(تعلیم و تعلم) مباحث ِعقیدہ(۲۳) - مؤمن محمود

13 /

مباحث ِعقیدہ(۲۳)مؤمن محموداللہ کے حق میں مستحیلات
علماء نے الٰہیات کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے حصے کو واجبات‘ دوسرے کو مستحیلات اور تیسرے کو جائزات کہتے ہیں فی حق اللہ سبحانہ و تعالیٰ۔ ہم اللہ کے فضل سے واجبات کا باب مکمل کر چکے ہیں اور اب ہم نے جس عنوان کا آغاز کیا ہے وہ مستحیلات یا ناممکنات ہیں کہ جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حق میں نہ ماننا ضروری ہیں۔ اس میں بہت سی باتیں ہم دیکھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ زمان سے‘ مکان سے‘ ماوراء ہے۔ کسی جہت میں نہیں ہے ۔عدم اس پر طاری نہیں ہو سکتا۔ وہ حوادث کے مانند نہیں ہے ۔یہ فہرست آج اللہ نے چاہا تو مکمل ہو جائے گی ۔اس کے بعد ہم امام غزالی علیہ الرحمہ کی آخری کتاب: الجام العوام عن علم الکلام میں سے کچھ باتوں کا مطالعہ کریں گے۔ اس میں انہوں نے سلف صالحین کا مسلک بیان کیا ہے کہ عوام الناس کے لیے کس حد تک اعتقاد رکھنا ضروری ہے۔ عوام الناس کا لفظ جب بھی آئے تو ہم سب اس میں شمار ہوں گے۔ عجیب بات یہ ہے کہ کئی دفعہ بڑے بڑے علماء یہاں تک کہ امام غزالی علیہ الرحمہ بھی اپنے آپ کو عوام میں سے شمار کرتے ہیں۔ تو اگر وہ اپنے آپ کو عوام میں شمار کریں تو ہمیں تو ایک نیا عنوان لانا پڑے گا کہ جس میں ہم اپنے آپ کو باندھ سکیں۔
مذہب سلف کے نام پر تجسیم اور تشبیہ
الجام العوام عن علم الکلام میں امام صاحب علیہ الرحمہ جو موضوع زیر بحث لا رہے ہیں‘ وہ یہ ہے کہ جس طرح آج کے زمانے میں بھی کچھ لوگوں نے کہا کہ مذہب سلف یہ ہے اور اس کے نام پر یا سلفیہ کے نام پر تجسیم اور تشبیہ کو فروغ دیا‘ اسی طریقے پر امام صاحب علیہ الرحمہ کے زمانے میں بھی یہی صورت حال تھی ۔وہ شروع میں ذکر کرتے ہیں کہ بعض لوگ جو اپنے آپ کو سلف کا پیروکار کہتے ہیں‘ کچھ ایسے عقائد کی تشہیر کر رہے ہیں کہ جن سے سلف مبرا تھے‘ منزہ تھے ۔تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ عقائد سلف کے نہیں تھے تو پھر کیا تھے ؟ امام صاحبؒ نے اس میں سلف کا عقیدہ بیان کیا ہے کہ وہ صفاتِ باری تعالیٰ کے حوالے سے کس مقام پر اور کس موقف پر کھڑے تھے۔ امام محمد بن یوسف سنوسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
ویستحیل علی اللّٰہ تعالیٰ ان یتصف بالاغراض فی الافعال والاحکام
’’اللہ سبحانہ و تعالیٰ پر یہ بات مستحیل ہے کہ وہ اغراض سے متصف ہو افعال میں یا احکام میں ۔ ‘‘
افعال اور احکام میں ہم نے یہ فرق کیا کہ اللہ کا فعل تکوینی ہےجبکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا حکم تشریعی ہے۔ یعنی احکام یہ ہیں کہ یہ کرو‘ یہ نہ کرو‘ جبکہ کیا ہوگا ‘کیا نہیں ہوگا یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی تکوین ہے۔ اللہ نے فعل کیا ‘اللہ نے خلق کیا‘ اللہ نے اس کائنات کو وجود دیا تو کوئی ایسی غرض نہیں تھی کہ جس نے اللہ کو آمادہ کیا ہو کہ اس کائنات کووجود دے دیا جائے۔ اسی طرح اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حکم شرعی دیا ہے تو اس میں اللہ کی کوئی غرض‘ منفعت یا مصلحت نہ تھی جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ حاصل کرنا چاہ رہے تھے۔اللہ تعالیٰ منافع سے‘ مصالح سے‘ اغراض سے منزہ اور ماوراء ہے۔ پھر انہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ کچھ لوگوں نے علمائے اہل سُنّت پر یہ اعتراض کر دیا کہ اگر ایسی ہستی کہ جس کو فعل پر اُبھارنے والا کوئی باعث نہیں ہوتا‘ کوئی موٹیویشن نہیں ہوتی‘ کوئی غرض نہیں ہوتی تو یہ سفہ یعنی عبث ہے۔ یہ توفضول ہے۔ ایسی ہستی تو مجنون شمار ہوتی ہے‘ نعوذ باللہ۔ مجنون شخص جو افعال کر رہا ہوتا ہے ‘ ان کے پیچھے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ بس افعال برائے افعال ہیں۔ تو تم نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو ‘نعوذ باللہ‘ نقل کفر کفر نباشد‘ جنون سے متصف کر دیا!
غرض کا ہونا عدم کمال کی علامت
فرماتے ہیں کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ قیاس الغائب علی الشاھد ہے۔ ہمارے ہاں غرضِ کمال اس لیے ہے کہ ہم اپنی ذات میں مکمل نہیں ہیں۔ ہمیں اپنے آپ کو مکمل کرنا ہوتا ہے تو ہم کوئی غرض حاصل کرنے کے لیے فعل کرتے ہیں۔ جہاں کمال مطلق ہو‘ جہاں احتیاج کا گزر تک نہ ہو‘ وہاں یہ کہنا کہ کوئی غرض حاصل کی جاتی ہے گویا یہ ماننے کے مترادف ہے کہ وہ ذات پہلے مکمل نہیں تھی اور اس غرض کے ذریعے‘ اس مصلحت کے ذریعے مکمل ہو رہی ہے۔ فرما رہے ہیں کہ دیکھو اللہ کی ذات کو اگر تم کامل مطلق مانتے ہو تو پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات کو اغراض سے‘ منافع سے‘ مصلحتوں سے ماوراءسمجھو ۔ پھرکہتے ہیں کہ عبث اس لیے نہیں ہے کہ اللہ تو کوئی غرض حاصل نہیں کرتا جبکہ اللہ نے دیا بہت کچھ ہے۔ انسان کو جو پیدا کیا ہے وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے فضل اور رحمت کا مظہر ہے۔ انسان سے کچھ باتوں کا مطالبہ کیا ہے کہ جن باتوں میں انسان کا کمال اور اس کی ترقی ہے۔ لہٰذا اگر انسان کو پیدا کر کے چھوڑ دیا جاتا تو یہ عبث تھا ‘لیکن انسان کو پیدا کر کے اس سے مطالبہ کیا تو انسان کے اعتبار سے تو عبث کچھ نہیں ہے بلکہ انسان نے کچھ اعمال پر عمل کر کے اور کچھ احکام پر چل کر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہے اور اپنے کمال تک پہنچنا ہے۔ اسی بات کے جواب میں کہ یہ عبث ہے ‘ کہتے ہیں عبث وہ ہوتا ہے کہ جس میں کرنے والا عواقب کو نہ جانتا ہو‘ یعنی کوئی شخص فعل کرے اور فعل کرتے وقت اس کے نتیجے سے بالکل ذہول اور غفلت کا مظاہرہ کرے تو یہ عبث ہے۔ جیسے مجنون شخص ایک فعل کر رہا ہے لیکن اس کے نتیجے میں کوئی عواقب اور نتائج نہیں جانتا۔ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ تمام نتائج اور عواقب جانتے ہیں‘ اگرچہ اس نے ان نتائج اور عواقب کو غرض کی حیثیت سے مقصود نہیں بنایا بلکہ وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے فعل کے تابع ہو کر ظہور پزیر ہوتے ہیں۔ یعنی حکمت اللہ کے فعل کے تابع ہوتی ہے جبکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فعل کسی حکمت کے تابع نہیں ہوتا۔ یہ اہل سُنّت کا مسلک ہے اس باب میں۔
اتحاد و حلول مستحیل وکفر ہے
فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر یہ بات مستحیل ہے کہ وہ کسی ذات میں حلول کرے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کسی ذات میں حلول نہیں کرتے جس طریقے پر دعویٰ ہے نصرانیوں کا یا باطنیہ کا‘ المنحرفون کا کہ جو سیدھے راستے سے ہٹ چکے ہیں۔ نصاریٰ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ذاتِ عیسیٰ میں حلول فرمایا۔ بہت سی آراء ہیں لیکن ایک رائے یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات حال ہو گئی‘ نازل ہو گئی‘ ظاہر ہو گئی سیدنا عیسٰی علیہ السلام میں‘ چنانچہ ایک اعتبار سے وہ انسان تھے اور ایک اعتبار سے وہ خدا تھے۔ یا باطنیہ کا عقیدہ کچھ اس طرح کا رہا ‘یا ایسے صوفیوں کا جن کو ہم گمراہ کہتے ہیں‘ کہ جو کامل ولی ہوتا ہے اس میں بھی اللہ تعالیٰ حلول فرما لیتے ہیں۔کہتے ہیں: الولی الکامل یحل اللّٰہ فیہ ۔ غالی قسم کے شیعوں کا سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں بھی یہ عقیدہ رہا۔ غالی اور باطنی صوفیاء کا بھی اس قسم کا عقیدہ رہا ہےکہ ولی اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ غالباً وہ خدا ہی ہو جاتا ہے اور خدا کی ذات کا مظہر ہوتا ہے‘ وغیرہ وغیرہ۔ فرماتے ہیں یہ سب باتیں مستحیل ہیں اللہ پر‘ اور یہاں صرف مستحیل کہنے پر گزارا نہیں کیا۔پہلے جتنی بھی باتیں آئی تھیں کہ اللہ زمان میں نہیں ہے‘ مکان میں نہیں ہے لیکن یہ نہیں کہا کہ یہ کفر ہے‘ کیونکہ کچھ لوگ اس کے قائل رہے ہیں اور تاویلات وغیرہ کرتے رہے ہیں۔ مثلاًمجسمہ یا مشبہہ کے کفر پر کوئی اجماع وغیرہ نہیں ہے بلکہ ہم کہتے ہیں کہ وہ گمراہ ہیں اور تاویل کرتے ہیں تو ان کو عقیدہ کے اعتبار سے ٹھیک ہو جانا چاہیے ‘ البتہ وہ کافر نہیں ہیں۔یہاں فرماتے ہیںکہ یہ تو واضح طور پہ صراحتاً کفر ہے‘ یعنی کوئی شخص اگر یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات کسی میں حلول پزیر ہو گئی یا اللہ کی ذات سے کوئی جزو نکل کر کسی حادث کے اندر حلول پزیر ہو گیا تو یہ عقیدہ سب کا سب کفریہ ہے۔
اس طرح کے کفریہ عقیدے والے ہمارے ہاں بھی انجانے میں پھر رہے ہوتے ہیں ۔کئی دفعہ کلاس میں پڑھاتے ہوئے جب کہا کہ روح اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے تو سامنے بعض لوگوں نے جن کو یہ بات جہالت کی وجہ سے معلوم نہیں تھی‘ انہوں نے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ { وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ}(الحجر:۲۹) تو پھر رُوْحِیْ کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذاتی روح یا ذاتی نفس میں سے کچھ پھونکا ہےلہٰذا ہمارے اندر گویا ایک اعتبار سے الوہیت آگئی۔ نعوذ باللہ! اللہ کی ذات کا کچھ حصّہ یا اللہ کی روح کا کچھ حصّہ ہمارے اندر ہے‘ یہ بھی حلول کا عقیدہ ہے۔ اگرچہ علماء نے اس کو کفر صریح کہا ہے لیکن کئی دفعہ نصوص کو غلط طریقے پر سمجھنے کے نتیجے میں‘ یا نصوص کی جو صحیح تعبیر سلف سے اور اللہ کے نبی ﷺ سے مروی ہے اس کو ملحوظ خاطر نہ رکھنے کی وجہ سے‘ اور عربی زبان کا ناقص علم حاصل ہو جانے کی وجہ سے اس قسم کے شبہات پیدا ہو جاتے ہیں۔کہنے والے کہیں گے کہ بھئی ناقص علم کیا حاصل ہوا!مرکبات ناقص ہوتے ہیں‘ مرکبات تامہ ہوتے ہیں تو ’’میری روح‘‘ مرکب ناقص کی قسم میں سے مرکب اضافی ہے‘ اس میں مضاف اور مضاف الیہ ہوتا ہے‘تو مضاف الیہ یہاں یائے متکلم کی ضمیر ہے اور روح مضاف ہے ‘تو گویا روح جزو ہو گئی مضاف الیہ کا۔مضاف‘ مضاف الیہ کا جزو ہوتا ہے۔ جیسے میں کہوں ’’یَدِی‘‘ (میرا ہاتھ) تو میرا ہاتھ میرا جزو ہے۔ اس طریقے پر روح اللہ تعالیٰ کا جزو ثابت ہوگی ۔اس طرح کے استدلال کر کے اور باقی تمام نصوصِ محکمہ کو اور پھر عربی زبان کے گہرے قواعد کو نظرانداز کرنے کے نتیجے میں کفر پھیلتا ہے۔
کفریہ عقیدہ کے حامل کاکافر ہونا ضروری نہیں
علماء نے یہاں یہی بیان کیا کہ ’’وھذا کلہ کفرصریح ‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ جو عامی جہالت میں یہ عقیدہ رکھے بیٹھا ہے وہ کافر ہےبلکہ ہم اس کو بتائیں گے کہ بھئی تمہارا یہ خیال غلط تھا۔ کئی دفعہ جہالت کی وجہ سے کفر اللہ کے ہاں مقبول تو نہیں ہو سکتا‘ ہاں وہ صاحب معذور ضرور قرار پاسکتے ہیں۔ اللہ کے نبی ﷺ نے ایک صاحب کا قصہ بیان کیا کہ جنہوں نے مرتے وقت کہا کہ اگر اللہ نے مجھ پر قدرت حاصل کر لی تو مجھے وہ ایسا عذاب دے گا کہ جو اُس نے کسی کو نہیں دیا‘ ان پر یہ خوف طاری ہو گیا تو انہوں نے کہا کہ اب اللہ کی قدرت سے بچنے کا راستہ یہ ہے کہ جب میں مر جاؤں تو میرے جسم کو جلا دینا۔ آدھی راکھ دریااور سمندر میں بہا دینا‘ کچھ ہوا میں اڑا دینا‘ کچھ زمین میں دفن کر دینا تاکہ میں اللہ کی قدرت سے نکل جاؤں اور اللہ تعالیٰ مجھے دوبارہ پیدا نہ کر سکے ۔ اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ نے ہواؤں کو حکم دیا‘ زمین کو حکم دیا ‘سمندر کو حکم دیا اور اس کے تمام اجزاء دوبارہ جوڑ دیے گئے ۔ جب وہ اللہ کے سامنے زندہ حاضر ہوا تو اللہ نے فرمایا : تمہیں کس بات نے آمادہ کیا اس فعل پر جو تم نے کیا ہے؟ اس نے کہا: تیرے خوف نے ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس خوف کی وجہ سے تیری بخشش ہو گئی۔ یہاں وہ یقیناً ایک کفریہ عقیدے پر کھڑا ہوا تھا لیکن اس کو کسی نے شاید بتایا نہیں ہوگا کہ اللہ کی قدرت کی حدود کیا ہیں ۔ لہٰذا اس نے یہ سمجھا کہ اگر میں اس طرح کا کوئی کام کروں گا تو شاید اللہ کی قدرت سے نکل جاؤں ۔ اللہ تعالیٰ نے جہالت کی وجہ سے اسے عذر دیا اور چونکہ اس کے اندر خشیت ِالٰہی اور خوفِ الٰہی کی صفت تھی تو اس صفت کی بنا پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس کی مغفرت فرما دی۔ چنانچہ جہالت کا مطلب ہوتا ہے کسی کو پتا نہ ہو‘ لیکن اگر بتا دیا جائے کہ یہ عقیدہ ہے جو نصوصِ صحیحہ سے ثابت ہے اور اس کے بعد بھی وہ اَڑ جائے کہ نہیں‘ مجھے تو وحی سے یہی سمجھ آ رہا ہے اور کہے کہ میں تو روح کو خدا کا جزو ہی مانتا ہوں ‘ پھر وہ معذور نہیں بلکہ اس کے اُوپر حجت تمام ہو چکی ہے۔
اضافت کا مفہوم
عربی کی محقق اور امہات الکتب میں دیکھیں گے تو معلوم ہوگاکہ اضافت کی بیس سے زیادہ اقسام بیان کی جاتی ہیں۔ یعنی مضاف کی مضاف الیہ کی طرف جو اضافت ہوتی ہے ‘یہ کتنے نوع کے تعلقات کی وجہ سے ہو جاتی ہے ۔ ہم نے تو صرف ’’یَدِی ‘‘ہی سنا ہوا ہے کہ میرا ہاتھ‘ تو ہمارے خیال میں اضافت بس جزو کی ہوتی ہے ‘کُل کی طرف ایسا نہیں ہے۔ درحقیقت اضافت کی بہت سی اقسام ہیں ۔ اضافت کے بارے میں ایک قاعدہ ذہن میں رکھیں جو علماء نحو بیان کرتے ہیں کہ:الاضافۃ لادنیٰ ملابسۃ یعنی دو چیزوں کی اضافت ایک دوسرے کی طرف (جس میں ایک مضاف ‘ ایک مضاف الیہ بنتا ہے) کسی ادنیٰ سے ادنیٰ تعلق کی وجہ سے ہو جاتی ہے۔ اس میں کوئی جزو کل کا تعلق ہونا یاملکیت کا تعلق ہونا ضروری نہیں ہے۔ ادنیٰ سے ادنیٰ تعلق بھی اضافت کی نسبت پیدا کر دیتا ہے۔ ’’غُرْفَتِی‘‘ (میرا کمرہ)اس لیے نہیں ہے کہ مَیں اس کا مالک ہوں ۔یہ اس طرح بھی نہیں ہےکہ میں اس کا جزو ہوں یا یہ میرا جزو ہے ۔ بس میں آ کر دو گھنٹے کے لیے یہاں بیٹھتا ہوں اس لیے غُرْفَتِیْ ہے۔ بہت ہی ادنیٰ مناسبت ہے نا‘۲۴ گھنٹوں میں دو گھنٹے بلکہ ایک گھنٹہ۔ ایک گھنٹے کی کیا نسبت ہے کہ پھر بھی میں دعویٰ کر رہا ہوں غرفتی۔ کبھی اضافت تشریف کے لیے ہوتی ہے۔ ایک بڑا استاد ہے‘ بہت بڑا عالم ہے۔ میں نے اس کے سامنے زانوئے تلمذ تہ نہیں کیا لیکن وہ مجھے شرف دینے کے لیے یہ کہہ دے کہ ’’تِلْمِیذی‘‘۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ میں نے اس کے سامنے بیٹھ کر آٹھ سال پڑھا ہے۔ ہو سکتا ہے میں اس کے سامنے دو گھنٹے ہی بیٹھا ہوں لیکن وہ یہ کہہ دے تو اس کا معنی یہ ہو گا کہ میں اس کو یہ شرف دیتا ہوں اور اس کو گویا اجازت دیتا ہوں کہ یہ میرے علوم کو آگے منتقل کر سکے۔یہ گویا میرا شاگرد ہے ۔ چنانچہ اضافت کسی بھی وجہ سے ہو جاتی ہے‘ اس لیے ضروری ہے کہ عربی زبان کے قواعد کوتعمق کے ساتھ سیکھا جائے۔صرف بالکل بنیادی و سطحی صرف و نحو پڑھ کر انسان مفسرنہ بن جائے بلکہ اس میں گہرائی میں اترکر دیکھے کہ اس میں کتنی باریکیاں ہیں۔
عجیب بات یہ ہے کہ جب آپ پڑھتے چلے جاتے ہیں تو محسوس یہی ہوتا ہے کہ تفسیر کرتے ہوئے آپ کو بولنا نہیں چاہیے‘ یعنی سکوت کا مظاہرہ کیا جائے ۔ اگر بولنا بھی ہے تو کسی محقق مفسر کو دیکھ کر‘ اس کی بات پڑھ کر‘ عربی عبارت کو صحیح طریقے پر سمجھ کر‘ اس کے اندر نحو کے اعتبار سے جتنے امکانات پائے جاتے ہیں ان کو سمجھ کر پھر کچھ منہ سے نکالنا ہے۔ کسی اور کی بات کا ناقل بنے بغیر کوئی بات کی جائے توبہت مشکل کام ہے ۔جو بڑے بڑے علماء تھے وہ سکوت زیادہ فرماتے تھے ‘ بولتے کم تھے جبکہ ہم لوگ بولتے زیادہ ہیں‘ سکوت کم ہے۔ بہرحال بتا رہے ہیں کہ یہ بات مستحیل ہے کہ اللہ سبحانہ و تعا لیٰ کسی ذات میںیعنی کسی مخلوق میں حلول فرمائے ‘ کیونکہ اللہ کے سوا جو کچھ ہے وہ مخلوق ہے۔
اتحاد اور حلول میں فرق
پھر فرماتے ہیں کہ یہ کفر صریح ہے ‘اور جیسے حلول اللہ پر مستحیل ہے اسی طرح اتحاد بھی ہے۔ اتحاد اور حلول میں یہ فرق ہے کہ حلول سرایت کر جانا ہے جبکہ اتحادیہ ہے کہ دو ہستیاں مل کر ایک ہو جائیں۔ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ایک بشری جسم ہے جو بشری ہی رہے گا لیکن اس کے اندر روح کی جگہ ‘نعوذ باللہ‘ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نےحلول فرما لیا ہے تو گویا وہ نصف بشر ہیں ظاہری جسم کے اعتبار سے اور خدا ہیں اپنی حقیقت کے اعتبار سے ۔چنانچہ یہ حلول ہوگیا۔ اتحاد یہ ہے کہ دو ہستیاں ایسے مل جائیں کہ اب وہ دو نہ رہیں بلکہ ایک ہو جائیں۔ فرما رہے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ حلول نہیں فرماتے اسی طرح یہ اتحاد بھی نہیں ہو سکتا‘جیسا کہ کچھ باطنیوں کا اور جاہل قسم کے صوفیاء کا عقیدہ ہے۔ اصل میں صوفیوں کی طرف ان کی نسبت ہو جاتی ہے لیکن درحقیقت وہ تو مسلمان ہی نہیں رہتے۔ وہ باطنی قسم کے صوفی ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ولی کامل اس طرح ہو جاتا ہے کہ اللہ تو اس میں حلول نہیں فرماتے لیکن وہ اللہ کی ذات سے متحد ہو جاتا ہے۔ ایک تو ہے کہ اللہ حلول فرما رہے ہیں‘ نعوذ باللہ‘ اور ایک یہ ہے کہ ولی کامل ہوتے ہوتے‘ سلوک کے مراحل طے کرتے کرتے واصل ِحق ہو گیا۔یعنی اسے خدا سے وصل ہو گیا اور وہ خدا کے ساتھ مل کر ایک ہو گیا۔ فرماتے ہیں یہ بھی کفر صریح ہے۔ آخری عبارت بہت سخت ہے :
والحاصل ان القول بالحلول والاتحاد کفر‘ بل الجہل بہ کفر
’’ یہ بات جان لو کہ اتحاد اور حلول کا عقیدہ رکھنا کفر ہے ‘ بلکہ اس بات کو نہ جاننا (کہ یہ کفر ہے) بھی کفر ہے۔‘‘
یعنی اگر کوئی شخص کہے کہ میں یہ عقیدہ تو نہیں رکھتا کہ اتحاد اور حلول کفر ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ‘لیکن جو ( یہ عقیدہ) رکھتا ہے میں اس کو کافر نہیں کہتا تو یہ بھی انسان کو کفر تک پہنچا دے گا‘ کیونکہ یہ انسان کفر پر راضی ہو گیا۔ یہ معلوم من الدین بالضرورۃ ہے۔اس کا مطلب ہے کہ دین میں جو بنیادی باتیں جاننا ضروری ہیں ان میں یہ ہے کہ خالق اور ہے‘ مخلوق اور ہے۔ عبدیت انسان کو حاصل ہے۔ اس کا بلند ترین مقام عبودیت کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سورۃ النساء میں نصاریٰ کے عقیدے کا رد کیا۔ آخری رکوع کی آیت بہت خوب صورت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
{لَـنْ یَّسْتَنْکِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّــکُوْنَ عَبْدًا لِّـلّٰہِ وَلَا الْمَلٰٓئِکَۃُ الْمُقَرَّبُوْنَ ط وَمَنْ یَّسْتَنْکِفْ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَیَسْتَـکْبِرْ فَسَیَحْشُرُہُمْ اِلَـیْہِ جَمِیْعًا(۱۷۲)}
’’مسیح کو تو اس میں ہر گز کوئی عار نہیں ہے کہ وہ بنے اللہ کا بندہ اور نہ ہی ملائکہ مقربین کو اس میں کوئی عار ہے (کہ انہیں اللہ کا بندہ سمجھا جائے)۔ اور جو کوئی بھی عار سمجھے گا اُس کی بندگی میں اور تکبر کرے گا تو اللہ ان سب کو اپنے پاس جمع کر لے گا۔‘‘
عبودیت: سب سے افضل مقام
حضرت مسیحؑ اور ملائکہ مقربین کے لیے مقامِ شرف عبودیت ہے تو اس سے بڑھ کر کوئی اور مقام نہیں ہے۔ لہٰذا عبودیت سے بڑھ کر اوپر چھلانگیں مار کر حلول و اتحاد کے ذریعے خدا بننے کی کوشش کرنا مستحیل ہے۔ ایسا شخص خدا سے واصل نہیں ہوتا بلکہ جہنم میں پہنچ جاتا ہے۔سیدنا جنید بغدادی علیہ الرحمہ کے پاس کچھ لوگ آئے اور کہا کہ قومٌ یزعمون انھم قَدْ وَصَلُوا یعنی کچھ لوگ یہ زعم رکھتے ہیں کہ وہ پہنچ گئے یعنی پہنچے ہوئے لوگ ہیں۔ لایُصَلُّون وَلَایُزَکُّون وَلَایَحِجُّوْن نہ نماز پڑھتے ہیں‘ نہ زکوٰۃ دیتے ہیں‘ نہ حج کرتے ہیں (لیکن پہنچے ہوئے لوگ ہیں۔) حضرت جنید بغدادیؒ نے کہا: صَدَقُوا فِی الوُصُولِ وَلکِنَّ اِلَی السَّقَرِ! یعنی سچ کہا کہ پہنچے ہوئے ہیں‘ لیکن جہنم میں پہنچے ہوئے ہیں ۔ اس طرح کے دعوے کسی بھی ولی صادق سے ظہور پزیر نہیں ہوتے۔ سب سے بڑھ کر ولی انبیاء ہوتے ہیں جن کی عبودیت ‘ تواضع اور خدا کے سامنے انکساری سب جانتے ہیں۔ لہٰذا اس طرح کے دعوے اللہ کو پسند نہیں ہیں بلکہ یہ کفر ہے۔ اس کے بعد ایک اور عبارت لکھتے ہیں: والقول بالاتحادکفر باجماع المسلمین کہ اتحاد کا قول کفر ہے‘ اس میں مسلمانوں کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ پھر فرماتے ہیں:
ویستحیل ان لا یکون واحدا فیجب ان یکون اللّٰہ واحدا لا مرکبا فی ذاتہ او یکون لہ مماثل فی ذاتہ او فی صفاتہ
’’اوریہ بات مستحیل ہے کہ وہ ایک نہ ہو‘ پس یہ واجب ہے کہ اللہ ایک ہو‘ اُس کی ذات میں ترکیب نہیں ہے اور نہ کوئی اس کے مماثل ہے ذات میں یا صفات میں ۔‘‘
یہ بات بھی مستحیل ہےاللہ پر کہ وہ ایک نہ ہو۔ ہم نے دیکھ لیاکہ وہ ایک معبود بھی ہے اور اپنی ذات میں بھی ایک ہے اس اعتبار سے کہ وہاں جسم کی طرح کوئی ترکب نہیں ہے‘ کوئی اجزاء نہیں ہیں۔ یہ ماننا ضروری ہے۔
اللہ کے سوا کوئی فاعل حقیقی نہیں
اگلی بات بہت زبردست اور گویا توحید کی جان ہے۔ فرماتے ہیں:
فیستحیل ان یکون معہ فی الوجود مؤثر فی فعل من الافعال
’’پس یہ بات مستحیل ہے کہ اللہ کے سوا اس وجود میں (جو نظر آنے والی کائنات ہے )کوئی بھی مؤثر ہو‘ تاثیر رکھتا ہو‘ افعال میں سے کسی بھی فعل میں ۔‘‘
اس کائنات میں اللہ کے سوا تاثیر کسی کو حاصل نہیں ہے۔ گویا اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے سوا فاعل حقیقی کوئی نہیں ہے۔
فیستحیل ان یکون لاحد من المخلوقات صفات کصفات اللّٰہ
’’پس مستحیل ہے کہ مخلوقات میں سے کسی کو اللہ کی صفات کے مانند صفات حاصل ہو جائیں ۔‘‘
کیسے ؟بان تکون لہ قدرت توجد کہ اسے کوئی قدرت حاصل ہو جائے جو چیزوں کو ایجاد دے سکے۔ یعنی اللہ تعالیٰ قدرت سے متصف ہیں جس کے ذریعے ممکنات وجود میں آتی ہیں۔ انسان کے پاس ایسی قدرت جس سے ممکن شے وجود میں آ جائے‘ ایسا ہونا مستحیل ہے ۔پھر انسانی قدرت کیا کرتی ہے ‘اس کو اشاعرہ اور ماتریدیہ نے کسب کا نام دیا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ عقول میں سے ہے ۔تین مسائل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ محاراتِ عقول ہے‘ ان میں سے ایک مسئلہ یہ ہے ۔محارات عقول کا مطلب ہے وہ مسائل جس میں عقل حیرت کا شکار ہو جاتی ہے۔ محارات یعنی حیرت کی جگہ ۔محیر العقول بھی استعمال ہوتاہے ۔محیرالعقول تو وہ مسئلہ ہے لیکن محارات العقول وہ جگہیں ہیں جہاں پہنچ کر عقل ششدر رہ جاتی ہے کہ اسے کچھ سمجھ نہیں آتا اسے ۔ علماء کہتے ہیں کہ اتنا بھی ششدر رہنے کی ضرورت نہیں ہے‘ کچھ نہ کچھ سمجھ ایک حد تک آ جاتی ہے ۔ایک ہوتا ہے سسپنشن آف ججمنٹ جس کو علم الکلام کی اصطلاح میں مواقف العقول کہتے ہیں ۔یعنی جہاں عقل آ کر ٹھہر جائے‘ وہ کوئی ججمنٹ پاس نہ کر سکے ‘جبکہ محارات العقول میں حیرت تو ہوتی ہے لیکن ایک ججمنٹ ضرور پاس ہوتی ہے‘ چاہے وہ یہی ججمنٹ پاس ہو رہی ہو کہ یہ بات توہے اس طرح کی ہی لیکن سمجھ نہیں آرہی ۔ بہرحال تھوڑا سا فرق ہے۔
کہہ رہے تھے کہ کسی کے پاس قدرت نہیں ہے اللہ کے سوا کہ کسی ممکن شے کو وجود دےسکے تو کائنات میں مؤثر حقیقی اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے ۔ قرآن مجید شروع سے آخر تک پڑھیں تو جس بات پر بہت زیادہ emphasis نظر آئے گا وہ یہ ہے کہ کائنات میں نفع اور ضرر کا اختیار اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں ہے‘ یعنی مؤثر کوئی نہیں ہے۔ کائنات میں تصرف کا حق اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس نہیں ہے۔ کائنات میں ایجاد دینے کا‘ اعدام کرنے کا‘ کشف ضرر کا ‘کسی شے کا اختیار کسی کے پاس نہیں۔یعنی:
{وَاِنْ یَّمْسَسْکَ اللہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗٓ اِلَّا ہُوَط } (الانعام:۱۷)
’’اور اگر تمہیں اللہ کی طرف سے پہنچا دی جائے کوئی تکلیف تو کوئی نہیں ہے اس کا دور کرنے والا سوائے اُس کے۔‘‘
{قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ مَا لَا یَمْلِکُ لَـکُمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًاط }(المائدۃ:۷۶)
’’آپؐ کہیے کیا تم پوجتے ہو اللہ کے سوا انہیں جو تمہارے لیے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ نفع کا؟ ‘‘
امام غزالی علیہ الرحمہ’’ احیاء العلوم‘‘ میں فرماتے ہیں کہ توحید کا لب لباب یہ ہے کہ کائنات میں مؤثر حقیقی اللہ کے سوا کسی کو نہ جانا جائے ۔ اسی عقیدے سے جو حال پیدا ہوتا ہے اس کو ہم توکّل کہتے ہیں‘ وگرنہ توکّل نہیں ہوتا بلکہ کچھ اور ہوتاہے۔ اس کے بعد فرماتے ہیں : فیستحیل علی اللّٰہ تعالیٰ ان یکون معہ شریک فی الافعال محال ہے کہ اللہ کے فعل میں کوئی اس کا شریک ہو۔ اس کی وضاحت فرما رہے ہیں کہ واذا عرفت ھذا فلا تاثیر لشیء من الکائنات فی الاسباب العادیۃ وغیرھا لابطبعھا ولا بقوۃ جعل اللّٰہ فیہ جب تم یہ بات سمجھ چکے تو (اب یہ بھی سمجھ چکے ہو گے کہ) کائنات میں جتنے بھی اسباب ہوتے ہیں (یعنی میرا فعل بھی بظاہر ایک سبب بنتا ہے کسی شے کے ظہور پزیر ہونے کا)تو اسباب کا کسی بھی شے کو وجود دینے میں کوئی عمل دخل نہیں ہے‘ چاہے یہ مانا جائے کہ وہ اسباب اپنی طبیعت کی بنیاد پر فعل کو ظہور پزیر کرتے ہیں یا اللہ نے ان میں یہ قوت رکھی ہے۔
طبیعت اور قدرتِ مودّعہ کا عقیدہ
یہ دو قسم کے عقیدے ہیں جس کی انہوں نےیہاں نفی کی ہے۔ ایک ہے فلاسفہ کا عقیدہ کہ جو چیزیں اللہ نے بنائی ہیں ان کی طبیعت (نیچر) ایسی ہے کہ ان سے یہ افعال ظہور پزیر ہوتے ہیں ۔ سادہ سی مثال جو فلاسفہ نے بھی دی ہے اور متکلمین نے بھی کہ آگ کے اندر خاصیت اللہ نے نہیں رکھی بلکہ وہ شے اللہ سے چونکہ ارادے کے تحت ظہور پزیر نہیں ہو رہی بلکہ علت کے طریقے پر ہو رہی ہے تو آگ کے اندر صلاحیت اس کی اپنی طبیعت ہے‘ نیچر ہے۔ اس آگ کے نتیجے میں احتراق حاصل ہوتا ہے‘ چیز جل جاتی ہے تو یہ آگ اپنی طبع کے اعتبار سے جلاتی ہے۔ یہ عقیدہ مسلمانوں کے ہاں کفر ہے ۔اس پر تو اتفاق ہے کہ یہ بات تو کفریہ ہے‘ کیونکہ فلاسفہ کے اس قول کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فاعل مختار نہیں ہے لہٰذا اس کے کفر پر تو اجماع ہے۔ البتہ امام سنوسی نے ایک اور بات کی بھی نفی کی ہے ۔ وہ مسلک بیان کیا ہے جو عموماً جمہور اشاعرہ اور ماتریدیہ کا عقیدہ ہے۔ شاید ماتریدیہ میں کچھ لوگوں نے اختلاف کیا ہو لیکن متعدد جگہوں پر مجھے تو اختلاف نظر نہیں آیا ‘بلکہ مصطفیٰ صبری علیہ الرحمہ جو خود ماتریدی تھے‘مَیں نے صراحتاً ان کی یہ عبارت پڑھی ہے کہ اس میں ماتریدیہ اور اشاعرہ میں اختلاف نہیں ہے۔
وہ عقیدہ جس کی امام سنوسی نے نفی کی ہے اور جو عموماً ہمیں بھی پڑھایا جاتا ہے اگرچہ وہ اہل سُنّت کا نہیں ہے‘ یہ ہے کہ اللہ نے چیزوں میں خاصیت رکھی ہے‘ اور کسی نے نہیں رکھی۔ یعنی اللہ نے آگ کے اندر جلانے کی خاصیت رکھی‘ پانی کے اندر پیاس بجھانے کی‘ کھانے کے اندر بھوک مٹانے کی خاصیت رکھی ہے اور اسی طریقے پر قیاس کرتے چلے جائیے۔اس میں اللہ کی قید لگائی گئی ہےجس کی وجہ سے کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔امام بیجوری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اگرچہ اس میں بھی اختلاف رہا ہے کہ یہ عقیدہ بھی کفریہ ہے کہ نہیں‘ لیکن بدعتی عقیدہ ہے‘ جو انسان کو فاسق بنا سکتا ہے ۔
اسباب اور مسببات کا رشتہ اقترانی
یہی وہ عقیدہ ہے جو توحید کی جان ہے اور جس میں توکّل اپنے صحیح اظہار کے ساتھ وجود پزیر ہوتا ہے ۔وہ عقیدہ یہ ہے کہ کسی شے میں اسباب اور مسبّب کا رشتہ عادی ہے‘ اقترانی ہے۔ اقترانی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سبب اور مسبّب بس ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔ سبب کی مسبّب میں تاثیر کوئی نہیں ہوتی۔ یہ اللہ کی سُنّت ہے کہ اُس نے اسے جاری فرما دیا ہے۔ دونوں جگہ اللہ کا فعل ہے کہ میں پانی پیوں گا تو پیاس بجھے گی ۔ آگ جلے گی تو حرارت پیدا ہوگی۔ حرارت ایک الگ شے ہے‘ آگ ایک الگ شے ہے۔ اللہ کی سُنّت یہ ہے کہ جب بھی آگ ہوتی ہے تو وہ حرارت پیدا فرماتا ہے۔ آگ میں کوئی قوت نہیں ہے جس کو کہتے ہیں قوتِ مودّعہ کہ اللہ نے ودیعت کی ہوئی ہے‘ اللہ نے رکھی ہے۔ فرماتے ہیں کہ یہ نہیں ہے بلکہ یہ سب کچھ عادی ہے‘ سب کچھ اقترانی ہے ۔ البتہ اس کا نتیجہ یہ بھی نہیں کہ آپ کہیں پھر تو سارا کچھ ایسا رینڈم سا ہو گیا کہ ایسی بات پر کوئی بھی کھڑا نہیں ہو سکتا۔کہتے ہیں بس یہ اللہ کی سُنّت ہے اور محکم ہے۔ اللہ ایسے ہی کر رہا ہوتا ہے۔ سبب کے اندر تاثیر نہیں ہوتی۔ سبب کے اندر تاثیر کے دو عقیدے ہو سکتے تھے: یا تو سبب تاثیر رکھتا ہے اپنی طبیعت کے اعتبار سے‘ وہ تو کفر ہو گیا‘ یا سبب تاثیر رکھتا ہے اس قوت کے اعتبار سے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس میں رکھی ہے۔ اس کو انہوں نے فسق کہا کہ یہ عقیدہ بھی درست نہیں ہے۔ اس سے بڑا فرق واقع ہو جاتا ہے۔
اسباب میں تاثیر کے عقیدہ کے نتائج
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فاعل حقیقی نہیں ہے‘ مؤثر حقیقی نہیں ہے‘ اللہindirect فعل کر رہا ہے‘ یعنی اللہ نے صلاحیت رکھ دی ہے جس کے بعد اس صلاحیت کے تحت افعال سرزد ہو رہے ہیں۔ اس سے کائنات کا جو ایک تصور آتا ہے وہ مشینی ہے۔ ایک مکینیکل کائنات ہےجس میں اللہ تعالیٰ ہر آن تدبیر امر نہیں فرما رہے ہوتے بلکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کچھ قوانین کے تحت کائنات بنائی ہے کچھ laws ہیں جو govern کر رہے ہیں ‘ ان کے تحت کائنات چل رہی ہے۔ ہاں جب اللہ نے کوئی معجزہ دکھانا ہوتا ہے تو پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ مداخلت فرماتے ہیں اور وہ قانون کو توڑ کے معجزہ جاری فرمادیتے ہیں۔ اس سے جو تصور کائنات کا یا اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی تدبیر کا یا {کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ} کا آتا ہے وہ بھی کسی نہ کسی درجے میں ایک الٰہیتی(Deistic)تصور بنتا ہے ۔ واچ میکر نے جو گھڑی بنائی ہے وہ ہر آن اپنے بنانے والے کی محتاج نہیں ہے۔ اُس نے چابی دے دی ہے‘ اس کے اندر کچھ قوانین رکھ دیے ہیں جن کے تحت وہ گھڑی چلتی رہے گی۔ البتہ اس بنانے والے کا اختیار ہے کہ آکر قانون بدل دے اور گھڑی کو الٹا چلا دے۔ موجودہ صورت حال میں گھڑی اپنے بنانے والے کی محتاج نہیں ہوتی‘ اپنے بنانے والے پر dependent نہیں ہوتی۔ تو کہتے ہیں یہ تصور بہت خطرناک ہے۔ یہ ایک قسم کا deisticتصور ہے۔عربی میں اسے الربوبیۃ کہا جاتا ہے‘ یعنی جس میں الوہیت کا اقرار نہیں ہوتا‘ ربوبیت کا اقرار ہوتا ہے کہ اللہ رب ہے‘ خالق ہے۔ بس اتنی بات کافی ہے‘ وہ رسول نہیں بھیجتا۔اس تصور سے خدا سے جو تعلق پیدا ہوتا ہے وہ اس طرح کا زندہ تعلق نہیں ہے کہ جو اس تصور یا عقیدے کے تحت پیدا ہوتا ہے جس میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہر وقت فعل فرماتے ہیں ‘یعنی ہر وقت تدبیر فرما رہے ہیں:
{یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَاۗءِ اِلَی الْاَرْضِ} (السجدۃ:۵)
’’وہ تدبیر کرتا ہے اپنے امر کی آسمان سے زمین کی طرف ۔‘‘
یعنی اس وقت بھی اگر کوئی شے حرکت میں آئے تو اللہ کا اذن اور مشیت فوری ہوئی ہے‘ یہ نہیں ہے کہ قانونِ حرکت کے تحت ایسا ہوا ہے۔ قانونِ حرکت اللہ نے کبھی بنا دیا تھا‘ اسی تصور کے تحت جیسے ہم نے طبیعت والا دیکھا یا قوتِ مودعہ والا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ ‘ویسے یہ مانا نہیں ہے کسی نےسوائے فلاسفہ کے‘ لیکن لوازم میں سے ہوسکتا ہے کہ خدا کے لیے ہر ایونٹ کا علم بھی ضروری نہیں ہے۔ یعنی جو ایونٹ اس وقت ہو رہے ہیں وہ ایک قانون کے تحت ہو رہے ہیں‘ ان تمام ایونٹس کا علم ضروری نہیں ہے۔ البتہ اگر ہم کہیں کہ ہر ایونٹ اور ہر حرکت ہو تو اللہ کے اذن اور مشیت سے ہو رہی ہے توپھر اس سے علم لازم آتا ہے ۔ یہ قوت مودعہ والا تصور کچھ علماء اسلام کا رہا ہے‘ جیسے عموما ًمعتزلہ کا۔ اسی طریقے پر جو سلفی حضرات ہیں جیسے ابن تیمیہ علیہ الرحمہ اور ابن قیم علیہ الرحمہ‘ ان دونوں حضرات کا بھی جو تصور نظر آتا ہے وہ قوتِ مودّعہ والا ہے کہ کائنات میں اللہ تعالیٰ نے اسباب میں قوتیں رکھیں۔ عموماً لوگوں سے سنا جاتا ہے یا تقریروں میں بھی یہ بیان کیا جا رہا ہوتا ہے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے قوانین بنائے ہیں جن کے تحت دنیا چل رہی ہے ۔ اللہ قانون کو توڑنا چاہے تو وہ توڑ بھی سکتا ہے اور جب توڑ دیتا ہے تو معجزہ ہوجاتا ہے‘ وغیرہ وغیرہ ۔
معجزہ: خرقِ عادت
علمائے کلام معجزے کو خرقِ عادت کہتے ہیں‘ یعنی خرقِ سُنّت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ایک عادت ہے کہ اس طریقے پر وہ فعل کر رہا ہے‘ اس عادت کو وہ بدل دیتا ہے۔ البتہ وہ فعل ہر وقت اللہ کا ہوتا ہے: {کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِیْ شَاْنٍ(۲۹)} (الرحمٰن) ’’ہر دن وہ ایک نئی شان میں ہے۔‘‘ مفسرین نے اس کی یہی تشریح کی ہے کہ ہر لحظہ ‘ ہر آن اس کی ایک شان ہے اور وہ فعل فرما رہا ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :{ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآئِ اِلَی الْاَرْضِ } (السجدۃ:۵) اللہ سبحانہ و تعالیٰ تدبیر امر فرما رہے ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہر وقت آپ کی سن رہے ہیں اور جو پتّا تک بھی گر رہا ہے وہ اللہ کے اذن اور مشیت کے تحت ہو رہا ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ یہ کفر ہے لیکن یہاں عموما ًجوعقیدے کی کتابیں ہیں ان میں یہی بتایا گیا ہے کہ قوتِ مودّعہ اشیاء میں موجود ہوتی ہے اور یہی درست عقیدہ ہے۔ قوتِ مودّعہ سے مراد ہے کہ جو اللہ نے ودیعت کی ہے ۔اَوْدَعَ یُوْدِعُ سے مفعول مُوْدَعٌ اوراس کی مؤنث بنے گی مُودَعَۃٌ۔
یہ تو ایک عقیدے کی بات ہے لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے تعلق میں اس کی تاثیر بہت ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے‘ کیونکہ اس طرح کے جتنے بھی تصورات ہیں جس میں خدا نے کوئی تاثیر رکھ دی ہے تو وہ چیز خدا سے آزاد ہوجاتی ہے۔ یہ سب قیاس الغائب علی الشاھد ہے۔ درحقیقت کائنات ہر لحظہ اللہ کی محتاج ہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ کی توجہ یا اس کی امداد جو ہر وقت جاری و ساری ہے‘ وہ منقطع ہو جائے تو کائنات عدم کا شکار ہو جائے گی۔ یہ نہیں ہے کہ آسمان زمین پرگر جائے گا‘ زمین اِدھر اُدھر نکل جائے گی اور سیارے ٹکرا رہے ہوں گے۔ ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ پوری کی پوری کائنات ہی عدم کا شکار ہو جائے گی اگر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی امداد و امساک مستقل طور پر منقطع ہو جائے۔
{اِنَّ اللہَ یُمْسِکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَاج وَلَئِنْ زَالَتَآ اِنْ اَمْسَکَہُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْ  بَعْدِہٖ ط}(فاطر:۴۱)
’’یقیناً اللہ ہی تھامے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کوکہ وہ (اپنے راستے سے) ہٹ نہ جائیں۔ اور اگر وہ ہٹ جائیں تو کوئی نہیں جو ان کو تھام سکے اس کے بعد! ‘‘
یہ اَمْسَکَ کا لفظ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو ٹل جانے سے‘ عدم کا شکار ہو جانے سے تھام کر رکھا ہوا ہے۔ اگر وہ اس کو چھوڑ دے اور یہ عدم کا شکار ہو جائے تو اللہ کے سوا تھام کون سکتا ہے!چنانچہ یہ گھڑی ساز والا تصور بالکل بچگانہ اورسادہ ہے کہ اللہ نے یہ کائنات بنا دی ہے اور چل رہی ہے جبکہ مداخلت کے لیے کبھی وہ آجاتا ہے‘ نعوذ باللہ‘ پھر چلا جاتا ہے ۔ یہ نہیں ہے بلکہ مستقل تدبیر امر ہو رہی ہے۔ لہٰذا اس کو اسی طرح سمجھیں۔اگر اس کو حال بنانے کی کوشش کریں گے تو اس سے ایمانی احوال بھی پیدا ہوتے ہیں۔قرآن مجید کو اس نظر سے دیکھیں تو یہ بات نظر آئے گی کہ ہر وقت تدبیر ہو رہی ہے۔ نفع و ضرر اور اللہ کی مشیت ہر آن جاری و ساری ہے۔ جب کہتے ہیں :
{وَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْ ئٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدًا(۲۳) اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللہُ ز } (الکہف:۲۴)
’’اور کسی چیز کے بارے میں کبھی یہ نہ کہا کریں کہ میں یہ کام کل ضرور کر دوں گا مگر یہ کہ اللہ چاہے!‘‘
یہاں انہی جزوی مشیتوں کی بات ہو رہی ہے کہ میں کل یہ کام نہیں کر سکوں گا مگر یہ کہ اللہ چاہے ۔ گویا وہاں ایک الگ مشیت ہوگی اللہ کی تو پھرمیری چاہت پیدا ہوگی۔ میری جزوی چاہتیں جو ہر وقت پیدا ہو رہی ہیں‘کہا جا سکتا ہے کہ یہ تو کسی قانون کے تحت ہو رہی ہیں کہ اللہ نے کوئی صلاحیت دے دی ہے مگراللہ نے جزوی چاہت کے بارے میں یہ فرمایا :
{وَمَا تَشَآئُ وْنَ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ(۲۹)}(التکویر)
’’اور تمہارے چاہے بھی کچھ نہیں ہوسکتا جب تک کہ اللہ نہ چاہے جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔‘‘
یہاں جزوی چاہت کی بات ہو رہی ہے۔ جزوی چاہت کا مطلب ہے کہ میں جو ایک چھوٹا سا اِدھر ارادہ کرتا ہوں اور اُدھر ارادہ کرتا ہوں وہ بھی اللہ کی مشیت ہوتی ہے ۔ یہ سب باتیں بتا رہی ہیں کہ اللہ ہی مؤثر حقیقی اور فاعل حقیقی ہے۔اُس کے سوا کائنات میں اور وجود میں کوئی شے مؤثر نہیں ہے ۔ اللہ کے افعال میں کوئی شریک نہیں ہے اور کائنات میں کسی سبب کو مسبّب پیدا کرنے کا اختیار نہیں ہے‘ یا کسی سبب میں مسبّب پیدا کرنے کی تاثیر نہیں ہے‘ نہ اپنی طبیعت کے اعتبار سے نہ قوتِ مودّعہ کے اعتبار سے ۔مستحیلات کا بیان چل رہا ہے تو یہاں مستحیل یہ ہے کہ اللہ کے فعل میں اس کائنات میں کوئی شریک نہیں ہے‘ فعل اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی کا چل رہا ہے۔
نظریۂ کسب
اس کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر ہمارا فعل کیا ہوا! اب یہ اصل میں مستحیلات سے متعلق بات نہیں تھی‘ یہاں وہ صرف گویا ایک پیدا ہونے والے شبہے کا جواب دینے جا رہے ہیں ۔ اس کے بعد فرمایا کہ وکذا کہ یہاں بھی ایسا ہی ہے ۔ہو سکتا ہے کچھ لوگ یہ سن کر کہیں کہ یہ پوری کائنات تو ایک جگہ ہے لیکن انسان ایک الگ وجود ہے‘ اس کے پاس تو ارادہ اور اختیار ہے ‘وہ تو کائنات کی طرح نہیں ہے۔ فرماتے ہیں: وکذا اسی طریقے پر انسان کا معاملہ بھی ہے جو ہم نے بیان کر دیا :لا تاثیر للعباد وغیرھم من الافعال فی افعالھم انسان اور ان کے سوا جو بھی زندہ ہیں ان کی بھی کوئی تاثیر ان کے افعال کے وجود میں نہیں ہے ۔ مگر کہتے ہیں کہ انسانی افعال دو حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں: اضطراری اور اختیاری ۔یہی تقسیم عموماً کی جاتی ہے۔جیسے رعشہ کی بیماری انسان کے اختیار میں نہیں ہے تو یہ اضطراری افعال میں سے ہے‘جبکہ کچھ اختیاری ہیں۔ کہہ رہے ہیں کہ اضطراری میں تو بات واضح ہے اس میں واقعی انسان کو اختیار نہیں ہوتا لیکن جہاں اختیار ہے وہاں اسے خیال ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے اختیار‘ اپنے ارادے اور اپنی قدرت سے چیزوں کو وجود دیتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے کہ اللہ نے انسان کو مستقل قدرت دی ہے‘جس سے افعال وجود میں آتے ہیں۔
اب یہ سادہ طریقے سے جو کسب کا عقیدہ ہے اشاعرہ کا‘اس کی وضاحت ہو رہی ہے۔ یہ صرف اشاعرہ کا نہیں‘ ماتریدیہ کا بھی ہے۔ کہتے ہیں کہ اسباب کی مسبّبات میں کوئی تاثیر نہیں ہوتی لیکن ہمیشہ سبب کے بعد ہی مسبّب آتا ہے۔ ہمیشہ سے مراد ہے جو عادت ہے اللہ کی۔ سبب ہوگا یعنی آپ کہیں گے پانی کی کوئی تاثیر پیاس بجھانے میں نہیں ہے لیکن پیاس میری بجھ نہیں رہی اس کے بغیر‘ تو درحقیقت یہی اللہ کی عادت ہے کہ پانی پیو تو پیاس بجھ جائے گی۔ پیاس کا بجھنا اس سبب کے بعد ہو رہا ہے‘ اس کو کہتے ہیں اقتران۔ اقتران کا مطلب ہے دو چیزوں کا ایک ساتھ ہونا ۔ کہتے ہیں اسی طریقے پر انسان کے اندر ایک قدرت تو رکھی گئی ہے جس سے جو فعل وجود میں آتا ہے وہ بالکل اسی نو ع کا ہوتا ہے جس طرح پانی پینے سے پیاس بجھتی ہے ۔اس میں پانی کی پیاس بجھانے میں کوئی تاثیر نہیں ہوتی‘ عادت یہ ہے کہ اللہ اس کے بعد پیاس بجھانے کی تاثیر پیدا فرما دیتے ہیں۔ اسی طرح انسان کی قدرت کے نتیجے میں جو فعل اس کا وجود میں آرہا ہوتا ہے اس میں انسان کی قدرت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا بلکہ یہ محض اقتران ہوتا ہے کہ آپ اپنی قدرت کو جس شے کی طرف متوجہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ وہ فعل عادت کی وجہ سے پیدا فرما دیتا ہے۔ قدرت کا مقدور(موجود)کو پیدا کرنے میں تاثیری رابطہ نہیں ہوتا‘ نہ تاثیری تعلق ہوتا ہے۔ کہتے ہیںکہ جب میں اپنے فعل کو پیدا کرنے میں تاثیر نہیں رکھتا ‘وہ میری قدرت سے پیدا نہیں ہوتے بلکہ اللہ کے فعل سےپیدا ہوتے ہیں تو پھر میری قدرت کا میرے فعل سے کس نوع کا تعلق ہوا! کیا وہ تعلق ہے جو قدرت کا مقدور سے ہوتا ہے؟ کہتے ہیں وہ تو ہو نہیں سکتا۔پھر کہتے ہیں کہ یہ وہ تعلق ہے جس میں کوئی تاثیر نہیں ہوتی قدرت کے نتیجے میں مقدور پیدا ہونے کی اوراس نوع کے تعلق کو ہم کسب کہتے ہیں۔یہ بات آسانی سے سمجھ میں نہیں آتی کہ قدرت ہے لیکن قدرت سے کوئی شے وجود میں نہیں آ رہی۔ ہاں تعلق ہے لیکن وہ کسب کا ہے۔ کسب کا تعلق یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ انسان اپنے ارادے سے فعل کی طرف اپنی قدرت کو متوجہ کریں تو میں فعل پیدا فرما دوں گا۔ قدرت متوجہ تو ہوئی ہے اس فعل کی طرف‘ ارادہ متوجہ تو ہوا ہے‘چاہے میرے ارادے اور قدرت کے اندر یہ صلاحیت نہیں تھی کہ میں اس فعل کو وجود دے سکوں۔یہ جو قدرت اور ارادے کی توجہ ہو رہی ہے اس فعل کی طرف‘ یہ جو تعلق پیدا ہو اہے اس کو کسب کہتے ہیں۔ اس سے وہ شے وجود میں نہیں آتی۔
معتزلہ کا عقیدہ :انسان اپنے اعمال کا خالق
معتزلہ کہتے ہیں کہ وہ فعل ہماری قدرت سے وجود میں آتا ہے ۔وہ ہمارا مقدور ہوتا ہے۔ ہم اپنے اعمال کے خالق ہوتے ہیں۔ اہل سُنّت کہتے ہیں کہ ہم اپنے اعمال کے کاسب ہوتے ہیں‘ خالق نہیں ہوتے ۔ چنانچہ یہاں انہوں نے بس اس انداز میں سمجھا دیا کہ یہ ایک نوع کا تعلق ہے اور یہ کسب ہے۔ اسی کسب کی بنیاد پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ہاں انسان کی پکڑ ہو گی‘ کیونکہ اس کا ارادہ اور قدرت متوجہ تو ہوئی ہے ۔ یہ توجہ کافی ہے کہ انسان اللہ کے سامنے جواب دہ ہو‘اس کے سامنے مسئول ہو ۔باقی فعل اور ایجاد میں انسان کا کوئی عمل دخل نہیں۔ کہہ دے کہ میں نے کوئی شے ایجاد کر دی ہے یا میں نے اپنے فعل کو وجود دیا ہے لیکن اس میں حقیقتاًمیرا کوئی عمل دخل نہیں ہے ۔فعل کے اعتبار سے کائنات میں اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے ۔
اس لحاظ سے یہ بحث انہوں نے یہاں کی ہے ۔جب انہوں نے کہا کہ اللہ کے افعال میں کوئی شریک نہیں ہے تو پھر سوال پیدا ہوا کہ ہم تو فعل کرتے ہیں ‘ ہم تو اللہ کے ساتھ شریک ہو گئے! انہوں نے کہا تم فاعل نہیں بلکہ کاسب ہو۔ کہہ رہے ہیں کہ انسانی اختیار‘ ارادہ اور قدرت بھی اسبابِ عادیہ کی طرح ہیں۔ یعنی اقتران کے ساتھ مسبّب وجود میں آتا ہے لیکن انسانی اختیار اور ارادہ بھی تاثیر نہیں رکھتا مقدور یا ممکن کو وجود میں لانے میں ۔اس کے بعد فرماتے ہیں کہ یہی ہے وہ تعلق جو قدرتِ حادثہ یعنی ہماری قدرت کا فعل کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس ارتباط اور اقتران کو ہی ہم کسب کہتے ہیں ۔ اسی لیے فعل کی نسبت انسان کی طرف کر دی جاتی ہے اور اسی کی بنیاد پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ہاں اس کی پوچھ گچھ بھی ہوگی اور حساب کتاب بھی۔
عجز :اللہ کے حق میں مستحیل
آخری بات یہ ہے: ویستحیل علی اللہ تعالیٰ العجز عن ممکن ما وایجاد شیٔ ما فی العالم مع کراھیۃ لوجودہ ۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ کسی بھی ممکن شے کو وجود دینے سے عاجز آ جائے۔اس ضمن میں قرآن مجید کی مشہور آیت ہے:
{وَمَا کَانَ اللہُ لِیُعْجِزَہٗ مِنْ شَیْ ئٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ ط اِنَّہٗ کَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا(۴۴)} (فاطر)
’’ اور اللہ کی شان ایسی نہیں کہ اُسے کوئی بھی چیز آسمانوں میں یا زمین میں عاجز کر سکے۔ یقیناً وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ‘ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو زمین و آسمان کی کوئی شے عاجز نہیں کر سکتی۔ عاجز کا مطلب ہوتا ہے کہ کرنا چاہ رہا ہوں لیکن نہیں کر پا رہا۔ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ اللہ کرنا چاہے اور نہ ہو ۔ اس کے بعد فرماتے ہیں:وایجاد شیٔ ما ‘اور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ کسی شے کو کائنات میں وجود دیں‘ مع کراھیۃ لوجودہ اگرچہ وہ اس کو وجود دینا چاہ نہ رہے ہوں یعنی زبردستی کسی ذریعے سے ہو گیا۔ اس طرح کی کوئی شے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حق میں نہیں ہو سکتی۔ اللہ کا جو فعل سرزد ہوتا ہے وہ محض اُس کے ارادے سے ہوتا ہے اور ارادے پر تاثیر کسی اور کی نہیں ہوتی۔ ولامعقب لحکمہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حکم کے اوپر کوئی نگران نہیں ہوتا ‘معقب نہیں ہوتا۔ کوئی شے کائنات میں اس طرح وجود میں نہیں آتی کہ اللہ نے تو نہیں چاہا تھا یا چاہا تو زبردستی چاہ لیا ‘وغیرہ۔ اس طرح کے عقائد بھی کئی دفعہ عوام الناس میں سرایت کر جاتے ہیں کہ اللہ نہیں چاہ رہا ہوگا تو کسی کی شفاعت سے ہو جائے گا یا پھر اس طرح کے عقیدے کہ فلاں بچا لے گا اور اللہ تعالیٰ کو بھی کسی طرح راضی کروا ہی لیا جائے گا ۔یہ سب فضول باتیں ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی قدر کی معرفت نہ کرنے اور اللہ کو صحیح طریقے پر نہ پہچاننے کا نتیجہ ہیں ۔ اللہ کے نہ چاہتے ہوئے شفاعت ہو جائے ‘ایسا نہیں ہو سکتا ۔
غفلت اور ذہول بھی مستحیل
پھر فرماتے ہیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ سے کوئی شے غفلت اور ذہول میں ہو جائے‘اس کا بھی کوئی امکان نہیں ہے‘ یا تعلیل اور طبع کےذریعے ہو جائے۔ یہ تعلیل اور طبع فلاسفہ کے عقیدے کا رد ہے کہ اللہ تعالیٰ افعال کرتے ہیں لیکن وہ علٰی طریق تعلیل ہے‘ ارادے سے نہیں ہو رہا ہوتا بلکہ علت کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ یہ بھی ارادے کی نفی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی طبیعت کے اعتبار سے فعل کرتے ہوں یا اللہ تعالیٰ علت ہوں جن سے معلول بغیر ارادے کے صادر ہو جائے۔ یہ سب باتیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حق میں مستحیل ہیں۔ مستحیل کا مطلب ہے کہ جس نے اس بات کا عقیدہ رکھا گویا اُس نے خدا کو نہیں پہچانا اورکسی اور کو اپنا معبود مان لیا ہے۔