(فکر و نظر) جدید اخلاقی بحران کی فکری بنیادیں(۲) - ڈاکٹر محمد رشید ارشد

13 /

جدید اخلاقی بحران کی فکری بنیادیں(۲)ڈاکٹر رشید ارشدمادّیت پسندانہ اخلاقیات
مغربی تصورِ انسان میں ایک عنصر ایسا ہے جو مذہبی تصورِ انسان سے ان کی اصولی مغائرت کو اور بڑھا دیتا ہے۔ مغرب آدمی کو بھی مادی دنیا پر قیاس کرتا ہے‘ یعنی ایک ہی نظام وجود ہے جو کائنات میں بھی کارفرما ہے اور انسان میں بھی۔ اس وجہ سے ان کا تصورِ اخلاق بھی ایک پہلو سے میکانکی یعنی جبری ہے‘ اور دوسرے زاویے سے افادی یعنی اضافی ہے۔ مغرب کے تناظر میں انسان وجود کے اعتبار سے موجودیت کے خارجی سسٹم سے کوئی امتیاز نہیں رکھتا۔ تاہم حامل ِشعور و وجود ہونے کی حیثیت سے اسے انتخاب کا چیلنج درپیش رہتا ہے۔انتخاب سے مراد یہ ہے کہ شعور کی ضرورتیں ایک سے زیادہ چیزوں سے پوری ہوسکتی ہیں‘ اسے ایک اجتماعی موقف اختیار کرنے کے لیے ان میں سے کسی ایک کو چننا پڑتا ہے کیونکہ انسانیت اگر خود مکتفی افراد کا باہم لاتعلق مجموعہ ہوتی تو انتخاب کی حاجت نہ رہتی۔ چونکہ ایسا نہیں ہے‘ یہ نظام فطرت کے خلاف ہے‘ لہٰذا انسان اپنی اجتماعیت کے کُل کو فطرت میں کارفرما اصولِ تعلق کی پابندی کرتے ہوئے برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ صاحبِ شعور نوع ہونے کی بدولت اسے کچھ فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ ان فیصلوں کا محرک مغرب کے نزدیک افادیت ہے۔ وجودی جبر اور شعوری اختیار کو جمع کرلینے سے اس کے سوا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا تھا کہ انسان کا میکانکی دروبست مطلق ہے اور ذہنی واخلاقی ہیئت اضافی ہے۔
انسان کو وجود و شعور کے مجموعے سے تعبیر کرنے کا یہ عمل بالکل درست ہے ‘لیکن مغرب نے ان کے درمیان ایسی دولختی پیدا کر دی ہے جس کی وجہ سے انسان کی کوئی ایسی تعریف ممکن نہیں رہی جو غیر متغیر اطلاقی حالت میں اس کی کلیت کا احاطہ کر سکے۔ انسان وجود میں مطلق اور شعور میں اضافی ہے۔ یہ ایک ایسا مفروضہ ہے جسے مان کر یہ کہنا صحیح ہوجاتا ہے کہ انسان ایک چیز ہے جو دوسری چیزوں سے اتنی سی بات پر ممتاز ہے کہ یہ خود کو چیز نہ سمجھنے کا تخیل باندھ سکتا ہے۔مذہبی تعبیر کے مطابق‘ انسان کائنات ہی کی طرح مرتبۂ خلق میں ہے ‘جو حق کا شعور اور اس شعور کی بنیاد پر ذہنی اور علمی فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ حق سے منسوب ہوئے بغیر انسان قابلِ تعریف (definable)نہیں۔ یہ نسبت ہی اسے چند مستقل اورمطلق قدروں پر استوار رکھتی ہے جبکہ اس کے خلقی وجود کی سطح کو اکثر مخلوقات سے ممتاز بھی رکھتی ہے۔ مغربی تصور کے برخلاف انسان کا مادۂ تعریف وجود نہیں‘ شعور ہے۔ یہ شعور حق کی نسبت سے مطلق مواقف رکھتا ہے اور خلق کے تعلق سے متغیر اور اضافی ہے۔ مغرب چونکہ انسان کو تعلق بالخلق کے دائرے سے باہر مانتا ہی نہیں‘ لہٰذا اس کے لیے اخلاق وغیرہ میں اضافیت کا موقف رکھنا عین فطری ہے۔ یعنی اس صورتِ حال میں اس کے سوا کوئی بات نہیں کہی جاسکتی۔
ہمارے یہاں انسان خلق کے دائرے میں رہتے ہوئے حق کی نسبت سے ایک ماورائیت (Transcendence )بھی رکھتا ہے۔ اس لیے عقائد اور اصولِ اخلاق کا مطلق اور غیر متغیر ہونا ہر طرح سے لازم ہے کیونکہ انسان وجود کی اضافیت کے ساتھ‘ شعور کے استقلال کی سہار رکھنے والی ہستی ہے۔ اس کی اضافیت بھی اس کے شعور میں حاضر جوہر اطلاق سے مستفاد ہے اور اس کے کمال کی منافی نہیں ہے۔ اتنے بڑے ٹکراؤ کے ساتھ ہمارے لیے ممکن نہیں ہے کہ ہم اعتقادی اور اخلاقی سطح پر مغرب کے ساتھ کوئی ایسا لین دین کرسکیں جو دو مختلف تہذیبوں میں پایا جاتا ہے اور ان کی تقویت کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہ تضاد اتنا بڑھا ہوا ہے کہ خالص دنیاوی علوم اور معاملات میں بھی ہم مغرب سے ایک محفوظ فاصلہ رکھنے پر مجبور ہیں‘ اس اندیشے سے کہ کہیں خلق حق کو ڈھانپ نہ لے‘ یا مخلوق کو اس طرح نہ ماننا پڑے کہ خالق کاانکار ضروری ہوجائے۔ اخلاقی روایت میں رہ کر دیکھیں تو مغرب کا تصورِ خیر محض اس دنیا تک محدود ہے اور فوری افادیت سے مشروط ہے جبکہ ہمارا اخلاقی شعور بلکہ اخلاقی مزاج صرف دنیا تک محدود رہنے کے تصور ہی سے وحشت کرتا ہے۔ ہم اپنے اخلاقی تصورات کو اس منطق سے بھی ثابت کرسکتے ہیں جس کی بنیاد پر مغرب چیزوں کے رد و قبول اور تصدیق و تکذیب کا فیصلہ کرتا ہے۔
جہاں تک نیچرل سائنسز کا تعلق ہے ‘اس کے راستے مادیت پسندانہ رجحان جدید تہذیب کا خاصہ بنا۔ کئی مفکرین اور محققین نے یہ ثابت کیا کہ مغربی تہذیب میں رائج مادیت پسندی اور اس پر قائم دنیاویت کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اسی مادیت پسندانہ رجحان کی وجہ سے مغربی معاشرے کا اخلاقی انحطاط سے دوچار ہونا آسانی سے سمجھ آتا ہے۔ مثال کے طورپر ایپی کیوریس نے نیکی اور بدی کو لذت اور تکلیف کے مساوی قرار دیا تھا۔ وہی روش اپنی ارتقائی منازل طے کرتی ہوئی معاصر مغربی تہذیب میں اپنے جوبن پر ہے۔ لذتوں کے حصول کے لیے سر انجام دی جانے والی ہر سرگرمی کو اخلاقی اور قانونی جواز حاصل ہے۔ جدید اخلاقیات کے اصول بھی ان ہی پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر تشکیل دیے جاتے ہیں کہ انسان کو زیادہ سے زیادہ مزہ فراہم کیا جائے۔
نیوٹن کی طبیعیات نے کائنات کے میکانکی تصور کو فروغ دیتے ہوئے اخلاقیات پر بھی اثرات مرتب کیے۔ نیوٹن کے ذاتی اعتقادات سے قطع نظر اس کی طبیعیات سے برآمد ہونے والے نتائج نے وجودِ خدا کی محلیت‘ قدرتِ خداوندی اور انسانی اعمال کی احتسابی کو خارجی معروض میں بے معنی ٹھہرا دیا۔ بعد ازاں کانٹ کی فکر میں ایک آزاد‘ خودمختار عقل کا تصور پایا جاتا ہے۔ کانٹ اسی تصورِ عقل کو بنیاد بناتے ہوئے جب روشن خیالی کی تعریف متعین کرتا ہے تو انسانوں کے آزاد‘ مختار ہونے کی تلقین کرتا ہے۔ اخلاقیات کا سب سے افضل رہنما انسانی عقل کے سوا کوئی نہیں۔
روایتی اخلاقیات کی تکون میں اخلاقی معیارات اور معنویت کا ماخذ یا authority ‘ اخلاقی عمل کی انجام دہی کا سیاق و سباق اور خدائی احکامات پر جواب دہی شامل تھے۔ اس تکون کی امتیازی خصوصیت میں ذاتِ خدا کی ماورائیت کی مرکزی حیثیت اور ان تینوں اجزاء کے ایک دوسرے سے لازمی تعلق کی استواری شامل ہے۔ تکون کی بالائی مسند پہ ذاتِ خدا کی وجہ سے نچلے دو اجزاء کا آپسی اختلاف یا تضاد ممکن نہیں ٹھہرا۔
جب ہم طبیعی پرستانہ اخلاقیات کی تکون کا جائزہ لیں تو وہ روایتی اخلاقیات سے ہر لحاظ سے الٹ نظر آئے گی۔ اس کی رُو سے کسی مافوق الفطرت ماوراء ہستی کا وجود نہیں‘ خیر و شر کا کوئی معیار طے شدہ نہیں‘ انسانی اعمال کی معنویت کا کوئی تعین نہیں۔ محض نتائجیت پسندانہ رویوں اور تکنیک کی ترویج نظر آئے گی جو مقابلے کی دنیا میں آدمی کے لیے بقا کا سامان فراہم کرسکیں۔جہاں تک اعمال کی انجام دہی کے سیاق و سباق کا تعلق ہے‘ وہ تاریخی دھارے سے کٹا ہوا معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس کی نگران مابعد الطبیعی حقیقت ہی کوئی نہیں۔
تصوّرِ خدا کی بے محلیت
روایتی یا مذہبی ادوار میں اخلاقیات کا مذہب سے گہرا تعلق موجود رہا ہے۔ شروع سے اخلاقیات کے بارے یہی تصور رہا ہے کہ یہ نہ صرف مذہب سے جڑی ہوئی ہیں بلکہ ان کی تشکیل سازی اور انتظام و انصرام بھی مذہب کی بدولت ہی ممکن ہوتا ہے۔ اس فکر کے حامل لوگ اخلاقیات کے ضمن میں زیادہ نظریات کی عمل پیرائی سے واقف نہیں تھے کیونکہ ان کے ہاں ایک صالح زندگی بسر کرنے کے لیے ہدایات کی صورت میں ایک رہنمائی موجود رہتی تھی۔ یہ رہنمائی مافوق الفطرت ذات یعنی خداکی طرف سے وحی کی صورت میں انسانوں سے مخاطب ہوکر بھیجی جاتی تھی۔ خدا کے پیغام یا ہدایت کو بنی نوع انسان تک بہم پہنچانے کی ذمہ داری پیغمبروں پر عائد تھی۔ خدائی احکام کی نافرمانی یا حکم عدولی سزا پر منتج ہوتی۔ انیسویں صدی عیسوی کے مغرب میں جب مذہبی ایمانیات نے اپنا اثر کھونا شروع کیا تو کئی مفکرین نے محسوس کیا کہ اب اخلاقیات بھی مذہب کے ساتھ روانہ ہو چکی ہیں۔ مغرب میں منطق‘ سائنسی علوم اورسائنسی طریقہ کار پر قائم سماجی علوم میں نت نئی تحقیقات ہونے لگیں تو مسیحی احکام (بالخصوص عہد نامۂ قدیم) کو باطل اور لغوسمجھا جانے لگا جو جدید عہد کے سوالات کے جوابات دینے سے قاصر اور دورِ جدید کے تقاضوں سے ناموافق نظر آتے ہیں۔ مسیحی اخلاقیات میں کئی نقائص کی نشان دہی کی جانےلگی۔
معاصر اخلاقی نظریات میں ایک غالب نظریہ طبیعیات پرستانہ اخلاقیات کے تصورات ہیں۔ بنیادی طور پر طبیعیات پرستی ہر مابعدالطبیعی نوع کی شے کا انکار ہے۔ اس کی رُو سے تمام تر حقیقت حواس کی دسترس میں سموئی محدود طبیعی موجودات کا مرکب ہے۔ اس کے کونیاتی تصور میں طبیعی مظاہر فطرت سے ماوراء کسی حقیقت کا وجود ممکن نہیں اور فطرت علت و معلول کے باہمی رشتہ سے وابستہ ایک متعین نظام کے تحت خود کار طرح سے کام کر رہی ہے۔ انسانی حواس کے تجربے میں آنے والی موجوداتِ کائنات سے پرے کسی ہستی‘ قوت کا کوئی وجود نہیں۔ اس نقطہ نظر نے اس اخلاقی سوال کو جنم دیا جو عرصہ قبل افلاطون نے 'یوتھیفرو پرابلم کی صورت میں اپنے مکالمے میں پیش کیا تھا‘ یعنی کیا کوئی عمل اس لیے خیر گردانا جائے کیونکہ خداتعالیٰ نے اس کی بجاآوری کا حکم دیا ہے یا وہ عمل بذاتِ خود خیر پر مبنی تھا اس لیے تو خدا تعالیٰ نے اس کی بجاآوری کا حکم دیا ہے۔
اس میں ہمارا موقف واضح ہے کہ اعمال کی نیکی و بدی کا تعین کرنے کا اختیار خداوند ِبزرگ و برترکے پاس ہی ہے۔ کسی بھی عمل کے خیر کی معنویت خدا ہی اسے عطا کرسکتا ہے۔ افلاطون کے اخلاقی تصور میں ڈھکی چھپی طبیعت پسندی کے تحت اخلاقی اعمال کی نیکی و خیر کا معیار خدا کی ذات طے نہیں کرتی بلکہ ان کا وجود وجودِ خدا سے بھی ماوراء ہے۔ خدا محض ان اعمال کی حکمیہ تعمیل کرواتا ہے۔ اس لحاظ سے خدا کی ذات بے محل سی محسوس ہوتی ہے۔ ایک طرف تو افلاطون نے سوفسطائی مکتب فکر سے پھوٹتی اضافیت پسندی اور موضوعیت پسندی کی مخالفت کی جس سے فردِ واحد کو معیارات کے تعین کرنے کا اختیار دیا گیا تھا‘ دوسری طرف اخلاقی فیصلوں میں افلاطون نے انسان کو وہی اختیار تھما دیے۔ ساتھ ہی اس نے اخلاقیات اور ذاتِ خدا کو جدا جدا کردیا۔ افلاطون کے تصورِ اخلاقیات میں good کو وحی یا الوہی رہنمائی کی حاجت کے بغیر خود مختار انسان اپنی عقل کو بروئے کار لاتے ہوئے ادراک میں لاسکتا ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو وجودِ خدا کے اثباتی ہونے کے باوجود افلاطون نے ان تصوراتِ اخلاقیات کا بیج بویا جو طبیعیات پرست اخلاقیات کے تناور درخت کی صورت میں نشو و نما پاچکے ہیں۔
طبیعیات پرست کسی ایسی مافوق الفطرت ہستی سے بالکل انکاری ہیں جو اخلاقی اصولوں کا منبع و ماخذ ہو۔ ان کے نزدیک اخلاقی اصولوں اور ان کی معنویت کا منبع و ماخذ کہیں اور موجود ہے۔ اس گروہ کے مختلف مفکرین نے مختلف منبع و ماخذ کی نشان دہی کی۔ مثال کے طور پر کارل مارکس کے مطابق تاریخ میں کارفرما جدلیاتی نظام نیکی و بدی کے معیارات کا تعین کرتا ہے۔ وجودیت پسندوں‘ بالخصوص ژاں پال سارتر کے نزدیک اخلاقی معیارات کا تعین فرد اپنے آزاد ‘خود مختار فیصلے کے ساتھ کرسکتا ہے۔بی ایف اسکینر اور فرانسس کِرک جیسے مفکرین کے مطابق اخلاقی معیارات کا تعین مخصوص تربیت یافتہ افراد ہی کر سکتے ہیں۔ معاصر طبیعیات پرستوں نے یہ ذمہ داری افراد کو سپرد کردی ہے کہ وہ اپنے اچھے برے کا فیصلہ خود ہی کریں۔مسیحی اخلاقیات پر جارحانہ انداز میں جس فلسفی نے حملہ کیا وہ فریدرک نطشے ہے۔اس نے مسیحیت کو ایک تاریکی قرار دیا جو انسانی اقدار ‘ آزادی‘ تفاخر‘ جذبے اور دانش کی مخالف ہے۔ اس کے نزدیک مسیحی اخلاقیات‘ تناقضات سے لبریز مبحث کی مانند ہیں۔
کلاسیکی دور میں مذہب ‘ خدائی احکام اور اخلاقیات کے باہمی ربط پر پہلی نقد افلاطون نے اپنے مکالمہ یوتھیفرو میں کی جس کی رُو سے ہم نیکی اور بدی کے اعمال کو خدا سے منسوب کیے بغیر آزادانہ طور پر سرانجام دیتے ہیں۔ جدید دورکے ایک جید فلسفی کانٹ کے تصورِ اخلاقیات میں خیر اور بھلائی کے اخلاقی افعال کی انجام دہی میں سزا و جزا کی پروا کیے بغیر اور مافوق الفطرت ہستی کو خاطر میں لائے بغیر ایک ڈیوٹی اور اصول کو ملحوظِ خاطر رکھنے کی تلقین پائی جاتی ہے۔ کانٹ نے عقل پر استوار اخلاقیات پر اتنی تاکید کی کہ اسے عبادتِ خداوندی کے بدل کا رتبہ دے دیا۔ کانٹ نے دینی عبادات اور اخلاقی رویوں میں جو خط ِامتیاز کھینچا وہ بعد کے جدید اذہان کے لیے ممد و معاون ثابت ہوا۔ روایتی معنوں میں جس مذہب کو اخلاقیات کی بنیاد سمجھا جاتا تھا‘ بعد ازاں اسے اساطیری کہانی کا درجہ دے کر ایک علامتی نمائش متصور کیا گیا۔روسی ناول نگار فیودور دستوفسکی نے اپنے ایک ناول میں یہ سوال اٹھایا کہ اگر خدا کا وجود نہیں ہے تو میرے نیک اعمال کرنے اور راست گو رہنے کا آخر کیا جواز فراہم کیا جا سکتا ہے! اگر وجودِ خدا نہیں ہے تو کیا ہر برے عمل کی اجازت ہے ؟
اخلاق دو آدمیوں کا نظامِ تعلق ہےجو تیسرے کی نگرانی و رہنمائی میں بنتا اور چلتا ہے‘ یہ تیسری ذات خدا ہے۔مغرب اس تیسرے سے محروم ہے اور اس محرومی کی وجہ سے خیر کے آئیڈیل سے دست بردار ہو کر افادیت‘ آزادی‘ امن وسلامتی وغیرہ کے فروعی تصورات میں پناہ ڈھونڈتا ہے‘ حالانکہ یہ تمام اقدار خیر کےتصورپر زیادہ مضبوطی اور زیادہ تنوع کے ساتھ استوار رہ سکتی ہیں۔ان پھلوں کو درخت سے محروم کردینے کا نتیجہ خود مغرب اب بھگت رہا ہے کہ سارے پھل گلنےسڑنے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ تمام جدید مغربی اقدار میں ایک گھناؤنا پن اور خلا داخل ہو تا جارہا ہے۔ یہ سب صرف اس وجہ سے ہے کہ چیزوں کو ان کے خالق اور حاکم سے منقطع کرکے define کرنے کی مجنونانہ کاوش کی جارہی ہے۔
ہمارے علم و اخلاق کا اصلِ اصول یہ ہے کہ خدا‘ شعور و وجود دونوں کی binding حقیقت ہے۔ موجود اور معدوم ہونے کے تمام احوال‘ خدا کو مستقل مسلمہ بنائے بغیر قائم ہی نہیں کیے جاسکتے۔ انسان سمیت یہ کائنات محض لفظوں کا مجموعہ ہے جس میں معنویت کا دارومدار خدا کو ماننے اور جاننے پر ہے۔ اس ہمہ گیر اٹل فضا میں مغرب کے لیے کسی بھی طرح کی قبولیت کی کوئی جگہ نہیں نکلتی۔ جب تک اپنے بالکل مختلف ہونے پر مدلل اور عملی اصرار نہیں کریںگے‘ مغرب کا تسلط کبھی نہیں ٹوٹے گا۔
یہ کہنا کہ اخلاق کے لیے خدا کو ماننے کی ضرورت نہیں ‘ایک مہمل اور لغو بات ہے۔ خدا کے لفظ کو تھوڑی دیر کے لیے استعمال نہیں کرتے اور اپنے خیال کو اس طرح ادا کرتے ہیں کہ انسان کی اخلاقی تشکیل و تکمیل کا پورا نظام یہ تقاضا رکھتا ہے کہ ہمہ گیر علم اور قدرت رکھنے والی کوئی فعال اتھارٹی اس نظام کی بنیاد ڈالے‘ اس کی نگرانی کرے‘ خلاف ورزی پر سزا دے‘ تعمیل پر جزا دے اور شرمندگی پر معاف کردے۔ ان اجزا کو خارج کردیا جائے تو انسان کے لیے کوئی اخلاقی ماڈل قابلِ تصور ہی نہیں رہتا۔اخلاق رضاکارانہ جواب دہی کا نام ہے‘ ایسی جواب دہی جس سے مفر کا کوئی راستہ نہ ہو۔ یہ واہمہ‘ اخلاق کی اپنی فطرت سے مناسبت نہیں رکھتا کہ انسانی اجتماعیت کو خیر کی قدر پر خدا یا کسی ابدی اتھارٹی کو مانے بغیر فرض بھی کیا جاسکتا ہے۔اخلاق کے لیے خدا کا ناگزیر ہونا تو ہم نے اوپر عرض کردیا‘ اب یہ دیکھنا ہے کہ دین یا صاف لفظوں میں کہیں تو اسلام ‘ انسان کی اخلاقی ترقی اور پختگی میں رخنہ ڈالتا ہے یا ان کی ضمانت دیتا ہے۔ دین اور اخلاق کے تعلق پر مغرب جس نتیجے پر پہنچا ہے اس کے کچھ اسباب درست ہیں۔ اپنے نو کلاسیکی دور میں مغر ب نے مسیحیت کا جو سفاک چہرہ دیکھ رکھا ہے وہ اسے یہ کہنے میں کم از کم واقعاتی سطح پر حق بجانب بناتا ہے کہ دین کا اخلاق سے کوئی تعلق نہیں۔آج بھی مسلم ریاستیں‘ معاشرے اور افراد و طبقات مغرب کو اس خیال پر ثابت قدم رہنے کا مواد فراہم کر رہے ہیں۔ اس صورتِ حال سے جھوٹ بولے بغیر انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دین دار طبقے کے اخلاقی مظاہر‘ بے دین طبقے کے اخلاقی روَیوں سے صورتاً بہت پست ہیں۔ مظاہرِ اخلاق کے معاملے میں دیکھا جائے تو مذہبی لوگوں اور قوموں کی بہت ہی بڑی اکثریت اس سے بالکلیہ محروم ہے جب کہ یہ صورتِ حال ان افراد و اقوام کی نہیں ہے جو لادین ہیں۔ یہ موازنہ ‘ تقابل اور اس کے کھلی آنکھوں سے نظر آنے والے ٹھوس نتائج مذہب کی اخلاقی ناگزیری کو واجب القبول نہیں رہنے دیتے۔
مغرب کے سماجی اور ریاستی مظاہروہاں کے اس دعوے کو تقویت پہنچانے کے سوا کچھ نہیں کر رہے ہیں کہ خدا کو ماننا نہ صرف یہ کہ اخلاقی لازمہ نہیں ہے بلکہ انسان کے اخلاقی وجود کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ بات ماننی چاہیے کہ مسلمانوں کا کوئی اجتماعی اسٹرکچر ایسا نہیں جو اسلام کی روایت سے باہر رہنے والوں کے لیے اخلاقی حجت بن سکے‘ بلکہ دین جہاں جہاں بھی ایک اجتماعی عمل میں ڈھلا ہے وہاں سب سے زیادہ نمایاں چیز اخلاقی پستی ہی ہے۔ یہ بات مدارس سے لے کر دین کے نام پر بننے والی تمام سیاسی و غیرسیاسی جماعتوں پر معمولی فرق کے ساتھ صادق آتی ہے۔ سرِ دست اسلام کا کوئی ایسا اجتماعی ادارہ یا سسٹم وجود نہیں رکھتا جو دین کی طرف اخلاقی کشش پیدا کرسکے یا یہ باور کروا سکے کہ انسان کی آئیڈیل اجتماعیت کو جن اخلاقی بنیادوں کی ضرورت ہے وہ خدا کو ماننے اور دین پر چلنے ہی سے حاصل ہوسکتی ہیں۔ واقعی صورتِ حال یہ ہے کہ مختلف عنوانات سے دین اور فطری اخلاق میں تصادم کی ایسی صورتِ حال پیدا کردی گئی ہے جس کا خاتمہ دستیاب دینی فکر و عمل سے ممکن نہیں ہے۔اس سے بھی بڑھ کر المیہ یہ ہے کہ دین اور اخلاق میں تصادم کی موجودہ صورتِ حال کو دور کرنے کی کوشش‘ دینی حلقوں میں پزیرائی سے محروم رہتی ہے۔ مختصر یہ کہ کسی بات کو اپنے ثبوت اور صحت کے لیے جن واقعات و مشاہدات کی حاجت ہوتی ہے وہ سب مغرب کو میسر ہیں۔ ایسی بے بسی کے ماحول میں ہمیں یہ آواز بلند کرنی ہے کہ انسان کی اخلاقی تشکیل تو فطری ہے مگر تکمیل وحی کی رہنمائی کے بغیر محال ہے۔ دنیا ہم سے پوچھنے کا حق رکھتی ہے کہ: آپ کو وحی کی رہنمائی ‘ متن اور شخصیت دونوں صورتوں میں نہایت ہی قابلِ اعتماد سطح پر میسر ہے‘ پھرآپ لوگ اخلاقی سطح پر اتنے پست کیسے رہ گئے؟ ہم اپنی موجودہ اخلاقی درماندگی کے ساتھ مغربی لادینیت کا توڑ نہیں کرسکتے۔ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے کہ صاف لفظوں میں یہ اقرار کریں کہ ہم اپنے دین کے نظامِ اخلاق کے نمائندے نہیں ہیں بلکہ ہمارا رویہ دین سے لاتعلقی کے مظاہر پر مبنی ہے۔ یہاں سے بات شروع کیے بغیر ہم دین کے اخلاقی نظام کو نہ خود سمجھ سکتے ہیں نہ دوسروں کو سمجھا سکتے ہیں۔
نفسیاتی اخلاقیات
سوشل سائنسز میں رائج نظریے کے مطابق جدید آدمی اب ایک ’’نفسیاتی آدمی‘‘ بن چکا ہے جو اپنی شناخت جدیدیت کے حوالے سے کرواتا ہے جبکہ روایتی مذاہب اور ثقافت کا رد کرتا ہے۔یہ آدمی زندگی کی معنویت کو معاشرتی (اجتماعی) کی بجائے ذاتی (انفرادی) نفسیاتی حوالے سے تلاش کرتا ہے۔ جدید آدمی بیگانگی کا شکار اور نرگسیت میں مبتلا ہے۔ جہاں تک کسی اخلاقی نظریے سے وابستگی کا معاملہ ہے ‘اس کی پناہ انانیت پسندی میں ہے۔
جدید انسان کے اس باطنی خلا کو پُر کرنے کے لیے جدید نفسیات نے جدید معاشروں میں ایک مقبولِ عام نظام کے طور پر اپنے آپ کو منوایا ہے۔ جدید سائنسی طریقۂ کار کو اپنا کر اپنا نظامِ فکر قائم کرنے والی جدید نفسیات نے اپنے آپ کو مذہب کے متبادل کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس کی تمام تر اساس سیکولر فکر پہ مبنی ہے جو سرے سے روایتی ومذہبی تمام اقدار کی انکاری ہے۔ خدائی احکا م کی بجائے ذاتی پسند ‘نا پسند پر مبنی انتخابات پر زیادہ تاکید کی جاتی ہے جو خالصتاً موضوعی اپروچ ہے۔
جدید نفسیات کے تصورِ انسان کی تاویلات اور اس کے ضمن میں متعارف کردہ ’’تھیراپی‘‘ کے پورے نظام نے جدید آدمی کو اورزیادہ پریشانیوں میں اُلجھا کر رکھ دیا ہے۔ اس بڑھتے ہوئے رجحان پر بہت سے مفکرین نے قلم اٹھایا اور اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا ہے ۔ انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ کس طرح ایک منظم علم کے طور پر جدید نفسیات اور ’’تھیراپی کے ضوابط‘‘ نے جدید انسان کے روحانی خلا کو پُرکرنے کے دعوے کے ساتھ معاشرے میں پروان چڑھتے عملی الحاد کے رویوں کو مزید تقویت پہنچائی ہے۔
جدید اخلاقیات کے ضمن میں ہمارا مقدّمہ
وہ نظام الاخلاق جسے انسان کے نفسیاتی اور تمدنی ارتقا کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے‘ اپنی اصل اور بنیادی صورتوں میں مذہب ہی کا دیا ہوا ہے۔اتنی بات تو ٹھیک ہے کہ مذہب کے دیے ہوئے اخلاقی اصول و مظاہر سے وابستگی کے نتیجے میں اخلاقیات کے جوڈھانچے بنے ان میں سے کچھ انسانی شعور کی ترقی کے نتائج ہیں‘ لیکن درحقیقت شعور ِ اخلاقی کا سارا مواد مذہب ہی کا ودیعت کردہ ہے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جسے تمام دستیاب ذرائع سے ثابت کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر کوئی نظام الاخلاق جواب دہی کے تصور کے بغیر نہ ذہن میں آسکتا ہے نہ عمل میں۔ یہی جواب دہی جب قانون کے دائرے سے نکل کر انسان ہونے کی بنیادی اُمنگ میں بدل جاتی ہے تو اس اُمنگ کی تسکین کے لیے انسان بطور ’’ایک اخلاقی وجود‘‘ کی اجتماعیت کے مبادی اور مظاہر ایک مربوط نظام کی شکل میں برسر عمل آتے ہیں۔ جواب دہی کا یہ احساس اور شعور جو کہ اخلاق کے تمام دائروں کی اساس ہے‘مذہب ہی سے پیدا ہوا۔ اس صورت میں یہ کہنا تاریخی اور واقعاتی طور پر غلط ہے کہ مذہب اور اساسیاتِ اخلاق میں ایسا تعلق نہیں ہے کہ اخلاق کو مذہب پر منحصر مانا جائے۔انسانی علم اور تجربے میں اخلاق کی کوئی بنیاد ایسی نہیں جو مذہب نے نہ ڈالی ہو۔ ان معنوں میں ہم یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر مذہب نہ ہوتا تو انسان کے اخلاقی وجود ہونے کی بنیاد ہی نہ پڑتی۔
چونکہ قرآن کے لفظوں میں انسان ناشکرا بھی ہے تو اسی ناشکری کا ایک مظہر یہ ہے کہ آفاقی سطح پر ‘ اخلاقی وجود میں ڈھلنے کی ذہنی‘ طبعی اور ارادی قوتیں پیدا ہوجانے کے بعد اب اس بات کا انکار کیا جارہا ہے کہ اخلاق کا مذہب سے کوئی لازمی تعلق ہوسکتا ہے۔ ناشکری اسی کو کہتے ہیں کہ اللہ نے کچھ ہونے یا ہوسکنے کی استعداد عطا فرمادی اور اس استعداد کو عام کردیا جبکہ عام ہوجانے کے بعد اس صلاحیت کے حاملین اس وہم میں مبتلا ہوئے کہ یہ سب کچھ تو ہم اپنے طور پر بھی کر سکتے ہیں۔ ہمارا تصور یہ ہے کہ اخلاق انسان کی خلقت میں رکھے گئے ہیں‘ اسی خالق کی طرف سے جو ہدایت دینے والا اور حساب لینے والا بھی ہے۔ ہم اپنی خلقت کے اخلاقی جوہر کو وحی کی رہنمائی کے بغیر نہیں پہچان سکتے تھے‘ اسی لیے ہمارے اخلاقی وجود کی تشکیل اور اظہار کا عمل پیغامِ الٰہی کا مخاطب بننے کے بعد شروع ہوا۔ کیا یہ بات لائق غور نہیں ہے کہ انسان کے وہ mechanics جن کی بنیاد پر یہ انسان ہے‘ سارے کے سارے آمد ِوحی کے بعد متحقق اور متشکل ہوئے۔ فلسفیانہ زبان میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ انسان کے تمام شعوری اور وجودی امکانات کا تحقق( realization )اور اس کی فعلیت( actualization )شروع سے اب تک مخاطبہ ٔ الٰہی (Divine communication) کا نتیجہ ہے۔ اس کے عقلی وجود کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ہر جگہ ہی وحی معلم‘ مربی اور کفیل ہے۔
تعلق باللہ کی حاجت
ہمارا مقدمہ یہ ہے کہ اخلاق تعلق کے شعور و احساس کا نام ہے ‘ اور اس سے مطابقت رکھنے والا ایک مجموعۂ احوال اور نظام العمل ہے۔ نفسِ تعلق ‘ تعلق باللہ ہے جس کو فعال اور خلاق مرکز بنا کر(یا فعال اور خلاق مان کر) تمام تصوراتی اور عملی تعلقات کا توسیع پزیر دائرہ بنتا ہے۔ تعلق باللہ کے بغیر اخلاق یعنی نظامِ تعلق کے وسائل کی نہ کوئی معنویت ہے نہ اصلیت۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق اخلاقی وجود کا مستقل مسلمہ ہے جس سے خالی یا منکر ہو کر اخلاقی تشکیلات کا کوئی طریقہ محض بے بنیاد ہے‘ کیونکہ اس میں جواب دہی کی حقیقی حالت کا شعور اور تصور ہی نہیں پایا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ تمام غیر مذہبی اخلاقی نظام نفسیاتی طور پرخود غرضی اور اجتماعی سطح پر ایک قانونی جبریاتاجرانہ مینجمنٹ پر استوار ہیں جب کہ حقیقی اور اجتماعی سطح پر ایک قانونی جبری نظام اپنی اصل میں انفسی ہوتا ہے اور مظاہر میں آفاقی۔ مغرب چونکہ طاقتور ہے اس لیے اس نے اپنی طاقت کا اس دائرے میں استعمال کرتے ہوئے آفاق‘ انفس پر اتنا غالب کردیا ہے کہ انسان کی باطنی ساخت بے معنی اور بے مصرف ہو کر رہ گئی ہے۔ہر چیز ایک آرڈر کا حصہ بن کر رہ گئی ہے اور وہ آرڈر اشیائی اور خارجی ہے۔ اسلام میں انسان باعتبارِ کُل ایک باطنی وجود ہے جس کاخارج میں جزوی اظہار ہوتا رہتا ہے۔ مغرب نے انسان کی اس وجودی اور حقیقی کلیت کو جہاں اور مقامات پر توڑا وہیں اجتماعی سطح پر ایک قانونی جبری سطح پر بھی اسے ایک میکانکی وجود بنا کر رکھ دیا۔ مختصر یہ کہ انسان کی اخلاقی فطرت پرستش کے اصول پر اپنا اظہار کرتی ہے ۔ اب یہ پرستش دنیا کی ہو تو مغرب کا نظام الاخلاق پیدا ہوتا ہے اور اللہ کی ہو تو اسلامی۔ اصول بہرحال واحد ہے کہ اخلاق کی ایک مستقل غایت ہوتی ہے ‘وہ چاہے آپ خدا کو بنالیں یا دُنیا کو۔
اگر مروجہ علمی اصطلاحات میں بیان کیا جائے تو مسلمانوں کا مبنی بر وحی تصورِ اخلاق یہ ہے کہ انسانی شعور اپنی clinical ساخت میں ایمانی ہے اور وجود اخلاقی۔ اس بات کے ضروری مقدمات یہ ہیں کہ وجود کا اس کی کلیت میں مطالعہ کرنے والے تمام علوم جب انسان کو اپنا موضوع بناتے ہیں تو اس میں دو مستقل اصول کو اثباتی بلکہ تحدیدی انداز میں پیشِ نظر رکھتے ہیں کہ انسان‘ بقیہ عالم ِ وجود کے مقابلے میں یہ امتیاز رکھتا ہے کہ وجود کی کونیاتی ہیئت رکھتے ہوئے اس کے موجود ہونے کی بنیاد ہونے کی سادہ حالتوں کے برعکس‘ یا ان کے ساتھ‘ شعور پر ہے۔ انسان کی کوئی تعریف اصالت ِشعور کو مانے بغیر ممکن نہیں ۔ اس تناظر میں دیکھا جائےتو شعورِ انسانی مسلمات کا محل ہے‘ چاہے وہ مسلمات اسے پہلے سے حاصل ہوں یا اس کے لیے مفقود یا ناقابلِ حصول ہوں۔ شعور کا بنیادی نظام اور اس کی تکمیلی صورت‘ دونوں یہ بتاتے ہیں کہ یہ جن مسلمات سے تعمیر ہوا ہے ان میں سے کچھ ماقبل ِ علم ہیں اور بعض مابعد ِعلم۔ اس بات کو مسلم علم البشر کی اصطلاح میں یوں کہا جائے گا کہ شعور کا بنیادی مادہ فطرت ہے اور اس مادے میں تحریک پیدا ہوجانے کے نتائج ہدایت کی قبیل سے ہیں۔ فطرت شعور کا تاسیسی جوہر ہے جس میں شعور‘ خود شعوری(self-realization) کے حال کے ساتھ ہوتا ہے اور ہدایت اس کا تکمیلی محرک ہے۔ یہ تو ایک جملۂ معترضہ تھا جس کی تفصیل آگے چل کر خودبخود سامنے آتی رہے گی۔ اپنی ابتدائی بات میں یہ کہنا ہے کہ شعور idea اور concept کے بین بین عمل کرتا ہے اور idea کی سطح پر یہ ان مسلّمات کا حامل ہے جن کی پہچان اسے کسی خارجی تحریک یا رہنمائی سے حاصل ہوتی ہے۔Ideaسے پہلے شعور متحقق اور موجود ہی نہیں ‘ یہ وہ قابلیت ِاولیٰ ہے جس کی بدولت شعور اپنے مستقل اور عارضی مواقف کی تحصیل‘ تشکیل ‘تفصیل اور تطبیق کرتا ہے۔ شعور اپنی خودشناسی تک خارجی تحریک اور ہدایت کے بغیر نہیں پہنچ سکتا۔Idea کی سطح پر بالقوہ شعور کی پہلی فعلیت خود شعوری ہے جس کی تحریک اسے اپنے سے باہر سے ملتی ہے۔
قابلیت ِاولیٰ اور تحریک ِاول کے اجتماع سے شعور اپنی مسلّماتی ساخت سے باخبر ہوتا ہے اور اس خبرداری کے حال کو آئندہ کی تمام تحریک اور حاصلات پر منطبق کرتا رہتا ہے۔ یہ عمل چونکہ شعور کی بناوٹ میں داخل ہے لہٰذا شعور کسی ایسی بات کو عارضی طور پر بھی اپنے اندر جگہ نہیں دیتا جو اس کی مسلّماتی ساخت سے مطابقت اور مناسبت نہ رکھتی ہو۔ انسان عمومی سطح پر بھی جاننے ‘نہ جاننے اور ردّو قبول کے تسلسل کے ساتھ اور مرتبے سے قطع نظر شعور کی تہ میں مستقلاً جاری مسلّمہ جوئی اور مسلّمہ سازی کے عمل میں مصروف ہوتا ہے۔اس بات کو دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ شعور جاننے کے عمل کو ماننے کی سطح پر پہنچانا چاہتا ہے‘ اور یہ تحول خارج سے ہدایت پائے بغیر ممکن نہیں‘ کیونکہ جاننا معروضی ہوسکتا ہے لیکن ماننا نہیں۔ شعور کی اسی خلقت کو مسلمانوں میں ’’ایمانی‘‘ کا عنوان دیا جاتا ہے‘ تاہم مذہبی سیاق و سباق سے کٹ کر بھی یعنی ایمانی کے لفظ کو ایک طرف رکھتے ہوئے بھی اس بات کو حقیقت ِشعور کے طور پر کہا جاسکتا ہے کہ اس کی حرکت یک طرفہ ہے اور اس کا رخ علم سے یقین کی جانب ہے۔ دونوں صورتوں میں مطلب ایک ہی رہے گا۔
ماہیت ِشعور کی تحقیق کا یہ بنیادی نکتہ وجود کی تعریف کو بھی فیصل کرتا ہے۔ ایک تو اس پہلو سے کہ انسان میں شعور اور وجود میں ایسی مغائرت نہیں ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے لاتعلق ہوں اور دونوں کا ایک دوسرے پر کوئی اثر مرتب نہ ہو۔ اپنی ماہیت میں شعور اور وجود ہم اصل ہیں اور ان کے ساختیاتی عناصر ایک سے ہیں‘ اس فرق کے ساتھ کہ شعور میں تجرید(abstraction) او ر ماورائیت transcendence کے اوصاف پائے جاتے ہیں جب کہ وجود کو شعور پر ایک طرح سے منحصر ہونے کی وجہ سے ان اوصاف کی ضرورت نہیں ہے۔ اس وجہ سے شعور سے ممتاز حالت میں‘ یعنی صرف موجود کی حیثیت سے انسان اخلاقی وجود ہے۔ وجود کا اخلاقی نظام بالکل ویسا ہی ہے جیسے کہ شعور کا مسلّماتی نظام۔ وجود کے دائرے میں بھی شعور ہی کی طرح تسلسل‘ نمو اور استکمال کے اسباب خارجی ہیں۔ بیرونی محرک کے بغیر شعور ایک خلا ہے اور وجو د جمودِ محض ۔ اگر انسان اپنی کلیت‘ یعنی شعور و وجود کی بالقوہ اور بالفعل عینیت کی فضا میں محتاج الی الغیر ہے تو حل طلب مسئلہ یہ رہ جاتا ہے کہ یہ غیر کون ہے۔ یا یوں کہہ لیں کہ بیرونی تحریک جو نظامِ شعور و وجود کو چلاتی ہے ‘ کہاں سے آتی ہے۔ غیر مذہبی تصورِ انسان اس مسئلے میں اضطراب کا شکار ہے۔ کہیں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ تحریک ماحول سے آئی ہے اور کہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ اس تحریک کا ماخذ خود شعورِ انسانی ہے۔ یعنی انسان حالت ِارتقا میں ہے‘ کوئی اس ارتقا کو زیادہ تر داخلی کہتا ہے اور کوئی بیشتر خارجی۔ خارجی سے مراد زیادہ سے زیادہ نظامِ فطرت اور نظامِ معاشرت ہے۔
چونکہ ارتقا کے مفروضے میں تغیر شرط ہے اس لیے غیر مذہبی تصوراتِ انسان میں بعض بنیادی اختلافات کے باوجود ایک بات مشترک ہے‘ اور وہ یہ کہ شعور بھی اضافیت (relativism) کی اصل پر ہے اور وجود بھی۔ یعنی انسان ایک idea کے طور پر بھی اضافی اور متغیر ہے۔ اس کے اعتقادات بھی اضافی ہیں اور اس کے اخلاق بھی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں مسلّمہ تصورِ انسان ایک مختلف پوزیشن لینے کا تقاضا کرتا ہے۔ مطلق کا تصور ایک بنیادی referent کے طور پر موجود نہ ہو تو اضافیت کا نظریہ بن ہی نہیں سکتا۔ اضافت‘ مطلق کی چھاؤں میں نمو پانے والا وہ پودا ہے جو اس سے منحرف ہوگیا ہے۔ اس اصطلاح کے تمام معانی سلبیت کے جس خمیر سے پیدا ہوئے ہیں وہ مطلق کے مستقل reference کو لازم کرتا ہے۔ ویسے یہ ایک الزامی اور خالص منطقی بات سہی لیکن اسے اس مبحث میں بامعنی انداز سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔