مبادی ٔعلم ِکلام (۲)سعید عبداللطیف فودہ
ترجمہ : مکرم محمود
گزشتہ شمارے میں سعید عبداللطیف فودہ کی کتاب ’’بحوث فی علم الکلام‘‘ سے ایک حصّہ کاترجمہ ’’مبادی ٔعلم ِ کلام‘‘ کے عنوان سے دیا گیا تھا ۔اب اسی سے آگے کا کچھ حصّہ کا ترجمہ دیا جارہا ہے۔ یہ بہت سے اہم مباحث کا احاطہ کرتا ہے‘ مثلا علم کلام کا موضوع‘ غایت و مقصد‘ منفعت اور مسائل وغیرہ۔ بعض جگہوں پر بریکٹ میں کچھ تشریحی اضافے راقم الحروف کے ہیں۔
علم کلام کا موضوع
علم توحید کا موضوع ہروہ ’’معلوم‘‘ ہے کہ جس کا دینی عقائد کے اثبات سے کوئی بھی تعلق ہو۔ کسی بھی علم کا موضوع وہ ہوتا ہے جس کے ذاتی عوارض کے بارے میں اس علم میں بحث کی جاتی ہو ۔ یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ اس علم توحید میں ذاتِ خالق وصانع کے احوال(اور صفات) مثلاً قدم‘ وحدت ‘ قدرت ‘ ارادہ اور اسی طرح کے دوسرے احوال و صفات کے بارے میں بات کی جاتی ہے ‘اور یہی اصلا ً اسلامی عقیدہ ہے۔ اسی طرح حادث ہونا‘ محتاج ہونا‘ مرکب ہونا ‘ اجزاء کا حامل ہونا اور فانی ہونا وغیرہ جوکہ جسم اورعرض (یعنی تمام حوادث‘ ممکنات‘ تمام عالم)کےاحوال ہیں اوراسلامی عقیدہ کے لیے وسیلے کا کام دیتے ہیں (یہ بھی علم الکلام کے موضوعات میں شامل ہیں)۔ جسم کا مرکب اور فنا کے قابل ہونا اس کے لیے ایک پیدا کرنے والے کے محتاج ہونے کی دلیل ہے ۔ یہ سب ’’معلوم‘‘(ہر وہ تصورجوذہن میں آسکے اورعلم کا موضوع بن سکے)کے احوال سے متعلقہ بحث ہے تاکہ اس کے ذریعے دینی عقائد کا اثبات ہوسکے۔ ’’معلوم‘‘ کا اپنی اس ذکر کردہ حیثیت میں علم توحید کا موضوع ہونا ایک تحقیقی اور مسلّمہ بات ہے ۔ مسلمان جب دعوت کا آغاز کرتا ہے اور اس پر استدلال بھی قائم کرتا ہے تو وہ اس بات پر مجبور ہوتا ہے کہ اس کے پاس جو بھی علوم ہیں وہ ان کو عقیدہ کے اثبات میں مفید بنا سکے ۔ یہاں علوم سے ہماری مراد وہ سب کچھ ہے جس میں معقولات ‘ تجربیات اور متواترات(تواتر سے پہنچنے والی اخبار) اور اس کے علاوہ جو بھی علم اور قطعیت کو پیدا کرے شامل ہیں۔ ہرکلی بنیادی اصول (مبدأ کلی ) کے بارے میں یہ بات لازمی ہے کہ وہ علوم میں اپنی بنیادیں رکھتا ہو‘ان معنوں میں کہ تمام علوم اس کے مؤید (تائید کرنے والے ) ہوں ‘ ان معانی میں نہیں کہ ان تمام علوم کے بغیر اس کا قیام ہی ممکن نہ ہو ۔ بنیادی کلی اصول کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ معقولات اور بعض حسیات پر قائم ہو‘لیکن اس کے بعد یہ شرط ہے کہ وہ جو بھی علوم سامنے لائے ‘چاہے وہ علوم کے مصادر میں سے کسی بھی مصدر سے کیوں نہ ہوں‘ وہ اس بنیادی اصول سے متعارض نہ ہوں ۔ اسی وجہ سے عقائد اورقرآن مجید جو خبریں دیتا ہے ان کے اثبات کے لیے کسی بھی علم کو خادم بنانا ممنوع نہیں ہے۔البتہ چونکہ یہ ایک خطرناک اور نازک معاملہ ہے لہٰذا اس کے لیے شدید احتیاط اور دین کے گہرے علم کی ضرورت ہے۔پھراس کےساتھ اس علم کو بھی گہرائی میں جاننے کی ضرورت ہے جس کو خادم بنایا جارہا ہے (سائنس کو اسلام کی حمایت کے لیے استعمال کرنے والوں کو یہ اصول پیش نظر رکھنا چاہیے۔ سائنس کی فلسفیانہ بنیادوں سے واقفیت اشد ضروری ہے)۔ جلدبازی اورہرزمانےمیں جوکچھ مشہوراورچلتی ہوئی باتیں ہوتی ہیں ان کی رو میں بہنے سے اپنے آپ کوروکنا لازمی ہے‘کیونکہ بعض نظریات اس طرح سے پیش کیے جاتے ہیں کہ لوگ انہیں قطعی سمجھ لیتے ہیں اوردھوکا کھاتے ہیں ۔ اس طرح کے نظریات پر مطلق اعتماد درست نہیں ۔ ان معاملات میں سے کسی معاملہ میں اگرذرا سی بھی غلطی ہوگئی تو دین کوہی اس کا قصوروارٹھہرایا جائے گا ۔ لوگوں سے یہ نہیں کہا جاسکے گا کہ یہ فلاں آیت کی تفسیر میں مفسر کی غلطی ہے یا فلاں نظریے کو وہ صحیح سمجھ نہیں سکا ( اور اس نے اس کو قرآن کی تفسیر بنادیا)وغیرہ‘بلکہ اس بنیاد پر دین کے دشمنوں اور شک پیدا کرنے والوں کی طرف سے پروپیگنڈے کا آغاز ہوجائے گا کہ یہ دین کا تناقص ہے اور ایسے کلی اصول پر جو داخلی تناقص رکھتا ہو زندگی کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی ۔ اس ساری بحث کو وہ دین کے مبادی پر حملہ کے لیے استعمال کریں گے ۔ اس معاملہ میں آگے بڑھنا نہایت خطرناک ہے بلکہ دین کے ہر معاملہ میں ہی احتیاط لازمی ہے ۔ اس طرح کے معاملات میں دِقت ِنظر کے حامل(اور رسوخ فی العلم رکھنے والے) علماء کا مشغول ہونا ہی مناسب و جائز ہے ۔
چونکہ علم توحید کا موضوع ’’معلوم ‘‘ اپنی اس حیثیت میں ہے کہ وہ عقائد کے اثبات کا باعث بنے‘اس لیے جب علماء کو مختلف علوم و فنون میں مشغول دیکھا جائے‘ مثلاً طبیعیات ‘ ریا ضیات ‘ طب یہاں تک کہ فلسفہ وغیرہ میں تو ان پر اعتراض کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ہے‘ کیونکہ یہ مشغولیت ان کی کاوشوں کو ایک بنیاد فراہم کرتی ہے ۔ اگر آپ اپنے آپ کو ان بنیادوں سے مجرد سمجھ لیں تو دراصل آپ اس علم (کلام ) کی بنیادوں کو ڈھارہے ہیں ۔ تمام علوم میں غوروفکر کا یہ اسلوب اور اس کی بنیاد پر دین کی حقیقت اور محکمیت کا اظہار کوئی بدعتی طرزنہیں ہے‘بلکہ یہ فہم وہ درست طریقہ ہے جو قرآن مجید سے اپنا استناد رکھتا ہے ۔ ان بے شمار آیات پر نظر ڈالیے جو حقائق ِوجود اورحقائق ِ نفس پر کلام کرتی ہیں اور زمین و آسمان میں غوروفکر کے لیے ابھارتی ہیں ۔ جو بات ہم کررہے ہیں اس کے بارے میں اگر یہ آیات بھی دلیل نہ قرار دی جائیں تو کسی بھی معاملے پر دلیل کیسے قائم کی جاسکے گی؟
کوئی یہ نہ سوچے کہ ہم نے علم توحید کا موضوع ’’معلوم‘‘ کو قراردیا ہے اور اس معلوم میں سے قرآن و سُنّت کو خارج کردیا کہ ان سے اثباتِ عقائد کی خدمت لی جاسکے ۔ ہر گز نہیں ! قرآن و سُنّت تو ان معلومات میں شامل ہیں جو عقائد دینیہ پردلالت کرتی اور ان کو ثابت کرتی ہیں ۔ اثباتِ عقائد کے لیے قرآن و سُنّت سے خدمت لینا اس علم کے اصولوں کے ساتھ ہم آہنگی کی نسبت رکھتا ہے ۔ تمہیں اس آدمی کا قول دھوکے میں نہ ڈالے جو یہ کہتا ہے کہ اہل ِ سُنّت یعنی اشاعرہ و ماتریدیہ کے علمائے توحید قرآن و سُنّت سے استدلال نہیں کرتے بلکہ عقل کو کافی سمجھتے ہیں ۔ اس قول کا قائل اپنے اس قول سے صرف اپنی جہالت اور ظلمت عقل پر ہی استدلال کررہا ہے۔ اس قول کو بغیر قیود لگائے مطلق انداز میں بیان کرنا ایک غیر معقول بات ہے ۔ اس قول کا قائل یہ بالکل بھول جاتا ہے کہ احادیث ِ رسول ؐ کا حامل کون ہوا اور اس کو ہمارے زمانے تک کس نے پہنچایا ! کس نے علوم قرآنیہ کی حفاظت کی ؟ کون تفسیر قرآن اور شرح احادیث میں دوسروں سے فوقیت لے گیا ؟ یہ قول صریح ظلم کو ظاہر کرتا ہے اور ہمارے تمام علوم اس قول کے باطل ہونے پر دلیل ہیں ۔ محقق علمائے اہل سُنّت نے ہی تویہ سارے کام انجام دیے ہیں ۔ اسی طرح علوم لغت اور تاریخ بھی انہوں نے ہی ہم تک پہنچائے ہیں ۔ پچھلے زمانوں میں تو ہمارے علماء تقریباً تمام دنیوی علوم پر بھی مہارت رکھتے تھے ۔ جس کے قلب پر پردہ ہو‘ وہی اس بات کا انکار کرسکتا ہے ۔ جو آدمی اس حد تک چلا جائے بہتر ہے کہ اس سے مکالمہ نہ کیا جائے‘کیونکہ وہ تو سوفسطائیہ کی طرح ہوگیا ہے جن سے مناقشہ و مکالمہ ممکن ہی نہیں(کیونکہ وہ کسی بنیاد پر کھڑے ہی نہیں ہوتے کہ اس کو بنیاد بنا کر ان سے مکالمہ کیا جائے) ۔
علمائے اہل ِسُنّت جب عقل کو عقائد کے اثبات کے لیے خادم بناتے ہیں تو ان کا یہ فعل دین میں ان کی ثقاہت کو پہلے ظاہر کرتا ہے اور ان کے اپنے آپ پر اعتماد کو بعد میں‘ کیونکہ عقلی بحث کے دوران ان کو اس بات پر کامل یقین ہوتا ہے کہ اس بحث سے وہ کسی دین مخالف نتیجے تک قطعاً نہیں پہنچیں گے بلکہ ان کے یہ استدلالات کفر کے ستون کے انہدام کا باعث بنیں گے ۔ جب معاملہ ایسا ہو تو اس طریقے کو چھوڑنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔
اسی سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جو بھی اس علم میں غورو خوض کرے اس میں کچھ خاص صفات کا ہونا لازمی ہے‘ کیونکہ ہر علم کے کچھ اہل لوگ ہوتے ہیں (لِکُلِّ فَنٍّ رِجَال) تاکہ وہ ان عقلی ‘ علمی اور اصولی اصطلاحات کے سامنے آنے سے گھبرا نہ جائیںجوکہ اس فن کی کتابوں میں عام طور پر پائی جاتی ہیں ۔ جو اس علم میں غوروخوض کرنا چاہتا ہے اس کے لیے ان تمام علوم(اصطلاحات) میں مہارت ضروری ہے ۔
جب یہ بات مسلَّم ہے کہ دین‘دنیا و آخرت کی خیر کی طرف لوگوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے تاکہ انسان کی حیاتِ دُنیوی اور حیاتِ اُخروی دونوں کی اصلاح ہوسکے تو انسان کے لیے اس بات پر بغیر شک و تردد جازم ہونا ضروری ہے کہ وہ جب بھی علومِ دنیوی میں سے کسی علم مثلاً طبیعیات پر غوروخوض کرے گا تو دین کے خلاف یا اس کی نقیض بات سامنے نہیں آئے گی ۔ اسی طرح اس پر لازم ہے کہ اس اعتقاد پر جم جائے کہ علوم دنیوی میں وسعت کا پیدا ہونا اور انفس و آفاق کی معرفت اس دین کی طرف اس کے ایمان و اطمینان میں اضافہ کرے گی۔ یہ معرفت جو کچھ شرع نے بتایا ہے اس پر دلیل کا کام کرے گی(اور اگر اس کے برخلاف ہو تو یقیناً اس معرفت میں ہی مسئلہ ہو گا کیونکہ وہ معرفت بہرحال ظنی ہے) ‘ کیونکہ یہ دونوں ایک ہی خدا کی طرف سے ہیں ۔ یہ اطمینانِ قلبی اس کے لیے غوروفکر کے جو صحیح قوانین ہیں ان کے ساتھ تعلق و تمسک اور نظرو بحث میں کاوش و تحقیق کا باعث بنے گا۔ صحیح عقیدہ کبھی تعصب اور ڈھٹائی پیدا نہیں کرتا ۔
ہمارا یہ قول کہ اس علم کا موضوع ’’معلوم‘‘ ہے تو معلوم سے مراد موجود بھی لی جاسکتی ہے جس میں وجودی اور اعتباری دونوں شامل ہیں ۔ ہم نے ’’معلوم‘‘ کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے اور اسے ’’موجود‘‘ سے اس لیے مقدّم کیا ہے تاکہ یہ تعریف ان لوگوں کے لیے بھی درست قرار پائے جو وجودِ ذہنی کے قائل نہیں ہیں اور جو علم کی تعریف عقل میں صورت کے حصول سے نہیں کرتے اور حال اور معلوم کے مباحث کو اس علم سے خارج سمجھتے ہیں ۔ (’’معلوم‘‘ ’’موجود‘‘ سے عام ہے۔ ہر موجود معلوم بھی ہو سکتا ہے لیکن ہر معلوم لازمی نہیں کہ موجود ہو سکے۔ وجود ذہنی کے قائل نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ ذہن میں پائے جانے والے تصورات کو ایک گونہ وجود کا حامل نہیں کہتے بلکہ وجود صرف خارج میں موجود اشیاء تک محدود ہے۔ اسی طرح علم کی تعریف ذہن میں صورت کے حصول سے نہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ وہ خارج سے مطابقت کو اس صورت کے علم قرار دیے جانے کے لیے شرط قرار دیتے ہیں۔) معلوم سے ہروہ چیز مراد لی جاتی ہے جس پر یہ لفظ صادق آئے ۔ اس وجہ سے اس میں محالات ‘ حقیقی موجودات ‘ انتزاعی اور اختراعی اعتقادات یہاں تک کہ معدومات بھی شامل ہیں جن کا علم ممکن ہو ۔ اس بات میں کوئی اشکال نہیں ہے(کہ یہ سب معلوم کے دائرے میں آئیں گے) اگر ان سے الٰہیات پر استدلال ممکن ہو۔
ساری بات کا حاصل یہ ہے کہ اس علم میں ذات و صفاتِ باری تعالیٰ کے لیے ثابت احکام اور دنیاوآخرت میں ممکنات کے احوال و معاملات سے قانونِ اسلام کی روشنی میں بحث کی جاتی ہے ۔ قانونِ اسلام سے ہماری مراد دین میں معتبر اسبابِ علم و معرفت ہیں ۔ ہر بنیادی محیط اصول اور کامل نظام اپنے کچھ خاص معیارات اور ترازو رکھتا ہے تاکہ معاملات کو ان پر پرکھا جاسکے ۔ یہ موازین وسائل ِعلم و معرفت ہی ہیں۔ تمام معلومات کا اسلامی نظریۂ معرفت و علم کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ضروری ہے ۔ ہروسیلۂ معرفت جس کا قطعی ہونا معلوم ہووہ اسلامی طریقۂ معرفت ہی ہے ۔
علم کلام کی غایت و مقصد
اس علم کی غایت یہ ہے کہ ایمان اور احکامِ شریعت کی تصدیق میں ایسا اتقانِ محکم پیدا ہوجائے کہ شبہ پیدا کرنے والے کا شبہ اس کو ہلا نہ سکے ۔ اس بات پر بہت سے دلائل قائم ہیں کہ انسان کی دنیوی اور اخروی سعادت اس دین پر ہی مبنی ہے ۔ اس دین کے اصولوں کو انسانی نفوس میں راسخ کرنا‘ ان کو استحکام فراہم کرنا اور اَعدائے دین اورکفارکے شبہات کوردّ کردینا ضروری ہوگیا ہے ۔
یہ سمجھنا درست نہیں ہے کہ اس دین کی صحت پر استدلال اندھےتعصب کی قبیل سے ہے بلکہ اس کا تعلق تو یقینی اور قطعی علم سے ہے ۔ یہ بات وہی انسان سوچ سکتا ہے جس کا علم دین کمزور ہو اوراس میں رسوخ نہ ہو‘ اور آج کل اکثر لوگوں کا یہی حال ہے کہ ان کو حقیقت ِدین کی صحیح واقفیت حاصل نہیں ہے۔ ان کا دین سے انتساب دوسروں کی پیروی میں اور اپنے معاشرے کی رعایت کی وجہ سے ہے ۔ ان کے اندر دین کے حوالے سے کوئی اہتمام نہیں پایا جاتا ۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ دین کے مخالف باتیں ان کے نزدیک زیادہ تحقیقی یا زیادہ درست ہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ دین کے حوالے سے کچھ جانتے ہی نہیں اور دنیوی معاملات میں مشغولیت کی وجہ سے دینی معاملات میں کھوج کرید یا بحث کا خیال بھی ان کے دماغ میں نہیں آتا ۔ ان میں سے اکثر افراد اگر کافر یا ملحد معاشروں میں زندگی گزارتے تو انہی کے رنگ میں رنگ جاتے اوران معاشروں کے جو بھی عقائد ہوتے انہیں قبول کرلیتے اور دین کا انکار کردیتے ۔
علم ِکلام کی منفعت (فائدہ)
عقل مند یہ بات جانتا ہے کہ علم توحید کا فائدہ دنیا میں دنیوی معاملات کے انتظام میں بھی ظاہرہوتا ہے ۔ صحیح انتظام ممکن نہیں ہے جب تک کہ عدل کا معاملہ نہ کیا جائے اور معاملات کو اس طریقے سے چلایا جائے کہ بغیر فتنہ و فساد نوعِ انسانی کی بقا ممکن ہو ۔ انسان جب علم توحید سے واقف ہوجاتا ہے‘ اس میں اس کا نفس قرار و اطمینان پا جاتا ہے اور اس کی صفات بھی توحید کے رنگ میں رنگ جاتی ہیں تووہ ذاتی سعادت کوحاصل کرلیتا ہے۔ جب شریعت کے احکامات پر لوگ عمل کرتے ہیں اوراپنے باہمی معاملات کی میزان شریعت کو ہی بنالیتے ہیں تو وہ مطلوب دنیوی انتظام بھی حاصل ہوجاتا ہے ۔ (یہ بات جان لینے کی ہے کہ) اہل ِحق کے طریقہ پر اصولِ توحید پر ایمان کے بغیر احکامِ شریعت سے صحیح تمسک بھی ممکن نہیں ۔
اس بحث سے اس بات کا ردّ بھی ہوجاتا ہے کہ دین کا احوالِ دنیا سے کوئی تعلق نہیں‘بلکہ ان معاملات سے دین ہی کا تو اصل اور صحیح تعلق ہے ۔ دین صرف احوالِ آخرت ہی میں منحصر نہیں ہے ‘جیسا کہ بعض جاہل سمجھتے ہیں‘ بلکہ دینی تناظر میں دنیوی زندگی ایک پُل کی طرح ہے جس پرسے گزرکرہی ہم نےآخرت تک پہنچنا ہے ۔ انسان اگرآخرت کے خیر کو حاصل کرنا چاہتا ہے تواس پرلازم ہے کہ دنیا کےخیرکو بھی حاصل کرے ‘جس کا حصول میزانِ شریعت کے بغیرممکن نہیں۔آخرت میں علم توحید کا فائدہ یہ ہوگا کہ کفر اور غلط اعتقاد کی وجہ سے جو عذاب ہونا تھا‘ اس سے نجات ہوجائے گی ۔
دنیا میں اس علم کے فائدے پر جب ہم غور کرتے ہیں تو یہ بات جان لیتے ہیں کہ نوعِ انسانی کی اصلاح اس دین کے بغیر ممکن نہیں۔ اسلام کے سوانوعِ انسانی کی اصلاح کے جتنے بھی طرق یا افکار ہیں اور جو اس اصلاح کا دعویٰ بھی رکھتے ہیں وہ سب باطل اور فاسد ہیں ۔ یہ ہم ان پر الزام نہیں لگارہے اور نہ ان مفکرین کی فکر کو خوامخواہ ہلکا سمجھ رہے ہیں بلکہ ہمارا یہ ماننا دین اور اس کے مبادی کے علم پر مبنی ہے ۔ یہ تمام نظام ہائے فکر مثلاً سرمایہ داری‘ کمیونزم اور اشتراکیت کلی افکارکے بھیس میں محض جزئی افکارہیں جن کو تزئین و آرائش کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ سب اپنے بارے میں دعویٰ رکھتے ہیں کہ یہ افکار تمام مسائل کا احاطہ کرتے ہیں لیکن ہم دلائل کی بنیاد پر اس بات کا اعتراف نہیں کرتے(اور اس کو رد کرنے کی قدرت رکھتے ہیں) ۔ ہمارے پاس وہ فکری اسلحہ موجود ہے جس کی مدد سے ہم ان افکار کی حقیقت عیاں کرسکتے ہیں اور یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ یہ جزئی خیالات ہیں۔ اسی طرح ہم ان افکار کے فساد کو اور ان کی حقیقت ِوجود سے عدم مطابقت کو بھی ظاہر کرسکتے ہیں ۔
علم ِکلام کے مسائل
وہ تمام نظری اور شرعی قضایا جو کہ عقیدہ سے متعلق ہوں ‘علم کلام کے مسائل شمار کیے جاتے ہیں ۔ نظری قضایا کوغیر نظری قضایا کی آمیزش سے پاک رکھنا بھی ان مسائل میں شامل ہے ۔ نظری سے مراد وہ قضیہ ہے جس کو تصدیق کے لیے غوروفکر کی احتیاج ہو۔ نظری کا غیر(متضاد) بدیہی ہے لیکن اس کو مسائل میں شامل نہیں کیا جاتا‘ کیونکہ مسئلہ کا معنی ہی یہ ہے کہ جس کے بارے میں پوچھا جائے ‘ سوال کیا جائے اور دلیل طلب کی جائے ۔
بدیہی وہ معلوم ہوتا ہے جس کو دلیل یا سوال کی ضرورت نہ ہو۔ دورِ حاضر میں بہت سے بدیہی مسائل نظری ہوگئے ہیں بلکہ بعض بدیہی مسائل کا تو انکار ہی کردیا گیا ہے۔ ان حالات میں کوئی شک نہیں کہ بدیہی و نظری دونوں طرح کے مسائل سے بحث میں تعرض ضروری ہوگیا ہے(عام حالات میں بدیہی قضایا کو زیربحث نہیں لایا جاتا)۔ کسی مسئلہ کے بدیہی ہونے کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے اگروہ لوگوں کو معلوم اوران میں اس حد تک مشہورنہیں ہے کہ اس کے بارے میں سوال کا کوئی محرک ان میں پیدا نہ ہواوراس سوال کو تحصیل ِحاصل نہ سمجھا جائے۔ انقلابِ حقائق کے بعد بدیہی نظری یا مردود قرار دے دیا گیا ہے ۔ دین ِحق کے داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ لوگوں کے مرتبہ پر نزول کرے اور اسی کے مطابق ان سے کلام کرے‘ ورنہ حقائق ِدین کی نشرو اشاعت ناممکن ہوجائے گی ۔ کسی مسئلہ کے بدیہی ہونے یا نہ ہونے کا معیار یہ ہےکہ عام لوگوں میں وہ اس حد تک مقبول ہے یا نہیں کہ ان کے علم میں عالم اورعامی جاہل برابر ہوں۔ اگر کوئی مسئلہ پہلے بدیہی شمار ہوتا تھا لیکن اب وہ غیر بدیہی ہوگیا ہے تو ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم اس سے عصر حاضر کے تقاضے کے مطابق معاملہ کریں(اور ایسے معاملات کو بھی زیر بحث لائیں جن کو پہلے گفتگو کا موضوع بنانے کی ضرورت نہ تھی) ۔
علم کلام کن تصورات سے مدد حاصل کرتا ہے؟(استمداد)
علم توحید وجوب ‘ امکان اور امتناع کے تصورات سے مدد حاصل کرتا ہے (یعنی ان تصورات کو بنائے استدلال بنایا جاتا ہے)۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ تفسیر ‘ حدیث ‘ فقہ ‘ اجماع اور عقلی نظرو فکر سے مدد حاصل کرتا ہے ۔ یہاں اختلاف شاید صرف تعبیری اور لفظی ہے‘کیونکہ وجوب ‘ امکان ‘ اور امتناع کے تصوّرات انہی ذکر کردہ منابع سے اخذ کیے جاتے ہیں ۔ یہی اشاعرہ اور ماتریدیہ کا مذہب ہے جو اہل ِسُنّت اور اہل حق ہیں ۔ اسی طرح کسی بھی انسان کو مکلّف کردینے والا حکم شریعت کے علاوہ کہیں اورسے اخذ نہیں ہوسکتا۔ اس میں جو بھی اختلاف اشاعرہ و ماتریدیہ کے درمیان ہے وہ محض اعتباری ہے(یعنی تکلیف کا دارو مدار محض شریعت پر ہے) ۔ جہاں تک عقل کے دائرہ کار کا تعلق ہے تو وہ قدرتِ انسانی کے دائرہ میں رہتے ہوئے ماہیت و واقعیت ِاشیاء کوجاننےاورحقائق نفس الامریہ کی معرفت تک ہے ‘ مگراس معرفت پر کوئی تکلیفی حکم مرتب نہیں ہوتا(یعنی اس معرفت کی بنیاد پر انسان مکلّف نہیں ہوجاتا)۔ ہم عالم خارجی میں غوروفکر کے لیے عقل سے خدمت لیتے ہیں تاکہ یہ بات جان لیں کہ اللہ تعالیٰ موجود ہے۔ اس اعتبارسے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کو واجب قراردینا کہ جو لائے گا وہ ثواب کا مستحق ہوگا اور جو نہ لائے گا وہ عذاب میں مبتلا ہوگا ‘ صرف شریعت سے ممکن ہے ‘عقل سے نہیں۔ اس میں لطیف تفصیل ہے جو اشاعرہ اور ماتریدیہ کے درمیان اس مسئلے میں فرق کو ظاہر کرتی ہے ۔ اس بحث کی بنیاد پر ہم یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ اوپر ذکر کردہ تمام علوم عقائد پر دلالت کرتے ہیں مگر ان کا دارو مدار خود علم توحید پر ہے۔ مثلاً حدیث سے کوئی بات تبھی ثابت ہوگی جب پہلے سے نبوت ثابت ہوچکی ہوگی اور نبوت کا ثبوت خود توحید پر مبنی ہے۔ نبوت کے اثبات کے بعد نبی کا قول عقائد پر دلالت کرے گا۔ اسی طرح قرآن مجید کا معاملہ ہے کہ اس کا اثبات خدا کے وجود کے اثبات پر مبنی ہے۔ قرآن مجید کو اللہ کا کلام تسلیم کرنا اللہ تعالیٰ کے وجود کے قائل ہونے کے بعد ہی ممکن ہے۔
قرآن مجید کے کلامِ الٰہی ثابت ہونے کےبعد نہ صرف وہ عقائد پر دلالت کرے گا بلکہ ان دلائل کی بھی نشان دہی کرے گا جو علم توحید میں کام میں لائے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح کا معاملہ فقہ کا بھی ہے۔ اسی جہت سے یہ بات کی جاتی ہے کہ علم توحید ان علوم سے مدد حاصل کرتا ہے۔ البتہ یہ بات ذہن نشین رہےکہ علم توحید کا یہ استمداد ایک خاص اعتبارسےہے‘یعنی ان کےقرآن و سُنّت ثابت ہوجانے کے بعد(جب قرآن وسُنّت کا اللہ اور رسول کی بات ہونا ثابت ہو جائے)۔ اس ثبوت کی جہت سے یہ خود علم توحید(کلام) پرمنحصرہیں۔
علمائے اہل ِسُنّت اس بات پر متفق ہیں کہ عقل کے ذریعے عقائد سے متعلق بعض احکام کی معرفت ممکن ہے لیکن عقائد کا مکلّف انسان نقل اور شرعی دلیل ہی کی بنیاد پر ہوتا ہے(علمائے ماتریدیہ کا موقف اس سے کچھ مختلف ہے۔بہرحال سعید فودہ صاحب نے اس مقام پر علمائے اہل سُنّت کا اس بات پراتفاق نقل کیا ہے جو محل ِنظر ہے)۔ اس لیے اہل سُنّت عقلی دلائل کےذریعے عقائد پر استدلال کرتے ہیں ۔ اس استدلال سے مراد حقیقت سے ان کی مطابقت کو ثابت کرنا ہے‘ ان کی بنیاد پرانسان کومکلّف ثابت کرنا نہیں ہے ۔ تکلیف صرف شریعت کی بنیاد پر ہوتی ہے۔
(اس موضوع پر مزید بہت سے مفید نکات‘ان شاء اللہ‘ اگلی قسط میں آئیں گے۔)
tanzeemdigitallibrary.com © 2026