(تذکر و تدبر) مِلاکُ التأویل(۴۴) - ابو جعفر احمد بن ابراہیم الغرناطی

9 /

مِلاکُ التأوِیل (۴۴)تالیف : ابوجعفر احمد بن ابراہیم بن الزبیرالغرناطی
تلخیص و ترجمانی : ڈاکٹر صہیب بن عبدالغفار حسن
سُورۃُ الرُّوم(۲۸۶) آیت ۹
{ اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَـیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ط کَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْہُمْ قُوَّۃً وَّاَثَارُوا الْاَرْضَ وَعَمَرُوْہَآ اَکْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْہَا }
’’کیا وہ زمین میں گھومے پھرے نہیں کہ وہ یہ دیکھ لیتے کہ ان سے پہلے والے لوگوں کا انجام کیا ہوا۔ وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے اور انہوں نے زمین کو زرخیز بنایا اور اس کو اس سے زیادہ آباد کیا جتنا اوروں نے کیاتھا۔‘‘
سورئہ فاطر میں ارشاد فرمایا:
{اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَکَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْہُمْ قُوَّۃً ط وَمَا کَانَ اللہُ لِیُعْجِزَہٗ مِنْ شَیْ ئٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ ط } (آیت۴۴)
’’کیا وہ زمین میں چلتے پھرتے نہیں تھے تو دیکھتے کہ ان سے پہلے لوگوں کا انجام کیا ہوا‘ حالانکہ وہ ان سے زیادہ قوت رکھتے تھے ۔اور اللہ کو آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز بھی عاجز نہیں کر سکتی۔‘‘
سورۂ غافر میں ارشاد فرمایا:
{ اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ کَانُوْا مِنْ قَبْلِہِمْ ط کَانُوْا ہُمْ اَشَدَّ مِنْہُمْ قُوَّۃً وَّاٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَہُمُ اللہُ بِذُنُوْبِہِمْ ط وَمَا کَانَ لَہُمْ مِّنَ اللہ ِ مِنْ وَّاقٍ(۲۱)}
ََ’’کیا وہ زمین میں چلتے پھرتے نہیں تھے تو پھر یہ دیکھ لیتے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے تھے ؟ وہ ان سے زیادہ قوت بھی رکھتے تھے اور زمین میں زیادہ یادگاریں بھی رکھتے تھے‘ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے گناہوں کی پاداش میں پکڑ لیا ۔اور اللہ سے انہیں کوئی بچانے والا بھی نہیں تھا۔‘‘
اور اسی سورۃ کے آخر میں ارشاد فرمایا:
{اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ط کَانُوْٓا اَکْثَرَ مِنْہُمْ وَاَشَدَّ قُوَّۃً وَّاٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَآ اَغْنٰی عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ(۸۲)}
’’کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ ان سے پہلے لوگوں کا کیاانجام ہوا۔ وہ تعداد میں ان سے زیادہ تھے‘ قوت میں ان سے زیادہ طاقتور تھے اور زمین میں اپنی یادگاریں بھی زیادہ رکھتے تھے‘ تو جو کچھ انہوں نے کمایا تھا ان کے کام نہیں آیا۔‘‘
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان تینوں آیات کا مقصد تو ایک ہی ہے لیکن الفاظ میں کمی بیشی یا بیان میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے تو اس کا کیا سبب ہے؟
دونوں سوالات کا مجمل جواب تو یہ ہے کہ ان تمام آیات کا مقصود تو ایک ہی ہے کہ تم ان قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کرو جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں‘ لیکن اختلاف اس بات میں ہے کہ جس جس سورت میں تنبیہ کے یہ الفاظ آئے ہیں : { اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ}’’کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں!‘‘تو کیا اس سورت میں اس سے قبل یا اس کے بعد مذکورہ ہلاک شدہ قوم یا اقوام کے حالات یا ان کے مجادلات کا اختصاراً یا اشارتاً بیان ہوا ہے یا نہیں! ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے رسولوں کا جھٹلانا اور پھر عذاب میں مبتلا کیا جانا ایک جگہ پہلے ذکر کیا گیا ہو اور پھر آیت تنبیہ (وہ آیت کہ جس میں عبرت پکڑنے کا ذکر کیا جا رہا ہے) کا ذکر کیا گیا ہو۔
اب ملاحظہ ہو کہ سورۃ الروم کے آغاز میں پہلی مرتبہ یہ آیت لائی گئی جس میں کہا گیا کہ تم سے قبل بھی بڑے سورما اور طاقت کے نشے میں مبتلا لوگ پائے گئے تھے‘ لیکن وہاں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ کسے نشانہ عذاب بنایاگیا اور کس کو نجات ملی‘ لیکن پھر آیت ۴۷ میں اس ابہام کو کھول دیا گیا ۔ فرمایا:
{ وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ رُسُلًا اِلٰی قَوْمِہِمْ فَجَآءُوْہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْاط وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۴۷) }
’’اور ہم نے تم سے قبل کئی رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے‘ تو پھر ہم نے مجرمین سے انتقام لیا ۔اور ہمارے اوپراہل ایمان کی مدد کرنا ایک حق تھا۔‘‘
اگر دونوں آیات کو ملا کر پڑھا جائے تو مضمون یوں بنے گا:
’’کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ ان سے پہلے لوگوں کا کیا حشر ہوا ‘حالانکہ وہ اپنی قوت‘ اپنی کثرت‘ زمین میں اپنی یادگاروںاور اپنی طویل عمروں کے لحاظ سے تم سے کہیں زیادہ تھے۔پھر جب اللہ کے رسول ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا‘ تو ہم نے جھٹلانے والوں اور جرم کرنے والوں سے خوب انتقام لیا‘ اور جو لوگ ایمان لے آئے تھے ان کی مدد کی اور یہ ان کا حق تھا کہ ہم ان کی مدد کرتے‘ اور جن سے ہم نے انتقام لیا ‘ ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا۔‘‘
اور یہ آخری بات سورۃ الروم اور کئی دوسری آیات میں ذکر کی گئی ہے :
{ فَمَا کَانَ اللہُ لِیَظْلِمَہُمْ وَلٰکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَ(۹)}
’’اور اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہیں بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں۔‘‘
اب اگر یہ کہا جائےکہ کیا ایسا زیادہ مناسب نہ ہوتا کہ یہ دوسری آیت جس میں مجرمین سے انتقام لینے کا ذکر ہے ‘ پہلی آیت کے ساتھ ہی متصل ہوتی تاکہ جہاں پچھلی قوموں کی قوت و کثرت کا ذکر ہے اور ان سے عبرت پذیری کی ہدایت کی گئی ہے وہیں اس بات کا بھی ذکر آ جاتا کہ ان سے ان کی نافرمانی کی بنا پر انتقام بھی لے لیا گیا!!
اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید کا ایک خاص اسلوب ہے کہ جہاں خلق ِخدا کو ایمان کی طرف بلایا جا رہا ہوتودعوت میں نرمی‘ شفقت اور لطافت کا خیال رکھا جائے۔ ملاحظہ ہو کہ اس ضمن میں اللہ کے رسولوں کو خاص طور پر کہا گیا:
{اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ ط} (النحل:۱۲۵)
’’اپنے رب کے راستے کی طر ف بلائو حکمت کے ساتھ‘ اچھے پیرائے میں اور ان سے احسن طریق کے ساتھ حُجّت بازی کرو۔‘‘
موسیٰ علیہ السلام کو خطاب کیا گیا تو فرمایا:{وَذَکِّرْہُمْ بِاَیّٰىمِ اللہِ ط } (ابراھیم:۵) ’’اور انہیں اللہ کے (مشہور) دنوں کی یاد دلاتے رہو!‘‘یعنی وہ دن کہ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی نعمتوں سے نوازا تھا۔ اور فرمایا: {یٰــبَنِیْٓ اِسْرَآئِ‘یْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ} (البقرۃ:۴۰) ’’اے بنی اسرائیل! میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تمہیں دی تھی۔‘‘اور یہ بھی یاد دلایا:{یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰکُمْ مِّنْ عَدُوِّکُمْ} (طٰہٰ:۸۰) ’’اے بنی اسرائیل! ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات عطا کی۔‘‘اور یہ اسلوب قرآن میں کثرت سے نظر آئے گا۔
سورۃ الروم کے آغاز ہی میں اہل مکہ کو پچھلوں کے حالات سے عبرت پکڑنے کی نصیحت کی گئی لیکن اس سے قبل کوئی ایسی آیت نہیں لائی گئی جس میں کوئی لطافت اور شفقت سے بھرپور اندازِ دعوت ہو‘ تو اس لیے مناسب نہ تھا کہ سوائے اشارے‘ کنایے کے مکذبین کے انجام کا ذکر ہو۔ چنانچہ اس میں اشارتاً اتنا کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا‘ لیکن یہ تفصیل کہ ان سے انتقام لیا گیا تھا اسے بعد کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ اور وہاں بھی جب ذکر کیا گیا تو اس پیرائے میںکہ وہاں دعوتِ ایمان کا کوئی ذکر نہ تھا۔چنانچہ بعد کی آیات میں آیت نمبر۴۷ وہ مقام ہے جہاں مکذبین سے انتقام لینے اور اہل ایمان کی مدد کرنے کا صراحتاً ذکر آجاتا ہے۔تو یہ وجہ ہوئی کہ دونوں آیات کو ایک ساتھ نہیں لایا گیا بلکہ اس میں تفریق روا رکھی گئی۔
اب ہم سورئہ فاطر کی آیت کی طرف آتے ہیں۔ اس آیت سے قبل آیات ۲۵۔۲۶ میں نبی آخر الزماں حضرت محمدﷺ کی تالیف ِقلب اور تسلی کے لیے ان الفاظ سے خطاب کیا گیا:
{ وَاِنْ یُّکَذِّبُوْکَ فَقَدْ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ج جَآءَتْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَبِالزُّبُرِ وَبِالْکِتٰبِ الْمُنِیْرِ(۲۵) ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِ(۲۶) }
’’اور اگر یہ لوگ آپؐ کو جھٹلا رہے ہیں تو جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں‘ انہوں نے بھی جھٹلایا تھا۔ ان کے پاس بھی ان کے پیغمبر کھلی نشانیاں‘ صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے تھے۔ پھر مَیں نے کافروں کو آ پکڑا تو دیکھو کیسی ہوئی ان پر میری پھٹکار!‘‘
اور پھر چند آیات کے بعد آیت تنبیہ کا ذکر ہوا جس میں کہا گیا تھا :
’’کیا وہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ دیکھتے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے گزر چکے تھے‘ وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے۔‘‘
’’اور (اے محمدﷺ!) پھر ہم نے انہیں ایسا پکڑا کہ ان میں سے کوئی ایک بھی بچ نہ سکا۔‘‘
’’اور وہ اس لیے کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ کو کوئی بھی عاجز نہیں کر سکتا اور نہ کوئی اس سے بھاگ سکتا ہے۔‘‘
ان دونوں آیتوں کو ملا کر پڑھا جائے تو آغاز اور انجام آپس میں ملتے نظر آتے ہیں۔ پہلی آیت میں صاف طور پر بتایا گیا تھا کہ اللہ نے انہیں اپنی پکڑ میں لے لیا اور دوسری آیت میں اسی بات کو بطور اشارہ بتایا گیا کہ کوئی بھی شخص اللہ کی پکڑ سے باہر نہیں ہو سکتا۔ یوں دونوں آیات کی اپنی اپنی جگہ مناسبت بھی ہے اور دونوں کے مضامین میں یکسانیت بھی ثابت ہو جاتی ہے۔
اب رہی سورئہ غافر کی آیات تو سوال کرنے والا سوال کر سکتا ہے کہ جس اصول اور قاعدے کا آپ ذکر کررہے ہیں‘ اس کا اطلاق تو یہاں نہیں ہوتا۔ یعنی دعوتِ دین دیتے وقت عمومی طور پر نرمی‘ شفقت اور لطافت ِبیانی کا لحاظ رکھا جاتا ہے ‘ ایک دم سے عذاب کی وعید نہیں دی جاتی‘ جبکہ ان آیات میں اوّل تو کوئی تدریج نہیں رکھی گئی بلکہ جہاں ان کی قوت ‘کثرت اور طاقت کے گھمنڈ کا تذکرہ کیا گیا تو وہیں ان کے پکڑے جانے کی وعید بھی سنا دی گئی‘ اور پھر اگلی آیت میں اس کا سبب بھی بتا دیا گیا۔ فرمایا:
{ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَانَتْ تَّاْتِیْہِمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَکَفَرُوْا فَاَخَذَہُمُ اللہُ ط اِنَّہٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(۲۲) }
’’اور وہ اس لیے کہ ان کے پاس انہی کے رسول کھلی نشانیاں لے کر آتے رہے تو ان لوگوں نے انکار کیا تو پھر اللہ نے انہیں پکڑ لیا۔ بے شک وہ طاقت ور ہے اور سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘
یہ درست ہے کہ اس سورت میں نرمی اور لطافت ِبیان کا وہ خیال نہیں رکھا گیا کہ جس کا بیان تفصیل سے ہوچکا ہے ‘اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سورت کی ابتدا ہی ان کی سیہ کاریوں کے بیان سے ہوتی ہے کہ ان لوگوں نے اپنے انبیاء کے ساتھ کیسے بدسلوکی سے برتائو کیا‘ بے جا حُجّت بازی کی‘ تو یہاں موقع نہیں تھا کہ نرمی اور شفقت سے خطاب کیا جائے۔ سورت کے آغاز ہی میں فرمایا:
{کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّالْاَحْزَابُ مِنْم بَعْدِہِمْص وَہَمَّتْ کُلُّ اُمَّۃٍ بِرَسُوْلِہِمْ لِیَاْخُذُوْہُ وَجٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِہِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُہُمْ قف فَکَیْفَ کَانَ عِقَابِ(۵)}
’’ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا اور ان کے بعد کے گروہوں نے بھی‘ اور ہر اُمّت نے اپنے رسول پر ہاتھ ڈالنے کا ارادہ کیا اور باطل کی اساس پر حُجّت بازی کی تاکہ اس طرح حق کو پسپا کر ڈالیں تو مَیں نے انہیں دھر لیا ۔تو دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا!‘‘
دوسری آیاتِ تنبیہ کی طرح یہاں اشارے کنائے سے کام نہیں لیا گیا‘ بلکہ ان کے جرم کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سیدھا سیدھا خطاب ہوا کہ چونکہ تم نے یہ کچھ کیا تھا اس لیے تمہیں سزا دی گئی۔
ابن عامر کی قراءت میں (سورئہ غافر کی زیر ِمطالعہ آیت۲۱ میں)بجائے ’’مِنْہُمْ‘‘ کے ’’مِنْکُمْ‘‘ آیا ہے۔ ’’مِنْہُمْ‘‘ سے مراد یہ تھا کہ وہ لوگ ان موجودہ (قریش‘ اہل ِمکّہ) سے زیادہ بااثر اور طاقتور تھے اور ’’مِنْکُمْ‘‘ میں ضمیر ِخطاب لا کر کلام میں اور زیادہ زور پیدا کیا گیا کہ وہ لوگ تم سے زیادہ بااثر اور طاقتور تھے۔ پھر یہی بات سورت کے آخر میں ان الفاظ کے ساتھ بیان ہوئی:
{اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ط کَانُوْٓا اَکْثَرَ مِنْہُمْ وَاَشَدَّ قُوَّۃً وَّاٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَآ اَغْنٰی عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ(۸۲)}
اس آیت کے بعد ارشاد فرمایا:
{فَلَمَّا جَآئَ تْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَہُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ (۸۳) }
’’پس جب ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ اس علم پر اِترانے لگے جو اُن کے پاس تھا ‘اور پھر جس چیز کا مذاق اُڑا رہے تھے ‘ اسی نے انہیں آ لیا۔‘‘
یہاں ان حُجّت بازیوں کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر سورت کے آغاز میں اور سورۃ الکہف میں کیا گیا تھا:
{ وَیُجَادِلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِہِ الْحَقَّ} (الکہف:۵۶)
’’اور کفارباطل کے سہارے جھگڑتے ہیں تاکہ اس سے حق کو پسپا کر سکیں۔‘‘
وہ اپنے زعم میں اسے علم سمجھتے تھے اور اسی بنا پر انہوںنے اللہ کے رسولﷺ پر طرح طرح کے بہتان لگائے۔ کہا کہ جو کچھ وہ بتا رہے ہیں وہ ’’اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ‘‘ (النحل:۲۴)(پچھلے لوگوں کے افسانے) ہیں۔ اور یہ الزام بھی لگایا:{ مَا ہٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًی}(القصص:۳۶) ’’یہ تو صرف گھڑا گھڑایا جادو ہے۔‘‘ اور پھر یہ بھی دعویٰ کیا:{لَـوْ نَشَآئُ لَقُلْنَا مِثْلَ ہٰذَآ} (الانفال:۳۱) ’’اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا (کلام) لا سکتے ہیں۔‘‘ گویا ان کے زعم میں یہ سب ان کا علم تھا۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے یہ کہا گیا:{اَیْنَ شُرَکَآئِ یْ} (النحل:۲۷‘ القصص:۶۲۔۷۴‘ فصلت:۴۷) ’’کہاں ہیں میرے شریک؟‘‘یعنی تمہارے زعم کے مطابق وہ کہاں ہیں جن کوتم میرا شریک ٹھہراتے تھے؟ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر شریک سے بالا ہے۔یا علم سے مراد ان کا وہ غور و فکر ہے جو انہیں اس نتیجے پر لے گیا کہ آخرت تو ایک انہونی چیز ہے۔ وہ جسم جوموت کے بعد گل سڑ جائیں گے یا دوسرے حیوانات کی خوراک بن جائیں گے ان کو دوبارہ اکٹھے کیسے کیا جاسکتا ہے؟جیسا کہ انہوں نے کہا:
{مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَہِیَ رَمِیْمٌ(۷۸) } (یٰسٓ)
’’کون ہے جو ہڈیوں کو ان کے گل سڑ جانے کے بعد زندہ کر سکے گا؟‘‘
{ وَقَالُوْٓا ئَ اِذَاکُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ئَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا(۹۸) } (الاسراء)
’’اور انہوں نے کہا : کیا جب ہم ہڈیاں بن جائیں گے اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔‘‘
یہ غور و فکر دو بہت ہی کمزور قاعدوں پر مشتمل ہے:ایک تو اللہ کی قدرت کا انکار اور دوسرے اس بات کا انکار کہ اللہ صرف کلیات کو جانتا ہے جزئیات کو نہیں۔ یہ قول ارسطو اور اس کے پیروکار مشائین کا ہے۔ یہ وہ فلاسفہ یونان ہیں جنہوں نے اجسام کے دوبارہ اٹھائے جانے کا مذکورہ دو قاعدوں کی بنا پر انکار کیاہے۔ لیکن یہ تمام فلاسفہ کا قول نہیں ہے‘ افلاطون اور اس کے ہم نوا متشرعین نے اس قول کی مخالفت کی ہے ۔ جالینوس کے بارے میں نقل کیا گیا ہے کہ اس نے اس بارے میں توقف کیا ہے۔
[مَشَّائین ‘ ’’مَشَی‘‘ (چلنا پھرنا) سے نکلا ہے۔ چونکہ ارسطو اپنے مدرسے کی راہداریوں میں چلتے پھرتے درس دیتا تھا‘ اس لیے اس کے تلامذہ کو ’’مشائین‘‘ کہا گیا۔ ارسطو نے جسمانی حشر (اجساد) کا انکار کیا۔ افلاطون اور اس کے ہم نوا مسلم فلاسفہ کومتشرعین کہا گیا کہ وہ روحانی طور پر حشر ِاجساد کے قائل ہیں تاکہ شریعت کا بھرم باقی رہے۔ جالینوس ایک مشہور طبیب گزرا ہے اور وہ بھی حشر ِاجساد کے بارے میں یا تو شک کا شکار ہے یا وہ بھی منکرین میں سے شامل ہے۔ یہ کہنا کہ اس نے اس بارے میں توقف کیا ہے‘ درست نہیں ہے۔ (ص ح)]
مسلمان فلاسفہ نے شریعت کا بھرم قائم کرنے کے لیے حشر ِاجساد کی تاویل کی اور اُسے روحانی حشر سے تعبیر کیا۔ منکرین چونکہ قدرت کے بھی قائل نہ تھے اور یہ بھی نہیں مانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کو جزئیات کا علم ہے‘ اس لیے قرآن مجید میں جہاں بھی قیامت کے دن اٹھائے جانے کا ذکر ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی ان دونوں صفات یعنی قدرت اور علم کا بھی ذکر کیا گیا ہے تاکہ منکرین پر حُجّت قائم ہو سکے۔ سورۃ الروم کی آیات ملاحظہ ہوں:
{وَہُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ وَہُوَ اَہْوَنُ عَلَیْہِ ط وَلَہُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰی فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ(۲۷) } (الروم)
’’اور وہی ہے جس نے پہلے پہل پیدا کیا پھر وہ دوبارہ اسے لوٹائے گا اور یہ بات اس کے لیے بہت آسان ہے۔ اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی بہترین اور اعلیٰ صفت ہے ‘اور وہی غلبے والا اور حکمت والا ہے۔‘‘
دیکھئے یہاں اللہ تعالیٰ کی دوصفات العَزِیْز (بمعنی قادر اور غالب) اور الحَکِیْم (بمعنی حکمت اور علم والا) کا ذکر کیا گیا۔
سورۃ  یٰسٓ میں ارشاد فرمایا:
{ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِیَ خَلْقَہٗ ط قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَہِیَ رَمِیْمٌ(۷۸)}
’’اور اس نے ہمارے لیے مثال بیان کی اور خود اپنی پیدائش کو بھول گیا۔ اس نے کہا : ہڈیوں کو جب کہ وہ گل سڑ جائیں کون زندہ کر سکتا ہے؟‘‘
{ قُلْ یُحْیِیْہَا الَّذِیْٓ اَنْشَاَہَآ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ط وَہُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمٌ (۷۹) }
’’کہہ دیجیے : وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی دفعہ انہیں پیدا کیا تھا ۔اور وہ ہر طرح کی پیدائش سے بخوبی واقف ہے۔‘‘
یہ الفاظ (یُحْیِیْہَا اور اَنْشَاَہَآ) اللہ تعالیٰ کی قدرت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ جس کے بارے میں اگلی آیت بالکل صریح الفاظ کے ساتھ آئی ہے:
{اَوَلَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓی اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَہُمْ ط بَلٰی ق وَہُوَ الْخَلّٰــقُ الْعَلِیْمُ(۸۱) }
’’بھلا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اُن جیسوں کو پھر پیدا کر دے۔ کیوں نہیں! وہی تو پیدا کرنے والا اور علم والا ہے ۔‘‘
اس مضمون کا احاطہ کہ جس میں کفار کے اقوال اور پھر ان کی تردید اپنی اپنی جگہ پر بارہا بیان ہوتی رہی ہے‘ ہمارے ائمہ نے اس پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ جو بھی کتاب اللہ کا غور و تدبر کے ساتھ مطالعہ کرے گا اُسے پورا اطمینان اور یقین حاصل ہو گا ۔ ہم جس بات کو واضح کرنا چاہتے ہیں وہ یہی ہے کہ کفار اپنے اقوال کو اپنے زعم میں علم سمجھتے تھے‘ تو انہی کے زعم کے اعتبار سے اسے علم کہا گیا اور یہ بھی بتادیا گیا کہ ان کا یہ مزعومہ علم ہی انہیں لے ڈوبا۔ اور یہ کہ ان چاروں آیات میں موقع و محل کی مناسبت سے کفار کے مجادلے کا ذکر کیا گیا ہے اور جتنا کچھ جس آیت میں کہا گیا ہے وہ اس آیت سے مناسبت رکھتا ہے‘ واللہ اعلم!
(۲۸۷) آیات ۲۱ تا ۲۴
{ وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْہَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّرَحْمَۃًط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ(۲۱) }
’’اور اُس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان (کی صحبت) سے سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور نرمی رکھی۔ یقیناً اس بات میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔‘‘
{وَمِنْ اٰیٰتِہٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِکُمْ وَاَلْوَانِکُمْ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ(۲۲) }
’’اور اُس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اُس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لیے طرح طرح کی زبانیں اور رنگتیں بنائیں۔ یقیناً اس بات میں علم رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘
{وَمِنْ اٰیٰتِہٖ مَنَامُکُمْ بِالَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَابْتِغَآؤُکُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ(۲۳) }
’’اور اُس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو نیند (کے مزے) لینا بھی ہے‘ اور اُس کے فضل (روزگار) کی تلاش بھی۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو (کان لگا کر) سنتے ہیں۔‘‘
{وَمِنْ اٰیٰتِہٖ یُرِیْکُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَیُحْیٖ بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَاط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ(۲۴) }
’’اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ تمہیں آسمانی بجلی دکھاتا ہے جس میں ڈر بھی ہے اور اُمیدبھی‘ اور آسمان سے پانی اتارتا ہے تو اس کے ذریعے مُردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے۔ یقیناً اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں ۔‘‘
یہاں سوال کرنے والا یہ سوال کر سکتا ہے کہ ان میں سے ہر آیت کے بعد عبرت پکڑنے والوں کا الگ الگ وصف بیان کیا گیا ہے تو اس کی کیا وجہ ہے؟
اس کا جواب یہ ہے (واللہ اعلم) کہ پہلی آیت میں ان چیزوں کی طرف توجہ دلائی گئی:
(۱) اللہ تعالیٰ نےزوجین کے درمیان ایسی کشش رکھی کہ وہ ایک دوسرے کی صحبت میں اطمینان اور سکون پاتے ہیں اور پھر یہی کشش نسل انسانی میں کثرت کا باعث بنتی رہتی ہے۔
(۲) پھر اللہ تعالیٰ نے زوجین کے مابین محبت‘ شفقت اور نرمی کے جذبات رکھے تاکہ وہ باہمی زندگی کو احسن طریقے سے گزارنے کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرتے رہیں۔
(۳) پھر اولاد کی موجودگی میں اولاد کی محبت اور ان کو پالنے میں ایک دوسرے کا سہارا بننے کی قابلیت پیدا کی۔
یہ ساری باتیں ایک طویل تجربے اور انتہائی غور و فکر کی محتاج ہیں‘ اس لیے مناسب تھا کہ آخر میں یہ کہا جاتا :{اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ(۲۱) }
دوسری آیت میں زمین و آسمان کی پیدائش اور زبانوں اور رنگوں کے تنوع کا ذکر کیا گیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان کے ماوراء ایک ایسی عظیم ذات یقیناً ہو گی جس نے اتنی وسیع اور عظیم کائنات کی تخلیق کی۔ اور وہ ذات جو خود زبانوں اور رنگوں کی خالق ہو تو وہ ان کے مشابہ کیسے ہو سکتی ہے۔ یہ اتنی واضح بات ہے کہ ذرا سی بھی عقل رکھنے والا فوراً ہی سمجھ سکتا ہے‘ اور پھر انسان حیرت زدہ رہ جاتا ہے جب اس کی نظر ان عجائبات پر پڑتی ہے جو اجرامِ سماویہ کے اندر پنہاں ہیں۔ اب دیکھئے کہ آسمان و زمین کے کن کن پہلوئوں کی طرف آیاتِ قرآنیہ میں توجہ دلائی گئی۔ ایک جگہ کہا گیا:
{اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّــیْلِ وَالنَّہَارِ لَاٰیٰتٍ} (البقرۃ:۱۶۴‘ آل عمران:۱۹۰)
’’یقیناً آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے اُلٹ پھیر میں نشانیاں ہیں۔‘‘
اور کہیں کہا گیا: {اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ}(الجاثیۃ:۳)
’’بے شک آسمانوں اور زمین میں نشانیاں ہیں۔‘‘
یعنی خود ان کی اپنی ہیئت اور پیدائش میں اور پھر ان کے اندر جو مزید عجائب ہیں‘ ان میں بھی ایسے ایسے کمالات پوشیدہ ہیں جن پرانسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے‘ اور پھر زمین کا خصوصی ذکر کیا گیا:
{وَفِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَ(۲۰)} (الذَّاریات)
’’اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘
زمین کے عجائبات اگر دیکھے جائیں تو وہ ختم ہونے کو نہیں آتے۔پھر زمین اور آسمان دونوں کا ذکر کیا گیا۔ فرمایا:
{ اَفَلَمْ یَنْظُرُوْٓا اِلَی السَّمَآئِ فَوْقَہُمْ کَیْفَ بَنَیْنٰـہَا وَزَیَّنّٰہَا وَمَا لَہَا مِنْ فُرُوْجٍ(۶) وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰـہَا وَاَلْقَیْنَا فِیْہَا رَوَاسِیَ وَاَنْبَتْنَا فِیْہَا مِنْ کُلِّ زَوْجٍ  بَہِیْجٍ (۷)} (قٓ)
’’کیا وہ اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھتے کہ ہم نے اسے کیسے بنایا‘ کیسے اسے زینت عطا کی‘ اور اس میں کہیں کوئی رخنہ نہیں۔ اور زمین کو ہم نے پھیلا دیا‘ اس میں پہاڑ ایستادہ کر دیے اور اس میں ہر طرح کی نباتات کے خوش نما جوڑے بنائے۔‘‘
سورۃ البقرۃ کے آغاز میں لوگوں کو اپنے ربّ کی عبادت کی طرف بلایا گیا ہے کہ جس نے انہیں پیدا کیا اور ان سے پہلے جو لوگ تھے‘ انہیں بھی پیدا کیا ۔ اور پھر زمین و آسمان کی انہی نشانیوں کا ان الفاظ میں تذکرہ کیا:
{الَّذِیْ جَعَلَ لَــکُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَآئَ بِنَآئً ص} (البقرۃ:۲۲)
’’ جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا اور آسمان کو ایک عمارت!‘‘
پھر ان نشانیوں کو بارہا آیاتِ قرآنی میں جگہ دی۔ چونکہ انسان کائنات کا مشاہدہ کرتا رہتا ہے اس لیے ان سے عبرت پذیری آسانی سے حاصل ہو جاتی ہے ۔اسی لیے کہا گیا:{ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ(۲۲) }’’بے شک اس میں علم رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘
[اضافہ از مترجم: جمہور کی ایک قراءت کے مطابق ’’ لِلْعٰلَمِیْنَ‘‘ (جمع عالَم : لام کے فتحہ کے ساتھ) پڑھا گیا ہے کہ اس میں نشانیاں ہیں تمام جہانوں کے لیے‘ یعنی جہان کے تمام لوگوں کے لیے۔ وہ اس طرح کہ پہلے زمین و آسمان کی خلقت کی طرف اشارہ کیا گیا اور پھر اس چیز کا ذکر کیا گیا جس کاتعلق خود زمین اور آسمان سے ہے‘ اور وہ ہے لوگوں کی زبانوں اور رنگوں کا اختلاف ۔ تمام بنی آدم کی نسل ایک ہی ہے لیکن طوفانِ نوح کے بعد جب لوگ مختلف علاقوں میں پھیل گئے تو ایک ہی زبان کے لہجے مختلف ہوتے گئے اور پھر ہر لہجے نے ایک نئی زبان کی شکل اختیار کر لی۔ ایسے ہی ہر علاقے کے الگ الگ موسم کی وجہ سے انسان کی جلد پر بھی اثر پڑا اور رنگوں کا اختلاف واقع ہوا‘ اور پھر مختلف رنگوں کے جوڑوں سے نسل ِانسانی کے رنگ مزید تقسیم ہوتے گئے:اقتباس از ابن عاشور]
اب آیئے اگلی آیت کی طرف جس میں رات اور دن کی نشانی کو پیش کیا گیا ہے اور آخر میں کہا گیا کہ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہیں (لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ(۲۳))۔ قرآن میں کئی جگہ دن اور رات کو خلق ِ خدا کے لیے ایک چشمہ ٔ رحمت کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ فرمایا:
{وَجَعَلْنَا الَّیْلَ وَالنَّہَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَآ اٰیَۃَ الَّیْلِ وَجَعَلْنَآ اٰیَۃَ النَّہَارِ مُبْصِرَۃً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّکُمْ وَلِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَالْحِسَابَ ط } (الاسراء:۱۲)
’’اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا تورات کی نشانی کو بے نور بنا دیا اور دن کی نشانی کو روشن تاکہ تم اپنے رب کی طرف سے فضل تلاش کر سکو اور تاکہ تم سالوں کا شمار کر سکو اور حساب بھی رکھ سکو۔‘‘
اور فرمایا:
{ اَللہُ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَالنَّہَارَ مُبْصِرًاط} (غافر:۶۱)
’’وہی اللہ ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کر سکو اور دن کو تمہارے لیے روشن بنا دیا۔‘‘
مزید فرمایا:
{ وَجَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًا(۱۰) وَّجَعَلْنَا النَّہَارَ مَعَاشًا(۱۱)} (النبا)
’’اور ہم نے رات کو پردہ بنا دیا ‘اور دن کو روزگار۔‘‘
ان تمام آیات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خود رات اور دن میں اور جو کچھ ان دونوں اوقات میں ہوتا ہے ‘ عبرت پذیری کے بہت سے سامان ہیں ‘اور اس کا ذریعہ سماعت یعنی ان احوال اور کیفیات کا سننا ہے جو دن رات سے متعلق ہیں‘ تو اس لیے آخر میں {اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ(۲۳) }لانا بالکل مناسب تھا۔
[اضافہ از مترجم :رات کو سونا اور دن کو کام کرنا لوگوں کے لیے ایک روز مرہ کی بات ہے اور اس میں جو حکمت کی باتیںپنہاں ہیں‘ لوگ اس کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ انہیں بتایا نہ جائے۔ خاص طو رپر رات کی نیند کہ جس کی وجہ سے دماغ کو سکون حاصل ہوتا ہے اور انسان جب اٹھتا ہے تو ایک دفعہ پھر اپنے آپ کو چست محسوس کرتا ہے اور دوبارہ کام کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔
نیند کے دوران سوتے ہوئے شخص کے ارد گرد بہت کچھ ہو جاتا ہے جس کا اسے خود کچھ علم نہیں ہوتا‘ بلکہ دوسرے لوگوں سے سن سنا کر اسے ساری باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ اس لحاظ سے نیند کا لحاظ رکھتے ہوئے یہاں  خاص طور پر کہا گیا کہ دن رات میں سننے والوں کے لیے نشانیاں ہیں : اقتباس از ابن عاشور]
اس سلسلے کی اگلی آیت میں آسمانی بجلی اور آسمان سے برسنے والی بارش کا ذکر ہے کہ جس کی بنا پر مردہ زمین لہلا اٹھتی ہے۔آسمانی بجلی کچھ لوگوں کے لیے باعث خوف اور دوسروں کے لیے باعث امید رہتی ہے اور ایسے ہی مردہ زمین کا بارش کے پانی سے زندہ ہو جانا‘ یہ دونوں نشانیاں انہی لوگوں کے لیے عبرت پذیری کا سامان بنتی ہیں جو عقل سے کام لے کر کائنات کی گتھیوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ اس لیے آخر میں {اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ(۲۴) } کہنامناسب تھا۔
[اضافہ از مترجم :پچھلی آیت میں رات کی نیند اور دن کے کام کا حوالہ دیا گیا تھا جن کا تعلق انسان کی اپنی ذات سے ہے۔ اس آیت میں ان دو چیزوں کا بیان ہے جن کا تعلق خارجی مشاہدے سے ہے۔آسمانی بجلی جب آسمان پر چمکتی ہے تو لوگ خوف سے تھرتھرا جاتے ہیں‘ کہ نہ جانے کس کے خرمن خاص کو بھسم کر کے رکھ دے‘ لیکن ایک کسان اسے بارش کی نوید سمجھتا ہے کہ وہ اپنی ساری امیدیں بارش سے لگائے بیٹھا ہے۔ وہ اس بات کو خوب جانتا ہے کہ آسمان سے پانی برسے گا تو مردہ زمین میں ہلچل پیدا ہو گی‘ اور پھر اس کا سوکھا ہوا خرمن فصل بہار کا منظر پیش کرے گا۔ یہ بات وہی سمجھ سکتا ہے جو عقل سلیم رکھتا ہو اور کسی دماغی خلل کا شکار نہ ہو : اقتباس از ابن عاشور]
(۲۸۸) آیت ۳۷
{اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ(۳۷) }
’’کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے رزق میں کشائش پیدا کر دیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے )تنگی پیدا کر دیتا ہے۔ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔‘‘
اور سورۃ الزمر میں ارشاد فرمایا:
{ اَوَلَمْ یَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُط} (الزمر:۵۲)
’’کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے رزق میں کشائش اور (جس کے لیے چاہتا ہے رزق میں) تنگی پیدا کر دیتا ہے۔‘‘
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سورۃ الروم کی آیت میں ’’اَوَلَمْ یَرَوْا‘‘ کے الفاظ ہیں اور سورۃ الزمر میں ’’ اَوَلَمْ یَعْلَمُوْٓا‘‘ کے‘ تو اس فرق کی وجہ کیا ہے؟
اس کا جواب یہ ہے (واللہ اعلم) کہ سورۃ الروم کی مذکورہ آیت سے قبل ارشاد ہوا :
{ اَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ قف مَا خَلَقَ اللہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّی ط } (آیت۸)
’’کیا وہ غور و فکر نہیں کرتے اپنی جانوں میں! اللہ تعالیٰ نے نہیں پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے مگر صرف اور صرف حق کی بنا پر اور ایک وقت معین تک کے لیے۔‘‘
اور :
{ اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَـیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ط} (آیت۹)
’’کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ وہ ان لوگوں کا انجام دیکھتے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔‘‘
جب ایک شخص دوسرے سے یہ کہتا ہے: مَاذَا تَرٰی فِی ھٰذَا الْاَمْرِ ’’تم اس معاملے میں کیا دیکھتے ہو؟ (کیا رائے رکھتے ہو)‘‘ تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ غور و فکر کے بعد مجھے بتائو کہ اس مسئلے میں تمہاراا پنا کیا خیال ہے؟ اور ایسے ہی اگر کوئی شخص دوسرے سے یہ کہتا ہے : اِفْعَلْ فِیْ ھٰذِہِ الْقَضیّۃِ مَا اَرَاکَ اللّٰہ ’’اس معاملے میں وہی کچھ کرو جو تمہیں اللہ دکھا دے‘‘تو اس کا مطلب بھی یہی ہوتا ہے کہ پہلے خوب غور و فکر کر لو اور جب کسی بات پر اطمینان ہو جائے تو اس پر عمل کر لو۔
گویا جہاں رئویہ (مشاہدہ اور غور و فکر کے بعد رائے قائم کرنا) کا ذکر آیا ہے‘ وہاں خطا کا امکان رہتا ہے۔ زمین میں چلنا پھرنا اور پھر عبرت حاصل کرنا‘ ان دونوں کا تعلق مشاہدات سے ہے اور ساتھ ساتھ غور و فکر سے بھی۔ ہم چونکہ نبی اکرمﷺ کی طرح معصوم نہیں ہیں‘ اس لیے ہم حاصل شدہ علم کو ظن ِغالب تو کہہ سکتے ہیں لیکن اسے قطعی علم نہیں قرار دے سکتے‘ برخلاف نبیﷺ کےکہ انہیں کہا گیا: {فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ} (المائدۃ:۴۸) ’’اور ان کے درمیان فیصلہ کرو اس کے ساتھ جو اللہ نے نازل کیا ہے۔‘‘
نبیﷺ پر وحی اترتی تھی‘ پھر وہ غلطی سے بھی معصوم رکھے گئے ۔ خاص طور پر ان امور میں جن کا تعلق تبلیغ ِ دین اور شریعت کے احکام سے ہے۔ آپﷺ کا غور و فکرکے بعد کسی نتیجے پر پہنچنا قطعی علم کے دائرے میںآتا ہے لیکن دوسرے کسی بھی شخص کا یہ مقام نہیں ہے۔ اس لیے ان کے لیے لفظ ’’اَوَلَمْ یَرَوْا‘‘ (کیا وہ نہیں دیکھتے)لانا مناسب تھا‘ کیونکہ یہ دونوںمعانی (مشاہدہ اور غور و فکر) پر حاوی ہے اور موقع و محل کی مناسبت سے اس کا کوئی بھی معنی لیا جا سکتا ہے۔ اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ سورۃ الروم میں مذکورہ آیت سے قبل ان دونوں معانی کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ ایک جگہ ’’ اَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوْا‘‘ اور دوسری جگہ ’’ اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ‘‘  کہا گیا‘ جیسا کہ ہم پہلے بھی عرض کر چکے ہیں۔
جہاں تک سورۃ الزمر کا تعلق ہے تو وہاں ایسے کوئی الفاظ پہلے نہیں لائے گئے ‘اس لیے ’’اَوَلَمْ یَعْلَمُوْٓا‘‘ سے بات کا آغاز کیا کہ یہاں تردّد کا کوئی موقع نہیں تھااور نہ ہی اشتراکِ معنی کا‘ بلکہ جو بات پہلے کہی گئی وہ عبادت میں اخلاص سے متعلق تھی۔فرمایا:{فَاعْبُدِ اللہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ (۲)}’’تو پھر اللہ کی عبادت کرو‘ اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے۔‘‘اور پھر ارشاد ہوا :{ قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ (۱۱)} ’’کہہ دیجیے: مجھے حکم ہوا ہے کہ مَیں اللہ کی عبادت کروں‘ اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے ۔‘‘اخلاص خود علم کے ثمرات میں سے ہے‘ اس لیے یہاں ’’اَوَلَمْ یَعْلَمُوْٓا‘‘ کہنا مناسب تھا۔ اس لیے کہ علم ہو گا تو اخلاص پیدا ہو گا۔
زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ سبب یعنی علم کا بیان بعد میں ہوا اور اس سے قبل مسبّب (یعنی اخلاص) کابیان اس کی اہمیت کی بنا پر پہلے ہو گیا۔ اس لحاظ سے دونوں آیات اپنی اپنی جگہ پر پوری مناسبت رکھتی ہیں۔واللہ اعلم!
(۲۸۹) آیت ۴۳
{ فَاَقِمْ وَجْہَکَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَہٗ مِنَ اللہِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ(۴۳)}
’’پس اپنا رخ اس سیدھے اور سچے دین کی طرف رکھیں قبل اس کے کہ وہ دن آ جائے جو اللہ کی جانب سے ٹل نہیں سکتا‘ اس دن وہ سب علیحدہ علیحدہ ہو جائیں گے۔‘‘
اور سورۃ الشوریٰ میں ارشاد فرمایا:
{اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَہٗ مِنَ اللہِ ط مَالَـکُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّمَا لَـکُمْ مِّنْ نَّکِیْرٍ(۴۷)}
’’اپنے رب کا حکم مان لو قبل اس کے کہ وہ دن آ جائے جو اللہ کی طرف سے ٹلنے والا نہیں ہے۔ اس دن تمہارے لیے کوئی پناہ گاہ نہ ہوگی اور نہ ہی انکار کی گنجائش۔‘‘
یہاں سوال کرنے والا یہ سوال کر سکتا ہے کہ دونوں آیتوں کا آخر میں اختلاف کیوں ہے‘ ایک میں کہا گیا: {یَوْمَئِذٍ یَصَّدَّعُوْنَ(۴۳)} اور دوسری میں کہا گیا :{مَالَـکُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّمَا لَـکُمْ مِّنْ نَّکِیْرٍ(۴۷)}
اس کا جواب یہ ہے اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ سورۃ الروم (یَصَّدَّعُوْنَ) کی مناسبت سے بعد کی آیات میں بتایا گیا کہ وہ سب جدا جدا ہو جائیں گے تو پھر ان کے ساتھ کیا ہو گا۔ فرمایا:
{ مَنْ کَفَرَ فَعَلَیْہِ کُفْرُہٗ ج وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِہِمْ یَمْہَدُوْنَ(۴۴) }
’’جس نے کفر کیا تو اس پر اس کے کفر کا وبال ہو گا‘ اور جس نے نیک کام کیے تو وہ اپنے (آرام) ہی کے لیے تیاری کر رہے ہوں گے۔‘‘
یَصَّدَّعُوْنَ بمعنی ’’یَتَفَرَّقُوْنَ‘‘ ہے جو اسی سورت کی آیت۱۴ میں بیان ہوا۔ فرمایا:
{وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ(۱۴)}
’’اور جس دن قیامت کی گھڑی قائم ہو گی اس دن وہ سب علیحدہ علیحدہ ہو جائیں گے ۔‘ ‘
تو اس بات کا بیان ہو گیاکہ اس دن لوگ دو گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے۔ کافروں کے اوپر ان کے کفر کا وبال ہو گا{فَعَلَیْہِ کُفْرُہٗ ج} اور اہل ِایمان کا تو کیا کہنا کہ وہ اپنے نیک اعمال کی بنا پر جنت میں جانے کی تیاری کر رہے ہوں گے‘ یعنی جیسا عمل ویسی جزا۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
{ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۱۶) } (الطور)
’’بے شک تمہیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے۔‘‘
توواضح ہو گیا کہ سورۃ الروم کی آیت میں یہ لفظ (یَصَّدَّعُوْنَ) کیوں لایا گیا۔
اب آیئے سورۃ الشوریٰ کی آیت کی طرف‘تو اس سے قبل ارشاد فرمایا تھا:
{ وَمَنْ یُّضْلِلِ اللہُ فَمَالَــہٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْ  بَعْدِہٖ ط } (الشوریٰ:۴۴)
’’اور جسے اللہ بہکا دے تو سوائے اللہ کے اس کے لیے کوئی اور چارہ ساز نہیں۔‘‘
یہاں ’’وَلیّ‘‘ کا لفظ لایا گیا جس سے مراد وہ ذات ہے کہ جس کی طرف انسان مدد اور چارہ گری کے لیے لوٹتا ہے‘ وہ ذات جس پر پورا اعتماد ہوتا ہے۔ اگلی آیت میں اسے اور کھول کر بیان کیا گیا ہے :
{وَمَا کَانَ لَہُمْ مِّنْ اَوْلِیَآئَ یَنْصُرُوْنَہُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ ط وَمَنْ یُّضْلِلِ اللہُ فَمَا لَہٗ مِنْ سَبِیْلٍ(۴۶)}
’’اور ان کے لیے کوئی مددگار نہ ہو گا جو اللہ کے سوا ان کی مدد کر سکے۔ اور جسے اللہ بہکا دے تو اس کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہ ہوگا۔‘‘
اب جبکہ ان کے علم میں آ گیا کہ اللہ کے سوا دوسرا کوئی مددگار نہ ہو گا اور نہ ہی اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ ہو گی تو مناسب تھا کہ انہیں کہا جاتا کہ اللہ ہی کی طرف پلٹو اس دن سے قبل جسے سوائے اللہ کے اور کوئی ٹال نہیں سکتا: {اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَہٗ مِنَ اللہِ طیعنی وہ دن ہر صورت آنے والا ہے اور اس دن سوائے اللہ کے اور کسی کے پاس پناہ نہ مل سکے گی: {مَالَـکُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ}  یعنی کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا جو تمہاری طرف سے دفاع کر سکےاور تمہاری مدد کر سکے اور نہ ہی تم اپنی بداعمالیوں کا انکار کر سکو گے۔ اگر انکار کرو گے بھی تو تمہارے کچھ کام نہ آئے گا۔
اللہ تعالیٰ نے ظالموں کے حال کا نقشہ کھینچا ہے کہ اُس دن وہ بھاگتے پھرتے ہوں گے لیکن کوئی ان کا مددگار نہ ہو گا‘ جن سے پہلے انہوں نے امید لگا رکھی تھی وہ بھی مدد نہ کر پائیں گے تو کیا ان کے لیے یہ بہتر نہیں کہ وہ اللہ سے لو لگا کر رکھیں‘ اُس کی راہ کو اپنائیں تاکہ اپنی نجات کا سامان بہم پہنچا سکیں۔ اس بیان کے ساتھ واضح ہو گیا کہ ہر دو آیات کے آخر میں جو الفاظ وارد ہوئے ہیں وہ اپنی اپنی جگہ بالکل مناسب ہیں۔
(۲۹۰) آیت۴۶
{وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِیُذِیْقَکُمْ مِّنْ رَّحْمَتِہٖ وَلِتَجْرِیَ الْفُلْکُ بِاَمْرِہٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ } (آیت۴۶)
’’اور اُس کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ ہوائوں کو خوش خبری کے ساتھ بھیجتا ہے اور تاکہ تمہیں اپنی رحمت کا مزا بھی چکھادے اور تاکہ کشتی بھی اس کے حکم سے چلتی رہے اور تاکہ تم اس کا فضل بھی تلاش کرتے رہو۔‘‘
اور سورۃ الجاثیۃ میں ارشاد فرمایا:
{اَللہُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَکُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْکُ فِیْہِ بِاَمْرِہٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ }(آیت۱۲)
’’وہی اللہ ہے جس نے سمندر کو تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے تاکہ اس میں کشتی اس کے حکم سے چلتی رہے اور تاکہ تم اس کا فضل بھی تلاش کرتے رہو۔‘‘
سوال یہ ہے کہ سورۃ الجاثیہ کی آیت میں ’’فِیْہِ‘‘ (یعنی سمندر میں) کا اضافہ ہے لیکن سورۃ الروم کی آیت میں یہ ضمیر نہیں لائی گئی؟
جواباً عرض ہے کہ چونکہ سورۃ الروم میں سرے سے سمندر (الْبَحْر) کا ذکر ہی نہیں ہوا تو ضمیر کس طرف لوٹائی جاتی؟ اور اگر کشتی کے چلنے کی جگہ کا ذکر مقصود ہوتا تو لازمی طور پر ظاہری لفظ کو لایا جاتا یعنی (فِی الْبَحْرِ کا اضافہ) کیا جاتا ۔چونکہ یہ بات سیاق و سباق سے سمجھ آ رہی ہے ‘اس لیے اس کا ذکر کرنا چنداں ضروری نہ تھا۔ سورۃ الجاثیہ میں چونکہ ’’ الْبَحْر ‘‘ کا ذکر آ چکا تھا‘ اس لیے وہاں ’’فِیْہِ‘‘ کہہ کر ضمیر کا لانا بالکل مناسب تھا۔ اسی فرق کی بنا پر ایک جگہ ضمیر لائی گئی اور دوسری جگہ اس کی ضرورت ہی نہ تھی۔