(تذکر و تدبر) مِلاکُ التأوِیل (۴۱) - ابو جعفر احمد بن ابراہیم الغرناطی

13 /

مِلاکُ التأوِیل (۴۱)تالیف : ابوجعفر احمد بن ابراہیم بن الزبیرالغرناطی
تلخیص و ترجمانی : ڈاکٹر صہیب بن عبدالغفار حسن
سُورۃُ الْمُؤْمِنُوْن
(۲۴۶) آیت ۱
{قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ(۱) الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوْنَ(۲) وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ(۳) وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِلزَّکٰوۃ ِ فٰـعِلُوْنَ (۴) وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حٰفِظُوْنَ(۵) اِلَّا عَلٰٓی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ(۶) فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآئَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْعٰدُوْنَ (۷) وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رٰعُوْنَ(۸) وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صَلَوٰتِہِمْ یُحَافِظُوْنَ(۹) اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْوٰرِثُوْنَ (۱۰) الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ ۭ ھُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ (۱۱)}
’’بے شک ایمان والے کامیاب رہے‘ جو کہ اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں‘ اور وہ جو تمام لغویات سے پرہیز کرتے ہیں‘ اور وہ جو زکوٰۃ کے ادا کرنے والے ہیں‘ اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں‘ ماسوائے اپنی بیویوں کے اور (ان باندیوں کے) جن کی وہ ملکیت رکھتے ہیں تو ان پر کوئی ملامت نہیں۔پس جو اس کے علاوہ کوئی اور راستہ اختیار کرے تو ایسے لوگ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں کا اور اپنے عہد کا پاس رکھتے ہیں‘ اور وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو وارث ہیں۔ جو فردوس کے وارث ہوںگے ‘جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
اب ان آیات کا تقابل سورۃ المعارج کی آیات سے کیا جائے:
{اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ ہَلُوْعًا(۱۹) اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوْعًا(۲۰) وَّاِذَا مَسَّہُ الْخَیْرُ مَنُوْعًا(۲۱) اِلَّا الْمُصَلِّیْنَ(۲۲) الَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صَلَاتِہِمْ دَآئِمُوْنَ(۲۳) وَالَّذِیْنَ فِیْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ(۲۴) لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ(۲۵) وَالَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ(۲۶) وَالَّذِیْنَ ہُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّہِمْ مُّشْفِقُوْنَ(۲۷) اِنَّ عَذَابَ رَبِّہِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ(۲۸) وَّالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حٰفِظُوْنَ(۲۹) اِلَّا عَلٰٓی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ(۳۰) فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآئَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْعٰدُوْنَ(۳۱) وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رٰعُوْنَ(۳۲) وَالَّذِیْنَ ہُمْ بِشَہٰدٰتِہِمْ قَآئِمُوْنَ(۳۳) وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صَلَاتِہِمْ یُحَافِظُوْنَ(۳۴) اُولٰٓئِکَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّکْرَمُوْنَ(۳۵)}
’’بے شک انسان پیدا کیا گیا ہےتھڑدلا‘ کہ جب اسے مصیبت آتی ہے تو گھبرا جاتا ہے ‘اور جب خیر ہاتھ آتا ہے تو اسے روک کے رکھتا ہے۔ سوائے نمازیوں کے‘ جو باقاعدگی سے نماز ادا کرتے ہیں‘ اور جن کے مال میں ایک جانا پہچانا حق ہے‘ ان کے لیے جو سوال کرتے ہیں اور ان کے لیے بھی جو سوال کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اور جو لوگ جزا و سزا کے دن کی تصدیق کرتے ہیں‘ اور جو لوگ اپنے رب کی طرف سے آنے والے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں۔ بے شک آپؐ کے ربّ کا عذاب ایسا نہیں ہے کہ اس سے بے خوف رہا جائے۔ اور جو لوگ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں‘ سوائے اپنی بیویوں کے اور (ان باندیوں کے) جو اُن کی ملکیت میں ہیں تو ان پر کوئی ملامت نہیں۔ تو جو لوگ اس راہ سے تجاوز کرتے ہیں وہی لوگ حد پار کرنے والے ہیں۔ اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس رکھتے ہیں‘اور وہ لوگ جو اپنی گواہیوں پر قائم رہتے ہیں‘ اور وہ لوگ جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔یہی لوگ جنتوں میں عزت و اِکرام پائیں گے۔‘‘
یہاں تین سوال پیدا ہوتے ہیں:
(۱) دونوں سورتوں میں مؤمن کے اوصاف بیان ہوئے ہیں۔ چار صفات تو دونوںمجموعہ ٔ آیات میں پائی جاتی ہیں اور وہ ہیں: شرمگاہ کی حفاظت‘ امانت کی پاسداری‘ عہد کا پورا کرنا اور نماز کی حفاظت کرنا۔
(۲) چند صفات صرف سورۃ المؤمنون میں بیان ہوئی ہیں اور وہ یہ ہیں: نماز میں خشوع کا اختیار کرنا‘ لغویات سے پرہیز کرنا‘ زکوٰۃ کا ادا کرنا۔ یہ وہ تین صفات ہیں جو سورۃ المعارج میں بیان نہیں ہوئیں۔
(۳) اور پھر وہ صفات جو صرف سورۃ المعارج میں بیان ہوئی ہیں‘ جیسے نماز کی ہمیشہ پابندی کرنا‘ حق داروں کو اپنے مال میں سے دینا‘ اور وہ ہیں سوال کے لیے ہاتھ پھیلانے والے اور وہ جو ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ جزاء و سزا کے دن کی تصدیق کرنا‘ربّ کے عذاب سے ڈرتے رہنا اور یہ کہ اس سے بے خوف نہ ہونا‘ اور گواہی کا ادا کرنا۔یہ وہ پانچ صفات ہیں جو سورۃ المؤمنون میں بیان نہیں ہوئیں ۔ تو پھر اس کا سبب کیا ہے؟
پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ شرم گاہ کی حفاظت کرنا ان پانچ بنیادی صفات میں سے ہے جن پر تمام شریعتوں کا اتفاق ہے‘ کوئی عقل مند شخص اس سے اختلاف نہیں کر سکتا۔ اور وہ پانچ اصول یہ ہیں: نفس کی حفاظت‘ مال کی حفاظت‘ شرم گاہ کی حفاظت‘ عقل کی حفاظت اور عزت کی حفاظت ۔ امر واقعہ ہے کہ بغیر امانت کے یہ اوصاف پورے نہیں ہو سکتے۔ امانت کو ان تمام اصولوں کی جڑ کہا جا سکتا ہے۔ یہ وہ ضابطہ ہے جو تمام تکلیفی امور پر حاوی ہے اور تمام ادیان کے لیے بمنزلہ گھوڑے کی باگ کے ہے۔ حدیث نبویؐ میں ارشاد ہوتا ہے:
((اَلدِّیْنُ الْاَمَانَۃُ وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَا اَمَانَۃَ لَہُ))
’’دین امانت ہے اور جس کے پاس امانت نہیں تو اس کا دین بھی نہیں۔ ‘‘
[بروایت امام احمد حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں:
((لَا اِیْمَانَ لِمَنْ لَا اَمَانَۃَ لَہُ وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَا عَھْدَ لَہُ))
جس کے پاس امانت نہیں اس کے پاس ایمان نہیں او رجس کے پاس عہد کی پاسداری نہیں اس کا دین بھی نہیں۔]
اور یہ امانت ہی ہے جسے پہلے آسمانوں ‘ زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا گیا لیکن انہوں نے اسے اٹھانے سے انکار کیا۔کہا جا سکتا ہے کہ امانت ہی پورے کا پورا دین ہے ‘اور جہاں تک عہد کا تعلق ہے تو بطور تاکید وہ امانت کے زمرے میں ہی شمار ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {وَاَوْفُوْا بِالْعَھْدِج}(بنی اسرائیل:۳۴) ’’اور عہد کو پورا کرو‘‘۔ ان دونوں چیزوں کی اہمیت کی بنا پر ان کی تکرار کی گئی۔
پھر نماز کی جو اہمیت دین میں ہے تو اس کی حفاظت کا حکم دیا گیا ‘جس میں یہ سب چیزیں شامل ہیں: ان کے اوقات کا خیال رکھنا‘ ایک خاص کیفیت کے ساتھ انہیں ادا کرنا ‘ نماز میں مطلوب تمام حرکات و سکنات کی پابندی کرنا‘ نماز کے مقاصد کہ جن میں فاحشہ اور منکر سے رکنا مطلوب ہے‘ کا آنکھوں سے اوجھل نہ ہونا۔ گویا نماز دین کا رکن ِاعظم ہے کہ جس پر انسان کی نجات کا انحصار ہے ۔جیسا کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب جہنمیوں سے پوچھا گیا کہ تم یہاں کیسے پہنچے ؟تو انہوں نے جواباً کہا:
{ لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ(۴۳)}(المدثر) ’’ ہم نمازیوں میں سے نہ تھے۔‘‘
اب ان چاروں صفات کی ہمہ گیریت اس بات کی متقاضی ہوئی کہ مطلوبہ دوسری صفاتِ ایمانیہ کے ساتھ خاص طور پر ان کا ذکر کیا جائے اور دونوں سورتوں میں ان کا اعادہ کیا جائے تاکہ ان کی ضرورت و اہمیت پوری طرح آشکار ہو سکے اور یہ بھی معلوم ہو سکے کہ یہ چاروں صفات باقی صفات کے لیے بمنزلۂ اُمّ کے ہیں۔
اب اگر یہ سوال کیا جائے کہ زکوٰۃ کا ذکر بھی اکثر نماز کے ساتھ ہوا ہے کیونکہ وہ مالی عبادات میں بمنزلۂ اُمّ کی حیثیت رکھتی ہے ‘یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان لوگوں سے قتال کیا جنہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیاتھا اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ان کے اس قول کی تائید کی تھی۔ قرآن مجید میں اکثر جہاں نماز کا حکم دیا گیا ہے وہاں زکوٰۃ کا بھی حکم ہے‘ ارشاد فرمایا:
{فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَہُمْ ط} (التوبۃ:۵)
’’پھر اگر وہ توبہ کریں‘ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔‘‘
اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی آیت سے استدلال کیا تھا‘ لیکن ان تمام تر تاکیدات کے بعد ان آیات میں زکوٰۃ کا ذکر کیوں نہیں آیا؟
اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے (واللہ اعلم) کہ جہاں ان آیات میں یہ الفاظ آئے ہیں : { فِیْٓ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ(۲۴)}(المعارج) تو وہ زکوٰۃ ہی کے قائم مقام ہیں‘ کیونکہ مال کے اندر کوئی چیز مطلوب ہے اور اس کی مقدار معلوم بھی ہے تو وہ زکوٰۃ کے علاوہ کوئی اور شے نہیں ہے۔ گویا یہ آیات زکوٰۃ کے ذکر سے خالی نہیں ہیں۔
دوسرے سوال کے جواب میں عرض ہے کہ سورۃ المؤمنون میں جن صفات کا خاص طو رپر ذکرکیا گیا ان میں سرفہرست نماز میں خشوع اور خضوع کا اختیار کرنا ہے۔ ابتدا میں ارشاد فرمایا:{قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ(۱)} ۔ یہاں اہل ِایمان کے فلاح پانے کا ذکر ہے تو مناسب تھا کہ سب سے پہلے اُس عالی قدر صفت کا ذکر کیا جاتا جو کہ فلاح کی ضامن ہے ‘یعنی نماز کو پورے دھیان سے ادا کرنا۔ ایسی نماز جو اس احساس کے ساتھ ادا کی جائے کہ بندہ اللہ کے دربار میں کھڑا ہے‘ اور اگر یہ کیفیت اسے حاصل ہوجائے تو پھر عبادت میں کسی قسم کی کمی یا لغزش نہیں پائی جائے گی۔ اس کے بعد فرمایا:{وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ(۳)} تو جو شخص لغویات سے کنارہ کش ہو گیا تو وہ ہر اُس چیز سے بچ گیا جو اس کے دین کو داغ دار کر سکتی تھی‘ اور پھر ان دونوں صفات کے حامل شخص کو مِن جملہ تمام ممنوعات سے بچنے کا ادراک ہو گیا۔
اس کے بعد فرمایا:{وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِلزَّکٰوۃ ِ فٰـعِلُوْنَ (۴) } اور جیسا کہ پہلے ذکر ہوا ‘زکوٰۃ نماز کی بہن شمار ہوتی ہے۔ یعنی دونوں کا ذکر ساتھ ساتھ ہوتا ہے جیسے سورۃ التوبہ کی آیت میں ذکر ہوا:{فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَہُمْ ط} اور اسی سورت میں چند آیات کے بعد کہا گیا: {....فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ ط} (التوبۃ:۱۱)’’....پھر وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں۔‘‘اور اگر یہ خصوصیات حاصل ہوجائیں تو ان تمام باتوں کا اعادہ ہو جاتاہے جو سورۃ البقرۃ کے آغاز میں اہل ایمان کے لیے بیان ہوئی ہیں‘ یعنی ’’یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ‘‘ سے لے کر ’’وَاُولٰٓـئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۵)‘‘ تک‘ تو یہ بات واضح ہو گئی کہ جو شخص ان صفات کا حامل ہوا تو وہ کامیاب و کامران رہا۔
اب آیئے تیسرے سوال کی طرف کہ سورۃ المعارج میں کن آیات کا ذکر خاص طور پر کیا گیا تو آغازِ کلام میں انسان کے ایک خاص وصف کی طرف اشارہ کیا گیا تھا‘ ارشاد ہوا:{اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ ہَلُوْعًا(۱۹)} ھَلِعَ (س)کا مطلب ہے کسی کا بُری طرح گھبرا جانا‘ دل دہل جانا‘ او ر اسی سے ھَلِعٌ اورھَلُوْعٌ کی صفت آئی ہے‘ اور پھر یہ بتایا کہ ’’ھَلَع‘‘ کی یہ کیفیت کیوں پیدا ہوتی ہے؟فرمایا:{ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوْعًا(۲۰)} ’’جب تکلیف پہنچتی ہے تو جزع فزع کرتا ہے۔‘‘’’جَزَع‘‘ صبر کے بالمقابل ہےیعنی صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑبیٹھتا ہے۔{ وَّاِذَا مَسَّہُ الْخَیْرُ مَنُوْعًا(۲۱) }’’اور جب خوش حالی آتی ہے تو روک کے رکھتا ہے۔‘‘لفظ ’’مَنَع‘‘ اعطاء یعنی دینے دلانے کی ضد ہے۔
یہاں اِن دونوں اوصاف یعنی جَزَع اور مَنع سے روکا گیا ہے اور ان کی اُلٹ صفات یعنی صبر اور ایثار کرنے کا حکم دیا گیا ہے‘ اور اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں اور اپنے پر دوسروں کو ترجیح دینے والوں کی مدح کی ہے۔ صفت ھَلَع انسان کی رذیل ترین صفات میں سے ہے‘ اس لیے پھر بتایا کہ اس صفت رذیلہ سے کون سی چیز بچا سکتی ہے اور وہ ہے نماز کو ہمیشہ ہمیشہ ادا کرتے رہنا‘ کیونکہ جو شخص کبھی اپنی نماز نہیں چھوڑتا وہ اس خصلت کا حامل بن جاتا ہے کہ جو کوئی حکم آئے گا تو میں اسے فوراً قبول کروں گا‘ اور یہ خصلت اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب یقین صادق پیدا ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
{وَاْمُرْ اَہْلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْہَاط لَا نَسْئَلُکَ رِزْقًاط نَحْنُ نَرْزُقُکَ} (طٰہٰ:۱۳۲)
’’اور اپنے اہل کو نماز کا حکم دو اور پھر اس پر صبر کا دامن تھامے رکھو۔ ہم تم سے رزق نہیںمانگتے‘ ہم تو خود تمہیں رزق دیتے ہیں۔‘‘
جسے اس بات کا یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے رزق کا ذمہ لیا ہے‘ وہ مانگتا بھی ہے تو خوبصورتی سے! اور اُسے گھبراہٹ نہیں ہوتی‘ اور جسے اس بات کا علم ہو کہ اُس کے مال میں زکوٰۃ واجب ہے یا صدقے کی گنجائش ہے تو وہ خیر کو روک کر نہیں رکھ سکتا۔ پھراگر وہ ان صفات کا حامل بن جائے‘ اسے جزا و سزا کا پورا یقین ہو‘ اپنے رب کی طرف سے عذاب آنے سے لرزتا رہے‘ اور اسے اس بات کا بھی احساس ہو کہ وہ اللہ کی تدبیر سےبے خوف نہیں ہے تو ایسے شخص کو ’’ھَلوع‘‘ نہیں کہا جائے گا ۔ یاد رہے کہ اللہ کی تدبیر سے بے خوف وہی لوگ ہوتے ہیں جو خسارے میں جا پڑے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان صفات کے حامل شخص کو ’’ھَلُوعًا‘‘ کی منفی صفات (یعنی جزع فزع کرنا اور خیر کو روکنا) سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔
اب تو یہ بات واضح ہو چکی ہوگی کہ سورۃ المعارج میں ان چند صفات کو خاص طور پر کیوں بیان کیا گیا۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جن دوسری صفات کا ذکر نہیں کیا گیا‘ وہ ان میں داخل نہیں ہیں۔ نہیں! بلکہ وہ بھی داخل ہیں ‘ اگرچہ نام لے کر ان کا ذکر نہیں کیا گیا۔کیا آپ نہیں دیکھتے کہ مکلف حضرات کو جن پانچ احکام کا پابند بنایا گیا ہے‘ جیسے : واجب‘ حرام‘ مندوب‘ مکروہ اور مباح ‘ تو یہ سب احکام امانت اور عہد کی پابندی کے زمرے میں آجاتے ہیں اور جوشخص بھی اللہ تعالیٰ سے کیے گئے عہد کو پورا کرتا ہے تو وہ شریعت کی تمام پابندیوں کو‘ چاہے وہ کرنے سے متعلق ہوں یا نہ کرنے سے‘ پورا کرنے والا ہوتا ہے ۔ اسی طرح جو شخص نماز کو خشوع و خضوع اور پورے ارکان و واجبات کے ساتھ ادا کرتا ہے تو وہ فاحشہ اور منکر سے رکنے والا بھی بن جاتا ہے‘ چاہے اس کا ذکر یہاں صراحت کے ساتھ نہ کیا گیا ہو لیکن نماز کے ذکر سے یہ دوسری صفت بھی اس میں داخل ہو جاتی ہے۔
اس تفصیل سے واضح ہو گیا کہ ان دو سورتوں میں ہر سورت کے ضمن میں جن صفات کا تذکرہ کیا گیا وہ اس سورت کے ساتھ خصوصی مناسبت رکھتی تھیں۔اور جہاں تک شہادت کے ذکر کا تعلق ہے {وَالَّذِیْنَ ہُمْ بِشَہٰدٰتِہِمْ قَآئِمُوْنَ(۳۳)} تو وہ ’’امانت‘‘ کے اندر آ جاتی ہے۔اگرچہ اس کا ذکر سورۃ المؤمنون میں آ چکا ہے لیکن چونکہ یہ سورت (یعنی سورۃ المعارج) بعد میں آ رہی ہے‘ اس لیے اس کا ذکر اس دوسری سورت میں بھی کر دیا گیا تاکہ اس صفت کا بھی خاص طور پر ذکر ہو جائے ‘واللہ اعلم!
(۲۶۵) آیت ۲۴
{فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ مَا ہٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ }
’’تو سرداروں نے کہا ‘جنہوں نے اُس کی قوم میں سے کفر کیا تھا ‘یہ شخص تم جیسا ایک آدمی ہی تو ہے۔‘‘
اور پھر اگلے قصے کے ضمن میں کہا:
{وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِلِقَآئِ الْاٰخِرَۃِ وَاَتْرَفْنٰہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَالا مَا ہٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ} (آیت۳۳)
’’اور اس کی قوم کے سرداروں نے کہا کہ جنہوں نے کفر کیا تھا اور آخرت کی ملاقات سے انکار کیا تھا اور جن کو ہم نے اس دنیا میں پُرتعیش زندگی عطا کی تھی‘ یہ شخص تم جیساایک آدمی ہی تو ہے۔‘‘
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوسری آیت میں جار اور مجرور (مِنْ قَوْمِہِ) کی تقدیم کی گئی ہے اور قصہ نبی نوح علیہ السلام (یعنی پہلی آیت) میں اسے مؤخر کیا گیا ہےتو اس کی کیا وجہ ہے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ دوسری آیت میں جہاں پہلی آیت کی طرح ان کی قوم کے کفر کا تذکرہ کیا گیا ہے وہاں ان کی دو دوسری خصلتوں کا اضافی بیان بھی کر دیا گیا یعنی آخرت کی ملاقات سے انکار اور دنیا کی پُرتعیش زندگی۔ حالانکہ وہ تو صرف کفر ہی کی بنا پر عذاب کے حق دار ہو چکے تھے تو ان اضافی خصلتوں کے بیان کی کیا ضرورت تھی؟
پہلے سوال کا جواب تو یہ ہےکہ ’’مِنْ قَوْمِہِ ‘‘کہہ کر یہ واضح کرنا مقصود تھا کہ جنہوں نے یہ بات کہی تھی وہ انہی کی قوم کے لوگ تھے‘ غیروں میں سے نہیں تھے۔ اور اس کے ساتھ ہی اس بات کی بھی وضاحت کر دی کہ ان لوگوں نے کفر کیا تھا جو ان کے پکڑے جانے اور ہلاک کیے جانے کا سبب بنا۔ چونکہ یہ بات سیاق و سباق سے بآسانی سمجھی جا سکتی ہے‘ اس لیے ضروری نہیں کہ ہر جگہ اس کا ذکر کیا جائے۔ ملاحظہ ہو کہ سورۃ الاعراف میں بھی نوح علیہ السلام کا قصہ بیان ہوا ہے لیکن وہاں سرداروںکے کفر کا تذکرہ نہیں ہے۔ فرمایا:
{قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِہٖٓ اِنَّا لَنَرٰکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(۶۰) }(الاعراف)
’’اور ان کی قوم کے سرداروں نے کہا:بے شک ہم تمہیں کھلی کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں۔‘‘
لیکن یہاں خاص طور پر ان کے کفر کا بیان ہوا ‘اور جب جار مجرور کو اس طرح پر پہلے لایا جاتا ہے تو اس کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کے لیے ایسا کیا جاتا ہے۔ یہ بات ہم نمبر۳۲ (سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۷۲۔۱۷۳ )کے تحت بیان کرچکے ہیں‘ یہاں اس کا اعادہ کیے دیتے ہیں:
یہ عربوں کا قاعدہ تھا کہ اگر کسی چیز کا خاص خیال ہوتا یا اس کی زیادہ اہمیت ہوتی یا اس کے لیے تکریم پائی جاتی تو اس چیز کو یا اس کی ضمیر کو پہلے ذکر کیاجاتا‘ تاکہ اس کی اہمیت کو واضح کیا جا سکے۔دیکھئے کہ ایک کہنے والا کہتا ہے : اِیَّاکَ أَعْنِیْ (تجھ ہی کومَیں اشارہ کر رہا ہوں) اور جواباً دوسرا کہتا ہے: وَعَنْکَ اُعْرِضُ (اور تجھ ہی سے مَیں منہ پھیرتا ہوں) ۔سیبویہ نے یہ رجزیہ کلام بطورِ دلیل لکھا ہے :
لَتَقْرَبَنَّ قَرَبًا جلذیًّا             مادَامَ فِیھِنَّ فَصِیْلٌ حَیًّا
فَقَدْ دَجَا اللَّیْلُ فَھَیَّا ھَیَّا

’’تمہیں (پانی کی تلاش میں) جلد جلد بھاگنا ہو گا جب تک کہ ریوڑ میں ایک بھی اونٹ کا بچہ باقی ہے۔ پس رات قریب آ چکی ہے ‘تو پھر آئو بھاگیں!‘‘
یہاں ’’فِیھِنَّ‘‘ ضمیر کی تقدیم سے وہ زور پیدا ہوا ہے جو اس کی تاخیر سے پیدا نہ ہوتا۔سیبویہ کہتا ہے کہ عرب اُس چیز کو جسے اہم سمجھتے تھے اور جس کا بیان کرنا زیادہ ضروری سمجھتے تھے‘ پہلے بیان کرتے تھے۔
اگر آپ یہ اعتراض کریں کہ اس آیت اور اس سے ماقبل کی آیت جو نوح علیہ السلام کے بارے میں ہے کوئی خاص فرق نہیں ہے تو یہاں جار مجرور کی تقدیم کیوں کی گئی جب کہ پہلی آیت میں اسے بعد میں لایا گیا تھا۔ فرمایا: {فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ} تو ہم کہیں گے کہ یہاں اسم موصول (الَّذِیْنَ) کے ساتھ صرف ایک صفت (کَفَرُوْا) بیان کی گئی ہے (اسے نحو میں صلہ کہا جاتا ہے یعنی اسم موصول سے کیا مراد ہے)۔ چونکہ صلہ میں صرف ایک صفت کا بیان تھا تو اس کے بعد ’’مِنْ قَوْمِہٖ‘‘ کہہ کر صلہ کے الفاظ کو یکجا کر دیا گیا۔ گویا وہ ایک ہی جملہ ہے‘ لیکن اس دوسری آیت میں چونکہ ایک سے زائد صفات بیان ہوئی تھیں : {وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِلِقَآئِ الْاٰخِرَۃِ وَاَتْرَفْنٰہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا} اس لیے ’’مِنْ قَوْمِہِ‘‘ کے الفاظ پہلے لائے گئے تاکہ بات کو سمجھنے میں آسانی رہے۔
اب رہا دوسرا سوال کہ قصہ نوحؑ میں تو صرف ایک صفت ’’کفر‘‘ بیان ہوئی تھی اور دوسری آیت میں جس قوم کا تذکرہ مقصود ہے ان کی مزید دو صفات کیوں بیان ہوئی ہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ دونوں قصوں میں تھوڑابہت اختلاف پایا جاتا ہے۔ جس طرح کفر نے قومِ نوحؑ کی اکثریت کو ڈھانپ لیا تھا‘ ایسا دوسری آیت میں مذکور قوم کا حال نہیں تھا‘ بلکہ ان میں ایمان غالب نظرآتا ہے۔مراد ہے قومِ ہود جن کے بارے میں سورئہ ہود میں ارشاد فرمایا:
{وَلَمَّا جَآئَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا ہُوْدًا وَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّاج } (ھود:۵۸)
’’اور جب ہمارا حکم آ گیا تو ہم نے نجات دی ہود کو اور ان لوگوں کو جو اُس کے ساتھ ایمان لے آئے تھے‘ اور یہ ہماری طرف سے بوجہ رحمت ہوا۔‘‘
اس آیت سے یہ تو معلوم نہیں ہوتا کہ کون سے لوگ زیادہ تھے‘ ایمان لانے والے یا کفر پر قائم رہنے والے! اس لیے مناسب تھا کہ یہ بتایا جاتا کہ ان میں سے کفر کرنے والے (چاہے وہ تعداد میں قلیل ہی کیوں نہ ہوں)کفر کے ساتھ ساتھ چند دوسری قباحتوں میں بھی ملوث تھے‘ یعنی وہ رسول کی نافرمانی کرتے تھے‘ آیات اللہ کو جھٹلاتے تھے‘ دنیوی زندگی اور اس کی آسائشوں پر فریفتہ تھے۔ سورۃالفجر میں ان کی دُنیوی سرگرمیوں کا یوں تذکرہ کیا گیا:
{اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ (۶) اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ (۷) الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُہَا فِی الْبِلَادِ(۸)}
’’کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے عادِ ارم جو ستونوں والے تھے ‘ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا؟وہ کہ ان جیسا تمام ممالک میں کوئی نہیں پیدا کیا گیا تھا۔‘‘
ظاہر ہے کہ ایسے لوگ تعداد میں زیادہ نہیں ہوتے لیکن بہرصورت وہ اپنے کفر میں پکے تھے‘ اس لیے ضروری تھا کہ ان کے یہ اوصاف بیان کیے جاتے کہ جن سے ان کی خوش حالی اور اپنے اس گھمنڈ کا بھی تذکرہ ہو جاتا کہ ہم جیسے بڑے لوگ سزا کے مستوجب کیسے ہو سکتے ہیں۔ گویا اس حقیقت کی وضاحت ہو گئی کہ چاہے تم کتنی ہی دنیوی ترقی کیوں نہ کر لو اگر اللہ کی بات نہیں مانو گے تو تم اللہ کے عذاب سے بچ نہیں سکتے!!
(۲۶۶) آیت ۴۱
{فَاَخَذَتْہُمُ الصَّیْحَۃُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰہُمْ غُثَآئً ج فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۴۱)}
’’تو پھر عدل کے تقاضے کے مطابق ایک چیخ نے انہیں آ لیا اور ہم نے انہیں خس و خاشاک بنا کے رکھ دیا ۔ پس دوری ہو ظالم قوم کے لیے ۔‘‘
اس کے معاً بعد ‘بعدمیں آنے والی نسلوں کا بیان ہوا اور ان کے بارے میں فرمایا :
{فَاَتْبَعْنَا بَعْضَہُمْ بَعْضًا وَّجَعَلْنٰہُمْ اَحَادِیْثَ ج فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ(۴۴)}
’’تو ہم نے ایک کے بعد دوسری قوم کو اس کے پیچھے لگایا اور ہم نےان کو افسانہ بنا کر رکھ دیا ۔تو پھر دُوری ہو اُس قوم کی جو ا یمان نہیں لاتی۔‘‘
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلی آیت میں قوم کے بارے میں ’’ظالمین‘‘ کا وصف بتایا۔اور دوسری آیت میں کہا کہ یہ قوم ایمان لانے والی نہیں تھی۔تو اس فرق کی وجہ کیا ہے؟
جواباً عرض ہے کہ پہلی آیت میں ایک خاص اُمّت کا ذکر تھا جن کے قبیح اعمال کی بنا پر ان کے کفر اور اپنی جانوں پر ظلم کرنے کا علم حاصل ہو گیا۔ اور جب کسی کے ظلم کاذکر ہوگا تو اس میں ساری باتیں آ گئیں‘ یعنی ان کا ایمان نہ لانا ‘کفریہ اعمال کا بجا لانا‘ رسولوں کو جھٹلانا۔تو مناسب تھا کہ ان کے بارے میں کہا جاتا:{ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۴۱)}
جہاں تک دوسری آیت کا تعلق ہے کہ جہاں یہ کہا گیا:{ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ(۴۴)} تو اس سے قبل کئی گروہوں اور قوموں کا اجمالی ذکر ہے جن میں ایک بات مشترک ہے کہ وہ ایمان نہیں لائے۔ البتہ اگر انہیں صرف ’’ظالم‘‘ کے وصف سے ذکر کیا جاتا تو ایک اشکال واقع ہوسکتا تھا کہ ظلم کا اطلاق کفر اور شرک پر بھی ہوتا ہے اور ان گناہوں پر بھی ہوتا ہے جو کفر کی حد تک نہیں پہنچتے۔اس لیے ’’لَا یُؤْمِنُوْنَ‘‘ کہہ کر بتا دیا کہ ان کا انجام پہلے والوں سے مختلف نہیں ہو گا۔البتہ پہلے والوں کاکفر چونکہ واضح طور پربیان ہو چکا تھا کہ انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا‘ بعثت کاانکار کیا کہ وہ قیامت کو نہیں مانتے اور پھر ان کے انجام کا بھی بیان ہو گیا کہ کیسے ایک ہولناک چیخ سے وہ مارے گئے اور پھر سیلاب کے ساتھ آنے والے خس و خاشاک کی طرح بے کار ہوکر رہ گئے تو ان کے ایمان نہ لانے کی تصدیق تو ہو چکی تھی‘ ظالمین کہہ کر ان کے کفر اور معصیت کی شدّت کا اظہار ہو گیا۔
لیکن اگر آپ یہ اعتراض کریں کہ ان قوموں نے بھی تو اپنے رسولوں کو جھٹلایا تھا کہ جو اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے : {کُلَّمَا جَآءَ اُمَّۃً رَّسُوْلُھَا کَذَّبُوْہُ} ’’جب بھی کبھی کسی اُمّت کے پاس ان کا رسول آیا تو انہوں نے اسے جھٹلایا‘‘گویا ان کے ایمان نہ لانے کی بھی تصدیق ہو گئی تو پھر انہیں ظالم کے وصف سے کیوں نہ یاد کیا گیا؟ مَیں یہ کہوں گا کہ ان تمام اُمتوں کا پہلے والوں کی طرح تفصیل سے بیان نہیں ہوا۔ صرف اجمالی طور پر جھٹلانے کا ذکر کیا گیاتھا‘ تو مناسب تھا کہ ان کے بارے میں اجمالی طور پر ایمان نہ لانے کے ذکر پر اکتفا کیا جاتا۔ یوں ہر آیت کا اختتام اُس وصف پر ہوا جو اس کے مناسب حال تھی‘ واللہ اعلم!
(۲۶۷) آیت۸۱ تا ۸۳
{بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ(۸۱) قَالُوْٓا ئَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ئَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ(۸۲) لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَاٰبَآؤُنَا ہٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ ہٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ(۸۳)}
’’بلکہ انہوںنے وہی کچھ کہا جو پہلے لوگوں نے کہاتھا۔ انہوں نے کہا: کیا جب ہم مر جاتے ہیں اور پھر مٹی اور ہڈیاں ہوجاتے ہیں تو کیا ہم دوبارہ اٹھائےجائیں گے؟یہ وعدہ تو ہم سے اور ہمارے آباء و اَجداد سے پہلے بھی کیا جاتا رہا ہے‘ مگر یہ سب کچھ نہیں ہے مگر صرف پہلوں کے افسانے ہیں۔‘‘
اور سورۃ النمل میں ارشاد فرمایا:
{ وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا ئَ اِذَا کُنَّا تُرٰبًا وَّاٰبَآؤُنَآ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ(۶۷) لَقَدْ وُعِدْنَا ہٰذَا نَحْنُ وَاٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ لا اِنْ ہٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ(۶۸)}
’’اور کافروں نے کہا: آیا جب ہم اور ہمارے آباء و اَجداد مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم دوبارہ نکالے جائیںگے؟ یہ وعدہ تو ہم سے اور ہمارے آباء و اَجداد سے پہلے بھی کیا گیا تھا۔ نہیں‘ یہ تو صرف اگلوں کے افسانے ہیں۔‘‘
دونوں آیتوں میں ’’ہٰذَا‘‘ کی ترتیب ملاحظہ ہو:
{لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَاٰبَآؤُنَا ہٰذَا مِنْ قَبْلُ } (المؤمنون)
{لَقَدْ وُعِدْنَا ہٰذَا نَحْنُ وَاٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ } (النمل)
پہلی آیت میں ’’ہٰذَا‘‘ (جو کہ مفعول ہے) اسے بعد میں ذکر کیا گیا ہے اور دوسری آیت میں اُسے پہلے ذکر کیا گیا ہے اور اس کے بعد ’’نَحْنُ وَاٰبَآؤُنَا‘‘کہا گیا ہے تو اس کی کیا وجہ ہے؟
اس کا جواب یہ ہے (واللہ اعلم)کہ سورۃ  المؤمنون میں مذکورہ آیت سے قبل ارشادفرمایا:
{اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآئَ ہُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآئَ ہُمُ الْاَوَّلِیْنَ(۶۸)}
’’کیا انہوںنے اس بات میں غور وفکر ہی نہیں کیا؟یا ان کے پاس وہ آیا جو ان کے باپ دادوں کے پاس نہ آیا تھا!‘‘
یعنی اس آیت میں اس بات کی صراحت کی گئی تھی کہ ان کے آباء و اجداد کے پاس رسول آئے تھے جو انہیں ڈراتے رہے‘ اور انہیں دوبارہ اٹھائے جانے کے بارے میں وعدہ کرتے رہے‘ اس لیے مناسب تھا کہ ’’ہٰذَا‘‘(یعنی وعدہ) سے قبل موعود (وہ لوگ جن سے وعدہ کیا گیا تھا) کا ذکر پہلے کیا جاتا‘ لیکن سورۃ النمل میں چونکہ آباء و اَجداد کا تذکرہ نہیں کیا گیا تھا (جیسا کہ سورۃ المؤمنون میں کیا گیا) اس لیے ہٰذَا(وعدے) کا ذکر پہلے کیا گیا اور موعود (نَحْنُ وَاٰبَآؤُنَا) کا ذکر بعد میں کیا گیا۔ واللہ اعلم!
(۲۶۸) آیت ۸۴۔۸۵
{قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَمَنْ فِیْہَآ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۸۴) سَیَقُوْلُوْنَ لِلہِ ط قُلْ اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ(۸۵)}
’’کہہ دیجیے: زمین اور جو کچھ اس کے اوپر ہے‘ وہ کس کا ہے؟ اگر تم جانتے ہو۔ وہ کہیں گے : اللہ کا ہے! کہہ دیجیے: تو پھر تمہیں نصیحت کیوں نہیں حاصل ہوتی!‘‘
پھر اگلی آیات کے اختتام پر ارشاد فرمایا:
{ سَیَقُوْلُوْنَ لِلہِ ط قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ(۸۷)}
’’وہ کہیں گے کہ سب اللہ کا ہے۔ کہہ دیجیے کہ تم پھر ڈرتے کیوں نہیں ہو؟‘‘
اور اس کے بعد ارشاد فرمایا:
{سَیَقُوْلُوْنَ لِلہِ ط قُلْ فَاَنّٰی تُسْحَرُوْنَ(۸۹)}
’’تو وہ کہیں گے کہ سب اللہ کے لیے ہے۔کہہ دیجیے: تو پھر تم کیسے سحر میں مبتلا ہو؟‘‘
سوال پیدا ہوا کہ ہر سہ آیات کا اختتام الگ الگ ہے‘ تو اس کی کیا وجہ ہے؟
اس کا جواب دو طرح سے ہو سکتا ہے۔ایک تو یہ کہ ہر آیت کے آخر میں بطور ڈانٹ جو الفاظ آئے ہیں وہ اس سوال سے مناسبت رکھتے ہیں جو اس آیت میں مشرکین سے کیا گیا ہے۔پہلی آیت میں زمین اور جو کچھ اس میں ہے‘ کا سوال کیا گیا تھااور اس سے مراد پوری زمین اور اس کی ساری مخلوقات ہیں‘ عاقل بھی اور غیر عاقل بھی‘ جیسے سمندر‘ دریا‘ درخت‘ پہاڑ۔ اس میں ہر طرح کے جہان‘ اور پھر ہرجہان کے اندر باہر جو کچھ ہے‘ شامل ہے۔ صرف ’’لِمَنِ الْاَرْضُ‘‘ کہا‘ گو کلام انتہائی مختصر ہے لیکن قوتِ کلام نے گویاہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
یہ ایسا ہی ہے جیسے ان دوسری آیات میں کہا گیا:
{ اَلَا اِنَّ لِلہِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ ط} (یونس:۶۶)
’’یاد رہے کہ اللہ ہی کے لیے ہے جو بھی آسمانوں میں ہے اورجو بھی زمین میںہے۔‘‘
{ اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَمَنْ عَلَیْھَا } (مریم:۴۰)
’’بے شک ہم ہی وارث ہوں گے زمین کے اور جو کچھ اس کے اوپر ہے۔‘‘
جس طرح ان دونوں آیات میں ’’مَنْ‘‘ سے مراد صرف مخصوص لوگ نہیں ہیں‘ بلکہ سب کچھ جو بھی زمین میں ہے‘ شامل ہے ایسے ہی سورۃ المؤمنون کی آیت میں بھی عمومی کیفیت کا اعتبار کیا گیا ہے‘ کیونکہ مقصود یہ جتلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کاکام ہے کہ وہ پیدا کرتا ہے اور حکم چلاتا ہے جو کہ اللہ کی مخلوقات اور صنعت گری کو دیکھ کر حاصل ہوتا ہے۔ اور یہ بھی ارشاد فرمایا:
{وَفِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَ(۲۰)} (الذّٰریٰت)
’’اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین رکھنےوالوں کے لیے۔‘‘
گویا کہا یہ جا رہا ہے کہ جب تم اس بات کا اقرارکرتے ہو کہ سب کچھ اللہ ہی کی ملکیت ہے تو پھر زمین میں جو جابجانشانیاں ہیں‘ کیا ان سے تمہیں یہ سبق حاصل نہیں ہوتا کہ اللہ وحدہ لا شریک لہ اپنی صفت ِخلق میں منفرد ہے‘ اور اس کا تقاضا ہے کہ اس کا نہ کوئی شریک ہو نہ ہی مثیل‘ کیونکہ اگر زمین و آسمان میں متعدد خدا ہوتے تو یہ سارا نظام درہم برہم ہو جاتا۔ فرمایا:
{لَوْ کَانَ فِیْہِمَآ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللہُ لَفَسَدَتَاج } (الانبیاء:۲۲)
’’اگر ان دونوں (زمین و آسمان) میں اللہ کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہوتا تو یہ دونوں فساد سے بھر جاتے۔‘‘
ایسے ہی جب تم دیکھتے ہو کہ (کھیتی وغیرہ) ایک دفعہ اُگنے کے بعد وہاں دوبارہ اُگنا شروع ہوجاتی ہے‘ ایک دفعہ پھل لگنے کے بعد دوسری دفعہ پھل آ جاتا ہے‘ تو پھر مُردوں کے دوبارہ جی اُٹھنے کے بارے میں تمہیں کیوں شک واقع ہو جاتا ہے:
{ کَذٰلِکَ نُخْرِجُ الْموْتٰی لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ(۵۷)} (الاعراف)
’’ایسے ہی ہم مُردوں کو نکال باہر کریں گے تاکہ تم نصیحت حاصل کر سکو!‘‘
اس کے بعد ارشاد فرمایا:
{قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ (۸۶)} (المؤمنون)
’’کہہ دیجیے: کون ہے ساتوں آسمانوں کا رب اور کون ہے عظیم الشان عرش کا رب؟‘‘
اور یہ مخلوق تم سب سے بڑی ہے بلکہ اس زمین سے بھی بڑی جو تمہارے وجود کو اٹھائے ہوئے ہے۔ ’’سَیَقُوْلُوْنَ لِلہِ‘‘ جواباً وہ کہیں گے کہسب کچھ اللہ ہی کا ہے۔تو جب تم نے اس کی عظمت اور شان و شوکت کا اقرار کر ہی لیا تو پھر اس سے ڈرتے کیوں نہیں ہو؟ {اَفَلَا تَتَّقُوْنَ}
اس کے بعد ارشاد فرمایا:
{قُلْ مَنْ  بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْ ئٍ وَّہُوَ یُجِیْرُ وَلَا یُجَارُ عَلَیْہِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۸۸)}
’’کہہ دیجیے وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار ہے‘ اور وہی پناہ دینے والا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی پناہ دینے والا نہیں ہے اگر تم جانتے ہو!‘‘
اب اس اِقرار دَر اِقرار کے بعد بھی اگر تم صرف اللہ کی عبادت سے انکار کرتے ہو تو گویا تم پر جادو کر دیا گیا ہے جو ماننے اور اقرار کرنے کے باوجود حقیقت سے چشم پوشی پر تُلے ہوئے ہو؟ {فَاَنّٰی تُسْحَرُوْنَ(۸۹)}
دوسرا جواب بھی پہلے کے قریب قریب ہے لیکن اس میں عبارت آرائی کا کوئی تکلف نہیں پایا جاتا۔ مضمونِ کلام یوں ہوگا کہ سب سے پہلے انہیں اس بات کی یاد دہانی کرائی گئی کہ جس بات کو وہ پہلے سےمانتے تھے‘ اور اس میں انہیں کوئی توقف نہ تھا‘ وہ یہ کہ زمین کا اور وہ سب کچھ جو اس میں ہے اس کا مالک اللہ ہے‘ اور یہ اقرار کئی جگہ بیان ہوا ہے۔جیسے ارشاد فرمایا:
{وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللہُ ط }(لقمان:۲۵‘الزمر:۳۸)
’’اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ کہیں گے: اللہ نے!‘‘
اور جو خالق ہوتا ہے تو وہ اپنی خلقت کا مالک بھی ہوتا ہے۔ گویا یہ کہا جا رہا ہے کہ جب تم اس بات کو مانتے ہو کہ وہ تنہا ہی خالق ہے تو پھر صرف اُسی کی عبادت کیوں نہیں کرتے؟ اور اگر اس نے ابتدائےخلق کی ہے تو پھر یہ بھی مانو کہ وہ دوبارہ بھی پیدا کر سکتا ہے {اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ(۸۵)}
اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا ذکر ہوا اور اس بات کا بھی کہ وہ سات آسمانوں کا اور باعظمت عرش کا بھی مالک ہے۔ اب یہ ایک اور اقرار ہو گیا ‘تو انہیں پھر اُس کے عذاب سے ڈر تے رہنا چاہیے تھا لیکن جب ایسا نہیں ہوا تو کہا گیا: {اَفَلَا تَتَّقُوْنَ}۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی بادشاہت‘ تمام مخلوقات پر اُس کی حکمرانی کا ذکر کیا گیا اور ا س بات کا بھی کہ کوئی اس کے حکم کے آگے پَر بھی مار نہیں سکتا:
{قُلْ مَنْ م بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْ ئٍ وَّہُوَ یُجِیْرُ وَلَا یُجَارُ عَلَیْہِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۸۸)}
اور پھر ان کے اعتراف کا ذکر کیا کہ واقعی ایسا ہی ہے۔تو جب وہ ایک ایک بات کا اقرار کرتے چلے آئے ہیں تو انہیں ایمان لانا چاہیے تھا‘ اطاعت میں داخل ہونا چاہیے تھا لیکن وہ اس سے کنّی کتراتے رہے۔ ان کی حالت ایسی ہو گئی جیسے اس شخص کی جو اپنی عقل کھو چکا ہو یا اس پر جادو کر دیا گیا ہو کہ جس کی بنا پر اُس کی عقل جاتی رہی ہے۔ اور پھر ان سے یوں خطاب کیا گیا : {فَاَنّٰی تُسْحَرُوْنَ(۸۹)}
اور پھر مشرکین کے عزائم کے ردّ کے طور پر یہ آیات نازل ہوئیں:
{مَا اتَّخَذَ اللہُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا کَانَ مَعَہٗ مِنْ اِلٰہٍ اِذًا لَّذَہَبَ کُلُّ اِلٰہٍ  بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ ط سُبْحٰنَ اللہِ عَمَّا یَصِفُوْنَ(۹۱) عٰلِمِ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ فَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ(۹۲)}
’’اللہ نے کوئی بیٹا نہیں بنایا اور نہ ہی اُس کے ساتھ کوئی معبود ہے‘ اگر ایسا ہوتا تو ہر الٰہ اپنی اپنی مخلوق کولے کر بھاگ اٹھتا‘ اور ایک دوسرے پر چڑھائی کر دیتا۔ اللہ پاک ہے ان تمام (نقائص) سے جو وہ بیان کرتے ہیں ۔وہ غائب اور حاضر سب کو جانتا ہے‘ تو وہ بالاتر ہے ان تمام شرکیات سے جو یہ لوگ کیا کرتے تھے۔‘‘
اس تفصیل سے ان آیات کا باہمی ربط و ضبط واضح ہو گیا‘ واللہ اعلم!