(بازگشت) مجلّہ ’’حکمتِ قرآن ‘‘لاہور کے تینتالیس سال - محمد شاہد حنیف

13 /

مجلّہ ’’حکمتِ قرآن ‘‘لاہور کے تینتالیس سالمحمد شاہد حنیف
ایم اے (لائبریری سائنس)

ماہنامہ ’’حکمتِ قرآن‘‘ کا آغازمارچ+ اپریل 1982ء میں سولہ صفحات پر مشتمل ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے ایک مضمون ’’حقیقتِ زندگی‘‘ کو شائع کرکے کیا گیا۔اس شمارے میں صرف ڈاکٹر صاحب کا ایک ہی مضمون طبع کیا گیا۔ دوسرا شمارہ مئی+جون 1982ء کا مشترکہ شمارہ تھا جس میں ڈاکٹر اسرار احمدؒ رسالے کے نام اور اس کی اشاعت کے بارے میں اپنے اداریے بعنوان ’’حکم و عبر‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور کے زیر اہتمام ’’حکمت ِقرآن‘‘ کے پہلے شمارے کے لیے کچھ لکھنے کا خیال آتے ہی دل پر اِک چوٹ سی لگی اور ڈاکٹر محمد رفیع الدین مرحوم و مغفور کا سراپا نگاہوں میں گھوم گیا --- اور خاص طور پر ان کا مطمئن اور متبسم چہرہ چشم تصور کے عین سامنے آن کھڑا ہوا ---اس لیے کہ اس مجلے کا نام ’’حکمت ِقرآن‘‘ ڈاکٹر صاحب موصوف ہی کی امانت ہے --- اور اس کا اجرائِ اوّل ان ہی کی قائم کردہ ’’آل پاکستان اسلامک ایجوکیشن کانگریس‘‘ کے تحت ہوا تھا۔‘‘
دوسرے شمارے (مئی 1982ء ) میں اپنے اس اداریے میں ڈاکٹر صاحب نے اس شمارے کے بارے میں تعارف کروانے کے بعد آئندہ رسالے کی ادارت ڈاکٹر ابصار احمد صاحب کے حوالے سے کرتے ہوئے لکھا:
’’اس پہلے شمارے [ترتیبِ اشاعت میں یہ دوسرا شمارہ ہے] کا ابتدائیہ تو راقم نے لکھ دیا ہے‘ لیکن آئندہ یہ پرچہ کلیتاً حوالے رہے گا ڈاکٹر ابصار احمد سلّمہ کے جو قرآن اکیڈمی کے اعزازی ڈائریکٹر ہیں --- اور نورِچشم حافظ عاکف سعید سلّمہ کے جو قرآن اکیڈمی کی رفاقت سکیم کے شریک ِاوّل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں کو ضروری ہمت اور صلاحیت عطا فرمائے۔ آمین!‘‘
شمارہ اوّل میں صرف ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کا نام بطور مدیراعلیٰ درج ہوا تھا جب کہ شمارہ دوم (مئی 1982ء) پر جاری کردہ ڈاکٹر محمد رفیع الدین‘ مدیر اعزازی ڈاکٹر ابصار احمد‘ معاون مدیر حافظ عاکف سعید کے ساتھ مدیر مسئول کے طور پر ڈاکٹر اسرار احمد کے نامِ نامی درج کیے گئے۔
فروری 1987ء سے مذکورہ بالا چاروں ناموں کے علاوہ اقتدار احمد کا نام بطور مینیجنگ ایڈیٹر کا اضافہ کردیا گیا‘ جو کہ مارچ 1989ء تک شائع ہوا اور مئی 1989ء کے شمارے سے اقتدار احمد کا نام حذف ہوگیا۔
اگست 1989ء کے شمارے سے ایک نیا پانچواں نام بطور معاون اُمور انتظامی حافظ خالد محمود خضر کا شامل ہوگیا‘ جب کہ شمارہ جون تا دسمبر 1990ء میں اُن کے عہدہ کو بدل کر ’’ادارۂ تحریر‘‘ کے تحت پروفیسر احمد یار‘ پروفیسر حافظ محمد فاضل‘ حافظ خالد محمود خضر کے ناموں کو شائع کیا گیا۔ جنوری 1991ء سے ’’ادارۂ تحریر‘‘ سے حافظ محمد فاضل کا نام حذف ہوگیا۔ دسمبر 1997ء کے شمارے سے ’’ادارۂ تحریر‘‘ میں حافظ احمد یارؒ کے نامِ نامی کی بجائے پروفیسر حافظ نذیر احمد ہاشمی کا نام شائع ہونا شروع ہوگیا۔ یہ سلسلہ جون 2000ء تک جاری رہا۔
جولائی 2000ء سے ستمبر 2001ء تک ’’ادارۂ تحریر‘‘ کی بجائے صرف ’’معاون‘‘ کے طور پر حافظ خالد محمود خضر کا نام رہ گیا۔ پھر اکتوبر 2001ء تا دسمبر 2003ء ’’ادارۂ تحریر‘‘ کے تحت سابقہ دو نام حافظ خالد محمود خضر اور حافظ نذیراحمد ہاشمی کے درج ہونے شروع ہوئے۔
جنوری 2004ء سے ادارتی ناموں کی تبدیلی کے بعد مدیر اعزازی ڈاکٹر ابصار احمد‘ مدیر منتظم حافظ عاکف سعید‘ نائب مدیر حافظ خالد محمود خضر‘ ادارۂ تحریر میں حافظ نذیر احمد ہاشمی اور پروفیسر محمد یونس جنجوعہ کے اسمائے گرامی شامل ہوئے۔
مئی 2004ء سے حافظ عاطف وحید کا نام بھی ادارۂ تحریر میں شامل کردیا گیا۔ جولائی 2006ء سے حافظ محمد زبیر کے نام کا ادارۂ تحریر میں اضافہ ہوا۔
جنوری 2008ء سے ’’حکمتِ قرآن‘‘ کا ایک نیا دور شروع ہوا جب اس کو ماہنامہ کی بجائے سہ ماہی کردیا گیا۔ اس کے بارے میں ڈاکٹر ابصار احمد جنوری 2008ء کے شمارے میں اپنے اداریے بعنوان ’’حرفِ اوّل‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’حکمت ِقرآن کا یہ شمارہ ایک نئے دور کا آغاز کررہا ہے۔ انجمن خدام القرآن اور قرآن اکیڈمی کے اکیڈمک وِنگ نے طویل سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ اس جریدے کو ظاہری اور معنوی لحاظ سے وقیع بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اسے سہ ماہی بنایا جائے‘ تاکہ ادارتی عملے کو اس کے مشمولات کی تدوین کے لیے زیادہ وقت ملے۔‘‘
اس نئے دور میں اس رسالے کی مجلس ادارت اور دیگر ناموں کی ترتیب کچھ یوں بنی:
مدیر مسئول: ڈاکٹر اسرار احمد ‘ بیادگار: ڈاکٹر محمد رفیع الدین‘ مدیر اعزازی: ڈاکٹر ابصار احمد
مدیر منتظم: حافظ عاطف وحید‘ نائب مدیر: حافظ خالد محمود خضر… ادارۂ تحریر: حافظ محمد زبیر‘ قاری یحییٰ اشرف عبدالغفار‘ حافظ نذیر احمد ہاشمی‘ حافظ طاہر اسلام عسکری‘ پروفیسر محمد یونس جنجوعہ
ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے اس دُنیا سے رخصت ہونے کے بعد اپریل 2010ء کے شمارے سے مدیر مسئول کی ذمہ داری ڈاکٹر ابصار احمد کے سپرد کردی گئی‘ جب کہ مدیر حافظ عاطف وحید‘ نائب مدیر حافظ خالد محمود خضر اور ادارۂ تحریر میں حافظ محمدزبیر‘ حافظ نذیر احمد ہاشمی اور پروفیسر محمد یونس جنجوعہ شامل رہے۔
جولائی 2015ء کے شمارے میں حافظ نذیر احمد ہاشمی کے نام کی جگہ مؤمن محمود ادارۂ تحریر میں شامل ہوئے۔ جنوری - اپریل 2021ء کے شمارے سے مدیر مسئول ڈاکٹر عارف رشید‘ مدیر ڈاکٹر ابصار احمد‘ نائب مدیر حسب ِ سابق اور مجلسِ ادارت (ادارۂ تحریر) میں حافظ عاکف سعید‘ حافظ عاطف وحید‘ پروفیسر محمد یونس جنجوعہ‘ مؤمن محمود‘ حافظ قاسم رضوان شامل ہوگئے۔
مجلّہ ’’ حکمتِ قرآن‘‘ کے بنیادی مقاصد میں قرآن و علومِ قرآن سے متعلقہ تمام مباحث جن میں ترجمہ قرآن‘ تفسیر قرآن‘ علم تفسیر‘ لغات القرآن‘ تجوید‘ اعجاز القرآن‘ تدوین قرآن‘ نزولِ قرآن و دیگر علومِ قرآنیہ پر نگارشات شائع کرنے کے علاوہ عمومی اسلامی تعلیمات کی اشاعت و ترویج کے ساتھ قرآن اکیڈمی اور قرآن کالج کی سرگرمیوں کو بھی دیگر افراد تک پہنچانا تھا۔ دیگر تمام مواد کے علاوہ علومِ قرآنیہ سے متعلق خصوصی طور ڈاکٹر محمد رفیع الدین‘ ڈاکٹر اسرار احمد اور پروفیسر حافظ احمد یار(رحمہم اللہ)کی نگارشات کو مستقل بنیادوں پر شائع کرکے قارئین تک پہنچایا گیا۔
اس رسالے نے علومِ قرآنیہ کے علاوہ دیگر تمام اسلامی موضوعات جن میں حدیث و سُنّت‘ عبادات‘ معاشرت‘ سیاسیات‘ معاشیات‘ فقہ و اجتہاد‘ سیرت و سوانح‘ شعر و ادب اورتاریخ پر مستند علمائِ کرام کی تحریریں پیش کرنے میں بہترین کردار ادا کیا اور کر رہا ہے۔ بالخصوص ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے مختلف ادوار اور الگ الگ انداز میں ہونے والے دروسِ قرآن کو خصوصی طور پرتحریری شکل میں ڈھال کر قرآنی خدمت کا بہترین فریضہ انجام دینے میں اس رسالے کے ذمہ داران نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ایک خاص سلسلہ جو کہ ’’لغات و اعراب قرآن‘‘ کے عنوان سے مستقل کئی سالوں سے شائع ہورہا ہے‘ وہ اس رسالے کی جان نظر آتا ہے۔ یہ سلسلہ جنوری 1989ء سے پروفیسر حافظ احمد یارؒ کے قلم سے شروع ہوا اور اُن کے انتقال مئی 1998ء تک باقاعدگی سے جاری رہا۔ اُن کے بعد یہ سلسلہ اُن ہی کے افادات اور تشریحات کی روشنی میں اختصار کے ساتھ لطف الرحمٰن خان صاحب نے جاری رکھا۔
مجلّہ ’’ حکمتِ قرآن‘‘ نے اپنے آغاز مارچ 1982ء سے دسمبر 2024ء تک کل 330 شمارے شائع کیے جن میں 18 خاص نمبر بھی شامل ہیں‘ جن کی تفصیل آگے دی جارہی ہے۔ رسالے کے صفحات کی تعداد مختلف ادوار میں کم و بیش رہی۔ پہلا شمارہ صرف 16صفحات پر مشتمل تھا‘جب کہ دسمبر 2007ء تک ماہنامہ حکمت ِقرآن کے صفحات کی تعداد 68ہوتی تھی۔ جنوری 2008ء سے یہ مجلّہ سہ ماہی ہوا تو اس کا سائز بھی بڑھا دیا گیا اور صفحات کی تعداد 100کر دی گئی۔ جنوری تا جون 2023ء کا خصوصی شمارہ 196 صفحات پر مشتمل تھا۔ 330 شماروں کے کل صفحات کی تعداد تقریباً 26630 بنتی ہے۔ ان صفحات میں فرنٹ اور بیک ٹائٹل بھی شامل ہیں۔
مختلف موضوعات پر جو اٹھارہ خاص نمبر شائع کیے گئے‘ اُن کی تفصیل کچھ یوں ہے:
٭ حقیقت ِ زندگی… ایک فکر انگیز تحریر (مارچ1982ء)
٭ دعوتِ رجوع الی القرآن کا منظر و پس منظر (جولائی 1982ء)
٭ فرائضِ دینی کا قرآنی تصوّر: سیرت کی روشنی میں (مارچ 1983ء)
٭ سالانہ محاضراتِ قرآنی (مارچ 1985ء)
٭ اسلام کا معاشی نظام اور اسلامی ریاست کا نظامِ محاصل (ستمبر 1985ء)
٭ اسلامی تحقیق کا مفہوم و مدّعا اور طریق کار (دسمبر 1986ء)
٭ زندگی‘ موت اور انسان: آئینہ قرآنی میں (مئی 1988ء)
٭ نبی اکرمﷺ کا مقصد ِبعثت اورانقلابِ نبویؐ کا اساسی منہاج (ستمبر 1988ء)
٭ علامہ اقبال اور ہم (نومبر 1988ء)
٭ دعوتِ رجوع اِلی القرآن کی ساڑھے تئیس سالہ مساعی کا جائزہ (اپریل 1989ء)
٭ دعوتِ رجوع اِلی القرآن کا منظر و پس منظر (فروری 1990ء)
٭ ایجاد و ابداعِ عالم سے عالمی نظامِ خلافت تک :تنزل اور ارتقا کے مراحل (اگست 1999ء)
٭ عید الاضحی اور فلسفہ قربانی (مارچ 2000ء)
٭ انوار القرآن (فروری 2001ء)
٭ اسلامی تصوّف میں غیر اسلامی نظریات کی آمیزش (اگست 2001ء)
٭ اسلامی ریاست اور معیشت (اگست 2002ء)
٭ زکوٰۃ: فی سبیل اللہ کی مدّ اور مسئلہ تملیک (جولائی 2006ء)
٭ دعوت رجوع الیٰ القرآن اور مرکزی انجمن خدّام القرآن لاہور کے 50سال (جنوری 2023ء)
٭٭٭٭٭٭

معروف محقق اور اشاریہ ساز جناب محمد شاہد حنیف نے مجلّہ حکمت قرآن لاہور کا۴۳ سالہ اشاریہ (۱۹۸۲ء تا ۲۰۲۴ء) انتہائی دقت ِنظر اور محنت سے تیار کیا ہے ۔ اس کے محتویات کو مختلف عنوانات (موضوع وار) اور مصنف وار دونوں طرح سے اس انداز میں مرتّب کیا ہے کہ اس رسالہ میں شائع ہونے والے تمام موضوعات تک نہ صرف رسائی آسان تر ہو گئی ہے بلکہ کسی مصنف کی تمام تحریروں سے بھی استفادہ آسانی سے ممکن ہو گیا ہے۔
۱۷۲ صفحات پر محیط یہ اشاریہ طباعت کے مرحلے میں ہے اور ان شاء اللہ العزیز جلد قارئین کے استفادہ کے لیے دستیاب ہو گا۔(ادارہ)