فلسفہ ٔ نعمت و مصیبت
قاری محمد طیب قاسمی ؒکی کتاب کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہڈاکٹر رشید ارشد
قاری محمد طیب قاسمیؒ (۱۸۹۷-۱۹۸۳ء) کی کتاب ’’فلسفہ ٔ نعمت و مصیبت‘‘ اُن دیرپا‘ گہرے اور وجودی سوالات سے نبرد آزما ہونے کی ایک علمی و دینی کوشش ہے‘جو اپنی نوع میں تقدیری نوعیت کے سوالات ہیں۔ ان کے جوابات مولانا قاری طیب قاسمیؒ نے نہایت فکری انداز میں پیش کیے ہیں۔ یہ کتاب دو وجوہات کی بنا پر اس طالب علم کے خصوصی مطالعے اور تبصرے کا مرکز بنی۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے زمانے میں فکری سطح پر ایک عجیب کشمکش کا شکار ہیں۔ ایک طرف روزمرہ کے معاشی‘ سیاسی اور سماجی مسائل ہیں جن میں ہم اُلجھے رہتے ہیں‘ اور دوسری طرف وہ وجودی سوالات ہیں جن کا تعلق انسان کے بنیادی تجربات سے ہے‘ جیسے مصائب ‘ دکھ‘ اذیت‘ موت‘ خیر و شر اور انسانی بےبسی۔ معروف فرانسیسی شاعر بودلئیر (Baudelaire) نے جدیدیت کی تعریف ان الفاظ میں کی تھی:
" Modernity is the transient, the fleeting, the contingent, and the eternal immutable".
یعنی جدیدیت کا چہرہ بظاہر لمحاتی‘ عارضی اور تغیّر پزیر ہے‘ مگر اس کے اندر ایک ابدی اور غیر متغیر روح کارفرما ہے۔ اسے علامہ اقبال نے بھی اپنی نظموں میں بڑی خوبی سے سمویا ہے۔ بالِ جبریل کی ایک نظم میں مرید ہندی کی فریاد اور مرشد رومی کا جواب ہماری اس کشمکش کی علامت ہے جو زمین و آسمان کے درمیان پھنسی ہوئی انسانی روح کی کیفیت ہی کا بیان ہے۔ کتاب کے انتخاب کی دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ یہ ہمارے اپنے علمی و تہذیبی سیاق سے جنم لینے والی تصنیف ہے۔ مصنف مولانا قاری طیب قاسمیؒ کوئی مغرب پلٹ دانشور یا مغربی جامعات کے تربیت یافتہ مفکر نہیں تھے‘ بلکہ ہمارے اپنے علمی تمدن سے جڑے ہوئے ایک مذہبی آدمی تھے۔ انہوںنے مغربی فکر سے مرعوب ہوئے بغیر سنجیدہ سوالات پر قلم اٹھایا اور ان کے بھرپور جواب فراہم کرنے کی سعی کی۔
مابعد نوآبادیاتی ماحول میں رہنے والے مسلم معاشروں میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ ایک خاص طرح کا احساسِ کمتری ان میں رچ بس گیا ہے۔ اگرہم کسی بھی پاکستانی شہر کے اردو بازار میں علومِ اسلامیہ پر دستیاب لٹریچر کا مشاہدہ کریں تو اندازہ ہوگا کہ علمی زوال کس حد تک سرایت کرچکا ہے۔ ایک بھارتی نژاد سنگاپورین مفکر کشور محبوبانی نے کچھ عرصہ پہلے سوال اٹھایا تھا کہ Can the Asians think?? اورایرانی نژاد امریکی صاحبِ فکر حامد دباشی نے سوال اٹھایا کہ Can non-European think?? ۔اسی نوعیت کا سوال مشہور مابعد استعماری مصنفہ گائتری اسپیواک نے اٹھایا تھا کہ Can the Subaltern speak?? ۔ ’’فلسفۂ نعمت ومصیبت‘‘ ایک ایسی کتاب ہے جسے پڑھ کر فخر محسوس ہوتا ہے۔اس کتاب کو سامنے لانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے تاکہ اس سوال کا جواب yes میں دیا جاسکے۔
Yes, they can think. And they have thought profoundly.
مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ محض ایک عالم دین یا مدرسے کے معلم نہیں تھے‘ بلکہ دارالعلوم دیوبند جیسے قدیم اور موقر مدرسے کے مہتمم بھی رہے اور ایک ایسے خانوادے سے تعلق رکھتے تھے جس نے برصغیر کے دینی‘ فکری اور تحریکی افق پر گہرا اثر ڈالا۔ آپ مولانا قاسم نانوتویؒ کے پوتے تھے‘ جنہیں برصغیر کا غیر معمولی علمی دماغ قرار دیا جاسکتا ہے۔مولانا نانوتویؒ کی اردو تحریریں اس قدر بلند فکری سطح کی حامل ہیں کہ آج مدارس کے اکثر فضلاء ان کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ مولانا قاری محمد طیب قاسمی ؒکے اندر وہ حکمت اور توازن نمایاں نظر آتا ہے جس کی جھلک مولانا اشرف علی تھانویؒ جیسے بزرگوں میں ملتی ہے۔ قاری صاحب ؒکے مزاج میں یہی حکمت‘ وسعت اور فکری توازن ان کی تحریروں کو محض واعظانہ یا فقہی نہیں رہنے دیتا‘ بلکہ ان میں ایک ایسا فلسفیانہ رنگ بھر دیتا ہے جو عام دینی لٹریچر میں ناپید ہے۔ ’’فلسفۂ نعمت و مصیبت‘‘ ان کی فکری وسعت کا مظہر اور ان کی شخصیت اور اسلوبِ نگارش کا مظہر ہے۔
خیر و شر کا معمہ: عقل‘ ایمان اور انسانی تجربہ
مسئلۂ خیر و شرنے تاریخ انسانی کے ہر دور میں انسان کو الجھا ئے رکھا۔ چاہے وہ سقراط اور افلاطون ہوں‘ سینٹ آگسٹائن اور تھامس ایکوئنس ہوں‘ یا پھر ہمارے ہاں کے قریب کے اصحابِ فکر یعنی علامہ اقبال‘ سب نے اس سوال پر غور کیا ہے کہ آخر ’’شر‘‘ اگر خدا کی مخلوق ہے تو وجود میں کیوں آیا! انسان اس دکھ‘ اذیت‘ اور ظلم کو کیسے سمجھے؟ مولانا قاری طیب قاسمیؒ نے مذکورہ کتاب میں اسی سوال اور اس سوال سے جنم لینے والے ضمنی سوالات اور ان کے ادھورے جوابات جو کہ انکارِ وجودِ خدا پر منتج ہوتے ہیں‘ کا دینی اور فلسفیانہ تجزیہ پیش کیاہے۔ مسئلۂ شرفلسفے میں صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔ یہ مسئلہ فلسفے اور علمِ کلام تک محدود نہیں بلکہ ہر اُس شخص کا سوال ہے جو کرب‘ اذیت اور انسانی دکھوں کا مشاہدہ اور تجربہ کرتا ہے۔ خاص طور پر یہ سوال اس وقت بہت اہمیت اختیار کرجاتا ہے جب جدید انسان دکھ‘ اذیت‘ جنگ‘ عسکری شدت پسندی اور انسانی ظلم کو دیکھ کر خدا کے وجود ہی پر سوال اٹھاتا ہے۔ ایک مقامی دانشور نے الحاد کے اسباب پر بات کرتے ہوئے تین بڑی وجوہات بیان کی تھیں:
۱) خدا کا انکار ممکن ہےیعنی یہ امکان خود خدا نے رکھا ہے۔
۲) دنیا میں دکھ و الم‘ اذیت‘ مصائب اور شر کا مسئلہ
۳) خدا کے ماننے والے یعنی ان کا کردار‘ متشدد رویے‘ تنگ نظری اور مذہب کے نام پر فساد
یہ بات بالکل درست ہے کہ الحاد کی نئی لہر یعنی نیو ا یتھیزم جیسی تحریکوں کا پس منظر کونیاتی یا مابعدالطبیعی نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی تھا۔ نائن الیون کے بعد جو مذہبی دہشت گردی پھیلی اس نے مغرب ہی نہیں‘ خود مسلم معاشروں کے کئی نوجوانوں کو بھی الحاد کی طرف مائل کیا۔ پاکستان میں‘ خاص طور پر جنرل پرویز مشرف کے دور میں‘ سینکڑوں نوجوانوں کو اس داخلی سوال نے جھنجھوڑا کہ: کیا واقعی مذہب کا خدا امن و رحمت کا نمائندہ ہے یا تشدد کا جواز؟ اس تناظر میں مسئلۂ خیر و شر کا فکری اور دینی تجزیہ بہت اہم ہے۔ مصنف کی یہ کاوش مغرب کے فلسفیوں کے قائم کردہ سوالات کے مقابلے میں ایک مقامی‘ دینی اور فکری زاویے سے جواب پیش کرتی ہے۔ وہ نہ تو مسئلے سے فرار اختیار کرتے ہیں‘ نہ ہی محض اخلاقی موشگافیوں میں الجھتے ہیں‘ بلکہ اس سوال کو وجودی‘ ایمانی‘ اور الٰہیاتی سیاق میں رکھ کر بات کرتے ہیں۔اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آج جب نوجوان نسل فکری بے یقینی‘ وجودی بحران اور مذہبی الجھنوں کا شکار ہے‘ ہمیں ایسے ہی اہل حکمت کی ضرورت ہے‘ جو اپنی روایت سے جڑے ہوئے ہوں‘ مگر عہدِ حاضر کے سوالات سے بھی بے نیاز نہ ہوں۔
مسئلۂ شر کا تصور ہمیشہ سے انسانی فکر کا ایک بنیادی سوال رہا ہے۔ اس کی فلسفیانہ جڑیں ہمیں یونانی فلسفی ایپیکیورس (Epicurus) کے ایک سوال میں ملتی ہیں۔ اس نے خدا کی صفات‘ یعنی Omnipotent (عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ)‘ Omniscient (بِکُلِّ شَیْ ءٍ عَلِیْمٌ) اور Omnibenevolent (الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ) کو تسلیم کرتے ہوئے یہ اشکال پیش کیا کہ اگر خدا ان صفات کا حامل ہے‘ تو پھر دنیا میں شر اور دکھ کیوں موجود ہے؟ اگر وہ جانتا ہے کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے‘ اگر وہ چاہے تو اسے روک سکتا ہے‘ اور اگر وہ اپنی مخلوق سے محبت کرتا ہے تو پھر وہ مصائب میں کیوں مبتلا کرتا ہے؟ اس سوال کا ایک عام جواب یہ دیا جاتا ہے کہ ضرور اس کے پیچھے کوئی حکمت یا سبب ہوگا‘ جسے ہم نہیں سمجھ سکتے۔ مگر یہی جواب آگے چل کر ایک نئے سوال کی بنیاد بن جاتا ہے‘ جسے Evidential Problem of Evil کہا جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ ایک اور پہلو سامنے آتا ہے‘ جسے Existential Problem of Evil کہا جاتا ہے۔ یہ محض ایک فلسفیانہ مسئلہ نہیں‘ بلکہ ایک گہری انسانی کیفیت ہے۔ یہ کیفیت اس وقت جنم لیتی ہے جب انسان کسی شدید ذاتی دکھ‘ صدمے یا حادثے سے گزرتا ہے اور خدا کو پکارنے کے باوجود اسے خاموش پاتا ہے۔ یہ کیفیت نہایت ذاتی ہوتی ہے اور اس کا جواب دینا سب سے مشکل امر ہے‘ بلکہ سچ یہ ہے کہ اس کا کوئی فیصلہ کن جواب سرے سے موجود ہی نہیں۔ مرزا غالب نے کہا تھا: ؎
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں!سینٹ آگسٹائن کا ایک جملہ قابلِ غور ہے کہ:
" God had one son on earth without sin, but never one without suffering."
یہ ایک عجیب تضاد (paradox)ہے کہ جس ہستی کو گناہ سے نجات دلانے والا مانا گیا‘ یعنی حضرت مسیح‘ وہی سب سے زیادہ اذیت سے گزرے۔
مسئلۂ شر کا یہی وجودی پہلو انسان کو کہیں کہیں الحاد کی طرف بھی دھکیلتا ہے۔ الحاد کی کہانیوں میں بھی ہمیں ایسے ہی واقعات اور جذبات کا تذکرہ ملتا ہے: کسی کو کوئی دکھ پہنچا‘ کسی کی دعا قبول نہ ہوئی‘ یا خدا سے بار بار مانگنے کے باوجود کوئی جواب نہ ملا۔ اس خلا اور خاموشی نے انسان کو خدا سے دور کر دیا۔ جیسے ہمارے ہاں اسلام لانے کی داستانیں ملتی ہیں‘ ویسے ہی ترکِ دین یا الحاد اختیار کرنے والوں کی داستانیں بھی کسی درجے میں انسانی کرب اور بے بسی کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان سب کا مرکزی سوال یہی ہوتا ہے: میں نے اتنا پکارا‘ مگر اس نے جواب کیوں نہ دیا؟ اس بابت کئی اقوال اور کئی کتب اپنے مشہو رعنوان کے ساتھ سامنے آتی ہیں۔ مثال کے طور پر Where was God in Auschwitz?? جیسے سوالات اور When Bad Things happen to Good People جیسی کتب۔ یعنی جب برے لوگوں کے ساتھ برا ہوتا ہے تو ہم اسے مکافاتِ عمل یا Karma کہہ کر تسلی دے لیتے ہیں‘ مگر جب اچھے لوگوں‘ نیکو کاروں اور صالحین کے ساتھ برا ہوتا ہے تو پھر کیا جواز بچتا ہے؟
فلسفۂ آفات و مصائب: مذہبی و الحادی فکر کے مکالمے میں قاری محمد طیب کا نقطۂ نظر
زیر ِ نظر کتاب دراصل اسی سوال کے مختلف جہات سے جائزے پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب ۱۹۳۸ء میں لکھی گئی۔ اس کی تحریک ایک مخصوص لٹریچر سے ہوئی جو دہریہ فکر کے حامل افراد کی جانب سے شائع ہوا تھا۔ اس میں کچھ سوالات درج تھے‘ جنہیں قاری محمد طیب صاحب نے بڑی دیانت داری سے اولاً ترتیب دیا‘ یعنی بکھرے ہوئے سوالات کو باقاعدہ منظم کیا‘ اور پھر ان کا مفصل علمی و فکری جواب دیا۔ یہ ایک بڑی خوبی ہے کہ وہ جس فکر پر تنقید کر رہے تھے‘ پہلے اس کا مقدمہ پورے انصاف سے بیان کیا۔ وہ رسالہ جس پر کتاب کی بنیاد رکھی گئی‘ وہ اتنا منتشر اور بے ترتیب تھا کہ عام قاری اسے ایک طرف پھینک دیتا۔ قاری محمد طیب قاسمی صاحب نے ان سوالات کو سنجیدگی سے لیا‘ ان کی تہ میں جھانکا‘ اور پھر ان سے پیدا ہونے والے اعتراضات کا موزوں انداز میں ردّ کیا۔ یہی خوبی اس کتاب کو غیر معمولی بناتی ہے۔ راقم جب یہ کتاب پڑھ رہا تھا تو سوچ رہا تھا کہ اس کی عظمت اور گہرائی کو قاری کے سامنے کیسے پیش کیا جائے‘کیونکہ اس کتاب کا خلاصہ کرنا ایک انتہائی دشوار عمل ہے۔ البتہ میں اس کوشش میں ہوں کہ کم از کم اس کی اہمیت واضح کر سکوں۔ ایک پرانے مفکر کا جملہ پڑھا جو اس مشکل کو خوب صورتی سے بیان کرتا ہے:
" I am a firm believer in the distance between the hand that writes and the eye that reads. And this distance cannot be augmented, because hand and eye are not located in the same body."
اگر خدا کو رحیم و کریم مانا جائے‘ اور اگر وہ ماں باپ سے بھی زیادہ شفیق اور مہربان ہے‘ تو پھر یہ سوال اُبھرتا ہے کہ وہ مصائب اور آفات کیوں نازل کرتا ہے؟ کیوں بے گناہ انسانوں کو ایسی تکالیف میں مبتلا کرتا ہے جن میں اُن کا کوئی عمل دخل بھی نہیں ہوتا؟ عام طور پر شر کی دو اقسام بیان کی جاتی ہیں: اخلاقی شر (Moral Evil) اورفطرتی شر(Natural Evil) ۔ اخلاقی شر میں قتل‘ ظلم‘ چوری‘ فساد‘ جس میں انسانی ایجنسی شامل ہو‘ شمار ہوتے ہیں۔ اس کا دفاع نسبتاً آسان ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ انسان کو آزاد ارادہ (Free Will) دیا گیا ہے‘ اور چونکہ آزادی بذات خود ایک خیر (Good)ہے‘ اس لیے اگر انسان اس آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے تو اس کا ذمہ دار خود انسان ہے نہ کہ خدا۔طبیعی‘ قدرتی یا فطرتی شر میں زلزلے‘ طوفان‘ سیلاب‘ بیماری‘ طاعون‘ جو بظاہر انسانی عمل سے آزاد ہوتے ہیں‘ جیسے مصائب اور عذاب شامل ہیں۔ ان کا دفاع زیادہ مشکل ہوتا ہے‘ کیونکہ یہاں خدا کی براہِ راست مداخلت واضح ہوتی ہے۔ اکثر ایسے مواقع دیکھنے کو ملتے ہیں جب بظاہر خدا کے فعل سے پورے گھر اجڑ جاتے ہیں۔ مثلاً اگر کشمیر میں آنے والے زلزلے میں سینکڑوں بچے ایک ہی وقت میں مر جائیں‘ تو یہ سوال اُٹھتا ہے کہ ان بچوں کا کیا قصور تھا! وہ تو ابھی فہم و تمیز کی عمر میں بھی نہیں پہنچے تھے۔ اسی طرح بے شمار بے زبان جانور بھی ان آفات کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ واقعات بظاہر خدا کی رحمت کے تصور سے مطابقت نہیں رکھتے۔ فلاسفہ اس کے دفاع میں مختلف نقطہ ہائے نظر پیش کرتے ہیں۔ ایک معروف موقف Soul-Making Theodicyہے۔ اس کے مطابق انسان کی روحانی ترقی اور کمال کی راہ انہی آزمائشوں اور مصائب سے ہو کر گزرتی ہے۔ اگر دنیا میں کوئی دکھ یا رکاوٹ نہ ہو‘ تو انسان کے اندر چھپی صلاحیتیں کیسے ظاہر ہوں گی؟ مگر اس نقطہ نظر پر بھی اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ کیا یہی مقصد حاصل کرنے کے لیے کوئی کم تکلیف دہ طریقہ نہیں اختیار کیا جا سکتا تھا!
اسی طرح آزادی ٔارادہ کے بارے میں بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر خدا چاہتا‘ تو انسان کو ارادہ تو دے دیتا مگر اس ارادے کی عملی تکمیل کو روک دیتا‘ یعنی بدی کے ارادے کوactualize نہ ہونے دیتا۔ یا پھر بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر خدا پہلے سے سب کچھ جانتا ہے‘ اور ہم سب ایانِ ثابتہ (یعنی خدا کے علم میں پہلے سے موجود ممکنات) کی صورت میں اس کے علم میں موجود تھے‘ تو اس سب کو عمل کی دنیا میں لانے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا یہ سب کچھ صرف خدا کے ذہن میں موجود رہ کر ہی کافی نہیں تھا؟
مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ اس مسئلے کو فلسفیانہ سطح پر سینٹ آگسٹائن اور ابن عربیؒ کے نظریات کی روشنی میں بیان کرتے ہیں۔ وہ وجود (Being) اور عدم (Non-being) کے فرق کو بنیاد بناتے ہیں۔ سینٹ آگسٹائن کے مطابق Evil دراصل کوئی موجود شے نہیں بلکہ خیر (Good) کی غیر موجودگی ہے۔ جیسے کپڑے میں ’’پھٹا ہوا‘‘ حصہ دراصل کوئی موجود شے نہیں بلکہ کسی موجود شے (کپڑے) میں پیدا ہونے والا شگاف ہے۔شر بھی اسی طرح عدم ہے‘ یعنی خیر کے فقدان کا نام۔ مولانا قاری محمد طیب قاسمی ؒ کے بقول‘ لوگ اس مسئلے کو اس لیے نہیں سمجھ پاتے کیونکہ وہ ’’ربطِ حادث بالقدیم‘‘ کو نہیں سمجھتے‘ یعنی مخلوق (حادث) اور خالق (قدیم) کے تعلق کو۔ جب تک یہ تعلق درست طریقے سے نہ سمجھا جائے‘ شر اور خیر کا مسئلہ انسانی ذہن میں الجھتا ہی رہے گا۔ فلسفے کی ابتدا ہی ان بنیادی سوالات سے ہوئی تھی کہ’’کیا ہے؟‘‘‘ ’’کیا ہمیشہ سے ہے؟‘‘ اور ’’کیا ہمیشہ رہے گا؟‘‘ یونانیوں سے مسلم فلاسفہ تک اور آج کے جدید مفکرین تک‘ یہ سوالات فکر کا مرکز رہے ہیں۔ ان ہی سوالات سے ایک بنیاد قائم ہوئی جسے فلسفہ ٔ اولیٰ (First Philosophy) یا مابعدالطبیعیات (Metaphysics) کہا گیا۔ اسی میں ہم نے یہ تقسیم پائی کہ ایک ’’قدیم‘‘ ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا‘ جبکہ باقی تمام چیزیں ’’حادث‘‘ ہیں‘ یعنی کبھی نہ تھیں‘ پھر ہوئیں‘ اور دوبارہ نہ ہوں گی۔ اسلامی فلسفے میں واجب الوجود کی اصطلاح اسی قدیم کے لیے استعمال ہوئی‘ وہ ذات جس کا نہ ہونا محال ہے‘ جو ہر شے کی علت ِاولیٰ ہے‘ اور جس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ محض ممکن الوجود ہے۔ انسان‘ کائنات‘ وقت‘ حرکت‘ سکون‘ زندگی‘ موت‘ سب اسی ممکنات میں آتے ہیں‘ جن کا ہونا بھی ممکن ہے اور نہ ہونا بھی۔ اس ناپائیداری کی گواہی ہم اپنی زندگی میں لمحہ بہ لمحہ پاتے ہیں۔ ہماری ذات’’عدم‘‘ کے گارے سے بنی ہے۔ اس لیے ہمارے وجود میں ہمیشہ ایک خلا‘ ایک نارسائی‘ ایک کجی اور اضطراب موجود رہتا ہے۔ کبھی بدن ٹوٹتا ہے‘ کبھی روح بکھرتی ہے‘ کبھی رشتے‘ کبھی خواب۔ انسان کا وجود گویا لمحہ لمحہ عدم کی طرف لڑھکتا ہوا وجود ہے۔ یہی وہ نقطۂ آغاز ہے جس سے خدا کا تصور ابھرتا ہے‘ایک ایسا وجود جو عدم سے پاک ہے‘ جو قائم بالذات ہے‘ جو فنا سے محفوظ ہے‘ اور جو ہمیں وجود عطا کرتا ہے۔
شام آئے اور دل کے لیے کوئی گھر نہ ہو
آج کے انسان کو مذہب سے جتنی شکایتیں ہیں‘ اتنی شاید کسی اور نظامِ فکر سے نہ ہوں۔ اسے فرسودہ‘ غیر عقلی اور جبر کا نمائندہ قرار دیا گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر مذہب کو رد کر دیا جائے تو اس کے نعم البدل کے طور پر کیا باقی رہ جاتا ہے؟ جن لوگوں نے خدا کے وجود کو مسترد کیا‘ انہوں نے اکثر ’’مادہ‘‘ یا ’’طبیعی علتوں‘‘ کو مطلق مانا۔ لیکن کیا مادے کے پاس معنیٰ ہیں؟ کیا ایک اندھے‘ بہرے‘ بے حس نظام سے انسان کو وہ دلاسا‘ وہ سہارا‘ وہ حوصلہ مل سکتا ہے جو مذہب عطا کرتا ہے؟
مشہور سوئس مفکر ایلن ڈی بوٹون (Alain de Botton) جو ایک دہریہ ہیں‘ اپنی کتاب Religion for Atheists میں تسلیم کرتے ہیں کہ مذہب کی جو تسلی بخش قوت (consoling power) ہے‘ وہ کوئی دوسرا نظام فراہم نہیں کر سکا۔ اب جو لوگ اندھے مادے کو مانتے ہیں وہ کس طرف کو جائیں گے؟ ان کے پاس کون سا دلاسا ہے؟ ہم پر دنیاوی مصائب آن پڑتے ہیں تو تسلی ہوتی ہے کہ چلو بعد از موت کچھ ہوجائے گا‘ لیکن جو اس کو مانتا ہی نہیں اس کا کیا؟ اختر عثمان کا کیا خوب صورت شعرہے: ؎
شام آئے اور گھر کے لیے دل مچل اٹھے
شام آئے اور دل کے لیے کوئی گھر نہ ہو!یہاں تک کہ مارکس‘ جسے مذہب کا سب سے شدید ناقد سمجھا جاتا ہے‘ جب کہتا ہے کہ مذہب عوام کی افیون ہے تو وہ طنز سے نہیں‘ بلکہ ہمدردی سے کہتا ہے۔ مذہب‘ انسان کی اس ٹوٹی ہوئی کیفیت کا واحد مرہم ہے جس کا بدل نہ الحاد دے سکا‘ نہ مادیت‘ نہ سائنس۔
کتاب کا بنیادی مقدّمہ وجود اور عدم کی بحث پر قائم ہے۔ مخزنِ وجود خد اکی ذات ہے جب کہ منبع عدم مخلوق ہے‘ یعنی وجود خدا کی طرف سے آتا ہے اور عدم مخلوق کی طرف سے۔ وجود خیر ہے جب کہ عدم شر۔ ہر موجود شے وجود رکھتی ہے اور اس کا وجود ممکن ہے۔ طوفان بھی مخلوق ہے‘ حیات اور موت بھی مخلوق ہیں۔ اگر صحت مخلوق ہے تو بیماری بھی۔ اگر تونگری مخلوق ہے تو غربت بھی۔ اگر غلبہ مخلوق ہے تو مغلوبیت بھی۔ ان سب کی موجودگی محض حادثاتی نہیں‘ بلکہ وہ بھی وجود کے دائرے میں آتے ہیں۔ چونکہ سب ما سوا اللہ یعنی ممکن الوجود ہیں‘ اس لیے ان کا زوال‘ ان کی ناپائیداری‘ ان کا بکھرنا‘ یہ سب لازمی ہے۔ انسانی تاریخ میں جو مشکلات‘ آفات اور سزائیں آتی ہیں‘ انہیں فطرت کی تعزیرات بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا ایک دوسرا فہم یہ بھی ہے کہ یہ ہماری اپنی بے اعتدالیوں کا نتیجہ ہیں۔ جیسا کہ فلسفۂ اخلاق میں Evil کا مسئلہ پیش آتا ہے‘ خاص طور پر قدرتی آفات کا شر‘ تو بعض مفکرین اس کی توجیہہ یہ کرتے ہیں کہ یہ شر درحقیقت انسانی غلطیوں کا مظہر ہے‘ نہ کہ خدا کی زیادتی۔ یہی بات ہمیں بعض صوفیاء اور متکلمین کے ہاں بھی ملتی ہے کہ جو کچھ ہماری طرف آتا ہے‘ وہ ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے‘ کیونکہ ہمارا وجود خود کسی توازن پر قائم نہیں بلکہ ایک ناپائیدار ممکن الوجود ہے‘ جو ہمیشہ عدم کی سرحد پر کھڑا رہتا ہے۔ موجودہ دور میں انسانیت کو درپیش سب سےبڑے مسائل یعنی موسمیاتی تبدیلی‘ سر پہ منڈلاتے ایٹمی جنگ کے خطرات اور انسان کی آپسی بیگانگیت کی جڑ تک پہنچیں تو مخلوق یعنی انسان کا عمل دخل ہی نظر آئے گا۔ یہ سامنے کی با ت ہے کہ معمولی سے معمولی مسئلہ ہویا کوئی گھمبیر معاملہ‘ اس پر جب غیر جانب داری سے غور کیا جائے تو بات ایسے اسباب تک جا پہنچتی ہے جو ہمارے اپنے ہی پیدا کیے گئے ہوتے ہیں۔
مولانا قاری محمد طیب قاسمی ؒنے مذکورہ کتاب میں لکھا ہے کہ مصائب تین طرح کے ہیں۔ ایک غیر اختیاری مصائب جن میں انفسی بھی ہیں اور آفاقی بھی‘ دوسرے اختیاری مصائب جو انسانی اعمال کی بدولت سامنے آتے ہیں‘ اور تیسرے ایسے ہیں جو شرعی مسائل کی وجہ سے منظر عام پر آتے ہیں۔ ایک اور اہم بات جوسامنے رکھی گئی ہے وہ یہ ہے کہ آپ مصائب اور آلام کو انکارِ خدا کی دلیل کے طور پر تو پیش کرتے ہیں لیکن آپ نے نعمتوں پر کبھی غور کیوں نہیں کیا! اگر ایک مصیبت ہے تو اس کے مقابل میں کئی نعمتیں بھی تو ہیں۔ اگر مصیبت کو انکارِ خدا کا سبب بنایا جاتا ہے تو نعمت کو اثباتِ خدا کا سبب کیوں نہیں بنایا جاتا ؟ جہاں تک وجودی مصائب ‘ دکھ و الم اور غم کا تعلق ہے‘ ان کا انسانی زندگی میں بہرحال ایک اہم کردار بھی ہے۔ اکبر نے کہا ہے: ؎
ان مصائب سے کام لے اکبر
غم بڑا مدرکِ حقائق ہے!کتاب کے مندرجات کا خلاصہ
مذکورہ کتاب دراصل ایک دہریہ جماعت کے رسالے ’’مذہب کے آنسو‘‘ میں پیش کیے گئے چند ایسے شکوک وشبہات کا جواب ہے جو کہ انکارِ خدا پر منتج ہوتے ہیں۔ ان شکوک و شبہات میں قدرتی آفات اور آسمانی مصائب و آلام کو بنیاد بنا کر خدا کے وجود پر اعتراض اٹھائے گئے۔ مصنف کے مطابق یہ شبہات ایسے تھے کہ اوّلاً ان میں کوئی معقول بات نہیں تھی۔ دوسرا یہ کہ محض اوہام و تخیلات کا مجموعہ تھے جن کا واحد مقصد بے جا تشکیک اور وسوسہ اندازی کو فروغ دینا تھا۔ مزید یہ کہ دہریہ جماعت کا یہ مقالہ اس قدر بے ربط اور بے ترتیب تھا کہ اس سے ان کا اصولی نتیجہ اخذ کرنا مشکل تھا ۔ یہ پتا لگانا آسان نہ تھا کہ یہ منکروں کی جماعت آیا وجودِ صانع کی منکر ہے؟یا اس کی صفات کی؟ یا افعال کی؟ اور پھر اس انکار کا منشا کیا ہے؟
زیر نظر کتاب کی خوبی یہ ہے کہ گو یہ ایک مذہبی عالم کی طرف سے لکھی گئی ہے لیکن اس میں جواب کی صورت فقط معتقدانہ نہیں بلکہ محققانہ اور فلسفیانہ نوعیت کی ہے۔ نقلی اور روایتی طرز کی بجائے عقلی اور برہانی ضوابط کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایک جوابی تحریر لکھی گئی ہے تاکہ سوال کرنے والے اس جواب پر بھی معترض نہ ٹھہریں۔ جواب کی معقولیت چونکہ سوال کی معقولیت پر منحصر ہے اس لیے پہلے مرحلہ میں بے ربط‘ بے ترتیب اور غیر معقول سوالات‘ شکوک و شبہات کو با ربط‘ با ترتیب اور معقولیت کے سانچے میں ڈھالا گیا۔ پیش کردہ جوابات کی فلسفیت میں نقل و روایت کا نچوڑ اور کتاب و سنّت کا لبِ لباب موجود ہے کیونکہ اس کی پشت پر مذہب کار فرما ہے۔ حوالے کے طور پر قرآن کی آیات کو ان کی بصیر ت کے ساتھ پیش کر کے اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ قرآنی آیات کو اندھے بہروں کی طرح قبول کرنے کی بجائے بصیرت کے ساتھ قبول کرنا ہی معقولیت پسند انسان کا شیوہ ہے۔
چونکہ منکرین کی جماعت نے کئی اسباب کے باعث آفات و مصائب کے غیر مختتم سلسلہ سے گھبرا کر انہیں خدا کے انکار کا ذریعہ بنایا‘ اس لیے جوابی تحریر میں اولاً فلسفۂ نعمت و مصیبت سے پردہ اٹھایا گیا۔ دوسرا اُس حاصل کردہ حقیقت کی روشنی میں ان مذکورہ شبہات کی بنیادیں منہدم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پیدا شدہ ان اوہام و شبہات کی بنیادی وجہ ایک اور حقیقت سے جہالت و ناواقفیت ہے اور وہ مسئلۂ ربط حادث بالقدیم ہے کہ حادث کو قدیم سے کیا علاقہ ہے! عدم اور وجود میں کیا نسبت ہے؟ ان وجود پانے والے معدومات کو سرچشمہ وجود سے کیا ربط ہے؟
مصنف کے مطابق اس علاقہ کی صحیح دریافت پر مذاہب و شرائع کی بنیاد قائم ہے جبکہ اس کے غلط تصور سے مختلف جاہلانہ اور باطل فرقے رونما ہوئے۔ اس مسئلے کے غلط تصور سے دہریہ انکارِ خدا کے فتنے کا شکار ہوئے‘ قدریہ وجبریہ انکارِ صفات کی راہ چل پڑے‘ معتزلہ انکارِ افعال کی راہ ہو لیے۔ اس طرح تکوین و تشریع کا فرق اوجھل ہونے سے تقدیر و تدبیر کی درمیانی نسبت حل نہ ہوسکی۔ اسی مسئلے کی ناواقفیت سے موجودہ ادوار کے دہریہ حوادث و آفات کا صحیح علاقہ ذاتِ باری تعالیٰ سے نہ جوڑ سکے۔
کتاب کے اساسی عنوانات میں سے اہم عنوانات یہ ہیں:’’کائناتِ عالم کی حقیقت اور ربّ ِعالم سے اس کا تعلق‘‘‘ ’’آفات و مصیبت کا سرچشمہ کہاں ہے؟‘‘‘ ’’آفات و مصائب کے ظہور کی کیفیت‘‘ اور ’’انسانی مصائب کی تین انواع ‘ یعنی تکوینی تغیرات‘ اکتسابی آفات اور انتقامی تعزیرات۔‘‘ یہ تمام مباحث دراصل اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ مصائب و آلام محض اتفاقی یا بے معنیٰ واقعات نہیں بلکہ نظامِ تخلیق اور سُنّت ِالٰہی کے گہرے اصولوں سے مربوط ہیں۔
سوالات
ذیل میں دہریوں کے سوالات مختصراًدرج کیے جا رہے ہیں:
(۱) اگر خدا رحیم و کریم ہے‘ ماں باپ سے زیادہ شفیق ہے تو مصائب کو آسمان سے برسا کر انسانوں کو کیوں تکلیف میں رکھا جاتا ہے؟
(۲) کچھ ایسی آفات بھی ہیں جن میں انسان کا عمل دخل ہوتا ہے۔ تاہم اکثر آفات ایسی ہیں جو کہ خالص خدا کا فعل کہلاتی ہیں؛ ان سے انسان زیادہ دکھ پاتا ہے اور جوانسانوں کے بھرے گھر اُجاڑنے پر تلی رہتی ہیں۔ کیا یہ خدا کے رحیم و شفیق ہونے کی علامتیں ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر رحم و کرم اور ظلم و ستم میں کیا فرق رہا؟
(۳) معصوم بچوں اور بے گناہ انسانوں کا کیا قصور کہ وہ بھی ان آفات کی زد میں بالغ‘ عاقل اور گناہ گار لوگوں کی طرح پھنس جاتے ہیں؟ اس کے علاوہ بے چارے بے زبان جانوروں کا کیا قصور؟
(۴) اگر مصائب کا مقصد انسان کی فلاح ہے تو وہ خدا جو قادرِ مطلق بھی ہے‘ کوئی آسان ذریعہ کیوں نہیں اپناتا؟ اس طرح خدا کا مالکِ مطلق‘ قادرِ مطلق اور رحیمِ مطلق ہونا مشکوک ٹھہرتا ہے۔
(۵) اگر انسان پر بلائیں نازل کرنے کا مقصد اس کی جانچ اور آزمائش کرنا ہے تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ خدا تو انسان کی جبلت و فطرت کا خالق ہونے کے باعث اس سے ہر لمحہ واقف ہے‘ تو پھر ازسر ِنو جانچ سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟ اس طرح سے اس کی علیمی و خبیری مشتبہ ٹھہرتی ہے۔
(۶) جانچ پڑتال کا کوئی ایک وقت نہیں ۔ یہ کیسی آزمائش ہے جو ازل سے انسان کے گلے پڑی ہوئی ہے۔ ان مصائب کے غیر مختتم سلسلہ سے کسی صورت بھی چھٹکارا ممکن نظر نہیں آتا۔مزید یہ کہ اس سے خدا کے عدل و انصاف اور حکمت پہ بھی دھبا آجاتا ہے۔
(۷) دنیا میں پھیلے ہوئے مصائب ‘ دکھ‘ آلام کی چھان بین کی جائے تو کوتاہی انسان ہی کی نکلتی ہے۔ ایسی صورت میں یہ کہا جاسکتا ہے ان مصائب کا اصلی سبب نہ تو خدا کی ذات ہے‘ نہ اس کی صفات اور نہ ہی اس کا کوئی فعل۔ خدا کو اپنے اوپر حاکمِ مطلق ماننے کی بجائے انسان کی اپنی ہی خوش تدبیری‘ قوتِ ارادی اور مستعدیٔ عمل اس کے مصائب کے رفع دفع کا سبب بنتی ہیں۔
حسب ِبالا سوالات کے جوابات:
حسب ِبالا سوالات کے جوابات کے سلسلے میں مصنف نے دو پہلو اختیار کیے ہیں: الزامی اور تحقیقی۔
الزامی جوابات
(۱) مصائب انکارِ خدا کا ذریعہ نہیں بن سکتے: دنیا میں جہاں ایک طرف مصیبتوں کا سلسلہ ہے وہیں بے انتہا نعمتوں کا سلسلہ بھی تو موجود ہے۔ ہر مصیبت کے برعکس کئی نعمتیں موجود ہیں جن کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ ہر مصیبت کی مقابل اضداد گنوائی جا سکتی ہیں۔ دنیا کی ہر نوع اپنے اندر مصیبت بھی رکھتی ہے اور نعمت بھی۔ اگر ایک دہریہ کےلیے مصائب انکارِ خدا کی دلیل ہیں تو کیا وہی دہریہ ان ہی مصائب کی اضداد پر خدا وند کا شکریہ ادا کرنے کا جواز نہیں رکھتا؟ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دہریوں کے ہاں انکارِ خدا کی کوئی عقلی دلیل موجود نہیں بلکہ اس انکار کی بنیاد فقط جذباتِ نفس پر ہے۔ بہرحال ان کا یہ انکار کسی اصول پر مبنی نہیں‘ ورنہ ظاہر ہے کہ جب ان ہی کے طریقہ کے مطابق ا نکارِ خدا کی وجہ جیسی ہی وجہ اقرارِ خدا کی بھی موجود ہے تو ایک وجہ کو سامنے رکھ کر انکار کر دینا اور اس جیسی دوسری وجہ سے آنکھیں بند کر کے اقرار نہ کرنا سوائے ہٹ دھرمی کے اور کیا ہوسکتا ہے؟ اگر دہریوں کے نزدیک نعمتیں کسی وجہ سے وجودِ خدا وندی کے اقرار کے لیے کافی نہیں ہیں تو مصیبتیں بھی خدا کے انکار کےلیے کافی نہیں ہو سکتیں۔ بہ ہر دو صورت دہریوں کا نظریہ باقی نہیں رہتا۔ اگر انکار کے ساتھ اقرار بھی کریں تو انکارِخالص باقی نہیں رہتا‘ اور اگر اقرار سے ہٹ کر انکار سے بھی ہٹ جائیں تو انکارِ خدا سرے سے باقی ہی نہیں رہتا۔
(۲) مصیبت مادہ کی حرکت کا نام نہیں: دہریوں کے مطابق مصیبت چونکہ مادہ کی حرکت ہی ہے اس لیے مادیات کا درست اور دانش مندانہ استعمال کیا جائے تو یہ مصائب بھی ٹل سکتے ہیں۔ جواباً عرض ہے کہ خدا کے وجود کے اقرار کی بجائے مادیات کی طرف رجوع کرنے سے کیا آفات ختم ہو سکتی ہیں؟ مصیبتیں ہمیشہ کےلیے دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں؟ ہرگز ایسا نہیں‘ کیونکہ مادہ جاہل ہے اور وہ یہ عذاب جاری و ساری رکھے گا۔ مادہ کے خلاف کوئی بھی طاقت نہیں جا سکتی‘ یہاں تک کہ عقل بھی۔ اس طرح مصائب سے گھبرا کر جو انکارِ خدا کی راہ لی گئی تھی اور ان کو مادے کی حرکت گردانا گیا مگر پھر بھی آسودگی نہ ہوئی بلکہ دوہری مصیبت کا شکار ہو گئے۔ اگر مصیبت کا ماخذ مادہ ہے‘ انسان مادہ سے بنا ہے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان مرتے دم تک مصائب سے پیچھا نہیں چھڑا سکتا۔ مادے کی ترقی یافتہ صورتوں نے دنیا کا سکون اور زیادہ غارت کر دیا ہے۔ اب انفسی و آفاقی مصائب کئی طرح کی انواع کے ساتھ وارد ہوتی ہیں۔ عبدیت کے مذہب کو خیر باد کہہ کر دہریت کا مذہب اختیار کرنے سے بھی خاتمہ مصائب کے سلسلے میں کوئی مدد حاصل نہ ہوسکی۔ مزید یہ کہ انکار کسی مثبت یا وجودی شے کا ہوتا ہے‘ لاشئی کے بارے حق و باطل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انکار کوئی مذہب نہیں ہے کہ نہ وہ خود وجودی شے ہے اور نہ وجودی اشیاء کا پتا دیتا ہے۔ اس لیے اس کا ابطال بھی غیر ضروری ہے۔
چونکہ جواب کی یہ پوزیشن الزامی ہے جس سے مخالف کا مذہب تو قابلِ اعتراض یا باطل ثابت ہوسکتا ہے لیکن اس سے مذہب حق کا اثبات نہیں ہوتا‘لہٰذا اگلے حصہ میں تحقیقی رنگ میں فلسفۂ نعمت و مصیبت سے پردہ اٹھایا جائے گا۔
تحقیقی جوابات
اس سلسلے میں حسبِ ذیل نکات سمجھنا اہم ہیں:
عالم کے حادث ہونے پر اجماع: سوائے دہریوں کے ‘تمام ملتوں کا اجماعی دعویٰ ہے کہ یہ عالم ناپائیدار اور حادث ہے جو کہ معدوم سے وجود میں آیا۔ یہ عالم نہ تو وجودی محض ہے اور نہ ہی عدمی محض‘ کہ وجودی محض ہوتا تو ہمیشہ سے موجود ہوتا اور عدمی محض اس لیے نہیں کہ بہ ہرحال تخلیق کے بعد وجود اور موجودگی لیے ہوئے ہے۔
وجود و عدم اور حدوث و قدم: یہ عالم وجود و عدم کا مرکب ہے کہ جس میں عدم کی حالت میں وجود کو قبول کرنے کی صلاحیت ہے اور وجود کی حالت میں فنا عدم کی قابلیت رکھتا ہے۔ چونکہ اس نے معدوم سے موجود میں قدم رکھا ہے اس لیے اس کی اصلیت عدمی ہے ۔اس میں عارضی وجود کے اثرات بھی ظاہر ہوتے ہیں اور عدم اصلی کی خصوصیات بھی باقی ہیں۔
اس عالم کی خاصیت بے ثباتی و بے استقراری ہے: چونکہ یہ عالم وجود اور عدم سے مخلوط ہے اس لیے اس میں دونوں کی کشمکش جاری ہے۔ کبھی وجود کی کیفیات غلبہ پاتی ہیں تو کبھی عدمی خصوصیات ابھر آتی ہیں۔ ساری کائنات میں اضداد ہیں جس سے یہ سکون و قرار کی ایک حالت نہیں پکڑ سکتی اور نہ اس کے اجزاء کو ایک حال میسر آسکتا ہے۔
کائنات کا وجود محدود اور عدم غیر محدود ہے: وجود و عدم کا مرکب ہونے کے باوجود کائنات میں اُن دونوں کی حالتیں مساوی نہیں ہیں۔عدم اصلی اور وجود عارضی ہونے کا مطلب یہ ہوا کہ عدم ازل سے ہے جس پر لامحدود زمانے گزر چکے ہیں جبکہ وجود ایک خاص وقت سے نمود میں آیا۔ عدم کی کوئی حد نہیں جبکہ وجود کی ایک حد ہے۔ کائنات چونکہ عارضی الوجود ہے اس لیے امکان ہے کہ مستقبل میں بھی ماضی کی طرح معدوم ہو جائے۔ اس کائنات کے ازل اور ابد میں عدم ثابت نکلتا ہے جبکہ وجود کی نمود کی عارضی صورت درمیان میں پائی جاتی ہے ۔ اس سے یہ بآسانی باور ہوتا ہے کہ اس عالم کا وجود محدود اور قلیل ہے جبکہ عدم غیر محدود اور کثیر ہے۔
کائنات کے خود وجود میں انواع عدم کی آمیزش: زمانے کے لحاظ کے علاوہ بھی وجود پر چند حد بندیاں ہیں جن میں وہ گھِرا ہوا ہے ۔اُن حدود کے اندر اندر تو وجود ہے مگر باہر نہیں۔ گویا ہر محدود الوجود شے حدود سے باہر اپنا عدم چاہتی ہے۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ ان محدود الوجود اشیاء کی حدود میں داخل ہو کر کوئی دوسری شے موجود نہیں کہلا سکتی۔ یعنی یہاں کی ہر محدودالوجود شے اپنی حدودِ وجود میں دوسری شے کا عدم چاہتی ہے۔ جیسے پانی ہونا اس کے آگ نہ ہونے کی دلیل اور آگ ہونا اس کے پانی نہ ہونے کی دلیل۔ ورنہ اگر پانی ‘ پانی رہتے ہوئے بھی آگ رہے تو پانی اور آگ کو دو حقیقتیں شمار کرنا خلافِ حقیقت ہو جائے گا۔ اشیائے کائنات اپنی اندرونی حدود میں غیر کا عدم چاہتی ہیں جبکہ بیرونِ حدود اپنا عدم چاہتی ہیں ‘یعنی موجود ہو کر بھی پوری طرح موجود نہیں۔ گویا ان کا وجود بھی ہم رنگِ عدم ہوگیا ہے۔ ایسا عالم جو اپنے وجود سے پہلے بھی عدم رکھتا ہو اور وجود کے بعد بھی معدومیت میں جا چھپے تو اس کی ذوات‘ صفات‘ افعال اور تمام احوال سے وجودی خاصیتیں تو نہایت ہی قلیل و علیل ظاہر ہوں گی جبکہ عدمی اثرات کا چار طرف غلبہ ہوگا۔
آثارِ وجود و عدم: ہر شے کا وجود خیر ہے اور عدم شر ہے۔ ہونا کمال اور ہنر جبکہ نہ ہونا عیب و نقص ہے۔ انسان کے ہونے کی مثال لی جا سکتی ہے جو اس کے حق میں کمال ہے۔ اسی طرح انسانی اخلاقیات‘ اوصاف‘ افعال اور احوال و کیفیات کے سلسلے میں علم‘ عدل‘سمع‘ بصر‘ کلام‘ قدرت اور اقتدار‘ سخاوت‘ شجاعت‘ حلم‘ مروت‘ حیا‘ ضبط ِنفس اور صبر و تحمل‘ ایثار و احسان‘ تقویٰ و طہارت اور عبادت‘ صحت وتندرستی‘ بشاشت و انبساط‘ دل جمعی اور پختگی کا ہو نا تو کمال ہے جبکہ نہ ہونا ان کی عدمی جانبین جن کا نام ظلم‘ جہل‘ بہرہ پن‘ اندھا پن‘ گونگا پن‘ عجز اور پستی‘ اعدامِ ضبط ِنفس‘ عدم صبر و تحمل‘ بخل اور جزع و فزع‘ کذب‘ خودغرضی‘ کدورت و غلاظت ‘ اور بغاوت و سرکشی‘ مرض‘ گھٹن‘ پراگندگی اور تذبذب‘ عیب و نقص ہیں۔
مخزنِ وجود خدا کی ذات جب کہ منبع ِعدم مخلوق ہے: نوپید عالم کا وجود ذاتی نہیں بلکہ حادث ہے۔ حادث کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ اس کا وجود کہیں اور سے آیا ہے‘ لیکن ایک بات طے شدہ ٹھہرتی ہے کہ جہاں سے بھی یہ وجود آیا ہے وہاں وجود عارضی نہیں بلکہ ذاتی اور اصلی ہونا چاہیے۔ ایک ایسا وجود جو ذاتی اور خانہ زاد وجود رکھتا ہو‘ اپنی ہستی میں کسی غیر کا دست نگر نہ ہو‘ پھر اس کا وجود اصلی اور کامل ہو‘ اس پر عدم کا شائبہ تک نہ ہو۔ موجود مطلق عارضی پن اور ناقص پن سے بری ہے۔ غرض کہ ایسا واجب الوجود جس میں کوئی جہت بھی عدم کی نہ ہو‘ اوریہ خدا اور مالک الملک کی ذات ہے۔ مخلوق کی ذات اور صفات عدم جبکہ خالق کی ذات وجودِ خالص ہے۔ معطی ٔوجود کی ذات جو کہ ازل سے وجود کی مالک تھی اس نے اپنے وجود سے معدومات کو وجود عطا کیا۔
مخلوق کےلیے استکمال اور خالق کےلیے استغنا لازم : موجودِ اصلی کے وجودی اثرات تو معدوم تک آسکتے ہیں مگر معدومات کے عدمی اثرات واجب الوجود ذات تک کسی صورت بھی نہیں جا سکتے۔ تاثیر و تصرف ایک فعل ہے اور فعل موجود کا ہو سکتا ہے نہ کہ معدوم کا۔ مخلوق کا وجود چونکہ اس کی تخلیق ہے اس لیے مخلوق کی کوئی عدمی شر اس تک نہیں پہنچ سکتی۔ معدوم الاصل تو موجود ہوسکتا ہے لیکن موجود الاصل معدوم نہیں ہو سکتا۔ معدوم چونکہ موجود کا محتاج ہے اس لیے معدوم تو موجود کی طرف رجوع کر سکتا ہے جبکہ وجود کے شایانِ شان یہ قدم نہیں۔
تغیّر مخلوق ہی کی شان ہو سکتی ہے نہ کہ خالق کی: وجود کی درآمد برآمد یا وجود کا آنا جانا ایسی شے میں ہوتا ہے جس کا وجود اپنا ذاتی نہ ہو بلکہ کسی اور وجود کا عطا کردہ ہو‘ تو ایسی شے ہی میں تغیّر ممکن ہے۔ جبکہ واجب الوجود کا وجود اصلی اور ذاتی ہونے کے سبب وجود کی درآمد برآمد یا آمدورفت کی کوئی صورت نہیں پائی جاتی کہ جس سے تغیّر کی جھلک نظر آئے۔
مخلوقاتی تغیّر کی حقیقت: مخلوق میں وجود کی آمدورفت کی وجہ سے ظاہراً تغیّر کی دو صورتیں نظر آتی ہیں۔ عدم سے وجود میں آنا یعنی آمد ِوجود ‘اور وجود سے پھر عدم میں چلے جانا یعنی رفت ِوجود‘ لیکن بغور دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تغیّر درحقیقت عدم کی طرف لوٹ جانے کا نام ہے۔ گویا رفت ِوجود یا سلب ِوجود تو تغیّر ہے مگر عطا ء ِوجود یا آمد ِوجود تغیّر نہیں۔ تغیّر کےلیے ضروری ہے پہلے کوئی شے موجود بھی ہو اور ایسا عدم کی صورت میں تو ممکن نہیں ہے۔ موجود میں تغیّر کی یہ صورت ہے کہ اس سے وجود چھن جائے یا سلب کر لیا جائے۔ وجودِ ذات‘ وجودِ صفات یا وجودِ افعال کے سلب ہونے سے شے اپنا وجود کھو بیٹھتی ہے۔ جیسے پہلے عرض ہوا کہ وجود نام ہی کمال کا ہے جبکہ نقصان و عیب عدم کا نام ہے۔ وجودی آثار کھونا گویا تغیراتِ عالم کی حقیقت ہے۔ یہ عالم محض گزرگاہِ وجود ہے ‘مالکِ وجود نہیں‘ ورنہ وجودِ محض ہوتے ہوئے وجود چھنتے رہنے کے کوئی معنی نہیں ہوسکتے۔
کائنات کے تکوینی تغیرات (یعنی غیر اختیاری مصائب): ہر وجودی چیز سے وجود چھنتے رہنے سے عالم کے حوادث و تغیرات ثابت ہیں۔ صحت پر عدمِ صحت‘ راحت پر عدمِ راحت وغیرہ‘ یعنی اصول پر اضداد کا تسلط رہتا ہے۔ عالمِ انفس کی طرح عالمِ آفاق بھی عدمی اثرات میں رہتا ہے۔ گویا یہ تغیرات عالم کی ذاتیات ہیں۔ ذاتیات کے بغیر ذات ممکن ہی نہیں۔ عالم کے ہوتے ہوئے تغیرات ہوں گے۔ سو‘ وجود پر آفات کا آنا جبلی خاصیت ہے۔
مصیبت کے انسانی جبلت ہونے کی چند مثالیں: ہمیشہ خیر و خوبی کےلیے محنت درکار ہوتی ہے جبکہ شر اور خرابی کےلیے چنداں ضرورت نہیں۔ خیر و خوبی کی وجودی حیثیت ہے جبکہ شر اور خرابی عدمی چیز ہے۔ خیر کے دباؤ سے عدمی شر چھپا ہوا ہوتا ہے۔ جیسے ہی خیر کا دباؤ کم ہوگا ‘شر خود بخود اُبھر آئے گا۔ عالم میں جتنی بھی اشیاء ہیں اگر ان میں عدمِ اصلی کی حقیقت دبی ہوئی موجود ہے‘ جوں ہی وجودی نعمتوں کی تحصیل موقوف ہو جاتی ہے وہ اصلیت اُبھر آتی ہے۔
انسانی مصیبت آتی نہیں‘ اندر سے اُبھرتی ہے: متغیر کائنات کا جزوِ اہم ہونے کی وجہ سے انسان میں بھی عدم اصل ہے۔اس لیے جبلی طور پر اس میں بھی نقائص و آفات اور شر و عیوب اصل ہیں۔ انسان میں جبلی طور پر بسی عدمی آفات بخشی ہوئی وجودی نعمتوں سے دبی رہتی ہیں‘ سو نعمت کے چلے جانے کے بعد وہ خود بخود اندر سے ابھر آتی ہیں۔ جیسے وجود عارضی ہے ویسے ہی نعمت بھی عارضی ہوئی۔
مصیبت کو ظلم کہنا حماقت و غبابت ہے: ثابت ہوا کہ مصیبت آتی نہیں ہے بلکہ اصلاً نعمت چلی جاتی ہے اور نعمت کے چلے جانے کو ہم مصیبت سمجھ لیتے ہیں۔ آمدورفت تو صرف وجود کی شان ہے جب کہ وجود و عدم سے مخلوط مخلوق اس کی آمدورفت کا رستہ بنی ہوئی ہے۔ نعمت ہر شے میں باہر سے آتی ہے جبکہ مصیبت اس کے اندر سے ابھرتی ہے۔ پس جن حوادث کو ہم متغیرات اور سلب ِوجود کہتے ہیں‘ دہریت نوازوں کے نزدیک وہ آفات و مصائب ہیں۔ مصیبت کی حقیقت بجز تغیّر اور سلب ِوجود کے اور کچھ نہیں۔ تغیّر ہی اس عالم کون و فساد کی تمام تر حقیقت ہے جو اس کے خمیر میں پیوست ہے۔ نتیجتاً مصیبت و آفت ہی اس جہان کی تمام حقیقت یا حقیقت کا جزوِ اہم ہے جو اس سے کسی حال زائل نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ اندر سے ابھرنے والی چیز ہے نہ کہ باہر سے آنے والی۔
عالم میں غلبہ دوام مصیبت ہی کو ہونا چاہیے: عدم اصل کائنات کی حقیقت ہونے کے سبب کائنات کی ہر کس و ناکس شے مصیبت زدہ ہے۔ عدمی آفات ہر لمحہ ہجوم کی صورت پیش پیش رہتی ہیں جبکہ وجودی نعمتیں غیر مستقل مزاج رکھتی ہیں۔ وجودی کمالات آتے جاتے رہتے ہیں۔ معدوم الاصل ہونے کے سبب کائنات کا ذرّہ ذرّہ وجود کی آمد و رفت کا رستہ بنا ہوا ہےجس میں انسان ہی کے شیر خوار بچے اور بے زبان جانور بھی شامل ہیں۔
ضمناً ردّ تناسخ: پس دہریوں کا یہ اعتراض کہ مصائب بچوں اور جانوروں پر کیوں آتے ہیں‘ بے محل ہےاور جہل پر مبنی ہے۔ مصائب دراصل جبلت کے تغیرات اور سلب ِ وجود کا قدرتی نتیجہ ہیں اور اس میں سب کے سب برابر کے شریک ہیں۔ یہ تکالیف و مصائب ان اشیاء کے عدمی مزاجوں اور عدمی اصلیت کا خاصہ ہیں۔ دہریہ مصائب و آفات کی حقیقت کو نہ سمجھنے کے سبب وجود ِخدا کا انکار کرتا ہے‘ اورکائنات کے ذرہ ذرہ کو ازلی و ابدی کہنے سے یا واجب الوجود مان لینے سے خدا کا ہم سر ٹھہراتے ہوئے اَن گنت خداؤں کو تسلیم کر بیٹھتا ہے۔ حقیقتاً یہ ’’ربط ِحادث بالقدیم‘‘ کے مسئلے سے ناواقفیت اور بے خبری کا نتیجہ ہے۔
مصائب خلافِ عدل و کرم نہیں ہو سکتے: دہریوں کا یہ سوال کہ: ’’خدا کے ہاں کائنات کو ترتیب دینے کےلیے راحت پر مشتمل طریقہ موجود نہیں تھا؟‘‘ مہمل ہے‘ کیونکہ خدا نے تو کائنات کو وجود دیا ہے جوکہ نعمت ہے۔ مصائب اور ہلاکتیں تو اس کی عدمی خاصیات ہیں اور عدم خدا کے یہاں سے نہیں آیا۔ راحت والے طریقوں کی ایک صورت تھی کہ ان میں عدم کی آمیزش نہ ہوتی یعنی اشیائے کائنات واجب الوجود کے ہم مرتبہ وجودی محض ہوتیں اور عدمی الاصل نہ ہوتیں جوکہ محال ہے۔ اگر کسی شے کےلیے ہم کلی راحت و سکون کا سامان تیار کرنے کا کہتے ہیں تو اس نتیجے پر جا پہنچتے ہیں کہ اس کا وجود ہی باقی نہیں رہتا ‘یعنی اس شے ہی کو ختم ہونا پڑتا ہے جس کی راحت کےلیے بحث ہو رہی تھی۔ اگر انسان مرکب وجود و عدم ہونے کی بجائے مفرد ہوتا تو اس پر مصائب نہ ٹوٹتے لیکن ساتھ ہی وہ انسان بھی نہ ہوتا۔ پس‘ قدرت کو اپنی حکیمانہ ربوبیت اور تربیت سے ہر نوع کو اس کی حد کمال تک پہنچانا مقصود ہے جو عدلِ حقیقی ہے نہ کہ کسی شے کو اس کی جبلت و ماہیت سے ہٹانا اور اس کی طبیعت ہی اس سے کھینچ لی جائے۔ مصائب کے خاتمے کی خواہش دراصل اپنی ذات کے خاتمے کی خواہش ہے۔ تو کسی چیز کو مصلحت آمیز اور ناگزیر تکلیف دے کر حد ِکمال تک پہنچانا گوارا ہے‘ نہ کہ تکمیل کی غرض سے اس کو سرے سے ختم کر دینا۔
عدمی آفات بغیر ایجادِ خدا وندی ظاہر نہیں ہو سکتیں: آفات کا ظہور عدم محض سے نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کے ساتھ وجود نہ لگ جائے اور واجب الوجود کی مرضی کے بغیر عدم کو وجود عطا نہیں ہوسکتا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بغیر خدا کے فعل و تصرف اور ایجاد و تخلیق کے عدمی آفات کا ظہور ناممکن ہے۔ ہمارے عدمی آثار یعنی شرور و عیوب میں اپنے عدم کو سمجھوانے کی صلاحیت نہیں ہے جب تک وجود ان کی مدد نہ کرے۔
عدمی آثار کی دو انواع
درج بالا بحث سے آفات کی دوا نواع ثابت ہوتی ہیں:
الف) عدمی آفات
ب) سلبی آفات
عیوب کا منبع عدمِ اصلی ہے جو باوجود ہمارے وجود ہونے کے ہم میں موجود رہتا ہے۔ ہمارا عدمی مزاج وجود کو قبول تو کر لیتا ہے لیکن اس کو تھام نہیں سکتا‘ جس سے سلب ِوجود ہوتا رہتا ۔
نعمت نام ہے وجود آنے کا اور مصیبت نام ہے وجود چھن جانے کا ‘اور وجود وہی چھین سکتا ہے جو عطا کرتا ہے۔مزید یہ کہ عطا ء ِوجود اور سلب ِوجود کو خدا ہی کا فعل و تصرف کہا جاسکتا ہے نہ کہ مادے کا۔
مصائب و شرور کا ظہور خدا کی نسبت سے عین عدل و کرم ہے: عدمی ظرف کا خاصہ ہونے کے باوجود آفات و مصائب ایجادِ خداوندی اور وجود کی آمد سے ہی کھلتی ہیں۔ عطاء ِ وجود سے معدوم کے موجود ہوجانے کو کوئی دانش مند ظلم و ستم یا بے رحمی نہیں کہہ سکتا۔ اشیائے کائنات کی مختلف الانواع عدمی اور سلبی آفات تو خود ان کے عدمی مزاج کا ماحصل ہیں اور یہ خدا کی طرف سے کوئی ظلم نہیں۔ خدا کی طرف سے فقط عطاء ِ وجود ہے جو کہ ایک نعمت ہے اور اظہارِ خاصیات ہے جو کہ عدل و کرم ہے۔ اس عالم کے کمال کا دارو مدار اس پر ہے کہ یہاں کی ہر چیز اپنے وجودی اور سلبی اثرات دکھلا کر اپنی زندگی کا ثبوت دے۔
خدا نے ہر کس و ناکس شے کو وجود دے کر اپنی طبعی خاصیتیں دکھلانے کا موقع بخشا ہے۔ اگر کسی شے کےلیے سرے سے عطاء ِ وجود ہی نہ ہوتا یا ذات کو وجود دے کر اس کی ذاتیاتِ صفات وخواص کو وجود نہ دیا جاتا بلکہ اسی طرح معدوم اور محروم رکھا جاتا تو اس کا وجود و عدم برابر ہوتا اور اور اس کے پیدا کیے جانے کے کوئی معنی ہی نہ ہوتے۔
کائنات کے متعدی مصائب
o قدرتی طور پر سلبی آفات ایک سے چل کر دوسری تک پہنچتی ہیں کیونکہ دنیا کی ہر چیز اشتراکِ وجود کے باعث ایک دوسرے سے منسلک ہے۔ ہر ایک کے نوعی اثرات ایک دوسرے کے منافی اور مخالف بھی ہیں۔ اس لیے ایک کا اثر دوسرے کےلیے خلافِ طبیعت ہوگا اور اُس کے حق میں مصیبت کہلایا جائے گا۔
o کائنات کے اجزاء نہ صرف ذاتی خاصیات کی حد تک ایک دوسرے کے مخالف ہیں بلکہ ان کے افعال میں بھی بیر ہے۔ ہر ایک کی بقا دوسرے کی فنا میں مضمر ہے۔ دیکھا جائے تو ہر آفت ہر شے کے انفس ہی سے پیدا ہوتی ہے۔ چونکہ ہر شے کی انفسی آفت اشتراک ِوجود کے باعث دوسری شے کے حق میں مصیبت بن جاتی ہے اس لیے اسے اضافی یا آفاقی مصیبت کہہ دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر زمین پر زلزلے کا آنا انسان کےلیے تو آفاقی ہے مگر زمین کے حق میں انفسی ہے۔
o دہریہ کے اصول کے مطا بق کائنات کے عناصر اگر ہوتے مگر ان موالید عناصر یعنی نباتات‘ حیوانات اور جمادات وغیرہ کا وجود نہ ہوتا ‘اور نہ ہی کائنات مختلف عناصر کا مرکب ہونی چاہیے تھی ‘نہ ہی عناصر ایک دوجے کے قریب ہوتے کہ ایک کا اثر دوسرا لیتا اور نہ مصائب کا دروازہ کھلتا۔ لیکن اس صورت میں خدائے بر تر کی فیاضی‘ عدلِ لامحدود اور حکمت پر شبہ ہوتا۔ آخر طوفان کا کیا قصور ہے کہ وہ معدوم رہے جب کہ اس میں موجود ہونے کی استعداد موجود ہے۔
o اگر ہم ان کی موجودگی کا شکوہ کر سکتے ہیں تو باقی مخلوقاتِ کائنات بھی شکوہ کا جواز رکھتی ہیں کیونکہ انسان کا ہونا ان کے ہونے کےلیے خطرہ‘ مصیبت اور ان کے معدوم ہونے کا سبب بنتا ہے۔ اگر ایک دہریہ ان متعدی آفات کا شکوہ کرتا ہے تو دراصل وہ وجودِکائنات پر کاری ضرب لگاتا ہے جس سے اس شکوہ کی بے فطرتی اور بے مائیگی کھل جاتی ہے۔
o کائنات کے جزوی عیوب کو سامنے رکھ کر مجموعی حسنِ کائنات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ المختصر یہی ثابت ہوتا ہے کہ آفات وجود ِخدا کی محکم دلیلیں ہونے کےساتھ ساتھ خالقِ کائنات کی حکمتوں ‘ خیر و عدل اور بے مثال صناعیوں کا ثبوت بھی ہیں۔
o اگر اشیائے کائنات میں نہ تاثیر ہوتی‘ نہ تصرف‘ نہ فعل ہوتا ‘نہ انفعال ‘نہ فاعل و مفعول اور نہ فعلی عجائبات کا ظہور ہوتا ‘اور چونکہ ان کے عدمِ اصلی کے ساتھ عارضی وجود بھی تو لگا ہوا ہوتا ہے لیکن اس کا اثر ظاہر نہ ہوتا‘ نہ نفع کا سوال ہوتا نہ ضرر کا ‘ نہ افادہ ہوتا نہ استفادہ‘ تو ایسی بے کار اور معطل کائنات کے بنائے جانے اور ان معترض دہریوں کے پیدا کرنے کی آخر کیا حکمت ہو سکتی تھی؟ حقیقتاً دہریوں کا آفات سے بچنے کا نظریہ بے ہودہ اور لغو ہے۔
مصائب کے بغیر ترقی نہیں ہو سکتی
اس موقع پر دہریہ کی طرف سے یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ بالآخر قدرت نے اشیاء میں تزاحم و تصادم ہی کیوں رکھ دیا! یہ سوال اس وجہ سے مہمل ثابت ہوتا ہے کیونکہ اشیاء میں عدم اصل تھا نہ کہ وجود۔ اگر وجود ہی وجود ہوتا تو تبھی خیر ہوتا‘ لیکن اشیاء کا واجب الوجود محال ٹھہرا۔ مزید گہرائی میں دیکھا جائے تو یہ سوال ابھر ہی نہیں سکتا کیونکہ وجود و عدم اور خواص و آثار کے ٹکرانے ہی سے عالم کی ترقیات وابستہ ہیں۔ اس تصادم و تزاحم ہی سے عالم میں حوادث کا ظہور ممکن ہے۔ اگر سارا عالم یکسانیت میں ڈھل جائے تو کائنات کی زیب و زینت اور رنگ برنگ ختم ہوجائیں گے۔
گلہائے رنگ رنگ سے ہے زینتِ چمن
اے ذوق اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سےپس یہ دکھ‘ مصائب و تکالیف خدا کے وجود کی ایک مستقل دلیل ثابت ہوتی ہیں نہ کہ انکارِ صانع کی۔
عالم کی اکتسابی آفات: اختیاری مصائب
ہر نوع کی مصیبت اس کے حسبِ حال ہے: ساری کائنات کی انواع سے ایک ہی قسم کی عدمی آفات کا ظہور نہیں ہوسکتا بلکہ ایسے عدمی نقائص نکلیں گے جو اس کے عدمی طبیعت سے مطابقت رکھتے ہوں گے۔ جس شے میں وجودی کمالات ترقی یافتہ حالت میں موجود ہیں اس میں عدمی اثرات سے وابستہ آفات بھی کئی انواع و اقسام کی ظاہر ہوتی ہیں۔ وجودی درجہ کی کم ترین سطح پر جمادات ہیں جن میں اعلیٰ درجہ کا کوئی وجودی کمال نہیں۔ اس لیے ان سے منسوب عدمی مصائب بھی چند گنے چنے ہی ملتے ہیں۔نباتات وجودی درجہ کے اعتبار سے جمادات سے افضل ہیں۔ ان میں جمادات کی نسبت زیادہ وجودی کمالات پائے جاتے ہیں۔ نباتی نوعیت کا کوئی بھی نقص اس کی نباتی عدمی الاصل طبیعت کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ حیوانات کو وجودی کمالات کے حصول کے اعتبار سے جمادات و نباتات دونوں سے زیادہ درجہ حاصل ہے۔ حیوانی آفتیں کئی اقسام کی ہیں اور وہ حیوانی عدم الاصل طبیعت ہی سے منسوب کی جائیں گی۔
انسان کے اختیاری مصائب اور اس کی دو نوعیں: انسان ساری کائنات کی مخلوقات سے وجودی کمالات کے بل بوتے پہ اشرف ہے۔ جمادی‘ نباتی اور حیوانی کمالات کے علاوہ مخصوص کمالات بھی ہیں جو شعوری اور اختیاری رنگ کے ہیں۔
علمی اور عملی
نوعی طور پر انسانی کمالات دو قسم کے ہیں: علمی اور عملی۔ علمی کمالات کا واسطہ انسان کے عقل و شعور سے ہے جس کا مقصد اصل علم (صحت ِفکر) ہے جبکہ عملی کمالات کا تعلق انسان کے اکتساب سے ہے جس کا منشا اعتدالِ اخلاق (طاقت ِعمل) ہے۔ اس طرح سے انسان کے تمام نوعی کمالات کا سرچشمہ اشیائے کائنات کا علم اور عدلِ اخلاق نکل آتا ہے۔ انسان اپنے ارادہ و اختیار کو بروئے کار لاتے ہوئے دونوں کمالات کی تکمیل کی تگ و دو کرتا ہے‘ لیکن انسان میں یہ اختیاری کمالات اصلی نہیں ہیں۔ یہ وجودی کمالات ہیں اور وجود انسان میں اصلی نہیں بلکہ عدم اصلی ہے۔ پس انسان کی جبلت علم و عدل ہونے کی بجائے ظلم و جہل ہے۔ جاہلانہ اور ظالمانہ طبیعت مکمل طور پر کسی صورت تبدیل نہیں ہو سکتی۔ علم کے وفور کے بعد بھی جہل ہی رہتا ہے‘ اعتدال کامل آنے کے باوجود بھی ظلم یک سر ختم نہیں ہوتا۔ انسان کے علم پر عدمِ علم اور عدلِ اخلاق پر عدمِ اخلاق کا غلبہ زیادہ ہے۔
انسان کے ارادی افعال کی تین قسمیں:اگر افعال حسی ہوں جن کا منشا طبع انسانی ‘بشری عقل ہو تو اس سے آفات تکوینی یا عادی رنگ میں نکلیں گی جبکہ شرعی افعال جن کا واسطہ قانونِ خدا وندی سے ہو تو اس کے نتیجے میں آفات کا ظہور تعزیری اور انتقامی رنگ میں ہوگا۔ اس حوالے سے انسانی افعال تین قسم کے نکلے: افعالِ طبعیہ‘ افعالِ عقلیہ اور افعالِ شرعیہ جن کے محرکات بالترتیب طبیعت ‘ عقل اور شریعت ِ خداوندی ہیں۔ افعالِ طبعیہ انسان کے انفرادی ‘ ذاتی اور طبعی تقاضوں کے تابع ہوتے ہیں۔ طبعیات افراد کی شخصی خواہش کا نام ہے۔ امورِ عقلیہ بھی دراصل امورِ طبعیہ ہی ہیں لیکن عقلیات افراد کی اجتماعی خواہش کا نام ہے۔ یہ دونوں حسی امور انسان کے اندر سے ابھرتے ہیں۔ طبع اور عقل تو انسان کے جوہر ہوسکتے ہیں لیکن علم جو عقل سے بالا تر چیز ہے انسان کا ذاتی نہیں بلکہ واجب الوجود ذات کی دَین ہے۔ طبیعت اور عقل کے انفرادی اور ذاتی تقاضے یا امورِ طبعیہ‘ امورِ عقلیہ یا امورِ وجدانیہ جب علم اور اس کے امر و نہی کے ماتحت ہوجائیں ان کے مجموعہ کا نام امورِ شرعیہ ہوگا۔ امورِ طبعیہ یا امورِ عقلیہ وغیرہ کی بے اعتدالیوں سے برپا ہونے والے مصائب جزوی نوعیت کے ہوتے ہیں اور عموماً شخصیات یا افراد سے متعلق رہتے ہیں کیونکہ ان میں کسی قانونِ بالا کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ اس لیے یہ مصائب ان پر انتقامی نہیں ہوسکتے۔ اس کے برعکس امورِ شرعیہ میں قانونِ خداوندی کی خلاف ورزی اور افعالِ شرعیہ کی بے اعتدالیاں انتقامی مصائب کا سبب بنتی ہیں۔
انسانی شرور کی دو انواع
پہلی نوع ذاتی کمزوریوں یعنی عیوب اور دوسری نوع شرعی خلاف ورزیوں یعنی ذُنوب کی ہے۔ عیب عدمی جبلت کا ثمرہ ہے جبکہ ذنب (گناہ) عدمی حرکت کا ثمرہ ہے۔ جیسا کہ حدیث پاک میں اشارہ ہے:
اللّٰهُمَّ اسْتُرْ عُيُوبِي، وَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي
’’اے اللہ! میرے عیبوں کو چھپا لے اور میرے گناہوں کو بخش دے۔‘‘
تکوینی مصائب اور عادی آفتیں
ذاتی کمزوریوں سے نفس کو اپنے اندرونی مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انسان چونکہ وجودی کمالات کے حصول کی بنا پر جمادات‘ نباتات اور حیوانات سے زیادہ درجہ رکھتا ہے اور اشیائے کائنات اور قدرت کے خزانوں میں کئی وجوہات سے زیادہ تصرف کرتا ہے اس لیے ان کے ارادی ردِعمل بھی اس کے حق میں زیادہ ہوتے ہیں۔ انسان شعوری سطح پر جتنا زیادہ کائنات کی موجودات کو اپنے حق میں استعمال کرتا ہے اتنا ہی زیادہ موجوداتِ کائنات اس کے حق میں اپنا ردِعمل ظاہر کرتی ہیں اور اس کو مبتلائے مصیبت رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اگر انسان اعتدال سے کام لے تو ردّعمل بھی اعتدال کی صورت برداشت کرے گا۔ جدید دنیا میں انسان کے افعال کے تیزرفتار تصرف کے نتائج ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ نت نئے مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کتاب کے دیباچے میں مصنف کے صاحب زادے حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ نے خوب صورت انداز میں اس مقدّمے کو پیش کیا ہے جس کی چند ایک سطور بطور نتیجہ درج کرنا چاہتا ہوں:
’’ مرکب موجودات پر ایک عدم تو وہ آتا ہے کہ جس میں ان کی ترکیب ہی ختم ہوجاتی ہے جو ان کے وجودِ اصلی کا سبب تھا‘ اور کبھی کبھی ان مرکبات کی ترکیب میں اضمحلال اور ضعف کے ذریعہ صفاتی عدم لایا جاتا ہے۔ اس صفاتی عدم سے وہ فنا تو نہیں ہوتے لیکن ان کا وجود نقصان کا شکار ہوجاتا ہے۔‘‘
’’ مذہبِ فطرت اپنی تعلیمات میں مصائب و مشکلات کے حل کی بنیاد خود مادے میں تلاش کرنے پر مامور نہیں کرتا بلکہ محل ادراک قلب کے ہونے کی وجہ سے حقیقتاً محل مصیبت قلب ہی ہے۔ وہ اس کی صحت کی برقراری کے دو اُصول تسلیم کرتا ہے: پہلا یہ کہ قلب کا علاقہ آلام و مصائب سے نہیں بلکہ خالق آلام و مصائب سے قائم رکھا جائے۔ دوسرا یہ کہ اس کا دفاع اسباب میں نہیں‘ مسبّب الاسباب کی جانب رجوع میں تلاش کیا جائے۔‘‘
’’بہرحال آج کے آلام و مصائب انسان کی مادیت میں غیر معمولی انہماک کا لازمی نتیجہ ہیں اور غلطی بالائے غلطی یہ ہے کہ ان کا دفاع بھی اسی مادیت سے کیے جانے کی سعی کی جا رہی ہے کہ جو ان مصائب و آلام کا سرچشمہ ہے‘ اور الم زدہ انسانیت ہر روز کسی نئے فتنے کا شکار ہو رہی ہے۔‘‘
tanzeemdigitallibrary.com © 2026