مبادیٔ علمِ کلام (۳)سعید عبداللطیف فودہ
ترجمہ : مکرم محمود
’’حکمت ِقرآن‘‘ کےشمارہ بابت جولائی۔ستمبر۲۰۲۵ء میں سعید عبداللطیف فودہ کی کتاب ’’بحوث فی علم الکلام‘‘ سے ایک حصہ کا ترجمہ ’’مبادی علم کلام(۲)‘‘ کے عنوان سے دیا گیا تھا۔اس شمارے میں اسی سے آگے کا کچھ حصہ کا ترجمہ دیا جارہا ہے‘ جو بہت سے اہم مباحث کا احاطہ کرتا ہے۔ مثلاً عقل کی حدود اور اس کا دین میں معتبرہونا‘ عقل و نقل میں تعارض و تقدیم کا سوال‘ دلیل اجمالی کا فرض عین ہونا اور کشف کا مقام‘ واضع علم کلام امام ابو الحسن الاشعری کا مختصر تعارف وغیرہ۔ پچھلی دفعہ بات یہاں ختم ہوئی تھی کہ عقل کے ذریعےعقائد سے متعلق بعض احکام کی معرفت ممکن ہے لیکن انسان عقائد کا مکلف شریعت کی بنیاد پر ہی ہوتا ہے۔ بریکٹ میں بعض جگہوں پر کچھ تشریحی اضافے راقم الحروف کے ہیں۔
یہاں سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ وہ انسان جو اس علم میں غورو خوض کو اپنی راہ بنائے اس کے لیے شعوری وسعتوں کا حامل اور مختلف علوم کا ماہر ہونا ضروری ہے۔ یہیں سے اس انسان کے قول کا باطل ہونا بھی واضح ہو جاتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ (متکلمین)اہل ِسُنّت صرف عقل پر ہی اعتماد کرتے ہیں۔ یہ محض جھوٹ ہے اور ان پر بے بنیاد الزام ہے۔ اس معاملے کے ساتھ ہی اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ عقائد کے معاملے میں عقل کو خادم بنانا سرے سے درست ہی نہیں تو یہ بات بھی غلط ہے ‘اور اس کا ردّ ہم کرچکے ہیں۔ جو یہ بات کرتا ہے وہ ضعیف العقل ہے۔ عقل اسلام میں معتبر ہے اور اس کا ایک متعین دائرہ کار ہے۔ کسی انسان کی تعریف کرنے کے لیے یہ بات کافی ہےکہ اسےعاقل قراردیا جائے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عقل قابل تعریف صفت ہے۔ ہمارا مدّعا یہ ہے کہ علم توحید میں عقل کام کرتی ہے‘ مگر وہ کچھ امور تک محدود ہے جن کا بیان اہل سُنّت کے بڑے علماء نے کیا ہے۔ عقل کی حدود کا بیان ان کی طرف سے عقل پر کوئی زبردستی کا نتیجہ نہیں بلکہ جب انہوں نے عقل کی فعلیت پر غور کیا تو یہ جان لیا کہ اس کی حدود ہیں اور اس کی فعلیت کچھ خاص جہات میں ہی ہوسکتی ہے‘جس سے آگے جانا اس کے بس میں نہیں۔ اس معرفت کے بعد انہوں نے عقل کی ان حدود کو بیان کیا جن کو وہ پھلانگ نہیں سکتی۔ ان کی جانب سےعقل کی یہ تحدید خود موازین عقل کی بنیاد پر ہی کی گئی ہے۔
جو لوگ نظرعقلی اور غورو فکر کا انکار کرتے ہیں ان کے مختلف گروہ ہیں۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دین کا عقل سے کوئی سروکار نہیں اور دین میں عقل کو خادم بنانا مطلقاً جائز نہیں۔ ان کا تصورِدین کچھ ایسا ہے جس میں نہ عقل کو دین سے کوئی تعلق ہے نہ دین کو عقل سے (ان لوگوں کے ہاں ایمان اور علم میں ایک کلی مغائرت ہے اور ان دونوں کی مجال اور دائرۂ کار بالکل الگ ہے۔ ظاہر میں یہ بات درست لگتی ہے مگر درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ ایمان اور علم میں ایک گہرا تعلق ہے۔ تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے مگرایمان و علم میں کلی مغائرت کے اس موقف کے بعض لوازمات بہت خطرناک ہیں) ۔ یہ لوگ عقل کی اس حدتک تحقیر کرتے ہیں کہ لوگوں کو اس معاملے میں شبہ میں ڈال دیا ہے۔ جولوگ دین پر باہر سے نظر ڈالتے ہیں ان کو تشکیک میں مبتلا کردیا ہے اور ان لوگوں کو دین پر بیزاری سے نظر ڈالنے کی ایک بنیاد فراہم کر دی ہے۔ حق بات جس پر اہل ِسُنّت قائم ہیں وہ یہی ہے کہ عقل یقیناً معتبرہے مگر محدود ہے۔ یہ محدودیت عقل کی اپنی ساخت اور طبیعت کی وجہ سے ہے۔ شریعت اور عقل میں درحقیقت کوئی تعارض نہیں ہے۔ نہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ہم نقل کو عقل پر مقدم رکھتے ہیں اور نہ یہ کہنا کہ ہم عقل کو نقل پر مقدم رکھتے ہیں‘ کیونکہ یہ دونوں اقوال اس غلط بات کو تسلیم کرلینے کے نتائج ہیں کہ عقل و نقل میں تعارض ممکن ہے۔ عاقل پر اس قول کی غلطی بالکل واضح ہے۔ جب تعارض ہی ممکن نہیں ہے تو فوقیت یا مقدم ہونے کا سوال بھی پیدا نہیں ہوگا۔
یہی وہ مقام ہے کہ جہاں سے دورِ حاضر کے مجسمہ ‘ ماضی کے مجسمہ کی طرح اس بحث میں داخل ہوتے ہیں اور ایک عامی سے پوچھتے ہیں کہ کیا عقل کو نقل پر ترجیح دی جائے گی یا نقل کو عقل پر ! اصل میں یہ سوال ہی باطل ہے‘ مگر عام اور سطحی علم رکھنے والے اس سوال سے دھوکا کھاجاتے ہیں اور فوراً یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم نقل کو عقل پر فوقیت دیتے ہیں۔ جب مجسم یہ جواب حاصل کرلیتا ہے تو وہ اس وقت اس مسکین کے دماغ میں اپنی فاسد آراء اور بے بنیاد افکار انڈیلنا شروع کردیتا ہے اور اس کو اپنی عقل سے مرعوب کرتا اور اپنے جال میں پھانس لیتا ہے۔ اس غافل مسکین کے سامنے آیات کی من مانی تفاسیر کرتا ہے۔ اس پر ایک عرصہ گزر جاتا ہے اور وہ مسکین ان کے ساتھ اُٹھتا بیٹھتا ہے ‘کھاتا پیتا ہے تو وہ انہی میں سے ہوجاتا ہے اورانہی کو اہل حق سمجھتا ہے۔ اس کے بعد اصل بات اس کو سمجھانا مشکل ہوجاتا ہے ‘کیونکہ اپنی عقل کو اس نےبرباد کروانے کے لیے ان کے پاس گروی جو رکھوادیا ہے۔ وہ اس بات پر راضی ہے اور سمجھتا ہے کہ بہت اچھا کررہا ہے۔ اس کو نہیں معلوم کہ وہ لوگ (سطحیت کی) کن وادیوں میں گھوم رہے ہیں اور(جہالت کے) کن سمندروں میں غوطہ کھارہے ہیں۔ وہ (ان لوگوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے) مجسم تعصب ‘ حماقت ‘ جہالت اور کبر بن جاتا ہے اور اہل ِعلم میں شمار نہیں کیا جاتا۔ کچھ دوسرے حد سے گزرے ہوئے لوگ اس سوال کا جواب یہ دیتے ہیں کہ ہم عقل کو نقل پر فضیلت دیتے ہیں۔ پھر وہ اپنی قاصر عقلوں اورظلم و جور پر مبنی احکامات کے سامنے سر تسلیم خم کردیتے ہیں۔ یہاں سے افتراق اور ایک دوسرے کو گمراہ قراردینے کا دروازہ کھلتا ہے اور ہر کوئی دوسرے کو بدعتی قراردیتا اور براءت کا اظہار کرتا ہے۔
ان کے بالمقابل ہم اصحابِ عرفان اور وحدۃ الوجود کے قائلین کو عقل اور کشف کے مابین یہی سوال اٹھاتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ یہ حضرات دعویٰ کرتے ہیں کہ جو عقل سے علم حاصل کرتا ہے وہ اس کے درجے تک نہیں پہنچ سکتا جو کشف کے ذریعے علوم ومعارف حاصل کرتا ہے۔علم کو بلاواسطہ خالق سے الہام کے ذریعے حاصل کرنا ‘ ان کے ہاں کشف کہلاتا ہے۔ یہ حضرات عقلی غوروفکر والوں کو حقارت سے دیکھتے ہیں(غالی صوفیاء کے ہاں اس طرح کا معاملہ ہوتا ہے۔ محققین صوفیاء ہر شے کو اس کے مقام پر رکھتے ہیں اور کشف سے حاصل شدہ علم کو قطعی اور حُجّت نہیں سمجھتے) اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جب بھی عقل اور کشف میں تعارض ہوگا‘ ہم کشف کو عقل پر ترجیح دیں گے۔ اسی بنیاد پر وحدت الوجو د اور اس سے ملحق نظریات پر ان کا تعصب جڑ پکڑتا ہے۔ ان کے خیالات کا نفوذ عام عقلوں میں ہوتا ہے کہ جب ایک عامی دیکھتا ہے کہ ایک طرف علوم براہِ راست اللہ تعالیٰ سے حاصل کیے جارہے ہیں اور دوسری جانب عقل سے تو وہ لازماً پہلے کو ہی ترجیح دیتا ہے۔البتہ وہ یہ بات بھول جاتا ہے کہ کیا انبیاء کے علاوہ کوئی واقعی براہِ راست خدا سے (غلطی سے پاک) علم حاصل کرتا ہے ! جو اس کا دعویٰ کرتے ہیں کیا وہ واقعی براہِ راست اللہ سے علم حاصل کرتے ہیں؟ حق بات یہ ہے کہ اگر ایسا ہو بھی جائے تو بھی اس کے لیے اپنے ان حاصل کردہ علوم کو کسی دوسرے تک اس کے محسوسات یا وہ جو پہلے سے جانتا ہے (یا زبان جو وہ استعمال کرتا ہے ) سے تعرض کیے بغیر ممکن نہیں۔ اس کے اور جس تک وہ بات پہنچانا چاہ رہا ہے یا حُجّت تمام کرنا چاہ رہا ہے‘ کے بیچ میں جس خبر کا واسطہ ہے وہ خبر واحد ہی ہے ‘کوئی قطعی برہانی حُجّت نہیں ہے۔ خاص طور پر اس صورت میں جب یہ خبر ظاہری نصوص اورعقلی قطعیات کی مخالفت کرے۔ اس کے بعد بس دلیل نقلی ہی ہے جو اس کشف اور عرفان پر اعتماد کرنے والوں کو بظاہر ایک گونہ سہارا فراہم کرتی ہے‘ مگروہ اس استدلال کو جو وہ اپنے اوپر اور دوسروں پر قائم کرتے ہیں‘ کوئی صحیح اورٹھوس جواز فراہم نہیں کرتی۔ اگرہم ان کی یہ بات تسلیم کربھی لیں کہ ان کو براہِ راست خدا سے علم واقعی حاصل ہوجاتا ہے تب بھی ان کی دلیل نامکمل ہی رہتی ہے۔ وہ لوگ اس بنیادی بات ہی سے واقف نہیں ہیں کہ ہم (متکلمین اہل ِسُنّت) تو خبر ِرسولؐ سے بھی تب ہی حُجّت پکڑتے ہیں جب اس پر دلیل قائم ہوچکی ہو یعنی معجزہ۔ ان حضرات کے کلام کے اتباع کے لازمی ہونے پر کون سی قطعی دلیل قائم ہے ؟
حضرات متکلمین کا طریقہ جو عقلی غوروفکر کا طریقہ ہے‘ یہی بلاشبہ درست اور صحیح ہے۔ اسی کے ذریعے تعصب اور گمراہیوں کا خاتمہ ممکن ہے۔ لوگ جب اس کی طرف آتے ہیں تو گویا ایک واضح اور قطعی طریقے کی طرف آتے ہیں۔ زندگی میں ٹھوس علم اور ہدایت پر قائم ہوجاتے ہیں۔ اس بات کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہتا کہ کوئی ان کے ساتھ اپنے ان اوہام جن کو وہ شرعی نصوص یا الٰہی مکشوفات بنا کر پیش کرے ‘کی بنیاد پر کوئی کھیل کھیل سکے۔
جمہور اہل ِسُنّت کی رائے کے مطابق علم توحید میں دلیل اجمالی کا حصول فرض عین ہے۔ دلیل اجمالی سے مراد دلیل حقیقی کی اجمالی معرفت ہے۔ مثال کے طور پر خدا کے وجود پر ایک دلیل عالم کا حادث ہونا ہے۔ عالم کا حدوث یعنی عدم کے بعد اس کا موجود ہونا‘ اس بات کی تفصیل میں عام طورپر درجات کا اختلاف ہوتا ہے کیونکہ لوگ کلام کی تفصیل اور فہم پر قدرت میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کی معرفت میں درجات کا تفاوت واقع ہوجاتا ہے۔ یہ بات علم الکلام کی تفصیلی کتابوں میں بیان کی جاتی ہے۔
دلیل اجمالی سے مقصود کسی معین عقیدہ کے صحیح ہونے پر جو بنیادی استدلال کیا جاتا ہے اس پر ایک انسان کا قادر ہوجانا ہے۔ یعنی وہ بنیادی معرفت جس کا حصول کسی بھی انسان کے لیے تھوڑی سی کوشش کے بعد ممکن ہے۔ اتنی معرفت ہر مکلف مرد و عورت پر فرض عین ہے اور جو اس کو حاصل نہیں کرتا وہ گناہ گار ہے (مگر جمہور کے نزدیک اس کا ایمان مقبول ہوگا )۔ مثال کے طور پر خدا کے وجود پراستدلال کرنا عالم کے مخلوق ہونے سے یا عالم میں جو استحکام پایا جاتا ہے اس سے یا عالم کے ایک خاص ہیئت اور ترتیب میں ہونے سے کہ عالم کااس خاص ہیئت اور ترتیب میں ہونا ممکن نہیں جب تک کہ کوئی صاحب قدرت و ارادہ ہستی اس کی باعث نہ ہو۔ بس اس بنیادی معرفت کا ہر انسان مکلف ہے۔ اسی طرح عقائد اسلام میں جتنے بھی عقائد ہیں‘ سب کی بنیادی معرفت ضروری ہے۔ اس بات سے کوئی فرق واقع نہیں ہوتا کہ وہ منکرین کے سوالات ‘ اعتراضات اور شک پیدا کرنے والوں کے شک کا جواب نہ دے سکے (کیونکہ یہ ان لوگوں کا یعنی حضرات متکلمین کا کام ہے جو اس علم میں مہارت پیدا کرتے ہیں اور دلیل تفصیلی کو بیان کرنے اور شبہات و اعتراضات کے جوابات پر قادر ہوتے ہیں ) ۔
جہاں تک دلیل تفصیلی کا معاملہ ہے تو اس کے بارے میں دو اقوال ہیں۔ ابن تلمسانی سے اس کا فرض کفایہ ہونا نقل ہوا ہے جبکہ ابن رشد مندوب ہونے کے قائل ہیں۔ (الفواکہ الدوانی[۱‘۴۴]؛شرح رسالہ ابی زید القیروانی‘ للنفراوی)۔ ان دونوں اقوال میں تطبیق اس طرح ممکن ہے کہ یہ کہا جائے کہ تحقیقی قول یہی ہے کہ یہ فرض کفایہ ہے‘ کیونکہ اُمّت کو اس حالت میں چھوڑدینا جائز نہیں کہ اہل ِاھواء اور تشکیک پیدا کرنے والے اس اُمّت کے ساتھ کھیل کھیلتے رہیں اور کوئی ایسا انسان ہی نہ ہو جو ان کے شبہات کے ردّ پر قادر ہو۔ ایسی حالت پر راضی رہنا تو حماقت ہے اور یہ گویا دین کے معاملے میں شک پر راضی رہنا ہے ‘جو کفر ہے۔ اس لیے کسی ایسے عالم کا وجود لازمی ہے جو عقائد کے دفاع اور عوام اور علماء کے سینے میں اس کو راسخ کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ اگر ایک آدمی ہی اس کام کو کرنے کے لیے کافی ہے تو باقیوں پر سے فرض ساقط ہوجائے گا۔ اگر اس کام کو کرنے کے لیے ایک جماعت مطلوب ہوتو ایسی جماعت کی تیاری کے لیے جو کام بھی ضروری ہیں ان کو انجام دینا لازمی ہے‘ یہاں تک کہ مطلوب تعداد حاصل ہوجائے۔ ہر بستی میں کسی ایسے آدمی کا ہونا لازم ہے جو شریعت مطہرہ سے بدعتیوں اور کافروں کے شر کو دور کرنے پر قادر ہو۔ کچھ علماء نے ایک قصر کی مسافت میں ایسا آدمی ہونا ضروری قرار دیا ہے۔ میں اس رائے کی طرف رجحان رکھتا ہوں کہ ایک ایسے فرد کا ہونا واجب ہے جو اس کام پر قدرت رکھتا ہو اور اس تک عوام کی رسائی آسان ہو مگر اس زمانے میں مسافت کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔ اس معاملے میں آسانی اور مشکل کا تعین عرف سے ہوگا۔ اگر رسائی مشکل ہو تو اکثر یہ معاملہ لوگوں کو اس آدمی تک جانے سے روک دیتا ہے۔ کچھ علما ءنے ایک دن کی مسافت میں ایسے شخص کا ہونا ضروری قراردیا ہے۔ ایک دن کی مسافت سے مراد یہ ہے کہ اگر آدمی فجر کے بعد اپنے گھر سے نکلے تو اطمینان سے مغرب تک اپنی منزل سے ہو کر گھر واپس پہنچ سکے۔ اس طرح کی تعیین اگر مسلمانوں کے ضرور کا باعث نہیں بنتی تب تو ٹھیک ہے‘ ورنہ مسافت کی حد بندی مسلمانوں کی مصلحتوں کو سامنے رکھ کر کی جائےگی۔ اصل ضرورت تو ایسے لوگوں کی ہے جو دین حنیف سے شکوک و شبہات کو دور کرنے کا فریضہ انجام دیں۔ اتنے لوگ جب مہیا ہوجائیں کہ فرضِ کفایہ ساقط ہوجائے تو باقی مسلمانوں میں اس علم کی اہلیت رکھنے والوں کے لیے مستحب کا حکم ہے۔
اس تفریق کو نظرانداز کرکے اگر مطلقاً دیکھا جائے تو اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ علم عقیدہ واجب ہے‘کیونکہ دین اپنے ستون اس علم توحید کی مدد سے قائم کرتا ہے۔ اس علم کے زوال پر راضی رہنا کفر ہے کیونکہ یہ گویا دین کے زوال پر اپنی رضا کا اظہار کرنا ہے۔
یہ معاملہ صرف مسلمانوں کے ساتھ نہیں ہے بلکہ تمام ملل و ادیان اس علم کو واجب قراردیتے ہیں کہ جو ان کے دین و ملت کے ستونوں کی مضبوطی کا باعث ہو۔ یہ درست بات تو مسلمانوں کے حق میں بالاولیٰ ثابت ہوتی ہے (کیونکہ مسلمان حاملین حق ہیں )۔ بدقسمتی سے ہم ایسے لوگوں کو دیکھتے ہیں جو اپنے آپ کو اس دین کی طرف منسوب تو کرتے ہیں لیکن اس علم سے گویا ایک جنگ کی حالت میں رہتے ہیں۔ بعض لوگوں میں تو اس کی وجہ جہالت اور اندھا پن ہے جبکہ کچھ عقیدہ کی بدعات سے ایک تعصب کا تعلق رکھتے ہیں اور یہ علم ان کی حقیقت لوگوں پر کھول دیتا ہے‘ اس لیے وہ اس علم کے خلاف ہوجاتے ہیں ۔کچھ لوگ تو تحریم کا فتویٰ تک صادر کردیتے ہیں۔ اس معاملہ میں نہ تو ان کی باتوں کا کوئی وزن ہے اور نہ ان کی طرف التفات کیا جانا چاہیے۔
اس علم کو تفصیلی طور پر وضع کرنے والے امام ابوالحسن الاشعریؒ ہیں۔ انہی کی طرف اہل سُنّت والجماعت منسوب کیے جاتے ہیں اور اشاعرہ کہلاتے ہیں۔ محقق امام ابن السبکی ان کے تعارف میں فرماتے ہیں:
’’علی بن اسماعیل بن اسحاق بن سالم بن اسماعیل بن عبداللہ بن موسیٰ بن بلال بن ابی بردۃ جو بیٹے ہیں صحابی رسول ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے‘ شیخ ابوالحسن الاشعری جو اہل ِسُنّت والجماعت کے طریقہ کے شیوخ میں سے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سفر میں ہمارے لیے نمونہ ہیں۔ متکلمین کے امام ہیں۔ سید المرسلینﷺ کی سُنّت کے حامی و ناصر ہیں۔ دین سے شکوک و شبہات کو دور کرنے والے ہیں‘ مسلمانوں کے عقائد کی حفاظت میں دوڑدھوپ کرنے والے ہیں‘ ایسی سعی و کوشش جس کے اثرات قیامت تک جاری رہیں گے۔ روشنائی و قلم کے استاد ہیں۔ نیک اور صالح ہیں۔ جھوٹے لوگوں کی باتوں سے شریعت کی حفاظت کرتے ہیں۔ ملت اسلام کی مدد کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور ایسی نصرت کی کہ دنیا نے دیکھا۔ بقول شاعر ’’اس کی ہمت کا بیان یہ ہے کہ ثریا پر جوتوں کے نشان ہیں اور عزم ایسا ہے کہ تھکاوٹ اور بوریت پاس سے بھی نہیں گزرتیں‘ وہ ہمیشہ ہر وقت محنت کرتا رہا اور اس راہ پر چلتا رہا۔ کمر کو کس لیا اور آستینیں چڑھالیں یہاں تک کہ سینوں کو شبہات سے پاک کردیا جیسے سفید کپڑے پر سے میل کو صاف کیا جاتا ہے۔ اس نے کہا اور اگلوں کے لیے کہنے کو کچھ نہ چھوڑا ۔باطل کو دور کیا اور حق باطل بے بنیاد کو دفع ہی کرتا ہے۔ شیخ کی پیدائش ۲۶۰ھ میں ہوئی۔‘‘ (طبقات الشافعیہ الکبریٰ۳/۳۴۷)
پھر امام ابن السبکی ذکر کرتے ہیں کہ آغاز میں امام اشعری نے ابو علی الجبانی المعتزلی سے علوم حاصل کیے اور وہ اعتزال میں اس کے پیروکار تھے۔ قاضی عیاض اس بات کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں:
’’کہا جاتا ہے کہ امام اشعری آغاز میں معتزلی تھے ‘پھر اہل سُنّت کی طرف مائل ہوئے۔ یہ بات اگر درست بھی ہوتو ان کے مرتبہ میں کسی کمی کا باعث نہیں بنتی کیونکہ امام سے بھی افضل ایسے لوگ ہیں جو پہلے کافر تھے پھر اسلام لائے۔ بلکہ یہ سُنّت کے راستے پر ان کی ثابت قدمی اور یقین کی گہرائی کی دلیل ہے کہ جس عقیدہ پر ان کی اٹھان ہوئی وہ اسی پر جمے نہیں رہے بلکہ صرف اسی عقیدہ کو قبول کیا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو کھول دیا ‘ ہدایت اور رُشد کی طرف ان کی رہنمائی اور اپنی خاص عنایت اور نصرت سے ان کی حفاظت کی۔ ابو عبداللہ الازدی ذکرکرتے ہیں کہ امام اشعری پہلے معتزلی تھے‘ شحام اور عطوی سے انہوں نے علوم حاصل کیے اور اپنے ہم عصروں سے آگے نکل گئے۔ پھرحق یعنی مذہب اہل ِسُنّت کی طرف رجوع کیا۔ بہت سے لوگ اس بات پر متعجب ہوئے۔‘‘ (ترتیب المدارک فی اعلام مذہب امام مالک۵/۲۷)
مشہور یہ ہے چالیس سال تک مذہب اعتزال پر رہے۔ امام ابن السبکی نے اس کا ذکر شک کے ساتھ کیا ہے۔ کہتے ہیں:
’’کہاجاتا ہے کہ وہ چالیس سال تک معتزلی رہے‘ یہاں تک کہ ان کا شمار ان کے ائمہ میں ہونے لگا۔ جب اللہ تعالیٰ نے دین کی نصرت کا ارادہ کیا اور ان کے سینے کو حق کے لیے کھول دیا تو امام اشعری پندرہ دن تک لوگوں سے غائب رہے اور اپنے گھر میں ہی مقیم رہے۔ پھر نکلے اور جامع مسجد کے منبر پر چڑھ کر کہنے لگے کہ:’’ لوگو! میں اتنے دن اس لیے غائب رہا کہ غوروفکر کررہا تھا ‘مگرمیں نے دلائل کو دونوں طرف برابر پایا اور کسی مسلک کو دوسرے پر ترجیح نہ دے سکا۔ پھر میں نے اللہ تعالیٰ سے ہدایت طلب کی تو اللہ نے مجھے اس اعتقاد کی راہ دکھائی جس کو میں اپنی کتابوں میں غلط ثابت کیا کرتا تھا۔ میں اپنے تمام گزشتہ عقائد کو چھوڑتا ہوں‘ جیسے میں اپنے اس کپڑے کو اُتار رہا ہوں۔‘‘ انہوں نے اپنے اوپر والے کپڑے اُتارکر پھینک دیے اور اپنی وہ کتابیں بھی پھینک دیں جو ا ہل ِسُنّت کے خلاف لکھی گئی تھیں۔‘‘(طبقات الشافعیہ الکبری۳/۳۴۷)
اصل بات یہ ہے کہ آپ چالیس سال مذہب اعتزال پر نہیں رہے بلکہ چالیس سال کی عمر تک رہے۔ ان دونوں باتوں میں واضح فرق ہے۔ مشہور ہے کہ مذہب اہل سُنّت سے آپ کا تعلق۳۰۰ء کے آغاز میں ہوا اور آپ کی پیدائش ۲۶۰ء کی ہے۔ وفات کے بارے میں راجح قول ہے کہ ۳۲۴ء کی ہے۔ اس بات کی تائید میں کہ آپ چالیس سال مذہب اعتزال پر نہیں رہے بلکہ چالیس کی عمر تک رہے ‘بہت سے دلائل ہیں جن کا ذکر ہم الگ سے امام اشعری پر کتاب میں کریں گے ‘ان شاءاللہ۔ یہاں ہم ان چند بنیادی باتوں پر ہی اکتفا کررہے ہیں جن کو جاننا ہمارے خیال میں تحقیق کی خواہش رکھنے والے کے لیے مفید ہے۔ (جاری ہے)
tanzeemdigitallibrary.com © 2026