(کتاب نما) تعارف و تبصرہ - ادارہ

11 /

تعارف و تبصرہ

نام کتاب:طاغوت اور فرعون
مصنّف:خلیل الرحمٰن چشتی

صفحات : 246 ‘ قیمت : 1000روپے
ناشر :خلیل الرحمٰن چشتی‘347,Street72,G-11/2 اسلام آباد (فون:03005560900)

فرعون انسانی تاریخ کا وہ کردار ہے جس کے جسم اور نظریات کو اللہ تعالیٰ نے رہتی دنیا تک محفوظ کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کو دنیا میں ’’اقامت ِدین‘‘ کا ہدف دے کر بھیجا۔ انبیاء کے پیروکاروں کوکندن بنانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی مدّمقابل قوتوں کو آلاتِ حرب و ضرب سے لیس کیا۔ حضرت نوح علیہ السلام کے مدّ ِمقابل ساڑھے نو سو سال تک کشمکش رزم گاہ کوآباد کرتےاور اپنے مذہبی نظریات کادفاع کرتے نظرآتے ہیں۔ حضرت صالح اور حضرت ہود علیہما السلام کے معجزات کو دیکھنے کے باوجود بھی ان کی قوم نافرمانی کی روش اختیار کیے رکھتی ہے ۔ تہذیب و تمدن کے ابتدائی درجات میں معاملہ نظریاتی کشمکش تک ہی محدود رہا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام وہ ہستی ہیں جنہوں نے اس نظریاتی کشمکش کو بالفعل نظام کے مدّ ِمقابل لاکھڑا کیا‘ جب انہوں نے بت شکنی کا ارتکاب کیا۔ ان کا سامنا نماردہ خاندان کے باجبروت بادشاہ ’’نمرود‘‘ سے ہوا۔ یہ پہلا مرحلہ ہے جہاں انبیاء کرام علیہم السلام کی جدّوجُہد عوام سے نکل کر اقتدار کے ایوانوں سے ٹکراتی ہے ۔
اصلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جدّوجُہد کے بعد آنے والے انبیاء نے اپنی دعوت میں توحید باری تعالیٰ کے علاوہ تہذیب و تمدن میں در آنے والی دو بڑی خرابیوں معیشت اور معاشرت کو بھی شامل کیا۔گویا دعوتِ انبیاء انفرادی دائروں سے نکل کر اپنے بڑے اجتماعی ہدف یعنی ’’اقامت ِدین‘‘ کی جانب تیزی سے سفر کرنے لگتی ہے۔اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں نظر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء کرام علیہم السلام کی تربیت بھی نئے اسلوب سے کرتا ہے۔ ایک جانب حضرت یوسف علیہ السلام  مصر کے محل میں تربیتی مراحل سے گزرتے نظر آتے ہیں جبکہ آپ اس نظام سے ٹکرائو کی پالیسی نہیں اپناتے ۔ بنی اسرائیل مصر کی جانب سفر کرتے ہیں اور ’’جوشن‘‘ کے علاقے میں رہائش پزیر ہوتے ہیں۔ اس وقت وہاں عربی النسل عمالقہ کی حکومت تھی جنہیںچرواہے بادشاہ (Hyksos Kings) کہا جاتا تھا۔ وہ حضرت عیسو جو حضرت یعقوب علیہ السلام کے جڑواں بھائی تھے‘ کی اولاد میں سے تھے۔ حضرت یوسف علیہ السلام اور عمالقہ کی زبان ایک ہی تھی ۔ان کا دار الحکومت منف تھا۔ ۴۰۰ سال تک ان کی حکومت رہی اور اس کے بعد مصر میں ایک قوم پرست تحریک نے جنم لیا ‘ جس نے بالآخر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ انہوں نے بہت سے عمالقہ کو جلاوطن کردیا اور بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنا لیا۔ فرعون رعمسیس ثانی کے اس دور میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوتی ہے‘ اور آپؑ تیس سال تک اسی کے محل میں تربیت پاتے ہیں۔ اس تربیتی مرحلے کے گزرنے کے بعد دوسرے انبیاء کے برعکس جنہیں ’’قوم‘‘ کی طرف بھیجا گیا تھا ‘ آپ کو براہِ راست اعلائے کلمۃ اللہ کی صدا بلند کرنے کے لیے ’’اِذْھَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی‘‘ کا حکم ہوتا ہے‘جہاں پر مجسم طاغوت کی شکل میں فرعون منفتاح براجمان ہے۔
اقامت ِدین کی جدّوجُہد میںسخت ترین مرحلہ وہ ہوتا ہے جب مروّجہ نظام اس دعوت کے خلاف پورے لائو لشکر کےساتھ سامنے آتا ہے اور اہل ِحق کو اپنے جان و مال کے ساتھ کڑی آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مدّمقابل فرعون نے حق کی دعوت کو دبانے اور مٹانے کے لیے جبر واستبداد کے جو سیاسی نظریات و اقدامات اختیار کیے انہوںنے فرعون کو رہتی دنیا تک ہر آنے والے آمر کے لیے آئیڈیل بنا دیا۔فرعونی نظریات میں استعلاء علی الارض ‘قوم پرستی ‘ نسلی بنیادوں پرطبقاتی تقسیم ‘ اشرافیہ کو جنم دینا جبکہ اہل ِحق کو ’’انتشاری ‘‘ قرار دے کر پوری طاقت سے کچلنا‘اپنے خود ساختہ ’’مثالی تہذیب و تمدن ‘‘کی دہائی دے کر پوری ریاست کو اہل ِحق کے مدّ ِمقابل لا کھڑا کرنا ‘اپنی رائے کو صائب قرار دے کر پورے معاشرے کو اندھیروں میں دھکیل دینا‘ایسے اقدامات شامل ہیں۔ یہ آنے والے انسانوں کو تاریک سے تاریک دور میں لے گئے۔ ہرآنے والا آمر بلاتفریق رنگ و نسل اس تاریکی میں اضافہ کرتا چلا گیا۔’’دمشق کا ابولہول‘‘ حافظ الاسد ہو‘جس نے حماۃ شہر میں ہزاروں الاخوان کو قتل کیا ‘یا رابعہ عدویہ میں بہنے والا خون ‘یہ ذہنیت اور کردار آج بھی پوری آب و تاب سے جگمگا رہا ہے۔
اقامت ِدین کی جدّوجُہد کرنے والے اس شدید ترین مرحلے کے لیےخود کو تیار رکھیں۔ ان کو بھی ان مرحلوں سے گزرنا پڑے گا جب وہ اس نظام کو بالفعل چیلنج کریں گے۔ دنیا میں حق و باطل کی یہ کشمکش جاری رہے گی یہاں تک کہ اللہ اپنے دین کو پوری طرح غالب کر دے۔تاہم ‘اس کے باوجود ع ’’بہار ہو کہ خزاں‘ لا اِلٰہ اِلا اللہ‘‘ کے مصداق اہل حق کا یہ سفر جاری و ساری ہے اور جاری رہے گا۔
زیر ِنظر کتاب کاپہلا حصہ ’’طاغوت ‘‘ کی لغوی و اصطلاحی اور تفسیری وضاحت پر مشتمل ہے جبکہ دوسرے حصے میں ’’فرعون‘‘ کی شخصیت پر بحث کی گئی ہے جو ’’مجسم طاغوت‘‘ ہے۔
کتاب ظاہری اور باطنی خوبیوں سے آراستہ ہے۔ مصنف نے قابلِ دید اور قابلِ دادمواد اس میں جمع کر دیا ہے ۔جو لوگ ’’اقامت ِدین‘‘ کی جدّوجُہد سے وابستہ ہیں ‘ان کے لیے یہ کتاب خا ص طور پرقابلِ مطالعہ ہے۔
(تبصرہ نگار: حافظ محبوب احمد)