کے اعمال کا محرک بن جاتی ہے اور ان کی باقی تمام خواہشات کو اپنے ماتحت کر لیتی ہے ‘بالکل اسی طرح جیسے کہ خدا کی محبّت مؤمن کے اعمال کا محرک ہوتی ہے اور مؤمن کی باقی خواہشات کو اپنے ماتحت کر لیتی ہے۔
{وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَھُمْ کَحُبِّ اللّٰہِ ط} (البقرۃ: ۱۶۵)
’’اور بعض لوگ اللہ کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بنا لیتے ہیں جن سے وہ ایسی محبّت کرتے ہیں جو فقط اللہ کے لائق ہے۔‘‘
لیکن قرآن کا ارشاد یہ ہے کہ اس صورت میں کچھ عرصہ کے بعد اُسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کا تصوّر ِحسن درحقیقت ناقص ہے ‘اور اپنے نقائص کی وجہ سے اس کے جذبۂ حسن کو مطمئن نہیں کر سکتا اور اس کی محبّت کی پیاس کو نہیں بجھا سکتا۔ ناقص اور غلط تصوّرِ حسن یا ناقص اور غلط معبود ایک سراب کی طرح ہے‘ جس کے پاس ایک پیاسا اپنی پیاس بجھانے کے لیے آتا ہے لیکن جب وہ اس کے پاس پہنچ جاتا ہے تو وہاں کچھ بھی نہیں پاتا۔
{وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَعْمَالُھُمْ کَسَرَابٍ بِقِیْعَۃٍ یَّحْسَبُہُ الظَّمْاٰنُ مَآءًط حَتّٰی اِذَا جَآءَہٗ لَمْ یَجِدْہُ شَیْئًا} (النور:۳۹)
’’اور جو کافر ہیں ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے ایک سراب چٹیل میدان میں کہ پیاسا اسے پانی سمجھتا ہے ‘لیکن جب اس کے پاس آتا ہے تو وہاں کچھ نہیں پاتا۔‘‘
اس کا چاہنے والا ایسے شخص کی طرح ہے جو کنویں کے پانی کی طرف پانی کے لیے ہاتھ پھیلاتا ہے لیکن محض ہاتھ پھیلانے سے پانی اسے کہاں مل سکتا ہے؟
{اِلَّا کَبَاسِطِ کَفَّیْہِ اِلَی الْمَائِ لِیَبْلُغَ فَاہُ وَ مَا ہُوَ بِبَالِغِہٖ ط} (الرعد:۱۴)
’’اُس شخص کی طرح جو پانی کی طرف ہاتھ پھیلاتا ہے کہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے لیکن وہ اس کے منہ تک پہنچنے والا نہیں۔‘‘
لہٰذا وہ اسے ترک کرکے کسی اور تصوّر کو اپنا معبود بناتا ہے۔ گویا ناقص تصوّر‘ ناقص ہی نہیں ہوتا بلکہ ناپائیدار بھی ہوتاہے۔
{وَمَثَلُ کَلِمَۃٍ خَبِیْثَۃٍ کَشَجَرَۃٍ خَبِیْثَۃِ نِ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَھَا مِنْ قَرَارٍ(۲۶)}(ابراھیم)
’’ایک ناپاک تصوّر کی مثال ایک ناپاک درخت کی طرح ہے جو زمین سے اُکھاڑ پھینکا جاتا ہے اور اسے پائیداری نصیب نہیں ہوتی۔‘‘
{مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْلِیَآءَ کَمَثَلِ الْعَنْکَبُوْتِ ج اِتَّخَذَتْ بَیْتًاط وَ اِنَّ اَوْھَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْکَبُوْتِ } (العنکبوت:۴۱)
’’وہ لوگ جنہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اوروں کو دوست بنایا ہے ان کی مثال مکڑی کی طرح ہے جو گھر بناتی ہے۔ بے شک تمام گھروں میں سب سے زیادہ کمزور مکڑی کا گھرہی ہوتا ہے۔‘‘
اس کے بالمقابل خدا کا تصوّر پختہ اور پائیدار ہوتا ہے۔
{فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَیُؤْمِنْ بِاللہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی ق لَاانْفِصَامَ لَھَاط}(البقرۃ:۲۵۶)
’’پس جو شخص بتوں کا کفر کرتا ہے اور اللہ پر ایمان لاتا ہے بے شک وہ ایک ایسے محفوظ حلقہ کو تھام لیتا ہے جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔‘‘
گویا قرآن حکیم کے نزدیک تصوّراتِ حسن اور نظریات کی محبّت جس کی وجہ سے انسان تمام حیوانات پر فوقیت رکھتا ہے‘ خود وہ قوت ہے جو انسان کے سارے اعمال کو حرکت میں لاتی ہے ۔یہ قوت نہ تو جبلت ِجنس کی پیداوار اور خدمت گزار ہے اور نہ جبلت ِتفوق کی‘ نہ جبلت ِتغذیہ کی اور نہ ہی جبلّتوں کے کسی مجموعہ کی ‘بلکہ وہ انسان کی فطرت کا ایک مستقل تقاضا ہے جو جبلّتوں پر بھی حکمرانی کرتا ہے۔ باقی رہا یہ سوال کہ اگر یہ قوت جبلّتوں سے پیدا نہیں ہوئی تو کہا ںسے آئی ہے؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ حیاتیاتی سطحِ ارتقا پر قوتِ حیات کہاں سے آئی تھی اور طبیعیاتی سطحِ وجود پر برقی قوت کہاں سے نمودار ہوئی تھی؟ قرآن مجید کی محولہ بالا آیات کے مطابق اس قوت کو اُسی خالق ِکائنات نے پیدا کیا ہے جس نے حیاتیاتی سطحِ ارتقا پر قوتِ حیات کو پیدا کیا تھا تاکہ حیوانات کی نشوونما اور ارتقا کا باعث بنے‘ اور جس نے مادّی سطحِ ارتقا پر برقی قوت کو پید اکیا تھا تاکہ عناصر کی نشوو نما اور ارتقا کا باعث بنے ۔اللہ تعالیٰ نے انسانی سطحِ ارتقا پرحُبِ تصوّر کی اس قوت کو اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ وہ انسانی سطحِ ارتقا پر نوعِ انسانی کے اعمال کو حرکت میں لائے اور اس طرح سے اس کی تصوّراتی اور نظریاتی نشوونما اور ارتقا کا باعث بنے۔
{وَ اللہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ(۹۶) } (الصّٰفّٰت)
’’اور اللہ نے ہی تم کو پیدا کیا ہے اور تمہارے اعمال وافعال کو بھی۔‘‘
دراصل جس طرح سے برقی قوت خد اکے قولِ ’’کن‘‘ یا ارادۂ تخلیق و تربیت کی قوت تھی جو مادّی دنیا میں کارفرما تھی یا جس طرح سے قوتِ حیات خدا کے قولِ کن یا ارادۂ تخلیق و تربیت کی قوت تھی جو حیاتیاتی دنیا میں کارفرما تھی‘ اسی طرح سے نظریات کی محبّت کی قوت خدا کے قولِ کن یا ارادۂ تخلیق کی قوت ہے جو انسانی سطح ارتقا پر کارفرما ہے۔ انسانی دنیا کے تمام مظاہر قدرت جو انسانی اعمال و افعال کی صورت اختیار کرتے ہیں اسی کی کارفرمائی کانتیجہ ہیں۔ یہی وہ قوت ہے جو انسان کی سیاسی‘ سماجی‘ اخلاقی‘ اقتصادی‘ مذہبی‘ قانونی‘ علمی‘ تعلیمی‘ جمالیاتی اور عسکری اعمال و افعال کا منبع اور مصدر ہے اور ساری تاریخ کا تارو پود بناتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ عقیدۂ توحید کی روشنی میں نفسیات (Psychology)کی صحیح تعریف یہ ہوگی:
" Psychology is the Science of the creative activity of God in the world of the human mind and its manifestations."
لہٰذا جب ہم قرآن کی تعلیمات کی روشنی میں انسانی علوم یعنی انفرادی نفسیات‘ اجتماعی نفسیات‘ فلسفہ سیاست‘ فلسفہ اخلاق‘ فلسفہ تعلیم‘ فلسفہ قانون‘ فلسفہ تاریخ‘ فلسفہ جمالیات وغیرہ کو نئے سرے سے لکھیں گے تو ان علوم کا بنیادی تصوّر یہی قرار دینا پڑے گا کہ کسی تصوّر ِحسن کی محبّت انسان کے اعمال کی قوتِ محرکہ ہے۔ جب انسان کا تصوّرِ حسن یا نظریہ (Ideal) خدا ہو جو بدرجۂ کمال تمام صفاتِ حسن کا مالک ہے تو یہ فطرتی جذبہ محبّت اپنا صحیح راستہ پاتا ہے اور پوری طرح سے اپنا اظہار کرتا اور مطمئن ہوتا ہے ۔لیکن جب انسان کا تصوّرِ خدا نہ ہو تو انسان خدا کی صفاتِ حسن شعوری یا غیر شعوری طور پر کسی اور تصوّر کی طرف منسوب کر کے اسی تصوّر سے اپنے فطرتی ذوقِ محبّت کو مطمئن کرنے لگتا ہے ۔تاہم اس صورت میں اس کا تصوّر ِحسن غلط اور ناقص ہوتا ہے ‘اور چونکہ وہ صفاتِ حسن سے عاری ہوتا ہے اسے زود یا بدیر معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ درحقیقت غلط اور ناقص ہے‘ لہٰذا وہ مایوس ہو کر اسے ترک کر دیتا ہے اور ایک نئے تصوّرِ حسن کو اختیار کرتا ہے۔ اس طرح سے غلط نظریات کی پرستار انسانی جماعتیں مٹتی اور اُبھرتی رہتی ہیں لیکن صحیح اور کامل نظریہ کو اپنانے والی انسانی جماعت کلیۃً مٹ نہیں سکتی‘ اگرچہ اس کی زندگی کا راستہ تمام ترقیوں کی انتہائی منزل پر پہنچنے سے پہلے ترقی اور تنزل کی معمولی منزلوں پر چڑھتا اور اُترتا رہتا ہے۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026