(حرفِ اوّل) مرکزی انجمن خدّام القرآن کا۵۳واں سالانہ اجلاس عام - ادارہ

11 /

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مرکزی انجمن خدّام القرآن کا۵۳واں سالانہ اجلاس عام
(منعقدہ ۲۱ دسمبر۲۰۲۵ء)

یہ اجلاس قرآن آڈیٹوریم میں ۲۱ دسمبر ۲۰۲۵ء کو منعقد ہوا جس میں انجمن کے اراکین نے شرکت کی۔صبح ساڑھے۱۰ بجے چائے اور دیگر لوازمات سے مہمانوں کی تواضع کی گئی۔ پروگرام کا آغاز ۱۱ بجے ہوا۔ ناظم اعلیٰ جناب حافظ عاطف وحید نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیے۔ تلاوتِ قرآن مجید کی سعادت جناب قاری احمد ہاشمی نے حاصل کی۔
ناظم اعلیٰ نے اپنے افتتاحی کلمات میں فرمایا کہ ۱۹۷۲ ءمیں صدرِ مؤسس ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی سرکردگی میں کل ۱۳ افراد نے بطور مؤسسین اس سفر کا آغاز کیا تھا۔ ان حضرات کی مخلصانہ کوششوں کے باعث آج ۵۳ برس کے بعد بھی یہ قافلہ اپنی منزل کی جانب دامے درمے قدمے سخنے گامزن ہے۔ان ۱۳ مؤسسین میں سے ۱۲ حضرات بشمول میر کارواں اپنی حقیقی منزل کو پہنچ چکے ہیں۔ رجوع اِلی القرآن کی اس تحریک سے ہماری نسبت ڈاکٹر صاحب ؒکے ذریعے قائم ہوئی ہے۔ مرکزی انجمن کے قیام سے قبل کئی برس لاہور میں ان کے دروسِ قرآن کا سلسلہ جاری رہا‘جس کے بعد ۱۹۷۲ءمیں انہوں نے یہ انجمن قائم کی۔ انجمن کے دستور اور اغراض و مقاصد کے مطابق ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ نے تعلیم و تعلّم ِقرآن کا سلسلہ تا حیات جاری رکھا اور آخری دم تک بطور صدر مؤسس کام کرتے رہے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں اعلیٰ علیین میں مقام عطا فرمائے۔ آمین!
مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ۱۸۶۰ء کے تحت جوائنٹ سٹاک کمپنیز میں ایک ناٹ فار پرافٹ آرگنائزیشن کے طور پر رجسٹرڈ ادارہ ہے۔ گزشتہ سال کے دوران ایف بی آرکے تقاضا کرنےپر ایک آزاد نیم سرکاری ادارے پاکستان سینٹر فار فلانتھراپی نے ہمارے ادارے کی کارگزاری اور شفافیت کی تفصیلی جانچ پڑتال کی۔ ہمارے ہر ہر کام‘ ہر ہر شعبے کا جائزہ لیا اور پائی پائی کا حساب چیک کیا۔ بحمداللہ‘ ان کی طرف سے
Certificate for demonstrating excellence and leadership
as per NPO evaluation standards notified by FBR

جاری ہوا ۔ اسی طرح رجسٹرار جوائنٹ سٹاک کمپنیز کی طرف سے بار بار تقاضا کیا جاتا رہا کہ ہم پنجاب چیرٹی کمیشن (PCC) کے پاس بھی لازماً رجسٹر ہوں۔ سرکاری اداروں میں گونا گوں تقاضے پورا کرنے کے لیے فائلوں کو پہیے لگانے پڑتے ہیں‘اور یہ آپشن ہمیں میسر نہیں ہے۔ چنانچہ ہمیں مشکلات کا بھی زیادہ سامنا کرنا پڑا۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور خاص طور پر ہمارے اکاؤنٹنٹ عمران صابر صاحب کی محنتوں سے یہ کوہ ہمالیہ بھی سر ہو گیا اور پنجاب چیرٹی کمیشن سے بھی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ موصول ہو گیا ہے۔ اس پر میں تمام اراکین انجمن کو مبارک باد دیتا ہوں۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ مرکزی انجمن کی ۵۳ سالہ تاریخ میں یہ پہلا سالانہ اجلاس ہے جس میں سابقہ صدرِ انجمن اور حالیہ مدیر حکمت قرآن جناب ڈاکٹر ابصار احمد اپنی شدید علالت کے باعث شریک نہیں ہیں۔ ان کی کمی آج ہر شخص محسوس کر رہا ہے۔ مزید برآں‘ مدیر عمومی جناب محمود عالم میاں بھی خرابی ٔ صحت کی بنا پر آج حاضر نہیں ہیں۔ ناظم اعلیٰ نے حاضرین مجلس سے استدعا کی کہ اِن دونوں بزرگوں کی صحت یابی کے لیے خصوصی دعا کا اہتمام کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل و کرم سے انہیں شفائے کاملہ‘ عاجلہ و مستمرہ عطا فرمائے اور تاحینِ حیات دینِ متین کی خدمت کی توفیق بخشے‘ آمین!
اس کے بعد نائب مدیر عمومی جناب محمد یونس نے گزشتہ اجلاس کی کارروائی پڑھ کر سنائی جس کی تمام اراکین نے توثیق فرمائی۔
ناظم اعلیٰ نے مختلف شعبہ جات کا خاکہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت انجمن میں تین عنوانات کے تحت کام ہو رہا ہے ‘ یعنی نشرواشاعت‘ تعلیم و تربیت اورا کیڈمک ورک۔ نشر و اشاعت کے ضمن میں آج کل کے دور میں پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ سوشل میڈیا بھی ہے۔ پرنٹ میڈیا کے لیے مواد ہمارے شعبہ مطبوعات میں تیار ہوتا ہےجس میں کتابیں اور جرائد شامل ہیں۔ میثاق‘ حکمت قرآن‘ ندائے خلافت اور ایک خبرنامہ انجمن شائع ہوتے ہیں۔ خبرنامہ صرف اراکین انجمن کو ارسال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کتابوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ان کی ری پرنٹنگ بھی ہوتی ہیں اور نئی کتابیں بھی منصہ شہود پر لائی جا رہی ہوتی ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا سے متعلق کام ہمارا شعبہ سمع و بصر جناب آصف حمید کی نگرانی میں سر انجام دیتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب ؒ کی تمام تقاریراور خطابات کا ریکارڈ موجود ہے۔ اس کو ڈیجیٹلائز کرنا اور مختلف انداز سے لوگوں کے سامنے پیش کرنا اس شعبے کا کام ہے۔ سوشل میڈیا کا میدان نہایت وسیع ہو گیا ہےاور روز بروز نئے سے نئے معاملات سامنے آرہے ہیں۔
ناظم شعبہ سمع وبصرجناب آصف حمیدنے اپنے شعبہ کی کارگزاری بیان کرتے ہوئے کہا کہ بانی و صدر مؤسس کے خطابات کی ڈیجیٹائزیشن کا کام تکمیل کے قریب ہے۔ان کے شارٹ کلپس بنانا کافی چیلنجنگ اور محنت طلب ہے۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر کام ہو رہا تھا۔کئی چینلز اور پیجز بنائے ہوئے تھے۔ تین سال پہلے یوٹیوب پر ہمارا ایک بہت بڑا چینل جو ۳۰ لاکھ سبسکرائبرز کا تھا‘ اسرائیلی لابی نے ٹرمینیٹ کروادیا‘ اس لیے کہ اس پر اینٹی سیمٹک (anti-semitic) مواد تھا۔ہم نے درخواست کی کہ یہ تو سارا ایجوکیشنل کنٹینٹ ہے لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ جیسے جیسے سوشل میڈیا ترقی کر رہا ہے اسی طرح پس پردہ ان کا ایلگوریدم کام کر رہا ہوتا ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس بھی بڑی خطرناک حد تک ترقی کر رہی ہے اور اب اس قابل ہو چکی ہے کہ کسی انسانی مدد کے بغیر وہ خودکھوج لگا لیتی ہے کہ اسرائیل یا یہودیوں کے خلاف کہیں پر بھی کوئی موادہے تو اس کی نشان دہی کر کے اسے حذف کر دیا جائے۔ اس وقت یوٹیوب کے علاوہ انسٹاگرام ‘ فیس بک ‘ ٹویٹر‘ ٹک ٹاک ‘ ساؤنڈ کلاؤڈ اور پن ٹرسٹ کے اوپر ہمارےماہانہ ویورز تقریباً چھ کروڑ سے اوپر ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ؒ کو تمام طبقات کے لوگ سن رہے ہیں ۔ نقشبندیہ سلسلہ کے ایک بڑے پیر ڈاکٹراویس احمد مرحوم سے ایک دفعہ ملاقات ہوئی تھی تو انہوں نے کہا تھاکہ اب ہمیں ڈاکٹر صاحب کو سننے کا موقع ملتا ہے تو افسوس ہوتا ہے کہ ہم پہلے کیوں ان سے استفادہ نہیں کر سکے۔ اس وقت چیلنجز یہ ہیں کہ یوٹیوب نے سب سے زیادہ ہمیں پریشان کیا ہوا ہے۔۲۰۲۵ء میں ہمارے پندرہ چینلز کو سٹرائیک ڈاؤن کر دیاگیا۔ ہم نے نئے چینل بنانے شروع کیے۔ اب ہم ان پر مواداَپ لوڈ کر رہے ہیں۔ ایک ویب سائٹ بنائی گئی ہے drisrar.com ‘ جس کے اوپرسارا موادڈال دیا ہے۔دوسرا چیلنج یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے فیک ویڈیوز بننی شروع ہو گئیں‘کیونکہ ڈاکٹر صاحب کی ویڈیوز میںایڈورٹائزمنٹ کا ریٹ بہت زیادہ ہے۔ ہم فیک ویڈیوز بنانے والے بہت سے چینلز کو سٹرائیک ڈاؤن کرتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ چالاکی سے فیک ویڈیوز بنا رہے ہیں ۔ ہم نے پی ٹی اے سےبھی رابطہ کیا ہے اور ایف آئی اے سائبر کرائم کو بھی درخواست دی ہوئی ہے کہ ان چینلز کے خلاف کارروائی کی جائے۔
شعبہ مطبوعات کے مدیر جناب حافظ خالد محمود خضر ناسازیٔ طبع کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہوسکے۔ انہوں نے اس موقع کے لیے یہ تحریر مرتب کر رکھی تھی:
شعبہ مطبوعات کے زیر انتظام تین جرائدماہنامہ میثاق‘ سہ ماہی حکمت قرآن اور ہفت روزہ ندائے خلافت شائع ہوتے ہیں۔ ان تینوں جرائد کے ادارتی امور‘ مثلاً مضامین کی تالیف اور ایڈیٹنگ‘ داعی رجوع الی القرآن محترم ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے دروس و خطابات کے علاوہ امیر تنظیم اسلامی اور دیگر حضرات کے اہم خطابات کو صفحۂ قرطاس پر منتقل کرکے تحریری شکل میں مرتّب اور مدوّن کرنا اور ان میں مذکور احادیث کی تخریج وغیرہ‘ نیز قابلِ اشاعت مضامین کی ایڈیٹنگ‘ کمپوزنگ‘ پروف ریڈنگ اور اس نوعیت کے دیگر بہت سے امور اس شعبہ کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ مسودات کو علمی‘ ادبی‘ لسانی‘ واقعاتی اعتبار سے جانچنے کے لیے خود کو موجودہ رجحانات اور حالات سے بھی باخبر رکھنا پڑتا ہے۔
مکتبہ خدام القرآن کے زیر ِاہتمام شائع ہونے والی جملہ کتب (نئی یا پرانی) کی تیاری اور ان کی اشاعت کی تمام ترذِمہ داری بھی اسی شعبے پر ہے۔ چنانچہ شعبہ مطبوعات نئی کتابوں کی ترتیب و تدوین‘ ان میں شامل قرآنی آیات اور احادیث کے متون‘ تراجم اور حوالہ جات کی صحت کے اہتمام‘ پرانی کتابوں کی حسب ِضرورت نظر ثانی اور ایڈیٹنگ کے بعد نئی کمپوزنگ اور نئے ایڈیشنز کی اشاعت کے وقت ان کی اغلاط کی ممکنہ تصحیح کے بعد‘ان کےنئے دیدہ زیب سرورق بنانے جیسے جملہ امور بحسن و خوبی انجام دے رہا ہے۔اس وقت شعبہ مطبوعات کے زیر اہتمام ۲۰۰سے زائد کتب شائع ہو رہی ہیں۔
شعبہ مطبوعات کا سب سے اہم تالیفی اور طباعتی کام داعی رجوع الی القرآن ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے شہرۂ آفاق دورۂ ترجمہ قرآن کو تسوید و تبییض‘ ترتیب وتدوین اور تحقیق وتدقیق کے مراحل سے گزار کر ’’بیان القرآن‘‘ (ترجمہ مع مختصر تشریح) کی کتابی صورت میں اشاعت ہے‘ جسے دعوت رجوع الی القرآن کے انتہائی اہم سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ دراصل ڈاکٹر صاحبؒ کے مشن اور اس کی ترویج میں جو مرکزیت قرآن حکیم کو حاصل ہے بعینہ وہی مرکزی اور امتیازی حیثیت ہماری مطبوعات میں ’’بیان القرآن‘‘ کی ہے۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم کے الفاظ میں ’’پہاڑ جیسا یہ کام‘‘ الحمد للہ ۲۰۱۵ء میں سات حصوں میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔ ۲۰۲۱ء میں ’’بیان القرآن‘‘ کو ایک نئی ترتیب و تقسیم کے ساتھ تقریباً برابرضخامت کی چار جلدوں میں ’’طبع جدید‘‘ کے طور پر پیش کیا گیا‘ جو متعدد ظاہری و باطنی خوبیوں کا حامل ہے۔ اس ’’طبع جدید‘‘ کے اب تک آٹھ ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں‘ جب کہ سات حصوں پر مشتمل ’’بیان القرآن‘‘ کا مکمل سیٹ بیس سے زائد مرتبہ شائع ہوچکا ہے۔
’’بیان القرآن‘‘ کی غیر معمولی مقبولیت کے پیش نظر یہ ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ حواشی کو مختصر کرکے اسے ایک جلد میں مرتّب کیا جائے۔ چنانچہ فروری۲۰۲۵ء میں ’’بیان القرآن‘‘ ہی کے ترجمہ اور منتخب حواشی کے ساتھ ’’مختصر بیان القرآن‘‘ نذرِ قارئین کیا گیا۔ حواشی کے انتخاب میں ڈاکٹر صاحبؒ کے قرآنی فکر کو مقدّم رکھا گیا ہے۔ اس ’’مختصر بیان القرآن‘‘ کو اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اس قدر مقبولیت اور پزیرائی حاصل ہوئی ہے کہ دو سال کے عرصے میں اس کے دس (۱۰) ایڈیشن طبع ہو چکے ہیں اور گیارہواں ایڈیشن پریس میں زیر طبع ہے۔
محترم ڈاکٹر صاحبؒ کے مفصل دروسِ قرآن کی تسوید و تدوین کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ سورۃ الفاتحہ کی تکمیل کے بعد سورۃ البقرۃ کی قسط وار اشاعت ماہنامہ’’ میثاق‘‘ میں تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ آئندہ کے طباعتی منصوبوں میں ڈاکٹر صاحبؒ کے مفصل دروسِ قرآن میں سے چار سورتوں (اللیل‘ الشمس‘ الضحیٰ اور الم نشرح) کی تشریح پر مشتمل کتاب ’’چہار سورئہ نور و ظلمت‘‘ کے عنوان سے تیاری کے مراحل میں ہے۔
ڈاکٹررفیع الدین مرحوم کی مشہور و معروف تصنیف’’حکمت ِاقبال‘‘ پر کام اختتامی مراحل میں ہے۔ متن میں ضروری اصلاح کے بعد اسے نئی کمپوزنگ اور ظاہری خوبیوں کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔
شعبہ مطبوعات کی یہ ذمہ داری بھی قابلِ توجہ ہے کہ تمام کتب خصوصاً’’بیان القرآن‘‘ سیریز کی ہر نئی طباعت میں گزشتہ اشاعت میں رہ جانے والی اغلاط کی تصحیح ایک مسلسل عمل ہے۔کسی کتاب میں بھی کسی غلطی کی نشان دہی کی جائے تو اس کاریکارڈ رکھا جاتا ہے اور اگلی اشاعت میں اس کی تصحیح یقینی بنائی جاتی ہے۔ تصحیح ِعبارت اور زبان وبیان کی سلاست کے اعتبار سے ہماری کتابوں اور رسائل وجرائد کا ایک خاص معیار ہے جس کی بنا پر ہمارا ادارہ ملک کے دوسرے اشاعتی اداروں سے ایک ممتاز مقام رکھتا ہے ۔ فللّٰہ الحمد والمنّۃ!
ناظم اعلیٰ جناب حافظ عاطف وحیدنے مزید شعبہ جات کی کارگزاری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مکتبہ خدام القران کا کام الحمدللہ بہت بڑھ گیا ہے جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اب ای کامرس کے کچھ ٹولز بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ مکتبہ کی سیل کے اعداد وشمار بہت عمدہ ہیں ۔۲۰۲۲۔۲۳ءمیں دو کروڑ ۷۶ لاکھ کی سیل ہوئی تھی۔ ۲۳۔۲۰۲۴ءمیں یہ بڑھ کر۳۷ ملین کو پہنچ گئی اور اب۲۴۔۲۰۲۵ء میں یہ چارکروڑ ۴۰ لاکھ ہے۔ الحمدللہ!
تعلیم و تربیت کا کام شعبہ تحقیق کے تحت ہوتا ہے‘ جس کے کئی گوشے ہیں۔ ان میں سے ایک قرآن کالج ہے۔ ۱۸۔۲۰۱۷ء میں ایک قطعہ زمین شرق پور میں خریدا گیا تھا۔ اس وقت یہ جگہ ایل ڈی اے کے تحت تھی۔ ان کے کچھ ریونیوز کے ایشوز ہوتے ہیں‘ لہٰذا ہم نے اس کے لیے این او سی کی ایک درخواست دائر کر دی۔پھر پتہ چلا کہ ایل ڈی اے اور ڈسٹرکٹ کونسل شرق پور( شیخوپورہ) کے درمیان جھگڑا چل رہا ہے اور یہ واضح نہیں ہو رہا تھا کہ کس نے این او سی جاری کرنا ہے۔ اب ہمیں یہ اطلاع ملی ہے کہ یہ علاقہ مستقلاً ضلع شیخوپورہ کی تحصیل شرق پور کے تحت ہے اور ڈسٹرکٹ آفیسر نے این او سی جاری کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری فائل پرانی ہوچکی ہے‘ لہٰذا اب نئے سرے سے درخواست دائر کرنی پڑے گی۔ہم کوششوں میں لگے ہوئے ہیں اور مختلف لوگوں سے تعاون کی درخواست بھی کی گئی ہے۔ سردست تقریباً پونے آٹھ کروڑ کے قریب ہم نے فنڈ ریزنگ کی تھی ۔ پہلے مرحلے میں ہاسٹل بلاک کا ایک فلور تعمیر کرنا ہے اور میس کی بلڈنگ بنائیں گے۔ اس کے لیے تقریباً۱۳ کروڑ کی رقم درکار ہے۔
رجوع القران کورسز پارٹ ون‘ پارٹ ٹو کا سلسلہ بھی بغیر کسی تعطل کے جاری ہے۔موجودہbatch میں۳۵ کے قریب مرد اور تقریباً۳۰ خواتین ہیں۔ شام کے اوقات میں فہم دین کورس اور تعلیم الاسلام کورس بھی چل رہے ہیں۔
خط و کتابت کورسزکے ناظم جناب آصف شیخ بہت دلچسپی اور محنت کے ساتھ اس کام کو بڑھا رہے ہیں۔اس سال تقریباً چار ہزار افراد نے رابطہ کیااور۹۴۰ افراد نے ان کورسز میں داخلہ لیا ہے۔ الحمدللہ!
شعبہ تحقیق کے تحت ’’تنظیم ڈیجیٹل لائبریری‘‘ قائم ہے۔ اس کی ویب سائٹ بھی ہے اور ایپ بھی۔ اس پر ڈاکٹر صاحب ؒ کا سارا مواد ڈیجیٹل فارم میں موجود ہے‘جسے سرچ بھی کیا جا سکتا ہے۔
حافظ احمد یارؒ کی’’ لغات و اعراب قرآن ‘‘ کو کتابی صورت میں مکتبہ الفیصل نے شائع کیا ہے ۔ ’’حافظ احمد یار ڈاٹ کام‘‘ پر ان کے مکمل دروس موجودہیں ۔
ہر اتوار کو ڈاکٹر عارف رشید درس قرآن اور ڈاکٹر رشید ارشد درس حدیث دیتے ہیں۔
اس سال بھی رمضان المبارک میں دورئہ ترجمہ قرآن منعقد ہوا ‘جس کی ذمہ داری محترم حافظ عاطف وحید نے ادا کی۔ خواتین کا شعبہ بھی الحمدللہ بہت متحرک ہے اور ان کےہفتہ وار‘ ماہانہ تعلیمی و تربیتی پروگرامز جاری ہیں ۔
ناظم بیت المال جناب عمر شکیل نے حسابات کی سمری پیش کی ۔
قرآن اکیڈمی ملتان کے ناظم جناب شکیل اسلم نے انجمن خدام القران ملتان کی کارگزاری بیان کرتے ہوئے فرمایاکہ اس وقت ملتان میں تین کیمپس کام کر رہے ہیں۔صبح اورشام کے اوقات میں کورسز چل رہے ہیں۔ اتوار کے دن بچوں کے لیے مطالعہ قرآن حکیم کی کلاس ہوتی ہے۔ مین کیمپس میں رجوع الی القرآن کورس کا پارٹ ون کروایا جا رہا ہے۔ بہاؤالدین زکریا کیمپس میں قائم شعبہ حفظ میں اس وقت۳۸ بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ مدرسہ وفاق المدارس کے ساتھ رجسٹرڈ بھی ہو چکا ہے۔ گزشتہ سال دورہ ترجمہ قرآن تینوں کیمپسز میں ہوا تھا۔ ملتان سے تقریباً۹۰ کلومیٹر دور میاں چنوں شہر میں بھی ایک قرآن اکیڈمی کی تعمیر کا کام شروع ہوا ہے۔ ڈاکٹر اسد (آئی سپیشلسٹ ) نے چار کنال اراضی وقف کی اور ڈیڑھ کروڑ کی اعانت بھی دی۔
انجمن خدام القرآن جھنگ کے رکن شوریٰ جناب ابراہیم مختار فاروقی نے ادارے کی کارگزاری بیان کرتے ہوئے فرمایاکہ دروسِ قرآن چل رہے ہیں اور ۲۵ روزہ مختصر کورسز بھی ہو رہے ہیں ۔ ماہنامہ ’’حکمت بالغہ‘‘ بھی باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے۔
انجمن خدام القرآن سرگودھا کے نمائندے جناب مہر مقبول حسین نے اپنی انجمن کی کارگزاری بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ رمضان المبارک کے دوران جامع القرآن میں دورہ ترجمہ قرآن‘ نماز تراویح اور اعتکاف کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔ ۲۰۲۴ء میں دو ’’فہم ِدین کورسز‘‘ منعقد کیے گئے‘ جن میں مجموعی طور پر ۷۳ شرکاء نے شرکت کی۔ ہفتہ وار درس ِقرآن ہر جمعہ بعد از مغرب جامع القرآن میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ روزانہ نمازِ عصر کے بعد درس حدیث کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ مکتبہ و لائبریری بھی فعال ہے۔ لوگوں کی خواہش پر محلے کی ایک مسجد میں ڈاکٹر اسرار احمدؒکے’’بیان القرآن‘‘(ترجمہ و مختصر تفسیر) کا مطالعہ شروع کیا گیا ہے۔
مرکزی انجمن کے صدر جناب ڈاکٹر عارف رشید نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ انجمن خدام القرآن کی بنیاد دروسِ قرآن حکیم ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی دعوت کو والد محترم ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے جس طرح اس شہر لاہور میں پھیلایا ہے اس کی کوئی اور مثال پیش نہیں کی جا سکتی۔ انجمن کی بنیاد مارچ ۱۹۷۲ءمیں پڑی تھی اور ایک دستاویز تیار کی گئی تھی کہ ہم اعلیٰ علمی اور عوامی سطح پر قرآن کی بات کو لوگوں کے سامنے پیش کریں گے۔ نومبر ۱۹۷۲ءمیں مزید ۱۳ افراد شامل ہوئے اور ۲۰ افراد پر مشتمل مؤسسین کا کیڈر وجود میں آیا۔ ان بیس مؤسسین میں سے اب صرف ایک ہی ہمارے سینئر ساتھی ڈاکٹر یقین صاحب حیات ہیں‘ جو خرابی صحت کی وجہ سے آج نہیں آسکے۔ گزشتہ سال کے دوران ہمارے دو محسنین ہمیں داغ مفارقت دے گئے: ایک میرے چچا وقار احمد صاحب اور دوسرے قمر سعید قریشی صاحب۔ میں بھی ۷۰ سال کی عمرپار کر چکا ہوں۔ دعا کیجیے کہ وہ کام جس کی بنیاد والد محترم نے رکھی تھی اللہ ہمیں اسے جاری رکھنے کی توفیق دے۔ آج کئی شہروں میں قرآن اکیڈمیز قائم ہو گئی ہیں‘ صرف کراچی میں پانچ اکیڈمیز موجود ہیں۔ والد محترم قرآن اکیڈمی لاہور کو تمام اکیڈمیوں کی ماں کہا کرتے تھے کہ بقیہ اکیڈمیز نے اسی کے بطن سے جنم لیا ہے۔ اگلے سال کے لیے بھی میں آپ سے تائید چاہتا ہوں کہ ہمارے جو ایکسٹرنل آڈیٹر ہیں (رحمان سرفراز رحیم اقبال رفیق چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس) جو ابتدا سے اب تک خالصتاً اعزازی طور پر یہ خدمات انجام دے رہے ہیں‘ انہی کو برقرار رکھا جائے۔ آپ تمام حضرات کا بہت شکریہ جو یہاں تشریف لائے۔ آخر میں صدر انجمن نے دعا کروائی اور پروگرام کا اختتام ہوا۔