ترجمہ ٔ قرآن مجید
مع صرفی و نحوی تشریح
افادات : حافظ احمد یار مرحوم
ترتیب و تدوین:لطف الرحمٰن خان مرحومسُورۃُ بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْل
آیات۱ تا ۵{سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَاط اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ(۱) وَاٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَجَعَلْنٰہُ ہُدًی لِّبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَکِیْلًا(۲) ذُرِّیَّۃَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ ط اِنَّہٗ کَانَ عَبْدًا شَکُوْرًا(۳) وَقَضَیْنَآ اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ فِی الْکِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا کَبِیْرًا(۴) فَاِذَا جَآئَ وَعْدُ اُوْلٰىہُمَا بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَّـنَــآ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِط وَکَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا(۵) }
ج و س
جَاسَ یَجُوْسُ (ن) جَوْسًا : لوٹ مار کے لیے کسی جگہ گھس جانا۔ زیر مطالعہ آیت۵۔
ترکیب
(آیت۱) لَیْلًا ظرفِ زمان ہونے کی وجہ سے حالت ِنصب میں ہے۔ اَلْاَقْصٰی کو اَلْاَقْصَا لکھنا قرآن مجید کا مخصوص املا ہے۔ لِنُرِیَہٗ کے لام کا تعلق بٰرَکْنَا سے نہیں ‘بلکہ اَسْرٰی سے ہے۔(آیت۳) ذُرِّیَّۃَ مضاف ہے اور مَنْ اس کا مضاف الیہ ہے۔ ذُرِّیَّۃَ کے حالت ِنصب میں ہونے کی متعدد وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ ہماری ترجیح یہ ہے کہ اس کو منادیٰ مضاف مانا جائے ‘یعنی اس سے پہلے حرفِ ندا ’’یَا‘‘ محذوف ہے اور اس کا تعلق لَا تَتَّخِذُوْا سے ہے ۔
ترجمہ
سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ :اُس کی پاکیزگی ہے جو
اَسْرٰی: لے گیا
بِعَبْدِہٖ :اپنے بندے کو
لَیْلًا :رات کے کسی وقت
مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ :مسجد حرام سے
اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا : اُس مسجد اقصیٰ تک
الَّذِیْ بٰرَکْنَا :جس کو ہم نے برکت دی
حَوْلَہٗ : اس کے ارد گرد کو
لِنُرِیَہٗ : تاکہ ہم دکھائیں اس کو
مِنْ اٰیٰتِنَا : اپنی نشانیوں میں سے
اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ : بے شک وہی سننے والا ہے
الْبَصِیْرُ: دیکھنے والا ہے
وَاٰتَیْنَا مُوْسَی :اور ہم نے دی موسیٰ ؑ کو
الْکِتٰبَ: کتاب
وَجَعَلْنٰہُ : اور ہم نے بنایا اس کو
ہُدًی : ہدایت
لِّبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ :بنی اسرائیل کے لیے
اَلَّا تَتَّخِذُوْا: کہ تم لوگ مت بنائو
مِنْ دُوْنِیْ :میرے علاوہ
وَکِیْلًا: کوئی کارساز
ذُرِّیَّۃَ :(اے )ان کی اولاد
مَنْ حَمَلْنَا: جن کوہم نے سوار کیا
مَعَ نُوْحٍ :نوحؑ کے ساتھ
اِنَّہٗ کَانَ :بے شک وہ تھا
عَبْدًا شَکُوْرًا :بہت شکر گزار بندہ
وَقَضَیْنَآ : اور ہم نے فیصلہ کیا
اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ :بنی اسرائیل کی طرف
فِی الْکِتٰبِ : اُس کتاب میں
لَتُفْسِدُنَّ :(کہ) تم لوگ لازماً نظم بگاڑو گے
فِی الْاَرْضِ : زمین میں
مَرَّتَیْنِ: دو مرتبہ
وَلَتَعْلُنَّ: اور تم لوگ لازماً عروج پائو گے
عُلُوًّا کَبِیْرًا:ایک بڑا عروج
فَاِذَا جَآئَ: پھر جب آیا
وَعْدُ اُوْلٰىہُمَا:ان دونوں (باری) کی پہلی کا وعدہ
بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ:تو ہم نے بھیجا تم لوگوں پر
عِبَادًا لَّـنَــآ :اپنے کچھ ایسے بندوں کو جو
اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ : شدید جنگ والے تھے
فَجَاسُوْا :تو وہ گھس گئے
خِلٰلَ الدِّیَارِ : گھروں کے درمیان
وَکَانَ : اور وہ تھا
وَعْدًا مَّفْعُوْلًا: ایک کیا ہوا وعدہ
نوٹ: آیت نمبر ایک میں واقعہ ٔمعراج کا ذکر ہے۔ یہ واقعہ ہجرت سے ایک سال قبل پیش آیا۔ حدیث کی کتابوں میں صحابہؓ سےاس کی تفصیلات بکثرت مروی ہیں‘ جن کی تعداد ۲۵ تک ہے۔ آیت کے الفاظ کہ ’’ ایک رات اپنے بندے کو لے گیا‘‘ جسمانی سفر پر صریحاً دلالت کرتے ہیں۔ خواب کے سفر یا کشفی سفر کے لیے یہ الفاظ کسی طرح موزوں نہیں ہو سکتے۔ اس لیے ماننا پڑتا ہے کہ یہ محض ایک روحانی تجربہ نہیں تھا بلکہ ایک جسمانی سفر اور عینی مشاہدہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے نبی مکرمﷺ کو کرایا۔ ممکن اور ناممکن کی بحث تو صرف اس صورت میں پیدا ہوتی ہے جب کسی انسان کے اپنے اختیار سے خود کوئی کام کرنے کا معاملہ زیر بحث ہو۔ لیکن جب ذکر یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں کام کیا‘ تو پھر امکان کا سوال وہی شخص اٹھا سکتا ہے جسے اللہ کے قادر مطلق ہونے کا یقین نہ ہو۔ (تفہیم القرآن سے ماخوذ)
آیات ۶ تا ۱۰{ ثُمَّ رَدَدْنَا لَـکُمُ الْکَرَّۃَ عَلَیْہِمْ وَاَمْدَدْنٰـکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَجَعَلْنٰـکُمْ اَکْثَرَ نَفِیْرًا(۶) اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ قف وَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَہَاط فَاِذَا جَآئَ وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ لِیَسُوْٓئٗ ا وُجُوْہَکُمْ وَلِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ کَمَا دَخَلُوْہُ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّلِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا(۷) عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَمَکُمْ ج وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا وَجَعَلْنَا جَہَنَّمَ لِلْکٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا (۸) اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَہْدِیْ لِلَّتِیْ ہِیَ اَقْوَمُ وَیُـبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمْ اَجْرًا کَبِیْرًا(۹) وَّاَنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ اَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا (۱۰) }
ترکیب
(آیت۶) جَعَلْنَا کا مفعولِ اوّل کُمْ کی ضمیر ہے اور اَکْثَرَ مفعول ثانی ہے ‘جبکہ نَفِیْرًا تمیز ہونے کی وجہ سے حالت ِنصب میں ہے۔(آیت۷) فَلَھَا میں ھَا کی ضمیر اَنْفُس کے لیے ہے۔ وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ کے بعد آیت۶ کا پورا جملہ بَعَثْنَا سے بَاْسٍ شَدِیْدٍ تک محذوف ہے۔ لِیَسُوْٓءٗا دراصل یَسُوْءُوْنَ تھا‘ لَامِ کَی داخل ہونے کی وجہ سے نون گرا تو یَسُوْءُوْا باقی بچا۔ اس کو یَسُوْءٗا لکھنا قرآن کا مخصوص املا ہے۔(آیت۹) لِلَّتِیْ ھِیَ کے بعد اَقْوَمُ مذکر کا استعمال بتا رہا ہے کہ اس کا مضاف الیہ محذوف ہے جو کہ اَلسُّبُلِ ہو سکتا ہے اور یہ تفضیل کل ہے۔ (دیکھیں آسان عربی گرامر‘ پیراگراف:۷:۶۲)
ترجمہ
ثُمَّ رَدَدْنَا : پھر ہم نے لوٹا دیا
لَـکُمُ الْکَرَّۃَ : تمہارے لیے اس باری کو
عَلَیْہِمْ : ان لوگوں پر
وَاَمْدَدْنٰـکُمْ: اور ہم نے مدد دی تم کو
بِاَمْوَالٍ : مالوں سے
وَّبَنِیْنَ : اور بیٹوں سے
وَجَعَلْنٰـکُمْ : اور ہم نے کر دیا تم کو
اَکْثَرَ نَفِیْرًا :زیادہ بطور جتھے کے
اِنْ اَحْسَنْتُمْ :اگر تم لوگ بھلائی کرتے ہو
اَحْسَنْتُمْ : تو بھلائی کرتے ہو
لِاَنْفُسِکُمْ: اپنی جانوں کے لیے
وَاِنْ اَسَاْتُمْ :اور اگر تم برائی کرتے ہو
فَلَہَا :تو ان کے لیے
فَاِذَا جَآئَ :پھر جب آیا
وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ : آخری (باری) کا وعدہ
لِیَسُوْٓئٗ ا:(تو ہم نے بھیجا جنگجو بندوں کو)
کہ وہ بگاڑ دیں
وُجُوْہَکُمْ :تمہارے چہروں کو
وَلِیَدْخُلُوا : اور تاکہ وہ داخل ہوں
الْمَسْجِدَ : مسجد میں
کَمَا دَخَلُوْہُ :جیسے کہ وہ داخل ہوئے اس میں
اَوَّلَ مَرَّۃٍ : پہلی مرتبہ
وَّلِیُتَبِّرُوْا : اور تاکہ وہ برباد کریں
مَا عَلَوْا :اس کو جس پر وہ غالب ہوں
تَتْبِیْرًا :جیسے کہ برباد کرتے ہیں
عَسٰی رَبُّکُمْ :بعید نہیں تمہارے ربّ سے
اَنْ یَّرْحَمَکُمْ : کہ وہ رحم کرے تم پر
وَاِنْ عُدْتُّمْ :اور اگر تم واپس ہوئے
(گناہ کی طرف)
عُدْنَا: تو ہم واپس ہوں گے
(سزا کی طرف)
وَجَعَلْنَا :اور ہم نے بنایا
جَہَنَّمَ: جہنم کو
لِلْکٰفِرِیْنَ : کافروں کے لیے
حَصِیْرًا : ایک قید خانہ
اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ :یقیناً یہ قرآن
یَہْدِیْ : ہدایت دیتا ہے
لِلَّتِیْ : اس کے لیے جو کہ
ہِیَ اَقْوَمُ : وہی سب سے سیدھی (راہ) ہے
وَیُـبَشِّرُ :اور ہ بشارت دیتا ہے
الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ: ان ایمان لانے والوں کوجو
یَعْمَلُوْنَ :عمل کرتے ہیں
الصّٰلِحٰتِ : نیکیوں کے
اَنَّ لَہُمْ :کہ ان کے لیے ہے
اَجْرًا کَبِیْرًا: ایک بڑا اجر
وَّاَنَّ الَّذِیْنَ :اور (بشارت دیتا ہے) کہ وہ لوگ جو
لَا یُؤْمِنُوْنَ :ایمان نہیں لاتے
بِالْاٰخِرَۃِ : آخرت پر
اَعْتَدْنَا لَہُمْ :ہم نے تیار کیا ہے ان کے لیے
عَذَابًا اَلِیْمًا : ایک درد ناک عذاب
نوٹ: تورات میں کہہ دیا گیاتھا کہ بنی اسرائیل دوبار شرارت کریں گے۔ (اپنے عروج کے نشہ میں بدمست ہوکر۔ مرتب) اس کی جزا میں دشمن ان کے ملک پر غالب ہوں گے۔ اسی طرح ہوا۔ ایک بار جالوت غالب ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت دائود علیہ السلام کے ہاتھ سے ہلاک کیا اور بنی اسرائیل نے دوبارہ عروج حاصل کیا جس کی انتہا حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت تھی۔ دوسری بار بخت نصر غالب ہوا اور اس کے بعد سے ان کی سلطنت نے قوت نہیں پکڑی۔ بعض علماء نے پہلے وعدہ سے بخت نصر کا حملہ‘ جو۵۸۷ قبل مسیح ہوا تھا‘ اور دوسرے وعدہ سے طیطوس (Titus)رومی کا حملہ‘ جو رفع مسیح کے ستر سال بعد ہوا تھا‘ مراد لیا ہے‘ کیونکہ ان دونوں حملوں میں مقدس ہیکلِ سلیمانی کو برباد کیا گیا۔ (تفسیر عثمانی )۔ طیطوس رومی کے حملے کے وقت یہودیوں کی حکومت نہیں تھی بلکہ اس وقت فلسطین سلطنت روم کا ایک صوبہ تھا جس میں یہودیوں کو کچھ صوبائی خودمختاری حاصل تھی۔ البتہ وہ اپنی حکومت قائم کرنے کے لیے روم کے خلاف بغاوت کرتے رہتے تھے۔ اس کی سزا دینے کے لیے طیطوس نے حملہ کیا تھا۔
آیات۱۱ تا ۱۵{ وَیَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآئَ ہٗ بِالْخَیْرِط وَکَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا(۱۱) وَجَعَلْنَا الَّیْلَ وَالنَّہَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَآ اٰیَۃَ الَّیْلِ وَجَعَلْنَآ اٰیَۃَ النَّہَارِ مُبْصِرَۃً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّکُمْ وَلِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَالْحِسَابَ ط وَکُلَّ شَیْ ئٍ فَصَّلْنٰہُ تَفْصِیْلًا(۱۲) وَکُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰہُ طٰٓئِرَہٗ فِیْ عُنُقِہٖ ط وَنُخْرِجُ لَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ کِتٰبًا یَّلْقٰىہُ مَنْشُوْرًا(۱۳) اِقْرَاْ کِتٰبَکَ ط کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیْبًا(۱۴) مَنِ اہْتَدٰی فَاِنَّمَا یَہْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ ج وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْہَاط وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ط وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا(۱۵)}
ن ش ر
نَشَرَ یَنْشُرُ (ن) نَشْرًا : کسی چیز کو بکھیرنا‘ پھیلانا۔ {وَیَنْشُرُ رَحْمَتَہٗ} (الشوریٰ:۲۸) ’’اور وہ پھیلاتا ہے اپنی رحمت کو۔‘‘
نُشُوْرًا: جی اٹھنا‘ دوبارہ زندہ ہونا‘ دوبارہ اُٹھنا۔ {کَذٰلِکَ النُّشُوْرُ(۹) } (فاطر) ’’ا س طرح دوبارہ زندہ ہونا ہے۔‘‘
نَاشِرٌ (اسم الفاعل) : پھیلانے والا۔ {وَّالنّٰشِرٰتِ نَشْرًا(۳) } (المرسلات) ’’اور پھیلانے والیاں جیسا کہ پھیلانے کا حق ہے۔‘‘
مَنْشُوْرٌ (اسم المفعول) : پھیلایا ہوا‘ کھولا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۱۳۔
اَنْشَرَ (افعال) اِنْشَارًا: دوبارہ زندہ کرنا‘ دوبارہ اٹھانا۔ {ثُمَّ اَمَاتَہٗ فَاَقْبَرَہٗ (۲۱) ثُمَّ اِذَا شَآئَ اَنْشَرَہٗ (۲۲) } (عبس) ’’پھر اُس نے موت دی اس کو ‘پھر اُس نے قبر دی اس کو۔ پھر جب بھی وہ چاہے گا وہ دوبارہ زندہ کرے گا اس کو۔‘‘
مُنْشَرٌ(اسم المفعول) : زندہ کر کے اٹھایا جانے والا ۔ {وَمَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ(۳۵)} (الدخان) ’’اور ہم نہیں ہیںدوبارہ اٹھائے جانے والے۔‘‘
نَشَّرَ (تفعیل) تَنْشِیْرًا: خوب پھیلانا‘ کھولنا۔
مُنَشَّرٌ(اسم المفعول) : پھیلایا ہوا‘ کھولا ہوا۔ {اَنْ یُّؤْتٰی صُحُفًا مُّنَشَّرَۃً (۵۲)} (المدثر)’’کہ ان کو دیے جائیں کھولے ہوئےصحیفے۔‘‘
اِنْتَشَرَ(افتعال) اِنْتِشَارًا: پھیل جانا‘ بکھر جانا۔{وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ(۲۰) } (الروم) ’’اور اُس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اُس نے پیدا کیا تم لوگوں کو ایک مٹی سے‘ پھر جب تم لوگ ایک بشر ہوتے ہو تو پھیل جاتے ہو۔‘‘
اِنْتَشِرْ(فعل امر) :تُو پھیل جا‘ بکھر جا۔ {فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا} (الاحزاب:۵۳) ’’ پھر جب کھا چکو تو منتشر ہو جائو۔‘‘
مُنْتَشِرٌ(اسم الفاعل) :پھیلنے والا۔{یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ کَاَنَّـہُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ(۷)} (القمر) ’’وہ لوگ نکلیں گے قبروں سے گویا کہ وہ پھیلنے والی ٹڈی ہیں۔‘‘
ترکیب
(آیت۱۱) یَدْعُ مضارع مجزوم نہیں ہے بلکہ یہ مضارع معروف یَدْعُوْ ہے۔ یہ قرآن کا مخصوص املا ہے کہ اس کو یہاں یَدْعُ لکھا جاتا ہے۔ (آیت۱۲) اَلْحِسَابَ کی نصب بتا رہی ہے کہ یہ عَدَدَ کا مضاف الیہ نہیں‘ بلکہ لِتَعْلَمُوْا کا مفعول ثانی ہے۔ کُلَّ شَیْءٍ میں کُلَّ کی نصب بتا رہی ہے کہ یہ کسی فعل محذوف کا مفعول ہے۔ یہ فَصَّلْنَا کا مفعول مقدم نہیں ہو سکتا کیونکہ ضمیر مفعولی ہُ اس کا مفعول ہے۔ (آیت۱۳) کُلَّ اِنْسَانٍ بھی فعل محذوف کا مفعول ہے۔
ترجمہ
وَیَدْعُ الْاِنْسَانُ :اور دعوت دیتا ہے انسان
بِالشَّرِّ :برائی کو
دُعَآئَ ہٗ: (جیسے) اس کا دعوت دینا ہو
بِالْخَیْر :بھلائی کو
وَکَانَ الْاِنْسَانُ : اور ہے انسان
عَجُوْلًا:بہت جلد باز
وَجَعَلْنَا : اور ہم نے بنایا
الَّیْلَ وَالنَّہَارَ : رات کو اور دن کو
اٰیَتَیْنِ :دو نشانیاں
فَمَحَوْنَآ:پھر ہم نے مٹایا
اٰیَۃَ الَّیْلِ :رات کی نشانی کو
وَجَعَلْنَآ:اور ہم نے بنایا
اٰیَۃَ النَّہَارِ :دن کی نشانی کو
مُبْصِرَۃً : دکھانے والی
لِّتَبْتَغُوْا :تاکہ تم لوگ تلاش کرو
فَضْلًا:کچھ فضل
مِّنْ رَّبِّکُمْ :اپنے ربّ سے
وَلِتَعْلَمُوْا : اور تاکہ تم لوگ جان لو
عَدَدَ السِّنِیْنَ : برسوں کی گنتی کو
وَالْحِسَابَ:اور حساب کو
وَکُلَّ شَیْ ئٍ :اور ہر ایک چیز کو
فَصَّلْنٰہُ:ہم نے تفصیل سے بتایا اس کو
تَفْصِیْلًا :جیسے کھول کھول کر بتاتے ہیں
وَکُلَّ اِنْسَانٍ :اور ہر ایک انسان کو
اَلْزَمْنٰہُ : ہم نے چپکا دی اس سے
طٰٓئِرَہٗ:اس کی شامت ِعمل
فِیْ عُنُقِہٖ : اس کی گردن میں
وَنُخْرِجُ لَہٗ :اور ہم نکالیں گے اس کے لیے
یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ :قیامت کے دن
کِتٰبًا : ایک ایسی کتاب
یَّلْقٰىہُ : وہ ملے گا (یعنی پائے گا) جس کو
مَنْشُوْرًا :کھولی ہوئی
اِقْرَاْ کِتٰبَکَ : تُو پڑھ اپنی کتاب
کَفٰی بِنَفْسِکَ : کافی ہے تیرا نفس
الْیَوْمَ :آج کے دن
عَلَیْکَ:تجھ پر
حَسِیْبًا:بطور حساب لینے والے کے
مَنِ اہْتَدٰی : جس نے ہدایت پائی
فَاِنَّمَا : تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ
یَہْتَدِیْ :وہ ہدایت پاتا ہے
لِنَفْسِہٖ :اپنے نفس کے لیے
وَمَنْ ضَلَّ :اور جو گمراہ ہو ا
فَاِنَّمَا : تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ
یَضِلُّ:وہ گمراہ ہوتا ہے
عَلَیْہَا :اس پر
وَلَا تَزِرُ :اور نہیں اٹھائے گی
وَازِرَۃٌ : کوئی اٹھانے والی (جان)
وِّزْرَ اُخْرٰی :کسی دوسری کا بوجھ
وَمَا کُنَّا : اور ہم نہیں ہیں
مُعَذِّبِیْنَ:عذاب دینے والے
حَتّٰی نَبْعَثَ : یہاں تک کہ ہم بھیجیں
رَسُوْلًا: کوئی رسول
آیات ۱۶ تا ۲۲{وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّہْلِکَ قَرْیَۃً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْہَا فَفَسَقُوْا فِیْہَا فَحَـقَّ عَلَیْہَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰہَا تَدْمِیْرًا(۱۶) وَکَمْ اَہْلَکْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ بَعْدِ نُوْحٍ ط وَکَفٰی بِرَبِّکَ بِذُنُوْبِ عِبَادِہٖ خَبِیْرًا بَصِیْرًا(۱۷) مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَۃَ عَجَّلْنَا لَہٗ فِیْہَا مَا نَشَآئُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَہٗ جَہَنَّمَ ج یَصْلٰىہَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا(۱۸) وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَۃَ وَسَعٰی لَہَا سَعْیَہَا وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ کَانَ سَعْیُہُمْ مَّشْکُوْرًا (۱۹) کُلًّا نُّمِدُّ ہٰٓؤُلَآئِ وہٰٓؤُلَآئِ مِنْ عَطَآئِ رَبِّکَ ط وَمَا کَانَ عَطَآئُ رَبِّکَ مَحْظُوْرًا(۲۰) اُنْظُرْکَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ ط وَلَلْاٰخِرَۃُ اَکْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَکْبَرُ تَفْضِیْلًا(۲۱) لَا تَجْعَلْ مَعَ اللہِ اِلٰہًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا(۲۲)}
ح ظ ر
حَظَرَ یَحْظِرُ (ض) حَظْرًا : منع کرنا‘ روک لینا۔
مَحْظُوْرٌ(اسم المفعول) : منع کیا ہوا‘ روکا ہوا۔ آیت زیر مطالعہ۲۰۔
اِحْتَظَرَ(افتعال) اِحْتِظَارًا : اہتمام سے روکنا‘ باڑ بنانا۔
مُحْتَظِرٌ (اسم الفاعل) : روکنے والا‘ باڑ بنانے والا۔ {کَہَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ(۳۱)} (القمر)’’باڑ بنانے والے کی خشک ٹہنی کی مانند۔‘‘
ترجمہ
وَاِذَآ اَرَدْنَآ :اور جب ہم ارادہ کرتے ہیں
اَنْ نُّہْلِکَ : کہ ہم ہلاک کریں
قَرْیَۃً : کسی بستی کو
اَمَرْنَا:تو ہم حکم دیتے ہیں
مُتْرَفِیْہَا : اس کے خوش حال لوگوں کو
فَفَسَقُوْا فِیْہَا : پھر وہ نافرمانی کرتے ہیں اس میں
فَحَـقَّ : تو ثابت ہو جاتی ہے
عَلَیْہَا الْقَوْلُ:اس (بستی) پر بات
فَدَمَّرْنٰہَا : تو ہم اس کو اُجاڑ دیتے ہیں
تَدْمِیْرًا :جیسا کہ اُجاڑنے کا حق ہے
وَکَمْ اَہْلَکْنَا :اور کتنی ہی ہم نےہلاک کیں
مِنَ الْقُرُوْنِ : قوموں میں سے
مِنْ بَعْدِ نُوْحٍ : نوحؑ کے بعد
وَکَفٰی بِرَبِّکَ :اور کافی ہے آپؐ کا ربّ
بِذُنُوْبِ عِبَادِہٖ:اپنے بندوں کے گناہوں سے
خَبِیْرًا:باخبر ہونے کے لحاظ سے
بَصِیْرًا :دیکھنے والا ہونے کے لحاظ سے
مَنْ کَانَ یُرِیْدُ :جو چاہتا رہتا ہے
الْعَاجِلَۃَ :دنیا کو
عَجَّلْنَا:تو ہم جلدی کر دیتے ہیں
لَہٗ فِیْہَا :اس (دنیا) میں
مَا نَشَآئُ :وہ (چیز) جو ہم چاہتے ہیں
لِمَنْ :جس کے لیے
نُّرِیْدُ :ہم چاہتے ہیں
ثُمَّ جَعَلْنَا : پھر ہم بناتے ہیں
لَہٗ جَہَنَّمَ:اس کے لیے جہنم
یَصْلٰىہَا :وہ گرے گا اس میں
مَذْمُوْمًا :مذمت کیا ہوا
مَّدْحُوْرًا :کھدیرا ہواہوتے ہوئے
وَمَنْ اَرَادَ :اور جو چاہتا ہے
الْاٰخِرَۃَ :آخرت کو
وَسَعٰی : اور وہ بھاگ دوڑ کرتاہے
لَہَا :اس کے لیے
سَعْیَہَا: جیسا اس کی بھاگ دوڑ کا حق ہے
وَہُوَ : اس حال میں کہ وہ
مُؤْمِنٌ:ایمان لانے والا ہے
فَاُولٰٓئِکَ :تو وہ لوگ ہیں
کَانَ سَعْیُہُمْ:جن کی بھاگ دوڑ ہے
مَّشْکُوْرًا :قدر کی ہوئی
کُلًّا نُّمِدُّ :سب کی ہم مدد کرتے ہیں
ہٰٓؤُلَآئِ : اِن کی (بھی)
وہٰٓؤُلَآئِ : اور اُن کی (بھی)
مِنْ عَطَآئِ رَبِّکَ : آپؐ کے ربّ کے عطیہ سے
وَمَا کَانَ : اور نہیں ہے
عَطَآئُ رَبِّکَ :آپؐ کے ربّ کا عطیہ
مَحْظُوْرًا :روکا ہوا
اُنْظُرْ :آپؐ دیکھیں
کَیْفَ فَضَّلْنَا : کیسے ہم نے فضیلت دی
بَعْضَہُمْ :ان کے بعض کو
عَلٰی بَعْضٍ :بعض پر
وَلَلْاٰخِرَۃُ :اور یقیناً آخرت
اَکْبَرُ: سب سے بڑی ہے
دَرَجٰتٍ :درجوں کے لحاظ سے
وَّاَکْبَرُ:اور سب سے بڑی ہے
تَفْضِیْلًا: فضیلت دینےکے لحاظ سے
لَا تَجْعَلْ: تُو مت بنا
مَعَ اللہِ :اللہ کے ساتھ
اِلٰہًا اٰخَرَ : کوئی دوسرا اِلٰہ
فَتَقْعُدَ :ورنہ تُو بیٹھ رہے گا
مَذْمُوْمًا: مذمت کیا ہوا
مَّخْذُوْلًا : بے بس کیا ہوا
نوٹ۱: اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر ناراض ہوتا ہے اور اس کو عذاب میں مبتلا کرنا چاہتا ہے تو اس کی ابتدائی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس قوم کے حاکم ایسے لوگ بنا دیے جاتے ہیں جو عیش پسند ہوں‘ یا اگر حاکم نہ بھی بنائے جائیں تو اس قوم میں ایسے لوگوں کی کثرت کر دی جاتی ہے۔ دونوں صورتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ دنیا میں مست ہو کر اللہ کی نافرمانیاں خود بھی کرتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی اس کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ پھر ان پر اللہ کا عذاب آجاتا ہے۔ (معارف القرآن)
نوٹ۲: زیر مطالعہ آیات۱۸‘۱۹ میں دنیا اور آخرت کے طالب اور ان کی جزا کا ذکر ہے۔ صرف دنیا کے طلب گاروں کے لیے{ مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَۃَ} کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جس میں ہمیشگی کا مفہوم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہنم کی سزا صرف اس صورت میں ہے کہ اس کے عمل میں ہروقت صرف دُنیا ہی کی غرض چھائی ہوئی ہو اور آخرت کی طرف کوئی دھیان ہی نہ ہو۔ جبکہ آخرت کے طلب گاروں کے لیے {مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَۃَ} کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن جس وقت‘ جس عمل میں آخرت کا ارادہ اور نیت کرے گا اس کا وہ عمل مقبول ہو جائے گا ‘خواہ کسی دوسرے عمل کی نیت میں دنیا کی طلب بھی شامل ہو۔ پھر اسی آیت میں سعٰی کے ساتھ لفظ سَعْیَھَا بڑھا کر یہ بتا دیا گیا کہ آخرت کے لیے ہر عمل اور ہر کوشش نہ مفید ہوتی ہے اور نہ عند اللہ مقبول‘ بلکہ کوشش وہی معتبر ہے جو مقصد ِآخرت کے مناسب ہو۔ کسی کوشش کا آخرت کے مناسب ہونا یا نہ ہونا صرف رسول اللہ ﷺ کے بیان سے ہی معلوم ہو سکتا ہے۔ اس لیے جو نیک اعمال اپنی رائے اور من گھڑت طریقوں سے کیے جاتے ہیں‘ خواہ وہ دیکھنے میں کتنے ہی بھلے اور مفید نظر آئیں‘ وہ نہ اللہ کے نزدیک مقبول ہیں اور نہ ہی آخرت میں کارآمد ہوں گے۔ (معارف القرآن)
نوٹ۳: آیت۲۱ کو اگر آیت۱۹ کے تناظر میں پڑھا جائے تو بات یہ سمجھ میں آتی ہے کہ آخرت کے لیے کوشش کرنا مطلوب بھی ہے اور محمود بھی۔ جنت میں داخلہ کا پروانہ مل جانا ہی ایک عظیم کامیابی ہے‘ لیکن بات یہاں ختم نہیں ہو جاتی۔ اس کے آگے پھر جنت کی سوسائٹی میں status یعنی درجات کا مسئلہ بھی ہے۔ اس کی طرف توجہ دلانے کے لیے ہم سے کہا گیا کہ اس دنیا میں status کے جو فرق ہیں ان پر غور کرو اور اس حوالہ سے یہ حقیقت ذہن نشین کرلو کہ دنیا میں status کا جو فرق ہے‘ وہ تو محض ایک نمونہ ہے۔ اس کا تھان تو آخرت میں کھلے گا۔ جنت کی سوسائٹی میں درجات کا فرق تعداد کے لحاظ سے بھی بہت زیادہ ہے اور ایک درجے کی دوسرے درجے پر فضیلت کے لحاظ سے بھی بہت زیادہ ہے۔
ہمیں ایمان داری سے سوچنا چاہیے کہ ہم اس دنیا کے عارضی اور فانی status کے لیے کتنی جان مارتے ہیں اور جنت کے status کی ہمیں کتنی فکر ہے۔ جو لوگ آخرت کے لیے کوشاں ہیں ان کی بھی اکثریت کے ذہن میں جنت کے status کا مسئلہ نہیں ہے ‘پھر اس کی فکر کرنے کا کیا سوال ہے۔ ہم لوگ مرحومین کے لیے بلندیٔ درجات کی دعا تو مانگتے ہیں لیکن جنت میں اپنے درجات کی اپنی زندگی میں فکر نہیں کرتے۔ اِلاّ ماشاء اللہ!
آیات ۲۳ تا ۳۰{وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاط اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَآ اَوْکِلٰہُمَا فَلَا تَقُلْ لَّہُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا(۲۳) وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا(۲۴) رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِکُمْ ط اِنْ تَـکُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّہٗ کَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا(۲۵) وَاٰتِ ذَاالْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا(۲۶) اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ ط وَکَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوْرًا(۲۷) وَاِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْہُمُ ابْتِغَآئَ رَحْمَۃٍ مِّنْ رَّبِّکَ تَرْجُوْہَا فَقُلْ لَّہُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا(۲۸) وَلَا تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوْلَۃً اِلٰی عُنُقِکَ وَلَا تَبْسُطْہَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا(۲۹) اِنَّ رَبَّکَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُط اِنَّہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرًام بَصِیْرًا(۳۰)}
ء ف ف
اَفَّ یَؤُفُّ (ن) وَاَفَّ یَئِفُّ (ض) اَفًّا : تکلیف یا بے قراری میں اُف اُف کہنا۔
اُفٍّ (اسم فعل) : بمعنی مَیں ناپسند کرتا ہوں‘ بیزار ہوتا ہوں۔ زیر مطالعہ آیت۲۳۔
ب ذ ر
بَذَرَ یَبْذُرُ (ن) بَذْرًا :(۱) کسی بات کو پھیلانا‘ اشاعت کرنا۔ (۲) مال کو بکھیرنا‘ فضول خرچی کرنا۔
بَذَّرَ (تفعیل) تَبْذِیْرًا : نام و نمود اور نمائش میں مال اڑانا۔ زیر مطالعہ آیت۲۶۔
مُبَذِّرٌ (اسم الفاعل) : نمائش میں مال اڑانے والا۔ زیر مطالعہ آیت۲۷۔
ترجمہ:
وَقَضٰی : اور فیصلہ کیا
رَبُّکَ:تیرے ربّ نے
اَلَّا تَعْبُدُوْٓا : کہ تم لوگ بندگی مت کرو
اِلَّا اِیَّاہُ :مگر اس کی ہی
وَبِالْوَالِدَیْنِ : اور والدین کے ساتھ
اِحْسَانًا:حسنِ سلوک کرنے کا
اِمَّا :جب کبھی بھی
یَبْلُغَنَّ :پہنچ جائیں
عِنْدَکَ :تیرے پاس
الْکِبَرَ :بڑھاپے کو
اَحَدُہُمَآ :دونوں کا ایک
اَوْکِلٰہُمَا :یا دونوں کے دونوں
فَلَا تَقُلْ :تو تُو مت کہہ
لَّہُمَآ:ان دونوں سے
اُفٍّ : اُف (بھی)
وَّلَا تَنْہَرْہُمَا : اورتُو مت جھڑک ان دونوں کو
وَقُلْ لَّہُمَا : اور تُو کہہ ان دونوں سے
قَوْلًا کَرِیْمًا:شریفانہ بات
وَاخْفِضْ لَہُمَا :اور تو بچھا دونوں کے لیے
جَنَاحَ الذُّلِّ : تابعداری کا پہلو
مِنَ الرَّحْمَۃِ :رحمت سے
وَقُلْ :اور تُو کہہ
رَّبِّ : اے میرے ربّ
ارْحَمْہُمَا: تُو رحم کر دونوں پر
کَمَا : جیسے کہ
رَبَّیٰنِیْ :ان دونوں نے تربیت کی میری
صَغِیْرًا :چھوٹا ہوتے ہوئے (یعنی بچپن میں)
رَبُّکُمْ:تمہاراربّ
اَعْلَمُ :سب سے زیادہ جاننے والا ہے
بِمَا : اس کو جو
فِیْ نُفُوْسِکُمْ :تمہار ی طبیعتوں میں ہے
اِنْ تَـکُوْنُوْا :اگر تم لوگ ہو گے
صٰلِحِیْنَ :نیک
فَاِنَّہٗ کَانَ :تو بے شک وہ ہے
لِلْاَوَّابِیْنَ: بار بار رجوع کرنے والوں کے لیے
غَفُوْرًا : بے انتہا بخشنے والا
وَاٰتِ :اور تُو دے
ذَا الْقُرْبٰی :قرابت والے کو
حَقَّہٗ :اس کا حق
وَالْمِسْکِیْنَ :اور مسکین کو
وَابْنَ السَّبِیْلِ : اور مسافر کو
وَلَا تُبَذِّرْ :اور تُو بے جا مال مت اُڑا
تَبْذِیْرًا :جیسا بے جا مال اُڑانا ہے
اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ:بے شک بے جامال اُڑانے والے
کَانُوْٓا :ہیں
اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ : شیطانوں کے بھائی
وَکَانَ الشَّیْطٰنُ : اور ہے شیطان
لِرَبِّہٖ :اپنے ربّ کا
کَفُوْرًا : انتہائی ناشکرا
وَاِمَّا:اور جب کبھی
تُعْرِضَنَّ عَنْہُمُ : تُواعراض کرے ان سے
ابْتِغَآئَ رَحْمَۃٍ :ایسی رحمت کی تلاش کرنے میں
مِّنْ رَّبِّکَ :اپنے ربّ سے
تَرْجُوْہَا:تو اُمید کرتا ہے جس کی
فَقُلْ لَّہُمْ :تب تُو کہہ ان سے
قَوْلًا مَّیْسُوْرًا: نرم کی ہوئی بات
وَلَا تَجْعَلْ : اور تُو مت بنا
یَدَکَ:اپنے ہاتھ کو
مَغْلُوْلَۃً : باندھا ہوا
اِلٰی عُنُقِکَ :اپنی گردن کی طرف
وَلَا تَبْسُطْہَا :اور تُو مت کھول اس کو
کُلَّ الْبَسْطِ : جیسے بالکل کھولنا ہے
فَتَقْعُدَ :نتیجتاً تُو بیٹھ رہے
مَلُوْمًا :ملامت کیا ہوا
مَّحْسُوْرًا:تھکا ہارا ہوتے ہوئے
اِنَّ رَبَّکَ :بے شک تیرا رب
یَبْسُطُ الرِّزْقَ :کشادہ کرتا ہے روزی کو
لِمَنْ: جس کے لیے
یَّشَآئُ :وہ چاہتا ہے
وَیَقْدِرُ: اور وہ اندازہ لگاتا ہے (یعنی ناپ تول کر دیتا ہے جسے چاہتاہے )
اِنَّہٗ کَانَ :یقیناً وہ ہے
بِعِبَادِہٖ :اپنے بندوں سے
خَبِیْرًا :ہر حال میں باخبر رہنے والا
بَصِیْرًا:ہر حال میں دیکھنے والا
نوٹ: معارف القرآن جلد۵ کے صفحات۴۵۱ تا ۴۵۷ میں والدین کے حقوق پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ ہم اس کے چند اقتباسات ذیل میں نقل کر رہے ہیں:
(۱) امام قرطبیؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے ادب و احترام اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کو اپنی عبادت کے ساتھ ملا کر واجب کیا ہے۔ جیسا کہ سورئہ لقمان (آیت۱۴)میں اپنے شکر کے ساتھ والدین کے شکر کو ملا کر لازم فرمایا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے شکر کی طرح والدین کا شکر گزار ہونا واجب ہے۔ (میرے خیال میں یہ بات ہمیں اس طرح سمجھنا چاہیے کہ اللہ کی اطاعت کے ساتھ والدین کی اطاعت اور اللہ کے شکر کے ساتھ والدین کا شکر لازم و ملزوم ہیں۔ مرتب)
(۲) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کے لیے اپنے ماں باپ کا فرمانبردار رہا اس کے لیے جنت کے دو دروازے کھلے رہیں گے‘ اور جو اُن کا نافرمان ہوا اس کے لیے جہنم کے دو دروازے کھلے رہیں گے‘ اور اگر ماں باپ میں سے کوئی ایک ہی تھا تو ایک دروازہ ۔ اس پر ایک شخص نے سوال کیا کہ یہ جہنم کی وعید اس صورت میں بھی ہے کہ ماں باپ نے اس پر ظلم کیا ہو ؟تو آپؐ نے تین مرتبہ فرمایا: ((وَاِنْ ظَلَمَا، وَاِنْ ظَلَمَا، وَاِنْ ظَلَمَا)) ’’اگرچہ ان دونوں نے ظلم کیاہو۔‘‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ اولاد کو ماں باپ سے انتقام لینے کا حق نہیں ہے۔ اگر انہوں نے ظلم کیا تو اسے اجازت نہیں ہے کہ وہ ان کی خدمت اور اطاعت سے ہاتھ کھینچ لے۔
(۳) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی رضا باپ کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضی باپ کی ناراضی میں ہے۔ (ایک حدیث میں ماں کے حق کو باپ کے حق سے تین گنا فوقیت دی گئی ہے۔ اس کے حوالہ سے مَیں نے ایک عالم دین سے پوچھا تھا کہ ماں اور باپ میں سے کس کا حق زیادہ ہے تو انہوں نے فرمایا کہ خدمت گزاری میں ماں کا حق باپ سے زیادہ ہے اور اطاعت میں باپ کا حق ماں سے زیادہ ہے۔ مرتب)
(۴) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ باقی سب گناہوں کی سزا تو اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں قیامت تک مؤخر کر دیتے ہیں بجز والدین کی حق تلفی اور نافرمانی کے کہ اس کی سزا آخرت سے پہلے دنیا میں بھی دی جاتی ہے۔
(۵) اس پر علماء و فقہاء کا اتفاق ہے کہ والدین کی اطاعت صرف جائز کاموں میں واجب ہے۔ ناجائز یا گناہ کے کام میں واجب تو کیا جائز بھی نہیں ہے۔ (کیونکہ) حدیث میں ہے کہ ’’خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔‘‘
(۶) ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جہاد میں شریک ہونے کی اجازت لینے کے لیے حاضر ہوا۔ آپؐ نے اس سے دریافت کیا کہ کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا : ہاں زندہ ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ((فَفِیْھِمَا فَجَاھِدْ))’’تو پھر تم ان دونوں میں جہاد کرو‘‘۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی خدمت میں ہی تمہیں جہاد کا ثواب مل جائے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب تک جہاد فرضِ کفایہ کے درجے میں ہے اس وقت تک کسی کے لیے والدین کی اجازت کے بغیر جہاد میں شریک ہونا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح جب تک کوئی کام فرضِ کفایہ کے درجے میں ہو تو اولاد کے لیے وہ کام ماں باپ کی اجازت کے بغیر کرنا جائز نہیں ہے۔ جس کو بقدرِ فرض دین کا علم حاصل ہے ‘وہ عالم بننے کے لیے سفر کرے یا لوگوں کو تبلیغ و دعوت کے لیے سفر کرے تو یہ والدین کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے۔
(۷) ایک شخص نے سوال کیا : یا رسول اللہ ( ﷺ) ماں باپ کے انتقال کے بعد بھی ان کا کوئی حق میرے ذمہ باقی ہے؟ آپﷺ نے فرمایا:’’ ہاں! ان کے لیے دعاءِ مغفرت و استغفار کرنا ‘ جو عہد انہوں نے کسی سے کیا تھا اس کو پورا کرنا ‘ ان کے دوستوں کا احترام کرنا اور ان کے ایسے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا جن کا رشتہ صرف ان ہی کے واسطے سے ہے۔ والدین کے یہ حقوق ہیں جو ان کے بعد بھی تمہارے ذمہ باقی ہیں۔‘‘
(۸) والدین اگر مسلمان ہوں تو ان کے لیے رحمت کی دعا ظاہر ہے‘ لیکن اگر وہ مسلمان نہ ہوں تو ان کی زندگی میں یہ دعا {رَبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا} اس نیت سے جائز ہوگی کہ ان کو دنیا کی تکالیف سے نجات ہو اور ایمان کی توفیق ہو‘ لیکن مرنے کے بعد ان کے لیے یہ دعائِ رحمت جائز نہیں ہے۔
(۹) ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی کہ میرے باپ نے میرا مال لے لیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا : اپنے باپ کو بلا کر لائو۔ اسی وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور کہا کہ جب اس کا باپ آ جائے تو آپؐ اس سے پوچھیں کہ وہ کلمات کیا ہیں جو اُس نے دل میں کہے ہیں اور خود اس کے کانوں نے بھی ان کو نہیں سنا۔ جب وہ اپنے والد کو لے کر آیا تو آپﷺ نے اس سے کہا کہ تمہارا بیٹا شکایت کرتا ہے کہ تم یہ چاہتے ہو کہ اس کا مال چھین لو۔ والد نے کہا کہ آپؐ اس سے پوچھیں کہ میں اس کی پھوپھی‘ خالہ یا اپنی جان کے سوا کہاں خرچ کرتا ہوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ اِیْہ‘‘ اس کا مطلب یہ تھا کہ بس حقیقت معلوم ہو گئی‘ اب اور کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بعد اس کے والد سے پوچھا کہ وہ کلمات کیا ہیں جن کو ابھی تک خود تمہارے کانوں نے بھی نہیں سنا۔ اس نے کہا :یا رسول اللہ ( ﷺ) اللہ تعالیٰ ہر معاملہ میں آپؐ پر ہمارا ایمان بڑھا دیتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ مَیں نے چند اشعار دل میں کہے تھے جن کو میرے کانوں نے بھی نہیں سنا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ وہ ہمیں سنائو۔ اس نے وہ اشعار سنائے جن کا ترجمہ یہ ہے:
’’ مَیں نے تجھے بچپن میں غذا دی اور جوان ہونے کے بعد بھی تیری ذمہ داری‘ تیرا سب کھانا پینا میری ہی کمائی سے تھا۔ جب کسی رات میں تجھے کوئی بیماری پیش آ گئی تو مَیں نے تمام رات بے داری اور بے قراری میں گزاری۔ گویا کہ تیری بیماری مجھے ہی لگی ہے جس کی وجہ سے تمام شب روتا رہا۔ میرا دل تیری ہلاکت سے ڈرتا رہا ‘حالانکہ مَیں جانتا تھا کہ موت کا ایک دن مقرر ہے جو آگے پیچھے نہیں ہو سکتا۔ پھر جب تم اس عمر کو پہنچ گئے جس کی مَیں تمنا کیا کرتا تھا تو تم نے میرا بدلہ سخت کلامی بنا دیا ۔گویا کہ تُو ہی مجھ پر احسان کر رہا ہے۔ کاش اگر تجھ سے میرے باپ ہونے کا حق ادا نہیں ہو سکتا تو کم از کم ایسا ہی کر لیتا جیسا ایک شریف پڑوسی کیا کرتا ہے۔‘‘
رسول اللہ ﷺ نے یہ اشعار سن کر بیٹے کا گریبان پکڑ لیا اور فرمایا : ((اَنْتَ وَمَالُکَ لِاَبِیْکَ))’’تو بھی اور تیرا مال بھی تیرے باپ کے لیے ہے۔‘‘ (ڈاکٹر غلام مرتضیٰ مرحوم نے اپنے ایک خطاب میں فرمایا تھا کہ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ بیوی بچوں کا خرچ پورا نہیں ہوتا تو والدین کو کہاں سے دیں؟ مَیں ان سے کہتا ہوں کہ میرے بھائی آپ کا سوال غلط ہے۔ اگر آپ مجھ سے پوچھتے کہ والدین کا خرچ پورا نہیں ہوتا تو بیوی بچوں کو کہاں سے دیں؟پھر مَیں آپ کو بتاتا کہ آپ کو کیا کرنا چاہیے۔ مرتب)
نوٹ۲: فضول خرچی کے معنی کو قرآن حکیم نے دو لفظوں سے تعبیر فرمایا ہے‘ ایک تبذیر اور دوسرا اسراف۔ تبذیر کی ممانعت تو زیر مطالعہ آیت۲۶ سے واضح ہے جبکہ اسراف کی ممانعت {وَلَاتُسْرِفُوْاج } (الاعراف:۳۱) سے ثابت ہے۔ بعض حضرات نے یہ تفصیل کی ہے کہ کسی گناہ میں یا بالکل بےموقع اور بےمحل خرچ کرنے کو ’’تبذیر‘‘ کہتے ہیں اور جہاں خرچ کرنے کا جائز موقع تو ہو مگر ضرورت سے زیادہ خرچ کیا جائے تو اس کو ’’اسراف‘‘ کہتے ہیں۔ اس لیے تبذیر بہ نسبت اسراف کے زیادہ سخت ہے اور مبذرین کو شیطان کا بھائی قرار دیاہے۔ (معارف القرآن)
tanzeemdigitallibrary.com © 2026