تعلیم کے اوّلین اُصول(۲)First Principles of Educationاز: ڈاکٹر محمد رفیع الدین
مترجم:پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف اعوان
جان ڈیوی کا تعلیمی فلسفہ(Educational Philosophy of John Dewey)
ڈاکٹر ڈیوی کا معاملہ بھی ملتا جلتا ہی ہے۔ وہ بجا طور پر یقین رکھتا ہے کہ تعلیم ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے ایک سماجی طبقہ اپنا وجود برقرار رکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ کسی سماجی طبقے کی صحیح ماہیت کیا ہوتی ہے؟ نیز اُس عمل کی نوعیت کیا ہے جس کے ذریعے یہ (طبقہ) اپنے آپ کو قائم رکھتا ہے؟ اُس کی کتاب ’’جمہوریت اور تعلیم‘‘ (Democracy and Education) کے چند اقتباسات سے اِس اہم سوال کے متعلق اُس کے جواب (جو اُس کے عمومی نظریۂ تعلیم کے لب ِ لباب کی حیثیت رکھتا ہے) کا اندازہ ہو جائے گا۔ وہ رقم طراز ہے:
ا : ’’لوگ اُن اُمور کے باعث ایک برادری (کی صورت) میں رہتے ہیں جو اُن میں مشترک ہوتے ہیں اور ابلاغ وہ طریقہ ہے کہ جس کے ذریعے وہ مشترکہ اُمور سے واقف ہوتے ہیں۔ ایک برادری یا معاشرہ تشکیل دینے کے لیے جو باتیں اُن میں لازماً مشترک ہونا چاہئیں اُن میں ‘ جیسے کہ ماہرین ِ عمرانیات کا کہنا ہے‘ مقاصد‘ عقائد‘ اُمنگیں‘ علم ‘ مشترکہ بصیرت اور ہم خیالی شامل ہیں۔ ابلاغ جو مشترکہ بصیرت میں شرکت یقینی بناتا ہے ایک ایسی شے ہے جو یکساں ذہنی و جذباتی میلان کو مستحکم کرتا ہے‘ جیسے کہ توقعات و حاجات کے حوالے سے تاثر کا اظہار کرنے کے طریقے۔‘‘
ب: ’’مشین کے پرزے مشترکہ نتیجے کے لیے حد درجہ کام کرتے ہیں مگر وہ کسی برادری کی شکل اختیار نہیں کرتے‘ تاہم اگر وہ مشترکہ مقصد سے آگاہ ہوتے اور سب کی اِس میں دلچسپی ہوتی اور وہ اِس کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے اپنی مخصوص سرگرمی کو ترتیب دیتے تو پھر وہ ایک برادری کی صورت اختیار کر لیتے‘ مگر اِس کے لیے تو ابلاغ کی ضرورت ہوگی (کیوں کہ) اتفاقِ رائے ابلاغ کا متقاضی ہے۔‘‘
ج: ’’ایک برادری یا سماجی گروہ مسلسل خود تجدیدی (Self-renewal) کے ذریعے اپنے آپ کو قائم رکھتا ہے اور خود تجدیدی کا یہ عمل گروہ کے (ذہنی نشوونما کے لحاظ سے) ناپختہ ارکان کی تعلیمی نشوونما کے ذریعے وقوع پذیر ہوتاہے۔ معاشرہ غیر ارادی یا قصداً قائم کیے جانے والے مختلف اداروں کے ذریعے نا آشنا اور بظاہر اجنبی افراد کو خود اپنے وسائل اور نصب العینوں کے طاقت وَر متولیوں میں بدل دیتا ہے۔ چنانچہ تعلیم (شخصیت کی) نشوونما میں اعانت کرنے‘ تربیت کرنے اور (اُسے) بنانے سنوارنے کا عمل ہے۔ اِن تمام الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ یہ نشوونما کے احوال کی طرف توجہ کرنے کا مفہوم رکھتی ہے۔ ہمارا تعلق اُس طریقۂ کار کے عمومی خدوخال سے ہے کہ جس کے ذریعے ایک سماجی گروہ اپنے ناپختہ ارکان کی تربیت کرتے ہوئے انہیں ایک سماجی ہیئت میں بدل دیتا ہے۔‘‘
د: ’’اس لیے کہ جس اَمر کی ضرورت ہے وہ تجربے کے معیار کی تبدیلی ہے یہاں تک کہ یہ (نئی نسل) سماجی گروہ میں مروجہ دل چسپیوں‘ مقاصد اور نصب العینوں میں حصہ لینا شروع کردے۔ بہ ظاہر مسئلہ محض مادی صورت گری کا نہیں ہے۔‘‘
ھ : ’’معاشرہ بھی بالکل اُسی طرح ترسیلی عمل کے وسیلے سے وجود برقرار رکھتا ہے جس طرح حیاتی نظام پر مشتمل زندگی (توارث کے وسیلے سے اپنا) وجود برقرار رکھتی ہے۔ بڑوں سے چھوٹوں کی طرف ترسیل کا عمل کام کرنے‘ سوچنے اور محسوس کرنے کی عادات کے ابلاغ کے ذریعے واقع ہوتا ہے۔ معاشرے کے اُن ارکان کی طرف سے جو گروہ میں چراغِ سحری کی حیثیت رکھتے ہیں اُن ارکان کی طرف جو اِس گروہ میں آرہے ہیں۔ نصب العینوں‘ اُمیدوں‘ توقعات‘ معیارات‘ اور خیالات کے ابلاغ کے بغیر سماجی زندگی برقرار نہیں رہ سکتی۔‘‘
و: ’’زندگی رواجوں‘ اداروں‘ عقائد‘ کامیابیوں اور ناکامیوں‘ تفریحات اور پیشوں (سب) کا احاطہ کرتی ہے۔‘‘
ز: ’’عضویاتی زندگی (Physiological Life) کے لیے جو حیثیت غذا اور تولیدی عمل کی ہے وہی سماجی زندگی کے لیے تعلیم کی ہے۔‘‘
مگر وہ کیا طریقہ ہے جس کے ذریعے بڑوں کے عقائد اور نصب العینوں کو کسی سماجی طبقے کی ایک قوم نئی نسل کو منتقل کیا جاتا ہے؟ ڈیوی کہتا ہے:
ح: ’’عقائد یا آرزوئوں کو جسمانی طور پر الگ کیا یا ٹھونسا نہیں جا سکتا تو پھر اُن کا ابلاغ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ہمارا مسئلہ اُس طریقۂ کار کو دریافت کرنا ہے کہ جس سے نوجوان بڑوں کے نقطۂ نظر کو اپنا لیتے ہیں یا بڑے نوجوانوں کو اپنا ہم خیال بنا لیتے ہیں۔ عمومی صورت میں جواب یہ ہے : ماحول کے اثر سے پیدا ہونے والے بعض ردّ ِعملوں کو پرکھنے کے ذریعے مطلوبہ عقائد کو جبراً ٹھونسا نہیں جا سکتا۔ ضروری رویوں کو (کسی پر) چسپاں نہیں کیا جا سکتا‘ تاہم فرد جس مخصوص ماحول میں زندگی بسر کرتا ہے یہ (ماحول) اُسے کسی اور کی بجائے ایک ہی شے کو محسوس کرنے اور دیکھنے پر مائل رکھتا ہے۔ یہ (ماحول) اُسے بعض رویوں (کو اختیار کرنے) کی ترغیب دیتا ہے تاکہ وہ دوسروں کے ساتھ (مل کر) کامیابی سے کام کر سکے۔ یہ (ماحول) دوسروں کی خوشنودی حاصل کرنے کی شرط کے طور پر بعض عقائد کو مضبوط کرتا ہے اور بعض دیگر عقائد کو کمزور کرتا ہے۔ وہ اُمور جن سے انسان بدل جاتا ہے اُس میں اُس کا حقیقی ماحول شامل ہے۔‘‘
سماجی ماحول کس طرح فی الواقع اپنے نا پختہ ارکان کو پروان چڑھاتا ہے؟ وہ لکھتا ہے:
ط: ’’ ایسا شخص جس کی سرگرمیاں دوسروں کے ساتھ منسلک ہوتی ہیں ‘ایک سماجی ماحول کا حامل ہوتا ہے۔ جو وہ کرتا ہے اور جو وہ کر سکتا ہے اس کا انحصار دوسروں کی توقعات‘ مطالبات‘ پسندیدگیوں اور ملامتوں پر ہوتا ہے۔‘‘
ی: ’’مسرت حاصل کرنے یا ناکامی کی اَذیت سے بچنے کے لیے اُسے ایک ایسے انداز میں عمل کرنا پڑتا ہے جو دوسروں کے لیے دل پذیر ہو۔ اِس صورت میں اُس کی اصل قوتِ محرکہ میں تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔ فرض کریں ایک جنگجو قبیلہ ہے۔ یہ جن کامیابیوں کے لیے جدوجہد کرتا ہے اور جن کارہائے نمایاں کو اہمیت دیتا ہے اُن کا تعلق تو لڑائی اور فتح کے ساتھ ہے۔ اس ماحول کی موجودگی ایک نو عمر لڑکے کو (بھی) جنگ جویانہ اظہار کی ترغیب دیتی ہے۔ پہلے کھیلوں میں اور پھر جب خاصا طاقت وَر ہو جاتاہے تو حقیقی صورت میں جب وہ لڑتا ہے تو ترقی و خوش نودی حاصل کرتا ہے‘ اور جب وہ (اِس سے) احتراز کرتا ہے تو اُس کو ناپسند کیا جاتا ہے‘ اُس کی تضحیک کی جاتی ہے۔ اُسے اُس کے حق میں پیدا ہونے والی تعریف و تحسین سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ یہ اَمر حیران کن نہیں ہے کہ اُس کے اصل جنگ جویانہ میلانات و احساسات قوی ہو جاتے ہیں اور اُس کے خیالات کا رخ جنگ سے منسلک معاملات کی طرف مُڑ جاتا ہے (اور) صرف اِس صورت میں (ہی) وہ اپنے گروہ کا مکمل طور پر ایک پسندیدہ رکن بن سکتا ہے۔ یوں اُس کے ذہنی میلانات آہستہ آہستہ گروہ کے ذہنی میلانات میں ضم ہو جاتے ہیں۔ جیسے ہی گروہ کا جذباتی رویہ اُس پر غالب ہو گا تو وہ اُن خصوصی مقاصد کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے لیے چوکس ہو جائے گا جو اس (جذباتی رویے) کا ہدف ہیں۔ مزید برآں اُن ذرائع سے بھی واقف ہو جائے گا جو کامیابی کے حصول کے لیے کام میں لائے جاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اُس کے عقائد و خیالات گروہ کے دوسرے لوگوں کے عقائد و خیالات سے ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔ وہ کافی حد تک اُسی طرح کے علم کا ذخیرہ بھی حاصل کر لے گا کیوں کہ وہ علم اُس کے روز مرہ مشاغل کا ایک جزوِ ترکیبی ہے۔‘‘
مصنف اِس نکتے کو مزید واضح کرتا ہے:
ک: ’’گروہ کے مفادات اور مشاغل سے ہم آہنگ رہتے ہوئے بعض چیزیں بہت تکریم جب کہ دیگر کراہت کا ہدف بن جاتی ہیں۔ رفاقت(association) محبت و نفرت کی انگیختیں پیدا نہیں کرتی‘ تاہم یہ (رفاقت) اُن اہداف کو فراہم کرتی ہے جن کے ساتھ وہ (محبتیں اور نفرتیں) اپنے آپ کو منسلک کرتی ہیں۔ جس طریقے سے ہمارا گروہ یا جماعت کام کرتی ہے اُس سے اُس کی توجہ کے خاص اہداف کا تعین ہو جاتا ہے اور یہ بھی طے ہو جاتا ہے کہ حافظہ و مشاہدہ کی حدود اور رخ کیا ہیں۔ جو چیز بھی اجنبی یا نامانوس (یوں کہیے کہ گروہ کی سرگرمیوں سے باہر) ہوتی ہے اخلاقی طور پر ممنوعہ اور علمی طور پر مشکوک معلوم ہوتی ہے۔ طبیعت کا اصل تاروپود‘ مدرسی اثرات سے آزاد رہتے ہوئے‘ اِسی نوع کے اثرات سے صورت پذیر ہوتا ہے۔ واقف ِحال اور دانستہ تدریس جو کچھ کر سکتی ہے وہ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ یوں صورت پذیر ہونے والی صلاحیتوں کو مزید کام میں آنے کے لیے آزاد کرے۔ انہیںاِن کی کچھ تھوڑی بہت ناشائستگی سے پاک کرے اور ایسے اہداف بہم پہنچائے جو اُن کی سرگرمی کو زیادہ معنی خیز بنائیں۔‘‘
ل: ’’کسی چیز کی قدر و قیمت کو پرکھنے کے زیادہ گہرے معیارات اُن حالات سے تشکیل پاتے ہیں کہ جن سے ایک شخص کو عادتاً واسطہ پڑتا رہتاہے۔ ہم شاذ و نادر ہی اِس اَمر کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہمارے یہ اندازے کہ کون سی چیز قابلِ قدر ہے اور کون سی چیز قابلِ قدر نہیں ہے‘ اُن معیارات پر مبنی ہوتے ہیں کہ جن کے بارے میں ہم ہرگز آگاہ نہیں ہوتے۔ تاہم عموماً یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایسی اشیا ء جنہیں ہم غور و فکر اور چھان بین کے بغیر فرض کر لیتے ہیں‘ ہی ہمارے سنجیدہ افکار کا تعین کرتی ہیں اور ہمارے نتائج فکر کا فیصلہ کرتی ہیں۔ غور و فکر کی سطح سے نیچے رہنے والے یہ میلانات دوسروں کے ساتھ مسلسل لین دین کے تعلق سے تشکیل پاتے ہیں۔‘‘
نوجوان نسل کے عقائد اور طبائع کو کسی خاص سانچے میں ڈھالنے کے حوالے سے معاشرے کا غیر شعوری اثر اسکول کی صورت میں شعوری اور ارادی بن جاتا ہے:
م: ’’جس نوع کی تعلیم ناپختہ ذہن رکھنے والے افراد حاصل کرتے ہیں‘ بڑوں کے لیے اُس (تعلیم) کی شعوری طور پر نگرانی کرنے کاواحد طریقہ یہ ہے کہ اُس ماحول کو قابو میں رکھا جائے کہ جس میں وہ عمل آرا ہوتے ہیں اور جس کے حوالے سے وہ سوچتے اور محسوس کرتے ہیں۔ ہم کبھی براہ ِ راست تعلیم نہیں دیتے بلکہ ماحول کی وساطت سے بالواسطہ تعلیم دیتے ہیں۔ اِس اَمر سے بہت فرق پڑتا ہے کہ آیا ہم موجودہ ماحول کو کام کرنے کے لیے اتفاقی طور پر رہنے دیتے ہیں یا اِس مقصد کے لیے ماحول کا ارادی طور پر خاکہ بناتے ہیں۔ جہاں تک اِس کے تعلیمی اَثر کا تعلق ہے‘ کوئی بھی ماحول اتفاقی ماحول ہوتا ہے تاوقتیکہ اِس میں تعلیمی سرگرمی کی مناسبت سے جان بوجھ کر حسب ِ ضرورت ترمیم نہ کی جائے۔ بلاشبہ اسکول ماحولیات کی ایسی مخصوص مثال بن کر رہتے ہیں جس کی تشکیل ہی اِن کے طلبہ کی ذہنی و اخلاقی طبع پر اثر انداز ہونے کے واضح حوالے سے ہوتی ہے۔‘‘
اِس کا واضح مطلب یہ ہے کہ کسی معاشرے میں تعلیم کے معیار کا انحصار اُس معاشرے کے ’’سماجی نصب العین‘‘ یا ’’سماجی زندگی کے طرزِ عمل‘‘ کے معیار پر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ڈیوی رقم طراز ہے:
ن: ’’تعلیم کا تصور ایک سماجی طریق ِعمل اور تفاعل کے طور پر کوئی واضح معنی و مطلب نہیں رکھتا جب تک ہم معاشرے کی اُس ماہیت کا تعین نہ کر لیں جو ہمارے ذہن میں ہے۔ چوں کہ تعلیم ایک سماجی طریق ِعمل ہے اور معاشروں کی بہت سی اقسام ہیں اِس لیے تعلیمی تنقید و تشکیل کا ایک معیار ایک ہی مخصوص سماجی نصب العین پر دلالت کرتا ہے۔‘‘
س: ’’یہ کہنا کہ تعلیم ایک ایسا سماجی عمل ہے جو ناپختہ افراد کی رہنمائی اور نشوونما کو اُن کی اُس گروہ کی زندگی میں شرکت سے جس سے وہ تعلق رکھتے ہیں یقینی بناتا ہے‘ درحقیقت یہ کہنے کے مترادف ہے کہ تعلیم زندگی کے اُس معیار کے ساتھ بدلتی رہے گی جو گروہ میں رائج ہوتا ہے۔‘‘
ع: ’’کسی گروہ کی طرف سے دی جانے والی کوئی بھی تعلیم اپنے ارکان میں معاشرتی راہ و رسم پیدا کرنے کا میلان رکھتی ہے۔ اِس معاشرتی عمل کے معیار اور قدر و قیمت کا انحصار گروہ کے مقاصد اور عادات پر ہوتا ہے۔ یوں ایک مرتبہ پھر احساس ہوتا ہے کہ کسی معاشرتی زندگی میں مروّج طرزِ عمل کی قدر و قیمت جاننے کے لیے کسی پیمانے کی ضرورت ہے۔‘‘
ف: ’’جمہوری معاشرے میں اور جمہوری معاشرے کے لیے تعلیم کے بنیادی مسائل میںسے ایک مسئلہ قومی اور وسیع تر سماجی مقصد کے تصادم سے پیدا ہوتا ہے۔ کیا کسی تعلیمی نظام کے لیے ممکن ہے کہ اِس کا اہتمام ایک قومی ریاست کرے اور پھر بھی تعلیمی عمل کے بھر پور سماجی مقاصد میںنہ کمی آئے‘ نہ کسی قدغن کا شکار ہوں اور نہ (اُن میں) کوئی خرابی واقع ہو؟‘‘
اِن اقتباسات کی مدد سے ڈیوی کے عمومی نظریۂ تعلیم کے نمایاں نکات کو درج ذیل صورت میں پیش کیا جا سکتا ہے:
(۱) تعلیم ایک ایسا سماجی طریق کارہے کہ جس کے ذریعے ایک سماجی گروہ اپنے (ذہنی نشوونما کے لحاظ سے) ناپختہ ارکان کی تربیت کرتے ہوئے انہیں اپنے سماجی سانچے میں ڈھال لیتا ہے۔
(۲) جو شے ایک سماجی گروہ یا برادری کو بحیثیت گروہ یا برادری پیدا کرتی اور قائم رکھتی ہے اور جو شے ایک سماجی گروہ کے طور پر افراد کی ایک بڑی تعداد کو اکٹھا رکھتی ہے وہ اِس کے ارکان کی ہم خیالی ہے یعنی اُن کے عقائد و نظریات‘ مفادات‘ مشاغل‘ اُمیدوں‘ توقعات‘ عادات و اطوار‘ مقاصد‘ تمنّائوں نیز معیارات اور آراء کی مماثلت۔
(۳) کسی برادری کے تمام عقائد و نظریات اُس کے اِس تصور پر منحصر ہوتے ہیں کہ کون سی شے تعریف و توصیف اور دل لگانے کے قابل ہے اور کون سی اِس قابل نہیں ہے بلکہ اِس کے برعکس ناپسندیدگی‘ کراہت اور مذمت کی مستحق ہے۔ کون سی شے اخلاقی طور پر اچھی اور از روئے دانش معتبر ہے اور کون سی شے اخلاقی طور پر ممنوع اور از روئے دانش ناقابلِ اعتبار۔ بالفاظِ دیگر یہ بات ایک ایسے تصور کی طرف رخ پھیر دیتی ہے جسے برادری بحیثیت مجموعی واقعی عمدہ‘ خوب صورت اور درست مانتی ہے۔
(۴) برادری کے تمام ارکان اپنے مشترکہ مقصد سے باخبر ہوتے ہیں۔ اِس میں دلچسپی محسوس کرتے ہیں اور اِس کی روشنی میں اپنی مخصوص سرگرمیوں کو منضبط کرتے ہیں۔
(۵) ہر برادری ایک سماجی یا نفسیاتی ماحول بنا لیتی ہے جو اِس کے عقائد و نظریات‘ اِس کے کام کرنے‘ سوچنے یا محسوس کرنے کی عادات اور نسل در نسل اِس کے ذخیرئہ علمی کی شعوری یا غیر شعوری‘ ارادی یا غیر ارادی منتقلی کے لیے وسیلہ بن جاتا ہے۔ منتقلی کا یہ عمل تعلیم کا عمل ہے اور اِس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر نسل اپنی پیش رَو نسل کے عقائد و نظریات اور مقاصد و عزائم کو اپنا لیتی ہے۔
(۶) بڑوں کے عقائد و نظریات کو حاصل کرنا (جو کہ ڈیوی کے مطابق تعلیمی عمل کا مقصد ہے) نوجوانوں کے لیے اور ناپختہ ذہن کے حامل لوگوں کے لیے ایک سماجی ضرورت ہے۔ ان میں سے ہر ایک کو ہر صورت اِن عقائد و نظریات کو اپنانا پڑتا ہے قطع نظر اِس بات کے کہ اِن کی اخلاقی قدر و قیمت اور جواز کیا ہے‘ تاکہ ناکامی کی اَذیت سے بچا جائے‘ دوسروں کے لیے قابلِ قبول بنا جائے‘ اور ناپسندیدہ ہونے‘ مذاق کا نشانہ بننے یا داد و تحسین سے محروم ہونے سے خود کو بچایا جائے ‘اور اُس خوشی کو حاصل کرنے کے لیے بھی جو اپنے بڑوں کی خوشنودی حاصل کرنے اور اپنے گروہ کا مکمل طور پر ایک مسلّمہ رکن بننے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ یوں اُن عقائد و نظریات کی توثیق سے جو برادری کے مشترکہ مقصد یا نصب العین سے مربوط ہیں اور اُن عقائد و نظریات کے استرداد سے جو اِس سے مربوط نہیں ہیں ‘یہ وہ دو عوامل ہیں جن سے کوئی برادری اپنے نوجوان اور ناپختہ ذہن کے حامل ارکان کی تربیت کرتی ہے اور انہیں اپنے سماجی سانچے میں ڈھال لینے کا اہتمام کرتی ہے۔
(۷) تعلیمی عمل کا سب سے زیادہ نتیجہ خیز حصہ عقائد و نظریات کی منتقلی کا وہ عمل ہوتا ہے جس کا اسکول کی تعلیم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور دوسروں کے ساتھ مسلسل لین دین کے تعلق سے متشکل ہوتا ہے۔ اگر چہ تعلیم کا یہ حصہ غیر شعوری اور غیر ارادی ہوتا ہے تاہم یہ ہماری شعوری سوچ کا تعین کرتا ہے اور ہمیں اپنے نتائج ِ فکر کا فیصلہ کرنے کے قابل بناتا ہے۔ شعوری اور ارادی تعلیم جو کچھ کر سکتی ہے وہ زیادہ سے زیادہ یہی ہے کہ یوں صورت پذیر ہونے والی استعدادوں کو مزید کارفرمائی کے لیے آزاد کرے‘ انہیں اُن کے کچھ تھوڑے بہت بھدے پن سے پاک کرے اور ایسے اہداف مہیا کرے جو اُن کی سرگرمی کومزید معنی خیز بنائیں۔
(۸) کسی برادری میں تعلیم کا معیار اُس برادری میں عقائد و نظریات کے معیار کے ساتھ بدلتاہے۔ یہ اَمر واضح ہے کہ بہترین تعلیم وہی ہوتی ہے جو ایک ایسی برادری میں رائج ہوتی ہے جو بہترین عقائد و نظریات رکھتی ہے۔
(۹) قومی ریاست کے تحت دی جانے والی تعلیم کے بنیادی مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ کیسے اِس اَمر کو یقینی بنایا جائے کہ تعلیمی عمل کے مکمل سماجی اہداف میں قومی نظریہ کی محدود اغراض کے باعث کوئی کمی‘ کوتاہی اور خرابی نہ آئے گی۔
یہاں تک تو ڈاکٹر ڈیوی مکمل طور پر درست ہے اور کسی کے پاس اُس کے ساتھ اختلاف کرنے کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا ‘تاہم بدقسمتی سے اپنے ذہنی اُلجھائو کو ظاہر کرتے ہوئے وہ جلد ہی خود اپنی تردید کرنا شروع کردیتا ہے جب وہ کہتا ہے کہ:
’’ایسا سوچنا ترقی اور نشوونما کا غلط تصور ہے کہ نشوونمامتعینہ مقصد کی جانب پیش قدمی ہے۔ نشوونما کے متعلق یہ تصور کیا جاتا ہے کہ وہ (خود) ایک مقصد ہونے کے بجائے ایک مقصد رکھتی ہے۔ بڑوں کے ماحول کو بچے کے لیے ایک معیار کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔ اُس کی پرورش اُس کے مطابق کی جاتی ہے۔‘‘
اِس طرح تو وہ خود اپنے اُس اصلی نقطۂ نظر کے خلاف ہو جاتا ہے جس کے مطابق تعلیم کا فطری نتیجہ یہ ہے کہ نوجوانوں کے عقائد و نظریات گروہ میں دوسروں کے عقائد و نظریات کی سی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ نشوونما کے معنوں میں تعلیم ہر متفرق برادری کے لیے ایک متعینہ مقصد رکھتی ہے اور اِس کا مقصد گروہ کے ’’سماجی سانچے‘‘ میں ڈھالنے کے لیے نوجوانوں کی تربیت کرنا ہے‘ انہیں اپنے بڑوں کا ہم خیال بنانے کے لیے‘ اُن کے وسائل اور نصب العینوں کا مضبوط محافظ بنانے کے لیے اور گروہ کے موجودہ مفادات‘ مقاصد اور نظریات میں حصہ دار بنانے کے لیے۔ اِن ساری باتوں کا مطلب یہ تھا کہ بڑوں کا ماحول بچے کے لیے ایک معیار ہے اور اُس کی اِس معیار ہی پر تربیت کرنا ہے۔ وہ اپنے اصلی نقطۂ نظر سے اِس عجیب و غریب انحراف پر مزید زور دیتا ہے جب وہ کہتا ہے:
’’تعلیمی عمل کا اپنے آپ سے ماوراء کوئی مقصد نہیں ہے۔ یہ بجائے خو د مقصد ہے۔تعلیمی عمل مسلسل تنظیم ِنو‘ تعمیر ِ نو‘ تشکیل ِ نو کے عملوں میں سے ایک عمل ہے (بجائے اِس کے کہ نئی نسل میں گروہ کے سماجی سانچے کی تخلیق و بقا کے لیے تنظیم ِ نو‘ تعمیر ِ نو اور تشکیل ِ نو کاعمل: مصنف)۔ چوں کہ حقیقت میں نشوونما کا مزید نشوونما کے سوا کسی شے سے تعلق نہیں ہے اِسی طرح تعلیم مزید تعلیم کے سوا کسی شے کے تابع نہیں ہے۔ چوں کہ حیات کا مطلب نشوونما ہے اِس لیے ایک ذی حیات ایک مرحلہ ٔ حیات پر اتنے ہی سچے دل کے ساتھ اور مثبت طریقے سے زندگی بسر کرتا ہے جتنا کہ (وہ) دوسرے مرحلہ ٔ حیات پر فی نفسہٖ اُسی بھرپور اندا زمیں اور اُسی کامل دعاوی کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے۔ چنانچہ تعلیم کا مطلب ایسے حالات بہم پہنچانا ہے جو قطع ِنظر عمر کے زندگی کی نشوونما یا خود پروری کو یقینی بنائیں۔‘‘
اُس نے اپنے عمومی نظریۂ تعلیم کی حمایت میں ایک ذی حیات کی حیاتیاتی نشوونما سے تعلیمی نشوونما کی مشابہت کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ تاہم اُس نے اِس اَمرِ واقعہ کو نظر انداز کردیا کہ کوئی ذی حیات غیر معین انداز میں نشوونما نہیں پاتا۔ ہر ذی حیات ایک مخصوص حیاتی شکل کے رخ پر نشوونما پاتا ہے اور یہ اُس نوعِ حیات کی شکل ہوتی ہے جس سے یہ تعلق رکھتا ہے۔ اُس کی نشوونماکی رفتار بھی اُس کی زندگی کے تمام مراحل پر ایک سی نہیں ہوتی۔ جیسے جیسے ایک ذی حیات اپنی نوع کی مکمل حیاتی شکل پاتا جاتا ہے اُس کی (نشوونما کی رفتار) بتدریج کم ہوتی جاتی ہے‘ یہاں تک کہ جب یہ پوری طرح وہ شکل حاصل کر لیتا ہے تو یہ مزید نشوونما پانا چھوڑ دیتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ اُس کے جسم کے وہ حیاتیاتی عمل جن کی وجہ سے اُس نے قبل ازیں نشوونما پائی تھی‘ اَب بھی جاری رہتے ہیں‘ مگر جہاں تک کسی ایک ذی حیات کا تعلق ہے اُن (کے عملوں) کا نتیجہ مزید کسی نشوونما کی صورت میں نہیں نکلتا۔ اُن کا صرف ایک ہی حاصل ہے کہ وہ ذی حیات کو اُس حیاتیاتی شکل کے قائم رکھنے میں مدد دیتے ہیں جو اُس نے پہلے ہی اپنی مکمل قوت اور استعداد سے حاصل کر لی ہے۔ تاہم ذی حیات کی بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ یہ استقرار بھی کم سے کم مؤثر ہوتا ہے یہاں تک کہ یہ (ذی حیات) مَر جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ نشوونما اور استقرار یکساں تصوّرات نہیں ہیں۔
جس طرح ایک جانور کی حیاتیاتی نشوونما اِس کی نوع کی حیاتیاتی صورت تک محدود ہوتی ہے اِسی طرح ایک فرد کی سماجی اور نفسیاتی نشوو نما‘ جسے ہم تعلیم کہتے ہیں‘ اُس برادری کی نفسیاتی و سماجی صورت تک محدود رہتی ہے جس سے وہ تعلق رکھتا ہے۔ فرض کریں ایک فرد نے اُس سماجی طبقے کے عقائد و تصورات کو جس سے وہ تعلق رکھتا ہے‘ اپنا لیا ہے اور اُس کی تعلیمی نشوونما ابھی جاری ہے۔ اِس کا فرد پر کیا اَثر ہو گا؟ کیا یہ چیز اُس کے عقائد و تصورات میں مزید تبدیلی لائے گی یہاں تک کہ وہ اُس کے سماجی طبقے کے عقائد و تصورات سے مختلف ہو جائیں؟ ایسا خود ڈاکٹر ڈیوی کے اصول کے مطابق نہیں ہو سکتا‘ کیوں کہ اِس اَمر کو ممکن بنانے کے لیے سرے سے کوئی ایسا سماجی ماحول ہی نہیں ہے۔ ڈاکٹر ڈیوی کے بقول‘ اِس نوع کا تغیر ماحول کی اُس کارروائی کے ذریعے ہی ممکن ہوتا ہے جو ردّعمل کو دعوتِ مبارزت دیتا ہے۔ کیا یہ چیز اُن عقائد و نظریات کو عملی جامہ پہنانے میں اُس کی راہنمائی کرے گی؟ اگر ایسا ہے تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سماجی طبقے کے سماجی ڈھانچے میں پہلے ہی ڈھل چکاہے اور اِس کے قاعدے کے مطابق اپنا کام کاج چلا رہا ہے۔ وہ پہلے سے حاصل شدہ سماجی سانچے کو قائم رکھے ہوئے ہے اور رفتہ رفتہ کسی نئے (سماجی سانچے) کی طرف نہیں بڑھ رہا ہے۔ یوں تعلیم کے باعث فرد کو حاصل ہونے والی نشوونما اُسے کسی بھی سماجی سانچے کی حدود سے تجاوز نہیں کرنے دے گی۔ تاہم ڈاکٹر ڈیوی ایک مرتبہ پھر اپنے اس موقف کی تردید کردیتا ہے جب وہ اِس اَمر پر زور دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ تعلیم کا ایک مقصد ہونا ضروری ہے۔
’’مقصد پیشِ نگاہ ہدف کے طور پر سرگرمی کو ایک سمت عطا کرتا ہے۔ یہ محض ایک تماشائی کا بے کار خیال نہیں ہے بلکہ یہ ہدف تک پہنچنے کی خاطر لیے جانے والے اقدامات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ ہدف تک پہنچنے کے لیے کون سے وسائل مہیا ہیں‘ نیز اِس کے راستے میں درپیش رکاوٹیں معلوم کرنے کے لیے عاقبت اندیشی حالاتِ حاضرہ کا بغور جائزہ لیتی ہے۔ یہ وسائل کے استعمال کی ترتیب کا مناسب نظم تجویز کرتی ہے۔ یہ (وسائل کے) کفایت شعارانہ انتخاب و انتظام میں آسانی پیدا کرتی ہے۔ یہ متبادل امکان کا انتخاب کرتی ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے عمل کرنا ہی سمجھ داری سے عمل آرا ہونے کا واحد راستہ ہے۔ عمل کی آخری حد کی پیش بینی کرلینا ایک (ایسی) بنیاد پا لینا ہے کہ جس پر مشاہدہ کیا‘ انتخاب کیا اور اشیاءکو ترتیب دیا جا سکتا ہے ‘نیز اپنی صلاحیتوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایک شخص اُسی حد تک احمق‘ عقل کا اندھا اور کند ذہن ہوتا ہے کہ جس حد تک کسی بھی سرگرمی کو انجام دیتے ہوئے وہ یہ نہیں جانتا کہ اُس کا مقصد کیا ہے یعنی اُس کے عمل کے ممکنہ نتائج کیا ہیں! کسی خود کار مشین کے برخلاف مقصد کا حامل ہونا بامعنی عمل انجام دینا ہے۔ اِس کا مطلب مقصد کی روشنی میں کوئی کام کرنا اور اشیاء کے معنی کا ادراک کرنا ہے۔‘‘
تاہم تعلیم کا مقصد کیا ہے‘ ڈاکٹر ڈیوی لکھتا ہے:
’’تعلیم کا مقصد افراد کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کے قابل بنانا ہے۔‘‘
’’کوئی غایت ایسی نہیں کہ جس کے تعلیم تابع ہو سوائے مزید تعلیم کے۔‘‘
تعلیم کے مقصد کے حوالے سے اِس قسم کے بیانات سے شاید ہی کوئی شخص یہ جاننے کے قابل ہو سکتا ہے کہ تعلیم کا مقصد کیا ہے! جب ہم سوال کرتے ہیں کہ تعلیم کا مقصد کیا ہے تو اِس سے ہم درحقیقت جو جاننا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ کون سی احتیاج ہے جو تعلیم پورا کرتی ہے۔ کون سی اَچھائی یا فائدہ (حاصل کرنا) اِس کا مقصد ہے؟یہ کہنا کہ تعلیم کا مقصدمزید تعلیم ہے ‘اس سوال کا جواب نہیں ہے۔ یہ تو ایسے ہی ہے کہ جیسے یہ کہا جائے کہ کھیتی باڑی کا مقصد مزید کھیتی باڑی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں نہ ہمیں کھیتی باڑی کو (اِس کے مزید کھیتی باڑی کے مطالبے سمیت)مکمل طور پر موقوف ہی کردینا چاہیے اور اپنے آپ کو اُن پریشانیوں سے بچانا چاہیے جن کا یہ باعث بنتی ہے؟ تاہم کھیتی باڑی کا مقصد تو خوراک حاصل کرنا ہے‘ اِسے موقوف نہیں کیا جا سکتا۔ اِسے زیادہ سے زیادہ حسنِ عمل کے ساتھ ہمیشہ جاری رہنا چاہیے‘ کیوں کہ یہ ایک ضرورت پورا کرتی ہے اور اِس کا مطمح نظر ایک بھلائی ہے۔ کیا یہی بات ہم تعلیم کے متعلق کہہ سکتے ہیں؟ اگر کہہ سکتے ہیں توکن بنیادوں پر؟ کیا ہمیں تعلیم کو موقوف نہیں کر دینا چاہیے؟ یہ ہماری زندگی میں کیا فرق پیدا کرتی ہے؟ اِس کا مطمح نظر کون سی بھلائی ہے؟ کون سی ضرورت ہے جو یہ پورا کرتی ہے؟ کسی بھی سرگرمی کا مقصد ہمیشہ کوئی نہ کوئی تصور ہوتا ہے جس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اِسے لازمی طور پر شروع کیا اور جاری رکھا جائے گا۔ یہ اَمر کہ تعلیم مزید تعلیم کے لیے راستہ ہموار کرتی ہے‘ اِسے جاری رکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ سیکھنے کا عمل ایک آدمی کو اِس قابل بنا دیتا ہے کہ مزید سیکھے اور سیکھنے میں سبقت لے جائے مگر یہ خوبی سیکھنے کے عمل کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ ہر انسانی سرگرمی چاہے اَچھی ہو یا بری‘ جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے زیادہ آسان اور زیادہ حسنِ عمل کی حامل ہوجاتی ہے۔ جب ایک آدمی کسی بیہودہ عمل کا مرتکب ہوتا ہے تو اَسے دوبارہ کرنے کا اُسے چسکا لگ جاتا ہے۔ جب وہ جھوٹ بولتا ہے تو اُس کے لیے دوسرا جھوٹ بولنا زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔ جب وہ ایک چوری کرتا ہے تو وہ (اپنے اندر) زیادہ بہتر طریقے سے ایک اور چوری کرنے کی صلاحیت پیدا کر لیتا ہے۔ یہ بات اِن سرگرمیوں میں سے کسی سرگرمی کو جاری رکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ کسی بھی انسانی سرگرمی کا مقصد بذاتہٖ سرگرمی نہیں ہو سکتا۔ یہ یقیناً ہمیشہ اِس سے خارجی سطح پر ہوتا ہے۔ بصورتِ دیگر سرگرمی فراست سے محروم‘ بے معنی اور بے مقصد ہوگی۔ کسی بھی معاملے میں جب ہم کسی سرگرمی کے مقصد کو بذاتہٖ سرگرمی کے معنوں میں بیان کریں گے تو یہ مقصد سرگرمی کے رخ کو متعین کرنے اور اِسے قابو میں رکھنے میں ہمارے کسی کام نہیں آسکتا۔
ڈاکٹر ڈیوی کے بیان کے مطابق معلم کے لیے تعلیم کے مقصد کا کوئی معنی و مفہوم نہیں ہو سکتا‘ کیوں کہ یہ مقصد کے اُن مناصب میں سے کسی منصب کو پورا نہیں کر سکتا جن کا اُس نے خود اُوپر تعین کیا ہے۔ یہ کوئی پہلے سے دیکھا بھالا منتہا یا ہدف نہیں ہے۔ یہ اپنے کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے معلم کی جانب سے لیے جانے والے اقدامات پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ نہ تو یہ اُن حالات و وسائل کو بروئے کار لا سکتا‘ انتخاب کر سکتا اور فراہم کر سکتا ہے جو اِس کی تکمیل کے لیے ضروری ہیں اورنہ ہی اُن رکاوٹوں سے آگاہ ہو سکتا ہے جو اِس کا راستہ روکتی ہیں۔ ڈاکٹر ڈیوی لکھتا ہے:
’’قائم کردہ مقصد لازماً حالاتِ حاضرہ کی پیداوار ہونا چاہیے۔ اِسے لازمی طور پر اِس سوچ کا حامل ہونا چاہیے کہ فی زمانہ وسائل اور مشکلات کے حوالے سے پہلے سے کیا ہو رہا ہے۔‘‘
مگر مقصد سے عاری تعلیم میں کس طرح ’’حالاتِ حاضرہ‘‘ یا ’’پہلے سے جاری‘‘ کسی شے کے ہونے کا تصور ہو سکتا ہے؟ کس طرح ہم کسی سرگرمی کے تسلسل کے حوالے سے وسائل یا مشکلات کے بارے میں سوچ سکتے ہیں بجز اِس کے کہ سرگرمی کا دانش مندی کے ساتھ رخ متعین کیا گیا ہو ‘یعنی یہ ممکن (ہی) نہیں ہے بجز اِس کے کہ اِس کا پہلے سے کوئی مقصد ہو۔ مشکلات کو صرف اِس لیے مشکلات کہا جاتا ہے کیوں کہ وہ کسی مقصد کی تکمیل کے راستے میں حائل ہوتی ہیں اور وسائل کو صرف اِس لیے وسائل کہا جاتا ہے کیوں کہ ہم انہیں کسی مقصد کی تکمیل میں معاون سمجھتے ہیں۔ ہم پہلے ہی ڈاکٹر ڈیوی کے اِس نقطۂ نظر سے آگاہ ہو چکے ہیں کہ پیش بیں ہدف کے طور پر تعلیم کا مقصد تعلیمی سرگرمی کو ایک سمت فراہم کرتا ہے اور ہمیں اِس کے احوال‘ وسائل اور مشکلات سے مناسب انداز میں نمٹنے کے قابل بناتا ہے۔ با ایں ہمہ وہ اِس بیان میں کچھ ایسی بات کرتا ہے جو اِس سے بالکل الٹ ہے یعنی یہ ہماری تعلیمی سرگرمی اور احوال‘ وسائل اور مشکلات ہی ہیں جو تعلیم کے مقصد پر حاوی ہوتی ہیں۔ اُس نے سچائی کو اوندھا کردیا ہے۔ یہ بات اُس مشہور مارکسی مغالطے سے مشابہ ہے کہ یہ ہمارے نصب العین نہیں جو ہماری معاشی سرگرمی پر حاوی ہوتے ہیں بلکہ یہ ہماری معاشی سرگرمی ہوتی ہے جو ہمارے نصب العین پر حاوی ہوتی ہے۔ وہ دوبارہ لکھتا ہے:
’’مقصد کو یقیناً لچک دار ہونا چاہیے۔ اِسے حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے لازماً بدلنے کی استعداد کا حامل ہونا چاہیے۔ مختصر یہ کہ مقصد تجربی ہوتا ہے اور اِسی لیے جیسے جیسے عملی صورت میں آزمائش سے گزرتا ہے‘ مسلسل نمو پذیر رہتا ہے۔‘‘
کیا ڈاکٹر ڈیوی کا یہ بیان اُس کے اِس بیان سے نہیں ٹکرا تا کہ ’’پیش بیں ہدف کے طور پر مقصد سرگرمی کو سمت فراہم کرتا ہے۔‘‘ کیا وہ یہاں ہمیں یہ نہیں بتا رہا کہ مقصد سرگرمی کو سمت فراہم نہیں کرتا بلکہ سرگرمی مقصد کو سمت فراہم کرتی ہے؟ ظاہر ہے دونوں بیانات درست نہیں ہو سکتے۔ سرگرمی مقصد سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے صرف اِس صورت میں بدلے گی اگر مقصد طے شدہ ہے اور مقصد سرگرمی سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے صرف اس صورت میں بدلے گا اگر سرگرمی کو پہلے سے مقررہ راستے پر چلنا ہے۔ تاہم کیا یہ (سرگرمی) طے شدہ مقصد کے بغیر مقررہ راستہ اختیار کر سکتی ہے؟
سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک مقصد کو اختیار کرنے کا جواز ہی کیا ہے اگر اِسے حالات کو بدلنا اور قابو میں نہیں کرنا ہے بلکہ خود اِسے بدلنا اور اُن کے قابو میں آنا ہے؟ ظاہر بات ہے کہ یہ ہمارا مقصد ہی ہے جو ہماری کامیابیوں یا ناکامیوں کو پرکھتا اور تولتاہے۔
اگر ہم کسی مقصد کی جانچ یہ جاننے کے لیے کریں کہ آیا یہ اَچھا ہے یا برا ‘تو ایسا ہم صرف ایک اور زیادہ بڑے حتمی مقصد کی روشنی ہی میں کر سکتے ہیں ‘اور اگر ایک مقصد بتدریج ترقی کرتا اور تغیر پذیر ہوتا ہے تو ایسا یہ صرف زیادہ بڑے حتمی مقصد سے مزید شدت کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کے لیے ہی کر سکتا ہے۔ یہ محض بات کا دوسرا انداز ہے کہ ہمارا حتمی مقصد (ہی) جانچ کرتا ہے اور پھر ہماری سرگرمی کے نتائج کو ایک رخ پر چلاتا ہے۔ ڈاکٹر ڈیوی اِس نقطۂ نظر کی مخالفت کرتے ہوئے رقم طراز ہے:
’’ہم نے محض مقصد ِ تعلیم قائم کرنے کی کوشش کے بے سود پن کی نشان دہی کی ہے ----- کوئی ایسا حتمی مقصد جو دیگر تمام (مقاصد) کو اپنے ماتحت کر لیتا ہے۔ ہم نے مختصراً بیان کر دیا ہے کہ چوں کہ عمومی مقاصد متوقع نقطہ ہائے نظر ہوتے ہیں جن سے حالاتِ حاضرہ کا جائزہ لیا جاتا ہے اور اُن کے امکانات کا اندازہ کیا جاتا ہے اِس لیے وہ سب ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہمارے پاس کسی بھی تعداد میں ہو سکتے ہیں۔‘‘
آخری جملے میں ادا شدہ بیان شاید ہی قابلِ تفہیم ہو۔ اگر ہم بڑی تعداد میں ممکنہ مقاصد یا متوقع (ایسے) نقطہ ہائے نظر رکھتے ہیں جن سے ہم حالاتِ حاضرہ کا جائزہ لیتے ہیں اور اُن کے امکانات کا اندازہ کرتے ہیں توہم لازماً (اِن مختلف مقاصد یا نقطہ ہائے نظر کے) ناگزیر تقابل کے نتیجے میں بالآخر ایک ایسے مقصد یا ایک ایسے متوقع نقطۂ نظر کو پا لیں گے جو حالات حاضرہ کی روشنی میں سب سے زیادہ اور سب سے قوی امکانات کا پتا دیتا ہے۔ یوں یقینی طور پر اُس مقصد یا نقطۂ نظر کو اپنے حتمی مقصد کے طور پر چنیں گے جس کے تحت اِن حالات کو کام میں لانا چاہیے۔ اِس کا مطلب ہے کہ جب ہم کام کرنا شروع کرتے ہیں تو ہم یا تو لازمی طور پر ایک کے سوا تمام مقاصد یا نقطہ ہائے نظر کو مسترد کر دیتے ہیں یا اُن سب کو اِس کے ماتحت اور تابع بنا دیتے ہیں‘ کیوں کہ اُن میں سے کوئی بھی ہمارے حتمی مقصد کے طور پر اِس کے برابر نہیں ہو گا۔
یہ بات کسی بھی شخص کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ کیسے بہت سے مختلف مقاصد ایک زیادہ بڑے حتمی مقصد کے ماتحت ہوئے بغیر باہم ہم آہنگ ہو سکتے ہیں۔ اگر واقعی کوئی ایسا معیار ہے کہ جس سے اُن کی ہم آہنگی کو پرکھا جا سکتا ہے یا اگر وہ کوئی ایسا مشترکہ وصف رکھتے ہیں کہ جس سے وہ ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو جاتے ہیں تو یقیناً وہی معیار یا وصف بالا دست مقصد ہو گا یعنی ہماری سرگرمی کے تمام مقاصد کا حتمی مقصد۔
ڈاکٹر ڈیوی نے تعلیمی سرگرمی سے خارجی سطح کے مقصد اور اِس کے اندر سے جنم لینے والے داخلی مقصد کے مابین اپنے قائم کیے ہوئے امتیاز پر بہت زیادہ اور مختلف انداز میں زور دیا ہے اور وہ خارجی مقصد کو ضرر رساں قرار دے کر مسترد کر دیتا ہے ‘تاہم اِس امتیاز کی قطعاً کوئی بنیاد نہیں ہے۔سرگرمی کا مقصد ہمیشہ اُس سے خارجی سطح پر ہوتا ہے اور اِسی وجہ سے یہ سرگرمی کو جنم دیتا اور اُس پر غالب رہتا ہے۔ چنانچہ ہماری تعلیمی سرگرمی یا کوئی بھی دوسری سرگرمی شروع ہی نہیں ہو سکتی (اور اِسی لیے اپنے اندر سے مقصد یا کوئی دوسری شے پیدا نہیں کر سکتی) جب تک ہم اِس کے مقصد سے پوری طرح باخبر نہیں ہو جاتے ہیں۔ ہماری سرگرمی مقصد سے پھوٹتی ہے نہ کہ اس کے برعکس۔ یہ سچ ہے کہ جب ہمیں کسی مقصد کو حاصل کرنا ہوتا ہے اور ہم اِسے حاصل کرنے کے لیے سرگرمی کا آغاز کرتے ہیں تو ہم بہت سے کم اہمیت کے حامل مقاصد بناتے ہیں یا (یوں کہیے کہ اُن سے ہمارا) واسطہ پڑتا ہے۔ اُن میں سے کسی ایک کا بھی حصول ہمیں ایک قدم حتمی مقصد کے قریب تر کر دیتا ہے۔ یہ سب مقاصد اتفاقیہ طور پر ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہیں ہوتے بلکہ اِس لیے کہ اُن کا تعین اُس واحد مقصد سے ہوتا ہے جو کہ حتمی (مقصد) ہے۔
جب کبھی اِن کم اہمیت کے حامل مقاصد میں سے کسی مقصد کا تعاقب کسی ایسی سرگرمی کو جنم دیتا ہے جس کے نتائج حتمی مقصد کے حوالے سے ناموافق ہوتے ہیں تو اِس کم اہمیت کے حامل مقصد کو بدلنا پڑتا ہے‘ کیوں کہ اِس کے نتائج حتمی مقصد سے اِس کے غیر مربوط ہونے کا انکشاف کرتے ہیں اور اِس کی جگہ ایک نیا مقصد‘ حتمی مقصد سے مربوط ہونے کے لحاظ سے پرکھا ہوا‘ قائم کیا جاتا ہے۔ تاہم اِس معاملے میں (یہ اَمر واضح رہے کہ) یقیناً یہ ہماری سرگرمی نہیں کہ جس نے کم اہمیت کے حامل مقصد کے ناپسندیدہ نتائج کی پرکھ کی ہے بلکہ یہ ہمارا حتمی مقصد ہے جس نے ایسا کیا ہے۔ سرگرمی کسی چیز کا معیار نہیں ہو سکتی بلکہ یہ خود کسی معیارکی پیرو ہوتی ہے اور سرگرمی کاوہ (معیار) حتمی مقصد ہوتا ہے۔
ڈیوی ہمیں بتاتا ہے کہ تعلیم کو بغیر کسی مقصد کے بھٹکنے کے لیے نہیں چھوڑ دینا چاہیے۔ اِسے ایک ایسے وسیلے کی صورت میں ہونا چاہیے کہ جو بڑی ذہانت کے ساتھ اُن امکانات کی نشوونما کو بھی ایک سمت فراہم کرے جو معمولی نوعیت کے تجربے میں ہوتے ہیں۔ وہ تعلیم کا واضح مقصد رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے لکھتا ہے:
’’اَچھی طرح سوچے سمجھے فلسفے سے اثر پذیر تعلیمی طور طریقوں اور اُن (تعلیمی) طور طریقوں کے مابین جو اِس طرح اَثر پذیر نہیں ہوتے یہ فرق ہے کہ ایک تعلیم وہ ہے جس کا اہتمام اہداف کے ایک ایسے واضح تصور کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ جس میں خواہش اور مقصد کے اُن حاوی رویوں کی صورت ہوتی ہے کہ جنہیں پیدا کرنا ہے‘ اور ایک تعلیم وہ ہے جو بغیر سوچے سمجھے رسوم و رواج کے زیر اثر فوری سماجی دبائو کے نتیجے میں دی جاتی ہے اور جس کی پرکھ پرچول نہیں کی جاتی۔‘‘
تاہم وہ اُس وقت اپنے موقف کی تردید کردیتا ہے جب وہ کہتا ہے :
’’فلسفہ ٔ تعلیم کا مطلب بنے بنائے تصورات کا خارجی سطح سے ایک ایسے نظام عمل پر اطلاق نہیں کہ جو کلیتاً مختلف مبدأو مقصد کا حامل ہو۔ یہ تو محض عصری سماجی زندگی کی مشکلات کے حوالے سے درست ذہنی اور اخلاقی میلانات کی تشکیل کے راستے میں حائل مسائل کے حل کا ایک واضح ضابطہ ہے۔‘‘
کسی سرگرمی کا کوئی مقصد نہیں ہوتا اگر یہ پہلے سے سوچا سمجھا ہوا اور کسی شے کا ایسا بنا بنایا تصور نہ ہو کہ جس کی قدر و قیمت اِس اَمر کی مستحق ہو کہ اُس کے لیے جدو جہد کی جائے اور اُسے نتیجہ خیز بنایا جائے۔ خوب غور و فکر کے حامل فلسفے کو جو روایت پر اثر انداز ہوتاہے ‘روایت کے شروع ہونے سے پہلے ہی تیار شدہ ہونا چاہیے‘ ورنہ یہ اَچھی طرح غور و فکر کا حامل فلسفہ نہیں ہو سکتا اور ہرگز روایت پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔نیز ہم کسی ایسے مقصد کا واضح تصور کیسے رکھ سکتے ہیں کہ جو ہر دم متغیر ہو اور یوں سرے سے مقصد ہی نہ ہو۔ آئیں! درج بالا جملے میں ڈیوی کی طرف سے استعمال شدہ ’’معاصر سماجی زندگی کی مشکلات‘‘ کی ترکیب کے معنی و مفہوم پر غور کریں۔
سماجی زندگی کی مشکلات کو مشکلات نہ سمجھیں تو وہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتیں‘ یعنی جب تک ہم سماجی زندگی کے منتہا و مقصود یا مقصد کا پہلے سے سوچا سمجھا تصور نہ رکھتے ہوں اور اِس اَمر پر تیقن کا احساس نہ ہو کہ سماجی زندگی کچھ رکاوٹوں کے باعث اُس منتہا و مقصود یا مقصد کی طرف حرکت نہیں کر رہی ہے۔ لفظ ’’مشکلات‘‘ میں کسی ایسے مقصد کا تصور مضمر ہے جو کہ پہلے سے معلوم اور مطلوب ہوتا ہے اور رکاوٹوں کا تصور بھی مضمر ہے جو مقصد کے حصول کے راستے میں حائل ہوتی ہیں۔ اگر ہم اِن رکاوٹوں یا مشکلات پر غالب آنے اور مقصد تک پہنچنے کی کوشش کا آغاز کریں تو ہم کامیاب نہیں ہو سکتے بجز اِس کے کہ ہم کوشش کی پیشگی منصوبہ بندی کریں اور مقصد تک لے جانے والی اپنی کوشش کی مکمل راہِ عمل کا پہلے سے سوچا سمجھا تصور (اپنے ذہن میں) رکھیں۔ اگر ذہنی و اخلاقی رجحانات کی ایک خاص صورت کی تحصیل کے لیے سماجی طبقے کی نئی نسل کی تربیت کرنے سے یہ مقصد حاصل ہو سکتا ہے تو پھر ہمیں پہلے سے معلوم ہونا ضروری ہے کہ وہ رجحانات کیا ہیں اور کیسے بہترین طریقے سے انہیں پیدا کیا جا سکتا ہے تاکہ ہم اُن کی تخلیق کے لیے کامیابی سے منصوبہ بندی کرنے کے قابل ہو سکیں۔ ہماری کامیابی کے لیے اِس قدر ضروری مطلوبہ رجحانات کا پیشگی علم ہمارے اُس مقصد کی نوعیت ہی سے اَخذ ہو سکتا ہے جس کا پہلے سے معلوم ہونا ضروری ہے اور صرف یہی علم فلسفہ ٔ تعلیم کی شکل اختیار کر سکتا ہے ۔ درایں حالات ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ فلسفہ ٔ تعلیم بنے بنائے تصورات کا مجموعہ نہیں ہے۔ بلاشبہ اپنے ماحول کے حوالے سے خود اپنی ذات کے بارے میں ہمارے علم میں اضافے کے ساتھ فلسفہ ٔٔ تعلیم نظر ثانی اور اصلاح کی زد میں رہتا ہے ۔تاہم کیا یہ بات ہر شعبۂ علم کے حوالے سے درست نہیں ہے؟ فلسفہ ٔ تعلیم تمام تر نظرثانیوں اور اصلاحات کے باوجود عملی نفاذ کے منتظر بنے بنائے تصورات کی ایک دستاویزہی رہے گا۔ جس حد تک ایک فلسفہ ٔ تعلیم نظر ثانی اور اصلاح کاضرورت مند ہوتا ہے اُسی حد تک وہ ایک درست فلسفہ ٔ تعلیم نہیں ہوتا اور کچھ ایسے غلط تصورات پر مشتمل ہوتا ہےجنہیں ضروری ہے کہ جس قدر جلدی ہوسکے‘ دور کر دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اِسے نظرثانی اور اصلاح کی ضرورت ہے۔
اگر ہم متفق ہیں کہ تعلیم حقیقتاً فرد کی قدرتی اور مسلسل نشوونما کا عمل ہے جیسے کہ ڈیوی کو یقین ہے کہ ایسے ہی ہے‘ تو تعلیم کے معاملے میں نظریہ نتائجیت (Pragmatism) خارج از بحث ہو جاتا ہے اور تعلیمی نتائجیت (Educational pragmatism) ایک بے معنی اصطلاح بن کر رہ جاتی ہے ‘کیوں کہ اِس صورت میں اہم معاملہ یہ نہیں کہ کس وقت ہم تعلیم میں کس چیز کو مفید سمجھتے ہیں ‘بلکہ اہم معاملہ یہ ہے کہ تعلیم کا فطری رخ کس طرف ہے! کیا یہ اِس وقت ہمارے لیے مفید ہے یا نہیں؟ اِس طرح کے معاملے میں بحیثیت معلم جس اَمر کی ہمیں فکر ہونا چاہیے وہ یہ نہیں ہے کہ متعلّم کو کس رخ پر نشوونما پانا چاہیے تاکہ ہمارے سماجی مسائل کے حل میں‘ جو بظاہر ہمیں دکھائی دیتے ہیں‘ (وہ) ہمارے لیے فائدہ مند ہو‘ بلکہ (جس اَمر کی ہمیں فکر ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ) اپنی فطرت کو نظر میں رکھتے ہوئے وہ کس رخ پر نشوونما پا سکتا ہے‘چاہے وہ اِن مسائل کے حل میں ہماری مدد کر سکتا ہے یا نہیں ۔ یہ فرد نہیں کہ جس کو ہمارے مقاصد سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے بدلنا ہو گا بلکہ یہ مقاصد ہیں کہ جنہیںلازماً فرد سے مناسبت پیدا کرنے کے لیے ہر سمت میں اُس کی فطری نشوونما کے موافق ہونے کے لیے بدلنا ہو گا۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ فرد اُس سمت میں سود مند طریقے سے نشوونما نہیں پائے گا جو اُس کی فطرت سے مطابقت نہیں رکھتا‘ چاہے ہم اپنی معاصر سماجی زندگی کی مفروضہ مشکلات کو نظر میں رکھتے ہوئے اِس کے لیے کتنی ہی خواہش کریں۔ ہم انسانوں کو ایک ایسے طریقے پر نشوونما پانے پر مزید مجبور نہیں کر سکتے جو اُن کی فطرت سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔ تاہم جس کے متعلق ہم سوچتے ہیں کہ وہ طریقہ ہمارے سماجی مسائل کو حل کرے گا (اگر ایسا کر سکتے ہوتے) تو اِس صورت میں ہم گیہوں کے پودوں کو خاردار جھاڑیوں کی صورت میں اُگنے پر مجبور کرتے‘ کیوں کہ مؤخر الذکر کم یاب ہیں اور باڑیں بنانے کے لیے اُن کی ضرورت ہے۔ اگر تعلیم واقعی ایک فطری اور مسلسل نشوونما کا عمل ہے تو (اِس صورت میں) ہم اپنے خود غرضانہ اور لااُبالی مقاصد کے لیے اِس عمل میں بے دھڑک دخل اندازی نہیں کر سکتے۔ جیسے ہی ہم تعلیم کا استعمال اپنے وقتی خیالات اور فوری مقاصد کی بجا آوری کے لیے کرنا شروع کرتے ہیں تو تعلیم تعلیم نہیں رہتی اور بجائے اِس کے غلط تعلیم بن جاتی ہے۔ تعلیم ہمارے حقیقی سماجی مسائل اور دراصل تمام حقیقی مسائل کے حقیقی اور مستقل حل کی طرف صرف اِس صورت میں رہنمائی کر سکتی ہے اگر اِس کا رخ اپنے فطری ہدف کی جانب کیا جائے‘ بلکہ صرف اِسی ہدف کی طرف رخ اختیار کرنے کی اجازت دی جائے ‘کیوں کہ صرف اِسی صورت میں یہ اصلی تعلیم ہوگی۔
ڈیوی کے مذکورہ بالا بیان سے یہ پہلو اَخذ ہوتا ہے کہ اُس کے مطابق تعلیم کا ہدف فرد میں کسی نوع کے مقصد اور خواہش کے غالب رجحانات کی تخلیق ہے ‘مگر بدقسمتی سے وہ ہمیں واضح طور پر نہیں بتاتا کہ مقصد اور خواہش کے وہ غالب رجحانات کیا ہیں کہ جنہیں معلم کو فرد میں پیدا کرنا چاہیے۔ جب تک اِن رجحانات کا تعین نہیں ہوتا‘ معلم انہیں تخلیق کرنے کے لیے سرگرم نہیں ہو سکتا۔چوں کہ اِس طرح کے معاملے میں وہ حاصل کیے جانے والے اہداف کا واضح تصور نہیں رکھتا ہو گا (اِس لیے) اُس کی تعلیمی سرگرمی بے سوچے سمجھے انجام پائے گی اور بغیر کسی مقصد کے اِدھر اُدھر بھٹکتی رہے گی۔
وہ بجا طور پر یقین رکھتا ہے کہ تعلیم کو تجربے پر مبنی ہونا چاہیے اور اِسے معمولی نوعیت کے تجربے میں پوشیدہ ذہانت سے نشوونما پانے کے امکانات کو کام میں لانا چاہیے۔ تاہم وہ ہمیں پلٹ کر یہ نہیں بتاتا کہ معمولی نوعیت کے تجربے میں مضمر وہ کون سے امکانات ہیں جنہیں ترقی دی جانا چاہیے۔ اُن کی دانش مندانہ ترقی کا اہتمام کس طرح ممکن ہے؟ کس قسم کا فرد ----- آیا ایک مکمل طور پر جمہوریت کا حامی‘ ایک مکمل طور پر اشتمالیت کا حامی‘ ایک کامل مسیحی‘ ایک کامل قومی اشتراکیت پسند‘ ایک کامل فسطائی‘ ایک ماہر ڈاکو یا ایک ماہر راہزن ----- حاصل ہو گا اگراُن کے امکانات کی دانش کے ساتھ صحیح سمت میں رہبری کی جائے اور انہیںترقی دی جائے۔ صریحاً یہی وہ امکانات ہیں جو ڈیوی کے کہنے کے مطابق نشوونما پانے پر مقصد و خواہش کے وہ غالب رویے عطا کرتے ہیں جن کا اُس نے اِس سے پہلے دیے گئے اپنے اقتباس میں حوالہ دیا ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ مختلف نصب العینوں‘ نظریات‘ عقائد و اعتقادات کے حامل اعلیٰ تعلیم یافتہ اشخاص کے معاملے میں مقصد و خواہش کے غالب رویے مختلف ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ (اپنے نصب العینوں اور اعتقادات کے مناسب حال) اخلاقی‘ سیاسی‘ معاشی‘ سماجی‘ قانونی اور تعلیمی معاملات پر مختلف رائے رکھتے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اُن کے معاملے میں عمومی تجربے میں مضمر امکانات اُن کے نصب العینوں اور اعتقادات سے مناسبت رکھتی ہوئی نشوونما کی مختلف سمتیں اختیار کر لیتے ہیں۔ مزید برآں اِس کا مطلب ہے کہ ہر صورتِ حال میں اُن کی نشوونما دانش مندانہ انداز سے نہیں ہوئی ورنہ یہ لازماً ایک ہی سمت اختیار کرتیں اور ایک سے نتائج پیدا کرتیں اور ہر صورتِ حال میں مقصد و خواہش کے یکساں رویے تخلیق کرتیں ۔ ڈیوی محسوس کرتا ہے کہ تمام تجربات تعلیم دینے کے حقیقی معنی میں یا یکساں طور پر استعداد نہیں رکھتے۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے:
’’اِس یقین کا کہ ساری کی ساری اصلی تعلیم تجربے کے ذریعے واقع ہوتی ہے‘ مطلب یہ نہیں کہ جملہ تجربات حقیقی طور پر اور یکساں طور پر علم آموز ہوتے ہیں۔ تجربہ اور تعلیم کو براہِ راست ایک دوسرے کے مساوی نہیں گردانا جا سکتا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ بعض تجربات گمراہ کن (بھی) ہوتے ہیں۔‘‘
با ایں ہمہ تعلیم دینے والے اور تعلیم نہ دینے والے تجربات کے مابین کیا فرق ہے؟ اُس کے مطابق:
’’ایسا تجربہ مخربِ علم ہے جو مزید تجربے کی نشوونما کو معطل کرنے یا مسخ کردینے کا اَثر رکھتا ہو۔‘‘
’’ایسی تعلیم کا جو تجربے پر مبنی ہو ‘نہایت اہم مسئلہ موجود تجربات میں سے اِس قسم کے تجربات کا انتخاب ہے جو بعد میں آنے والے تجربات میں ثمر بخش اور تخلیقی انداز میں زندہ رہتے ہیں۔‘‘
اِس کا مطلب یہ ہے کہ معلم کو لازمی طور پر پہلے سے معلوم ہونا چاہیے :
(ا) مسخ شدہ اور تعطل کا شکار تجربہ کون سا ہوتا ہے؟ کون سی علامتیں ہیں(جو یہ ظاہر کرتی ہیں) کہ ایک موجودہ تجربہ مستقبل میں بگاڑ یا تعطل کا شکار ہو جائے گا؟
(ب) کسی تجربے کی ثمر آوری یا تخلیقیت سے کیا مراد ہے؟ کون سی علامتیں ہیں (جو یہ ظاہر کرتی ہیں) کہ موجودہ تجربہ مستقبل میں ثمر آور اور تخلیقی ثابت ہو گا؟
اگر وہ تعلیمی عمل شروع کرنے سے پہلے اِن سوالات کے جواب نہیں جانتا تو وہ اپنے شاگردوں کی ایسے تجربات حاصل کرنے کے لیے رہنمائی کرنے کے قابل نہ ہو گا کہ جو حقیقتاً تخلیقی ہوں۔ اِس کے بر خلاف اگر وہ اِن کے جوابات پہلے سے جانتا ہو تو (اِس صورت میں) وہ اطلاق کرنے کے لیے اپنے پاس پہلے سے بنے بنائے تصورات پر مشتمل ایک فلسفۂ تعلیم رکھتا ہو گا۔
ڈاکٹر ڈیوی خود (بھی) اُن سوالات کے جواب نہیں دیتا اور یوں ایک ایسے مسئلے کے حل میں حصہ نہیں ڈالتا جو اُس کی رائے میں تجربے پر مبنی ایک ایسی تعلیم میںمرکزی اہمیت رکھتا ہے جس کا وہ خود حامی ہے۔ یقینی طور پر لوگوں کی اِس اَمر میں رائے مختلف ہو سکتی ہے کہ ایک ’’مسخ شدہ‘‘ یا ’’ساکت‘‘ یا ’’ثمر آور‘‘ یا ’’تخلیقی تجربہ‘‘ کیا ہے۔ بحیثیت ماہرِ تعلیم یہ اُس کا فرض تھا کہ وہ خود اپنے بیان سے اُٹھنے والے سوال کا واضح جواب دے اور یوں اُلجھن کو رفع کرے۔
ظاہر ہے معلم کی رائے میں کوئی تجربہ فی الواقع مسخ شدہ یا معطل ہے یا نہیں ہے‘ کوئی تجربہ حقیقتاً مستقبل میں ثمر آور یا تخلیقی ہونے والا ہے یا نہیں ہے‘ اس اَمر کا انحصار یقینی طور پر اُس حتمی ہدف یا نصب العین پر ہو گا جس کے حوالے سے وہ ارادہ رکھتا ہے کہ تجربہ کام آئے۔ یوں یہ اُس کا نصب العین ہے جو اِس اَمر کا تعین کرتا ہے کہ آیا کوئی تجربہ علم آموز ہو گا یا نہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ مختلف النّوع تجربات کی نسبتی تعلیمی قدر و قیمت کے متعلق واضح آراء قائم کر نے کے لیے اور یوں اپنے فرائض مناسب طریقے سے انجام دینے کے لیے معلم پر لازم ہے کہ تعلیم کے ایک نصب العین کا حامل ہو۔
ایک تجربہ مزید تجربات کی جانب رہنمائی کر سکتا ہے اور اِس کے باوجود ہو سکتا ہے کہ فہمِ عامہ کے نقطۂ نظر سے وہ تجربہ علم آموز نہ ہو۔ یہ اُس وقت ہوتا ہے کہ جب یہ تجربہ ایک ایسے ہدف یا نصب العین کے رخ پر نشوونما پاتا ہے جو مطلوب نہ ہو۔ اِس کی وجہ یہ ہے‘ جیسے کہ ڈاکٹر ڈیوی نے خود اشارہ کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کوئی آدمی ایک چور کے طور پر‘ ایک بدمعاش کے طور پر یا ایک بدعنوان سیاست دان کے طور پر مہارت میں ترقی پالے۔ ڈاکٹر ڈیوی خود اپنے نقطۂ نظر پر اِس اعتراض کا جواب حسب ِ ذیل دیتا ہے:
’’تاہم نشوونما بحیثیت تعلیم اور تعلیم بحیثیت نشوونما کے نقطۂ نظر سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا اِس (غلط) رخ پر نشوونما میں بالعموم اضافہ ہوتا ہے یا کمی واقع ہوتی ہے۔ کیا نشوونما کی یہ صورت مزید نشوونما کے حالات پیدا کرتی ہے یا ایسے حالات بنا دیتی ہے جو اُس شخص پر جس نے اِس مخصوص رخ پر نشوونما پائی ہے‘ نئی سمتوں پر مسلسل نشوونما پانے کے محرکات و مواقع کی راہ مسدود ہو جاتی ہے؟اِس صورت میں کہ جب صرف ایک مخصوص سمت میں نشوونما ہی مزید نشوونما کا باعث بنتی ہے تو کیا یہ (غلط رخ پر ہونے والی) نشوونما اُس کو وقت اور صرف اسی وقت جب کسی مخصوص سمت میں آگے بڑھنا مسلسل نشوونما کے لیے ممد ہو‘ یہ (نشوونما) اُس معیار پر پورا اُترتی ہے جس میں تعلیم کو بطور نشوونما لیا جاتا ہے؟‘‘
تاہم یہ جواب کافی نہیں ہے۔ یہ اَمر پھر بھی معلم کے لیے ایک مسئلہ بنا رہتا ہے کہ اُس کو پہلے سے کیسے معلوم ہو کہ آیا کسی مخصوص سمت میں نشوونما مسلسل نشوونما کے لیے ممد ہو گی یا نہیں! وہ کون سی سمت ہے کہ جس میں بغیر انجام کو پہنچے مسلسل نشوونما ہو سکتی ہے؟ بدقسمتی سے ڈاکٹر ڈیوی اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیتا۔ نہ ہی وہ وضاحت کرتا ہے کہ ’’عمومی طور پر نشوونما‘‘ اور ’’نئے رخوں پر نشوونما‘‘ کی تراکیب سے اُس کی کیا مراد ہے؟ ہو سکتا ہے کہ ایک کامیاب چور دولت میں اضافہ کرتا چلا جائے یا یہ (بھی) ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی ترقی کی سمت تبدیل کرلے اور وافر دولت اکٹھی کرلینے کے بعد ایک بدعنوان سیاست دان یا ایک رہزن بن جائے اور اِسی طرح دائم ترقی کرتا رہے۔ یہ کہنا کن معنوں میں درست ہے کہ اُس نے حسب ِ معمول ترقی نہیں کی یا نئی سمتوں میں ترقی نہیں کی ہے؟
کیا بحیثیت مجموعی ترقی کا کوئی ایسامقصد ہے جسے معلم کو اپنی نگاہ میں رکھنا چاہیے؟ اگر ترقی کا کوئی مقصد نہیںجس کی معلم کو نگہداری کرنا ہے تو پھر تعلیم ایسے عمل کے طور پر ممکن نہیں کہ جس کے پیچھے کوئی دانش کار فرما ہو۔ کیا نئی سمتوں کی کوئی تعداد ہے جن کے حوالے سے معلم کو اِس اَمر کا اہتمام کرنا چاہیے کہ ترقی کو اپنی نگرانی میں جاری رکھے؟ اگر کسی حوالے سے معلم کا ارادہ ترقی کو لازمی طور پر ایک خاص سمت میں جاری رکھنے کا ہے (نہ کہ تمام نئی سمتوں میں) اور اُس خاص مقصد تک پہنچنے کا ہے جس کا تعلق ایک خاص قسم کے فرد کے ساتھ ہے تو پھر ضروری ہے کہ ہم کوئی وجہ بتائیں کہ کیوں ہم کسی شخص کے ایک ماہر چور یا ایک کامیاب بدعنوان سیاست دان بننے کے ہدف کی جانب بڑھنے پر اعتراض کرتے ہیں۔ ایک چور یا ایک بدعنوان سیاست دان تو کہہ سکتا ہے کہ اُس کی ترقی مطلوبہ ہدف تک پہنچ چکی ہے اور مزید ترقی ضروری نہیں ہے ‘تاہم ایک ایمان دار اور قانون کی پابندی کرنے والے شہری کی ترقی مکمل طور پر اور مستقل طور پر قانون کے غیر فطری دبائو کے سامنے جھکنے کے باعث بندش اور بگاڑ کا شکار ہو جاتی ہے۔
اس الجھن کو اُس وقت تک دور نہیں کیا جا سکتا جب تک معلم اپنے شاگردوں کی ترقی کی سمت اور مقصد کا تعین نہیں کرتا یعنی جب تک وہ اُن کے سامنے ایک ایسا مخصوص نصب العین نہیں رکھتا جس کی طرف اُس کے خیال میں اُن کی ترقی ہو سکتی ہے اور جاری رہنا چاہیے۔ ڈاکٹر ڈیوی رقم طراز ہے:
’’تجربے کے تسلسل کا اصول (یوں بھی) عمل آرا ہو سکتا ہے کہ کسی شخص کی ترقی کو ابتدائی سطح پر اِس طرح روک دیا جائے کہ آئندہ ترقی کی اہلیت محدود ہوجائے۔‘‘
اِس بیان کا کوئی معنی و مفہوم نہیں ہو سکتا جب تک ہمیں یہ نہ بتایا جائے کہ ایک فرد کی ترقی کی وہ بلند ترین سطح کیا ہے کہ جس کے حوالے سے ترقی کی دیگر سطحوں کو پست سطحوں کے طورپر بیان کیا جا سکتا ہے۔ وہ آگے بڑھتا ہے:
’’اِس کے برعکس اگر ایک تجربہ تجسس پیدا کرتا ہے‘ پہل کرنے کی صلاحیت کو تقویت بخشتا ہے اور ایسی خواہشات و مقاصد کا باعث بنتا ہے جو اس قدر شدید ہوں کہ کسی شخص کو مستقبل کی موہوم منزلوں تک لے جائے تو (ایسے تجربے کا) تسلسل ایک بہت ہی مختلف انداز میں آگے بڑھتا ہے۔ ہر تجربہ ایک حرکی قوت ہے۔ اِس کی قدر و قیمت کی پرکھ صرف اِس بنیاد پر ہو سکتی ہے کہ یہ کس جانب حرکت کرتا اور کہاں پہنچنا چاہتا ہے۔ تجربے کی نسبتاً زیادہ پختگی جو کہ بحیثیت معلم کسی ذی شعور فرد کے پاس ہونا چاہیے‘ اُسے اُس مقام پر فائز کر دیتی ہے کہ نوجوانوں کے ہر تجربے کو اِس انداز میں پرکھے جس انداز میں تجربے کی کم پختگی کا حامل شخص نہیں پرکھ سکتا۔ اُس کی ذات میں زیادہ پختہ ہونے کا کوئی پہلو نہیں ہے اگر وہ اپنی برتر فہم و فراست کی بدولت ناپختہ لوگوں کے تجربے کے لیے سازگار ماحول کا اہتمام کرنے میں معاونت نہیں کرتا اور اپنی فہم و فراست کو ضائع کر دیتا ہے۔ تجربے کی محرک قوت کو اِس لیے زیر ِ غور رکھنا چاہیے کہ جس بنیاد پر یہ حرکت کررہی ہے اُس کا جائزہ لیا جائے اور اُس کی رہنمائی کی جائے۔ اس اَمر میں ناکامی خود تجربے کے اصول سے روگردانی ہے۔ یہ رُوگردانی دو سمتوں میں ہے۔ معلم اُس فہم و فراست کے برخلاف ہے جو اُسے خود اپنے ماضی کے تجربے سے حاصل کر لینا چاہیے تھی۔ وہ اِس اَمرِ واقعہ سے بھی روگردانی کرنے والا ہے کہ تمام انسانی تجربے ربط و اِبلاغ کے حامل ہونے کے ناطے بنیادی طور پر سماجی (نوعیت کے) ہوتے ہیں۔‘‘
سب سے پہلے تو یہ بات کہ تعلیمی تجربے کی جتنی نشانیاں‘ مثلاً یہ کہ تعلیمی تجربہ تجسس پیدا کرتا ہے‘ پہل کرنے کی اہلیت کو تقویت دیتا ہے نیز شدید خواہشات اور مقاصد تخلیق کرتا ہے‘ ڈاکٹر ڈیوی نے گنوائی ہیں اُتنی ہی کسی بھی تجربے میں ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک ایسے بدعنوان سیاست دان کے کیریئر (career) میں بھی اِن خصوصیات کے حامل بہت سے تجربات ہوتے ہیں جو یہ مقصد بنا لیتا ہے کہ برے ہتھکنڈوں کو بہترین فنکارانہ مہارت کے ساتھ کام میں لاتے ہوئے اپنے آپ کو ریاست کے کسی بہت بلند مرتبے پر براجمان کردے اور (وہ) آخر کار کامیاب (بھی) ہو جاتا ہے۔ اِس طرح ہمارے پاس ابھی بھی تعلیمی تجربات اور گمراہ کن تجربات کے مابین امتیاز کرنے کے لیے کوئی معیار نہیں ہے۔
دوسری بات یہ کہ جو کچھ ڈاکٹر ڈیوی نے یہاں کہا ہے اُس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ایک بالغ نظر معلم کے ذہن میں (اپنے) تجربے کی بدولت تعلیم کا مقصد پہلے ہی سے ہونا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اُس کے نقطۂ نظر کی رو سے معلم لازمی طور پر اِس اَمر کا جائزہ لے گا کہ تجربہ کس رُخ پر جا رہا ہے۔ وہ یقیناً تجربے کے لیے (موافق) ماحول مہیا کرے گا‘ اسے ہر صورت پرکھتا رہے گا‘ اِس کا جائزہ لے گا اور اِس کے رخ کا تعین کرے گا تاکہ اِس قابل ہو سکے کہ متعلّم کے ذہنی و فکری رویوں کو (اپنے سابقہ تجربے کی بنیادپر ) اِس طرح بدل دے کہ جس طرح بدلنا اُس کے خیال میں تعلیمی لحاظ سے قابل قدر ہے۔ تاہم تجرے کو کسی رخ پر نہیں ڈالا جا سکتا اور نہ ہی اُس کے بارے میں کوئی رائے دی جا سکتی ہے جب تک اقدار اور معیارات پہلے سے موجود نہ ہوں۔ دوسرے لفظوں میں (یہ کہا جا سکتا ہے کہ) معلم اپنے شاگردوں پر اپنی اقدار اور معیارات تھوپ دے گا۔ اُن پر اپنے ذہنی و اخلاقی رویوں کی چھاپ لگائے گا اور اُن (شاگردوں) میں سے ہی اپنے (ذہن و خیال کے حامل مثالی) نمونے تخلیق کرے گا ‘گو وہ ایسا اپنے تجربے کے لیے(موافق) حالات کا اہتمام کرتے ہوئے بالواسطہ طور پر کرے گا۔ بدقسمتی سے ڈاکٹر ڈیوی نے یہاں اِس حقیقت کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا کہ تمام معلّمین ایک جیسی اَقدار اور معیارات اور یکساں ذہنی و اخلاقی رویوں کے حامل نہیں ہوتے اور یہ کہ کسی معلم کے اَقدار و معیارات نیز ذہنی و اخلاقی رویے ہمیشہ اطمینان بخش بھی نہیں ہو سکتے۔مثال کے طور پر ایک اشتراکی اور ایک جمہوریت پسند ایک ہی سطح کے اچھے معلم نہیں ہو سکتے۔ ڈاکٹر ڈیوی کا تعلیم بالتجربہ کا نقطۂ نظر ہماری کوئی رہنمائی نہیں کرتا جب تک کہ وہ ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ تعلیمی لحاظ سے کون سے رویے ایسے ہیں جن کا معلم اور متعلّم دونوں کو حامل ہونا چاہیے۔ کس سمت میں تجربے کو آگے بڑھنا چاہیے‘ نیز اِس کا مقصد کیا ہونا چاہیے۔ مختلف نظریات پر یقین رکھنے والے معلّمین کسی تجربے کی قدر و قیمت کے حوالے سے مختلف خیالات کے حامل ہوتے ہیں‘ نیز اُس مقصد کے حوالے سے بھی (اُن کے خیالات مختلف ہوتے ہیں) جن کی طرف تجربے کا ارتقا رہنمائی کرتا ہے۔ ہمیں اُن اقدار و معیارات کے بارے میں پہلے سے معلوم ہونا چاہیے جن کی رہنمائی میں معلم (طلبہ پر) اثر انداز ہوتا ہے۔
یوں ہم دیکھتے ہیں کہ اگرچہ ڈاکٹر ڈیوی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ تعلیم کا رخ متعین کرنے اور رہنمائی کے لیے پہلے سے سوچے سمجھے معیارات اور اَقدار کا ہونا لازمی ہے ‘تاہم وہ معیارات اور اقدار کیا ہونے چاہئیں‘ اِس بارے میں وہ خاموش رہتا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں ’’ایک سماجی طبقے میں تعلیم کا مقصد کیا ہونا چاہیےـ‘‘ تو درحقیقت ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ’’ایک سماجی طبقے کا مقصد‘ نصب العین یا عقیدہ کیا ہونا چاہیے۔‘‘ اِس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہم ایک ایسے طبقے کے بارے میں سوچ رہے ہیں جو پہلے ہی سے ایک مخصوص سماجی نصب العین کی اساس پر قائم شدہ ہے اور اُس اساس کو بدلنا نہیں چاہتا تو پھر یہ سوال ہی نہیں اُٹھتا کہ اِس کی تعلیم کا مقصد کیا ہونا چاہیے! اِس کا مقصد تعلیم تو وہ اصول پہلے ہی طے کر چکے ہیں جن پر اِس کا قیام عمل میں آیا تھا اور وہ مقصد اِس کے نوجوانوں اور ناپختہ ارکان کی تربیت ہے تاکہ اُن کے عقائد‘ خیالات اور ذخیرۂ علم کو‘ جو تربیت کے کام کے لیے ضروری ہیں‘ معاشرتی رنگ میں رنگا جائے۔ وجہ یہ ہے کہ کسی طبقے کا سماجی ماحول اپنا مقصد پانے کے لیے تعلیم کے طاقت وَر ترین آلہ کار کو‘ جس کا وہ عَلم بردار ہے‘ صرف معاشرتی طبقے کی متفقہ سماجی ہیئت کی سمت میں ہی آگے بڑھنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ ڈیوی خود اِس رائے کی تائید کرتا ہے جب وہ تعلیم کا خوراک اور عملِ تولید سے تقابل کرتا ہے۔ جس طرح ایک کم عمر جانور کے لیے لازم ہے کہ جس نوع (species) سے اُس کا تعلق ہے اُسی نوع کی حیاتیاتی ہیئت میں نشوونما پائے اِسی طرح ایک کمسن فرد یعنی بچے کے لیے لازم ہے کہ وہ جس طبقے سے تعلق رکھتا ہے اُس کی نفسیاتی و سماجی ہیئت میں نشوونما پائے۔
اِس سے یہ نتیجہ اَخذ ہوتا ہے کہ معلم کا اصل مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ اپنے سماجی طرزِ حیات اور سماجی نصب العین کی بنا پر کس قسم کا معاشرہ اپنے افراد کو بہترین تعلیم دینے کی اہلیت رکھتا ہے۔ باالفاظ ِدگر (اصل مسئلہ) یہ معلوم کرنا ہے کہ کون سا سماجی نصب العین بہترین اور بلند ترین درجے کا ہے اور اِس بنا پر ایک ایسا سماجی ماحول تخلیق کرنے کی اہلیت رکھتا ہے کہ جس کی ایک بہترین اور اعلیٰ ترین معیار کی تعلیم کے لیے ضرورت ہے۔یہ بات کہ ڈیوی اِس حقیقت کو محسوس کرتا ہے (یا نہیں) درج ذیل اُن حوالوں سے ظاہر ہو جائے گی جو اُس کی کتاب ’’جمہوریت اور تعلیم‘‘ (Democracy and Education) سے لیے گئے ہیں۔
’’ایک سماجی طریق عمل اور فعل کے طور پر تعلیم کا تصور اُس وقت تک کوئی خاص معنی و مفہوم نہیں رکھتا جب تک ہم اپنے پیشِ نظر سماج کے طور طریق کی وضاحت نہ کریں۔ چوں کہ تعلیم ایک سماجی طریق عمل ہے اور سماج طرح طرح کے ہیں اِس لیے تعلیمی انتقاد اور تعمیر کے لیے کسی معیار کے ہونے کے معنی کے اندر ایک مخصوص سماجی نصب العین کے معنی مضمر ہیں۔‘‘
’’یہ کہنا کہ تعلیم ایک ایسا سماجی عمل ہے جو نوجوانوں کی اُس طبقے کی زندگی میں شرکت کے ذریعے جس سے وہ تعلق رکھتے ہیں‘ اُن کی نشوونما کے رخ کو یقینی بناتا ہے‘ یہ کہنے کے مترادف ہے کہ تعلیم کسی مخصوص طبقے میں رائج معیارِ حیات کے مطابق بدل جاتی ہے۔‘‘
’’کوئی طبقہ جو بھی تعلیم دیتا ہے اُس کے اندر اپنے افراد کو اپنے رنگ میں رنگنے کا رجحان ہوتا ہے۔ اِس سماجی عمل کی اہمیت اور معیار کا انحصار اُس طبقے کے نصب العین اور اَطوار پر ہوتا ہے۔ چنانچہ (یہ اَمر) بارِ دگر کسی ایسے پیمانے کا مقتضی ہے کہ جس سے کسی سماجی زندگی کے معلوم طور طریقے کی قدر و قیمت کا اندازہ ہو سکے۔‘‘
بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی ‘ڈاکٹر ڈیوی تعلیمی نقطۂ نظر سے کسی سماجی نصب العین کی قدر و قیمت کا اندازہ کرنے کے لیے فی الواقع ایک پیمانہ فراہم کرتا ہے۔ تاہم اِس سے پہلے کہ ہم اُس کے پیمانے پر کوئی رائے زنی کریں ‘ہمارے لیے کسی سماجی نصب العین کی نوعیت کا جاننا ضروری ہے اور اِس اَمر کا تیقن سماج میں (نصب العین کے) اُن عملی مظاہرات سے کیا جا سکتا ہے جس کا یہ (سماج گاہے بگاہے) اہتمام کرتا رہتا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہم کسی نصب العین کی نوعیت سے واقف ہوں تو تب ہی ہم اِس (نصب العین) کی قدر و قیمت کے مجوزہ پیمانے کی اہمیت پر رائے دے سکتے ہیں۔ (جاری ہے)
tanzeemdigitallibrary.com © 2026