(فہم القرآن) سُورۃُ النَّحل - افاداتِ حافظ احمد یارؒ

13 /

ترجمہ ٔ قرآن مجید
مع صرفی و نحوی تشریح

افادات : حافظ احمد یار مرحوم
ترتیب و تدوین:لطف الرحمٰن خان مرحوم
سُورۃُ النَّحلآیات ۶۳ تا ۶۹{ تَاللہِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَہُمْ فَہُوَ وَلِیُّہُمُ الْیَوْمَ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۶۳) وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لا وَہُدًی وَّرَحْمَۃً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ(۶۴) وَاللہُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَـآئً فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَاط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ(۶۵) وَاِنَّ لَکُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَۃً ط نُسْقِیْکُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِہٖ مِنْ بَیْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ(۶۶) وَمِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَالْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْہُ سَکَرًا وَّرِزْقًا حَسَنًاط  اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ (۶۷) وَاَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا یَعْرِشُوْنَ(۶۸) ثُمَّ کُلِیْ مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُکِیْ سُبُلَ رَبِّکِ ذُلُلًا ط یَخْرُجُ مِنْ  بُطُوْنِہَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُہٗ فِیْہِ شِفَآئٌ لِّلنَّاسِ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ(۶۹)}
ف ر ث
فَرِثَ یَفْرَثُ (س) فَرَثًا : شکم سیر ہونا۔
فَرْثٌ : گوبر (جب تک اوجھڑی میں رہے) زیر مطالعہ آیت۶۶۔
ترکیب
(آیت۶۳) اَرْسَلْنَا کا مفعول رُسُلًا محذوف ہے۔ (آیت۶۴) ھُدًی اور رَحْمَۃً کو یہاں حال کے بجائے مفعول لَہٗ ماننا بہتر ہے۔ (آیت۶۶) اَلْاَنْعَام اسم جنس ہے‘ اس لیے بُطُوْنِہٖ میں واحد مذکر کی ضمیرہٖ بھی جائز ہے۔ نُسْقِیْ کا مفعول اوّل کُمْ کی ضمیر ہے اور اس کا مفعول ثانی لَبَنًا خَالِصًا ہے جب کہ سَائِغًا حال ہونے کی وجہ سے حالت ِنصب میں ہے۔
ترجمہ:
تَاللہِ : اللہ کی قسم

لَقَدْ اَرْسَلْنَآ:ہم یقیناً بھیج چکے ہیں (رسولوںکو)
اِلٰٓی اُمَمٍ : کچھ اُمتوں کی طرف

مِّنْ قَبْلِکَ :آپؐ سے پہلے
فَزَیَّنَ : پھر مزین کیا

لَہُمُ الشَّیْطٰنُ:ان کے لیے شیطان نے
اَعْمَالَہُمْ :ان کے اعمال کو

فَہُوَ وَلِیُّہُمُ :تو و ہی ان کا کارساز ہے
الْیَوْمَ :آج کے دن (بھی)

وَلَہُمْ :اور ان( سب) کے لیے
عَذَابٌ اَلِیْمٌ:ایک درد ناک عذاب ہے

وَمَآ اَنْزَلْنَا :اور نہیں اُتاراہم نے
عَلَیْکَ الْکِتٰبَ :آپؐ پر اس کتاب کو

اِلَّا لِتُبَیِّنَ:مگر اس واسطے کہ آپؐ واضح کر دیں
لَہُمُ الَّذِی :ان کےلیے اس کو

اخْتَلَفُوْا :انہوں نے اختلاف کیا
فِیْہِ:جس میں 

وَہُدًی : اور ہدایت کے واسطے
وَّرَحْمَۃً :اور رحمت کے واسطے

لِّقَوْمٍ :ایسے لوگوں کے لیے
یُّؤْمِنُوْنَ :جو ایمان رکھتے ہیں 

وَاللہُ :اور اللہ نے
اَنْزَلَ :اتارا

مِنَ السَّمَآئِ:آسمان سے
مَـآئً :کچھ پانی

فَاَحْیَا بِہِ :پھر اُ س نے زندہ کیا اس سے
الْاَرْضَ : زمین کو

بَعْدَ مَوْتِہَا :اس کی موت کے بعد
اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ :بے شک اس میں 

لَاٰیَۃً : یقیناً ایک نشانی ہے

لِّقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لیے

یَّسْمَعُوْنَ: جو کان دھرتے ہیں
وَاِنَّ لَکُمْ :اور بے شک تمہارے لیے

فِی الْاَنْعَامِ:چوپایوں میں 
لَعِبْرَۃً :یقیناً ایک عبرت ہے

نُسْقِیْکُمْ :ہم پلاتے ہیں تمہیں
مِّمَّا :اس میں سے جو

فِیْ بُطُوْنِہٖ :ان کے پیٹوں میں ہے
مِنْ بَیْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ : خون اور گوبر کے درمیان سے

لَّبَنًا خَالِصًا: (خون اورگوبر کی) ملاوٹ سے پاک دودھ
سَآئِغًا : خوشگوار ہوتے ہوئے

لِّلشّٰرِبِیْنَ : پینے والوں کے لیے
وَمِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَالْاَعْنَابِ :اور انگور اور کھجور کے پھلوں سے

تَتَّخِذُوْنَ: تم لوگ بناتے ہو
مِنْہُ : جس سے

سَکَرًا:کچھ نشہ آور چیز
وَّرِزْقًا حَسَنًا : اور کچھ اچھا رزق

اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ :بے شک اس میں
لَاٰیَۃً : یقیناً ایک نشانی ہے

لِّقَوْمٍ:ایسے لوگوں کے لیے
یَّعْقِلُوْنَ :جو عقل سے کام لیتے ہیں 

وَاَوْحٰی :اور وحی کیا
رَبُّکَ :آپؐ کے ربّ نے

اِلَی النَّحْلِ :شہد کی مکھی کی طرف
اَنِ اتَّخِذِیْ :کہ تُو بنا

مِنَ الْجِبَالِ : پہاڑوں میں سے
بُیُوْتًا :کچھ گھر

وَّمِنَ الشَّجَرِ :اوردرختوں میں سے
وَمِمَّا :اور اس میں سے جو

یَعْرِشُوْنَ:یہ لوگ چھت ڈالتے ہیں
ثُمَّ :پھر

کُلِیْ :تُو کھا
مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ : سارے پھلوں میں سے

فَاسْلُکِیْ : پھر تُو چل
سُبُلَ رَبِّکِ :اپنے ربّ کے راستوں میں

ذُلُلًا :جو سدھائے ہوئے ہیں
یَخْرُجُ :نکلتی ہے

مِنْ  بُطُوْنِہَا :ان کے پیٹوں سے
شَرَابٌ :پینے کی ایک چیز

مُّخْتَلِفٌ :مختلف ہیں 
اَلْوَانُہٗ :اس کےرنگ

فِیْہِ شِفَآئٌ : اس میں شفا ہے
لِّلنَّاسِ :لوگوں کے لیے

اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ :بے شک اس میں
لَاٰیَۃً : ایک نشانی ہے

لِّقَوْمٍ: ایسے لوگوں کے لیے
یَّتَفَکَّرُوْنَ: جو غور و فکر کرتے ہیں

نوٹ۱:آیت۶۵میں ہے کہ آسمان سے پانی برستا ہے تو مُردہ زمین جی اٹھتی ہے۔ اس کے آگے یہ نہیں فرمایا کہ اس میں ان کے لیے نشانی ہے جو دیکھتے ہیں ‘بلکہ فرمایا کہ ان کے لیے نشانی ہے جو سن کر سمجھتے ہیں۔ اس سماعت کا تعلق گزشتہ آیت۶۴ سے ہے جس میں قرآن کو ہدایت اور رحمت کہا گیا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جس طرح آسمان سے برسنے والے پانی سے مُردہ زمین جی اٹھتی ہے اسی طرح آسمان سے برسنے والی اس وحی یعنی قرآن سے ان کے مُردہ دل جی اُٹھتے ہیں جو اس کو سن کر سمجھتے ہیں ۔(تفسیر ابن کثیر سے ماخوذ)
نوٹ۲: آیت۶۷ میں نشہ اور رزقِ حسن کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نشہ کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ چنانچہ مکہ میں جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے تاڑنے والے تاڑ گئے تھے کہ نشہ نے حرام ہونا ہے۔ بعد ازاں مدینہ میں اس کے حرام ہونے کا حکم آ گیا۔ (حافظ احمد یار صاحب مرحوم)
صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا رویّہ یہ تھا کہ وہ لوگ قرآن میں اللہ تعالیٰ کی منشا و مرضی تلاش کرتے تھے۔ اس لیے اس آیت میں ان کو صاف نظر آ گیا کہ نشہ ہمارے ربّ کو پسند نہیں ہے۔ جبکہ ہمارے ترقی پسند مسلمان بھائی قرآن میں اپنی مرضی کا جواز تلاش کرتے ہیں۔ اس لیے ان کو اسی آیت میں نشہ کے جائز ہونے کا جواز نظر آتا ہے اور اس کے حرام ہونے کا حکم نظر نہیں آتا ‘کیونکہ اس میں حرام کا لفظ استعمال نہیں ہوا بلکہ رِجْسٌ(نجاست) کا لفظ آیا ہے۔ ع ’’فکر ہرکس بقدرِ ہمت اوست!‘‘
نوٹ۳: رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ مکھیوں کی تمام قسمیں جہنم میں جائیں گی جو وہاں اہل جہنم پر بطور عذاب مسلط کر دی جائیں گی‘ مگر شہد کی مکھی جہنم میں نہیں جائے گی۔ (معارف القرآن) اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ باقی مکھیاں اپنے لیے جیتی ہیں جبکہ شہد کی مکھی دوسروں کے لیے جیتی ہے۔
نوٹ۴: شہد کی افادیت کے متعلق جو کچھ تفاسیر میں ہے اور حکماء و اطباء نے جو نسخے تجویز کیے ہیں ان کو ہماری خوش اعتقادی پر محمول کر کے نظر انداز کردیا جاتا ہے‘ کیونکہ ان کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے‘ لیکن ایسے لوگوں کی تسلی کے لیے ہماری خوش اعتقادی کا اب سائنٹفک ثبوت بھی سامنے آ گیا ہے۔ مغربی ممالک میں شہد سے مختلف بیماریوں کے علاج کے جو تجربے کیے گئے ہیں ‘ان کے متعلق کینیڈا کے ایک ہفت روزہ ’’ ویکلی ورلڈ نیوز‘‘ نے اپنی ۱۷ جنوری ۱۹۹۵ء کی اشاعت میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس کے کچھ اقتباسات درج ہیں:
جوڑوں کا درد: ایک حصہ شہد دو حصے نیم گرم پانی میں حل کریں اور بعد میں اس میں ایک چھوٹے چمچ کے برابر دارچینی کا پائوڈر ملا لیں۔ جسم کے درد والے حصہ پر اس مرکب کی ہلکی ہلکی مالش کریں۔ اس سے چند ہی منٹوں میں درد میں فوری طور پر افاقہ ہو گا۔ یا پھر Arthritis کے مریض یہ بھی کرسکتے ہیں کہ روزانہ صبح و شام ایک پیالی گرم پانی ‘دو چمچ شہد اور ایک چھوٹا چمچ دار چینی کا پائوڈر ملا کر یہ مرکب باقاعدگی سے پئیں۔ درد چاہے کیسا ہی کیوں نہ ہو اس سے افاقہ ہو گا۔
اس علاج کے سلسلے میں کو پن ہیگن یونیورسٹی میں حال ہی میں ایک تجربہ کیا گیا۔ ایک ڈاکٹر نے Arthritis کے تقریباً دو ہزار مریضوں کو روزانہ ناشتے سے قبل ایک شربت باقاعدگی سے پلانا شروع کیا جو صرف ایک چمچ شہد اور نصف چمچ دار چینی کے پائوڈر پر مشتمل تھا۔ ایک آدھ ہفتے میں ہی ۷۳۱ مریضوں کا درد ختم ہو گیا اور ایک ماہ میں تو وہ سارے مریض جو درد کی وجہ سے چلنے پھرنے سے قاصر تھے‘ چلنے پھرنے لگے۔
کولسٹرول میں کمی: سولہ اونس چائے کے پانی میں دو چمچ شہد اور تین چمچ دار چینی کا پائوڈر ملا کر پلانے سے دو گھنٹے میں مریض کے خون میں موجود کولسٹرول میں دس فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس سلسلے میں ہونے والی ریسرچ میں کہا گیا ہے کہ دن میں تین دفعہ اس طرح پینے سے کولسٹرول کی سطح کم ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر الیگزانڈر اندریو اور اردک ویگوئیل مین نے ایک مشہور میڈیکل جرنل میں یہ انکشاف کیا ہے کہ اگر روزانہ اس طرح چائے بنا کر پی جائے تو خون میں کولسٹرول کی مقدار ‘چاہے خطرے کی حدود کو چھو رہی ہو ‘تو وہ بھی کنٹرول ہو جاتی ہے اور چربی کی مقدار بھی اپنی حد میں رہتی ہے۔ اس جرنل میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ روز مرہ غذا میں خالص شہد کے باقاعدہ استعمال سے کولسٹرول کی شکایت کبھی بھی پید انہیں ہو سکتی۔
امراضِ قلب: روزانہ صبح ناشتے میں بریڈ یا روٹی کے ساتھ جام یا جیلی لینے کی بجائے شہد اور دارچینی کے پائوڈر کا پیسٹ بنا کر لینے سے جسم میں اور خون کی نالیوں میں جمع ہونے والی چربی پگھل جاتی ہے اور اس طرح امراضِ قلب کے حملے سے انسان محفوظ رہتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ جن لوگوں کو ایک دفعہ ہارٹ اٹیک ہو چکا ہو وہ بھی دوسرے اٹیک سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس کے باقاعدہ استعمال سے دل کی دھڑکن معمول پر رہتی ہے اور تنفس کی تکلیف میں بھی افاقہ ہوتا ہے۔ امریکہ‘ کینیڈا اور دیگر ممالک میں کیے جانے والے تجربات کی روشنی میں ایک اہم بات سامنے آئی ہے کہ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ خون کی نالیوں میں جو سختی آ جاتی ہے اور ان کی لچک ختم ہو جاتی ہے‘ شہد اور دارچینی کے باقاعدہ استعمال سے یہ صورت حال ختم ہو جاتی ہے۔ ان کا لچکیلاپن بحال ہو جاتا ہے اور برقراررہتا ہے۔
وبائی بیکٹیریا سے جسم کی حفاظت: ماہرین ڈاکٹر اور تجربات کرنے والے سائنسدانوں کا بیان ہے کہ شہد اور دارچینی استعمال کرنے والوں کے جسموں میں موجود بیماریوں سے مقابلہ کرنے کی قوتِ مدافعت میں تین گنا اضافہ ہو جاتا ہے‘ جس سے انہیں وبائی بیکٹیریا اور بیماریوں کے دیگر جراثیم سے تحفظ حاصل ہو جاتا ہے۔ شہد میں اللہ تعالیٰ نے بےشمار مقوی اجزاء اور وٹامن رکھے ہیں جو اس قسم کے جراثیم کا فوری طور پر خاتمہ کر دیتے ہیں۔
طویل العمری (لمبی عمر) : چین اور مشرقِ وسطیٰ کے حکماء کا دعویٰ ہے کہ شہد اور دارچینی کے پائو ڈر کی چائے پینے والے کبھی بھی بوڑھے نہیں ہوتے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ تین کپ پانی میں چار چمچ شہد اور ایک چمچ دار چینی کا پائوڈر ڈال کر اسے ابالا جائے اور اس کی چائے بنائی جائے۔ دن میں تین چار دفعہ اس طرح کی چائے پینے سے جلد کے خلیے جوان رہتے ہیں اور عمر بڑھنے کے باوجود جلد میں ڈھیلا پن نہیں آتا۔ اس سے لمبی عمر پانے کے امکانات بھی پیدا ہو جاتے ہیں اور سو سال کی عمر میں بھی آدمی جوانوں کی طرح کام کرسکتا ہے۔
چہرے کے کیل مہاسے وغیرہ: تین چمچ برابر شہد کو ایک چمچ کے برابر دارچینی کے پائوڈر میں ملا کر پیسٹ بنا لیں۔ رات کو سوتے وقت چہرے کے کیلوں پر اچھی طرح مل لیں۔ صبح اُٹھ کر چنے کے بیسن سے یا سادہ پانی سے چہرہ دھو لیں۔ اس عمل کو دو ہفتے تک دہرائیں۔ اس سے پرانے سے پرانے اور مستقل مہاسے بھی صاف ہو جائیں گے۔
کینسر:جاپان اور آسٹریلیا میں کیے جانے والے حالیہ تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ پیٹ اور گلے کے غدود کا کینسرشہد اور دارچینی کی مدد سے روکا جا سکتا ہے۔ اس طرح کے کینسر کا شکار ہونے والے مریضوں کو روزانہ دن میں تین بار شہد اور دارچینی کا مرکب دیا جاتا ہے‘ جس سے انہیں دیگر دوائوں کے مقابل کہیں جلد افاقہ محسوس ہوا۔ معلومات کے مطابق ان مریضوں کو روزانہ دن میں تین بار ایک چمچ شہد اور ایک چمچ دارچینی کا پائوڈر ملا کر ایک ماہ تک دیا جاتا رہا جس کا مثبت نتیجہ سامنے آیا۔ معالج کا کہنا ہے کہ ایسے مریضوں کو صرف ڈاکٹروں کے مشوروں پر ہی عمل کرنا چاہیے لیکن پھر بھی اس نے کہا کہ میں ایسے ڈاکٹروں کو مشورہ دوں گا کہ وہ اس طرح کے علاج کو بلاجھجک اپنا سکتے ہیں کیونکہ اس کے نتائج نہایت حوصلہ افزا ہیں۔
خالص شہد کا ٹیسٹ: پانی سے بھرے شیشے کے برتن میں چند قطرے ڈالیں۔ اگر جوں کے توں جا کر تہہ میں بیٹھ جائیں تو خالص اور اگر پھیل جائیں تو نقلی اور نا خالص۔
نقصان: شہد اور دیسی گھی مساوی وزن میں استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ شہد کے ساتھ مچھلی‘ خربوزہ‘ سرکہ اور مولی نہ کھائیں۔ اگر طبیعت میں گرمی ہو تو موسمِ گرما میں شہد میں دودھ‘ پانی اور دہی ملا کر استعمال کریں۔
آیات ۷۰تا ۷۴

{ وَاللہُ خَلَقَکُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىکُمْ قف وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰٓی اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِکَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًاط اِنَّ اللہَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ(۷۰) وَاللہُ فَضَّلَ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ ج فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِہِمْ عَلٰی مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ فَہُمْ فِیْہِ سَوَآئٌ ط اَفَبِنِعْمَۃِ اللہِ یَجْحَدُوْنَ(۷۱) وَاللہُ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَ زْوَاجًا وَّجَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَزْوَاجِکُمْ بَنِیْنَ وَحَفَدَۃً وَّرَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ط اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللہِ ہُمْ یَکْفُرُوْنَ(۷۲) وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ مَا لَا یَمْلِکُ لَہُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ شَیْئًا وَّلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ(۷۳) فَلَا تَضْرِبُوْا لِلہِ الْاَمْثَالَ ط اِنَّ اللہَ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(۷۴) }
ح ف د
حَفَدَ یَحْفِدُ (ض) حَفْدًا : کام جلد کرنا‘ مستعدی سے خدمت کرنا۔
حَافِدٌ ج حَفَدَۃٌ :مستعدی سے خدمت کرنے والا۔ پوتے نواسے وغیرہ (کیونکہ پرانے زمانے میں یہ مستعدی سے بزرگوں کی خدمت کرتے تھے) زیر مطالعہ آیت۷۲۔
ترکیب:
(آیت۷۱) فَمَا الَّذِیْنَ کا مَا نافیہ ہے۔ اَلَّذِیْنَ فُضِّلُوْا اس کا اسم ہے‘ جبکہ مرکب اضافی  بِرَآدِّیْ رِزْقِھِمْ اس کی خبر ہے۔ رَادِّیْ دراصل رَادُّوْنَ تھا۔ اس پر بِ داخل ہوا تو حالت ِجر میں یہ رَادِّیْنَ ہو گیا۔ پھر مضاف ہونے کی وجہ سے نون اعرابی گرا تو رَادِّیْ  استعمال ہوا۔ فَھُمْ کا فَا سببیہ ہے اور فِیْہِ کی ضمیر رزق کے لیے ہے۔(آیت۷۳) یَمْلِکُ کا مفعول رِزْقاً ہے۔یہ مصدر ہے اور اس نے اپنے مفعول شَیْئًا کو نصب دی ہے۔ (دیکھیں البقرۃ:۵۴‘نوٹ۱)
ترجمہ:
وَاللہُ :اور اللہ ہی نے

خَلَقَکُمْ :پیدا کیا تم لوگوں کو
ثُمَّ یَتَوَفّٰىکُمْ : پھر وہ وفات دیتا ہے تم کو

وَمِنْکُمْ مَّنْ :اور تم میں سے وہ بھی ہے جو
یُّرَدُّ : لوٹا دیا جاتا ہے

اِلٰٓی اَرْذَلِ الْعُمُرِ : عمر کے سب سے گھٹیا (حصہ) کی طرف
لِکَیْ لَا یَعْلَمَ :تاکہ وہ نہ جانے

بَعْدَ عِلْمٍ :جاننے کے بعد
شَیْئًا : کچھ بھی

اِنَّ اللہَ :بے شک اللہ
عَلِیْمٌ :جاننے والا ہے

قَدِیْرٌ :قدرت والا ہے
وَاللہُ : اور اللہ ہی نے

فَضَّلَ:فضیلت دی
بَعْضَکُمْ : تمہارے بعض کو

عَلٰی بَعْضٍ:بعض پر
فِی الرِّزْقِ :روزی میں

فَمَا الَّذِیْنَ :تو نہیں ہیں وہ لوگ جن کو
فُضِّلُوْا :فضیلت دی گئی

بِرَآدِّیْ رِزْقِہِمْ:اپنی روزی کو لوٹانے والے
عَلٰی مَا :اس پر جس کے

مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ :مالک ہوئے ان کے داہنے ہاتھ
فَہُمْ : کہ نتیجتاً وہ سب

فِیْہِ سَوَآئٌ: اس میں برابر ہوں
اَفَبِنِعْمَۃِ اللہِ : تو کیا اللہ کی نعمت کا

یَجْحَدُوْنَ:وہ جانتے بوجھتے انکار کرتے ہیں
وَاللہُ :اور اللہ ہی نے

جَعَلَ لَکُمْ:بنایا تمہارے لیے
مِّنْ اَنْفُسِکُمْ : تمہارے اپنے آپ (یعنی جنس)سے

اَزْوَاجًا : کچھ جوڑے

وَّجَعَلَ لَکُمْ: اور اُس نے بنائے تمہارے لیے

مِّنْ اَزْوَاجِکُمْ:تمہارے جوڑوں (بیویوں) سے
بَنِیْنَ : بیٹے

وَحَفَدَۃً :اور پوتے
وَّرَزَقَکُمْ : اور اس نے رزق دیا تم کو

مِّنَ الطَّیِّبٰتِ :پاکیزہ (چیزوں) سے
اَفَبِالْبَاطِلِ :تو کیا باطل پر

یُؤْمِنُوْنَ :وہ ایمان لاتے ہیں 
وَ بِنِعْمَتِ اللہِ :اور اللہ کی نعمت کا

ہُمْ یَکْفُرُوْنَ : وہی لوگ انکار کرتے ہیں
وَیَعْبُدُوْنَ :اور وہ بندگی کرتے ہیں 

مِنْ دُوْنِ اللہِ :اللہ کے علاوہ
مَا لَا یَمْلِکُ :اس کی جو اختیار نہیں رکھتے

لَہُمْ رِزْقًا :ان کے لیے روزی دینے کا
مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ:آسمانوں اور زمین سے

شَیْئًا:کسی چیز کا
وَّلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ: اور نہ وہ استطاعت رکھتے ہیں

فَلَا تَضْرِبُوْا: پس تم مت بیان کرو
لِلہِ الْاَمْثَالَ : اللہ کے لیے مثالیں

اِنَّ اللہَ: بے شک اللہ
یَعْلَمُ : جانتا ہے

وَاَنْتُمْ:اور تم لوگ
لَا تَعْلَمُوْنَ : نہیں جانتے

نوٹ۱: زمانۂ حال میں لوگوں نے آیت۷۱ کو اسلام کے فلسفۂ معیشت کی اصل اور قانونِ معیشت کی ایک اہم دفعہ قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک آیت کا منشا یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے رزق میں فضیلت عطا کی ہے ان کو اپنا رزق اپنے نوکروں کی طرف ضرور لوٹا دینا چاہیے۔ اگر نہ لوٹائیں گے تو اللہ کی نعمت کے منکر قرار پائیں گے۔ حالانکہ اس پورے سلسلۂ کلام میں قانونِ معیشت کے بیان کا کوئی موقع نہیں ہے۔ اوپر سے تمام تقریر شرک کے ابطال اور توحید کے اثبات میں ہوتی چلی آ رہی ہے اور آگے بھی مسلسل یہی مضمون چل رہا ہے۔ اس کے بیچ میں یکایک قانونِ معیشت کی ایک دفعہ بیان کر دینے کا کیا تُک ہے؟ آیت کو اس کے سیاق و سباق میں رکھ کر دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس کے بالکل برعکس مضمون بیان ہو رہا ہے۔ یہاں استدلال یہ ہے کہ تم خود اپنے مال میں اپنے نوکروں کو جب برابر کا درجہ نہیں دیتے تو پھر کس طرح سمجھتے ہو کہ جو احسانات اللہ تعالیٰ نے تم پر کیے ہیں اس کے شکریہ میں اللہ کے ساتھ اس کے غلاموں کا بھی حصہ ہے اور یہ سمجھ بیٹھو کہ اختیارات اور حقوق میں اللہ تعالیٰ کے یہ غلام بھی برابر کے حصہ دار ہیں!
شاید لوگوں کو غلط فہمی {اَفَبِنِعْمَۃِ اللّٰہِ یَجْحَدُوْنَo} کے الفاظ سے ہوئی ہے۔ انہوں نے اس کا مطلب یہ سمجھا کہ اپنے زیر دستوں کی طرف رزق نہ پھیر دینا ہی اللہ کی نعمت کا انکار ہے۔ حالانکہ جو شخص قرآن میں کچھ بھی نظر رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ اللہ کی نعمت کا شکریہ غیر اللہ کو ادا کرنا قرآن کی نگاہ میں اللہ کی نعمتوں کا انکار ہے۔ فرض کریں کہ آپ ایک ضرورت مند پر ترس کھا کر اس کی مدد کرتے ہیں اور وہ اٹھ کر آپ کے سامنے ایک دوسرے آدمی کا شکریہ ادا کرتا ہے‘ تو آپ یہ ضرور سمجھیں گے کہ یہ ایک احسان فراموش آدمی ہے‘ کیونکہ اس شخص کی اس حرکت کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اس کی جو مدد کی ہے وہ اپنی فیاضی کی وجہ سے نہیں کی ہے بلکہ اس دوسرے شخص کی خاطر کی ہے اور آپ کوئی رحیم اور شفیق انسان نہیں ہیں بلکہ محض ایک دوست نواز اور یار باش آدمی ہیں۔ چند دوستوں کے توسل سے کوئی آئے تو آپ اُس کی مدد اپنے دوستوں کی خاطر کر دیتے ہیں‘ ورنہ آپ سے کسی کو کچھ فیض حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے قرآن میں یہ بات بطور ایک قاعدۂ کلیہ کے پیش کی گئی ہے کہ محسن کے احسان کا شکریہ غیر محسن کو ادا کرنا دراصل محسن کے احسان کا انکار کرنا ہے۔
نعمت ِالٰہی کے انکار کا یہ مفہوم سمجھ لینے کے بعد { اَفَبِنِعْمَۃِ اللّٰہِ یَجْحَدُوْنَo} کا یہ مطلب صاف سمجھ میں آ جاتا ہے کہ جب لوگ خود اپنی زندگی میں مالک اور نوکر کا فرق ہر وقت ملحوظ رکھتے ہیں تو پھر کیا ایک اللہ ہی کے معاملہ میں ان کو اس بات پر اصرار ہے کہ اس کے بندوں کو اس کا شریک قرار دیں اور جو نعمتیں اس سے پائی ہیں ان کا شکریہ اس کے بندوں کو ادا کریں۔ (تفہیم القرآن سے ماخوذ)
نوٹ۲: آیت۷۴ میں ہے کہ اللہ کے لیے مثالیں مت بیان کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو دنیوی بادشاہوں پر مت قیاس کرو کہ جس طرح کوئی ان کے مصاحبوں اور درباری ملازمین کے توسط کے بغیر ان تک اپنی درخواست نہیں پہنچا سکتا‘ اسی طرح اللہ کے متعلق بھی تم یہ گمان کرنے لگو کہ وہ اپنے قصر شاہی میں ملائکہ اور اولیاء کے درمیان گھرا بیٹھاہےاور کسی کا کوئی کام ان کے واسطوں کےبغیر نہیں ہو سکتا۔ (تفہیم القرآن)
آیات ۷۵ تا ۷۸{ ضَرَبَ اللہُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْکًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰی شَیْءٍ وَّمَنْ رَّزَقْنٰہُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَہُوَ یُنْفِقُ مِنْہُ سِرًّا وَّجَہْرًاط ہَلْ یَسْتَوٗنَ ط اَلْحَمْدُ لِلہِ ط بَلْ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(۷۵) وَضَرَبَ اللہُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُہُمَآ اَبْکَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰی شَیْ ئٍ وَّہُوَ کَلٌّ عَلٰی مَوْلٰىہُ لا اَیْنَمَا یُوَجِّہْہُ لَا یَاْتِ بِخَیْرٍط ہَلْ یَسْتَوِیْ ہُوَلا وَمَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ لا وَہُوَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۷۶) وَلِلہِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَمَآ اَمْرُ السَّاعَۃِ اِلَّا کَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ ہُوَ اَقْرَبُ ط اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ(۷۷) وَاللہُ اَخْرَجَکُمْ مِّنْم بُطُوْنِ اُمَّہٰتِکُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًالا وَّجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ لا لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ(۷۸)}
ل م ح
لَمَحَ یَلْمَحُ (ف) لَمْحًا : ستارہ یا بجلی کا چمکنا‘ نظر کا اٹھنا۔ زیر مطالعہ آیت۷۷۔
ترکیب
(آیت۷۵) ھَلْ یَسْتَوٗنَ فعل جمع کے صیغے میں آیا ہے‘ کیونکہ اس کا فاعل اس میں شامل ھُمْ کی ضمیر ہے جو غلاموں اور انفاق کرنے والوں کے لیے ہے۔ (آیت۷۶) ھَلْ یَسْتَوِیْ فعل واحد کے صیغے میں آیا ہے‘ کیونکہ اس کا فاعل اسم ظاہر ہے جو ھُوَ اور مَنْ ہے ۔ (آیت۷۸) لَا تَعْلَمُوْنَ یہ پورا جملہ اَخْرَجَکُمْ کی ضمیر مفعولی کُمْ کا حال ہے۔
ترجمہ:
ضَرَبَ اللہُ :بیان کی اللہ نے

مَثَلًا:ایک مثال
عَبْدًا مَّمْلُوْکًا : ایک غلام بندے کی

لَّا یَقْدِرُ : وہ قدرت نہیں رکھتا
عَلٰی شَیْءٍ : کسی چیز پر

وَّمَنْ :اور اس کی
رَّزَقْنٰہُ : ہم نے عطا کی جس کو

مِنَّا :اپنے پاس سے
رِزْقًا حَسَنًا : کچھ اچھی روزی

فَہُوَ یُنْفِقُ : تو وہ خرچ کرتا ہے
مِنْہُ :اس میں سے

سِرًّا : چھپاتے ہوئے
وَّجَہْرًا : اور نمایاں کرتے ہوئے

ہَلْ یَسْتَوٗنَ : کیا وہ سب برابر ہوتے ہیں؟
اَلْحَمْدُ :تمام شکر و سپاس

لِلہِ : اللہ کے لیے ہے
بَلْ :بلکہ (یعنی لیکن)

اَکْثَرُہُمْ : ان کے اکثر
لَا یَعْلَمُوْنَ : جانتے نہیں ہیں

وَضَرَبَ اللہُ: اور بیان کی اللہ نے
مَثَلًا :ایک مثال

رَّجُلَیْنِ :دو آدمیوں کی
اَحَدُہُمَآ :ان دونوں کا ایک

اَبْکَمُ :گونگا ہے
لَا یَقْدِرُ :قدرت نہیں رکھتا

عَلٰی شَیْ ئٍ: کسی چیز پر
وَّہُوَ کَلٌّ : اوروہ بوجھ ہے

عَلٰی مَوْلٰىہُ : اپنے آقا پر
اَیْنَمَا :جہاں کہیں

یُوَجِّہْہُ : وہ بھیجتا ہے اس کو

لَا یَاْتِ : وہ نہیں لاتا

بِخَیْرٍ: کوئی بھلائی
ہَلْ یَسْتَوِیْ : کیا برابر ہوتا ہے

ہُوَ وَمَنْ : وہ اور وہ شخص جو
یَّاْمُرُ :حکم کرتا ہے

بِالْعَدْلِ :انصاف کا
وَہُوَ : اور وہ

عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ:ایک سیدھی راہ پر ہے
وَلِلہِ : اور اللہ کے لیے ہی ہے

غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ :آسمانوں اور زمین کا غیب
وَمَآ : اور نہیں ہے

اَمْرُ السَّاعَۃِ : قیامت کا حکم
اِلَّا :مگر

کَلَمْحِ الْبَصَرِ :چشم زدن کی مانند
اَوْ ہُوَ : یا وہ

اَقْرَبُ : زیادہ قریب ہو
اِنَّ اللہَ :بے شک اللہ

عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ:ہر چیز پر
قَدِیْرٌ :قدرت رکھنے والا ہے

وَاللہُ :اور اللہ ہی نے
اَخْرَجَکُمْ : نکالا تم لوگوں کو

مِّنْ  بُطُوْنِ اُمَّہٰتِکُمْ: تمہاری مائوں کے پیٹوں سے
لَا تَعْلَمُوْنَ :تم لوگ نہیں جانتے تھے

شَیْئًا : کچھ بھی
وَّجَعَلَ : اور اس نے بنائے

لَکُمُ : تمہارے لیے
السَّمْعَ :سماعت (کان)

وَالْاَبْصَارَ : اور بصارتیں (آنکھیں)
وَالْاَفْئِدَۃَ :اور دل (ادراک کی صلاحیتیں)

لَعَلَّکُمْ :شاید کہ تم لوگ
تَشْکُرُوْنَ: حق مانو

آیات ۷۹ تا ۸۳اَلَمْ یَرَوْا اِلَی الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّ السَّمَآئِ ط مَا یُمْسِکُہُنَّ اِلَّا اللہُ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ(۷۹) وَاللہُ جَعَلَ لَـکُمْ مِّنْ بُیُوْتِکُمْ سَکَنًا وَّجَعَلَ لَکُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَہَا یَوْمَ ظَعْنِکُمْ وَیَوْمَ اِ قَامَتِکُمْ لا وَمِنْ اَصْوَافِھَا وَاَوْبَارِھَا وَاَشْعَارِھَآ اَثَاثًا وَّمَتَاعًا اِلیٰ حِیْنٍ(۸۰) وَاللہُ جَعَلَ لَکُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّجَعَلَ لَکُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَکْنَانًا وَّجَعَلَ لَکُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْکُمُ الْحَرَّ وَسَرَابِیْلَ تَقِیْکُمْ بَاْسَکُمْ ط کَذٰلِکَ یُتِمُّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکُمْ لَعَلَّکُمْ تُسْلِمُوْنَ(۸۱) فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ(۸۲) یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللہِ ثُمَّ یُنْکِرُوْنَہَا وَاَکْثَرُہُمُ الْکٰفِرُوْنَ(۸۳)
ظ ع ن
ظَعَنَ یَظْعَنُ (ف) ظَعْنًا : سفر پر روانہ ہونا‘ کوچ کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۸۰۔
ص و ف
صَوِفَ یَصْوَفُ (س) صَوَفًا : مینڈھے کا بہت اُون والا ہونا۔
صُوْفٌ ج اَصْوَافٌ (اسم ذات) : اُون‘ زیر مطالعہ آیت۸۰۔
و ب ر
وَبِرَ یَوْبَرُ (س) وَبَرًا : بہت پشم والا ہونا۔
وَبَرٌ ج اَوْبَارٌ (اسم ذات بھی ہے): پشم‘ خرگوش کے نرم بال۔زیرمطالعہ آیت۸۰۔
ء ث ث
اَثَّ یَؤُثُّ (ن) اَثَاثًا :گھنا اور گنجان ہونا‘ بکثرت ہونا۔
اَثَاثٌ (اسم ذات بھی ہے) : گھر گرہستی کا وافر سامان۔ زیر مطالعہ آیت۸۰۔
ترجمہ:
اَلَمْ یَرَوْا : کیا انہوں نے غور نہیں کیا

اِلَی الطَّیْرِ : پرندوں کی طرف
مُسَخَّرٰتٍ : (کیسے وہ) سدھائے ہوئے ہیں

فِیْ جَوِّ السَّمَآئِ:آسمان کی فضا میں 
مَا یُمْسِکُہُنَّ :نہیں تھامتا ان کو (کوئی)

اِلَّا اللہُ :مگر اللہ
اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ :بے شک اس میں 

لَاٰیٰتٍ:یقیناً نشانیاں ہیں
لِّقَوْمٍ :ایسے لوگوں کے لیے

یُّؤْمِنُوْنَ:جو ایمان لاتے ہیں 
وَاللہُ :اور اللہ ہی نے

جَعَلَ لَـکُمْ:بنایا تمہارے لیے
مِّنْ بُیُوْتِکُمْ : تمہارے گھروں سے

سَکَنًا :آرام
وَّجَعَلَ لَکُمْ:اور اس نے بنائے تمہارے لیے

مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ: چوپایوں کی کھالوں سے
بُیُوْتًا :کچھ گھر

تَسْتَخِفُّوْنَہَا : تم لوگ ہلکا پاتے ہو جن کو
یَوْمَ ظَعْنِکُمْ :اپنے کوچ کرنے کے دن

وَیَوْمَ اِقَامَتِکُمْ: اور اپنی اقامت کرنے کے دن
وَمِنْ اَصْوَافِھَا :اور ان کے اونوں سے

وَاَوْبَارِھَا : اور ان کی پشموں سے
وَاَشْعَارِھَآ :اور ان کے بالوں سے

اَثَاثًا :(اس نے بنائے) کچھ گرہستی کے سامان
وَّمَتَاعًا :اور کچھ برتنے کی چیزیں

اِلیٰ حِیْنٍ: ایک مدّت تک
وَاللہُ : اور اللہ ہی نے

جَعَلَ لَکُمْ: بنایا تمہارے لیے
مِّمَّا خَلَقَ :اس سے جو اُس نے پیدا کیا

ظِلٰلًا : کچھ سائے

وَّجَعَلَ لَکُمْ: اور اُس نے بنائے تمہارے لیے

مِّنَ الْجِبَالِ : پہاڑوں میں سے
اَکْنَانًا :کچھ غار

وَّجَعَلَ لَکُمْ:اوراُس نے بنائے تمہار ےلیے
سَرَابِیْلَ : کچھ کُرتے

تَقِیْکُمُ:وہ بچاتے ہیں تم کو
الْحَرَّ : گرمی سے

وَسَرَابِیْلَ :اور کچھ کُرتے
تَقِیْکُمْ :وہ بچاتے ہیں تم کو

بَاْسَکُمْ :تمہاری جنگ میں 
کَذٰلِکَ :اس طرح

یُتِمُّ : وہ پوری کرتا ہے
نِعْمَتَہٗ :اپنی نعمت کو

عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر
لَعَلَّکُمْ :شاید تم لوگ

تُسْلِمُوْنَ : فرماں برداری کرو
فَاِنْ تَوَلَّوْا :پھر اگر وہ لوگ منہ پھیرتے ہیں

فَاِنَّمَا:تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ
عَلَیْکَ :آپؐ پر

الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ :واضح طور پر پہنچا دینا ہے
یَعْرِفُوْنَ :وہ پہچانتے ہیں 

نِعْمَتَ اللہِ:اللہ کی نعمت کو
ثُمَّ :پھر(بھی)

یُنْکِرُوْنَہَا : انکار کرتے ہیں اس کا
وَاَکْثَرُہُمُ: اور ان کے اکثر

الْکٰفِرُوْنَ:ناشکری کرنے والے ہیں
آیات ۸۴ تا ۸۹وَیَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَلَا ہُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ(۸۴) وَاِذَا رَاَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْہُمْ وَلَا ہُمْ یُنْظَرُوْنَ(۸۵) وَاِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا شُرَکَآئَ ہُمْ قَالُوْا رَبَّنَا ہٰٓؤُلَآئِ شُرَکَآؤُنَا الَّذِیْنَ کُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِکَ ج فَاَلْقَوْا اِلَیْہِمُ الْقَوْلَ اِنَّکُمْ لَکٰذِبُوْنَ(۸۶) وَاَلْقَوْا اِلَی اللہِ یَوْمَئِذِ نِ  السَّلَمَ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(۸۷) اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللہِ زِدْنٰـہُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا کَانُوْا یُفْسِدُوْنَ(۸۸) وَیَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیْدًا عَلَیْہِمْ مِّنْ اَنْفُسِہِمْ وَجِئْنَا بِکَ شَہِیْدًا عَلٰی ہٰٓؤُلَآئِ ط وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْءٍ وَّہُدًی وَّرَحْمَۃً وَّبُشْرٰی لِلْمُسْلِمِیْنَ(۸۹)
ع ت ب
عَتَبَ یَعْتُبُ (ن) وَعَتَبَ یَعْتِبُ (ض) عَتْبًا :خفگی کرنا‘ ملامت کرنا۔
اَعْتَبَ (افعال) اِعْتَابًا : ناراضگی کے سبب کو دور کرنا‘ کسی کو راضی کرنا۔
مُعْتَبٌ (اسم المفعول) : راضی کیا ہوا : {وَاِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا ہُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ(۲۴)} (حٰم السجدۃ) ’’اور اگر وہ لوگ رضامندی چاہیں گے تو وہ نہیں ہوں گے راضی کیے ہوئوں میں سے۔‘‘
اِسْتَعْتَبَ (استفعال) اِسْتِعْتَابًا :کسی کی رضامندی چاہنا‘ کسی کو منانا۔ زیر مطالعہ آیت۸۴۔
ترجمہ:
وَیَوْمَ نَبْعَثُ :اور جس دن ہم اٹھائیں گے

مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ:ہر اُمّت سے
شَہِیْدًا : ایک گواہ

ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ:پھر اجازت نہیں دی جائے گی (بولنے کی )
لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا :ان کو جنہوں نے کفر کیا

وَلَا ہُمْ : اور نہ ہی وہ لوگ
یُسْتَعْتَبُوْنَ :منائے جائیں گے

وَاِذَا رَاَ :اور جب دیکھیں گے
الَّذِیْنَ ظَلَمُوا :وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا

الْعَذَابَ: اس عذاب کو
فَلَا یُخَفَّفُ :تو وہ ہلکا نہیں کیا جائے گا

عَنْہُمْ : ان سے
وَلَا ہُمْ :اور نہ ہی وہ لوگ

یُنْظَرُوْنَ:مہلت دیے جائیں گے
وَاِذَا رَاَ :اور جب دیکھیں گے

الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا : وہ جنہوں نے شریک کیا
شُرَکَآئَ ہُمْ :اپنے شریک کیے ہوئوں کو

قَالُوْا :تو وہ کہیں گے
رَبَّنَا : اے ہمارے ربّ

ہٰٓؤُلَآئِ:یہ ہیں 
شُرَکَآؤُنَا الَّذِیْنَ :ہمارے وہ شریک کیے ہوئے جن کو

کُنَّا نَدْعُوْا : ہم پکارا کرتے تھے
مِنْ دُوْنِکَ : تیرے علاوہ

فَاَلْقَوْا:تو وہ (شرکاء) ڈالیں گے
اِلَیْہِمُ الْقَوْلَ:ان مشرکوں کی طرف اس بات کو

اِنَّکُمْ:(کہ) بے شک تم لوگ
لَکٰذِبُوْنَ:یقیناً جھوٹ کہنے والے ہو

وَاَلْقَوْا : اور وہ (مشرک) لوگ ڈالیں گے
اِلَی اللہِ :اللہ کی طرف

یَوْمَئِذِ نِ السَّلَمَ :اس دن مکمل اطاعت

وَضَلَّ: اور بھٹک (یعنی گم ہو) جائے گا

عَنْہُمْ:ان سے
مَّا :وہ جو

کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ : وہ لوگ گھڑتے تھے
اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا : وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا

وَصَدُّوْا : اور انہوں نے روکا (لوگوں کو )
عَنْ سَبِیْلِ اللہِ :اللہ کی راہ سے

زِدْنٰـہُمْ : ہم بڑھائیں گے ان کو
عَذَابًا :بلحاظ عذاب کے

فَوْقَ الْعَذَابِ :اس عذاب کے اوپر
بِمَا :بسبب اس کے جو

کَانُوْا یُفْسِدُوْنَ :وہ لوگ نظم بگاڑتے تھے
وَیَوْمَ نَبْعَثُ :اور جس دن ہم اٹھائیں گے

فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ :ہر اُمت میں سے
شَہِیْدًا :ایک گواہ

عَلَیْہِمْ:ان پر (یعنی ان کے خلاف)
مِّنْ اَنْفُسِہِمْ :ان کے اپنوں میں سے

وَجِئْنَا بِکَ :اور ہم لائیں گے آپؐ کو
شَہِیْدًا :بطور گواہ

عَلٰی ہٰٓؤُلَآئِ :ان لوگوں پر
وَنَزَّلْنَا :اور ہم نے نازل کیا

عَلَیْکَ الْکِتٰبَ : آپؐ پر اس کتاب کو
تِبْیَانًا :واضح ہوتے ہوئے

لِّکُلِّ شَیْءٍ :ہر چیز کے لیے
وَّہُدًی :اور ہدایت

وَّرَحْمَۃً:اور رحمت
وَّبُشْرٰی :اور بشارت ہوتے ہوئے

لِلْمُسْلِمِیْنَ: فرمانبرداری کرنے والوں کے لیے
نوٹ: آیت۸۸ میں {عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ} کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو ایک عذاب خود کفر کرنے کا اور اس کے اوپر دوسرا عذاب دوسرے لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنےکا ہوگا۔ (تفہیم القرآن)