(دعوتِ فکر) کیا حضرت عثمانؓ بھی انٹرپرینیور تھے؟ - محمد عثمان عباس

11 /

کیا حضرت عثمانؓ بھی انٹرپرینیور تھے؟محمد عثمان عباس

آج کل موٹیویشنل سپیکرز‘ کاروباری حضرات اور نوجوانوں میں یہ بات رواج پکڑتی جا رہی ہے کہ مالدار صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو کامیاب تاجر یاentrepreneurجیسے القابات دینا اور پھر ان اولیاء ُ الرحمٰن کو اپنے ذاتی رجحانات پر قیاس کر کے بطور دلیل پیش کرنا۔ اس کی ایک جیتی جاگتی مثال بعض دینی چینلز چلانے والے جدید یوٹیوبرز کا عوام الناس کو یہ تاثر دیناہے کہ جیسے حضرت عثمان‘ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف اور اُمّ المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سب انٹرپرینیور تھے۔ آئے دن اس طرح کا مواد سامنے آتا ہے‘ مگر بہت کم ہی ایسا دیکھنے کو ملا کہ کوئی اس مسئلہ پر کلام کر رہا ہو۔جو لوگ اس پر بات کر رہے ہیں ‘عوام میں ان کی رسائی زیادہ نہیں ہے‘ جس کی ایک وجہ شاید یہ ہو سکتی ہے کہ وہ زیادہ پاپولر نہیں ہیں۔ آج کل وہی کانٹینٹ بکتا ہے جس کی ڈیمانڈ ہو۔ المیہ یہ ہے کہ بعض سمجھ دار لوگ بھی وہی بات کرتے نظر آتے ہیں جو عوامی بیانیہ ہو۔ کچھ سال پہلے سوشل میڈیا پر ایک محترمہ جو کہ ینگ وومن انٹرپرینیور ہیں ‘کی کچھ پوسٹس نظر سے گزریں جس میں ان کا سلوگن تھا :I'm inspired by Amma Khadijah۔ اس کے بعد راقم تمہید میں مزید کچھ لکھنے سے قاصر ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ ان ہستیوں کی سیرت پر تدبر کا یہ کیسا زاویہ نظر ہے جو ان کی زندگی سے دولت کمانے (wealth building) کی تکنیک ڈھونڈ نکالتا ہے اور پھر اسے اپنی کاروباری حکمت عملی (business strategy ) کے طور پر متعارف کرواتا ہے۔
اگر ہم حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کی زندگی کا مطالعہ کریں تو یہ واضح ہوگا کہ ان کی سخاوت کوئی تشہیراتی مہم (campaign) یا ایسی کاروباری حکمت عملی نہیں تھی جو آج ہم جدید سرمایہ دارانہ نظام میں دیکھ رہے ہیں۔ سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہدِ خلافت میں بارش رُک گئی تو لوگ امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: بارش نازل نہیں ہوئی‘ فصلیں نہیں اُگیں‘ لوگ سخت بحران و پریشانی کا شکار ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ’’آپ لوگ جائیں اور صبر سے کام لیں‘ شام تک اللہ تعالیٰ تمہاری اس پریشانی کو دور فرما دے گا‘‘۔ اتنے میں سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تجارتی قافلہ سو اونٹوں پر گندم لادے شام سے مدینہ پہنچ گیا۔ اس کی خبر سن کر لوگ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دروازے پر پہنچ گئے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا: ’’آپ حضرات کیا چاہتے ہیں؟‘‘ لوگوں نے کہا: آپؓ جانتے ہیں یہ وقت قحط سالی کا ہے۔ بارش نازل نہیں ہوئی اور فصلیں نہیں اُگیں‘ لوگ انتہائی پریشانی کا شکار ہیں۔ ہمیں یہ اطلاع ملی ہے کہ آپؓ کے پاس گندم ہے۔ آپؓ اسے ہمیں فروخت کر دیں تاکہ ہم اسے فقراء و مساکین تک پہنچا دیں‘‘۔ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:’’ بہت خوب! اندر تشریف لائیں اور خرید لیں۔‘‘ تجار آپؓ کے گھر میں داخل ہوئے‘ دیکھا گندم رکھی ہوئی ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تاجروں سے کہا: ’’آپ لوگ شام سے میری خرید و قیمت پر کتنا منافع دیں گے؟‘‘ انہوں نے کہا: دس کا بارہ دیں گے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: ’’مجھے اس سے زیادہ مل رہا ہے۔‘‘ تاجروں نے کہا: دس کا پندرہ لے لیجیے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ’’مجھے اس سے زیادہ مل رہا ہے۔‘‘ تاجروں نے عرض کیا: اے سیدنا ابو عمروؓ !مدینہ میں تو ہمارے علاوہ اور کوئی تاجر ہے نہیں‘تو کون آپؓ کو زیادہ دے رہا ہے؟ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ ہمیں زیادہ دے رہا ہے۔ ایک درہم کا دس درہم دے رہا ہے ۔کیا آپ حضرات اس سے زیادہ دے سکتے ہیں؟‘‘ لوگوں نے کہا: نہیں ہو سکتا۔ اس کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ’’میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتا ہوں‘ اس غلے کو میں نے مسلمانوں کے فقراء پر صدقہ کر دیا ہے۔‘‘ (الرقۃ و البکاء‘ ابنِ قدامۃ: ص۱۹۰ ۔الخلفاء الراشدون‘ حسن ایوب: ص۱۹۱ ۔شہید الدار‘ احمد الخروف: ص۲۱)
سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: ’’میں نے رات میں رسول اللہﷺ کو خواب میں دیکھا۔ آپﷺ چتکبرے گھوڑے پر سوار ہیں۔ آپﷺ پر نور کا جوڑا ہے‘ پیرو ں میں نور کی جوتیاں ہیں اور ہاتھ میں نور کا گچھا ہے‘ اور آپﷺ جلدی میں ہیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! میں‘ آپؐ کا اور آپؐ کی گفتگو کا بے حد مشتاق ہوں‘ آپؐ اتنی جلدی میں کہاں تشریف لے جا رہے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: اے ابن عباسؓ! عثمانؓ نے ایک صدقہ کیا ہے اور اللہ نے اس کو قبول فرما لیا ہے۔ جنت میں ان کی شادی کی ہے اور ہمیں ان کی شادی میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔‘‘ (الرقۃ والبکاء:ص۱۹۰)
یہاں کوئی فقہی حکم نہیں بتایا جا رہا اور نہ ہی راقم اس کا اہل ہے ‘مگر یہ تھی حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سوچ! جدید انٹرپرینیوز سے تو ہم یہ سیکھتے ہیں کہ کس طرح لوگوں کو پہلے بازاری چیزوں سے ڈرا کر آرگینک کا شوق دلانا ہے اور پھر اپنا آرگینک برانڈ لانچ کر دینا ہے ۔پنسار کی دکان پر دستیاب سستی اشیاء خوب صورت پیکنگ میں ’’ویلیو ایڈیشن‘‘ کے نام پر انتہائی مہنگے داموں فروخت کرنا ہے ۔ نتیجتاً ان سستی اشیاء کی قیمتیں بھی آسمانوں پر چلی جاتی ہیں۔ ’’انٹرپرینیور‘‘ یا اس طرح کے اور القابات ان عظیم شخصیات کو کوئی کیسے دے سکتا ہے جو اللہ کے ولی‘ اس کے رسول ﷺ کے سچے ساتھی‘ اور ایسے مومن تھے جن کا ہر کام اللہ کی رضا اور اُخروی نجات کے لیے تھا!
یہاں استاد محترم رشید ارشد کے الفاظ یاد آتے ہیں جو انہوں نے رجوع الی القرآن کورس پارٹ ٹو میں ریاض الصالحین کی کلاس میں فرمائے: ’’’انٹر پرینیور تو وہ شخص ہوتا ہے جس کے پیش نظر پیسے کو پیسے سے ضرب دینا ہوتا ہے۔‘‘ ظاہر ہے حکم الاکثر حکم الکل‘ باقی استثناء تو ہر جگہ ہوتا ہے۔ اگر رشید ارشد صاحب کے الفاظ مستعار لوں تو بہت سے کاروباری حضرات مختلف خیراتی مدوں میں کروڑوںخرچ کریں گے مگر اپنے غریب ملازمین اور مزدوروں پر اضافی خرچ کرنا تو دور کی بات ‘حکومتی قوانین کے مطابق تنخواہ بھی نہیں دیںگے‘ کیونکہ جدید سرمایہ دارانہ نظام میں یہ خرچ(expense) تصور ہوتا ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو ہر جمعہ ایک غلام آزاد کیا کرتے تھے ‘اگر کسی جمعہ نہ کر پاتے تو اگلے جمعہ کو دو غلام آزاد کرتے۔
سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلمانوں کے لیے متعدد انفاق کیے جن میں بئر رومہ کاخریدنا‘ غزوئہ تبوک کے لیے مال خرچ کرنا‘ مدینہ میں کئی کنویں وقف کرنا‘ مسجد نبوی کی توسیع کے لیے زمین خریدنا شامل ہیں ۔دوسری طرف عبادات کا یہ حال تھا کہ شہادت والی رات بھی اپنے معمول کے مطابق ایک رکعت میں مکمل قرآن کریم تلاوت فرمایا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روزے بھی بکثرت رکھا کرتے تھے‘ یہاں تک کہ جس دن آپ کو شہید کیا گیا اس دن بھی روزے سے تھے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کثرت سے صدقہ و خیرات فرمایا کرتے تھے۔ تاریخ طبری میں آپؓ سے روایت موجود ہے کہ جس وقت میں خلیفہ بنایا گیا ‘ عرب میں سب سے زیادہ اونٹوں اور بکریوں کا مالک تھا اور آج میرے پاس سوائے ان دو اونٹوں کے کچھ بھی نہیں جو میں نے حج کے لیے رکھے ہوئے ہیں۔ آپ نے مسلسل دس حج ادا فرمائے۔ خشیت ِالٰہی اس قدر تھی کہ جب کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو رونے لگتے یہاں تک کہ ڈاڑھی تر ہو جاتی۔ ان سے پوچھا گیا :آپ جنت اور جہنم کا ذکر کرتے ہوئے تو نہیں روتے جبکہ قبر کو دیکھ کر روتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ’’قبر آخرت کی پہلی منزل ہے‘ اگرکوئی اس منزل پر نجات پا گیا تو اس کے بعد کی منزلیں آسان ہوں گی‘ اور اگر یہاں اس نے نجات نہ پائی تو اس کے بعد کی منزلیں اس سے سخت ہیں۔‘‘
راقم کی اس مختصر تحریر کا موضوع سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت کا بیان تو نہیں لیکن اس جدید سرمایہ دارانہ نظام میں پھیلتی ہوئی سوچ کا نقد ضرور ہے جس نے ان مبارک شخصیات کو کہاں لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ زیادہ رنج اس وقت ہوتا ہے جب مذہبی پس منظر رکھنے والی کاروباری شخصیات یا یوٹیوبر اس طرح کی باتیں کرتے نظر آئیں۔ راقم ایک مبتدی طالب علم ہے اور جدیدیت پر کچھ زیادہ لکھنے کا اہل بھی نہیں‘ لیکن شاید یہ تحریر اہل ِعلم کے لیے غذائے فکر food for thought بنے!