(فہم القرآن) سُورۃُ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْل - افاداتِ حافظ احمد یارؒ

9 /

ترجمہ ٔ قرآن مجید
مع صرفی و نحوی تشریح


افادات : حافظ احمد یار مرحوم
ترتیب و تدوین:لطف الرحمٰن خان مرحوم
سُورۃُ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْل
آیات ۳۱ تا ۳۵وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَکُمْ خَشْیَۃَ اِمْلَاقٍ ط نَحْنُ نَرْزُقُہُمْ وَاِیَّاکُمْ ط اِنَّ قَتْلَہُمْ کَانَ خِطْاً کَبِیْرًا(۳۱) وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃًط وَسَآئَ سَبِیْلًا(۳۲) وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللہُ اِلَّا بِالْحَقِّ ط وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَ لِیِّہٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِط اِنَّہٗ کَانَ مَنْصُوْرًا(۳۳) وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ حَتّٰی یَبْلُغَ اَشُدَّہٗ ص وَاَوْفُوْا بِالْعَہْدِ ج اِنَّ الْعَہْدَ کَانَ مَسْئُوْلًا(۳۴) وَاَوْفُوا الْکَیْلَ اِذَا کِلْتُمْ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ ط ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِیْلًا(۳۵)
ز ن ی
زَنٰی یَزْنِی (ض) زِنًی : زنا کرنا۔ {وَلَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا یَزْنُوْنَ ط } (الفرقان:۶۸) ’’اور وہ لوگ قتل نہیں کرتے اس جان کو جسے محترم کیا اللہ نے مگر حق کے ساتھ اور وہ لوگ زنا نہیں کرتے۔‘‘
زِنًی (اسم ذات بھی ہے) : زنا۔ زیر مطالعہ آیت۳۲۔
زَانٍ(اسم فاعل) : زنا کرنے والا۔ {اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃًز وَّالزَّانِیَۃُ لَا یَنْکِحُہَآ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ ج} (النور:۳)’’زانی مرد نکاح نہیں کرتا مگر زنا کرنے والی عورت سے یا شرک کرنے والی عورت سے‘ اور زنا کار عورت سے نکاح نہیں کرتا مگر زنا کرنے والا یا مشرک مرد ۔‘‘
ترجمہ
وَلَا تَقْتُلُوْٓا :اور تم لوگ قتل مت کرو

اَوْلَادَکُمْ :اپنی اولاد کو
خَشْیَۃَ اِمْلَاقٍ :مفلس ہونے کے خوف سے

نَحْنُ نَرْزُقُہُمْ: ہم ہی رزق دیتے ہیں ان کو
وَاِیَّاکُمْ : اور تم کو بھی

اِنَّ قَتْلَہُمْ: یقیناً ان کو قتل کرنا
کَانَ خِطْاً کَبِیْرًا : ہے ایک بڑی غلطی

وَلَا تَقْرَبُوا :اور تم لوگ قریب مت ہو
الزِّنٰٓی : زنا کے

اِنَّہٗ کَانَ :یقیناً وہ ہے
فَاحِشَۃً : ایک بے حیائی

وَسَآئَ سَبِیْلًا:اور برا ہے بلحاظ راستہ کے
وَلَا تَقْتُلُوا :اور تم لوگ قتل مت کرو

النَّفْسَ الَّتِیْ: اُس جان کو جس کو
حَرَّمَ اللہُ :(قتل کرنا) حرام کیا اللہ نے

اِلَّا بِالْحَقِّ:مگر حق کے ساتھ
وَمَنْ قُتِلَ :اور جو قتل کیا گیا

مَظْلُوْمًا :مظلوم ہوتے ہوئے
فَقَدْ جَعَلْنَا :تو ہم نے بنا دیا ہے

لِوَ لِیِّہٖ:اُس کے ولی کے لیے
سُلْطٰنًا :ایک اختیار

فَلَا یُسْرِفْ :تو اسے چاہیے کہ حد سے تجاوز نہ کرے
فِّی الْقَتْلِ :قتل کرنے میں

اِنَّہٗ کَانَ : بے شک وہ ہے
مَنْصُوْرًا :مدد کیا ہوا

وَلَا تَقْرَبُوْا :اور تم لوگ قریب مت ہو
مَالَ الْیَتِیْمِ : یتیم کے مال کے

اِلَّا بِالَّتِیْ :سوائے اس کے ساتھ جو کہ
ہِیَ اَحْسَنُ :و ہی سب سے بہتر ہو

حَتّٰی یَبْلُغَ :یہاں تک کہ وہ پہنچے

اَشُدَّہٗ : اپنی پختگی کو

وَاَوْفُوْا : اور تم لوگ پورا کرو
بِالْعَہْدِ :وعدے کو

اِنَّ الْعَہْدَ : یقیناً وعدہ
کَانَ مَسْئُوْلًا :ہے پوچھا جانے والا

وَاَوْفُوا : اور تم لوگ پورا کرو
الْکَیْلَ : ناپ کو

اِذَا کِلْتُمْ : جب بھی تم ناپو
وَزِنُوْا : اور تم لوگ وزن کرو

بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ:سیدھے ترازو سے
ذٰلِکَ خَیْرٌ : یہ سب سے بہتر ہے

وَّاَحْسَنُ:اور سب سے اچھا ہے
تَاْوِیْلًا: بلحاظ انجام کے

نوٹ۱: ترازو کے لیے عربی لفظ مِیْزَان ہے۔ قِسْــطَاس کا معنی بھی ترازو ہے لیکن یہ عربی لفظ نہیں ہے۔ یہ یونانی لفظ ہے اور عرب تاجروں کے ذریعہ عرب میں بھی رائج ہو گیا۔ (حافظ احمد یار صاحب)
نوٹ۲: قتل ِنفس سے مراد صرف دوسرے انسان کا قتل ہی نہیں ہے‘ بلکہ خود اپنے آپ کو قتل کرنا بھی ہے۔ اس لیے کہ نفس‘ جس کو اللہ نے ذی حرمت قرار دیا ہے‘ اس کی تعریف میں دوسرے نفوس کی طرح انسان کا اپنا نفس بھی داخل ہے۔ لہٰذا جتنا بڑا جرم اور گناہ قتل ِانسان ہے‘ اتنا ہی بڑا جرم اور گناہ خود کشی بھی ہے۔ (تفہیم القرآن)
نوٹ۳: اسلامی قانون میں قتل بالحق کی پانچ صورتیں ہیں: (۱) قتل ِعمد کے مجرم سے قصاص‘ (۲) دین ِحق کے راستے میں مزاحمت کرنے والوں سے جنگ‘ (۳) اسلامی نظامِ حکومت کو الٹنے کی سعی کرنے والوں کو سزا‘ (۴)شادی شدہ مرد یا عورت کو ارتکابِ زنا کی سزا‘اور (۵) ارتداد کی سزا۔ (تفہیم القرآن)
نوٹ۴: ولی کے اختیار کا مطلب یہ ہے کہ وہ قصاص کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ اس سے اسلامی قانون کا یہ اصول نکلتا ہے کہ قتل کے مقدّمے میں اصل مدّعی حکومت نہیں بلکہ اولیائے مقتول ہیں۔ ان کو اختیار ہے کہ وہ قصاص میں قاتل کو قتل کروائیں یا خون بہا لینے پر راضی ہوں یا قاتل کو بالکل معاف کر دیں‘ البتہ قاتل کو سزا دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ مقتول کے اولیاء اور اس کے قبیلہ کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ خود قاتل کو قتل کریں۔ اگر ان کو حکومت کی طرف سے قصاص لینے میں مدد نہیں ملتی تب بھی انہیں قاتل سے بدلہ لینے کی اجازت نہیں۔ اگر کوئی بدلہ لیتا ہے اور خود قاتل کو قتل کر دیتاہے تو اب وہ خود قتل ِعمد کا مجرم اور گناہگار ہے۔ ایسی صورت میں انہیں اللہ اور اس کے رسولﷺ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا ہے اور فیصلہ اللہ پر چھوڑ دینا ہے۔ اس حکم پر عمل کرنے والے کو بےغیرت کہنا یا سمجھنا خود بھی ایک گناہ ہے۔
نوٹ۵: اسراف فی القتل کی متعدد صورتیں ہیں۔ مثلاً اگر قاتل پر قابو نہ پا سکے تو اس کے خاندان یا قبیلے کے کسی فرد کو قتل کرنا‘ یا قاتل کے ساتھ اور لوگوں کو قتل کرنا ‘یا خون بہا لینے کے بعد پھر قتل کرنا‘ وغیرہ ۔یہ سب ممنوع ہیں اور گناہ ہیں۔
آیات ۳۶ تا ۴۰وَلَا تَقْفُ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ ط اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْئُوْلًا(۳۶) وَلَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاج  اِنَّکَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) کُلُّ ذٰلِکَ کَانَ سَیِّئُہٗ عِنْدَ رَبِّکَ مَکْرُوْہًا(۳۸) ذٰلِکَ مِمَّآ اَوْحٰٓی اِلَیْکَ رَبُّکَ مِنَ الْحِکْمَۃِط  وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللہِ اِلٰہًا اٰخَرَ فَتُلْقٰی فِیْ جَہَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا(۳۹)اَفَاَصْفٰىکُمْ رَبُّکُمْ بِالْبَنِیْنَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓــئِکَۃِ اِنَاثًاط  اِنَّکُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا(۴۰)
م ر ح
مَرِحَ یَمْرَحُ (س) مَرَحًا :ناز سے چلنا‘ اٹھلانا‘ اِترانا۔ {ذٰلِکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَبِمَا کُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَ (۷۵) } (المؤمن) ’’یہ اس سبب سے ہے جو تم لوگ خوش ہوتے تھے زمین میں حق کے بغیر اور اس سبب سے ہے جو تم لوگ اٹھلاتے تھے۔‘‘ اور زیر مطالعہ آیت ۳۷۔
ترکیب
(آیت۳۶) السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ یہ سب اِنَّ کے اسم ہیں۔ اس کے آگے پورا جملہ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْئُوْلًا، اِنَّ   کی خبر ہے۔ اس جملہ میں کُلُّ اُولٰٓئِکَ مرکب اضافی کَانَ کا اسم ہے جبکہ مَسْئُوْلًا اس کی خبر ہے۔ اس میں اِنَّ کے تینوں اسم یعنی اَلسَّمْعَ، اَلْبَصَرَ اور اَلْفُؤَادَ کی طرف اشارہ ہے ‘اس لیے اسم اشارہ اُولٰٓئِکَ جمع کا صیغہ آیا ہے ‘لیکن جمع کی ضمیر عَنْھُمْ کے بجائے واحد ضمیر عَنْہُ آئی ہے۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ہر ایک صلاحیت کے بارے میں الگ الگ پوچھا جائے گا۔ (آیت۳۷) مَرَحًا مصدر ہے اور حال ہونے کی وجہ سے حالت ِنصب میں ہیں۔ (آیت۳۸) کُلُّ ذٰلِکَ مبتدا ٔہے اور آگے کا پورا جملہ اس کی خبر ہے۔ اس جملہ میں کَانَ کا اسم سَیِّئُہٗ ہے جبکہ مَکْرُوْھًا اس کی خبر ہے۔
ترجمہ
وَلَا تَقْفُ مَا: اور تُو پیچھے مت پڑ اُس کے

لَیْسَ لَکَ :نہیں ہے تیرے لیے (یعنی
تیرے پاس)
بِہٖ عِلْمٌ : جس کا کوئی علم

اِنَّ السَّمْعَ :یقیناً سماعت
وَالْبَصَرَ :اور بصارت

وَالْفُؤَادَ: اور دل (یعنی تفقہ)
کُلُّ اُولٰٓئِکَ :ان کے سب ہیں (کہ)

کَانَ عَنْہُ :ہے اس (ہر ایک) کے بارے میں
مَسْئُوْلًا:پوچھا جانے والا

وَلَا تَمْشِ : اورتُو مت چل
فِی الْاَرْضِ : زمین میں 

مَرَحًا : اِتراتا ہوا
اِنَّکَ :یقیناً تُو

لَنْ تَخْرِقَ :ہرگز نہیں پھاڑ سکے گا
الْاَرْضَ :زمین کو

وَلَنْ تَبْلُغَ :او ر تُو ہرگز نہیں پہنچ سکے گا
الْجِبَالَ : پہاڑوں کو

طُوْلًا:بلحاظ لمبائی کے
کُلُّ ذٰلِکَ : اس کا سب ہے (کہ)

کَانَ سَیِّئُہٗ :ہے اس (ہر ایک) کی برائی
عِنْدَ رَبِّکَ :آپؐ کے ربّ کے نزدیک

مَکْرُوْہًا :ناپسندکی ہوئی
ذٰلِکَ مِمَّآ : یہ اس میں سے ہے جو

اَوْحٰٓی اِلَیْکَ : وحی کیا آپؐ کی طرف
رَبُّکَ : آپؐ کے ربّ نے

مِنَ الْحِکْمَۃِ : حکمت میں سے
وَلَا تَجْعَلْ :اور تُومت بنا

مَعَ اللہِ:اللہ کے ساتھ
اِلٰہًا اٰخَرَ : کوئی دوسرا اِلٰہ

فَتُلْقٰی :نتیجتاً تُو ڈالا جائے گا

فِیْ جَہَنَّمَ: جہنم میں 

مَلُوْمًا:ملامت کیا ہوا ہوتے ہوئے
مَّدْحُوْرًا :ہانکا ہوا ہوتے ہوئے

اَفَاَصْفٰىکُمْ :تو کیا مخصوص کیا تم لوگوں کو
رَبُّکُمْ : تمہارے ربّ نے

بِالْبَنِیْنَ:بیٹوں کے ساتھ
وَاتَّخَذَ : اور (خود) اس نے بنائیں

مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ : فرشتوں میں سے
اِنَاثًا :بیٹیاں

اِنَّکُمْ لَتَقُوْلُوْنَ:بے شک تم لوگ یقیناً کہتے ہو
قَوْلًا عَظِیْمًا : ایک بڑی بات

نوٹ۱: آیت۳۶ میں لفظ ’’عِلْم‘‘ اپنے اصطلاحی اور لغوی‘ دونوں مفہوموں کا جامع ہے۔ (ملاحظہ ہو : النحل:۵۶‘ نوٹ۱) اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے عقائد اور نظریات کو اختیار نہ کرے جن کی سند قرآن و حدیث میں نہ ہو۔ زندگی کے معاملات میں جن اوامر اور نواہی کی سند قرآن و حدیث میں ہو ان کے خلاف نہ کرے۔ دیگر معاملات میں قابلِ اعتبار معلومات کے بغیر محض ظن اور گمان کی بنیاد پر نہ تو کوئی رائے قائم کرے اور نہ ہی کوئی فیصلہ یا اقدام کرے۔
نوٹ۲: زندگی کے تمام معاملات میں کوئی رائے قائم کرنے یا فیصلہ کرنے کا جو process ہے‘ اس کی وضاحت الاعراف:۱۷۹‘ نوٹ۲ میں کی جا چکی ہے‘ اس کو دوبارہ پڑھ لیں۔ زیر مطالعہ آیت۳۶ میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ فیصلہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو صلاحیتیں دے کر انسان کو دنیا کی امتحان گاہ میں بھیجا‘ ان کے متعلق پوچھا جائے گا کہ ان کو استعمال بھی کیا تھا یا محض اندھی تقلید پر ہی زندگی بسر کرتے رہے ‘اور اگر استعمال کیا تھا تو کس مقصد کے لیے استعمال کیا تھا؟
نوٹ۳: آیت۳۶ میں الفاظ آئے ہیں ’’ عَنْہُ مَسْئُوْلًا‘‘۔بعض مترجمین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ کان‘ آنکھ اور دل سے پوچھا جائے گا لیکن استادِ محترم حافظ احمد یار صاحب کو اس سے اتفاق نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سَاَلَ زَیْدًا کا مطلب ہے: ’’اُس نے زید سے پوچھا‘‘ جبکہ سَاَلَ عَنْ زَیْدٍ کا مطلب ہے: ’’اُس نے زید کے بارے میں پوچھا۔‘‘ اس لحاظ سے مذکورہ الفاظ کا مطلب یہ بنتا ہے کہ مذکورہ صلاحیتوں سے نہیں بلکہ ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ ترجمہ میں اور اوپر نوٹ۲ میں ہم نے حافظ صاحب رحمہ اللہ کی رائے کو اختیار کیا ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے بھی اس کا ترجمہ یوں کیا ہے: ’’یقیناً سماعت‘ بصارت اور عقل سبھی کے بارے میں باز پرس کی جائے گی۔‘‘
آیات ۴۱ تا ۴۴وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ ہٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّکَّرُوْاط  وَمَا یَزِیْدُہُمْ اِلَّا نُفُوْرًا(۴۱) قُلْ لَّوْ کَانَ مَعَہٗٓ اٰلِہَۃٌ کَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰی ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا(۴۲) سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا کَبِیْرًا(۴۳) تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْہِنَّ ط وَاِنْ مِّنْ شَیْ ئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَلٰکِنْ لَّا تَفْقَہُوْنَ تَسْبِیْحَہُمْ ط اِنَّہٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا(۴۴)
ترجمہ
وَلَقَدْ صَرَّفْنَا : اور بے شک ہم نے بار بار بیان کیا ہے (مضامین کو)

فِیْ ہٰذَا الْقُرْاٰنِ : اس قرآن میں 
لِیَذَّکَّرُوْا :تاکہ وہ لوگ نصیحت حاصل کریں

وَمَا یَزِیْدُہُمْ: اور وہ (یعنی قرآن) زیادہ نہیں کرتا ان کو
اِلَّا نُفُوْرًا : مگر بیزاریوں میں

قُلْ:آپؐ کہہ دیجیے
لَّوْ کَانَ : اگر ہوتے

مَعَہٗٓ : اس کے ساتھ
اٰلِہَۃٌ :کچھ (دوسرے) اِلٰہ

کَمَا : جیسے کہ
یَقُوْلُوْنَ : وہ لوگ کہتے ہیں

اِذًا: تب تو
لَّابْتَغَوْا: وہ(دوسرے اِلٰہ) ضرور تلاش کرتے

اِلٰی ذِی الْعَرْشِ : عرش والے کی طرف
سَبِیْلًا :کوئی راستہ

سُبْحٰنَہٗ : پاکیزگی ا س کی ہے
وَتَعٰلٰی : اور وہ بلند ہوا

عَمَّا:اس سے جو
یَقُوْلُوْنَ : وہ لوگ کہتے ہیں

عُلُوًّا کَبِیْرًا :جیسا بڑے بلند ہونے کا حق ہے
تُسَبِّحُ : تسبیح کرتے ہیں 

لَہُ: اس کی
السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ : سات آسمان

وَالْاَرْضُ : اور زمین
وَمَنْ فِیْہِنَّ : اور وہ جو ان میں ہیں

وَاِنْ:اور نہیں ہے
مِّنْ شَیْ ئٍ : کوئی بھی چیز

اِلَّا: مگر (یہ کہ)

یُسَبِّحُ: وہ تسبیح کرتی ہے

بِحَمْدِہٖ :اُس کی حمد کے ساتھ
وَلٰکِنْ : اور لیکن

لَّا تَفْقَہُوْنَ :تم لوگ سمجھتے نہیں ہو
تَسْبِیْحَہُمْ : ان کی تسبیح کو

اِنَّہٗ کَانَ :بے شک وہ ہے
حَلِیْمًا :بُردبار

غَفُوْرًا:بے انتہا بخشنے والا
نوٹ: فرشتوں‘ انسانوں اور جنوں کے علاوہ جو باقی چیزیں ہیں ان کی تسبیح کا کیا مطلب ہے؟ بعض علماء نے فرمایا کہ ان کی تسبیح سے مراد تسبیح حال ہے۔ یعنی ہر چیز کا مجموعی حال بتا رہا ہے کہ وہ اپنے وجود میں مستقل اور دائمی نہیں ہے بلکہ وہ کسی بڑی قدرت کے تابع چل رہا ہے۔ یہی شہادتِ حال اس کی تسبیح ہے۔ (اس میں اب یہ اضافہ بھی پڑھنے اور سننے میں آتا ہے کہ ہر چیز اپنے وجود سے گواہی دے رہی ہے کہ ان کا خالق ہر نقص اور عیب سے پاک ہے۔ یہ ان کی تسبیح ہے۔ مرتب) مگر دوسرے اہل تحقیق کا قول یہ ہے کہ تسبیح اختیاری تو صرف فرشتوں اور مؤمن جِنّ و اِنس کے لیے مخصوص ہے‘ جبکہ تکوینی طور پر کائنات کا ذرّہ ذرّہ اللہ تعالیٰ کا تسبیح خواں ہے۔ قرآن کریم کا یہ ارشاد کہ تم لوگ ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو‘ اس پر دلالت کرتا ہے کہ ذرّہ ذرّہ کی تسبیح کوئی ایسی چیز ہے جس کو عام انسان سمجھ نہیں سکتے‘ جبکہ تسبیح حالی کو تو اہل عقل و فہم سمجھ سکتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ تسبیح صرف حالی نہیں بلکہ حقیقی بھی ہے مگر ہمارے فہم و ادراک سے بالا تر ہے۔ امام قرطبی نے اسی کو راجح قرار دیا ہے اور اس پر قرآن و سُنّت کے بہت سے دلائل پیش کیے ہیں۔ (معارف القرآن سے ماخوذ)
آیات ۴۵ تا ۴۸وَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا(۴۵) وَّجَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِہِمْ اَکِنَّۃً اَنْ یَّفْقَہُوْہُ وَفِیْٓ اٰذَانِہِمْ وَقْرًاط  وَاِذَا ذَکَرْتَ رَبَّکَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَہٗ وَلَّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِہِمْ نُفُوْرًا(۴۶) نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِہٖٓ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْکَ وَاِذْ ہُمْ نَجْوٰٓی اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا(۴۷) اُنْظُرْ کَیْفَ ضَرَبُوْا لَکَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا(۴۸)
س ت ر
سَتَرَ یَسْتُرُ (ن) وَسَتَرَ یَسْتِرُ (ض) سَتْرًا : کسی چیز کو ڈھانکنا‘ چھپانا۔
سِتْرٌ(اسم ذات) : ہر وہ چیز جس سے کوئی چیز چھپائی جائے۔ اوٹ‘ آڑ۔ {لَمْ نَجْعَلْ لَّہُمْ مِّنْ دُوْنِہَا سِتْرًاl } (الکہف) ’’ہم نے نہیں بنایا ان کے لیے اس سے کوئی آڑ۔‘‘
مَسْتُوْرٌ (اسم المفعول) : ڈھانکا ہوا‘ چھپایا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت ۴۵۔
اِسْتَتَرَ(استفعال) اِسْتِتَارًا: ڈھکنا‘ چھپنا‘ پردہ کرنا۔ {وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ} (فُصّلت:۲۲) ’’اور تم لوگ پردہ نہیں کرتے تھے۔‘‘
ترجمہ
وَاِذَا : اور جب بھی

قَرَاْتَ: آپؐ پڑھتے ہیں 
الْقُرْاٰنَ : قرآن

جَعَلْنَا:توہم بنا دیتے ہیں
بَیْنَکَ : آپؐ کے درمیان

وَبَیْنَ الَّذِیْنَ :اور ان کے درمیان جو
لَا یُؤْمِنُوْنَ :ایمان نہیں لاتے

بِالْاٰخِرَۃِ:آخرت پر
حِجَابًا مَّسْتُوْرًا: ایک چھپایا ہوا پردہ

وَّجَعَلْنَا:اور ہم ڈال دیتے ہیں
عَلٰی قُلُوْبِہِمْ :ان کے دلوں پر

اَکِنَّۃً:کچھ غلاف
اَنْ : کہ (کہیں)

یَّفْقَہُوْہُ :وہ لوگ سمجھ لیں اس کو
وَفِیْٓ اٰذَانِہِمْ: اور ان کے کانوں میں

وَقْرًا :ایک بوجھ
وَاِذَا :اور جب بھی

ذَکَرْتَ : آپؐ ذکر کرتے ہیں
رَبَّکَ : اپنے ربّ کا

فِی الْقُرْاٰنِ : قرآن میں 
وَحْدَہٗ : اس کے واحد ہونے کا

وَلَّوْا: تو وہ پھیر دیتے ہیں (خود کو)
عَلٰٓی اَدْبَارِہِمْ : اپنی پیٹھوں پر

نُفُوْرًا: بیزاریاں کرتے ہوئے
نَحْنُ اَعْلَمُ :ہم جانتے ہیں

بِمَا : اس کو
یَسْتَمِعُوْنَ : یہ لوگ غور سے سنتے ہیں 

بِہٖٓ: جس کے سبب سے
اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ: جب یہ لوگ کان دھرتے ہیں

اِلَیْکَ: آپؐ کی طرف

وَاِذْ ہُمْ :اور جب یہ لوگ

نَجْوٰٓی: سرگوشی کرتے ہیں 
اِذْ یَقُوْلُ :جب کہتے ہیں 

الظّٰلِمُوْنَ: یہ ظالم لوگ
اِنْ تَتَّبِعُوْنَ : نہیں پیروی کرتے تم لوگ

اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا: مگر ایک جادو کیے ہوئے شخص کی
اُنْظُرْ :آپؐ دیکھیں

کَیْفَ ضَرَبُوْا : کیسے انہوں نے بیان کیں
لَکَ الْاَمْثَالَ : آپؐ کے لیے مثالیں

فَضَلُّوْا: نتیجتاً وہ گمراہ ہوئے
فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ: پس وہ استطاعت نہیں رکھتے

سَبِیْلًا: کسی راستے کی
آیات ۴۹ تا ۵۲وَقَالُوْٓا ئَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ئَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا(۴۹) قُلْ کُوْنُوْا حِجَارَۃً اَوْ حَدِیْدًا(۵۰) اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَکْبُرُ فِیْ صُدُوْرِکُمْ ج فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَاط قُلِ الَّذِیْ فَطَرَکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍج فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْکَ رُءُوْسَہُمْ وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ہُوَط قُلْ عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنَ قَرِیْبًا(۵۱) یَوْمَ یَدْعُوْکُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِہٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا(۵۲)
ر ف ت
رَفَتَ یَرْفُتُ (ن) رَفْتًا: کسی چیز کو توڑنا۔ کوٹنا۔
رُفَاتٌ : چورہ‘ ریزہ۔ زیر مطالعہ آیت ۴۹۔
ج د د
جَدَّ یَجِدُّ (ض) جَدَّۃً : کسی چیز کا نیا ہونا۔
جَدًّا : کسی چیز کو کاٹنا۔ راستہ طے کرنا۔
جَدِیْدٌ : فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے بمعنی نیا۔ زیر مطالعہ آیت۴۹۔
جُدَّۃٌ (ج جُدَدٌ) طریقہ‘ راستہ۔{ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ}(فاطر:۲۷) ’’اور پہاڑوں میں سے سفید راستے ہیں۔‘‘
جَدَّ یَجَدُّ (س) جَدًّا : بزرگی اور عظمت والا ہونا۔
جَدٌّ : (اسم ذات بھی ہے) عظمت‘ بزرگی۔ {وَاَنَّـہٗ تَعٰلٰی جَدُّ رَبِّنَا} (الجن) ’’اور یہ کہ بلند ہوئی ہمارے رب کی عظمت۔‘‘
ن غ ض
نَغَضَ یَنْغُضُ (ن) وَنَغَضَ یَنْغِضُ (ض) نَغْضًا : کانپنا‘ ہلنا۔
اَنْغَضَ(افعال) اِنْغَاضًا : تعجب یا مسخری میں کوئی عضو ہلانا۔ جیسے ہاتھ نچانا‘ سر مٹکانا‘ وغیرہ۔ زیر مطالعہ آیت۵۱۔
ترجمہ
وَقَالُوْٓا : اور انہوں نے کہا

ئَ اِذَا کُنَّا : کیا جب ہم ہوں گے
عِظَامًا وَّرُفَاتًا : ہڈیاں اور چورہ

ئَ اِنَّا:کیا ہم
لَمَبْعُوْثُوْنَ : ضرور اٹھائے جانے والے ہیں

خَلْقًا جَدِیْدًا: ایک نئی مخلوق ہوتے ہوئے
قُلْ کُوْنُوْا : آپؐ کہہ دیجیے تم ہو جائو

حِجَارَۃً: کوئی پتھر
اَوْ حَدِیْدًا :یا کوئی لوہا

اَوْ خَلْقًا : یا کوئی مخلوق
مِّمَّا : اس میں سے جو

یَکْبُرُ : دشوار ہوتی ہے
فِیْ صُدُوْرِکُمْ : تمہارے سینوں میں (یعنی تمہاری سوچ میں‘ پھر بھی اٹھائے جائو گے)

فَسَیَقُوْلُوْنَ: پھر وہ کہیں گے
مَنْ یُّعِیْدُنَا : کون لوٹائے گا ہم کو ؟

قُلِ الَّذِیْ : آپؐ کہہ دیجیے وہ جس نے
فَطَرَکُمْ : وجود بخشا تم کو

اَوَّلَ مَرَّۃٍ : پہلی مرتبہ
فَسَیُنْغِضُوْنَ : پھر وہ لوگ مٹکائیں گے

اِلَیْکَ : آپؐ کی طرف
رُءُوْسَہُمْ : اپنے سروں کو

وَیَقُوْلُوْنَ : اور کہیں گے
مَتٰی ہُوَ : کب وہ ہے (یعنی ہوگا) ؟

قُلْ: آپؐ کہہ دیجیے
عَسٰٓی : ہو سکتا ہے

اَنْ یَّکُوْنَ : کہ وہ ہو
قَرِیْبًا: قریب ہی

یَوْمَ: جس دن
یَدْعُوْکُمْ : وہ پکارے گا تم لوگوں کو

فَتَسْتَجِیْبُوْنَ : پھر تم لوگ جواب دو گے

بِحَمْدِہٖ: اُس کی حمد کے ساتھ

وَتَظُنُّوْنَ : اور گمان کرو گے (کہ)
اِنْ لَّبِثْتُمْ : نہیں ٹھہرے تم

اِلَّا قَلِیْلًا: مگر تھوڑا (عرصہ)