(فکر و نظر) نوجوان اور فتنہ ہائے عصر - ڈاکٹر محمد رشید ارشد

9 /

نوجوان اور فتنہ ہائے عصرڈاکٹر محمد رشید ارشد
(اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمینار میں کی گئی گفتگو کی تسوید)
یہ دنیا دار الامتحان ہے اور یہاں طرح طرح کے فتنوں اور آزمائشوں سے انسانوں کو جانچا جاتا ہے۔ بالخصوص عہدِ حاضر میں یہ فتنے نت نئے روپ میں سامنے آرہے ہیں اور آتے رہیں گے۔ ہماری نوجوان نسل کو ان فتنوں کے مقابلے کے لیے گزشتہ زمانے کے لوگوں سے کہیں زیادہ باخبر اور چوکنّا رہنا ہوگا۔ اسی مناسبت سے یہ عنوان ’’نوجوان اور فتنہ ہائے عصر‘‘ اختیار کیا گیاہے۔ سورۃ الملک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاط} (آیت۲)
’’ اللہ تعالیٰ نے موت و حیات کو خلق کیا تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ کون ہے جو عمل کے اعتبار سے زیادہ اچھا ہے۔‘‘
حضرت فضیل بن عیاض سے پوچھا گیا : احسنِ عمل سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا:’’ عمل بالکل خالص اور صواب (نہایت درست) ہو۔‘‘سائل نے مزید وضاحت کے لیے درخواست کی تو فرمایا: ’’خالص کا مطلب یہ ہے کہ عمل اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے اور صواب کا مطلب یہ ہے کہ عمل رسول اللہﷺ کی سُنّت کے مطابق ہو۔‘‘
ہم جس دور میں رہتے ہیں اس میں غالب تہذیب مغربی تہذیب ہے اور ہر چیز کا معیار وہیں سے متعین ہوتا ہے۔ خوب و زشت کا‘ حسن و قبح کا‘ خیر و شر کا‘ صحیح و غلط کا معیار وہیں متعین ہوتا ہے۔آیتِ مبارکہ کی اس تشریح سے ہمارے لیے بالکل واضح ہوگیا کہ جو بھی چمک دمک ہمیں مغرب میں نظر آتی ہے‘ نئے فیشنز ہیں‘ trends ہیں‘ وہ ’’احسنِ عمل‘‘ نہیں ہیں۔ احسنِ عمل وہ ہے جو اللہ کے لیے کیا جائے یعنی اس کی نیت باطنی سطح پر یہ ہو کہ اللہ کو خوش کرنا ہے‘جبکہ ظاہری صورت یہ ہو کہ وہ نبی اکرمﷺ کے اسوہ کے مطابق ہو۔
یہاں تو بات کی گئی ہے ’’فتنہ‘‘ کے حوالے سے۔مذکورہ بالا عنوان میں دو لفظ زیادہ اہمیت کے حامل ہیں: ’’عصر‘‘ اور ’’نوجوان‘‘۔ عصر کا مطلب ہے زمانہ یا وقت۔ ہر زمانے میں مشکلات اور آزمائشیں موجود رہی ہیں‘ لیکن دورِ حاضر کچھ ایسے نئے مسائل اور چیلنجز لے کر آیا ہے جو پہلے زمانوں میں نہیں تھے۔ یوں کہیے کہ فتنے تو ہمیشہ سے تھے‘ اب ان کی شکل اور انداز بدل گئے ہیں۔
دوسرا اہم لفظ ہے ’’نوجوان‘‘۔ انسان کی زندگی کے سب سے اہم اور طاقت وَر دور کو جوانی کہتے ہیں۔ یہ وہ عمر ہے جب انسان کے اندر جوش‘ ولولہ‘ توانائی اور کچھ کر گزرنے کی صلاحیت عروج پر ہوتی ہے۔ سورۃ الکہف میں ارشاد ہے:
{اِنَّہُمْ فِتْیَۃٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّہِمْ وَزِدْنٰہُمْ ہُدًی(۱۳)}
’’یہ کچھ نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے‘ تو ہم نے ان کو بڑھا دیا ان کی ہدایت میں۔‘‘
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں سورۃ الانبیاء میں ذکر آتا ہے کہ جب انہوں نے بتوں کو توڑ دیا اوریہ بات پھیلی کہ کسی نے بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تو لوگ کہنے لگے:
{سَمِعْنَا فَتًی یَّذْکُرُہُمْ }(آیت۶۰)
’’ہم نے ایک نوجوان کو سنا جو اِن بتوں کا ذکر کر رہا تھا۔‘‘
پھر نوجوانی کا ایک نمونہ قرآنِ مجید میں سیدنا یوسف علیہ السلام ی صورت میں ہمارے سامنے آتا ہے۔ جس ابتلا میں وہ ڈالے گئے‘ وہ بہت بڑی آزمائش تھی۔ترمذی شریف کی ایک حدیث سے اس آزمائش کی سنگینی اور اس میں ثبات کی فضیلت کا اندازہ ہوتاہے۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: ((سبعةٌ يُظِلُّهُمُ اللّٰهُ تعالٰى فِيْ ظِلِّه يَوْمَ لَا ظِلَّ إلّا ظِلُّه))’’سات قسم کے افراد ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا‘ اُس دن جب اللہ کے عرش کے سائے کے سوا کوئی اور سایہ نہیں ہوگا۔‘‘ان میں ایک قسم یہ ہے: ((رَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذاتَ مَنْصَبٍ وَجمالٍ، فقال:إنّي أَخافُ اللّٰهَ)) ’’ایک ایسا شخص جس کو بہت باوقار اور منصب والی‘ کسی اونچے خاندان کی خوب صورت عورت دعوتِ گناہ دے‘ اور وہ یہ کہے: ’’میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں۔‘‘ گویا قرآن نے بھی نوجوانوں کی استقامت کو خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ اسی حدیث میں ایک اور قسم بھی ہے جس کا تعلق ہمارے عنوان سے ہے:((شابٌّ نَشَأَ في عِبَادَةِ اللّٰه)) ’’وہ نوجوان جو اللہ کی بندگی ہی میں پروان چڑھا‘ اس کی تربیت اور پرورش اسی میں ہوئی۔‘‘
اسی طرح ترمذی شریف کی ایک حدیث ہے جس میں نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’بنی آدم کے قدم اُس وقت تک ربّ کے حضور سے ہل نہیں سکیں گے جب تک اس سے پانچ باتوں کا حساب نہ لے لیا جائے۔‘‘ ان پانچ سوالات میں سے دو یہ ہیں:((عَنْ عُمُرِهِ فِيمَ أَفْنَاہُ))’’اس کی پوری زندگی کے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ کہاں فنا کی!‘‘ ((وَعَنْ شَبَابِهِ فِيمَ أَبْلَاهُ)) ’’اور اس کی جوانی کے بارے میں کہ کہاں خرچ کی؟‘‘ یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ جب پہلے سوال میں عمر یعنی پوری زندگی کا ذکر ہو چکا‘ تو پھر جوانی کا الگ سے ذکر کیوں؟ یہ عطف الخاص علی العام کی ایک مثال ہے۔ یعنی پہلے عمومی بات کی گئی‘ پھر اسی کے ایک خاص حصے کو الگ سے بیان کر کے اس کی اہمیت کو نمایاں کیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جوانی زندگی کا سب سے قیمتی اور نازک مرحلہ ہے‘ جس کے بارے میں الگ سے بازپُرس ہوگی۔
غالب تہذیب کا نفسیاتی و فکری رعب
عصرِ حاضر کے فتنوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے بیشتر مغربی تہذیب کے پروردہ ہیں۔ ’’مغربیت‘‘ محض ایک جغرافیائی اصطلاح نہیں۔ اس سے مراد وہ غالب نظامِ فکر ہے جس نے دنیا پر نہ صرف سیاسی و معاشی تسلط حاصل کیا‘ بلکہ علمی و نظریاتی میدان میں بھی اپنی بالادستی قائم کر لی ہے۔انسانی نفسیات کا یہ خاصہ ہے کہ وہ قوت سے مرعوب ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی تہذیب کا رعب صرف اس کی مادی طاقت کی وجہ سے نہیں‘ بلکہ اس کے سائنسی‘ تعلیمی اور فکری غلبے کے باعث نوجوانوں کے اعصاب پر سوار ہے۔
مشہور مورخ ابن خلدون نے اپنے شہرئہ آفاق ’’مقدمہ‘‘ میں اس عمرانی حقیقت کی تفصیل سے وضاحت کی ہے کہ:’’مفتوح قومیں شعوری یا لاشعوری طور پر فاتح اقوام کی نقالی کرتی ہیں۔‘‘ وہ ان کے لباس‘ طرزِ معاشرت‘ زبان اور افکار کو اپنا کر ہی خود کو معتبر سمجھنے لگتی ہیں۔ عصر حاضر میں ہمارے نوجوانوں کا المیہ یہی ہے کہ وہ مغربی تہذیب کے اسی سحر میں گرفتار ہو کر اپنی شناخت گم کر رہے ہیں۔
مغربی تہذیب کے ان گہرے اثرات کے نتیجے میں جن نمایاں فتنوں نے جنم لیا ہے‘ ان کی فہرست طویل ہے‘ البتہ درج ذیل سر فہرست ہیں:
• مسکرات و منشیات: نشہ و خمار کی مختلف صورتیں جو حواس کو معطل کر دیتی ہیں۔
• جنسی بے راہ روی: اخلاقی حدود کی پامالی اور صنفی انارکی
• فکری الحاد: دین سے بے زاری اور وجودِ باری تعالیٰ سے غفلت
• شعائر ِ اسلام سے دوری: نماز اور دیگر فرائض و عبادات کی ادائیگی میں غفلت
• اباحیت پسندی: فحاشی‘ عریانی‘ موسیقی اور محض لذت پرستی کو زندگی کا مقصد بنا لینا (Hedonism)
یہ فتنے بلاشبہ آج کے نوجوانوں کے لیے سنگین ترین چیلنجز ہیں۔ الحمدللہ‘ عہدِ حاضر کے بہت سے مصلحین اور اہلِ علم ان موضوعات پر مؤثر انداز میں آواز اٹھا رہے ہیں اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے کوشاں ہیں۔ تاہم‘ اس تحریر میں ہماری توجہ کا مرکز ان روایتی فتنوں سے ہٹ کر وہ پوشیدہ ذہنی‘ فکری اور معاشرتی الجھنیں ہیں جو بظاہر کھلم کھلا دینی یا اخلاقی فساد کی صورت میں تو نظر نہیں آتیں‘ مگر خاموشی سے انسان کے ایمان‘ اس کی خودی اور شخصیت کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہیں۔
جدید ’’ازمز‘‘ (Isms) اور فکری یلغار
عصرِ حاضر کے نوجوانوں کو درپیش فکری و تہذیبی چیلنجز کے تناظر میں یہ امر نہایت ضروری ہے کہ جدیدازمز (Isms) مثلاً لبرل ازم‘ مارکس ازم‘ ایگناسٹک ازم‘ ہیومن ازم اور کیپٹل ازم پر مدلل گفتگو کی جائے۔ ان نظریات کی تفہیم اور تنقیدی جائزہ اس لیے ناگزیر ہے تاکہ ہماری نوجوان نسل ان کی ظاہری چمک دمک کے سحر میں مبتلا ہونے کے بجائے ان کی فکری جڑوں اور زہریلے اثرات سے شعوری طور پر باخبر ہو سکے۔ یہ تمام نظریات دراصل جدیدیت (Modernity) ہی کے مختلف روپ ہیں‘ جن کا بنیادی ہدف انسان کو تصورِ خدا‘ الہامی وحی اور آخرت کی جواب دہی کے احساس سے کاٹ کر محض مادی وجود تک محدود کر دینا ہے۔
آج کل ایک اصطلاح ’’فکری فیشن‘‘ کے طور پر بہت مقبول ہو رہی ہے‘ اور وہ ہےمسلم شناخت (Muslim Identity) کا تحفظ۔ یہ نعرہ ہر طرف گونج رہا ہے کہ مسلم نوجوان اپنی شناخت کھو رہے ہیں اور ہمیں اس کی بقا کی جنگ لڑنی ہے۔ بلاشبہ یہ تشویش درست اور حالات کا اہم تقاضا ہے‘ لیکن اس بحث کا ایک نہایت نازک پہلو وہ ہے جسے عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
نوجوانوں کے فکری فتنے
زیر ِنظر تحریر میں جس مسئلے کی نشان دہی کرنا مقصود ہے وہ ان نوجوانوں سے متعلق ہے جو بظاہر دینی رجحان رکھتے ہیں‘ جن کے چہرے پر داڑھی ہے‘ جو دینی مجالس میں شریک ہوتے ہیں‘ یا جو دینی اداروں سے وابستہ ہیں۔ جب ہم کسی فتنہ زدہ نوجوان کا تذکرہ کرنے لگتے ہیں تو عام طور پر یہ تصور ہی ذہن میں اُبھر آتا ہے کہ کوئی ایسا نوجوان ہے جو پھٹی ہوئی جینز پہنے ہوئے ہے‘ بالوں میں اسپائکس ہیں‘ کانوں میں بندے ہیں‘ اور ہاتھوں میں کڑے۔ بس یہی نوجوان فتنہ بن گیا ہے۔درحقیقت خطرہ صرف یہی نہیں ہے۔ ایک نہایت نازک اور کم زیر ِبحث آنے والا فتنہ وہ ہے جو مذہبی ماحول کے اندر موجود ہے‘ اور وہ ہے ہمارے مذہبی نوجوانوں پر جدیدیت کا اثر۔ جدیدیت نے صرف یونیورسٹی‘ اسکول‘ کالج‘ یا میڈیا ہی کو متاثر نہیں کیا‘ بلکہ مذہبی طبقے‘ مذہبی فکر اور مذہبی حساسیت کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ بات شاید کچھ لوگوں کو ناگوار گزرے‘ لیکن حقیقت یہی ہے کہ جدیدیت نے ہمارے دین کو سمجھنے کے انداز‘ اس کے بیان کے اسلوب‘ اور اس پر عمل کے اطوار کو بھی متاثر کیا ہے۔ مذہب ہمارے ذہن میں فرد کا ایک ذاتی مسئلہ بن کر رہ گیا ہے۔ دین کا اجتماعی‘ تمدنی‘ سیاسی اور تہذیبی پہلو رفتہ رفتہ کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ جدید فکر کے زیر ِاثر ہو رہا ہے‘ چاہے ہم اسے مانیں یا نہ مانیں۔ علامہ اقبال نے جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کے بارے میں جو سخت اور کڑوی مگر حقیقت پر مبنی باتیں کہیں‘ وہ آج بھی حیرت انگیز حد تک موزوں معلوم ہوتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ؎
گرچہ مکتب کا جواں زندہ نظر آتا ہے
مُردہ ہے‘ مانگ کے لایا ہے فرنگی سے نفَس
اس کا تو سانس بھی اپنا نہیں ہے‘ یعنی بظاہر وہ زندہ ہے مگر فکری و روحانی طور پر مردہ ہے۔ اس کی سانسیں بھی مستعار ہیں۔ ایک اور مقام پر علامہ اقبال نے کہا: ؎
تیرا وجود سراپا تجلیٔ افرنگ
کہ تُو وہاں کے عمارت گروں کی ہے تعمیر
آج ہمارے ہاں جو طبقہLUMS‘ IBA‘ NCA‘ BNU جیسے اداروں سے نکل کر معاشرے میں کردار ادا کر رہا ہے‘ وہ بڑی حد تک اسی مستعار شناخت (borrowed identity)کا حامل ہے‘ جو اقبال کے ان اشعار کا عملی نمونہ بن چکا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پرC.S.Lewis نے بھی ۱۹۳۰ء کی دہائی میں انگلی رکھی تھی۔ وہ اس نظامِ تعلیم سے پیدا ہونے والی نسل کو trousered apes کہتا ہے‘ یعنی پتلون پہنے ہوئے بندر۔ بظاہر مہذب‘ مگر حقیقت میں فکری حیوانیت کا شکار۔ اس نسل کی ایک اور جھلک علامہ اقبال کے اس شعر میں دیکھی جا سکتی ہے: ؎
نوجوانان تشنہ لب‘ خالی ایاغ
شستہ رو‘ تاریک جان‘ روشن دماغ
ایک ایسا نوجوان جو چہرے سے صاف ستھرا‘ دماغ سے روشن‘ مگر دل سے تاریک اور روح سے پیاسا ہے۔ یہ وہی طبقہ ہے جس پر اکبر الٰہ آبادی نے طنز کا نشتر چلایا تھا:؎
مشرق میں ولادت پر راضی نہ تھے یہ بندے
چارہ ہی مگر کیا تھا‘ فطرت جو یہاں جَن دے
یعنی یہ لوگ اپنی مشرقی شناخت پر شرمندہ ہیں‘ ان کی خواہش ہے کہ کاش وہ مغرب میں پیدا ہوتے۔ ایک اور موقع پر انہوں نے تہذیبی مرعوبیت اور خودفراموشی پر نہایت پُراثر طنز کرتے ہوئے کہا: ؎

اے خدا! مجھ کو کر دے صاحب لوگ

دور ہو مجھ سے اس جنم کا روگ
میرا قالب ہو قالب غربی

بھول جاؤں زبان بھی اپنی
رنگ چہرے کا میرے جائے بدل

کروں ایجاد میں بھی توپ و رَفل
سو کے اٹھوں جو آج صبح کو میں

لوگ سمجھیں کہ لاٹ صاحب ہیں
بحرانِ شخصیت: محض فیشن نہیں‘ فکری انخلا

اس پوری بحث کا حاصل یہ ہے کہ نسلِ نو کا اصل مسئلہ محض مغربی لباس پہننا یا ان کی موسیقی سے لطف اندوز ہونا نہیں ہے‘ بلکہ اس کا اصل بحران ’’تہذیبی بے چارگی‘‘ ہے۔ یہ نسل خود کو مغربی معیارِ تہذیب کی ترازو میں تولتی ہے اور ہر اس قدر کو حقیر سمجھتی ہے جس کا تعلق اس کی اپنی فکری‘ مذہبی اور روحانی جڑوں سے ہے۔ یہ فکری غلامی اسے ایک ایسے مقام پر لے آئی ہے جہاں وہ جسمانی طور پر تو موجود ہے‘ مگر اس کا دل اور دماغ مغرب کے ’’عمارت گروں‘‘ کی تعمیر کردہ عمارت کا ایک حصہ بن چکا ہے۔
یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ یہ نوجوان جن کے طرزِ فکر پر ہم تنقید کر رہے ہیں‘ ہمارے اپنے ہی بچے‘ اللہ کے بندے اور رسول اللہ ﷺ کے اُمتی ہیں۔ ان کے افکار سے اختلاف اپنی جگہ‘ مگر ہمارا رویہ نفرت کے بجائے سراسر خیر خواہی اور اصلاحِ احوال کے جذبے پر مبنی ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں سیدنا مسیح علیہ السلام کا وہ قول نہایت بصیرت افروز ہے جسے امام مالک نے’’موطا‘‘ میں روایت کیا ہے:
وَلَا تَنْظُرُوْا فِي ذُنُوْبِ النَّاسِ كَأَنَّكُمْ أَرْبَابٌ، وَ انْظُرُوْا فِيْ ذُنُوْبِكُمْ كَأَنَّكُمْ عَبِيْدٌ، فَإِنَّمَا النَّاسُ مُبْتَلًى وَ مُعَافًى، فَارْحَمُوْا أَهْلَ الْبَلاَءِ، وَ احْمَدُوا اللّٰهَ عَلَى الْعَافِيَةِ (موطا مالک ۱/ ۷۵۱)
’’تم لوگوں کے گناہوں کو اس طرح نہ دیکھو گویا تم ان کے خدا (مالک) ہو‘ بلکہ اپنے گناہوں کو اس طرح دیکھو جیسے تم بندے ہو۔ لوگ صرف دو ہی طرح کے ہیں: یا عافیت میں ہیں یاآزمائش (ابتلا) میں۔ پس آزمائش میں مبتلا لوگوں پر رحم کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہیں عافیت عطا فرمائی۔‘‘
یہی وہ زاویۂ نگاہ ہے جو ہمیں اختیار کرنا چاہیے۔ ہماری تنقید میں دل کا درد اور زبان کی خیر خواہی شامل ہونی چاہیے‘ تاکہ یہ نسل مغربی سانچوں میں ڈھلنے کی آرزو ترک کر کے اپنی اصل شناخت کو پہچانے اور اس پر فخر کرنا سیکھے۔
وہ نوجوان جو دینی حلقوں کو فکری مغالطے (false consciousness) کا شکار سمجھ کر حقارت سے دیکھتے ہیں‘ ان کے جواب میں ہمیں خود کوخدائی منصب پر فائز نہیں کر لینا چاہیے۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کی نصیحت ہمارے زُعمِ تقویٰ پر ایک کاری ضرب ہے: ’’خدا کی طرح نہ دیکھو‘ بندوں کی طرح دیکھو!‘‘
کائنات میں انسانی تقسیم کا اصل معیار مادی ترقی نہیں بلکہ ہدایت ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی بندگی اور دین کی تھوڑی بہت توفیق عطا کی ہے‘ تو آپ’ ’صاحبِ عافیت‘‘ ہیں‘ چاہے زندگی کتنی ہی پُرمشقت کیوں نہ ہو۔ اس کے برعکس جو لوگ اللہ سے دُور ہیں‘ وہ درحقیقت ’’اہلِ بلا‘‘ (آزمائش زدہ) ہیں‘ چاہے بظاہر ان کے حالات کتنے ہی روشن خیال اور ترقی یافتہ کیوں نہ لگیں۔ ہمارا فریضہ صرف یہ ہے:
((فَارْحَمُوْا أَهْلَ الْبَلَاءِ وَ احْمَدُوا اللّٰهَ عَلَى الْعَافِيَةِ))
’’اہلِ بلا پر رحم کرو اور اللہ کا شکر بجا لاؤ کہ اس نے تمہیں عافیت دی۔‘‘
بندگی کی یہ توفیق اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے‘ نہ کہ ہماری اپنی کسی فضیلت کا نتیجہ۔ لیکن جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا‘ یہ گفتگو ان فتنوں کے بارے میں ہے جو بظاہر نظر آتے ہیں۔ اس تناظر میں حکیم الامت علامہ اقبال کے یہ اشعار اس پوری صورت حال کو ایک نیا اور فکر انگیز زاویہ عطا کرتے ہیں: ؎
خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر
لب ِخنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ!
ہم یہ گمان رکھتے تھے کہ مذہبیت کی جوایک نئی رو چل پڑی ہے‘ ایک دینی بیداری‘ رجوع الی اللہ‘ اس کے نتیجے میں بندگی میں اضافہ ہوگا‘ خیر عام ہوگا‘ اور معاشرہ اخلاقی طور پر سنورے گا۔ البتہ اب ہمیں محسوس ہو رہا ہے کہ اس کے ساتھ کچھ ناپسندیدہ پہلو بھی سامنے آ رہے ہیں‘ اور آج ہمیں انہی پر کچھ غور و فکر کرنا ہے۔ علامہ اقبال نے زندگی گزارنے کے دو منہج بیان کیے ہیں‘ جو ہمارے حالیہ منظرنامے کو سمجھنے میں بہت مدد دیتے ہیں۔ ایک منہج تو یہ ہے: ع ’’زمانہ با تو نہ سازد‘ تُو با زمانہ ساز!‘‘
علامہ اقبال اس منہج کی نفی کرتے ہوئے کہتے ہیں: ع
حدیث بے خبراں ہے تو بازمانہ بساز!یعنی جو لوگ زندگی کے حقائق سے بے خبر ہیں یہ ان کا نظریہ ہے کہ اگر زمانہ تم سے سازگار نہیں‘ تو تم زمانے سے سمجھوتا کر لو۔ یہ پہلا رویہ ہے مطابقت‘ مفاہمت‘ اور بالآخر زمانے کے دھارے میں بہ جانے کا۔ دوسرا رویہ ہے:
زمانہ با تو نہ سازد‘ تو با زمانہ ستیز!
یعنی زمانہ تم سے موافقت نہ کرے تو اس سے جنگ کےلیے تیار ہو جائو ! الحمدللہ‘ آج لاکھوں ایسے نوجوان موجود ہیں جن کے دل میں مختلف شخصیات اور تحریکی افکار نے ’’بازمانہ ستیز‘‘ کی تڑپ اور دینی غیرت پیدا کر دی ہے۔ وہ مصلحت پسندی کے بجائے نظامِ باطل سے ٹکرانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
مذہبی نوجوان اور اہلِ علم سے دوری: ایک نیا فتنہ
اسی بیداری کے بطن سے ایک تشویش ناک رجحان نے جنم لیا ہے‘ اور وہ ہے: ’’علمائے کرام اور اہلِ مدارس سے بے زاری‘‘۔ اس بے زاری کی کیفیت مختلف سطحوں پر موجود ہے؛ کہیں یہ محض لا تعلقی ہے‘ کہیں بدگمانی اور کہیں تحقیر و نفرت کا روپ دھار چکی ہے۔ یہ ایک بڑا المیہ ہے کہ وہ نوجوان جو بظاہر دین کے لیے جاگا ہے‘ وہ اہلِ دین ہی سے نالاں ہے۔
بلاشبہ‘ علماء معصوم نہیں ہیں۔ زوال کے اس دور میں کوئی بھی طبقہ کمزوریوں سے مبرا نہیں رہا۔ علماء کے گروہ میں علمائے سوء کا وجود ایک ایسی حقیقت ہے جس سے صرف وہی شخص انکار کر سکتا ہے جو نصوصِ شرعیہ اور تاریخ سے ناواقف ہو۔ ہمیں خود بھی بحیثیت طالب ِعلم علماء سے کئی علمی شکایات رہی ہیں‘ جن کا خلاصہ درج ذیل ہے:
(۱) فرقہ واریت اور تکفیری مزاج: علما ءکا ایک بڑا حلقہ فقہی تعصبات کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ معمولی علمی و فقہی اختلافات کو بنیاد بنا کر تکفیر کے فتوے جاری کرنا اور اسے ایمان و کفر کا مسئلہ بنا دینا‘ نوجوانوں کو دین سے نہیں تودین داروں سے ضرور بدظن کر دیتا ہے۔
(۲) عصر حاضر سے فکری دُوری: یہ ایک جان دار اعتراض ہے کہ علماء کی اکثریت جدید دنیا کی حرکیات (dynamics) سے واقف نہیں۔ وہ سماجی‘ سیاسی اور عالمی منظرنامے کے فہم سے عاری ہو کر محض مساجد و مدارس تک محدود ہو گئے ہیں‘ جس کی وجہ سے نئی نسل کے پیچیدہ سوالات اور ان کی زبان سمجھنے سے قاصر ہیں۔
(۳) اسلوبِ بیاں کی خشکی: علماء کے خطاب میں اکثر وہ فکری گہرائی‘ ادبی حسن اور قلبی کشش مفقود ہوتی ہے جو جدید ذہن کو متاثر کر سکے۔ ان کا اسلوب روایتی اور خشک ہے‘ جو ترغیب کے بجائے بے زاری کا سبب بنتا ہے۔
(۴) تصوّرِ دین کی محدودیت: یہ تاثر عام ہے کہ علماء نے دین کو محض انفرادی عبادات اور خانقاہی مشقوں تک محدود کر دیا ہے۔ دین کا اجتماعی و سیاسی پہلو‘ اقامت ِدین‘ عدلِ اجتماعی اور معاشی اصلاح جیسے اہم موضوعات ان کے دائرۂ فکر سے خارج نظر آتے ہیں۔
تنقید اور تخریب کے درمیان حد ِفاصل
مذکورہ بالا چاروں نکات اپنی جگہ غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں‘ اور ان میں موجود صداقت سے انکار ممکن نہیں۔ تاہم‘ اصل المیہ صرف ان خامیوں کا وجود نہیں ہے‘ بلکہ ان کی آڑ میں پورے طبقہ ٔعلماء کی ’مسلسل تشہیری تذلیل‘ (scandalization) ہے۔ یہ طرزِ فکر نوجوانوں کے اذہان میں دین کے خادموں کے خلاف ایسی نفرت اور بے زاری پیدا کر رہا ہے جودینی بیداری (Islamic Revival) کے ثمرات کو ضائع کر سکتی ہے۔
ہمیں اب جذباتیت کے بجائے توازن اور عدل کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ علماء کی علمی یا عملی لغزشوں پر تنقید کرنا بلاشبہ ایک تعلیمی حق ہے‘ مگر اس تنقید کاادب اور انصاف کے دائرے سے باہر نکل جانا فکری خودکشی کے مترادف ہے۔ ہمیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ نقاد بننا نہایت سہل ہے‘ جبکہ مصلح اور خادم بننا کٹھن ترین عمل ہے۔ اصلاح کا راستہ نفرت اور تحقیر سے نہیں‘ بلکہ محبت‘ حکمت اور خالص خیر خواہی کے جذبے سے پھوٹتا ہے۔
اگر ہم نے علماء اور مدارس کے ادارے کو کلی طور پر منہدم کر دیا‘ تو ہمارے پاس دین کی حفاظت اور اس کی منتقلی کا کوئی دوسرا مستند متبادل موجود نہیں ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خامیوں کی نشان دہی اس نیت سے کریں کہ اصلاح ہو‘ نہ کہ اس جذبے سے کہ انتشار پھیلے۔
نوجوانی کی سحر انگیزی : ایک نیا فکری فتنہ
عصرِ حاضر میں نوجوانوں کی فکری و عملی متحرک سازی (mobilization) کے دوران چند ایسے رجحانات ابھرے ہیں جنہیں ایک سنجیدہ مسئلے کے طور پر دیکھنا ناگزیر ہے۔ ان میں سب سے نمایاں رجحان وہ ہے جسے ہم ’’نوجوانی کی پوجا‘‘ (Worship of Youth) سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ آج کل یہ نعرہ بہت عام ہے کہ: ’’اب صرف نوجوان قیادت آنی چاہیے‘‘‘ ’’بزرگوں کا عہد تمام ہوا‘‘ یا’’پرانی نسل کی باتیں فرسودہ ہو چکی ہیں۔‘‘
بظاہر پُرکشش نظر آنے والے یہ نعرے دراصل اس مغربی فکر کی پیداوار ہیں جہاں فرد پرستی‘ بے لگام آزادی اور ہر قسم کی روایتی قدغن سے بغاوت کو ایک ’’نظریہ‘‘ بنا دیا گیا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ یہ جذباتیت اب ہماری دینی و فکری تحریکوں میں بھی سرایت کر رہی ہے۔
اقبال کے کلام کی تعبیر اور فکری مغالطے
اس رجحان کو تقویت دینے کے لیے اکثر علامہ اقبال کا یہ مشہور شعر بطورِ دلیل پیش کیا جاتا ہے: ؎
خِرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا اُستاد کر!
ادبی لحاظ سے یہ شعر بلاشبہ بے پناہ تحریک آمیز ہے‘ مگر فکری اور عملی سطح پر اس کی درست تفہیم و تاویل نہایت ضروری ہے۔ اگر اس شعر کے ظاہری مفہوم کو بنیاد بنا کرتجربے کو جذبات کے تابع اور حکمت کو جوش کے نیچے دفن کر دیا جائے‘ تو یہ ایک غیر فطری اور خطرناک فکری الٹ پھیر ہوگا۔
قیادت: جوش اور ہوش کا توازن
حقیقت حال یہ ہے کہ نظامِ فطرت کے تحت پیروں (بزرگوں) کو ہی جوانوں کا استاد ہونا چاہیے۔ بزرگوں کا نچوڑا ہوا تجربہ‘ ان کی سرد و گرم چشیدہ دُور اندیشی اور فکری پختگی ہی وہ مینارۂ نور ہے جو نوجوانوں کے جوش و ولولے کو صحیح سمت عطا کرتا ہے۔ قیادت محض کسی خاص عمر کا نام نہیں‘ بلکہ یہ علم‘ تقویٰ‘ فہم اور بصیرت کے مجموعے کا نام ہے۔ یہ صفات عموماً وقت کی بھٹی میں تپ کر ہی پختہ ہوتی ہیں۔ جوانوں کا جوش اگر بزرگوں کے ہوش کے ساتھ شامل نہ ہو‘ تو تحریکیں تعمیر کے بجائے تخریب کی راہ پر چل پڑتی ہیں۔
قرآنِ مجید نے عمر کے ساتھ حاصل ہونے والی نفسیاتی و عقلی بلوغت کو ایک آفاقی حقیقت کے طور پر بیان کیا ہے:
{حَتّٰٓی اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَبَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً} (الاحقاف:۱۵)
’’یہاں تک کہ جب وہ اپنی پختگی کو پہنچا‘ اور چالیس سال کی عمر کو پہنچ گیا۔‘‘
یہ آیت محض جسمانی نمو کی بات نہیں کرتی‘ بلکہ ایک مخصوص عقلی اور شعوری پختگی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کائنات کی سب سے بڑی ذمہ داری یعنی ’’نبوت‘‘ کے لیے‘ سوائے چند مستثنیات کے‘ چالیس سال کی عمر ہی کو معیار بنایا گیا۔ گویا وحی ٔالٰہی نے انسانی شخصیت کی تعمیر میں عمر اور تجربے کی اہمیت کو خود تسلیم کیا ہے۔
برکت ِاکابر اور نبوی اصولِ ادب
سماجی ترتیب اور باہمی احترام کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان ایک بنیادی ضابطہ فراہم کرتا ہے:
((اَلْبَرَکَۃُ مَعَ اَکَابِرِکُمْ)) (شعب الایمان)
’’برکت تمہارے بڑوں کے ساتھ ہے۔‘‘
یہاں اکابر سے مراد وہ شخصیات ہیں جو عمر‘ علم‘ فہم یا تقویٰ و عبادت میں فوقیت رکھتی ہوں۔ اسلام میں عمر کا تقدم بذاتِ خود ایک ایسی فضیلت ہے جو توقیر کی مستحق ہے۔ اس باب میں نبی کریم ﷺ کا فیصلہ کن ارشاد ملاحظہ ہو:
((لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيْرَنَا وَیَعْرِفْ شَرَفَ كَبِيْرِنَا)) (سنن الترمذی)
’’وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت (اور ان کے حق کو) نہ پہچانے۔‘‘
دوسری روایت میں ہے:
((لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَیُوَقِّرْ کَبِیْرَنَا)) (صحیح الجامع:۵۴۴۵)
’’وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کا احترام نہ کرے۔‘‘
ایک اور روایت میں ہے :
((لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيْرَنَا، وَ يَعْرِفْ حَقَّ كَبِيْرِنَا)) (مسند احمد)
’’وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے‘ اور جو ہمارے بڑوں کے حق کو نہ پہچانے۔‘‘
علمی تسلسل اور اصاغر کا فتنہ
ادب کا یہ تقاضا صرف عمر تک محدود نہیں بلکہ علم کے میدان میں اس کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
((لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا أَخَذُوا الْعِلْمَ عَنْ أَكَابِرِهِمْ وَعَنْ أُمَنَائِهِمْ وَعُلَمَائِهِمْ، فَإِذَا أَخَذُوهُ مِنْ أَصَاغِرِهِمْ وَشِرَارِهِمْ هَلَكُوا)) (المدخل الى السنن الكبرىٰ)
’’لوگ اس وقت تک خیر پر رہیں گے جب تک وہ اپنا علم اکابر اور معتبر علما سے حاصل کرتے رہیں گے‘ لیکن جب وہ اصاغر (کم علم اور ناتجربہ کار) اورفتنہ انگیزوںکی طرف رجوع کریں گے تو ہلاکت ان کا مقدر بن جائے گی۔‘‘
آج ہم معلومات کے ایک ایسے سیلاب میں گھرے ہوئے ہیں جہاں علم کااعتماد اورنسبت مفقود ہوتی جا رہی ہے۔ یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر ایسے افراد نمودار ہو چکے ہیں جن کا نہ کوئی علمی پس منظر ہے اور نہ ہی کوئی معتبرشجرهٔ علم۔ وہ محض اپنی چرب زبانی‘ دیدہ زیب ویڈیوز اور انگریزی اصطلاحات کے سہارے ایک فکری برانڈ قائم کر لیتے ہیں۔ نوجوان نسل ان کی ظاہری کشش سے مرعوب ہو کر ان کی شخصیت کی اسیر ہو جاتی ہے‘ حالانکہ وہ علم نہیں بلکہ محض ایک تاثر (impression) بیچ رہے ہوتے ہیں۔
علم کی نسبت: کیا کہا اور کس نے کہا؟
دین اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ علم کے حصول میں صرف بات اہم نہیں ہوتی بلکہ بات کہنے والے کی ثقاہت بھی ناگزیر ہے۔ امام عبداللہ بن مبارکؒ کا قول اس سلسلے میں مشعلِ راہ ہے:
فَأَمَّا صَغِيرٌ يَرْوِي عَنْ كَبِيرٍ فَلَيْسَ بِصَغِيرٍ
’’جو چھوٹا اپنے بڑوں سے جوڑتا ہے‘ وہ چھوٹا نہیں( وہ بڑا ہے)۔‘‘
اس سے یہ سنہری اصول وضع ہوتا ہے کہ اگر کوئی نوجوان علم کے تسلسل سے جڑا ہے‘ اپنے اسلاف اور اکابر کا احترام کرتا ہے اور ان کے منہجِ علم پر گامزن ہے‘ تو وہ علمی وزن کے اعتبار سے بڑا ہی تسلیم کیا جائے گا‘ چاہے وہ عمر کے لحاظ سے نوجوان ہی کیوں نہ ہو۔
نفسِ علم اور مرکزیتِ ذات کا دھوکا
اگر کوئی نوجوان محض اپنے مطالعہ کی وسعت یا معلومات کی بہتات کی بنا پر خود کو’ ’مرکز علم‘‘ گمان کرنے لگے اور اپنے سے بڑوں‘ مشائخ اور مصلحین کی ناقدری (discredit) شروع کر دے‘ تو وہ درحقیقت خود کو بھی فکری ہلاکت میں ڈال رہا ہے اور دوسروں کی گمراہی کا سامان بھی کر رہا ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول اس ضمن میں نہایت بصیرت افروز ہے:
’’أَلَا وَإِنَّ النَّاسَ بِخَيْرٍ مَا أَخَذُوا الْعِلْمَ عَنْ أَكَابِرِهِمْ، وَلَمْ يَقُمْ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ، فَإِذَا قَامَ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ فَقَدْ هَلَكُوا‘‘ (شرح اصول اعتقاد اھل السنۃ للالكائی)
’’خبردار! لوگ بھلائی پر رہیں گے جب تک علم کو اپنے بڑوں سے لیتے رہیں۔ اور جب چھوٹے‘ ناتجربہ کار یا کم علم‘ بڑے اہل علم پر غالب آ جائیں‘ تو وہ ہلاک ہو جائیں گے۔‘‘
یہ ایک سنہری اصول ہے کہ نظامِ حیات تبھی متوازن رہتا ہے جب بڑے چھوٹوں کی تربیت و نگرانی کریں‘ نہ کہ چھوٹے اپنے تئیں بڑوں کے نگران اور منصف بن بیٹھیں۔
جوانی کی پوجا: ایک درآمد شدہ فکری بیماری
آج کل نوجوانی کا حد سے زیادہ ڈھول پیٹنا اور عمر رسیدہ یا تجربہ کار طبقے کوبوجھ یافرسودہ سمجھنا ایک فکری مرض کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ یہ اسلامی فکر کا حصہ نہیں‘ بلکہ مغربی معاشروں کی پیدا کردہ وہ عمر پرستی (Ageism) ہے جہاں مادی افادیت ہی سب کچھ ہے۔ اکبر الٰہ آبادی نے اسی فکری بگاڑ کی نشان دہی اُس وقت کی تھی جب انگریزی تہذیب کا غلبہ اپنی جڑیں جما رہا تھا:
ہم ایسی کل کتابیں قابلِ ضبطی سمجھتے ہیں
کہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں
اکبر کا یہ طنز دراصل اُس نظامِ تعلیم پر تھا جس نے نئی نسل کو اپنے ماضی اور اپنے بزرگوں سے بیگانہ کر کے انہیں ایک مصنوعی ’’روشن خیالی‘‘ کے سراب میں مبتلا کر دیا تھا۔ ان کے نزدیک مغرب زدہ تعلیم یافتہ نوجوان اپنے بڑوں کو صرف اس لیے حقیر جانتا ہے کہ وہ جدید اصطلاحات سے ناواقف ہیں۔ اکبر ہی کا ایک شعر ہے : ؎
بوڑھوں نے پہلے لڑکوں کو خود ہی بنایا کھیل
ان کی نظر میں آپ ہی اب کھیل ہو گئے
اکبر نے علی گڑھ تحریک کے دور میں جب یہ دیکھا کہ تعلیم کا مقصد صرف نوکری اور مادی ترقی رہ گیا ہے‘ تو انہوں نے اسے ’’معزز پیٹ‘‘ کا نام دیا۔ جب کسی قوم کی تعلیم کا قبلہ روٹی بن جائے‘ تو وہی اخلاقی انحطاط جنم لیتا ہے جو آج ہمارے معاشرے کا المیہ ہے۔ جدیدیت کی اس لہر نے نسلوں کے درمیان ادب اور احترام کے رشتوں کو جس طرح پامال کیا‘ اکبر نے اس پر نہایت کرب کے ساتھ کہا: ؎
تعلیم ہے لڑکوں کی کہ اک دامِ بلا ہے
اے کاش کہ اس عہد میں ہم باپ نہ ہوتے!
یہ شعر اس تہذیبی بے چارگی کی انتہا ہے جہاں باپ اپنی ہی اولاد کے ہاتھوں فکری طور پر ذلیل و خوار ہوتا نظر آتا ہے۔
جدید تعلیمی نظام: تربیت گاہ یا قتل گاہ؟
موجودہ تعلیمی ڈھانچا ایک ایسی آفت بن چکا ہے جس کی آغوش سے فتنہ اور فکری بے راہ روی جنم لے رہی ہے۔ آج ایک باشعور والد کے لیے سب سے بڑی آزمائش یہ ہے کہ اسے اپنی اولاد کو ایک ایسے نظام کے سپرد کرنا پڑتا ہے جس پر اسے خود بھی اعتماد نہیں۔ یہ محض ایک تعلیمی انتخاب نہیں‘ بلکہ ایک وجودی مسئلہ ہے کہ ان معصوم ذہنوں کو کن کے حوالے کیا جائے! اکبر الٰہ آبادی نے اسی تلخ حقیقت کو نہایت سفاکی سے بیان کیا تھا: ؎
یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
گلی محلوں میں غیر ملکی زبان اور انگریزی ناموں کے ساتھ کھلے یہ تعلیمی ادارے درحقیقت وہ مقتل ہیں جہاں نئی نسل کے ایمان اور تہذیبی تشخص کو بڑی بے دردی سے ذبح کیا جا رہا ہے۔ لوگ پریشان ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل اور ایمان کے درمیان توازن کیسے قائم کریں۔
ایک بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جوانی کی بے لگام پرستش اور بزرگوں کی تحقیر کا رویہ سراسر غیر دینی ہے۔ یہ فکری بیماری اب صرف سیکولر طبقے تک محدود نہیں رہی‘ بلکہ ان نوجوانوں میں بھی سرایت کر رہی ہے جو بظاہر مذہبی رجحان رکھتے ہیں۔خاص طور پر تکنیکی ماہرین (technocrats) کا وہ طبقہ جو مختلف پیشہ ورانہ شعبوںجیسے MBA‘ انجینئرنگ اور میڈیکل سائنسز‘ یا اکاؤنٹنگ وغیرہ میں تعلیم حاصل کر رہا ہے‘ اس مرض کا زیادہ شکار نظر آتا ہے۔ یہ نوجوان بظاہر بہت سمجھ دار‘ سلجھے ہوئے اور جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ نظر آتے ہیں‘ لیکن ان کی مذہبیت اکثر و بیشتر ان کے پیشہ ورانہ تکبر اورجدید فکری برتری کے نیچے دبی ہوتی ہے۔ وہ جدید علوم کی مہارت کو معیار بنا کر دینی اکابر کے تجربے اور روایت کو کم تر سمجھنے کی فکری غلطی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
تخلیق نو بمقابلہ استناد: ڈیجیٹل دور کا فکری بحران
عصر حاضر کا ایک نمایاں فکری تضاد انفراد بمقابلہ استناد (Authenticity vs. Novelty) کی کشمکش ہے۔ آج کا دورجدت پسندی کا دَور ہے‘ جہاں ہر شخص کچھ نیا کہنے‘ کچھ اچھوتا دکھانے اور ایک منفرد نقطۂ نظر پیش کرنے کی دوڑ میں مگن ہے۔ خاص طور پر اگر آپ کا تعلق مذہبی شو بز(religious showbiz) سے ہے اور آپ اس میں اپنا مقام بنانا چاہتے ہیں‘ تو سادہ اور روایتی اسلوبِ بیاں اب قاری یا سامع کو متاثر کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ اس بازارِ سیاست و ہوس میں کامیابی کے لیے چونکا دینے والے زاویے اور غیر معمولی اختراعات ناگزیر ہوچکی ہیں تاکہ عوام کی توجہ حاصل کی جا سکے اورویوز (views) کی تعداد میں اضافہ ہو۔برسوں پہلے ایک مشہور کتاب آئی تھی: Metaphors We Live By‘ جس کا لب ِلباب یہ تھا کہ انسانی زندگی کچھ مخصوص استعاروں کے گرد گھومتی ہے۔ آج کی صورت حال اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے۔ آج یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم Algorithms We Live By کے عہد میں جی رہے ہیں۔ ہماری ترجیحات‘ مشاہدات ‘یہاں تک کہ ذوقِ انتخاب بھی اعداد وشمار کے تابع ہو چکا ہے۔
آج کسی مذہبی اسکالر کی علمی ثقاہت کا فیصلہ اس کے ڈیجیٹل فٹ پرنٹ سے ہوتا ہے۔ اگر کسی ویڈیو کے ویوز کم ہوں‘ تو جدید ذہن فوراً اسے غیر اہم یابوریت کا درجہ دے کر مسترد کر دیتا ہے۔ اب معیار علم یا روحانیت نہیں رہا‘ بلکہ یہ طے پایا ہے کہ مواد (content) جاذبِ نظر اورتفرجی (entertaining) ہونا چاہیے ۔ گانا ہو یا مذہبی بیان‘ اس کی قدر و قیمت کا تعین علم کے بجائے اس کے نیچے درج اعداد و شمار (numbers) کرتے ہیں۔اس کے برعکس‘ دین ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ علم حاصل کرنے سے پہلےماخذ ِعلم (source) پر نظر رکھی جائے۔ کلام کی حقیقی معنویت اس کےقائل (کہنے والے) سے کشید کی جاتی ہے۔ قرآنِ مجید کی سب سے بڑی عظمت یہی ہے کہ یہ’ ’اللہ کا کلام‘‘ ہے۔
اگر کوئی جملہ بظاہر سادہ یا فہم سے بالاتر محسوس ہو‘ تو عام حالات میں انسان اسے نظر انداز کر سکتا ہے‘ لیکن جیسے ہی یہ انکشاف ہوتا ہے کہ یہ ’’قرآن کی آیت‘‘ ہے‘ تو مومن کی کیفیات یکسر بدل جاتی ہیں۔ وہ لرز اٹھتا ہے اور اپنی کم علمی کا اعتراف کرتے ہوئے کلامِ الٰہی کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیتا ہے۔ یہ رویہ اس بات کی علامت ہے کہ دین میں ’’کون کہہ رہا ہے‘‘ کی اہمیت ’’کیا کہا جا رہا ہے‘‘ سے کہیں زیادہ ہے۔کلام کی تفہیم اور اس کی قدر و قیمت کا انحصار بڑی حد تک قائل کی شخصیت اور اس کے علمی مرتبے پر ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو ایک مثال سے واضح کیا جا سکتا ہے۔ اگر کسی محفل میں ایک شعر پڑھا جائے اور حاضرین اس کی معرفت پر سر دھنیں‘ لیکن بعد میں انکشاف ہو کہ وہ شعر جدید دور کے کسی سطحی شاعر کا ہے‘ تو ایک باذوق شخص فوراً اپنی حس ِلطافت پر نادم ہوتا ہے کہ اس نے ایک عام سی بات میں گہرائی کیوں تلاش کی۔اس کے برعکس‘ اگر کسی شعر کو پہلی نظر میں کمزور سمجھ کر مسترد کر دیا جائے‘ لیکن پھر بتایا جائے کہ یہ’’خدائے سخن‘‘ میر تقی میرکا کلام ہے‘ تو قاری فوراً اپنی رائے سے رجوع کر لیتا ہے۔ وہ اپنی فہم پر شک کرتا ہے کہ اگر میرنے یہ بات کہی ہے تو یقیناً اس میں کوئی پوشیدہ نکتہ یا فنی باریکی ہوگی جو میری نظر سے اوجھل رہی۔ گویا قائل کی سند اور اس کا مرتبہ کلام کو وہ وزن عطا کرتا ہے جو الفاظ کے لغوی مفہوم سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
سند اور دینی روایت کا تسلسل
دین اسلام میں اس نظریے کی مکمل جھلک سلسلۂ اسناد میں نظر آتی ہے۔ احادیث ِمبارکہ کی حفاظت کے لیے محدثین نے جو نظام وضع کیا‘ اس کی بنیاد اسی پر ہے کہ علم ’’کس سے‘‘ حاصل کیا جا رہا ہے۔ ایک طالب ِعلم اپنے استاد سے اور وہ اپنے استاد سے روایت کرتا ہے‘ یہاں تک کہ یہ نورانی سلسلہ براہِ راست نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس تک جا پہنچتا ہے۔یہ دینی روایت محض معلومات کی منتقلی کا نام نہیں‘ بلکہ ایک ایسا زندئہ جاوید تسلسل ہے جو علم کو وقار اورثقاہت (authenticity) عطا کرتا ہے۔ پڑھنے والا ہو یا پڑھانے والا‘ دونوں خود کو ایک عظیم الشان علمی روایت کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس احساسِ نسبت کو اکبر الٰہ آبادی نے ایک خوب صورت تمثیل میں پرویا ہے:؎
اک برگِ گل کہے گا کہ ہم گل کے جُزو ہیں
تم خود کو کیا کہو گے کہ کس کُل کے جُزو ہیں!
یہ شعر اس فکری بحران کی طرف اشارہ ہے جہاں آج کا انسان اپنی جڑوں اور اپنی اصل (الکُل) سے کٹ کر تنہا رہ گیا ہے۔ جب تک ایک پتی (برگِ گل) پھول سے جڑی ہے‘ وہ معتبر ہے؛ اسی طرح جب تک ایک فرد اپنی علمی و دینی روایت سے جڑا ہے‘ اس کا وجود معنی خیز ہے۔
تحریک و حرکت کا فتنہ اوراحتیاط کی حکمت
عصرِ حاضر میں ایک مخصوص طرزِ گفتگو نہایت مقبول ہو چکا ہے‘ جس کا محور محض ’’اُٹھو‘ جاگو اور کام کرو‘‘ جیسے نعرے ہیں۔ مذہبی جماعتوں اور روایتی علمی مراکز کی مبینہ ناکامی کا ڈھنڈورا پیٹ کر نوجوانوں کو مسلسل تحریک‘ فعالیت (activism) اور مہم جوئی پر اکسایا جا رہا ہے‘ گویا اس ہنگامہ آرائی سے پیچھے رہنا کوئی گناہِ کبیرہ ہو۔ حقیقت ِدین یہ ہے کہ ہر زمانہ اور ہر مسئلہ صرف حرکت کا متقاضی نہیں ہوتا۔ بعض حالات میں سکون‘ خاموشی اور کنارہ کشی (retreat) ہی سب سے بڑی دانش مندی ہوتی ہے۔ دین ہمیں سکھاتا ہے کہ فتنوں کے دور میں بعض اوقات بے عمل رہنا یا کسی تحریک کا حصہ نہ بننا ہی سب سے بڑی حکمت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے فتنے کی خبر دی ہے جس میں دوڑنے والے سے چلنے والا‘ اور چلنے والے سے کھڑا رہنے والا بہتر ہوگا‘ یہاں تک کہ اگر کھڑا رہنے والا بھی خطرہ محسوس کرے تو وہ بیٹھ جائے یا لیٹ جائے۔ اس کا مفہوم واضح ہے کہ فتنوں کے ہیجان میں نجات کی راہ عمل میں نہیں بلکہ احتیاط اور تحفظ میں پوشیدہ ہے۔’’الترغیب و الترھیب‘‘ کی ایک روایت میں ارشاد ہے: ((كُونُوا أَحْلَاسَ بُيُوتِكُمْ)) ’’اپنے گھروں کے کونے کا ٹاٹ بن جاؤ۔‘‘ یہ طرزِ عمل کسی فرار یا بزدلی کا نام نہیں‘ بلکہ ایک گہرے فکری اور روحانی تدبر کا ثمر ہے۔
جدید مغربی انسان مسلسل ایک مضطرب وجود (agitative self) کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ وہ ہر وقت ردّ ِعمل‘ احتجاج اور کسی نہ کسی نئی مہم کا حصہ بننے پر مجبور ہے۔ اس کے برعکس‘ اللہ کے اولیاء کی زندگی میں سکون‘ توازن اور وقار پایا جاتا ہے۔ وہ شور کے بجائےسکوت میں جیتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کبھی حق و باطل کے درمیان دھند چھائی‘ چاہے وہ صحابہ کا دور ہو‘ تاتاریوں کا فتنہ یا حالیہ دور میں شام کا المیہ‘ ایسے حالات میں نبوی ہدایت یہی رہی ہے:((فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا)) ’’ان تمام گروہوں سے الگ ہو جاؤ۔‘‘بعض اوقات کسی فریق کا انتخاب کرنا یا دو طرفہ (bipartisan) ہونا دانش مندی نہیں ہوتی‘ بلکہ حق کی تلاش کے لیے انتظار اور خلوت ناگزیر ہو جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایسے وقت کی نشان دہی فرمائی جب انسان اپنے جلیس (قریبی ساتھی) سے بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
اس گھمبیر صورتِ حال میں فتنے کے دور کا سب سے بڑا تقاضا یہی ہے کہ آدمی خود کو شور و غوغا سے الگ رکھے۔ ہر دعوتِ قیام کے جواب میں ایک بنیادی سوال اٹھایا جائے: ’’کیا یہ قیام کا وقت ہے یا سکوت کا؟‘‘ کیونکہ دین صرف ایکشن اورایجی ٹیشن کا نام نہیں ہے۔ بعض اوقات پسپائی‘ خاموشی اور قلب کا سکون ہی ایمان کی سب سے بڑی علامت بن کر سامنے آتا ہے۔تاریخ انسانی میں ایسے ادوار بھی آئے جن کی بابت رسول اللہ ﷺ نے پہلے ہی متنبہ فرما دیا تھا کہ جب فتنے اس شدّت سے پھیل جائیں کہ حق و باطل کے درمیان تمیز دشوار ہو جائے‘ تو اس وقت سب سے بڑی دانش دست برداری (retreat) میں ہے۔ نبوی فرمان کہ ’’اپنی تلوار کو پتھر پر مار کر توڑ دو‘‘ محض ایک علامتی حکم نہیں بلکہ فکری اور رویے میں تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ جس فتنے میں قتل و غارت گری ہی مقصود بن جائے‘ وہاں ہتھیار ڈال دینا ہی سب سے بڑی فتح ہے۔
روایات میں آتا ہے کہ ایک صحابیؓ کو جب ان کے گوشہ نشین ہونے پر ٹوکا گیا تو انہوں نے لکڑی کی تلوار نکال کر دکھائی اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم پر اپنی آہنی تلوار توڑ دی ہے۔ اسی طرح ’’الترغیب والترھیب‘‘ کی روایت کے مطابق‘ آپ ﷺ نے فتنوں کے دور میں ظلم کے سامنے سینہ سپر ہونے کے بجائے ’’خیر ابنی آدم‘‘ (آدم کے دو بیٹوں میں سے خیر والے یعنی ہابیل) کی روش اپنانے کا حکم دیا‘ جس نے فتنہ روکنے کے لیے اپنی جان تو دے دی مگر فتنے کو مہمیز نہ دی۔
موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ خاموشی‘ جو کبھی ایک فضیلت تھی‘ اب کمزوری سمجھی جانے لگی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : ((اللِّسانُ فيها أشَدُّ مِن وَقْعِ السَّيْفِ))(سنن ابی داوٗد:۴۲۶۵) ’’اس فتنے میں زبان کا وار تلوار کے وار سے زیادہ مہلک ہوگا‘‘ مگر آج ہر شخص معاملے کی نزاکت اور دینی بصیرت سے عاری ہونے کے باوجود‘ ہر موضوع پر لب کشائی ضروری سمجھتا ہے۔ جدید ذہن اس فریب میں مبتلا ہے کہ اسے ہر حال میں کچھ بولنا‘ لڑنا اور کوئی نہ کوئی محاذ کھولنا ہے۔
مذہبی نوجوان اور سائبر جہاد کا سراب
یہاں خاص طور پر ان مذہبی نوجوانوں سے مخاطبت ہے جو ایک جذباتی ہیجان کا شکار ہیں۔ الحاد‘ لبرل ازم اور مارکس ازم کے خلاف مورچہ زن ان نوجوانوں سے میرا سوال ہے کہ: ’’بھائی‘ آپ کی علمی اساس کیا ہے؟‘‘جن نوجوانوں کو نہ اپنی دینی روایت کا گہرا فہم ہے‘ نہ علمی تاریخ کا ادراک‘ اور نہ ہی ان ازمز (isms) کی زبان اور منطق سے واقفیت ہے‘ وہ آخر کس بنیاد پرسائبر مجاہد بن کر میدان میں اُتر آئے ہیں؟ یہ ’’کی بورڈ‘‘ کی جنگیں‘ لائکس اور کمنٹس کا تعاقب ‘ مغالطوں پر مبنی جذباتی ویڈیوز کیا واقعی دین کی خدمت ہیں؟ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ دین کی خدمت سے زیادہ انا کی تسکین کا سامان معلوم ہوتا ہے۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس بے سمتی کی جنگ کا انجام نہایت ہولناک نکل رہا ہے۔ سینکڑوں نوجوان اپنی ہی جہالت کے باعث ان فکری اُلجھنوں میں ایسے الجھے کہ بالآخر دین سے ہی دور ہو گئے‘ اور بہت سے تو صریحاً الحاد کی تاریک کھائیوں میں جا گرے۔
انکار کی نفسیات: شبہات یا شہوات؟
آج کل والدین کی جانب سے یہ دہائی کثرت سے سننے کو ملتی ہے کہ ان کی اولاد راہِ ہدایت سے بھٹک چکی ہے۔ ایسے نوجوانوں سے گفتگو کرتے ہوئے داعی کا دل بھی ہچکچاتا ہے؛ یہ اندیشہ دامن گیر ہوتا ہے کہ کہیں ہمارا جواب اس کی ضد میں مزید پختگی کا باعث نہ بن جائے اور وہ یہ گمان نہ کر بیٹھے کہ اس نے ’’ایک اور مولوی کو پچھاڑ دیا‘‘۔حقیقت یہ ہے کہ جو حق کو قبول نہ کرنے کا تہیہ کر چکا ہو‘ اسے دنیا کی کوئی دلیل مطمئن نہیں کر سکتی۔ ایسے لوگ کسی فکری غلط فہمی (intellectual confusion) کا شکار نہیں ہوتے‘ بلکہ شعوری انکار کی حالت میں ہوتے ہیں۔ دورِ حاضر کا اصل المیہ شبہات (doubt) نہیں بلکہ ’شہوات‘ (desires) ہیں۔ انسانی دل مادی لذتوں کے اسیر ہو چکے ہیں اور سوشل میڈیا نے ہوس پرستی کے ایسے دروازے کھول دیے ہیں کہ انسان حق کو جانتے ہوئے بھی اس لیے نہیں مانتا کہ اسے اپنی خواہشات کی قربانی دینی پڑے گی۔
دجالی فتنے اور خود اعتمادی کا سراب
رسول اللہ ﷺ نے دجال کے فتنے سے دور رہنے کی تاکید فرماتے ہوئے ایک نفسیاتی گرہ کھولی ہے:
((مَنْ سَمِعَ بِالدَّجَّالِ فَلْيَنْأَ عَنْهُ، فَوَاللّٰهِ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَأْتِيهِ وَهُوَ يَحْسِبُ أَنَّهُ مُؤْمِنٌ فَيَتَّبِعُهُ، مِمَّا يَبْعَثُ بِهِ مِنَ الشُّبُهَاتِ[أَوْ ِلِمَا يَبْعَثُ بِهِ مِنَ الشُّبُهَاتِ]))(سنن ابی داوٗد:۴۳۱۹)
’’جو شخص دجال کے بارے میں سنے‘ وہ اس سے دُور ہو جائے۔ اللہ کی قسم! ایک شخص یہ گمان کرتے ہوئے دجال کے پاس جائے گا کہ میں تو مؤمن ہوں‘ لیکن وہ اس کے شبہات سے متاثر ہو کر اس کا پیروکار بن جائے گا۔‘‘
آج ہم اپنی آنکھوں سے یہ اذیت ناک منظر دیکھ رہے ہیں کہ وہ نوجوان جو خود کو فکری طور پر مستحکم سمجھتے تھے‘ یوٹیوب کی محض ایک ویڈیو یا کسی ملحد کے ایک سطحی سوال پر لرز اٹھتے ہیں۔ ان کا ایمان ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس کی بنیاد جذبات پر تھی‘ علم پر نہیں۔ایسے پُر آشوب حالات میں شریعت کا اولین مطالبہ جارحانہ مہم جوئی نہیں بلکہ حفاظت ِخود اختیاری ہے۔ قرآنِ حکیم کا واضح حکم ہے:
{قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا} (التحریم:۶)
’’اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔‘‘
فتنے کے اس دور میں دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ہر ایرے غیرے سے مناظرے کرنے کے بجائے علمائے ربانی‘ اہل دل اور راسخون فی العلم کی پناہ تلاش کرے۔ ان کے سائے میں بیٹھ کر اپنی عقل کی تہذیب اور قلب کی تربیت کرے‘ کیونکہ تنہا راستہ چلنے والا شیطان کا آسان لقمہ ہوتا ہے۔
یہ ایک بنیادی سوال ہے کہ آخر ہمیں یہ اختیار کس نے دیا کہ ہم بن بلائے ہر نظریاتی جنگ کے سپاہی بن جائیں! کس نے یہ ذمہ داری ہم پر ڈالی ہے کہ ہر ملحد اور ہر مستشرق کو جواب دینا ہمارا ہی کام ہے؟ ہر سوال میں الجھنا اور ہر بحث میں اکیلے کود پڑنا دانش نہیں بلکہ خبط ِخود نمائی ہے۔ دین کی خدمت جذبات کے بے لگام اظہار سے نہیں‘ بلکہ اساتذہ کی نگرانی میں علمی استقامت پیدا کرنے سے ہوتی ہے۔
تزکیہ اور اقامت ِدین: متضاد نہیں‘ تکمیلی پہلو
عصرِ حاضر میں دین کی تعبیر و تفہیم کے حوالے سے چند عجیب و غریب تضادات نے جنم لیا ہے۔ ایک طبقہ دین کو محض انفرادی تزکیۂ نفس تک محدود کر کے پیش کر رہا ہے‘ جبکہ دوسرا گروہ صرف اقامت ِدین یعنی اجتماعی نظام کے نفاذ کو ہی کل دین قرار دیتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ان دونوں پہلوؤں کو ایک دوسرے کا حریف بنا کر ایک غیر متوازن بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ تزکیۂ نفس اور اقامت ِدین ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو رُخ ہیں۔ دین جہاں انسانی باطن کی تطہیر چاہتا ہے‘ وہیں وہ اجتماعی زندگی کو بھی عدل‘ خیر اور توحید کے آفاقی اصولوں پر استوار کرنے کا داعی ہے۔
انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج سطحی مطالعے اور ناپختہ فہم کی بنیاد پر اُمّت کواقامت ِدین کا پروگرام دینے والے کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں نہ تو دینی اصطلاحات کی گہرائی کا علم ہے اور نہ ہی وہ ان کا درست تلفظ ادا کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں‘ مگر دعویٰ یہ ہے کہ وہ پوری اُمت کی فکری رہنمائی کر رہے ہیں۔ اکبر الٰہ آبادی نے اسی قسم کی آزادی پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا: ؎
گورنمنٹ کی خیر یارو مناؤ
گلے میں جو آئیں وہ تانیں اڑاؤ
کہاں ایسی آزادیاں تھیں میسر
اناالحق کہو اور پھانسی نہ پاؤ!
آج صورتِ حال یہ ہے کہ چند لفظی ہیر پھیر سیکھ کر لوگ خود کو مفکر ِاُمّت تصور کرنے لگے ہیں‘ حالانکہ وہ تزکیے کے اصل مفہوم اور اقامت ِدین کے وسیع دائرے سے کلی طور پر ناواقف ہیں۔دین کا اصل تقاضا یہ ہے کہ انفس (فرد کی ذات) اور آفاق (معاشرہ و ریاست) دونوں جگہ اللہ کا غلبہ قائم ہو۔ تزکیۂ نفس بھی ناگزیر ہے اور ایک عادلانہ معاشرے کا قیام بھی ضروری ہے۔ یہاں اصل علمی بحث یہ نہیں کہ ان میں سے کیا کیا جائے‘ بلکہ اصل سوال آغاز اور ترتیب کا ہے کہ سفر کہاں سے شروع ہو!
اس ترتیب ِعمل کو سمجھنے کے لیے اکبر الٰہ آبادی کا یہ شعر ایک مکمل فلسفہ پیش کرتا ہے: ؎
خدا کے کام دیکھو ‘بعد کیا ہے اور کیا پہلے!
نظر آتا ہے مجھ کو بدر سے غارِ حرا پہلے!
غارِ حرا وہ مقامِ تزکیہ ہے جہاں نبوت کی ابتدا ہوئی اوربدر وہ میدانِ عمل ہے جہاں دین کا اجتماعی غلبہ ظاہر ہوا۔ گویا جب تک باطن غارِ حرا کی روشنی سے منور نہ ہو‘ میدانِ بدر میں کامیابی کا خواب ادھورا ہے۔کسی دانشور کا یہ قول نہایت پُر مغز ہے کہ:
" There cannot be an Islamic state without an inner Islamic state"
’’ایک داخلی اسلامی ریاست کے قیام کے بغیر خارجی اسلامی ریاست کا وجود ناممکن ہے۔‘‘
جب تک فرد کے فکر و شعور اور قلب و نظر میں دین کی حاکمیت قائم نہیں ہوتی‘ اجتماعی سطح پر اسلامی نظام کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک بڑی فکری غلط فہمی ہے کہ تزکیہ پر زور دینے والے اقامت ِدین کے مخالف ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہر مؤمن کی قلبی خواہش غلبہ ٔ دین ہی ہے‘ اختلاف محض منہج اور ’طریق کار‘ کا ہے۔ مقصد سب کا ایک ہی ہے: کلمۃ اللہ کی سربلندی۔
تحریکیت بمقابلہ عبادت: ایک مصنوعی تصادم
افسوس ناک امر یہ ہے کہ دورِ حاضر میںعبادت اور تحریکیت کے درمیان ایک مصنوعی جھگڑا کھڑا کر دیا گیا ہے۔ کچھ حلقوں کی جانب سے روایتی دینی شعائر اور عبادات کو’’پوجا پاٹ‘‘ کہہ کر استخفافی انداز میں پیش کیا جاتا ہے‘ یہ کہہ کر کہ مولویوں نے قوم کو محض تسبیح و مناجات میں اُلجھا کر اصل مقصد یعنی سیاسی غلبے سے دور کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سا اسلامی انقلاب ہوگا جو بندگی کی توہین اور عبادات کی تحقیر کی بنیاد پر برپا کیا جائےگا؟ بندگی کا پہلا اور بنیادی تقاضا ہی پرستش ہے؛ اگر بندگی کی یہ روح ہی مفقود ہو جائے تو پھر تحریک محض ایک بے جان سیاسی ڈھانچا بن کر رہ جاتی ہے۔آج کل ایک مخصوص طبقہ روشن خیالی کے زعم میں نوجوانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ: ’’دین کا اصل مفہوم تو اُمت سے چھپا لیا گیا تھا‘ جو اب ہم واضح کریں گے۔‘‘ یہ نام نہاد دانشور بڑے طمطراق سے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دین محض ایک سسٹم (نظام) کا نام ہے‘ جبکہ عبادات و تزکیہ ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔
پڑھے لکھے نوجوان ان کے سحر انگیز اسلوب اورجدید سسٹم کی اصطلاحات سے متاثر ہو کر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ شاید صدیوں سے چلے آنے والے اکابر‘ فقہاء اور صوفیاء دین کو سمجھنے سے قاصر رہے تھے۔ یہ دانشور حضرات جس سسٹم کا ڈھول پیٹ رہے ہیں‘ وہ درحقیقت دین کو محض ایک مادی اور سیاسی نظریے (ideology) میں بدلنے کی شعوری یا لاشعوری کوشش ہے‘ جس میں روح کا کوئی حصہ نہیں۔
عصری تعلیم اورذہنی پستی (Dumbing Down Effect)
علم اور ادب کے باہمی تعلق کے حوالے سے ایک نہایت تشویش ناک پہلو وہ فکری تنزلی ہے جو دورِ حاضر کے تعلیمی منظرنامے میں رچ بس گئی ہے۔ وہ لوگ جو دینی یا دنیاوی کسی بھی نظم ِتدریس سے وابستہ ہیں ‘ان کا یہ عمومی تجربہ ہے کہ حالیہ چند برسوں میں طلبہ کی ذہنی استعداد جس تیزی سے گری ہے‘ اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔
یہ جدید عہد کا Dumbing Down Effect ہے‘ جہاں ہر نیا تعلیمی سال پچھلے سے زیادہ فکری پستی کا شکار نظر آتا ہے۔ یونیورسٹیوں کی اصل صورت حال یہ ہے کہ سائبر ٹیکنالوجی نے ذہن کو مفلوج کر دیا ہے۔ معلومات کی بہتات تو ہے مگر ادراک و تفہیم کا کال پڑ چکا ہے۔ شعور کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے اور اس کے ساتھ ادب کا جنازہ بھی نکل چکا ہے۔
کثرتِ الفاظ اور فقدانِ معنی
امام عبداللہ بن مبارکؒ کا قول اس مخدوش صورت حال میں تازیانے کا کام کرتا ہے کہ: ’’ہم کثیر علم کے مقابلے میں تھوڑے سے ادب کے زیادہ محتاج ہیں‘‘۔ آج ہمارے گرد و پیش میں الفاظ کا ہجوم مگر معانی کا قحط ہے۔ ہم اس دور میں داخل ہو چکے ہیں جس کی بابت رسول اللہ ﷺ نے پہلے ہی متنبہ فرما دیا تھا کہ:’’تم ایک ایسے دور میں ہو جہاں فقہاء زیادہ اور خطباء کم ہیں‘ لیکن ایک وقت آئے گا جب خطیب بہت ہوں گے اور فقیہہ( علم کی گہرائی رکھنے والے) کم۔‘‘
آج چرب زبانی اور لسانی مہارت کو ہی کامیابی کی معراج سمجھ لیا گیا ہے‘ جبکہ بصیرت اور تہذیب کو کوئی پوچھتا تک نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی اُمّت کے لیے جس سب سے بڑے خطرے کی نشان دہی فرمائی‘ وہ ’’علیم اللسان منافق‘‘ (زبان دراز اور فصیح بیان منافق) تھا۔ المیہ یہ ہے کہ لوگوں کی زبان تو شعلہ بار ہے مگر ان کا دل سوزِ ایمانی اور بندگی کی تڑپ سے خالی ہے۔ اکبر الٰہ آبادی نے اس فکری و روحانی تضاد کو ایک ہی مصرعے میں سمو دیا ہے: ’’ہے زباں گرم‘ قلب ٹھنڈا ہے !‘‘
یہ محض ایک مصرع نہیں بلکہ پوری جدید تہذیب کا نوحہ ہے‘ جہاں تقریر و خطاب کی گرمی تو موجود ہے مگر وہ حرارتِ قلبی مفقود ہے جو انسان کو اللہ کے سامنے جھکا دے اور اسے باادب بنا دے۔سبحان اللہ! اب زبان تو خوب رواں ہے ‘ مگر دل میں وہ سوزِ ایمانی مفقود ہے جو کردار کو بدل دے۔ دو دو‘ تین تین گھنٹوں پر محیط طویل تقریریں‘ سحر انگیز لب و لہجہ اور اسٹیج پر ایسی بھرپورپرفارمنس دکھائی جاتی ہے کہ حاضرین دم بخود رہ جاتے ہیں۔ اس تمام تر فکری و تبلیغی مہم کے پس پردہ ایک ہولناک حقیقت پوشیدہ ہے۔ ان خطباء نے اپنا پورا بیانیہ اسلاف اور اکابر کی فہم سے رشتہ توڑ کر قائم کیا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ جب تک نئی نسل اپنے دینی ورثے اور علمائے ربانی کی روایت سے جڑی رہے گی‘ ان کی فکری انفرادیت کا جادو نہیں چل سکے گا۔ لہٰذا‘ ان کی کامیابی کا دارومدار نوجوانوں کو اپنے اکابر سے بدگمان اور بے نیاز کر دینے میں ہی ہے۔
آج کل ایک مخصوص طبقہ نہایت مقبول ہے جو روز مرہ کی بنیاد پر یہ زہر نوجوانوں کے ذہن میں گھول رہا ہے کہ ان کی بربادی کے اصل ذمہ دار تین طبقے ہیں: والدین‘ اساتذہ اور مولوی حضرات۔ گویا نئی نسل کی تمام تر خرابیوں کا ملبہ انہی تین طبقات پر ڈال دیا گیا ہے۔ یہ بیانیہ اب محض ایک رائے نہیں بلکہ باقاعدہ ایک تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔یہ کوئی نہیں سوچ رہا کہ اگر معاشرے سے ان تین ستونوں کا احترام ختم ہو گیا‘ تو دینی و سماجی اقدار کی پوری عمارت زمین بوس ہو جائے گی۔ یہ صورت حال عین اس نبوی پیش گوئی کے مطابق ہے :((اَنْ تَلِدَ الأَمَةُ رَبَّتَهَا))(صحیح مسلم:۸) ’’کہ لونڈی اپنی مالکہ کو جنم دے گی۔‘‘ یعنی اقدار اُلٹ جائیں گی‘ مراتب کا فرق مٹ جائے گا اور رشتوں کا تقدس پامال ہو جائے گا۔
قدیم تہذیبی اصولوں (جیسے کنفیوشس کے پانچ بنیادی سماجی تعلقات) سے اسلامی تعلیمات تک‘ معاشرے کا توازن پانچ رشتوں پر قائم ہے: والدین و اولاد‘ بڑے و چھوٹے بہن بھائی‘ شوہر و بیوی‘ حاکم و رعایا‘ استاد و شاگرد۔ آج جدیدیت اور نام نہاد مذہبی دانشوری کی چادر اوڑھ کر ان تمام رشتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وہی نوجوان جو دین کی تلاش میں نکلے تھے‘ اب اپنے ہی محسنوں (والدین‘ اساتذہ اور علماء) کے خلاف صف آرا ہیں۔
یہ صورت ِحال قلب و نظر کے لیے شدید بے چینی کا باعث ہے۔ اسی لیے اب اس امر کی شدید حاجت ہے کہ ادب پر زور دیا جائے ‘ کیونکہ علم اگر ادب سے عاری ہو جائے تو وہ روح کے لیے زہر بن جاتا ہے۔ علامہ اقبال نے اسی کرب کا اظہار یوں کیا تھا: ؎
نوجوانے را چو بینم بے ادب
روزِ من تاریک می گردد چو شب
’’جب میں کسی نوجوان کو بے ادب دیکھتا ہوں‘ تو میرا دن رات کی طرح تاریک ہو جاتا ہے۔‘‘
انہوں نے سچ کہا تھا کہ جب نوجوان بے ادب ہو جائے تو دن کی روشنی بھی شب کی تاریکی میں بدل جاتی ہے۔ آج کے دور کا سب سے ہولناک المیہ ادب کا تیزی سے مفقود ہونا ہے۔ وہ احترامِ باہمی جو کبھی شاگرد کو استاد سے‘ اولاد کو والدین سے اور اصاغر کو اکابر سے جوڑے رکھتا تھا‘ اب قصۂ پارینہ بنتا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب دل سے محبت رخصت ہو جائے تو وفا اور لحاظ کی خوشبو بھی باقی نہیں رہتی۔ آج زبان میں وہ رعایت رہی نہ لہجے میں وہ جھکاؤ۔ لوگ کوئی لفظ بولنے سے پہلے اس کے اثرات پر بھی غور نہیں کرتے۔
کچھ روز قبل چند احباب کی گفتگو کے دوران جب یہ جملے کانوں میں پڑے کہ ’’میں فلاں کا follower ہوں‘‘ اور’’میں فلاں کو فالو کرتا ہوں‘‘ تو اس فکری تنزلی پر دل لرز اٹھا۔ وہ اُمّت جس کے نوجوان کبھی امام ابو حنیفہ‘ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ جیسے جلیل القدر ائمہ کے پیروکار ہونے پر فخر کرتے تھے‘ آج یوٹیوبرز اور ٹک ٹاکرز کی پیروی کو اپنا اعزاز سمجھ رہی ہے!یہ بلندی سے پستی کی طرف ایک ایسا سفر ہے جس کی ہولناکی کا شعور مفقود ہو چکا ہے۔ لوگ ان الفاظ کے مفہوم پر غور نہیں کرتے کہ وہ کس کو اپنا مقتدا (followed) بنا رہے ہیں۔ کیا کبھی کسی نے سوچا کہ یہ سب محض تفریح نہیں بلکہ باقاعدہ ایک کھیل ہے؟ ایک ایسا کھیل جو دن دہاڑے آپ کے شعور کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔
نائٹ کلبز اور منشیات کی تباہ کاریاں تو سب کو نظر آتی ہیں‘ لیکن اس ذہنی یلغار پر کسی کی توجہ کیوں نہیں جاتی؟ یہ ڈیجیٹل فالوور شپ دراصل ایک گہرا منصوبہ ہے جو آپ کے رشتوں کو کاٹنے‘ آپ کی شناخت مٹانے اور آپ کی روحانی بنیادوں کو متزلزل کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔یہ محض اسکرین پر نظر آنے والا کوئی تماشا نہیں‘ بلکہ ایک منظم عمل ہے جو ہماری اقدار اور معاشرتی ترتیب کو خاموشی سے پیوند ِخاک کر رہا ہے۔ جب معیارِ کامل (Ideals) بدل جاتے ہیں‘ تو پوری تہذیب کا رخ بدل جاتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دیکھیں کہ ہم کس کے پیچھے چل رہے ہیں اور ہماری منزل کیا ہے!
فقہ اور فکر: ایک مصنوعی تقسیم کا فتنہ
عصر حاضر کا ایک عجیب تضاد فقہ اور فکر کے درمیان قائم کی جانے والی مصنوعی binary ہے۔ آج کل یہ تاثر عام کیا جا رہا ہے کہ علمائے کرام اور مولوی حضرات سے محض چھوٹے موٹے فقہی مسائل پوچھ لیے جائیں‘ جبکہ فکری گفتگو کے لیے ان نام نہاد مفکرین کی طرف رجوع کیا جائے جو خود کو اسلامی مفکر کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ گویا دین کا فہم اور بصیرت کسی ایسی مخصوص مخلوق کے پاس آ گئی ہے جو راسخ علم سے عاری مگر جدید اصطلاحات سے لیس ہے۔حقیقت یہ ہے کہ آج ’’فکر‘‘ کا لفظ ایک فیشن بن چکا ہے۔ یہ اصطلاح دراصل استعماری دور کی پیداوار ہے‘ جسے دین کے حقیقی اور راسخ علم سے انحراف کے لیے استعمال کیا گیا۔ بار بار ’’فکر اسلامی‘‘ کی گردان تو کی جاتی ہے‘ مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ علومِ نبوت کی روشنی میں اس اصطلاح کا وجود کہاں ہے!
دنیاوی علوم میں تو ہر شخص کی ایک واضح شناخت ہوتی ہے‘ جیسے سائیکالوجسٹ‘ بیالوجسٹ یا جیالوجسٹ۔ اسی طرح دینی میدان میں بھی محدث‘ فقیہہ‘ مفسر اور متکلم جیسے پختہ عنوانات موجود ہیں۔ آج ہم ’’اسلامک اسکالر‘‘ اور ’’ریسرچ اسکالر‘‘ جیسی مبہم اور من گھڑت شناختوں کے جنگل میں گھر چکے ہیں۔ان خود ساختہ اسکالرز سے اگر کوئی پوچھے کہ آپ کی علمی سند کیا ہے‘ آپ کا استاد کون ہے‘ اور آپ کی علمی نسبت کس روایت سے ہے‘ تو جواب میں خاموشی کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ بس ایک مائیک اور سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم میسر ہے‘ جس کے بل بوتے پر یہ حضرات ہر مسئلے پر فتویٰ دینے اور ہر میدان میں اپنے فکر کا لوہا منوانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ یہ سب دراصل فقہ کی اہمیت کو کم تر دکھانے اور اپنی بے بنیاد سوچ کو بلند مقام دینے کی ایک شعوری کوشش ہے۔
دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ فکری سوالات ان مفکرین سے کیے جائیں‘ حالانکہ اصل علم اور حقیقی معرفت تو فقہ ہی میں پوشیدہ ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہؒ نے فقہ کی جو تعریف فرمائی‘ وہ علم کی گہرائی کا سمندر ہے:
((مَعْرِفَةُ النَّفْسِ مَا لَهَا وَمَا عَلَيْهَا))
’’انسان کو یہ جاننا کہ اس کے لیے کیا ہے اور اس پر کیا ذمہ داری ہے۔‘‘
یہی تفقہ ہی حقیقی علم ہے جو انسان کو اپنی بندگی کا شعور عطا کرتا ہے۔ اگر فقہ کو محض معمولی مسائل کا مجموعہ قرار دے کر مسترد کر دیا جائے اورفکر کے نام پر لا یعنی باتوں کو علم بنا کر پیش کیا جائے‘ تو دین کی اصل روح فنا ہو جائے گی۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ جب بنیادیں ہی کھوکھلی ہوں گی تو اس پر کھڑی ہونے والی فکر کی عمارت کتنی دیر پائیدار رہ سکے گی!
متن سے تصویر تک: انسانی شعور کی تبدیلی
عصر ِحاضر کا ایک نہایت عمیق اور سنگین فتنہ’ ’تصویر‘‘ کا غلبہ ہے۔ ہم ایک ایسی بڑی تبدیلی سے گزر رہے ہیں جہاں انسانی تہذیب متن (text) کے علمی حصار سے نکل کرتصویر (image) کے سحر میں منتقل ہو چکی ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی تبدیلی معلوم ہوتی ہے‘ مگر اس نے انسانی شعور (consciousness) اور اس کے خارجی اظہار‘ یعنی ہماری تہذیب و ثقافت پر نہایت پیچیدہ اور دُور رَس اثرات مرتب کیے ہیں۔ تصویر چاہے جامد (still) ہو یامتحرک (moving)‘ اس کی فتنہ سامانیوں سے آج کوئی شعبۂ زندگی محفوظ نہیں۔تصویر کا سب سے مہلک پہلو یہ ہے کہ یہ انسان کو غیر فعال (passive) بنا دیتی ہے۔ جب ہم کسی تصویر یا ویڈیو کے سامنے ہوتے ہیں‘ تو ہمارا تنقیدی شعور مفلوج ہو جاتا ہے۔ ہم محض ایک تماشائی بن کر اس کے اثرات کو بلا سوچے سمجھے جذب کرنے لگتے ہیں۔
آج کی بڑی بڑی مشہور شخصیات اورcelebrities کی مقبولیت کا طلسم صرف تصویر ہی کا مرہونِ منت ہے۔ اگر آپ کسی نام نہاد اسٹار کی ویڈیو بند کر کے صرف اس کی آڈیو (گفتگو) سنیں‘ تو آپ کو فوراً اندازہ ہو جائے گا کہ ان کی باتوں میں کتنا وزن ہے اور وہ علمی و فکری اعتبار سے کتنے کھوکھلے ہیں۔ یہ امیج کلچر کا جادو ہے جو سطحی باتوں کو بھی معتبر بنا کر پیش کرتا ہے۔فرانسیسی مفکر Guy Debord نے اپنی شہرئہ آفاق کتاب The Society of the Spectacle  میں اس صورت حال کا نہایت گہرا تجزیہ پیش کیا ہے۔ اگر اس اصطلاح کا ترجمہ کیا جائے تو ہم اسے ’’تماش بین سماج‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ یہ وہ معاشرہ ہے جہاں ہر احساس‘ ہر پیغام اور ہر خیال کو ایک امیج کی صورت دے دی گئی ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں مقیم ہیں جہاں حقیقت کے بجائے اس کی تصویر زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ مولانا رومؒ نے صدیوں پہلے اس نفسیاتی بچپن کی کیا خوب نقشہ گری فرمائی تھی:
پس نکو گفت آن حکیمِ کامیار
کہ تو طفلی خانهٔ پُر نقش و نگار
’’کیا خوب بات کہی ہے اس سمجھ دار اور دانا شخص (حکیم سنائیؒ) نے کہ تُو ابھی بچہ ہے اور یہ دنیا محض بچوں کا گھر ہے جو نقش و نگار سے سجا ہوا ہے۔‘‘
ہم اس مادی اور تصویری دنیا کے نقش و نگار میں ایسے الجھے ہیں کہ حقیقت ِابدی سے بیگانہ ہو چکے ہیں۔اگرچہ باری تعالیٰ نے اس کائنات کو فطری زینت عطا فرمائی ہے‘ مگر جدید ٹیکنالوجی نے اس کے متوازی ایک ایسی مصنوعی دنیا کھڑی کر دی ہے جس کی جمالیاتی کشش اور چمک دمک غیر معمولی ہے۔ یہ ڈیجیٹل دنیا نہ صرف سجی سنوری ہے بلکہ نہایت سستی‘ بلکہ تقریباً مفت ہو چکی ہے۔ آج موبائل فون محض ایک آلہ نہیں رہا بلکہ لذتوں کی ایک ایسی متحرک فیکٹری بن چکا ہے جو ہر وقت آپ کی دسترس میں رہتی ہے اور آپ کے شعور کو مسلسل ایک مخصوص ہیجانی کیفیت میں مبتلا کیے رکھتی ہے۔یہی وہ صورت حال ہے جو انسان کو ’’لذتوں کی مشینی دوڑ‘‘ (Hedonistic Treadmill) میں جھونک دیتی ہے۔ یہ ایک ایسی بے سمت تگ و دو ہے جس میں انسان پاؤں تو تیزی سے مار رہا ہوتا ہے مگر کہیں پہنچ نہیں پاتا؛ وہ تھک کر نڈھال تو ہو جاتا ہے مگر رک نہیں سکتا‘ کیونکہ اس راستے پر منزل کا وجود ہی نہیں۔
لذتوں کا یہ طوفان اس قدر شدید ہے کہ اب انسان تصویر اورویڈیو کے اس حد تک عادی ہو چکے ہیں کہ کیمرے کی غیرموجودگی میں ان کی شخصیت ہی معطل ہو کر رہ جاتی ہے۔ کچھ لوگ تو اب زبان ہی تب کھولتے ہیں جب انہیں یقین ہو جائے کہ ان کا ہر لفظ ریکارڈ ہو رہا ہے۔ یہ کوئی مزاحیہ تبصرہ نہیں بلکہ ایک تلخ سماجی حقیقت ہے کہ کیمرہ اب بہت سے افراد کے لیےاظہار کی آکسیجن بن چکا ہے۔ ان کا وجود صرف اسی وقت معتبر ہوتا ہے جب وہ لینز کی گرفت میں ہوں۔ہم نے شعوری طور پر ایک ایسی تماش بین‘ تصویر زدہ اور لذت پرست دنیا کا انتخاب کر لیا ہے جہاں مادی کشش کے سامنے انسان کی روحانیت دم توڑ رہی ہے۔ اس فکری و اخلاقی دیوالیہ پن پر شاعر نے کیا خوب طنز کیا ہے: ؎
دوزخ کے داخلے میں نہیں ان کو عذر کچھ
فوٹو کوئی لگا دے جو ان کا بہشت میں
یہ شعر اس عہد کی عکاسی کرتا ہے جہاں انسان حقیقت سے زیادہ نمائش کا رسیا ہو چکا ہے‘ یہاں تک کہ وہ نمائش کی خاطر ابدی خسارے کا سودا کرنے پر بھی آمادہ ہے۔
مولانا یوسف بنوریؒ نے برسوں پہلے ایک فکر انگیز مضمون تحریر کیا جس کا عنوان تھا: ’’علماء و مصلحین ِاُمّت اور ان کے فتنے۔‘‘اس تحریر کا ایک کلیدی نکتہ ’’ہر دل عزیزی‘‘ (popularity) کا فتنہ ہے‘ جو آج کے دور میں غیرمعمولی شدّت اختیار کر چکا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:
((مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ المَرْءِ عَلَى المَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ)) (سنن الترمذی:۲۳۷۶)
’’دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے گلے میں چھوڑ دیے جائیں تو وہ جتنا نقصان کریں گے‘ اس سے کہیں زیادہ نقصان انسان کے دین کو اس کی مال اور عزت کی حرص پہنچاتی ہے۔‘‘
علماء نے ’حبِ دُنیا‘ کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے: حبِ مال اور حبِ جاہ (شہرت و منصب کی محبت)۔ آج سوشل میڈیا‘ بالخصوص یوٹیوب‘ ان دونوں مہلک خواہشات کی تسکین کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ یہاں فالوورز‘ لائکس اور کمنٹس کی صورت میں جاہ (شہرت) حاصل ہوتی ہے‘ اور دوسری طرف مونیٹائزیشن کے ذریعے ڈالرز کی ریل پیل سے مال کی ہوس پوری ہوتی ہے۔ یہ دوہرا جال انسانی نفس کو آہستہ آہستہ اپنی گرفت میں لے کر اسے ’’ہر دل عزیزی‘‘ کی نفسیاتی بیماری میں مبتلا کر دیتا ہے۔
آج کی ڈیجیٹل دنیا میں کامیابی کا واحد معیاروائرل ہونا اور داد سمیٹنا بن چکا ہے۔ فیس بک اور انسٹاگرام پر یہ کیفیت ہے کہ: ’’من ترا حاجی بگویم‘ تو مرا ملّا بگو‘‘ (میں تمہیں حاجی کہوں‘ تم مجھے ملا کہو)۔ کسی نے محض ایک ادھار لیا ہوا جملہ یا شعر پوسٹ کیا اور فوراً مداحوں کی فوج ’’کمال ہے‘‘ اور’ ’استاد واہ واہ‘‘ کے نعروں کے ساتھ ٹوٹ پڑی۔ ماضی میں ایک عام انسان کو اپنی کسی خوبی پر داد یا شاباشی پانے کے لیے مہینوں یا برسوں انتظار کرنا پڑتا تھا‘ لیکن اب ہر گھنٹے بعد درجنوں لائکس اور تعریفی کمنٹس کا سیلاب امڈ آتا ہے۔ آپ خود سوچیے کہ جس انسان کو ہر وقت مصنوعی بلندیوں پر بٹھایا جائے‘ کیا اس کا دماغ زمین پر رہے گا؟ کیا اس کا نفس فرعونیت کی حد تک نہیں پھول جائے گا؟ یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ مسلسل ثنا خوانی انسان کے تقویٰ اور عاجزی کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔
اگر ہم نیورو سائنس کے پیچیدہ نظریات جیسے Dopamine کے اثرات کو ایک طرف رکھ کر صرف خالص انسانی مشاہدے کی بات کریں‘ تب بھی صورت حال نہایت خطرناک ہے۔ یہ محض ایک سرگرمی نہیں بلکہ ایک نشہ ہے جو انسان کو اپنی ذات کے حصار میں قید کر دیتا ہے۔ جب نمود و نمائش ہی زندگی کا مقصد بن جائے‘ تو اخلاص رخصت ہو جاتا ہے اور انسان محض ایک ایسی پراڈکٹ بن کر رہ جاتا ہے جس کی قیمت صرف اس کے ویوز سے لگائی جاتی ہے۔
ایک مشہور نظریہ ہے کہ’’Medium is the Message‘‘ یعنی جس ذریعے کو آپ اختیار کرتے ہیں‘ وہی آپ کے پیغام کی ہیئت اور اسلوب طے کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر آنے والے کو اب باقاعدہ یہ سکھایا جاتا ہے کہ: • ’’تمہارا Thumbnail ایسا ہیجانی ہو کہ لوگوں کی توجہ کھینچ لے۔‘‘
’’ ویڈیو کے ابتدائی چند سیکنڈز میں وہ ہک (hook) ہو جو لوگوں کو رکنے پر مجبور کرے۔‘‘
• ’’تمہارا لب و لہجہ اور باڈی لینگویج اس میڈیم کی طلب کے مطابق پرفارمنس بن جائے۔‘‘
یہ اب ایک مکمل سائنس ہے جس کے کورسز ہو رہے ہیں اور مارکیٹنگ کمپنیاں چل رہی ہیں۔ اکبر الٰہ آبادی نے اسی علمی زوال کی کیا خوب عکاسی کی تھی: ؎
اِک علم تو ہے بُت بننے کا‘ اِک علم ہے حق پہ مرنے کا
اِس علم کی سب دیتے ہیں سند‘ اُس علم میں ماہر کون کرے؟
آج کا المیہ یہی ہے کہ ہم بُت بننے (یعنی خود کو ایک برانڈ کے طور پر پیش کرنے) کے علم میں تو ماہر ہو چکے ہیں‘ مگر حق پر مٹنے اور مٹ جانے کا وہ علم مفقود ہے جو انسان کو مٹی سے جوڑ کر بندہ بناتا تھا۔عصرِ حاضر میں موٹیویشنل اسپیکنگ اور کامیابی (success) کا جو لٹریچر سیلاب کی طرح پھیل رہا ہے‘ وہ درحقیقت بُت بننے کا علم ہے۔ یہ علم انسان کو اپنی ذات کا معبود بنانے‘ خود کو مرکزِ کائنات سمجھنے اور اپنی انا کی پرستش کا سبق دیتا ہے۔ اس پورے بیانیے میں حق پر مٹنے کا حوصلہ‘ خود کو مٹانے کا جذبہ اور رضائے الٰہی کے لیے گمنامی قبول کرنے کا شعور کہیں نظر نہیں آتا۔
اس پورے لٹریچر کا مرکزی نعرہ (moto) یہ ہے:’’You can do it‘‘(تم سب کچھ کر سکتے ہو!)۔ یہ فلسفہ انسان کو باور کراتا ہے کہ اس کی کامیابی کی راہ میں واحد رکاوٹ وہ خود ہے؛ گویا دولت‘ نام اور شہرت کا نہ ملنا صرف اور صرف انسان کا ذاتی قصور ہے۔
انتہائی افسوس ناک امر یہ ہے کہ موجودہ مادی معاشرے میں غربت کو ایک اخلاقی جرم کی صورت دے دی گئی ہے۔ ہر دوسرارہبر کامیابی (success guru) بل گیٹس کا یہ جملہ دہراتا نظر آتا ہے:
" If you’re born poor, it’s not your fault. But if you die poor, it’s your fault."

’’اگر تم غریب پیدا ہوئے تو یہ تمہاری غلطی نہیں‘ لیکن اگر تم غریب مرے تو یہ سراسر تمہاری اپنی غلطی ہے۔‘‘
یعنی غربت کو ایک اخلاقی جرم بنا دیا گیا ہے‘ اور دولت کمانا گویا ایک مقدس ہدف۔ ہم نے اس معاشرے میں امارت کو عزت اور غریبی کو شرمندگی بنا دیا ہے۔ اس سوچ نے دولت کے حصول کو ایک’ ’مقدس ہدف‘‘ بنا دیا ہے۔ ایک ایسا سماج تشکیل دے دیا گیا ہے جہاں امارت عزت کا معیار ہے اور غریبی شرمندگی کا نشان۔ جو لوگ کل تک اپنی حد سے بڑھی ہوئی دولت کی وجہ سے شرمندگی یا جھجک محسوس کرتے تھے‘ آج انہیں آئیکون اور آئیڈیل بنا کر نوجوانوں کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔
جب کامیابی کا پورا فلسفہ صرف مادیت اور اعداد و شمار کے گرد گھومنے لگے‘ تو انسان کے اندر سے قناعت‘ توکل اور شکر جیسے اعلیٰ اوصاف رخصت ہو جاتے ہیں۔ یہ لٹریچر انسان کو ایک ایسی لامتناہی دوڑ میں لگا دیتا ہے جہاں سکون نام کی کوئی چیز نہیں۔ ’’تم کر سکتے ہو‘‘ کا نعرہ دراصل انسان کو اپنی بندگی کی حدود سے نکال کر خدائی کے دعوے کی طرف لے جانے کی ایک نفسیاتی کوشش ہے۔
پس چہ باید کرد؟ گمنامی کی فضیلت اور پندارِ ذات کا علاج
اس تمام فکری انتشار اور ڈیجیٹل مادیت کے غلبے کے بعد اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ: پس چہ باید کرد (اب ہمیں کیا کرنا چاہیے)؟ اس کا واحد حل اپنے اسلاف کی اُس روایت کی طرف پلٹنا ہے جہاں انہوں نے ’’کتاب التواضع والخمول‘‘ جیسی تصانیف کے ذریعے انسانی نفس کی تربیت کی۔’’خمول‘‘ کا مفہوم ہے:گمنامی اختیار کرنا۔ یعنی جان بوجھ کر نظروں سے اوجھل رہنا اور شہرت کی ہوس سے دامن بچانا۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی حکمت سے کسی کو مقبولیت عطا فرما دے تو وہ اس کا انتظامی معاملہ ہے‘ مگر خود بندے کے دل میں یہ جذبہ پیدا ہو جانا کہ ’’لوگ مجھے جانیں اور پہچانیں‘‘ وہ مہلک مرض ہے جس نے آج دین کے طالب علموں کو بھی اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے علم کے حصول میں نیت کے بگاڑ پر سخت تنبیہہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:
((مَنْ طَلَبَ العِلْمَ لِيُجَارِيَ بِهِ العُلَمَاءَ اَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ اَوْ يَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ اَدْخَلَهُ اللّٰهُ النَّارَ)) [سنن الترمذی:۲۶۵۴]
’’جس نے علم اس لیے حاصل کیا کہ اس کے ذریعے علماء سے برابری کرے‘ بے وقوفوں سے تکرار کرے‘ یا لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائے تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کرے گا۔‘‘
سوشل میڈیا کا موجودہ ڈھانچا اس حدیث میں بیان کردہ فتنوں کا مکمل عملی نمونہ بن چکا ہے۔ اب ہر شخص اس دوڑ میں مگن ہے کہ لوگ اسے سنیں‘ اسے دیکھیں اور اس کی ویڈیوز یا اقتباسات پر داد دیں۔ خمول اور انکساری اب قصۂ پارینہ بن چکے ہیں۔ فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز دراصل وہ ڈیجیٹل آئینے ہیں جہاں انسان ہر لمحہ اپنے سوشل امیج کا طواف کرتا ہے اور لوگوں کی توجہ سمیٹ کر نہال ہوتا ہے۔
خود پسندی کے اس فتنۂ عظیم پر زیب النساء مخفی (دختر اورنگ زیب عالمگیر) کا ایک واقعہ نہایت سبق آموز ہے۔ ان کے پاس چینی مٹی کا ایک نہایت نفیس اور قیمتی آئینہ تھا جو ایک روز ان کی باندی کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیا۔ باندی نے خوف اور حسرت کے عالم میں یہ مصرع پڑھا: ع
اَز قضا آئینۂ چینی شکست’’قسمت سے چینی آئینہ ٹوٹ گیا۔‘‘
شہزادی زیب النساء نے جب یہ دیکھا تو نہایت تحمل اور درویشانہ شان سے جواب میں دوسرا مصرع لگایا:ع
خُوب شُد! سامانِ خُود بینی شکست’’بہت اچھا ہوا کہ خود کو دیکھنے کا سبب ہی ختم ہو گیا۔‘‘
یعنی آئینہ ٹوٹنا افسوس کی بات نہیں بلکہ مسرت کا مقام ہے کہ اب میں بار بار اپنی صورت دیکھ کرخود بینی (اپنی ذات میں مگن ہونا) کے فتنے سے محفوظ رہ سکوں گی۔
سائبر ورلڈ دراصل اسبابِ خود بینی کا ایک جدید اور پیچیدہ مظہر ہے۔ یہاں انسان نادانستہ طور پر اپنے ہی بنائے ہوئے ڈیجیٹل بت کی پوجا میں مصروف ہو جاتا ہے۔ وہ بڑی تگ و دو سے اپنے عکس کو سجاتا ہے‘ اسے سنوارتا ہے اور دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے؛ پھر اسی مصنوعی عکس کے گرد طواف کرتے ہوئے اپنی پوری توانائی صرف کر دیتا ہے۔ یہ تصویری دنیا انسان کو ایک ایسے نفسیاتی خول میں بند کر دیتی ہے جہاں اسے اپنی ذات کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ وہ صرف اپنی ستائش سننا چاہتا ہے اور اس کی تڑپ ہوتی ہے کہ کائنات کی تمام نگاہیں اسی کے وجود پر مرکوز رہیں۔
اس مہلک کیفیت کا سب سے مؤثر اور فطری علاج یہ ہے کہ آدمی اپنے ذوق اور طبع میں گمنامی کو جگہ دے۔ شہرت کی ہوس سے دامن بچانا اور گوشہ نشینی کو ایک الٰہی نعمت تصور کرنا ہی وہ ڈھال ہے جو انسان کو خود پرستی سے بچاتی ہے۔
اگر باری تعالیٰ اپنی حکمت سے کسی کو کسی بڑے مقصد کے لیے منتخب فرما لے‘ یا مستند اکابر کوئی بھاری
ذمہ داری تفویض کر دیں‘ تو وہ ایک انتظامی ضرورت ہے؛ لیکن خود سے آگے بڑھنا‘ اپنی ذات کو پیش کرنا اور خود کومرکز ِنگاہ بنانا نفس کے لیے ایسا زہر ہے جو انسان کی روحانیت کو آہستہ آہستہ فنا کر دیتا ہے۔سلامتی کا راستہ صرف یہی ہے کہ انسان خود نمائی سے گریز کرے۔ بندگی کا اصل مزاج یہ ہے کہ وہ اپنی مرضی کو اپنے بڑوں (اکابر و مصلحین) کے تابع کر دے۔ وہ کچھ کرے تو ان کے ایماء پر‘ اور اگر وہ خاموش رہنے کا اشارہ کریں تو خاموشی ہی کو اپنی معراج سمجھے۔ یہی وہ تفویض اورتسلیم ہے جو ایک عام انسان کوبندۂ حق کے مرتبے پر فائز کرتی ہے۔
جو شخص خود کو ایک خود مختار وجود (autonomous being) تصور کر کے زندگی کا ہر فیصلہ محض اپنی عقل اور مرضی کی بنیاد پر کرتا ہے‘ وہ بالآخر شدید ذہنی دباؤ (depression) اور پچھتاوے کا شکار ہو جاتا ہے۔
عصرِ حاضر میں نوجوانوں کے لیے زندگی کا اہم ترین موڑ ازدواجی زندگی کا انتخاب ہے۔ مشاہدہ بتاتا ہے کہ پسند کی شادی کی ناکامی انسان کو اس لیے زیادہ توڑ دیتی ہے کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس فیصلے کا تمام تر بوجھ اس کی اپنی ذات پر تھا۔ اس کے برعکس‘ بڑوں کے مشورے اور مرضی سے طے پانے والے رشتے میں اگر کوئی تلخی آ بھی جائے‘ تو انسان کو یہ نفسیاتی سہارا میسر ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ بڑوں کا تھا۔ یہی احساس اسے اندرونی طور پر ٹوٹنے سے بچاتا اور مضبوط رکھتا ہے۔مشہور مفکرہ Hannah Arendt نے اسی انسانی نفسیات کی کیا خوب ترجمانی کی ہے:
" We can't bear the agony of freedom."

’’ہم آزادی کی اذیت برداشت نہیں کر سکتے۔‘‘
جب فیصلے کی مکمل ذمہ داری فرد کے کندھوں پر ہوتی ہے‘ تو وہ اس بوجھ تلے دب کر بکھرنے لگتا ہے۔ سلامتی اور سکون صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب انسان خود کو بڑوں کی فکری و سماجی حفاظت میں دے دے۔دین اسلام جس شخصیت کی آبیاری کرتا ہے‘ اس کا حسن ہی یہ ہے کہ آدمی گمنام رہنے کو شہرت پر ترجیح دے اور اپنے نفس کی بڑائی سے بچے۔ اسلاف نے ’’کتاب التواضع والخمول‘‘ جیسی تصانیف اسی لیے رقم کیں تاکہ انسان کو سکھایا جا سکے کہ ’خمول‘ (گمنامی) نفسانی آلودگیوں سے بچنے کی بہترین ڈھال ہے۔ جو شہرت کے پیچھے دوڑتا ہے‘ وہ نادانستہ طور پر اپنے ہی نفس کی پرستش میں مبتلا ہو جاتا ہے۔آج سوشل میڈیا نبوی انتباہ کا زندہ مظہر بن چکا ہے۔ جب انسان علم یا عمل کو محض لوگوں کی توجہ سمیٹنے (يَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ) کا ذریعہ بنا لے‘ تو وہ حبِ جاہ اورحبِ مال کے اس شکنجے میں کسا جاتا ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے دین کی بربادی کے لیے ’’دو بھوکے بھیڑیوں‘‘ سے تشبیہ دی ہے۔ان تمام فکری و نفسیاتی فتنوں سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنے وجود کو کلمۂ توحید کی مرکزیت میں لائیں اور اپنی مستند علمی روایت سے جڑے رہیں۔ جب تک ہماری جڑیں اپنی اصل سے پیوست ہیں‘ ہم جدیدیت کے ان طوفانوں میں بھی ثابت قدم رہ سکتے ہیں۔