(ایمانیات) مباحث ِ عقیدہ (۲۵) - مؤمن محمود

11 /

مباحث ِعقیدہ(۲۵)مؤمن محمود

صفات متشابہات اور مسلک سلف
گزشتہ درس میں امام غزالی علیہ الرحمہ کی ایک کتاب ’’إلجام العوام عن علم الکلام‘‘ کا مطالعہ شروع کیا گیا تھا جس میں یہ بنیادی موضوع زیر بحث تھا کہ آیات متشابہات کے حوالے سے سلف کا مسلک کیا ہے۔ الٰہیات کے مباحث میں سب سے پہلے ہم نے دیکھا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حق میں واجب صفات کون سی ہیں (یعنی جن کا ہونا ضروری ہے)اور اب ہم ان صفات کا مطالعہ کر رہے ہیں کہ جن کا وجود اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات میں مستحیل ہے (یعنی جن کا نہ ہونا ضروری ہے)۔ اس حوالے سے امام سنوسی علیہ الرحمہ کی ایک کتاب کے چند اقتباسات سے یہ بنیادی بات سامنے آئی کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جسمانیت سے ماوراء ہے اور زمان و مکان کی قید سے منزہ ہے۔ اب اسی حوالے سےہم سلف کا مسلک إلجام العوام عن علم الکلام سے دیکھ رہے ہیں ۔
اس کتاب کے شروع میں امام صاحب علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ مسلک سلف کے پیروکار ہیں‘ لیکن اس کے باوجود وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے ان صفات کا اثبات کرتے ہیں کہ جن کے نہ ماننے پر سلف متفق ہیں۔ چنانچہ مصنف نے مسلک سلف کی وضاحت کی اور اس کو سات جامع وظائف میں بیان کیا۔ ایسی آیاتِ صفات یا احادیث ِصفات جوعوام الناس کے لیے تجسیم کا وہم پیدا کرنے والی ہوں ان کے متعلق ہر آدمی پر سات وظائف لازم ہیں۔
پانچ وظائف کا خلاصہ
گزشتہ درس میں پانچ وظائف کا تفصیلی مطالعہ کیا جا چکا ہے۔ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ:
(۱) اللہ کی مطلق تقدیس کی جائے۔ یعنی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو جسمانیت ‘ اس کے لواحق ‘ اس کے توابع اور اس کے متعلقات سے مطلقا ً ماوراء سمجھا جائے۔
(۲) اس بات کی تصدیق کی جائے کہ اللہ کے نبیﷺ نے جو بیان کیا ہے وہ بھی حق ہے‘ اور جو معنی مراد لیے ہیں وہ بھی برحق ہیں۔ اوریہ کہ اللہ کے نبیﷺ اپنے ہرقول میں سچے ہیں۔ اس میں گویا فلاسفہ کا ردّ بھی مقصود تھا کہ جن کے مطابق اللہ تعالیٰ اوراُس کے نبی عوام الناس کے لیے مصلحتاً (نعوذباللہ ) جھوٹ بھی بول سکتے ہیں۔
(۳) اپنی کوتاہی کا اعتراف کیا جائے اور یہ مانا جائے کہ ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حقیقی معرفت حاصل نہیں کر سکتے اور اُس کی صفات کی کنہہ نہیں جان سکتے۔ یہ اعترافِ عجز ہے۔
(۴) اس کے بعد سکوت اختیار کیا جائے ۔ یعنی ان موہم الفاظ کے متعلق کھود کرید نہ کی جائے‘ کسی سےسوال نہ پوچھا جائے‘ لوگوں کو ان معاملات میں غور کرنے پر ابھارا نہ جائے اور ان مسائل کو لوگوں کے امتحان کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ جیسا کہ سیدنا امام مالک علیہ الرحمہ سے جب استواء علی العرش کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے منجملہ باتوں میں یہ بھی فرمایا کہ: والسؤال عنه بدعة ’’اس کے متعلق سوال کرنا بدعت ہے۔‘‘
(۵) پانچواں وظیفہ امساک ہے‘ یعنی الفاظ میں بھی کوئی تصرف نہ کیا جائے۔قرآن و حدیث میں لفظ جس صیغے میں وارد ہوا ہو بس اتنا ہی بیان کیا جائے اور اس پر کچھ بھی اضافہ نہ کیا جائے۔
الفاظ میں تصرف کی چھ اقسام کا خلاصہ
امام صاحب علیہ الرحمہ نے ان تصرفات کی چھ اقسام بیان کی ہیں:
(۱) تصرفات کی پہلی قسم’’ تفسیر‘‘ہے۔ اس سے مراد لفظ کو عربی زبان سے کسی اور لغت میں منتقل کرنا ہے۔ اگرچہ امام غزالی علیہ الرحمہ نے یہاں تفسیر کی شرائط بیان نہیں کیں لیکن دوسرے علماء اس شرط کے ساتھ’’تفسیر‘‘کو جائز کہتے ہیں کہ کسی اور لغت میں ترجمہ کرتے ہوئے حاشیے میں اس بات کی وضاحت کر دی جائے کہ جو غلط معنی اس ترجمے سے پیدا ہونے کا امکان ہے وہ یہاں مراد نہیں ہے۔
(۲) لفظ کی’’تاویل‘‘نہ کی جائے۔ اس سے مراد یہ ہےکہ لفظ کے ظاہری معنی (جو موہم تشبیہ ہوں) کی نفی کرنے کے بعد بھی اس کا معنی بیان نہ کیا جائے۔ فرماتے ہیں کہ عام آدمی کے لیے تو یہ حرام ہے ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ ایسے شخص کے لیے سمندر میں غوطہ زنی حرام ہے جس کو تیراکی نہیں آتی۔ اسی طرح عوام الناس پر ان مسائل میں غور و خوض کرنا اور اپنے ذہن سے تاویلات ڈھونڈنا سب حرام ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عوام الناس سے کیا مراد ہے؟ چنانچہ فرماتے ہیں کہ چاہے کوئی شخص ادیب ہو‘ مفسر ہو‘ نحوی ہو‘ لغوی ہو یہاں تک کہ متکلم بھی ہو‘ سب عوام الناس میں شمار ہوں گے ‘سوائے اس عالم کے کہ جس نے اپنے آپ کو دنیا سے متجرد کر لیا ہے‘ دنیا کی محبت سے اس کا دل پاک ہو چکا ہے‘ اور وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی محبت کے سمندر میں غوطہ زن ہو چکا ہے۔ بس یہ وہ شخص ہے کہ جو اس سمندر میں غوطہ زنی کر نےکا اہل ہےلیکن یہ بھی خطرے میں ہے۔ ان اشخاص میں سے بھی کہ جو تجرد للہ سبحانہ و تعالیٰ کے مرتبے پر فائز ہو چکے ہیں‘ وہ بھی اگر اللہ کی معرفت اور کنہہ جاننے کے سلسلے میں پڑ جائیں گے تو ان کے بھی ڈوبنے کا امکان ہے اور ان میں سے بھی دس میں سے ایک آدمی بچتا ہے۔ لہٰذا سورہ آلِ عمران میں آیاتِ متشابہات کے حوالے سے راسخون فی العلم کا جوطرزِ عمل بیان فرمایاگیا‘ وہ یہ ہے کہ:
{وَالرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَــقُوْلُــوْنَ اٰمَنَّا بِہٖ لا کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَاج وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْـبَابِ (۷)}
’’ اور جو لوگ علم میں راسخ ہیں وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اس( کتاب) پر‘ یہ کل کا کل ہمارے ربّ کی طرف سے ہے۔ اور نصیحت حاصل نہیں کر سکتے مگر وہی جو ہوش مند ہیں ۔‘‘
رسوخ سےمراد ہے کسی شے میں گہرائی تک اتر جانا۔ یعنی جو علماء علم کی گہرائی میں اترے ہوئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم سب پر ایمان لے آئے کیوں کہ سب آیات محکمات اور متشابہات اللہ کی طرف سے ہیں۔ تو گویا اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے علماء کا طرزِ عمل یہ بتایا کہ وہ محکمات کے پیچھے چلتے ہیں اور متشابہات کے پیچھے نہیں چلتے۔
{فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ زَیْغٌ فَـیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْـتِغَـآئَ الْفِتْـنَۃِ وَابْـتِغَــآئَ تَاْوِیْـلِہٖ ج }(آل عمران:۴)

’’تو وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہوتی ہے وہ پیچھے لگتے ہیں ان آیات کے جو ان میں سے متشابہ ہیں‘ فتنے کی تلاش میں اور ان کی حقیقت و ماہیت معلوم کرنے کے لیے۔ ‘‘
متشابہات کے پیچھے وہی چلتا ہے کہ جس کے دل میں کوئی ٹیڑھ ہے۔ اس سےمراد ایسا شخص ہے جس نے اپنے دل کو اللہ کے لیے خالص نہیں کیا‘ لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات و صفات اور آیات کی تاویل میں غور و خوض کررہا ہے۔
(۳) علم صَرف کی رو سے اشتقاق نہ کیا جائے۔ یعنی نصوص میں اِسْتَوٰی آیا ہے جو کہ ماضی کا صیغہ ہے تو اس سے مضارع کا صیغہ نہ بنایا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اِسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ‘‘ تو یہ نہ کہا جائے کہ ’’یَسْتَوِی عَلَی الْعَرْشِ۔‘‘ اسی طریقے پر اس سے اسم الفاعل بھی نہ بنایا جائےکہ’’ھُوَ مُسْتَوٍ عَلَی الْعَرْشِ۔‘‘ جتنا اللہ نے فرمایا ہے اسی پر اکتفا کیا جائے کیونکہ ماضی کے صیغے کی دلالت اور معنی مضارع کے صیغے اور اسم الفاعل سے مختلف ہے۔ اس تصریف سے معنی بدل جاتا ہےاور جو معنی اللہ تعالیٰ نے مراد لیا ہے اس میں تبدیلی واقع ہو جاتی ہے۔
(۴) ’’تفریع‘‘نہ کی جائے۔ اس سے مراد یہ ہےکہ بیان کردہ اصل سے فروعات نکالی جائیں۔ مثلاً یہ قیاس نہ کیا جائے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے چونکہ اپنے لیے لفظ’’ید‘‘استعمال کیا ہے تو پھر نعوذ باللہ پانچ انگلیاں بھی ہوں گی ۔ یا یہ کہ ہمارے مشاہدے میں ہاتھ بغیر بازو کے نہیں ہوتا تو پوری جسمانی ہیئت کا بیان شروع کردیا جائے ۔ ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔
(۵) نصوص میں جو موہم الفاظ متفرق آئے ہیں ان کو جمع نہ کیا جائے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے کسی موقع پر اگر لفظ ’’ساق‘‘بولا‘ کسی موقع پر’’ضحک‘‘بولا‘ تو یہ مختلف مواقع ہیں کہ جس میں سیاق وسباق سے ایسے قرائن جمع تھے کہ جس سے حقیقی معنی تک لوگ پہنچ جاتے تھے۔ جب سیاق و سباق سے کاٹ کر اور مختلف عبارتوں میں سے صرف یہ موہم الفاظ لے کر ان کو ایک جگہ جمع کر دیا جائے گا تو یقیناً ایسے معنی پیدا ہو جائیں گے جو اللہ کے نبی ﷺ نے مراد نہیں لیے۔
(۶) جس طرح متفرق کو جمع کرنا ٹھیک نہیں ہے‘ اسی طرح جو مجتمع (جمع)ہے اس کو متفرق کرنا بھی درست نہیں ہے۔ امام غزالی علیہ الرحمہ نے اس کی بہت خوب صورت مثال دی ہے:
{وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ} (الانعام:۱۸)
’’اور وہ اپنے بندوں پر پوری طرح غالب ہے۔‘‘
یہاں محسوس ہوتا ہے کہ تفسیر پر بھی وہ بہت گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ جو لوگ اپنے آپ کو مسلک سلف کا پیروکار کہتے ہیں ‘وہ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لیے فوقیت ِمکانی بھی ثابت ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہاں صرف’’فوق‘‘کا لفظ نہیں آیا بلکہ’’قاھر‘‘کا لفظ بھی آیا ہے اور’’عبادہ‘‘کا لفظ بھی آیا ہے۔ ’’قاھر‘‘اور’’عبادہ‘‘کے بیچ میں جب’’فوق‘‘آیا تو یہ ایک خاص معنی دے رہا ہے کہ جو کسی بھی صورت میں فوقیت مکانی نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگر آپ’’ قاھر‘‘او ر’’عبادہ‘‘نکال کر صرف یہ کہیں کہ’’فوق‘‘کی صفت اللہ کے لیے ثابت ہے تو معنی کچھ اور ہو جائے گا۔
لفظ میں یہ پانچوں تصرفات حرام ہیں اور عوام الناس کے لیے کسی بھی صورت میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ گزشتہ درس کا خلاصہ تھا۔ اب ہم بقیہ دو وظائف کا مطالعہ کرتے ہیں۔
چھٹا وظیفہ :الکفّ
کفّکا لفظی مطلب بھی رک جانا ہے۔ امساک سے مراد یہ تھا کہ لفظ پر تصرف سے آپ رُک جائیں اور کفّسے مراد یہ ہے کہ لفظ پر غور و فکر سے اپنے باطن کو بھی روکیں ۔ اس بات کا امکان ہے انسان اپنے آپ کو ان امور میں گفتگو سے روک دے لیکن اس کا باطن ان امور میں مشغول رہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ عامی کے لیے یہ بھی جائز نہیں ہے کہ وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی معرفت کے اس سمندر میں غوطہ زنی کرے ‘ چیزوں کے حقائق تک پہنچنے کی کوشش کرے اور متشابہات کے پیچھے پڑ جائے۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کی معرفت تو اصل مقصود ہے اور اگر غوروفکر نہیں کیا جائے گا تو معرفت کیسے حاصل ہو گی؟امام صاحب اس کا جواب دیتے ہیں کہ تم نے یہ غلط سمجھا ہے کہ لفظوں پر غور و فکر کرکے ‘ کتابیں پڑھ کے اور لغت کے مباحث حل کرکے تم اللہ کی ذات و صفات کی معرفت حاصل کر لوگے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے کا طریقہ یہ نہیں ہے۔
معرفت ِربانی کا اصل طریقہ
اس کا طریقہ یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو عبادت‘ نماز‘ قراءتِ قرآن اور ذکر میں مشغول کرو۔ یعنی اس کا طریقہ کتابیں پڑھنا اور علم الکلام اور فلسفے کے مسائل کھنگالنا نہیں ہے‘ بلکہ یہ کہ اللہ کی راہ پر چلنا شروع کر دو۔ جب تم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی راہ پر چلو گے تو وہ تمہیں علم و معرفت بھی دے دیں گے:
{وَاتَّقُوا اللہَ ط وَیُعَلِّمُکُمُ اللہُ ط } (البقرۃ:۲۸۲)
’’اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اوراللہ تمہیں تعلیم دے رہا ہے۔‘‘
_ امام صاحب فرماتے ہیں:
ان یشغل نفسه بعبادۃ اللّٰہ وبالصلاۃ وقراءة القرآن والذکر
’’ (اسے چاہیے )کہ اپنے آپ کو اللہ کی عبادت‘ نماز‘ قراءت اور ذکر میں مشغول کرے ۔‘‘
امام صاحب نےکئی دوسری جگہوں پر بھی اس کا ذکر کیا ہے اور یہاں بھی فرماتے ہیں کہ جس کو ذوقِ عبادت حاصل نہیں‘ جس کو ذوقِ تلاوت اور ذوقِ ذکر حاصل نہیں ‘ وہ ان مسائل میں محض کچھ ذہنی باتیں یا معلومات جاننے کے سوا کچھ حاصل نہیں کرے گا۔ اللہ کی معرفت اسے حاصل نہیں ہو سکتی کہ جس کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی عبادت کا والہانہ ذوق نہیں ہے۔ اگر کوئی انسان ایسا ہے جو عبادت و تلاوت میں مشغول نہیں ہو پاتا اور کہتا ہے کہ میں نے تو غور و فکر ہی کرنا ہے اور ان چیزوں میں میرا دل نہیں لگتا‘ تو اسے چاہیے کہ کچھ اور چیزوں میں دل لگا لے۔ لغت میں‘ نحو میں‘ خطابت میں‘ طب میں یا فقہ میں مشغول ہو جائے۔ اگر اس میں بھی مشغول نہ ہو سکے تو دنیا کی صناعات جیسے کھیتی باڑی یا پارچہ بافی وغیرہ میں مشغول ہو جائے۔ اگر اس میں بھی دل نہ لگے تو کھیل کود میں پڑ جائے لیکن ان مسائل میں پھر بھی غور و فکر نہ کرے۔ اس لیے کہ کھیل کود میں مشغول ہوگا تو زیادہ سے زیادہ وقت ضائع ہوگا اور جنت میں اعلیٰ مراتب حاصل نہیں کر سکے گا‘ لیکن اگر ذات و صفات میں غور و فکر شروع کر دیا تو کفر تک کا اندیشہ ہے۔ پھر اس سے بھی آگے بڑھ کر فرماتے ہیں کہ اگرکھیل کود میں بھی مشغول نہ ہو پائے تو گناہوں میں مشغول ہو جائے۔
بل لو اشتغل العامي بالمعاصی البدنية، ربما کان اسلم له من ان یخوض في البحث عن معرفة اللّٰہ سبحانه وتعالیٰ
’’ اگر ایک عامی جسمانی گناہوں میں مشغول ہو جائے تو شاید یہ اس کے لیے زیادہ محفوظ ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ اللہ کی معرفت کے سمندر میں غوطہ زنی کی کوشش کرے۔‘‘
یہاں’’المعاصی البدنية ‘‘ کی قید بہت اہم ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ یہ صرف جسمانی گناہ ہوں‘ دل کے گناہ نہ ہوں (مثلا تکبر‘ عجب وغیرہ) کیونکہ دل کے گناہوں کا انجام بھی فسق سے بڑھ کر کفرو شرک تک پہنچ سکتا ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں:
فان غایته الفسق وغاية ذاك الشرک
’’ اس کی (جسمانی گناہوں میں مبتلا ہونے کی)غایت فسق ہے اور ان کی اس کوشش(بحارِ معرفت ميں غوطہ زنی) کی غایت شرک ہے۔‘‘
آج کے زمانے میں یہ سب باتیں کیسے سمجھ میں آ سکتی ہیں جبکہ ہر ایک کو یہ زعم ہے اور ہر ایک کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ ہر مسئلے کو جان بھی سکتا ہے اور اس میں غور و فکر بھی کر سکتا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی حدود نہیں پہچانتے۔ لہٰذا روکا جا رہا ہے کیونکہ یہ سمندر گہرا ہے اور موتی تک تم نہیں پہنچ سکو گے۔ موتی تک پہنچتے پہنچتے تمہارا سانس اکھڑ جائے گا اور تم ڈوب جاؤ گے۔
عامی کا قرآنی دلائل کے صرف ظاہر پر اکتفا
اس کے بعد ایک خوب صورت بحث ہے۔ فرماتے ہیں کہ پھر اس کا تو مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت عامی کو بغیر دلیل کے حاصل ہوگی! اگر دلیل میں بھی غور و فکر کرے گا تواس سے روکا جا رہا ہے۔ فرماتے ہیں کہ نہیں‘ میں یہ نہیں کہہ رہا۔ غور و فکر کرنا چاہیے‘ لیکن میں ایک عام آدمی کے لیے یہ سمجھتا ہوں کہ وہ قرآن کے بیان کردہ دلائل پر ایک فطری طریقے سے غور کرے اور اس سے زیادہ نہ بڑھے؛ اسی پر اکتفا کرے۔ علم الکلام کے دقیق مباحث جن میں جوہر‘ عرض‘ حادث کی صفات اور اللہ تک پہنچنے کے مختلف راستے جیسے دلیل امکان اور دلیل حدوث وغیرہ ہیں‘ یہ سب مسائل عوام الناس کو سمجھ میں نہیں آئیں گے بلکہ ان کو شک میں مبتلا کر سکتے ہیں ۔ مثلاً ایک عامی ان مباحث کو سرسری طور پر جاننے کے بعد اس نتیجے پر بھی پہنچ سکتا ہے کہ اللہ تک پہنچنا اور اس کی معرفت حاصل کرنا تو بہت مشکل کام ہے۔ پہلے یہ ثابت کرو‘ پھر وہ ثابت کرو‘ تو گویا معاملات کافی شک و شبہ والے ہیں۔
ایک واقعہ ہے کہ امام رازی رحمہ اللہ نے علم الکلام پر ایک بڑی کتاب لکھی( ’’نھاية العقول‘‘ یا کوئی دوسری کتاب)‘ تو نیشاپور میں اس کا جشن منایا جا رہا تھا۔ وہاں ایک بڑھیا گزری تو اس نے کسی سے پوچھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے! انہوں نے کہا کہ امام رازی نے کتاب لکھی ہے جس میں خدا کے وجود پر سو دلائل دیے ہیں۔ بڑھیا نے کہا کہ اچھا اس کو سو شک تھے تو سو دلائل کی ضرورت پیش آئی۔ ہمیں تو کوئی شک ہی نہیں‘ لہٰذا ہمیں تو دلیل کی ضرورت ہی نہیں۔ یہی امام صاحب فرمانا چاہ رہے ہیں کہ جب تم یہ دلائل سنو گے اور ان میں اتنا گنجلک اور پیچیدہ معاملہ ہوگا تو ممکن ہے کہ ایک عام آدمی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو جائے کہ شاید معاملہ اتنا سادہ نہیں اور شاید خدا کے وجود میں کچھ مسئلہ ہو سکتا ہے۔ لہٰذا فرما رہے ہیں کہ یہ کام نہ کرو۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی معرفت کے حوالے سے جو فطری دلائل قرآن نے دیے ہیں ‘عوام الناس کو انہی پر روکے رکھو۔
اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ امام صاحب علم الکلام کے فوائد کا انکار کر رہے ہیں۔ وہ بتا رہے ہیں کہ یہ بات اس وقت ہے جب شبہات ذہن میں پیدا نہ ہوئے ہوں۔ اگر بالفرض عام آدمی کے ذہن میں بھی کچھ خارجی اثرات کی وجہ سے شبہات پیدا ہو چکے ہوں تو اب اس کا علمی طور پر دلیل سے جواب دینا ضروری ہے۔ یہ اس کیفیت میں بتا رہے ہیں جب ایک عام سلیم الفطرت آدمی جو اللہ کو ماننے کو تیار ہے‘ قرآن کی آیت سنے گا تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں گے اور وہ فوراً مان لے گا۔ جس طرح حبشہ سے کچھ لوگ آئے جو ابھی مسلمان نہیں تھے‘ بس چند آیات سنیں اور حق کو پہچان لیا۔
{وَاِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰٓی اَعْیُنَہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُــوْا مِنَ الْحَقِّ ج یَـقُوْلُوْن رَبَّـنَـآ اٰمَنَّا فَاکْتُـبْـنَا مَعَ الشّٰہِدِیْنَ(۸۳)} (المائدۃ)
’’اور جب انہوں نے سنی وہ چیز جو کہ رسول (ﷺ) پر نازل کی گئی تھی توتم دیکھتے ہو کہ حق کی جو پہچان انہیں حاصل ہوئی اس کے زیر اثر اُن کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔ (اور) وہ کہہ رہے ہیں: اے ہمارے ربّ! ہم ایمان لے آئے‘ پس تُو ہمیں لکھ لے گواہی دینے والوں میں سے۔‘‘
ان حضرات کو سلامت فطرت (سلیم الفطرت ہونے )کی وجہ سے چند آیات سننے کے بعدحق کی معرفت حاصل ہو گئی۔
عامی کے لیے چار ضروری حقائق کی معرفت
چار چیزیں ہیں کہ جن کی معرفت عامی کے لیے ضروری ہے: اللہ کی معرفت (معرفة الخالق )‘ اُس کی وحدانیت کا علم‘ رسول کے سچے ہونے کا علم اور یومِ آخرت کا علم۔ پھر انہوں نے مختصراً بتایا کہ ہر موضوع پر قرآن نے خوب صورت دلائل دیے ہیں اور ان میں سے چند دلائل نقل بھی کیے ۔ مثال کے طور پر معرفة الخالق کے باب میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{قُلْ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِکُ السَّمْعَ والْاَبْصَارَ وَمَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَمَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَط فَسَیَقُوْلُوْنَ اللہُ ج فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ(۳۱) } (یونس)
’’(اے نبیﷺ! ان سے) پوچھئے کہ کون ہے جو تمہیں رزق پہنچاتا ہے آسمان اور زمین سے‘ یا کون ہے جس کے قبضہ قدرت میں ہیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں؟ اور کون ہے جو نکالتا ہے زندہ کو مُردہ سے اورمُردہ کو زندہ سے ‘اور کون ہے تدبیر ِاَمر کرنے والا؟ تو وہ کہیںگے اللہ! تو آپؐ فرمائیے کہ کیا پھر تم (اُس اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو؟‘‘
{اَفَلَمْ یَنْظُرُوْٓا اِلَی السَّمَآئِ فَوْقَہُمْ کَیْفَ بَنَیْنٰـہَا وَزَیَّنّٰہَا وَمَا لَہَا مِنْ فُرُوْجٍ(۶)} (قٓ)
’’تو کیا انہوں نے دیکھا نہیں اپنے اوپر آسمان کی طرف کہ ہم نے اسے کیسے بنایا ہے اور کیسے اسے مزین کیا ہے اور اس میں کہیںکوئی رخنہ نہیں ہے۔‘‘
یعنی اگر کسی شخص کو سلامت ِفطرت حاصل ہے تو وہ سورئہ قٓ ختم کرنے سے پہلے یہ جان چکا ہوگا کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ کا معمول تھا کہ اکثر جمعہ میں سورئہ قٓ کی تلاوت فرماتے تھے۔ ایک صحابیہ فرماتی ہیں کہ میں نے جمعہ کو منبر پر اللہ کے نبی ﷺ سے مستقل یہ سورت سُن سُن کے یاد کر لی۔ آپ ﷺ اس سورة کے ذریعے تذکیر فرماتے تھے کیونکہ اسی سورة میں حکم ہے :
{ فَذَکِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ(۴۵)}
’’پس آپ تذکیر کرتے رہیے اِس قرآن کے ذریعے سے ہر اُس شخص کو جو میری وعید سے ڈرتا ہے۔‘‘
امام غزالی علیہ الرحمہ اس کے بعد مزید آیات بھی لے کر آتے ہیں:
{وَنَزَّلْـنَا مِنَ السَّمَآئِ مَآئً مُّبٰـرَکًا فَـاَنْبَتْنَا بِہٖ جَنّٰتٍ وَّحَبَّ الْحَصِیْدِ(۹) وَالنَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّــہَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌ(۱۰) رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ لا وَاَحْیَیْنَا بِہٖ بَلْدَۃً مَّیْتًاط کَذٰلِکَ الْخُرُوْجُ(۱۱)} (قٓ)
’’اور ہم نے آسمان سے اُتارا برکت والا پانی‘ تو ہم نے اُگایا اس کے ذریعے سے باغات کو اور ان فصلوں کو جو کٹ جاتی ہیں اور کھجوروں کے بلند و بالا درخت جن کے خوشے ہیں تہ بر تہ۔‘‘
{ فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰی طَعَامِہٖٓ(۲۴) اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآئَ صَبًّا(۲۵) ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا(۲۶) فَاَنْبَتْنَا فِیْہَا حَبًّا(۲۷) وَّعِنَبًا وَّقَضْبًا(۲۸) وَّزَیْتُوْنًا وَّنَخْلًا(۲۹) وَّحَدَآئِقَ غُلْبًا(۳۰) وَّفَاکِہَۃً وَّاَ بًّا(۳۱) مَّتَاعًا لَّکُمْ وَلِاَنْعَامِکُمْ (۳۲) }(عبس)
’’تو انسان ذرا اپنے کھانے ہی کو دیکھ لے‘ کہ ہم نے آسمان سے پانی برسایا جیسے کہ برسایا جاتا ہے۔ پھر ہم نے زمین کو پھاڑا جیسے کہ وہ پھٹتی ہے۔ پھر ہم نے اُگا دیے اِس میں اناج اور انگور اور مختلف ترکاریاں اور زیتون اور کھجوریں اور بڑے گھنے باغات اور میوے اور چارہ۔ ضرورت کا سامان تمہارے لیے بھی اور تمہارے مویشیوں کے لیے بھی۔‘‘
یہ سب آیات جب ایک سلیم الفطرت انسان پڑھے گا تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے وجود پر اسے دلیل حاصل ہو جائے گی۔ کسی قسم کے تکلفاتِ کلام اور متکلمین کی حاجت نہیں رہے گی۔ امام صاحب کی ان باتوں سے کچھ لوگ غلط استدلال کر لیتے ہیں کہ وہ گویا علم الکلام کا کلی ردّ کر رہے ہیں‘ لیکن صرف اس کتاب کا عنوان ہی دیکھ لیں تو بات واضح ہو جاتی ہے: ’’إلجام العوام عن علم الکلام۔‘‘ اس میں علم الکلام کا انکار نہیں ہے بلکہ عوام الناس کو اس سے دور رکھنے کی تجویز دی جا رہی ہے۔ پھر انہوں نے وحدانیت پر اور آخرت کے وقوع پر الگ آیات جمع کی ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر یہ ساری باتیں دیکھنا چاہو تو ہم نے کتاب ’’جواھر القرآن‘‘ میں تقریباً پانچ سو آیات جمع کر کے بتایا ہے کہ کس طریقے پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ یہ استدلالات فرماتے ہیں۔
قرآنی دلائل مثل غذا اور کلامی دلائل مثل دوا
اس کے بعد فرماتے ہیں :
فأدلة القرآن مثل الغذاء ینتفع به کل انسان، و أدلة المتکلمین مثل الدواء ینتفع به احاد الناس و تستضر به الأکثرون
’’ قرآن کے دلائل غذا کے مانند ہیں اور ہر انسان اس سے فائدہ اٹھاتا ہے‘ جبکہ متکلمین کے دلائل دوا کے مانند ہیں جن سے کچھ لوگ فائدہ حاصل کرتے ہیں لیکن اکثریت کے حق میں وہ مضر ہیں۔‘‘
اس میں آپ ؒ کلام اور متکلمین کا ردّ نہیں کر رہے بلکہ اس کا صحیح محل بیان کر رہے ہیں۔ دوا بھی انسان کےلیے ضروری ہوتی ہے‘ لیکن اسی وقت دی جاتی ہے جب انسان مریض ہو(جسے شکوک و شبہات لاحق ہوں) ۔ ظاہر ہے کہ ایک صحت مند آدمی کو دوا نہیں دی جاتی ۔ مراد یہ ہے کہ صحت مند آدمی کو غذا دی جائے گی‘ یعنی قرآن کے دلائل اس کے لیے کفایت کریں گے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ متکلمین کے دلائل میں چونکہ تکلّف اور پیچیدگی ہوتی ہے تو یہ مناسب نہیں ہے کہ کسی صحت مند آدمی کو( جسے کوئی شک و شبہ نہیں ہے) کلامی دلائل پڑھانا شروع کر کے اسے یہ باور کرایا جائے کہ اگر تم نے اس طریقے پر اللہ کو نہیں مانا تو گویا تم خدا کے وجود کو ہی نہیں مانتے۔ ایک عامی کےلیے یہ یقیناً باعث تشویش ہو گا۔ پھر آگے کہتے ہیں:
بل أدلة القرآن کالماء ینتفع به صبي الرضیع والرجل القوی، و سائر الأدلة کالأطعمة
’’بلکہ قرآن کے دلائل تو پانی کے مانند ہیں جس سے دودھ پینے والا بچہ بھی فائدہ اٹھاتا ہے اور قوی نوجوان بھی‘ اور باقی دلائل (قرآن کے سوا) کھانے کے مانند ہیں۔‘‘
یہاں بھی امام صاحب متکلمین کے دلائل کا انکار نہیں کر رہے بلکہ اسی تمثیل کی مزید وضاحت کر رہے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ کھانے سے قوی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن کبھی کبھی اس کی وجہ سے انسان مریض بھی ہو جاتا ہے۔ چھوٹے بچوں کو تو کھانا کھلایا ہی نہیں جاتا‘ ان کا گزاراصرف دودھ اور پانی پر ہوتا ہے۔ گویا ادلۂ قرآن سب کے لیے ہیں لیکن ادلۂ متکلمین سب کے لیے نہیں ہیں۔ لہٰذا انسان کو چاہیے کہ ان مسائل میں زیادہ تدقیق ِفکر کی کوشش نہ کرے۔ یعنی علم الکلام کو معاشرے میں عمومی ترویج نہیں دی جائے گی کہ سب بیٹھ کر اسے پڑھ رہے ہوں‘ بلکہ عام ترویج تو قرآن ہی کو دی جائے گی۔ قرآن کے ذریعے تذکیر کی جائے گی‘ قرآن پڑھایا اور سمجھایا جائے گا‘ اور اللہ کے نبی ﷺ کی سیرت اور سُنّت بیان کی جائے گی۔
کلامی دلائل : مناظرے کے ماحول کا باعث
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم روایت پر چلنے والے ہیں لیکن ان کی بعض باتیں روایت کے بالکل برعکس ہیں۔ یہ لوگ امام غزالی کا ذکر بھی بہت کرتے ہیں اور ان سے استدلال بھی کرتے ہیں۔ یہاں امام صاحب ایک ایسی بات فرما رہے ہیں جو آج کل کے بہت سے لوگوں کو ہضم نہیں ہو سکتی۔ فرماتے ہیں کہ متکلمین کے دلائل قائم کر کے دوسروں کو سمجھانے سے اکثر لوگوں کو سمجھ کچھ نہیں آئے گی اور وہ نہیں مانیں گے‘ بس مناظرے کا ایک ماحول پیداہوجائے گا۔ اصل میں جسے قرآن کی دلیل نہ سمجھا سکے‘ اسے تلوار ہی سمجھائے گی ( یعنی ان مناظروں کا کچھ فائدہ نہیں ہو گا)۔
ومن لا یقنعه أدلة القرآن لا یقمعه الا السیف و السنان
’’جس کو ادلہ ٔقرآنی قائل نہ کرسکیں اس کو تو تلوار اور نیزے ہی سمجھائیں گے۔‘‘
یہ نہ سمجھ لینا کہ ہم نے دلیل سے ہر بات سمجھا دینی ہے اور اسلام کو ایسا بنا کر پیش کرنا ہے کہ سب کو ہضم ہو جائے اور وہ دلیل کے سامنے سر جھکا دیں۔ آخر کون دلیل کے سامنے سر جھکاتا ہے؟ اکثر لوگ تو دلیل کی پیروی نہیں کر رہے ہوتے بلکہ وہ خواہشاتِ نفس اور ہوائے نفس کی پیروی کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ نہ سمجھو کہ دلائل ہمیشہ کام کر لیں گے۔ ہاں قرآنی دلیل ایسی ہے کہ واقعی اس کے سامنے جھک جانا چاہیے‘ اور جو قرآن کے سامنے نہیں جھکتا اسے تلوار ہی سیدھا کرے گی۔ لہٰذا صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے متعلق یہ تصور کہ ایک ہاتھ میں تلوار ہے اور ایک ہاتھ میں قرآن‘ یہ بالکل درست ہے:
رُھْبَانٌ بِاللَّیْلِ وَفُرْسَانٌ بِالنَّھَارِ
’’ رات کے راہب ہیں (یعنی قرآن کی تلاوت کے ساتھ تہجدمیں رات گزرتی ہے) اور دن کے گھڑ سوار ہیں ( شہسوار ہیں اور تلوار اٹھائے ہوئے ہیں)۔‘‘
اس کے بعد فرماتے ہیں :
طریق السلف فی الکفّ والسکوت والعدول الی الدرۃ والسوط والسیف
’’سلف کا طریقہ (قرآنی دلائل پیش کرنے کے بعد) اپنے آپ کو (ان مناظرانہ دلائل سے ) روکنا اور خاموشی اختیار کرنا ہے‘ اور( اس کے بعد جو نہیں مانتا )اس کے لیے درّہ ہے ‘ کوڑا ہے اور تلوار ہے (اس سے اس کو سمجھا دیا جائے گا)۔‘‘
اکثر لوگوں کو دلائل قائل نہیں کر سکیں گے۔ بہت تھوڑے لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں دلائل قائل کرتے ہیں۔ پھر مثال دیتے ہیں کہ بہت سے لوگ ایسے تھے جو جنگی قیدی بن کر آئے اور پھر مسلمان ہو گئے۔ ان کا ایمان بھی مضبوط ہوا اور ان میں سے محدثین‘ فقہاء اور علماء پیدا ہوئے۔ اسی لیے حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر تعجب فرماتے ہیں جنہیں زنجیروں میں جکڑ کر جنت کی طرف لایا جا رہا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں تلوار کے زور پر قیدی بنایا گیا‘ پھر وہ مسلمان ہو گئے‘ پھر علم میں ترقی کی اور علماء بن گئے۔جب یہ لوگ تلوار کے زور پر لائے گئے تو اس کے بعد انہوں نے اہلِ دین کو دیکھا اور ان میں ایمان پیدا ہو گیا۔ اصلاً یہی فطری طریقہ ہے۔ دلائل تو دوا ہیں جو شبہات کو دور کرنے کے لیے ہیں۔
ذلك بمشاھدۃ اھل الدین والمؤانسة بہم و سماع کلام اللّٰہ و رؤیة الصالحین وخبرھم
’’انہوں نے اہل دین (نیک لوگوں) کو دیکھا اور ان سے انہیں انس پیدا ہوا۔ پھر اللہ کا کلام انہوں نے سن لیا اور رویۃ الصالحین (صحبت صالحین) انہیں حاصل ہو گئی اور ان کے اخبار انہوں نے سنے۔‘‘
یہ طریقہ ہے جس کے ذریعے ان کے اندر ایمان پیدا ہوا اور وہ قوی ایمان تھا۔ یعنی کلام اللہ اور رجال اللہ (صحبت ِصالحین) ہی ایمان کے حصول کے فطری اسباب ہیں۔
امام صاحب ایک اہم بات فرما رہے ہیں کہ یہ نہ سمجھو کہ محض کوئی ذہنی لڑائی چل رہی ہے کہ انہوں نے دلیل دی‘ تم نے دلیل دے دی اور فوراً مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اللہ کے نبی ﷺ سے بڑھ کر حق بات کو حُجّت کے ساتھ بیان کرنے والا کوئی نہیں ہے‘ لیکن پھر بھی مکہ میں آپ ﷺ پر تھوڑے ہی لوگ ایمان لائے۔ اگر دلیل اور حُجّت کی بنا پر اکثریت مان لیتی تو پھر یا تو اللہ کے نبی ﷺ (نعوذ باللہ) ناکام ہوئے یا پھر آپ ﷺ نے دلیل اور حُجّت کے ساتھ بات بیان نہیں کی (نعوذ باللہ) ۔ ان میں سے کوئی بھی صورت ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ دلیل اور حُجّت سے اکثر لوگ نہیں مانتے‘ انہیں کچھ اور چاہیے ہوتا ہے ۔ بہت سے لوگ کسی صورت نہیں مانیں گے اور انہیں تلوار ہی سکھائے گی۔ جیسے صنادید ِقریش کو میدانِ بدر میں تلوار ہی نے ٹھکانے لگایا۔چنانچہ اپنے دل کو بھی روک کر رکھنا ہے۔ کلامی مباحث میں غور و فکر نہیں کرنا بلکہ ادلۂ قرآنی پر غور و فکر کرو اور یہی ایک عامی سے مطلوب ہے۔
ساتواں وظیفہ : تسلیم
یہ سارا کچھ کرنے کے بعد بھی مان لو کہ تم عامی ہو۔یہ ماننا ضروری ہے کہ تم عامی ہو اور اپنے اوپر غیر عامیوں (انبیاء‘ اولیاء ‘ عرفاء ) کوقیاس نہ کرو۔ یعنی یہ نہ سمجھ لینا کہ جو معرفت جس درجے پر تمہیں حاصل ہو جاتی ہے‘ اتنی ہی انہیں حاصل ہوئی ہے۔
پھر بلا تشبیہ ایک مثال دیتے ہیں کہ جیسے ایک بادشاہ کا محل ہوتا ہے۔ محل کے اندر اس کا خاص حرم بھی ہوتا ہے‘ دربار بھی ہوتا ہے‘ باہر ایک بڑا صحن بھی ہوتا ہے اور پھر فصیل کے باہر عوام الناس کے لیے بھی جگہ ہوتی ہے۔ کچھ خواص ہوتے ہیں اور ان سے پیچھے عوام کھڑے ہوتے ہیں جو بادشاہ کو دور سے دیکھتے ہیں۔ تم لوگ تو اصل میں فصیل کے باہر کھڑے ہو اور وہاں سے بادشاہ کو دیکھ رہے ہو‘ لیکن یہ نہ سمجھو کہ بادشاہ کے مقربین نہیں ہوتے۔ بادشاہ کچھ لوگوں کو فصیل کے اندر بھی بلا لیتا ہے‘ کچھ خاص لوگوں سے کھڑے ہو کر ملاقات کر لیتا ہے‘ کچھ کو اپنی مجلس میں بلا لیتا ہے جو مقربین ہیں‘ اور کچھ ایسے خاص ہیں جنہیں حرم میں جانے کی بھی اجازت ہوتی ہے۔ بلا تشبیہ بات یہ ہے کہ سارے لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ یہاں امام صاحب نے وہ تصور بیان کیا ہے جسے آج کل نہیں مانا جاتا کہ لوگ معادن کی طرح ہیں‘ سب ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کچھ سونا ہے‘ کچھ چاندی ہے‘ کچھ پیتل ہے‘ کچھ لوہا ہے۔ لوہے کو صیقل کر کے چاندی نہیں بنایا جا سکتا اور چاندی کو صیقل کر کے سونا نہیں بنایا جا سکتا۔ لوگ ایک سطح پر نہیں ہوتے۔ کسی کو اللہ نے زیادہ صلاحیتیں دی ہیں‘ کسی کو کم دی ہیں۔ کسی کو کسی شے میں فضیلت دی ہے اور کسی کو کسی اور شے میں۔
{وَاللہُ فَضَّلَ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ ۚ} (النحل:۷۱)
’’اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت دی ہے۔ ‘‘
یہاں بعض علماء نے رزق سے مراد عموم میں لیا ہے کہ ہر ایک کو کسی دوسرے پر کسی اعتبار سے فضیلت ہوتی ہے۔ یعنی ایسا کوئی شخص نہیں ہوتا جو تمام اعتبارات سے مفضول ہو اور کسی اعتبار سے بھی فاضل نہ ہوبلکہ وہ مفضول بھی ہوگا اور کسی نہ کسی اعتبار سے فاضل بھی ہوگا۔ انبیاء‘ اولیاء‘ عرفاء اور علمائے راسخین کو جو علوم حاصل ہیں وہ یقیناً عوام سے بڑھ کر ہیں‘ لیکن کنہہ اور حقیقت تو انہیں بھی معلوم نہیں ہو سکی۔ بے شک انہیں عوام کے مقابلے میں بہت زیادہ معرفت حاصل ہے لیکن جتنی انہیں حاصل ہے وہ اس سے کوئی نسبت نہیں رکھتی جو انہیں حاصل نہیں ہے ‘ کیونکہ وہ لامحدود ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے بھی حجاب میں ہیں‘ یہاں تک کہ جو فرشتے عرش کے گرد موجود ہیں وہ بھی اللہ پر ایمان بالغیب ہی رکھتے ہیں۔
فرشتوں کو بھی ایمان بالغیب ہی حاصل ہے
یہ ایک عجیب نکتہ ہے جو امام زمخشری نے سورۃالمومن کی اس آیت کی تفسیر میں بیان کیا ہے:
{ اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَہٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَیُؤْمِنُوْنَ بِہٖ } (آیت۷)
’’وہ (فرشتے) جو عرش کو اُٹھائے ہوئے ہیں اور وہ جو اس کے ارد گرد ہیں وہ سب تسبیح کر رہے ہوتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور اُس پر پورا یقین رکھتے ہیں ۔‘‘
امام زمخشری فرماتے ہیں کہ یہاں ایمان کا ذکر کیوں کیا گیا‘ یعنی فرشتے عرش کے گرد کھڑے ہیں اور تسبیح بھی کر رہے ہیں‘ لیکن’’یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ‘‘ کیوں کہا‘ تو اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ان کا ایمان بھی ایمان بالغیب ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے بھی حجاب میں ہیں اور وہ بھی اللہ کو بن دیکھے مانتے ہیں۔ اس پر امام رازی رحمہ اللہ نے تبصرہ کیا کہ اگر تفسیر زمخشری (کشاف) میں اس نکتے کے سوا اور کوئی نکتہ نہ بھی ہوتا تو صرف یہ بات ہی اس تفسیر کی فضیلت کے لیے کافی ہے۔ یہ بہت بڑی اور سچی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ پر جو بھی ایمان رکھتا ہے‘ چاہے وہ مقربین ہوں یا ملا ٔاعلیٰ‘ سب کا ایمان بالغیب ہے۔ ایمان بالغیب صرف ہمارے لیے نہیں بلکہ سب کے لیے ہے‘ اور ایمان بالغیب ہی رہے گا۔ جنت میں رؤیت حاصل ہوگی لیکن اس سے پہلے جو امتحان ہے وہ ایمان بالغیب ہی کا ہے۔
یہ سات وظائف ہی امام غزالی رحمہ اللہ کے نزدیک مسلک ِسلف ہے: تقدیس‘ تصدیق‘ اعترافِ عجز‘ سکوت (خاموشی)‘ اِمساک (لفظ کو پھیرنے سے رک جانا)‘ کف (باطن کو غور و فکر سے روکنا) اور تسلیم (جو جانتے ہیں ان کا حق ماننا اور اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دینا)۔
اس کے بعد بھی اس کتاب میں بہت خوبصورت مباحث ہیں جن میں سے ایک عقیدۂ قدر ہے۔ اس کا تعلق استحالہ کی بحث سے یوں ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی مراد کے سوا کچھ ہونا محال ہے۔ یعنی پوری کائنات میں اللہ کا ارادہ‘ مشیت اور علم جاری و ساری ہے اور اسی کو ہم عقیدۂ قدر کہتے ہیں کہ اللہ کے علم‘ مشیت اور ارادے کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اس ضمن میں پہلے چند احادیث دیکھیں گے جن سے عقیدۂ قدر کی اہمیت واضح ہو جائے گی کہ سلف اور صحابہ کے ہاں اسے ماننا کتنا ضروری ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے اگرچہ اس میں بحث و مباحثے سے منع فرمایا لیکن اس کا بیان پورے طریقے پر کیا ہے۔ پھر مختصراً یہ دیکھیں گے کہ عقیدۂ تقدیر کیا ہے‘ کیا ماننا ہے اور کیا نہیں ماننا‘ اور اس میں اہلِ سنت کی درمیانی راہ کیا ہے۔ آخر میں حضرت تھانوی رحمہ اللہ کی کتاب ’’الانتباھات المفیدہ عن الاشتباھات الجدیدۃ‘‘ سے مسئلۂ قدر کا مختصر بیان پڑھیں گے۔
نصوص میں موہم الفاظ کے استعمال کی وجہ
إلجام میں سے آخری مبحث ہم یہ دیکھیں گے کہ اگر یہ سب مسلک ِسلف ہے تو امام صاحب سے سوال کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے الفاظ کیوں بولے ہیں جن سے عوام الناس کو ایہام پیدا ہوتا ہے! یعنی ’’ید‘‘کا لفظ کیوں بولا؟’’ساق‘‘کا لفظ کیوں بولا؟’’استواء‘‘کا لفظ کیوں بولا؟ جو اصل مراد ہے وہی کیوں نہ بیان کر دی؟ کیا رسول اللہ ﷺ صحیح بیان نہیں کر سکتے تھے (نعوذ باللہ!) یا اللہ تعالیٰ صحیح طریقے پر بیان کرنے پر قادر نہیں تھے (نعوذ باللہ)؟ اللہ تعالیٰ تو الفصیح ہیں اور اللہ کے نبی ﷺ افصح العرب ہیں۔ لہٰذا اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان تاویلوں میں کچھ مسئلہ ہے۔
اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ سوچنے سمجھنے والوں پر یہ اشکال واقع نہیں ہوتا‘ صرف کچھ عوام پر ہوتا ہے اور یہ تلبیس ہے جو ان پر کر دی جاتی ہے۔ اس کا حل بہت آسان ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے یہ تمام الفاظ (جو چند ہی ہیں‘ بہت کم احادیث میں ایسے الفاظ وارد ہوئے ہیں)۲۳ سال کے عرصے میں متفرق اوقات اور مختلف سیاق و سباق میں بولے ہیں‘ قرائن لفظیہ اور قرائن حالیہ کے ساتھ بولے ہیں‘ لہٰذا وہاں معنی بالکل متعین ہو رہے ہوتے ہیں۔ اشکال تو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ان تمام سیاق و سباق اور قرائن سے نکال کر لفظ کو الگ کر کے پوچھا جائے کہ اس کا کیا مطلب ہے!
اس کی ایک خوب صورت مثال یہ ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے کعبہ کو’’بیت اللّٰہ‘‘کہا ہے۔ ہم میں سے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ بیت اللہ کیوں کہا۔کیا اللہ تعالیٰ وہاں رہتے ہیں؟ اگرچہ بچوں کے ذہن میں یہ سوال آ سکتا ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ وہاں رہتا ہو‘ لیکن ان کے علاوہ کسی کو یہ اشکال لاحق نہیں ہو گا۔ لوگ اتنی نصوص سن چکے ہیں کہ ان کے ذہن میں بیت اللہ سے یہ تصور پیدا ہونے کے امکانات ہی نہیں رہتے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں خدا تعالیٰ رہتےہوں گے‘ بلکہ فوری طور پر ان کے ذہن میں یہ آئے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو شرف دیا ہے‘ عزت دی ہے اور اس کو بلند فرمایا ہے تو اس کی نسبت اپنی طرف کر دی۔
اسی طرح جب رسول اللہ ﷺ سیاق و سباق میں الفاظ بول رہے ہوتے تھے اور نصوصِ قرآنیہ اور احادیث ِنبویہ بالکل واضح ہوتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ کسی کے مانند نہیں ہیں‘ تو جب صحابہ کوئی ایسا لفظ سنتے تھے( خاص سیاق و سباق میں) تو ان کے ذہن میں یہ بات وارد نہیں ہوتی تھی کہ جب قرآن میں اللہ کے لیے لفظ’’ید‘‘آیا ہے تو پانچ انگلیاں اور ہاتھ مراد ہے۔ جس طرح بیت اللہ سننے سے کبھی یہ تصور نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ (نعوذ باللہ) کسی مکان میں رہتے ہیں‘ بالکل اسی طرح دیگر نصوص میں بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ البتہ جب اس سیاق و سباق اور دیگر محکم نصوص سے ہٹ کر ایک لفظ پر غور کیا جائے تو ذہن میں تشبیہ پیدا ہو جاتی ہے۔
اسی طرح امام صاحب فرماتے ہیں کہ جیسے کوئی متکلم یا فقیہہ کہے کہ’’صورۃ المسئلة کذا وکذا‘‘( اس مسئلے کی صورت یہ اور یہ ہے) تو اگر کوئی بچہ سن رہا ہو تو ہو سکتا ہے وہ سمجھ لے کہ’’صورتِ مسئلہ‘‘کا مطلب یہ ہے کہ اس مسئلے کے ہاتھ‘ پاؤں اور کوئی شکل ہوگی لیکن جو علوم کو سمجھتا ہے وہ کبھی اعتراض نہیں کرے گا کہ صورت کا لفظ کیوں بولا‘ کچھ اور بولتے۔ دراصل یہ استعارہ ہے اور سمجھنے والے جانتے ہیں کہ جب مسئلہ کہہ دیا ‘اور مسئلہ علمی چیز ہوتی ہے ‘تو علمی شے کی وہ صورت نہیں ہوتی جیسی کسی جسم کی ہوتی ہے۔ یہ بات سب سمجھ لیں گے اور کسی کو اشکال نہیں ہوگا۔ چنانچہ جب اللہ تعالیٰ کے لیے مثلاً لفظ ’’ید‘‘ آ گیا اور صحابہؓ یہ بات جان چکے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے مانند کوئی نہیں ہے اور وہ جسمانیت سے ماوراء ہے‘ تو ان کے ذہن میں تشبیہ یا تجسیم کا تصور کبھی پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔ لہٰذا یہ کہنا بے معنی ہے کہ لفظ ِصورت کیوں آیا‘ جس طرح یہ کہنا بے معنی ہے کہ فقیہ’’ صورۃ المسئلة‘‘ کیوں بولتا ہے۔
اسی طرح فرماتے ہیں کہ بچے کے سامنے کہا جائے:’’اَلبَغدَادُ فِی یَدِ الخَلِیْفة‘‘ ( بغداد خلیفہ کے ہاتھ میں ہے) تو وہ شاید غلط معنی سمجھے کہ خلیفہ بہت بڑا ہے اور اس نے پورا شہر اپنے ہاتھ سے پکڑا ہوا ہے۔ جو بغداد کو جانتا ہے اور خلیفہ کو جانتا ہے اسے فوراً پتہ چل جائے گا کہ ہاتھ میں ہونے سے مراد قبضے میں‘ قدرت میں یا غلبے میں ہونا ہے۔ کبھی بھی وہ دوسرا معنی نہیں لے گا اور کوئی یہ اعتراض نہیں کرے گا کہ لفظ’’ید‘‘کیوں بولا۔ اردو کے عام محاورے میں بھی کہا جاتا ہے کہ یہ سارے معاملات فلاں کے ہاتھ میں ہیں ‘ اور کوئی اعتراض نہیں کرتا کہ لفظ ِہاتھ سے غلط تصور آتا ہے تو کوئی اور لفظ بولو۔
پھر یہ کیوں کہا جائے کہ خدا کے بارے میںرسول اللہ ﷺ نے یہ لفظ کیوں استعمال کیا‘ لہٰذا اس کا معنی’’ید‘‘(ہاتھ) ہی ہوگا! یہ غلط بات ہے۔ جس طرح ’’اَلبَغدَادُ فِی یَدِ الخَلِیْفة‘‘ سے مراد یہ ہے کہ بغداد خلیفہ کے قبضہ قدرت میں ہے‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ اور اللہ کے نبی ﷺ نے بھی خاص سیاق و سباق میں الفاظ بولے ہیں جہاں قرائن موجود ہوتے ہیں۔ مثلا اس جملے میں قرائن کیا ہیں جس سے مجازی معنی متعین ہوتا ہے؟ ایک قرینہ بغدادہے اور دوسرا خلیفہ ہے۔ بغداد چونکہ ایک شہر ہے اور خلیفہ ایک انسان ہوتا ہے اور یہ ممکن نہیں کہ کوئی انسان اپنی انگلیوں سے پورے شہر کا احصا کر لے‘ لہٰذا یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہاں’’ید‘‘سے مراد ہاتھ نہیں لیا جا سکتا ۔
روایت ِ أَطْوَلُكُنَّ يَدًا
اسی طرح ایک مشہور حدیث کا حوالہ دیتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے اپنی ازواجِ مطہرات سے فرمایا: ’’أَطْوَلُكُنَّ يَدًا‘‘ یعنی جس کا ہاتھ لمبا ہوگا وہ جلدی مجھ سے ملے گی۔ بعض ازواجِ مطہرات چونکہ سادہ فطرت کی تھیں‘ ان میں سے بعض نے یہ بھی دیکھا کہ کس کا ہاتھ لمبا ہے۔ بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ہاتھ لمبا ہونے سے مراد یہ ہے کہ کون زیادہ خرچ کرنے والی ہے‘ یعنی سخاوت کس میں زیادہ ہے۔ فرماتے ہیں کہ یہ سب کلام کا حسن ہوتا ہے۔ یہ کلام کی خوب صورتی ہے کہ استعارہ اور مجاز استعمال کیا جائے۔ کلام کی خوب صورتی تب ختم ہوتی ہے جب استعارہ یا مجاز بغیر قرینے کے استعمال کیا جائے۔ پھر مسئلہ پیدا ہوتا ہے کہ حقیقی معنی مراد ہے یا مجازی۔ اگر الفاظ اور احوال کا قرینہ موجود ہو‘ یعنی کوئی ایسی دلیل موجود ہو جس کی موجودگی میں پتہ چل رہا ہو کہ یہاں حقیقی معنی مراد نہیں بلکہ یہ استعارہ ہے‘ تو پھر یہ کلام کا حسن ہے اور یہ اعتراض بالکل باطل ہو جاتا ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ایسے الفاظ کیوں استعمال کیے۔اگر ان مسائل پر اس جہت سےغور کیا جائے تو بات واضح ہو جاتی ہے۔
قرآن میں’’اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ‘‘جہاں بھی آتا ہے ایک خاص سیاق میں آتا ہے اور وہ سیاق تدبیرِ امر کا ہوتا ہے۔ جیسے ہم کہتے ہیں کہ فلاں بادشاہ تخت پر ہے یا اُس نے اپنی کرسی سنبھالی ہوئی ہے‘ تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ بے توجہ نہیں بیٹھا بلکہ مملکت چلا رہا ہے اور تدبیر کر رہا ہے۔ تو’’اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ‘‘ کی ایک تاویل جو علماء نے کی ہے اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات بنا کر چھوڑ نہیں دی بلکہ وہ مستوی علی العرش ہیں اور تدبیرِ امر فرما رہے ہیں۔ سیاق و سباق میں مسائل بالکل واضح ہو رہے ہوتے ہیں۔ اگر سیاق و سباق اور قرائن چھوڑ دیے جائیں اور وہاں سے لفظ نکال کر سامنے لے آیا جائے اور کہا جائے کہ ’’اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ‘‘ کا لغت میں یہ مطلب ہوتا ہے اوراسْتَوٰى کا مطلب استقرار ہے‘ تو یہ بالکل باطل طریقہ ہے۔ جو ان مسائل کو اس طریقے پر سمجھ لے گا ‘ان شاء اللہ بات واضح ہو جائے گی کہ آیاتِ صفات یا متشابہات میں اللہ تعالیٰ کے لیے جسمانی صفات کا اثبات نہیں کیا گیا۔ یہاں إلجامُ العَوام کی بحث ختم ہوئی۔