(حرفِ اوّل) ’’نہیں آتی کوئی مصیبت مگر اللہ کے اِذن سے!‘‘ - ڈاکٹر ابصار احمد

9 /

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
’’نہیں آتی کوئی مصیبت مگر اﷲ کے اِذن سے!‘‘ڈاکٹر ابصار احمد

مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور کے ساتھ قریبی اور مسلسل تعلق رکھنے والے حضرات کے علم میں یقیناً ہو گا کہ راقم الحروف تقریباً چار ماہ سے علیل ہے۔ بنابریں، ’’حکمت قرآن‘‘ کے گزشتہ شمارے کا اداریہ بھی تحریر نہ ہو سکا۔ موجودہ صورت حال یہ ہے کہ شدید ضمنی اثرات رکھنے والی بعض اودیات کے استعمال سے گلے کے صوتی اعصاب بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ جسمانی طور پر نقاہت اور کم زوری کے ساتھ آواز بھی اتنی دھیمی ہو چکی ہے کہ سامنے بیٹھا شخص بھی بات بمشکل ہی سمجھ پاتا ہے۔
بہرحال‘ یہ سب مشیت ِایزدی کا ایک حصہ ہے۔ بفحوائے آیت قرآنی:
{مَا اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللہِ ط } (التغابن:۱۱)
’’نہیں آتی کوئی مصیبت مگر اﷲ کے اِذن سے!‘‘
دوسری جانب‘ ہمارا اس پر بھی کامل یقین ہے کہ:
{وَاِذَا مَرِضْتُ فَہُوَ یَشْفِیْنِ(۸۰) } (الشعراء)
’’اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔‘‘
چنانچہ رضابالقضاء کا تقاضا یہی ہے کہ کسی تکلیف کی حالت میں بھی اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلٰی کُلِّ حَالٍ (ہر حال میں شکر اور تعریف اللہ ہی کے لیے ہے)کے الفاظ ہی ادا ہوں۔
’’توحید‘‘ ان اعمالِ باطنہ میں سے ایک ہے جن پر کاربند رہنا انسان کے ذمہ ضروری ہے۔ انسان کا ایمان ’’توحید ِاعتقادی‘‘ پر موقوف ہے‘ جس کے بغیر وہ مسلمان ہی نہیں ہو سکتا۔ اس سے اگلا درجہ ’’توحید ِعملی‘‘ ہے‘ جس سے مراد یہ ہے کہ ہر آن یہ حقیقت نگاہوں کے سامنے رہے کہ اس دنیا میں پیش آنے والے تمام واقعات اﷲ ہی کی طرف سے آتے ہیں۔ جب کسی انسان کو یہ کیفیت حاصل ہو جاتی ہے تو وہ لوگوں کی دشمنی اور دوستی سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔ وہ ظاہری اسباب کو محض ایک واسطہ سمجھتا ہے‘ اس سے زائد کچھ نہیں۔ انجامِ کار‘ تمام حرکات کی انتہا ایک ہی فاعل حقیقی پر ہوتی ہے‘ اور وہ ہے اﷲ تبارک و تعالیٰ!
فارسی کا ایک خوب صورت مقولہ ہے: ’’یکے بیں‘ یکے داں‘ یکے خواں‘ یکے جو‘ یکے گو!‘‘ یعنی ایک ہی کو دیکھ‘ ایک ہی کو جان‘ ایک ہی کو پکار‘ ایک ہی کو تلاش کر‘ ایک ہی کی بات کر!
منتشر اور بے ترتیب خیالات پر مشتمل اس بکھری ہوئی تحریر کے آخر میں ایک کرم فرما کا صوتی پیغام پیش ہے:
’’محترم ڈاکٹر ابصار صاحب! ابھی عمار بیٹے نے آپ کی صحت کے بارے میں بتایا کہ دوبارہ کوئی چیسٹ انفیکشن ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو کامل شفا عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ تمام دکھ‘ درد ‘تکلیفیں دور کر دے اور اپنے خاص فضل و کرم سے آپ پر اپنی رحمت کا سایہ فرمائے۔ جیسے مشرق اور مغرب کی دوری ہے‘ ایسے ہی اللہ تعالیٰ اس بیماری اور آپ کے درمیان فاصلہ پیدا کر دے۔ لَابَأْسَ طَهُوْرٌ، اِنْ شَاءَ اللّٰهُ، اَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ اَنْتَ الشَّافِي، لَاشِفَاءَ اِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَايُغَادِرُ سَقَمًا ۔ ان شاء اللہ‘ آپ صحت مند ہو جائیں گے اور اپنی زندگی کے معمولات میں دوبارہ لوٹ آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے دین کی زیادہ سے زیادہ خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔مرکزی انجمن خدام القران اور ’’حکمت قرآن‘‘ کے حوالے سے انجام دی گئی دینی خدمات کو اللہ اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور اس کا بیش از بیش اجر عطا فرمائے۔ اپنی دعاؤں میں مجھے بھی یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ زندگی کے بقیہ ایام میں صحت اور عافیت کے ساتھ اپنی اور اپنے رسولؐ کی اطاعت کی توفیق عطا فرمائے۔ ہر قسم کے حاسدوں کے حسد سے‘ شیطان کے شر سے‘ نفس کے شر سے محفوظ رکھے۔ جزاک اللہ خیراً!‘‘
(نوٹ: محترم ڈاکٹر ابصار احمد نے اس تحریر کے خدوخال اور خاکہ نائب مدیر شعبہ مطبوعات جناب محمد خلیق سے زبانی طور پر بیان کیے تھے‘ جنہیں بعدازاں عبارت کی صورت میں مرتب کیا گیا: ادارہ)