(تذکر و تدبر) مِلاکُ التأوِیل (۴۳) - ابو جعفر احمد بن ابراہیم الغرناطی

11 /

مِلاکُ التأوِیل (۴۳)تالیف : ابوجعفر احمد بن ابراہیم بن الزبیرالغرناطی
تلخیص و ترجمانی : ڈاکٹر صہیب بن عبدالغفار حسن
سُورۃُ الْقَصَص(۲۷۸) آیت ۲۰
{وَجَآئَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَۃِ یَسْعٰی ز }
’’اور ایک آدمی شہر کے پَرلے کنارے سے دوڑتا ہوا آیا‘‘
اور سورئہ یٰسٓ میں ارشاد فرمایا:
{وَجَآئَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَۃِ رَجُلٌ یَّسْعٰی قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَ(۲۰) }
’’اور آیا شہر کے پَرلے کنارے سے ‘ ایک آدمی دوڑتا ہوا اور اُس نے کہا : اے قوم رسولوں کی پیروی کرو!‘‘
سوال یہ ہے کہ سورۃ القصص میں تو فاعل (یعنی رَجُلٌ) کا ذکر فعل کے فوراً بعد آ گیا ہے لیکن سورئہ یٰسٓمیں  مجرور (مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَۃِ) پہلے لایا گیا اور فاعل بعد میں۔ تو اس کی کیا وجہ ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ سورۃ القصص میں تو کوئی اشکال نہیں ہے ‘کیونکہ فاعل اپنی جگہ پر آیا ہے اور یہ تقاضا بھی ہے کہ فعل کے فوراً بعد فاعل کو لایا جائے اور اگر اسے بعد میں لایا گیا ہے تو اس کی کوئی خاص وجہ ہونی چاہیے‘ چاہے وہ لفظ کی بنا پر ہو یا معنی کی بنا پر۔ اور بعض دفعہ بغیر کسی وجہ کے صرف کلام کو پھیلانے کے لیے اگر فاعل کو مؤخر کیا جائے تو اسے خلافِ اولیٰ (یعنی بہتر طریق کےمخالف) شمار کیا جاتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سورئہ یٰسٓ میں اس کے مؤخر کیے جانے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے!
میرے نزدیک (اور اللہ بہتر جانتا ہے) اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ’’مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَۃِ‘‘ کو فاعل سے پہلے ذکر کرنے میں ایک انتہائی حکمت کی بات پوشیدہ ہے‘ اور وہ یہ کہ بعض دفعہ وہ لوگ جو داعی ٔاسلام کے بالکل قریب ہوتے ہیں‘ انہیں ہدایت کی توفیق نہیں ملتی‘ لیکن اس کے مقابلے میں کچھ ایسے سلیم الطبع لوگ بھی ہوتے ہیں‘ جو داعی ٔاسلام سے بہت دُور رہتے ہوئے بھی حق کی آواز پر لبیک کہہ اٹھتے ہیں‘ یعنی سبقت کی فضیلت اسی کو حاصل ہوتی ہے جسے اس کی توفیق ہوتی ہے۔
ان آیات میں کفّارِ قریش اور انصارِ مدینہ کے احوال کی طرف بھی اشارہ ہے کہ لیڈرانِ قریش نسبی لحاظ سے بھی اللہ کے رسول ﷺکے قریب تھے اور رہائش کے اعتبار سے بھی‘ لیکن انہیں ایمان لانے کی توفیق نہیں ہوئی۔ اس کے مقابلے میں انصارِ مدینہ ایک دور دراز علاقے میں ہونے کے باوجود ایما ن لانے میں سبقت لےگئے۔
اس بات کی مزید وضاحت کیے دیتے ہیں کہ سورئہ یٰسین مکی سورت ہے‘ آغاز ہی میں قومِ قریش کی طرف ان الفاظ سے اشارہ ہو گیا:
{ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اُنْذِرَ اٰبَآؤُہُمْ فَہُمْ غٰفِلُوْنَ(۶) }
’’تاکہ تم ان لوگوں کو ڈرائو کہ جن کے آباء و اَجداد کو نہیں ڈرایا گیا تھا تو پھر وہ غافل رہے۔‘‘
اور پھر بعد کی آیات جن میں بتایا گیا کہ ڈرانا ‘ نہ ڈرانا انہیں کوئی کام نہ دے گا کہ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
{ وَسَوَآئٌ عَلَیْہِمْ ئَ اَنْذَرْتَہُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْہُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۱۰) }
’’ان کے لیے سب برابر ہے کہ تم انہیں ڈرائو یا نہ ڈرائو‘ یہ ایمان لانے والے نہیں۔‘‘
تو یہ قریش کا حال بیان ہوا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
{اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّکْرَ وَخَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ ج } (آیت۱۱)
’’تم تو انہی لوگوں کو ڈراسکتے ہو جو نصیحت کی پیروی کرتے ہیں اور بن دیکھے رحمٰن سے ڈرتے ہیں۔‘‘
یعنی وہ لوگ جو چاہے دور رہتے ہوں جیسے انصارِ مدینہ‘ لیکن وہ بات کو دھیان سے سنتے بھی ہیں اور پھر اسے قبول بھی کرتے ہیں۔
اس کے بعد اگلے الفاظ کے ساتھ ایک بستی کا حال سنایا:
{وَاضْرِبْ لَہُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَۃِ } (آیت۱۳)
’’اور انہیں مثال کے طور پر ایک بستی کے لوگوں کا حال سنائو۔‘‘
یعنی ان دونوں فریقین کا حال کہ ان میں سے ایک پیغمبروں کے قریب تھے لیکن پھر بھی انکار کرتے رہے اور دوسرے وہ جو دور تھے لیکن ایمان کی دولت سے مالا مال ہوئے۔ پھر یہ بتایا کہ انہوں نے پیغمبروں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ پہلے دو رسول آئے تھے تو ان کی بات نہیں مانی ‘ پھر جب تیسرے رسول کو بھی بھیج دیا تو یہ کہہ کر ان کی بات ماننے سے بھی انکار کر دیا:
{ مَآ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَالا } (آیت۱۵) ’’تم تو ہماری طرح کے آدمی ہی تو ہو۔‘‘
بالکل ایسے ہی قریش نے بھی کہا تھا :
{مَالِ ہٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ ط } (الفرقان:۷)
’’اس رسول کو ہو کیا گیا ہے کہ وہ کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا بھی ہے۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے رسولوں کے جواب کو نقل کرتے ہوئے فرمایا:
{ رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّآ اِلَیْکُمْ لَمُرْسَلُوْنَ(۱۶) وَمَا عَلَیْنَآ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ(۱۷) }
’’ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں۔ اور ہمارے ذمے تو صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔‘‘
پھر ان لوگوں کا یہ کہنا : {اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِکُمْ ج }(آیت۱۸) ’’ہم تمہیں منحوس خیال کرتے ہیں۔‘‘اور اس سوال و جواب کے بعد بتایا گیا کہ شہر کے دور دراز کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا ۔ وہ ان لوگوں کے نہ ساتھ تھا ‘نہ ہی اس سوال وجواب کے وقت حاضر تھا‘اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اسے ہدایت بھی نصیب ہوئی‘ اور وہ انہیں اس بات کو کہنے پر قادر ہوا :{ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَ(۲۰) }’’اے میری قوم! رسولوں کی پیروی کرو۔‘‘
پھر وہ باتیں کہیں جن کا تذکرہ بعد کی آیات میں ہے۔ اس کا دور دراز سے آنا ایسے شخص کی مثال ہے کہ
بُعد ِمکانی اس کے لیے ہدایت میں رکاوٹ نہیں بنا‘ لیکن اس کے بالمقابل بستی والے قریب بھی تھے‘رسولوں سے بلاواسطہ مخاطب بھی تھے لیکن اپنے انکار پر ڈٹے رہے‘ ان کا قریب ہونا اُن کے کام نہ آیا۔چونکہ سورئہ یٰسین میں دونوں فریقین کے اس حال کو ظاہر کرنا تھا تو جار اور مجرور (یعنی ’’مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَۃِ‘‘) کو فاعل سے پہلے لایا گیا تاکہ اس بات کی اہمیت اجاگر ہو سکے کہ دیکھو دور دراز علاقے سے ایک آدمی آ کر ان کو سمجھا رہا ہے جب کہ یہ لوگ قریب ہو کر بھی راندئہ درگاہ رہے۔
یہ نکتہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے جب ہم نے سیبویہ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ شعر تحریر کیا تھا : ؎
لَتَقْرَبُنَّ قَرَبًا جلذیًّا

مَا دَامَ فِیْھِنَّ فَصیلٌ حَیًّا
’’تمہیں پانی کی تلاش میں تیز تیز بھاگنا ہو گا‘ جب تک کہ ریوڑ میں ایک اونٹ کا بچہ بھی باقی ہے۔‘‘
یہاں ’’فِیْھِنَّ‘‘ کہہ کر ضمیر کی تقدیم سےوہ زور پیدا ہوا ہے جو اس کی تاخیر سے پیدا نہ ہوتا۔ (حوالہ کے طور پر نمبر ۲۶۵‘ سورۃ المؤمنون آیت۲۴ کو دیکھا جائے۔)
سورۃ القصص کی آیت میں ایسی کسی تقدیم کی ضرورت نہ تھی‘ اس لیے وہاں فاعل کا ذکر پہلے آیا جو کہ عام طور پر کیا جاتا ہے۔ اس وضاحت کے بعد معلوم ہوا کہ ہر دو آیات اپنی اپنی جگہ پر پوری مناسبت رکھتی ہیں۔ واللہ اعلم!
(۲۷۹) آیت۶۰
{وَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْ ئٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَزِیْنَتُہَاج وَمَا عِنْدَ اللہِ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی ط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۶۰) }
’’اور جو کچھ تمہیں عطا کیا گیا ہے تو یہ دنیوی زندگی کا ساز و سامان اور اس کی زینت ہے‘ اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر بھی ہے اور باقی رہنے والی بھی ہے ۔تو کیا تم سمجھ نہیں پا رہے ؟‘‘
اور سورۃ الشوریٰ میں ارشاد فرمایا:
{ فَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْ ئٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج وَمَا عِنْدَ اللہِ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ (۳۶)}
’’تو جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کا ساز و سامان ہے ‘او رجو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر بھی ہے اور باقی رہنے والا بھی ہے ایمان والوں کے لیے‘ اور وہ جو اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں۔‘‘
سوال یہ ہے کہ پہلی آیت میں ’’زِیْنَتُہَا‘‘ کا اضافہ ہے‘ اور آیت کے آخر میں ’’اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ‘‘ کہا گیا ہے۔ دوسری آیت میں ’’زِیْنَتُہَا‘‘ کا لفظ ساقط ہے اور آیت ’’لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ‘‘ پر ختم کی گئی ہے توا س کا کیا سبب ہے؟
پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ سورۃ القصص میں قارون کا قصہ بیان کیا گیا ہے اور اس کی مال و دولت جو کہ اس کے لیے زینت بن چکی تھی‘ کا تذکرہ کیا گیا ہے‘ فرمایا:
{ وَاٰتَیْنٰہُ مِنَ الْکُنُوْزِ مَآ اِنَّ مَفَاتِحَہٗ لَتَنُوْٓءُا بِالْعُصْبَۃِ اُولِی الْقُوَّۃِ ق } (آیت۷۶)
’’اور ہم نے اسے خزانوں میں سے اتنا کچھ دیا تھا کہ کئی طاقتور لوگ اس کی کنجیاں بمشکل اٹھا سکتے تھے۔‘‘
اس کے بعد پھر اس کے غرور‘ تکبر اور مال کی نمائش کا ذکر کیا اور اس کے اس خیال کا بھی کہ یہ سب اس کا حق تھا۔ فرمایا: {فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ فِیْ زِیْنَتِہٖ ط}(آیت۷۹) ’’پھر وہ اپنی تمام زیبائش اور آرائش کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا۔‘‘یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے جو کہ اپنی آخرت سے غافل تھے اور نہیں جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنوـں کے لیے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے‘ یہ الفاظ تک کہہ دیے :{یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ قَارُوْنُ} (آیت۷۹) ’’اے کاش! ہمارے پاس بھی وہ سب کچھ ہوتا جو قارون کے پاس ہے!‘‘
یہاں اللہ تعالیٰ نے وہ کچھ بیان کر دیا جو مؤمنوں کے لیے باعث ِعبرت ہو‘ غافلوں کے لیے باعث ِتنبیہ ہو اور ان خوش قسمت لوگوں کے لیے باعث ِسلامتی ہو جو اس آزمائش سے محفوظ رہے جس میں قارون کو مبتلا کیا گیا تھا۔ یعنی وہ آیت جس کا ذکر پہلے آ چکا ہے کہ یہ جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے وہ صرف اس دنیاوی زندگی کا ساز و سامان ہے اور دنیا کی زیبائش و آرائش ہے‘ لیکن تمہارے لیے جو کچھ آخرت میں تیار کیا گیا ہے وہ بہتر بھی ہے اور باقی رہنے والا بھی ہے۔ کئی دوسری جگہوں پر یہ بھی بتایا کہ دنیا ایک دھوکا ہے‘ اور آخرت ہی دارِ قرارہے۔ پھر جب ان تمام تنبیہات کے بعد قارون کا قصہ ذکر کیا گیا تو اس عارضی دنیا کی ‘قصہ قارون کے ذریعے پوری تصویر کشی ہو گئی۔ اس کا قوم کے سامنے اپنی پوری زینت کے ساتھ نکلنا اس تصویر کو مکمل کر دیتا ہے ‘ اور پھر کون ہے جواس عارضی زینت و نمائش پر فریفتہ ہو کر ہلاک ہونا چاہے گااور کون ہے جو اللہ تعالیٰ کے موعود انعام کی طرف لپکے گا؟ یوں اس آیت میں ’’زینت‘‘ کا ذکر کرنا بالکل مناسب تھا۔
سورۃ الشوریٰ میں ’’زینت‘‘ کا ذکر نہیں آیا تو وہاں دنیوی زندگی کے ساتھ ’’زینت‘‘ کا اضافہ بھی نہیں کیا گیا۔ ساری سورت میں کسی ایک خاص شخص کی دنیوی زندگی کو موضوع نہیں بنایا گیا بلکہ عمومی طور پر دنیوی زندگی کے حقیر ہونے ‘ یہاں کے رزق کے محدود ہونے بلکہ بعض حالات میں تنگ ہونے کا عندیہ دیا گیا جو کہ اکثر لوگوں کا حال ہے۔ فرمایا:
{وَلَوْ بَسَطَ اللہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَلٰکِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآئُ ط }(الشوریٰ:۲۷)
’’اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق میں فراخی عطا کر دیتا تو وہ زمین میں سرکشی اختیار کر لیتے لیکن وہ اندازے کے مطابق رزق کو اتارتا ہے جیسے چاہتا ہے ۔‘‘
اور جو لوگ دنیا کو پسند کرتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا:
{ مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَۃِ نَزِدْ لَہٗ فِیْ حَرْثِہٖ ج وَمَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِہٖ مِنْہَا وَمَا لَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ نَّصِیْبٍ(۲۰)}(الشوریٰ)
’’اور جو شخص آخرت کی کھیتی کو چاہتا ہے تو ہم اس کی کھیتی کو بڑھاتے ہیں‘ اور جو شخص صرف دنیا کی کھیتی چاہتا ہے تو ہم اسے اس میں سے دے دیتے ہیں ‘لیکن آخرت میں اسے کوئی حصہ نہیں ملتا۔‘‘
’’مِنْھَا‘‘ کہہ کر اشارہ کردیا کہ اس میں سے کچھ دیا جاتا ہے۔ چونکہ یہاں زینت ِمال کا کوئی تذکرہ نہیں تھا اس لیے زینت کے لفظ کا لانا مناسب نہ تھا ‘واللہ اعلم!
دوسرے سوال میں پوچھا گیا ہے کہ سورۃ القصص کی آیت کے اختتام پر ’’اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ‘‘ کہا گیا ہے اور سورۃ الشوریٰ کی آیت میں اہل ایمان کا تذکرہ ہے ۔
جواباً ہم عرض کریں گے کہ سورۃ القصص میں یہ کہا گیا کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے اور باقی رہنے والا بھی ہے‘ تو اس کے بعد جب یہ کہا گیا: {اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ } ’’کیا تم سمجھتے نہیں ہو‘‘تو اس کے فوراً بعد یہ آیت لائی گئی :
{اَفَمَنْ وَّعَدْنٰہُ وَعْدًا حَسَنًا فَہُوَ لَاقِیْہِ کَمَنْ مَّتَّعْنٰہُ مَتَاعَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ثُمَّ ہُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ(۶۱) }(القصص)
’’کیا وہ شخص کہ جس سے ہم نے ایک اچھا وعدہ کیا ہے اور جو اسے ملنے والا ہے ‘ تو وہ ایسے شخص جیسا ہوسکتاہے جسے ہم نے دُنیوی زندگی کے ساز و سامان سے نواز دیا اور پھر وہ قیامت کے دن (پکڑا باندھا) حاضر کیا جائے گا۔‘‘
تو یہاں ’’اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ‘‘ کہہ کر توجہ دلائی گئی تھی کہ دونوں حالتوں پر غور کیوں نہیں کرتے۔ ایمان والوں کے حال پر جن کے لیے دائمی خیر ہی خیر ہے اور قارون جیسے دنیادار لوگوں پر جو دنیوی زندگی پر قناعت کر گئے اور آخرت میں مجرموں کی طرح لائے جائیں گے۔
اب آیئے سورۃ الشوریٰ کی مذکورہ آیت کی طرف اور اس سے قبل کی آیات ملاحظہ کیجیے‘ ہم ان آیات کی طرف اشارہ کیے دیتے ہیں:
{وَتُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْہِ ط فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّۃِ وَفَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ(۷)}
’’اور انہیں یومِ محشر سے ڈرائو کہ جس میں کوئی شک نہیں۔ وہاں ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ جہنم میں ہوگا ۔‘‘
{شَرَعَ لَـکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا.....}(آیت۱۳)
’’اور اللہ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کی وصیت نوحؑ کو کی تھی ......‘‘
اور پھر آیت ۱۵ تک پڑھتے جایئے جہاں فرمایا:
{ فَلِذٰلِکَ فَادْعُ ج  وَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ ج }(آیت۱۵)
’’تو اسی لیے انہیں (اللہ کی طرف) بلاتے رہیں اور جیسے حکم دیا گیا ‘ مضبوطی سے (دین پر) قائم رہیں۔‘‘
پھر ارشاد فرمایا:
{ اَلَآ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَۃِ لَفِیْ ضَلٰلٍ  بَعِیْدٍ (۱۸)}
’’یاد رکھو! جو لوگ قیامت کےبارے میں لڑ جھگڑ رہے ہیں وہ دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔‘‘
آگے فرمایا:
{تَرَی الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا کَسَبُوْا وَہُوَ وَاقِعٌ   بِہِمْ ط }(آیت۲۲)
’’ تم دیکھو گے کہ ظالم اپنےاعمال سے خوف زدہ ہیں اور (جس کا نتیجہ) ان پر پڑنے والا ہے۔‘‘
اور پھر واضح کر دیا:
{وَمَا لَـکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ(۳۱)}
’’ اور تمہارے لیے اللہ کو چھوڑ کر نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار۔‘‘
یہاں جو کچھ منکرین خالق ارض و سماء کو کہا گیا اور جیسے جیسے انہیں ڈرایا گیا تو مناسب تھا کہ اللہ کی جزائے حسنیٰ کے ذکر کے ساتھ ذکر کر دیا جاتا کہ یہ سب کچھ نعمتیں ایمان والوں کے لیے ہیں جو اپنے ربّ پر بھروسا کرتے ہیں‘ یعنی وہ اہل ایمان جو ان سب باتوں کی تصدیق کرتے ہیں‘ جانتے ہیں کہ اللہ ہی خالق ہے‘ وہی حکم دینے والا ہے تو پھر اسی پر بھروسا کرنا چاہیے۔ یوںواضح ہو گیا کہ ہر دو آیات کا آخری حصہ اپنی اپنی جگہ انتہائی مناسبت رکھتا ہے۔ واللہ اعلم!
(۲۸۰) آیت ۷۱
{قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللہُ عَلَیْکُمُ الَّـیْلَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَنْ اِلٰــہٌ غَیْرُ اللہِ یَاْتِیْکُمْ بِضِیَآئٍ ط اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ(۷۱) }
’’کہہ دیجیے: کیا تم نے دیکھا کہ اگر اللہ قیامت تک تمہارے اوپر رات ہی کو رہنے دے تو سوائے اللہ کے کوئی (دوسرا) معبود تمہارے لیے روشنی لا سکے گا؟ کیا تم سنتے نہیں ہو!‘‘
اور اس کے بعد اگلی آیت میں ارشاد فرمایا:
{قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللہُ عَلَیْکُمُ النَّہَارَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَنْ اِلٰــہٌ غَیْرُ اللہِ یَاْتِیْکُمْ بِلَیْلٍ تَسْکُنُوْنَ فِیْہِ ط اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ(۷۲)}
’’کہہ دیجیے: کیا تم نے دیکھا کہ اگر اللہ قیامت تک تمہارے اوپر دن ہی کو رہنے دے تو سوائے اللہ کے کیا کوئی (دوسرا) معبود تمہارے لیے رات لا سکے گا جس میں تم سکون پا سکو؟ کیا تم دیکھتے نہیں ہو!!‘‘
یہاں سوال کرنے والا یہ سوال کر سکتا ہے کہ رات کو پہلے ذکر کیا اور دن کو بعد میں‘اور دوسرا یہ کہ پہلی آیت کا اختتام ’’اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ‘‘ پر ہو رہا ہے اور دوسری آیت کا ’’اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ‘‘ پر‘ تو اس کی کیا وجہ ہے؟
پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ رات کا ذکر دن سے پہلے آنا عربوں کی روایت کے مطابق ہے۔وہ مہینوں کا حساب کرتے وقت رات کا ذکر پہلے کرتے تھے اور دن کو اس کے تابع شمار کرتے تھے۔ کتاب اللہ میں بھی جہاں کہیں رات دن کا ذکر کیا گیا ہے‘ ایسا ہی آیا ہے۔
دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ را ت کے ذکر کے بعد سماعت کا ذکر کرنا اس لیے مناسب تھا کہ رات کو اندھیرے کی بنا پر بصارت کام نہیں کرتی ہےلیکن سماعت کا عمل جاری رہتا ہے ‘اسی لیے ’’اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ‘‘ کہا گیا۔ اس کے مقابلے میں جب دن کا ذکر آیا تو دیکھے جانے کا ذکر کیا‘ یعنی رات کے مقابلے میں ‘ کہ چیزیں رات کو دکھائی نہیں دیتیں بلکہ دن کو دکھائی دیتی ہیں۔ اس لحاظ سے دونوں آیات کا اختتام اپنی اپنی جگہ پوری مناسبت رکھتا ہے‘ واللہ اعلم!
سُورۃُ الْعَنْکَبُوت

(۲۸۱) آیت۸
{وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حُسْنًاط وَاِنْ جَاہَدٰکَ لِتُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْہُمَاط  اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۸) }
’’اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کی ہے۔ اور اگر وہ تمہیں مجبور کریں کہ تم میرے ساتھ ایسا کوئی شریک ٹھہرائو کہ جس کا تمہیں کوئی علم نہیں تو پھر ان کی بات نہ مانو۔ میری طرف ہی تمہیں لوٹ کر آنا ہے تو پھر میں تمہیں بتائوں گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے تھے۔‘‘
اور سورئہ لقمان میں ارشاد فرمایا:
{وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ ج حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَہْنًا عَلٰی وَہْنٍ وَّفِصٰلُہٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْکُرْ لِیْ وَلِوَالِدَیْکَ ط  اِلَیَّ الْمَصِیْرُ(۱۴) وَاِنْ جَاہَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ لا  فَلَا تُطِعْہُمَا وَصَاحِبْہُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًاز وَّاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ج ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۱۵) }
’’اور ہم نے انسان کو اُس کے والدین کے بارے میں وصیت کی۔ اس کی ماں نے حمل کے ایام کمزوری درکمزوری کے ساتھ گزارے‘ اور اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں جا کر پورا ہوا‘ تو پھر میرا شکریہ ادا کر اور اپنے والدین کا بھی‘ کہ میرے پاس ہی آ پہنچنا ہے۔ اور اگر وہ تجھے مجبور کریں کہ تُو میرے ساتھ کوئی شریک ٹھہرائے کہ جس کا تجھے کوئی علم نہ ہو تو ان کی بات نہ مان‘ لیکن دنیا میں ان کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھ‘ اور پیروی اُس کی کر جو میری طرف جھکتا ہو۔ پھر تم سب نے میری طرف ہی لوٹنا ہے تو میں تمہیں بتائوں گا وہ سب کچھ جو تم کیا کرتے تھے۔‘‘
اور پھر سورۃ الاحقاف میں ارشاد فرمایا:
{وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ اِحْسٰنًاط حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ کُرْہًا وَّوَضَعَتْہُ کُرْہًاط وَحَمْلُہٗ وَفِصٰلُہٗ ثَلٰثُوْنَ شَہْرًاط حَتّٰٓی اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَبَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً لا قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْٓ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىہُ وَاَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ ط اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْکَ وَاِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ(۱۵) }
’’اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت کی۔ اس کی ماں نے تکلیف کے ساتھ حمل کے ایام گزارے اور تکلیف کے ساتھ ہی اسے جنا۔ اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے کا عرصہ تیس ماہ تک دراز ہوتا چلا گیا ۔یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری قوت کو پہنچتا ہے اور چالیس برس کا ہو جاتا ہے‘ وہ کہتا ہے: اے میرے پروردگار! مجھے توفیق دے کہ مَیں شکر کرسکوں تیرے انعامات کا جو تُو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائے‘ اور یہ کہ مَیں ایسے ا عمال کروں جنہیں تُو پسند کرے‘ اور میرے لیے میری اولاد میں بھی اصلاح فرما دے۔ یقیناًمَیں تیری جناب میں توبہ کرتا ہوں اور یقیناً مَیں (تیرے) فرماںبرداروں میں سے ہوں۔‘‘
ان تینوں سورتوں میں والدین کے حقوق اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا۔ مضمون ایک ہی ہے لیکن الفاظ میں کہیں کہیں اختلاف واقع ہوا ہے اور اس لحاظ سے یہاں نو سوالات جنم لیتے ہیں:
(۱) سورۃ العنکبوت اور سورۃ الاحقاف میں ’’حُسْنًا‘‘ اور ’’اِحْسٰنًا‘‘ کے الفاظ آئے ہیں جو کہ سورئہ لقمان میں  نہیں لائےگئے۔
(۲) سورۃ العنکبوت اور سورئہ لقمان میں کہا گیا کہ اگر وہ شرک کرنے کا مطالبہ کریں تو ان کی بات کو نہ مانو‘ جبکہ سورۃ الاحقاف میں ایسا کوئی ذکر نہیں ہے۔
(۳) سورۃ العنکبوت میں {لِتُشْرِکَ بِیْ} اور سورئہ لقمان میں {عَلٰی اَنْ تُشْرِکَ} کے الفاظ ہیں‘ یعنی لام اور عَلٰی کا اختلاف ہے۔
(۴) سورئہ لقمان میں {وَصَاحِبْہُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا} کا اضافہ ہے جو باقی دونوں سورتوں میں نہیں ہے۔
(۵) سورئہ لقمان میں {حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَہْنًا عَلٰی وَہْنٍ} ہے اور سورۃ الاحقاف میں {حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ کُرْہًا وَّوَضَعَتْہُ کُرْہًا } کےالفاظ ہیں۔
(۶) سورئہ لقمان میں {وَفِصٰلُہٗ فِیْ عَامَیْنِ} لایا گیا اور سورۃ الاحقاف میں {وَحَمْلُہٗ وَفِصٰلُہٗ ثَلٰثُوْنَ شَہْرًا} کہا گیا۔
(۷) سورئہ لقمان اورسورۃ الاحقاف میں ’’اُمُّہٗ ‘‘ کہہ کر ماں کا خصوصی ذکر کیا گیا لیکن سورۃ العنکبوت میں عمومی طور پر ’’والدین‘‘ کا ذکر ہے۔
(۸) سورۃ العنکبوت اور لقمان میں اللہ کی طرف لوٹنے کا ذکر ہے‘لیکن سورۃ الاحقاف میں ایسا نہیں ہے۔
(۹) ہر سورت میں جو الفاظ آئے ہیں‘ وہ اسی سورت سے کیسے کیسے مناسبت رکھتے ہیں؟اگرچہ اس کا جواب پچھلے تمام سوالوں کے جواب میں ضمناً آجانا چاہیے۔
پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ سورۃ العنکبوت کی وصیت حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قصے پر مبنی ہے۔ ان کی والدہ نے قسم کھائی تھی کہ نہ وہ کھائیں گی‘ نہ پئیں گی‘ نہ سائے میں بیٹھیں گی‘ جب تک کہ سعد دین اسلام کو چھوڑ کر اپنے پرانے دین میں واپس نہ آ جائے۔یہ قصہ چونکہ مشہور تھا اس لیے یہاں اتنی تنبیہہ کر دی گئی کہ ان کے ساتھ حسنِ سلو ک کرتے رہو جب تک وہ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک تم سے اللہ کے ساتھ شرک کرنے کا مطالبہ نہ کرے۔ چونکہ یہ حکم ایک عمومی نوعیت کا ہے‘ اس کا تعلق ماں باپ میں سے کسی ایک کے ساتھ خاص نہیں ہے‘ اس لیے ان میں سے کسی ایک کے خصوصی تذکرے کی حاجت نہ تھی‘ تو یہاں حسنِ سلوک کے لیے صرف ’’حُسْنًا‘‘ پر اکتفا کیا گیا۔ نحوی اعتبار سے ’’حُسْنًا‘‘ حال کی بنا پر منصوب ہے۔ سیبویہ نے یہ بات کہی ہے کہ اگر مصدر محذوف ہو اورصرف صفت لائی گئی ہو تو اسے حال سمجھا جائے گا اور اس لحاظ سے وہ منصوب ہو گا۔سورۃ الاحقاف میں چونکہ آیات میں کچھ طوالت ہے تو ’’اِحْسَانًا‘‘ کا لفظ لایا گیا جس کی مزید تشریح ساتویں سوال کے ضمن میں آجائےگی۔
دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ سورۃ العنکبوت کا آغاز ہی فتنے بمعنی ابتلاء (آزمائش)سے کیا گیا ہے‘ اور یہ ابتلاء اسلام لانے پر مشرکین کی طرف سے مسلمانوں پر مسلط کیا جاتا ہے۔جبکہ سورۃ لقمان میں تو ان آیات سے قبل حضرت لقمان کی اپنی بیٹے کو نصیحت کے ضمن میں شرک سے بچنے کا ذکر صراحتاً آ چکا تھا۔ فرمایا:
{ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِکْ بِاللہِ ط اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ(۱۳) }
’’اے میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹھہرا‘ بے شک شرک ایک ظلم عظیم ہے۔‘‘
لیکن سورۃ الاحقاف میں خطاب اہل ِایمان کی طرف ہے‘ جہاں شرک کا کوئی دخل نہیں ہے۔ فرمایا:
{رَبِّ اَوْزِعْنِیْٓ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىہُ وَاَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ ط  اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْکَ وَاِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ(۱۵) }
’’اے میرے ربّ! مجھے اس بات کی توفیق عطا کر کہ مَیں تیری اس نعمت کا شکریہ ادا کرتا رہوں جو تُو نے مجھ پر اور میرے والدین پر نچھاور کی ہے‘ اور یہ کہ مَیں وہ نیک اعمال کرتا رہوں جس سے تُو راضی ہے‘ اور (اے اللہ!) میری اولاد کو اصلاح (نیکی) کی توفیق عنایت کر۔مَیں تیری ہی طرف لوٹتا ہوں اور (اقرار کرتا ہوں کہ) یقیناًمَیں مسلمانوں میں سے ہوں۔‘‘
تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ مضمون سورۃ العنکبوت میں اختصار کے ساتھ بیان ہوا ہے‘ اس لیے ’’لِتُشْرِکَ بِیْ‘‘ (یعنی تُشْرِکَ سے پہلے صرف لام لایا گیا )اور چونکہ سورئہ لقمان میں یہ مضمون تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے اس لیے وہاں ’’تُشْرِکَ بِیْ‘‘  سے قبل ’’عَلٰی‘‘ (سہ حرفی کلمہ) لانا مناسب تھا۔
چوتھا سوال کہ صرف آیت سورئہ لقمان میں {وَصَاحِبْہُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا}کے الفاظ لائے گئے ہیں جو کہ باقی دونوں سورتوں میں نہیں لائے گئے ‘ تو اس کا جواب یہ ہے کہ سورئہ لقمان میں عمومی حکم دیا گیا ہے کہ والدین کے ساتھ نرمی کے ساتھ پیش آئو اور ان کے پورے حقوق ادا کرتے رہو ‘اِلا یہ کہ وہ معصیت پر مجبور کریں‘ اور اس لحاظ سے کہا کہ ’’دنیا میں ان کے ساتھ اچھائی سے پیش آتے رہو‘‘۔ لیکن سورۃ العنکبوت کے پس منظر میں وہ بات مضمر ہے جس کا تذکرہ پہلے آ چکا ہے کہ والدین کی طرف سے (یا ان میں سے کسی ایک کی طرف سے) دوبارہ کفر اور شرک کی طرف لوٹنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا‘ اور ظاہر ہے کہ اس بات کی کسی طرح اجازت نہیں دی جا سکتی‘ نہ ظاہری طور پر اور نہ ہی باطنی طور پر‘ اور یہ وہ صورت حال نہیں ہے کہ اپنی جان بچانے کے لیے صرف ظاہری طور پر کلمہ کفر کہہ دیا جائے کہ جس کی سورۃ النحل کی اس آیت میں اجازت دی گئی ہے: {اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَقَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّ بِالْاِیْمَانِ }(آیت۱۰۶) یعنی ا س کی اجازت صرف اُس شخص کے لیے ہے ’’جو اس پر مجبور کیا جائے مگر اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو۔‘‘ لیکن یہاں صورتِ حال مختلف ہے کہ کفر اور شرک اختیار کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ظاہری اور باطنی دونوں طرح‘ تو یہاں{ وَصَاحِبْہُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا} کہنے کا کوئی جواز نہ تھا۔
دوسری طرف سورۃ الاحقاف کی آیت کا مخاطب تو ایک مردِ مؤمن ہے جسے والدین کے بارے میں وصیت کی جا رہی ہے اور ایک مؤمن شخص خوب جانتا ہے کہ والدین کے کیا حقوق ہیں‘ بلکہ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ سورئہ لقمان میں جو حقوق بیان ہوئے ہیں‘ اس سے بھی زیادہ ایک مسلمان کے لیے مطلوب ہیں۔
پانچواں سوال یعنی سورئہ لقمان میں ماں کے بارے میں {وَہْنًا عَلٰی وَہْنٍ} کے الفاظ ہیں اور سورۃ الاحقاف میں {حَمَلَتْہُ کُرْہًا وَّوَضَعَتْہُ کُرْہًا } کے الفاظ لائے گئے ہیں تو جواباً عرض ہے کہ یہاں کوئی تعارض نہیں پایا جاتا۔پہلی آیت میں بزبانِ حمل کمزوری کے اوپر کمزوری کا ذکر ہے اور دوسری آیت میں بتایا گیا ہے کہ حمل اور وضع حمل دونوں میں شدید مشقت پائی جاتی ہے جو بہرصورت ناپسندیدہ ہے ‘لیکن اس سے مفرنہیں ہے۔
چھٹے سوال کے جواب میں ہم کہیں گے کہ یہاں حمل اور رضاعت کی مدّت کا بیان ہو رہا ہے‘ اس لیے یہاں بھی کوئی تعارض نہیں ہے۔ حمل کی اپنی مدت ہے اور رضاعت کی اپنی۔ سورئہ لقمان میں رضاعت کی کل مدّت دو سال ذکر کی گئی ہے اور سورۃ الاحقاف میں حمل اور رضاعت دونوں کی مدّت تیس مہینے بتائی گئی ہے ۔
ساتویں سوال کا جواب ضمناً آ چکا ہے کہ ان دونوں سورتوں میں ’’ماں‘‘ کا خاص طور پر ذکر کیوں کیا گیا ہے۔
آٹھواں سوال کہ سورۃ العنکبوت اور سورئہ لقمان میں ’’اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ‘‘ (پھر میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے)کا اضافہ ہے جو سورۃ الاحقاف میں نہیں ہے‘ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں سورتوں میں والدین کی طرف سے شرک کے ارتکاب کے مطالبے کا ذکر ہے‘ تو ’’اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ‘‘ کہہ کر یہ واضح کر دیا گیا کہ یہ وہ صورتِ حال نہیں جس کا ذکر سورۃ النحل میں ہے‘ یعنی مجبوری کی حالت میں جان بچانے کے لیے کلمہ کفر کہہ دینا جب کہ دل ایمان سے بھرپور ہو‘اس لیے والدین کے اس ناجائز مطالبے کو نہ مانو اور یاد رکھو کہ ایک دن میرے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے کہ میں اس کے بارے میں سوال کروں گا۔ چونکہ سورۃ الاحقاف اہل ایمان کے بارے میں ہے کہ جو یہ جانتے ہیں کہ ربّ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے تو یہاں اس کی یاد دہانی کی ضرورت نہ تھی۔
نویں سوال کاجواب پچھلی تمام باتوں سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ ہر سورت کا پس منظر مختلف ہے۔ سورۃ العنکبوت‘ سعد بن ابی وقاصؓ کے قصے کے تناظر میں ملاحظہ کی جائے۔ سورئہ لقمان میں لقمان حکیم کی اپنے بیٹے کو وصیت کا آغاز ہی شرک کی تردید سے ہوتا ہے:
{وَاِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِہٖ وَہُوَ یَعِظُہٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِکْ بِاللہِ ط اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ(۱۳) }
’’اور جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا اور وہ اسے نصیحت کررہے تھے: اے میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹھہرانا۔ بے شک شرک ایک بہت بڑا ظلم ہے۔‘‘
اور سورۃ الاحقاف کے بارے میں باربار بیان ہو چکا کہ وہاں مخاطب اہل ایمان ہیں اور اس پس منظر کی روشنی میں ہر سہ آیات‘ اپنی اپنی جگہ پوری مناسبت رکھتی ہیں ‘واللہ اعلم!
(۲۸۲) آیت۲۲
{وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآئِ ز وَمَا لَــکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ(۲۲)}
’’اورنہ تم زمین میں اللہ کو عاجز کر سکتے ہو اور نہ آسمان میں‘ اور نہ ہی اللہ کے سوا تمہارا کوئی دوست ہے اور
نہ مددگار۔‘‘
اور سورۃ الشوریٰ میں ارشاد فرمایا:
{ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ ج وَمَا لَـکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ(۳۱)}
’’اور تم اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کر سکتے ‘اور نہ ہی اللہ کے سوا تمہارا کوئی دوست ہے نہ مددگار۔‘‘
یہاں ایک ہی سوال ہے کہ سورۃ العنکبوت میں ’’وَلَا فِی السَّمَآئِ‘‘ کا اضافہ ہے ‘ جو کہ سورۃ الشوریٰ میں نہیں ہے تو اس کی کیا توجیہہ ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ آیت ۴میں اس سے قبل ایک شدید وعید آ چکی ہے‘ فرمایا:
{ اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَاط }
’’کیا ان لوگوں نے جو بُرائی کرتے ہیں یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بھاگ کر ہم سے آگے نکل جائیں گے!‘‘
یعنی وہ یہ گمان نہ رکھیں کہ وہ ہمارے قابو سے باہر جا سکتے ہیں۔ مناسب تھا کہ یہ کہا جاتاکہ زمین ہو یا آسمان‘ تم کہیں بھی اللہ سے بے قابو نہیں ہو سکتے۔ اسے مزید وضاحت کے ساتھ یوں بیان کیا:
{اَیْنَ مَا تَـکُوْنُوْا یَاْتِ بِکُمُ اللہُ جَمِیْعًاط } (البقرۃ:۱۴۸)
’’تم جہاں کہیں بھی ہو‘ اللہ تم سب کو لے آئے گا۔‘‘
اس کے مقابلے میں سورۃ الشوریٰ میں ایسی کوئی وعید نہیں دی گئی تھی کہ اُسے مزید تاکید سے بیان کیا جاتا۔ اس لیے صرف اتنا کہنا کافی تھا کہ تم اللہ کو زمین میں عاجز نہ کر پائو گے۔ واللہ اعلم!
(۲۸۳) آیت۲۴
{ فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْہُ اَوْ حَرِّقُوْہُ فَاَنْجٰىہُ اللہُ مِنَ النَّارِط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ(۲۴) }
’’تو اُس کی قوم کا جواب بجز اس کے کچھ نہ تھا کہ اسے قتل کر دو یا جلا دو‘ تو اللہ نے اسے آگ سے نجات دی۔ اس میں بے شک نشانیاں ہیں اس قوم کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔‘‘
اور پھر آیت۴۴ میں ارشاد فرمایا:
{خَلَقَ اللہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ط  اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ(۴۴)}
’’اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے‘ بے شک اس میں مؤمنوں کے لیے ایک نشانی ہے۔‘‘
سوال یہ ہے کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنا تو ایک عظیم الشان کام ہے‘ فرمایا:
{لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ } (غافر:۵۷)
’’آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے بڑا (عمل) ہے۔‘‘
تو یہاں ’’اٰیَۃً‘‘ (ایک نشانی) لایا گیا اور پچھلی آیت میں جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ سے نجات دینے کا تذکرہ کیا گیا ہے‘ وہاں ’’اٰیٰت‘‘ (نشانیاں) صیغہ جمع کے ساتھ لایا گیا ‘تو اس کی کیا وجہ ہے؟
اس کا جواب یہ ہے (ـواللہ اعلم) کہ پہلی آیت میں جہاں ’’اٰیٰت‘‘ بصیغۃ الجمع لایا گیا وہاں صرف ایک بات بیان نہیں ہوئی ہے بلکہ قصہ ابراہیمؑ اور آگ سے بچائے جانے کا واقعہ بیان ہوا اور اس سے قبل کئی عبرت کی باتوں کا بیان ہوا ‘جیسے حضرت نوح علیہ السلام کا اپنی قوم میں نوسو پچاس برس پیغامِ دعوت دینا‘ انہیں اللہ کی نشانیاں دکھانا‘ ان پر بہت کم لوگوں کا ایمان لانا ‘پھر طوفان کا ان سب کفّار کو اپنی لپیٹ میں لے لینا‘ زمین کے تمام لوگوں کا اس میں غرق ہونا‘ صرف کشتی والوں کا بچایا جانا اور اسے تمام جہانوں کے لیے ایک نشانی بنایا جانا‘ اور اس کے علاوہ پچھلی قوموں کے واقعات سے عبرت پکڑنے کا تذکرہ۔ فرمایا:
{وَاِنْ تُکَذِّبُوْا فَقَدْکَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِکُمْ ط}(آیت۱۸)
’’اور اگر تم جھٹلاتے ہو تو تم سے قبل بھی کئی اُمتوں نے جھٹلایا تھا۔‘‘
ایسے ہی ابراہیم علیہ السلام کا اپنی قوم کو دعوتِ حق دینا‘ معبودانِ باطلہ کے عجز پر دلائل دینا (آیات ۱۶۔ ۱۷) اور آخر میں یہ کہ مزید غور و خوض کا مطالبہ کرنا:
{ اَوَلَمْ یَرَوْا کَیْفَ یُبْدِیُٔ اللہُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ ط }(آیت۱۹)
’’کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ کس طرح مخلوق کو شروع میں پیدا کرتا ہے ‘ پھر وہ اس کا اعادہ بھی کرے گا۔‘‘
اب اتنا کچھ بیان ہوا تو اس کی مناسبت سے ’’اٰیٰت‘‘ بصیغۃ الجمع لانا بالکل مناسب تھا۔
اب رہی دوسری آیت جس میں صرف ’’اٰیَۃ ‘‘لایا گیا وہاں {خَلَقَ اللہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ط} کہا گیا تھا تو یہاں ایک چیز یعنی مصدر ’’خلق‘‘ کا بیان ہوا ہے‘ گو فعل ’’خَلَقَ‘‘ لایا گیا لیکن مراد اس سے خود عمل خَلْق (پیدائش) ہے کہ جس کی طرف یہ کہہ کر اشارہ کیا گیا: ’’اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ‘‘۔یہ ایسے ہی ہے جیسے سورۃ المائدۃ میں کہا گیا:{ اِعْدِلُوْاقف ہُوَ اَقْرَبُ لِلتَّـقْوٰیز }(آیت۸)’’انصاف کرو‘ وہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔‘‘تو ’’ھُوَ‘‘ کی ضمیر ’’اِعْدِلُوْا‘‘ کے مصدر ’’عَدْل‘‘ کی طرف اشارہ کررہی ہے ۔کلامِ عرب میں ضمیر اور اسمِ اشارہ دونوں میں یہ طرزِ بیان معروف و مشہور ہے ۔ اس لیے یہاں کوئی اشکال نہیں ہے۔ واللہ اعلم!
(۲۸۴) آیات ۴۷ تا ۴۹
{وَمَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَآ اِلَّا الْکٰفِرُوْنَ(۴۷)}’’اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر کفّار۔‘‘
{وَمَا کُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِہٖ مِنْ کِتٰبٍ وَّلَا تَخُطُّہٗ بِیَمِیْنِکَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ(۴۸)}
’’اور اس سے قبل آپ تو کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے اور نہ ہی کسی کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے (اور اگر ایسا ہوتا تو) یہ باطل پرست لوگ شک میں پڑ جاتے ۔‘‘
{بَلْ ہُوَ اٰیٰتٌم بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ ط وَمَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَآ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ(۴۹) }
’’بلکہ وہ تو کھلی کھلی آیات ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جن کو علم دیا گیا ۔اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے سوائے ظالم لوگ۔‘‘
یہاں سوال کرنے والا یہ سوال کر سکتا ہے کہ انکار کرنے والوں کو پہلے ’’کافر‘‘ کا لقب دیا گیا اور پھر آخر میں انہیں ’’ظالم‘‘ کہا گیا۔ چونکہ ظلم کا اطلاق کفر اور وہ اعمال جو کفر سے کم تر درجے کے ہوں‘ دونوں پر ہوتا ہے تو یہ خیال آ سکتا ہے کہ مناسب تھا اگر پہلے ظلم کا تذکرہ ہوتا اور پھر کفر کا‘ تو اس کی کیا وجہ ہے؟
جواب یہ ہے کہ یہ بات درست ہے کہ ظلم کا اطلاق کفر پر بھی ہوتا ہے اور اس سے کم تر اعمال پر بھی۔ ارشاد فرمایا:{وَالْکٰفِرُوْنَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۲۵۴)}(البقرۃ) ’’اور کافر لوگ وہی ظالم ہیں۔‘‘تو اگر پہلے کفر کا ذکر ہو اور پھر ظلم کا تو یہ سمجھانا مقصود ہوتا ہے کہ یہ شخص کفر بلکہ کفر سے زائد کا بھی مرتکب ہو رہا ہے‘ جیسے سورۃ النساء میں ارشاد فرمایا:
{اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَظَلَمُوْا لَمْ یَکُنِ اللہُ لِیَغْفِرَ لَہُمْ وَلَا لِیَہْدِیَہُمْ طَرِیْقًا(۱۶۸) اِلَّا طَرِیْقَ جَہَنَّمَ}
’’بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور ظلم کیا‘ اللہ نہ ہی ان کی مغفرت کرنے والا ہے اور نہ ہی انہیں کوئی راستہ دکھانے والا ہے‘ سوائے جہنم کے راستہ کے۔‘‘
تو قرآن میں کفر اور ظلم اس ترتیب سے بھی بیان ہوئے ہیں اور اس لحاظ سے یہاں کوئی اشکال نہیں۔
(۲۸۵) آیت۶۱
{وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَلَیَقُوْلُنَّ اللہُ ج فَاَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ(۶۱) }
’’اور اگر تم ان سے سوال کرو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے اور سورج اور چاند کو کس نے مسخر کررکھا ہے تو وہ کہیں گے : اللہ نے!! تو پھر کہاں سے اُلٹے جانے لگتے ہیں؟‘‘
اور سورئہ لقمان میں ارشاد فرمایا:
{وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللہُ ط قُلِ الْحَمْدُ لِلہِ ط بَلْ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(۲۵) }
’’اور آپ اگر ان سے پوچھیں کہ کس نےآسمانو ں اور زمین کو پیدا کیا ہے تو وہ کہیں گے اللہ نے! کہہ دیجیے: تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے ۔‘‘
اور سورۃ الزخرف میں ارشاد ہوا :
{وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَہُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُ(۹)}
’’اور اگر تم ان سے سوال کرو کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تو وہ کہیں گے کہ انہیں ایک غالب اور دانا نے پیدا کیا ہے۔‘‘
اور سورۃ العنکبوت میں اسی نوع کی ایک دوسری آیت بھی لائی گئی۔ فرمایا:
{وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ مِنْ  بَعْدِ مَوْتِہَا لَیَقُوْلُنَّ اللہُ ط قُلِ الْحَمْدُ لِلہِ ط بَلْ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۶۳)}
’’اور اگر تم ان سے سوال کرو کہ کس نے آسمان سے پانی اتارا اور جو زمین مردہ ہو چکی تھی تو اُسے اس پانی سے زندہ کر دیا تو کہیں گے: اللہ نے! کہہ دیجیے : تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں لیکن ان میں سے اکثر عقل نہیں رکھتے۔‘‘
اب سوال یہ ہے کہ ان تمام آیات کا مضمون ایک ہی ہے لیکن ہر آیت کا آخری حصہ علیحدہ علیحدہ بتایا گیا ہے تو اس کی کیا وجہ ہے؟
جواباً عرض ہے کہ آیات کا مضمون یقیناً ایک جیسا ہے لیکن ہر آیت کا مقصود الگ الگ ہے۔ پہلی تین آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ‘ تخلیق میں اس کی انفرادیت‘ علم اور قدرت سے اس کا متصف ہونا ‘ جو عظیم تخلیق اس نے کی ہے اس کا متناسب ہونا‘ انتہائی مضبوط اور بے مثال ہونا‘ اس میں کسی خلل یا نقص کا نہ ہونا بیان کیا گیا ہے۔ یہ سب وہ حقائق ہیں کہ اگر ان مشرکین سے بھی پوچھا جائے کہ انہیں کس نے بنایا تو وہ بھی اللہ ہی کا نام لیں گے۔ جہاں تک سورۃ العنکبوت کی دوسری آیت کا تعلق ہے تو اس کا تعلق موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنے سے ہے‘ اور جو تمثیل اس آیت میں دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی نازل کرتے ہیں اور پھر اس سے ایک مُردہ زمین کو زندگی بخشتے ہیں تو ایسے ہی انسان کو بھی موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا ۔ اسے صراحت کے ساتھ سورۃ الاعراف میں بیان کیا گیا‘ جہاں ایسی ہی تمثیل کے بعد فرمایا:
{کَذٰلِکَ نُخْرِجُ الْموْتٰی لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ(۵۷) }
’’اور ایسے ہی ہم مُردوں کو بھی نکالیں گے ‘ شاید کہ تم نصیحت حاصل کرو۔‘‘
یہاں آیت سے جو مقصود تھا وہ پچھلی تین آیات کے مقصود سے مختلف ہے‘ اور سورۃ العنکبوت میں اس کا بیان کرنا اس لیے بھی مناسب تھا کہ اس سورت میں جابجا اُخروی زندگی میں لوٹائے جانے کا تذکرہ ہے‘ کوئی دس سے زائد مقامات میں اس کی تفصیل ملتی ہے۔ ان میں سب سے پہلی آیت ملاحظہ ہو:
{مَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآئَ اللہِ فَاِنَّ اَجَلَ اللہِ لَاٰتٍ ط وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۵)}
’’اور جو شخص اللہ سے ملنے کی اُمید رکھتا ہے تو اللہ کی طرف سے دی گئی مدت آنے والی ہے۔ اور وہ سننے والا ہے‘ علم رکھتا ہے۔‘‘
اور اس سلسلے کی آخری آیت ہے:
{کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِقف ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ(۵۷) }
’’اور ہر نفس موت کو چکھنے والا ہے ‘ پھر تم ہماری طرف ہی لوٹا ئے جانے والے ہو۔‘‘
اس ضمن میں سب سے زیادہ صریح آیت جس میں اس مقصود کو واضح کیاگیا ہے ‘وہ یہ دو آیات ہیں:
{ اَوَلَمْ یَرَوْا کَیْفَ یُبْدِیُٔ اللہُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ ط اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللہِ یَسِیْرٌ(۱۹) }
’’کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے مخلوق کو کیسے پہلے پیدا کیا‘ پھر وہ اسے دوبارہ لوٹاتا ہے ۔ بے شک یہ اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘
{ قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللہُ یُنْشِئُ النَّشْاَۃَ الْاٰخِرَۃَ ط اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ(۲۰) }
’’کہہ دیجیے: زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اس نے کیسے مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ‘پھر اللہ اسے اُخروی زندگی سے نوازے گا۔ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
چونکہ باقی دونوں سورتوں میں یہ مضمون اس طرح وارد نہیں ہوا جیسے سورۃ العنکبوت میں تکرار کے ساتھ وارد ہوا ہے‘ تو وہاں اس مثال پر مشتمل آیت کا لایا جانا مناسبت نہیں رکھتا تھا۔
اب ذرا اس نکتے کا بیان ہو جائے کہ ہر آیت کا آخری جملہ مختلف کیوں ہے؟اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تینوں آیات جس ترتیب کے ساتھ کتاب اللہ میں آئی ہیں‘ اسی طرح ان میں سے ہر آیت کا آخری حصہ اس ترتیب کی حکمت کے مطابق ہے۔ اصل مضمون تینوں آیات میں آسمانوں اور زمین کی خلقت کے بارے میں ہے کہ جسے اللہ کی توفیق حاصل ہو تو اس کے لیے تو کوئی اشکال نہیں ہے ‘لیکن منکرین کے لیے پہلی آیت میں کہا گیا : {فَاَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ} یعنی دلائل کے واضح ہو جانے کے بعد تم کس بہکاوے کا شکار ہو۔ پھر سورئہ لقمان کی آیت میں ان کے بارے میں کہا:{بَلْ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(۲۵)} تو اگر دونوں آیات کو سامنے رکھا جائے تو یہ معنی ظاہر ہوگا کہ تم اس بہکاوے میں کیسے آ سکتے تھے‘ لیکن چونکہ علم سے بھاگتے تھے اس لیے ان کی عقل پلٹا کھا گئی‘ جیسا کہ سورۃ الکہف میں ارشاد فرمایا تھا : {اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِہِمْ اَکِنَّۃً اَنْ یَّفْقَہُوْہُ }(آیت۵۷) ’’ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے کہ وہ سمجھ نہ پائیں۔‘‘
سورۃ الزخرف کے اختتام پر ارشاد فرمایا:{لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَہُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُ(۹)}یہاں وہ یہ اعتراف کرتے نظر آتے ہیں کہ اللہ ہی قادر ہے‘ اللہ ہی علیم ہے اور اس اعتراف کے باوجود پھر اُن کا ایمان نہ لانا صر ف ان کے عناد کی بنا پر ہے۔
اگر ان تینوں آیات کو اس ترتیب کے ساتھ سمجھا جائے تو حاصل یہ ہوگا کہ اگر ان لوگوں کے ساتھ پوری تحقیق کی جائے‘ ایک کے بعد دوسرا سوال کیا جائے تو وہ حقیقۃ الامر کا اعتراف کریں گے ‘لیکن پھر بھی ان کا کفر پر قائم رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ جانتے بوجھتے خواہش اور گمراہی کے پیروکار ہیں ۔ اس طرح ان تینوں آیات کی مضمون سے مناسبت واضح ہو جاتی ہے۔
اب رہی سورۃ العنکبوت کی دوسری آیت جس میں سوال یہ تھا کہ آسمان سے پانی کس نے نازل کیا کہ جس سے مُردہ زمین لہلا اٹھی تو وہ کہیں گے: اللہ نے! اور پھر آخر میں ارشاد فرمایا:{قُلِ الْحَمْدُ لِلہِ ط بَلْ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(۶۳)}اس آیت میں ان کا وصف یہ بتایا گیا ہے کہ وہ عقل سے عاری ہیں۔ اس کی توجیہہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ لوگ اپنی ناسمجھی میں اس حد تک جا چکے تھے کہ حیوانات کی سطح پر جا پہنچے کہ جو خطاب کے اہل نہیں ہیں ۔ اس لیے کہ انسان تو عقل سے پہچانا جاتا ہے‘ عقل ہی سے وہ حیوانات سے جدا نظر آتا ہے۔ اسے مکلف بھی اسی وقت بنایا جاتا ہے جب وہ عقل سے متصف ہو‘کیونکہ عقل ہو گی تو علم کو حاصل کر سکے گا۔متکلمین کے نزدیک عقل ضروری علوم سے باخبرہونا ہے‘ اور ضروری نہیں کہ اسے سارے علوم حاصل ہوں۔بہرحال اس بات سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔وہ نہ ہو تو نہ ہی انسان مکلف قرار دیا جاتا ہے اور نہ ہی وہ علم کا سزاوار قرار دیا جا سکتاہے‘ اور جو چیز بھی علم کی ضد ہےوہی عقل کی بھی ضد ہے‘چاہے عام ہو یا خاص۔ عربی میں کہا جاتا ہے : ’’عَقَلْتُ الْبَعِیْر‘‘ میں نے اونٹ کو عقال (یعنی رسّی) سے باندھ کر رکھا ۔چنانچہ جس کے پاس یہ نہ ہو تو وہ جانوروں کی مانند ہو گیا۔
مزید ہم یہ کہیں گے کہ ذرا غور تو کیجیے‘ آسمان سے پانی ایک جیسا نازل ہوتا ہے لیکن اس سے طرح طرح کے پودے‘ درخت اور پھل پیدا ہوتے ہیں ‘حالانکہ سب کا مادہ بالکل ایک جیسا ہے۔جسے یہ بات سمجھ میں آ گئی‘ وہ اب یہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ انسان بھی آسمان سے برسائے جانے والے پانی کی طرح ایک ہی نطفہ سے پیدا ہوا ہے‘ لیکن اس سے پیدا ہونے والے انسان بھی شکل‘ خلقت اور دوسرے اوصاف میں جدا جدا نظر آتے ہیں‘ حالانکہ سب کا مادہ ایک ہی ہے ۔
دونوں طرح کے پانی میں اس طرح کی مشابہت اور معانی کی مناسبت‘ عقل مند شخص کے لیے بالکل واضح ہے ۔ جو شخص یہ سب دیکھتا ہو وہ کیسے اس بات کا انکار کرتا ہے کہ انسان مرنے کے بعد دوبارہ پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ موت کے بعد زندگی کو اس مثال کے ساتھ قرآن مجید میں بار بار ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ الروم (آیت۲۴) میں ارشاد فرمایا:
{وَمِنْ اٰیٰتِہٖ یُرِیْکُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَیُحْیٖ بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَاط }
’’اور اُس کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ تمہیں بجلیاں دکھاتا ہے جس سے تم خوف زدہ بھی ہوتے ہو اور امید بھی رکھتے ہو‘ اور وہ آسمان سے پانی برساتا ہے اور اس سے مُردہ زمین کو زندگی بخشتا ہے۔‘‘
جسے تفکر و تدبر کی توفیق ہو تو وہ اس بات کو بخوبی سمجھ سکتا ہے۔ ایسے ہی ارشاد فرمایا:{کَذٰلِکَ نُخْرِجُ الْموْتٰی } ’’ایسے ہی ہم مُردوں کو نکال باہر کریں گے۔‘‘
سورئہ فاطر کی اس آیت(آیت۹) پر ہم اس بحث کا خاتمہ کرتے ہیں:
{وَاللہُ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰہُ اِلٰی بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَاط}
’’اور وہی اللہ ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو دھکیلتی ہیں اور پھر ہم انہیں ایک مُردہ زمین کی طرف ہنکا دیتے ہیں اور زمین کو اُس کی موت کے بعد زندہ کر دیتے ہیں۔‘‘