تعلیم کے اوّلین اُصول(۳)First Principles of Education
از: ڈاکٹر محمد رفیع الدین
مترجم:پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف اعوان
اوپر دیے گئے ڈیوی (کی کتابوں) سے اقتباسات واضح کرتے ہیں کہ اُس کے مطابق ( اور یہاں ڈیوی مکمل طور پر درست ہے) کسی طبقے کا نصب العین اپنے افراد کے عقائد‘ مقاصد‘ خواہشات‘ توقعات‘ اُمیدوں‘ معیارات‘ جذباتی اور علمی میلانات‘آراء‘ رسموں‘ ارادوں‘ رویوں‘ مطالبات‘ اہداف‘ دلچسپیوں‘ نفرتوں اور رغبتوں‘ پسندیدہ اور ناپسندیدہ چیزوں اور ردّو قبول کے میلانات سے اپنے آپ کا اظہار کرتا ہے۔ یہ واضح ہے کہ کسی سماجی نصب العین کے اِن نفسیاتی مظاہرات میں سے ہر ایک کسی ایسے تصور کا نتیجہ ہوتا ہے جو سماجی طبقے کے لیے اِس اَمر کا معیار ٹھہرتا ہے کہ اَچھا کیا ہے اور برا کیا ہے‘ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے‘ خوش نماکیا ہے اور بدنما کیا ہے! دوسرے لفظوں میں کسی طبقے کا سماجی نصب العین کسی ایسی شے کا تصور ہوتا ہے کہ جس کے ساتھ سماجی طبقہ حسن‘ اَچھائی‘ نیز سچائی کی خوبیاں منسوب کرتا ہے اور غلط یا صحیح (بہر حال) اِس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اِس میں یہ خوبیاں بدرجۂ اَتم موجود ہیں۔ یہی یقین ہے جو ایک طبقے کے افراد کو جوڑ کر رکھتا ہے اور اُن کی سماجی زندگی کو ممکن بناتا ہے۔ اِس بات کے پیشِ نظر ہم یہ توقع رکھ سکتے تھے کہ کسی نصب العین کی تعلیمی قدر و قیمت کی جانچ کے لیے کوئی پیمانہ ایجاد کرتے ہوئے ڈیوی خود اپنے ہی قائم کردہ قضیوں سے اِس نتیجے پر پہنچتاکہ اِس کی قدر و قیمت کی پیمائش اُسی خاص سطح کی ہو سکتی ہے جس سطح کی کوئی نصب العین حسن‘ خیر اور صداقت کی خوبیاں رکھتا ہے‘ اور ایک ایسا نصب العین جو بدرجہ ٔاَتم اِن خوبیوں کا حامل ہو وہی تعلیمی لحاظ سے بہترین ہو گا ۔تاہم بدقسمتی سے ڈیوی خود اپنے ہی فرضیے کے مضمرات کو نہ سمجھ سکا اور کسی نصب العین کی جانچ کے لیے ایک ایسا پیمانہ تجویز کر دیتا ہے جس کی اُس کے اساسی نظریۂ تعلیم سے کوئی مناسبت نہیں۔ اُس کے نزدیک یہ پیمانہ دو پہلوئوں پر مشتمل ہے:
(۱) وہ مشاغل کتنے کثیر التعداد اور متنوع ہیں جن میں لوگ دانستہ شرکت کرتے ہیں؟
(۲) رفاقت کی دیگر صورتوں کے ساتھ کتنا بھر پور اور آزادانہ ربط و ضبط ہے؟
ڈیوی کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بہترین سماجی نصب العین اُس طبقے کا ہے جس کے افراد دانستہ طور پر زیادہ سے زیادہ مشاغل میں ایک دوسرے کو حصے دار بناتے ہیں اور جو (طبقہ) دیگر طبقوں کے ساتھ بہت زیادہ تعاون پر مبنی رابطہ رکھتا ہے۔ یہ اَمر واضح ہے کہ اُس کی کسوٹی کے اِن دو عناصر میں سے کوئی بھی عنصر کسی نصب العین کی قدر و قیمت کو ظاہر نہیں کر سکتا۔
آغاز پہلے عنصر کی جانچ پرکھ سے کرتے ہیں۔ فرض کریں ایک خاص رنگ کے افراد‘ ایک خاص نسل سے تعلق رکھنے والے‘ ایک خاص زبان بولنے والے‘ اور مخصوص جغرافیائی حدود کے اندر رہنے والے لوگ ایک غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنے آپ کو سچے دِل سے یہ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں کہ وہ دنیا کی ایسی بہترین مخلوق ہیں جس کا یہ حق ہے کہ دنیا کی بھلائی کی خاطر دوسرے انسانوں کی قیمت پر زندہ رہیں‘ نشوونما پائیں‘ پھلیں پھولیں اور اپنی نسل میں اضافہ کریں‘ تاکہ خدا کی زمین انسانیت کی بہترین نسلوں سے جتنا جلد ممکن ہو آباد ہو جائے۔ایسے لوگوںکے اَمن اور خوش حالی کا ایک زمانہ ہوتا ہے جس کے دوران میں وہی سائنس اور ٹیکنالوجی (کے علوم) میں ترقی کرتے ہیں اور دوسری سرزمینوں پر حملہ آور ہونے اور (انہیں) زیر کرنے کے لیے دھاوا بولنے والے طاقت وَر ہتھیار بناتے ہیں ‘اور ایسا وہ مفتوح سرزمینوں کے باشندوں کو مغلوب کرنے اور غلام بنانے کے لیے‘ لوٹنے اور اُن کا استحصال کرنے کے لیے‘ مادی اور ثقافتی طور پر انہیں کنگال کرنے کے لیے کرتے ہیں‘ یہاں تک کہ وہ تباہ و برباد ہو جائیں اور اپنے وطن فاتحین کے حوالے کر دیں۔ وہ اِس نوع کے دھندوں میں صدیوں کامیاب ہوتے رہتے ہیں۔ سب اَچھے لوگوں کے نقطۂ نظر کے مطابق بلاشبہ یہ تہذیب یافتہ ڈاکوئوں کے ایک طبقے کا انسانی برادری کو ایک وسیع پیمانے پر مہارت سے قتل کرنے اور لوٹ کھسوٹ کرنے کی ایک طویل کارروائی ہے۔
اگر دنیا کے اِن دیانت دارمگر گمراہ خیر خواہوں کا یہ طبقہ حقیقتاً اپنے نصب العین سے محبت کرتا ہے اور توسیع کے اُس پروگرام کو آگے بڑھانا چاہتا ہے جو اِس کا تقاضا ہے تو وہ اِس اَمر کی کوشش کرے گا کہ کامیابی کے ساتھ اپنی ہم آہنگی‘ اتحاد اور استحکام کی سطح کو جس حد تک ممکن ہو قائم رکھے۔ چنانچہ اُن کی خواہش ہو گی کہ مقاصد اور مختلف النوع مشاغل کا زیادہ سے زیادہ تعداد میں آپس میں تبادلہ کریں۔ اُن کی یہ خواہش اپنے مشترکہ نصب العین سے اُن کی محبت کے باعث بِلا مزاحمت آسانی سے پوری ہو جائے گی۔ اُن کے مشاغل‘ اہداف اور مقاصد ایک جیسے اور یکساں ہوں گے‘ کیوں کہ وہ سب ایک ہی نصب العین کی پیداوار ہیں۔ تا ہم کیا یہ اَمر ِواقعہ اِس بات کی علامت ہو گا کہ اُن کا نصب العین قدر و قیمت کا حامل اور بجا طور پر تعلیمی افادیت کا حامل ہے؟
ڈیوی اِس موقف کی حمایت کرتا ہے اور یوں اپنی ہی تردید کرتا ہے اور اپنے ہی قائم کردہ معیار کی نفی کر دیتا ہے جب وہ کہتا ہے:
’’جتھوں کی نشان دہی ‘برادرانہ احساسات اور چھوٹے گروہوں کی نشان دہی اپنے ضابطوں سے شدید وفاداری سے ہوتی ہے۔ خاندانی زندگی کی نشان دہی خاندان سے باہر کے لوگوں سے امتیاز‘ بدگمانی اور حسد سے ہوتی ہے ‘تاہم اِس کے باوجود (خاندانی زندگی) اندر سے محبت اور باہمی اعانت کا نمونہ ہوتی ہے۔ افراد کی کوئی جماعت جو بھی تعلیم دیتی ہے اِس کے اندر اپنے افراد کو اپنے رنگ میں رنگنے کا رجحان ہوتا ہے‘ تاہم اِس میل جول کی قدر و قیمت اور خوبی کا انحصار جماعت کے مقاصد اور عادات پر ہے۔‘‘
وہ اِس سے زیادہ صاف لفظوں میں نہیں کہہ سکتا تھا کہ کسی سماج کی قدر و قیمت کا جائزہ اِس بات سے قطعاً نہیں لیا جائے گا کہ اِس کے افراد کے مشترکہ مفادات کی تعداد یا انواع کیا ہیں‘ بلکہ اِس اَمر کا فیصلہ اِس کے اخلاقی وصف یا اِس کے مقاصد اور نصب العینوں کے حسن‘ اَچھائی اور صداقت کے معیار سے ہو گا۔ یقیناً اگر کسی طبقے کے مفادات جو کہ بِلاشبہ اِس کے مقصد سے اَخذ شدہ یا ہم آہنگ ہوتے ہیں‘ پست اور گھٹیا ہوں تو وہ صرف اِس وجہ سے قابلِ قدر نہیں ہوسکتے کہ اِن (مفادات) کی ایک بہت بڑی تعداد اِس (طبقے) کے افراد کی مشترکہ ملک ہیں۔
اِسی طرح کا معاملہ ڈیوی کے قائم کردہ معیار میں دوسرے عنصر کے ساتھ بھی ہے۔یوں لگتا ہے کہ ڈیوی یہ سوچتا ہے کہ تعلیم چوں کہ ایک سماجی عمل ہے اِس لیے وہ سماجی طبقہ ہی بہترین تعلیم فراہم کرنے کی اہلیت رکھتا ہے جو بحیثیت مجموعی کسی سماجی طبقے کو دیگر سماجی طبقوں کے ساتھ خارجی سماجی میل ملاپ کے بہترین مواقع فراہم کرتا ہے۔ تاہم بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اُس نے اِس سے قبل اپنی کہی ہوئی اِس بات کو نظر انداز کردیا کہ اُس سماجی عمل کا جسے ہم تعلیم کہتے ہیں ‘مقصد ِ وحید کسی سماجی طبقے کے عقائد اور نصب العینوں کو نسلِ نو تک منتقل کرنا ہے۔ اِس عمل کو شروع کرنے والی اور برقرار رکھنے والی قوت وہ جذبۂ محبت ہے جو ایک سماجی طبقہ اپنے نصب العین کے ساتھ رکھتا ہے۔ یوں یہ عمل صرف اِسی جذبۂ محبت کی خدمت گزاری میں اور اِس کی قائم کردہ حدود کے اندر عمل کرتا اور فروغ پاتاہے۔ کسی سماجی گروہ کا دوسرے سماجی گروہوں کے ساتھ میل ملاپ یا باہمی تعاون چاہے کتنا ہی بھرپور اور آزادانہ کیوں نہ ہو‘ ہمیشہ اپنے نصب العین کے تقاضوں کے تابع ہوتا ہے۔ چنانچہ اِس (میل ملاپ اور باہمی تعاون) کا معیار اور نتیجہ اِس (گروہ) کے اپنے حق میں اور دیگر سماجی گروہوں کے حق میں کیا ہوتا ہے‘ اِس بات کا انحصاراُس نصب العین کے اخلاقی معیار پر ہوتا ہے۔ ایک سماجی طبقے کا وجود اس حقیقت سے منسلک ہوتا ہے کہ وہ ایک خاص نصب العین کے مکمل طور پر خیر‘ حسن اور صداقت پر مبنی ہونے پر یقین رکھتا ہے۔ چنانچہ اِس کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہتی کہ یہ دیگر سماجی طبقوں کے ساتھ بھرپور اور آزادانہ میل ملاپ یا باہمی تعاون کے باوجود اُن سے کچھ سیکھے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں اُن (دیگر طبقوں) کے پاس بھلااِس کے اپنے نصب العین سے بڑھ کرحسن‘ خیر اور صداقت کی صورت کیا ہو سکتی ہے کہ اُن سے کچھ سیکھا جائے!
یہ زیادہ سے زیادہ اُن سے اپنے پہلے سے قائم کیے ہوئے عقائد اور نصب العینوں کو پورا کرنے کے نئے طریقے سیکھ سکتا ہے‘ جیسے کہ یہ عام طور سے فطرت کے مطالعے سے بھی سیکھ سکتا ہے۔ چنانچہ دیگر طبقوں کے ساتھ اِس کا میل ملاپ اور ربطِ باہمی کبھی بھی مکمل طور پر بھرپور اور آزادانہ نہیں ہوتا۔ اِس پر ہمیشہ خفیہ تحفظات اور توقعات کا پہرا ہوتا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اِس (میل ملاپ) کے پیچھے دوسرے طبقوں کے نصب العینوں کے لیے (دل میں) پوشیدہ نفرت بلکہ دشمنی ہوتی ہے۔ اگر ایک سماجی طبقے کا نصب العین گھٹیا اور پست ہے تو اِس کا دیگر سماجی طبقوں کے ساتھ میل ملاپ یا تعاونِ باہمی ہم چاہے کتنا ہی بھرپور اور آزادانہ تصور کر لیں‘ دوسروں کے لیے ضرررساں اور صرف اپنے اہداف کی تحصیل کے لیے ہوگا ‘اور واحد فائدہ جو اس (گھٹیا اور پست نصب العین کے حامل سماجی طبقے)سے دوسرے سماجی طبقوں کو مل سکتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ سماجی طبقہ دوسرے سماجی طبقوں کو نقصان نہ پہنچائے جب کہ اِس کام سے یہ اپنے آپ کو روک نہیں سکتا۔ یوں ایک ایسے سماجی طبقے کے لیے‘ جس کی مثال اوپر دی جا چکی ہے‘ اپنے نصب العین کی تحصیل کے لیے یہ اَمر ناگزیر ہو گا کہ اپنی کارگزاری اور قوت کے لیے نہ صرف مکمل داخلی ہم آہنگی اور مفادات کے ربط وضبط کو قائم رکھے بلکہ اُن دیگر سماجی طبقوں کے ساتھ بھی خاطر خواہ تعاونِ باہمی پیدا کرے جو عنقریب اِس کے جھانسے میں آنے والے ہیں‘ تاکہ اُن سے معاشی مفادات حاصل کیے جائیں‘ نیز اُن کو زیادہ سے زیادہ سمجھنے کا موقع ملے۔ یہ (گھٹیا اور پست نصب العین کا حامل سماجی طبقہ) اِس قِسم کے میل ملاپ کے نتیجے میں جتنا زیادہ انہیں جاننے اور انہیں سمجھنے کا اہل ہوگا اتنی ہی بہتر اہلیت کے ساتھ اُن کا استحصال کرے گا اور انہیں فرضی انسانی فلاح کے نام پر کچل کر رکھ دے گا۔ چنانچہ یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اگر ایک نصب العین دوسرے سماجی طبقوں کے ساتھ راہ و رسم کا تقاضا کرتا ہے تو ضروری نہیں کہ یہ اِس کے قابلِ قدر ہونے کا اشارہ ہو۔ اس (نصب العین کے حامل سماجی طبقے) کو اپنی قوتوں کی نشوونما کے لیے بہر صورت اِن باہمی رابطوں کی ضرورت ہے۔ اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ اِس کا (نصب العین) قابلِ قدر ہے یا نہیں ہے‘ اَچھا ہے یا برا ہے‘ سچا ہے یا جھوٹا ہے‘ درست ہے یا غلط ہے۔ ڈیوی مزید لکھتا ہے:
’’ہمارے معیار میں مذکور دونوں عناصر جمہوریت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔‘‘
اوپر ہم دیکھ چکے ہیں کہ درحقیقت اِن میں سے کوئی بھی (عنصر) کسی خاص نصب العین کی نشان دہی نہیں کرتا۔ تاہم اگر مناسب طریقے سے دیکھا جائے تو وہ کسی سماجی نصب العین کی دو خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو کہ عمومی اور تمام سماجی نصب العینوں میں یکساں ہیں‘ یعنی (کسی نصب العین کا) اَچھا یا برا ہونا‘ قابلِ قدر ہونایا ناقابلِ قدر ہونا۔ ایک سماجی طبقہ چاہے یہ جمہوریت‘ آمریت یا بادشاہت کے نام سے موسوم ہو‘ اپنی فطری صنعت اور اُن قوانین کی رو سے جو اِسے تخلیق کرتے اور قائم رکھتے ہیں‘ اِس اَمر کا رجحان رکھتا ہے کہ داخلی طور پر متجانس ہو جائے۔ نیز یکساں مقاصد کے پیشِ نظر اپنے افراد کو اِس بات پر راغب کرے کہ آپس میں جس حد تک ممکن ہو‘ مفادات کی تعداد اور اِن کی مختلف صورتوں کا تبادلہ کریں۔ گویا یہ (سماجی طبقہ) ایسا (معاشرہ) بن جانے کی طرف مائل ہوتا ہے کہ جس میں عوام کی حکومت‘ عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے ہو۔ جمہوریت‘ آمریت اور بادشاہت تو محض مختلف شکلیں ہیں جس میں یہ میلان زیر ِعمل آتا ہے ۔آیا یہ کامیابی کے ساتھ عملی صورت اختیار کرے گا یا نہیں‘ اِس کا انحصار اتنا حکومت کی اُس ہیئت پر نہیں ہے کہ جس کے ذریعے یہ زیرِ عمل آتا ہے جتنا کہ اُس قیادت کے معیار پر ہے جو اِس کے عملی اطلاق کے لیے اقدامات کرتی ہے۔ایک ایسی حکومت جو بعض آداب و رسوم کی پاس داری کے نتیجے میں بزعمِ خویش جمہوری ہونے کی دعوے دار بنتی ہے ‘اُس کے متعلق گمان ہوتا ہے کہ وہ اِسے عوام کی حکومت‘ عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے بنائے گی۔ تاہم ہو سکتا ہے کہ وہ قطعاً ایسی حکومت نہ ہو جب کہ ایک آمرانہ حکومت چاہے وہ اِن آداب و رسوم کی مظہر نہ ہو‘ ایسی حکومت (کہلانے کی مستحق) ہو سکتی ہے۔ ایسی حکومت کے ماتحت افراد کے مشترکہ مفادات اُس جمہوری حکومت کی نسبت کہیں زیادہ اور متنوع ہو سکتے ہیں جس پر ڈیوی کی جمہوریت کی تعریف کا اطلاق ہوتا ہے۔ اِسی طرح ایک سماجی گروہ چاہے اپنے آپ کو جمہوری کہلاتا ہے یا نہیں‘ دوسرے گروہوں کے ساتھ اتنے ہی بھرپور اور آزادانہ میل ملاپ کا میلان رکھتا ہے جتنا کہ اِس کا نصب العین اِسے اجازت دیتا ہے‘ تاکہ اپنے مفادات کو آگے بڑھانے اور ترقی دینے کے قابل ہو سکے۔
ڈیوی بعض اوقات جمہوریت پر گفتگو ایک سماجی نصب العین کے طور پر اور بعض اوقات سماجی نصب العین کی تکمیل کے لیے ایک سماجی طرزِ حیات کے طور پر کرتا ہے اور اکثر گول مول الفاظ میں دونوں کو ایک جیسا سمجھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کلی طور پر ایک سماجی نصب العین نہیں ہے۔ یہ نصب العین کا صرف وہ حصہ ہے جس کا تعلق اُس طرزِ حکومت سے ہے جو کہ ایک سماجی طبقہ اپنے نصب العین کی تکمیل کے لیے اختیار کرتا ہے۔
کسی سماج کا احوال بیان کرنے کے لیے یہ کہہ دینا کہ وہ جمہوری ہے‘ کافی نہیں۔ مزید برآں ہمیں یہ بتانا پڑے گا کہ وہ نصب العین کیا ہے جو اس نے جمہوری طرزِ حکومت کے ذریعے حاصل کرنے کے لیے اختیار کیا ہے۔ ہمارے اپنے زمانے میں تمام جمہوریتیں قومی ریاستیں ہیں اور اِن میں سے ہر ایک کا نصب العین کسی نوع کی قومیت ہی ہے‘ مثلاً امریکی قومیت‘ فرانسیسی قومیت‘ اطالوی قومیت اور انگریز قومیت‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ اِن میں سے ہر ایک کا مقصد اُس خاص قوم کے مفادات کو تحفظ دینا اور ترقی دینا ہے جس کے ساتھ یہ اپنی شناخت کراتی ہے۔ آیا ایک جمہوری معاشرہ ایک ایسا سماجی ماحول مہیا کرنے کے اہل ہوتا ہے کہ جوبہترین معیار کی تعلیم دینے کے لیے ضروری ہے۔ اس بات کا انحصار اس اَمرِ واقعہ پر ہے کہ آیا اِس کا نصب العین تعلیمی لحاظ سے بہترین معیار کا ہے یا نہیں! کیا قومیت (Nationalism)اِس نوع کا نصب العین ہے؟ ڈیوی محسوس کرتا ہے کہ نہیں ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ (قومیت کا تصور) اِس قدر تنگ دامن اور محدود ہے کہ تعلیمی افادیت کا حامل نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے:
’’کسی جمہوری معاشرے میں تعلیم کے بنیادی مسائل میں سے ایک مسئلہ وہ ہے جو قومی اور وسیع تر سماجی مقصد کی آویزش کا پیدا کردہ ہے ....... یورپ میں خاص طور پر براعظمی ریاستوں میں انسانی فلاح اور ترقی کے لیے تعلیم کی اہمیت کے نئے تصور کو قومی مفادات نے گرفت میں لے لیا اور اِسے ایک ایسا کام کرنے کے لیے بروئے کار لایا گیا جس کا سماجی مقصد یقیناً وسعت ِنظری سے عاری اور جاہ پسندانہ تھا۔ تعلیم کے سماجی مقصد اور اِس کے قومی مقصد کو ایک ہی سمجھ لیا گیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ سماجی مقصد کا معنی و مفہوم بہت زیادہ دھندلا گیا۔ یہ بدحواسی انسانی میل جول کی موجودہ صورتِ حال کے مطابق ہے۔ ایک طرف تو سائنس‘ کامرس اور صنعت و حرفت قومی جغرافیائی حدود سے آگے نکلتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں اور دوسری طرف سیاست کے میدان میں قومی خودمختاری کے تصور پر اتنا زورکبھی نہیں دیا گیا جتنا کہ موجودہ دور میں یہ تصور شدید صورت اختیار کر گیا ہے۔ (مفادات کا) یہ تصادم (فلسفہ ٔ) تعلیم کی پرکھ اور تفاعل کے لحاظ سے تعلیمی نظریے کے سماجی معنی و مفہوم کا اَب تک حاصل ہونے والے تصورات کی نسبت زیادہ واضح تصور کا تقاضا کرتا ہے۔‘‘
نیز (اِس جمہوری سماج میں ) یہ بھی کمی ہے کہ اِس کا قومی وفاداری اور حب الوطنی کا جذبہ اُن بلند و بالا اعتقادات سے مناسب موافقت نہیں رکھتا۔ (اعتقادات) لوگوں کو قومی سیاسی جغرافیائی حدود سے قطع نظر مشترکہ مقاصد بندھن میں باندھ دیتے ہیں۔چنانچہ ڈیوی ایک سوال کرتا ہے:
’’کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی قومی ریاست ایک نظامِ تعلیم کو چلائے اور پھر بھی اُس کے تعلیمی عمل کے مجموعی سماجی مقاصد میں کمی نہ آئے‘ (وہ) تفریط کا شکار نہ ہوں اور اُن کا حلیہ نہ بگڑے؟‘‘
ڈیوی اِس سوال کا جواب تو ’’ہاں‘‘ میں دیتا ہے مگر ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ وہ اپنے اِس نتیجے تک کیسے پہنچا! قومی نصب العین کی ماہیت میں وہ کون سے حقائق ہیں جو تعلیمی عمل کے وسیع تر سماجی اہداف کے ساتھ موافقت پیدا کر لینے کے امکان کی جانب اشارہ کرتے ہیں؟ تاہم وہ اِس بات کا بھی ذکر کرتا ہے کہ اِس امکان کے پورا ہونے کے راستے میں کچھ داخلی اور خارجی مشکلات ہیں اور حقیقت میں یہ مشکلات اِس حد تک ناقابلِ گرفت ہیں کہ اُس کے جواب کو ’’ہاں‘‘ سے ’’ناں‘‘ میں بدل دیتی ہیں۔ وہ لکھتا ہے:
’’داخلی طور پر اِس سوال کو موجودہ اقتصادی صورت احوال کے باعث ایسے میلانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو معاشرے کو طبقات میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ اِن میں سے کچھ (طبقات) کو دیگر (طبقات) کی بلند تر ثقافت کا محض آلہ کار بنا دیا جاتا ہے۔ خارجی سطح پر اِس سوال کا تعلق اِس بات کے ساتھ ہے کہ قومی وفاداری نیز حب الوطنی کے جذبے کی برتر وابستگی کے حامل ایسے جذبوں کے ساتھ موافقت پیدا کی جائے جو لوگوں کو مشترکہ مقاصد کے بندھن میں باندھ دیں‘ قطع نظر اِس بات کے کہ اُن کی قومی سیاسی جغرافیائی حدود کیا ہیں۔‘‘
یہاں ڈیوی اپنے ایک اور ابتدائی بیان کی تردید کرتا ہوا نظر آتا ہے (اُس نے کہا تھا کہ کسی سماج کی قدر و قیمت کی جانچ کے لیے اُس کے پیمانے کے دونوں عناصر یعنی داخلی سماجی طبقے کے مفادات نیز دوسرے گروہوں کے ساتھ خارجی تعاون پر مبنی میل جول‘ جمہوریت کی جانب اشارہ کرتے ہیں) ۔ اگر ایک جمہوری سماج کو اِس وجہ سے اصلاح کی ضرورت ہے کہ یہ ایسے طبقات میں منقسم ہوتا ہے جن میں سے کچھ کو دوسرے طبقوں کی بلند تر ثقافت کا محض آلۂ کاربنا دیا جاتا ہے‘ نیز اِن طبقات کا قومی وفاداری اور حب الوطنی کا جذبہ اُن بلند و بالا اعتقادات سے مناسب موافقت نہیں رکھتا جو (اعتقادات) لوگوں کو قومی سیاسی جغرافیائی حدود سے قطع نظر مشترکہ مقاصد کے بندھن میں باندھ دیتے ہیں تو (اِس صورتِ حال میں ) یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ ایک جمہوری سماج کس معنی و مفہوم میں’’مفادات کی داخلی یکسانیت‘‘ اور’’دوسرے گروہوں کے ساتھ تعاون پر مبنی میل ملاپ‘‘ کا حامل ہو سکتا ہے؟ نیزیہ کہ کسی سماج کی قدروقیمت کے ڈیوی کے پیمانے پر یہ دو عناصر کس معنی و مفہوم میںکسی اور طرح کے سماج کی جانب نہیں بلکہ صرف جمہوریت کے حامل سماج کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
وہ قومی نصب العین کی داخلی اور خارجی کوتاہی کے علاج کے طور پر تجویز کرتا ہے کہ:
’’اسکول میں فراہم کی جانے والی سہولیات لازمی طور پر اتنی وافر اور موثر ہونا چاہئیں کہ وہ نام کو نہیں بلکہ حقیقت میں اقتصادی ناہمواری کو ختم کر دیں اور قوم کے تمام بچوں کو اُن کے مستقبل کی ترقی و نشوونما کے لیے ایک جیسے لوازمات مہیا کریں ........ اس مقصد کی بجا آوری تقاضا کرتی ہے ........ ثقافت کے روایتی نصب العینوں میں اصلاح۔ یہ کافی نہیں کہ جنگ کی ہولناکیاں ذہن نشین کر دی جائیں اور ہر اُس بات سے بچا جائے جو بین الاقوامی حسد اور عداوت (کے جذبات) کو اُبھارے۔ ایسی باتوں پر زور دینا لازمی ہو گا کہ جس کے نتیجے میں لوگ جغرافیائی حدود سے نکل کر انسانی جدوجہد کے عمل میں باہمی اعانت کے بندھن میں بندھ جائیں۔ تمام انسانوں کی ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور ‘آزادانہ اور زیادہ بار آور رفاقت نیز میل جول کے مقابلے میں قومی فرماں روائی کی ثانوی اور وقتی حیثیت کو لازمی طور پر کارگزار ذہنی خصلت (working disposition of mind) کے طور پر ذہن نشین کرایا جائے۔‘‘
ڈیوی اوپر والے بیان میں جو کہنا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ قومی نصب العین لازمی طور پر یوں مناسب طریقے سے بدل دیا جائے کہ یہ ایک ایسا آفاقی ہمدردیوں والا نصب العین بن جائے جو درونِ خانہ طبقاتی تعصبات سے اور ملک سے باہر جغرافیائی سرحدوں کے تعصبات سے بالاتر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تجویز کرتا ہے کہ معتقدات کے بہت سے ایسے عناصر کو قومی نصب العین میں شامل کیا جائے جنہیں اَب تک اِس میں شامل کرنا گوارا نہیں کیا جاتا تھا۔ یہ اَمر فطری طور پر معتقدات کے اُن عناصر کے اخراج کا باعث بنے گا جو اِن کی ضد ہیں۔
معتقدات کے وہ نئے عناصر جن کے بارے میں اُس کا یہ خیال ہے کہ انہیں لازمی طور پر قومی نصب العین میں شامل کیا جائے‘ نیز انہیں ’’افراد کی کارگزار خصلت‘‘ بنایا جائے‘ حسبِ ذیل ہیں:
(۱) بین الاقوامی حسد بری بات ہے۔
(۲) بین الاقوامی عداوت بری بات ہے۔
(۳) باہمی تعاون پر مبنی انسانی جدوجہد کی صورتیں اور اُن سے حاصل کردہ نتائج اچھی چیز ہے۔
(۴) قومی وفاداری یا حب الوطنی اِس صورت میں بری چیز ہے اگر یہ اوپر بیان کردہ اِس نوع کے مشاغل اور نتائج کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔
(۵) قومی خود مختاری محض ثانوی اور مشروط اہمیت رکھتی ہے۔
(۶) اوّلین اور غیر مشروط اہمیت تمام انسانوں کی ایک دوسرے کے ساتھ میل ملاپ کو حاصل ہے۔
(۷) قومی خود مختاری اِس صورت میں بری چیز ہے اگر یہ تمام انسانوں کے ایک دوسرے کے ساتھ آزادانہ میل ملاپ کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔
ڈیوی کا یہ خیال ہے کہ معتقدات کے اِن عناصر کو قومی نصب العین میں شامل کرنے کے بعد اور مخالف عناصر کو اِس سے خارج کرنے کے بعد قومی نصب العین پھربھی قومی نصب العین ہی رہے گا‘ تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ اضافے اور اِن ہی کی مناسبت سے اخراج لازماً قومی نصب العین کے سب حصوں کو تبدیل کردے گا۔ اس کے اُن حصوں کو بھی تبدیل کردے گاجنہیں بظاہر چھوا بھی نہیں گیا ہے اور (یوں یہ جمع و تفریق کا عمل) اِسے ایک نئے نصب العین میں بدل دے گا۔ وجہ یہ ہے کہ نصب العین ایک ایسا عضوی کُل ہوتا ہے جس کا ہر حصہ ہر دوسرے حصے سے مربوط اور اَثر پذیر ہوتا ہے‘ چنانچہ جمع و تفریق کی نئی صورتوں کے تقاضوں اور ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے اِس کے ہر حصے کو بدلنا پڑتا ہے۔ یوں نصب العین ایک ایسا نیا کُل بن جاتا ہے جو مکمل طور پر پرانے کُل کی جگہ لے لیتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ دونوں نصب العین‘ نیا اور پرانا‘ بظاہر ایک جیسے معلوم ہوں مگر عملاً وہ ایک دوسرے سے کُلی طور پر مختلف ہو جاتے ہیں۔
اسکول کی تعلیم کے ذریعے کارگزار ذہنی خصلت کی تشکیل کے حوالے سے ڈاکٹر ڈیوی کا اپنے مذکورہ بالا بیان میں شامل نقطۂ نظر واضح طور پر اُس کے ابتدائی نقطۂ نظر کی تردید کرتا ہے ۔ یعنی یہ کہ افتادِ طبع کا اصل تار و پود اسکول کی تعلیم سے بے تعلق سماجی پسندیدگی کے حامل اُن عقائد و اعمال کے براہِ راست یا غیر شعوری اَثر سے بنتا ہے جو سماجی نصب العین سے مربوط ہوتے ہیں۔ نیز اُن عقائد و اعمال کے براہِ راست یا غیر شعوری اثر سے بنتا ہے جو سماجی نصب العین سے مربوط ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیںاُن عقائد و اعمال کی ناپسندیدگی سے بنتا ہے جو سماجی نصب العین سے غیر مربوط ہوتے ہیں۔ اُس کا کہنا تھا کہ شعوری اور بالارادہ تدریس زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتی ہے کہ یوں تشکیل پانے والی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے عمل میں آنے کے لیے آزاد کر دے‘ انہیں کسی قدر اُن کی ناشائستگی سے پاک کر دے اور ایسے مقاصد فراہم کرے جو اُن کی سرگرمی کو زیادہ بامعنی بنا دے۔ اس سے یہ پہلو برآمد ہوتا ہے کہ صلاحیتیں یا خصلتیں بذاتہٖ اِس طرح کی تدریس سے نہیں بدلتیں۔
تاہم چلیے‘تھوڑی دیر کے لیے فرض کر لیتے ہیں کہ ڈیوی کا سابقہ نقطۂ نظر نہیں بلکہ وہ نقطۂ نظر جس کا اُس نے اَب اظہار کیا ہے‘ درست ہے یعنی یہ کہ اسکول کی تعلیم بنیادی طور پر بچے کی اُس خصلت کو بدل سکتی ہے جو اُس نے پہلے ہی اپنے بزرگوں کے زیر ِاَثر بنالی ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسکول عقیدے کے بین الاقوامی‘ بے لوث‘ آفاقی اور اُن وسیع المشرب عناصر کی تعلیم دینے کا آغاز کیسے کرے گا جن کی ڈیوی قومیت کے پرستاروں کو سفارش کرتا ہے؟ ایسا اُس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک اسکولوں میں ایسے اساتذہ تعینات نہ کیے جائیں جو عقیدے کے اِن عناصر پر یقین رکھنے والے ہوں۔ تاہم ایسے اساتذہ کا حصول مشکل ہو گا کہ جو بچپن ہی سے قومی نصب العین کی خدمت اور محبت کی تعلیم پانے کے باوجود سچے دل اور خلوص کے ساتھ سماجی آفاقیت اور بین الاقوامی اتحاد کی حمایت پر یقین کرنے والے بن جائیں۔ اگر ایسا فرض کر لیا جائے کہ حکومت اسکولوں کا انتظام و انصرام سنبھال لے گی اور اپنے اساتذہ کو ہدایات جاری کرے گی کہ قومی نصب العین کی بجائے بین الاقوامی اور آفاقی نصب العین کی تعلیم مہیاکی جائے تو سوال یہ پیدا ہو گا کہ کون لوگ ہوں گے جو ایسی حکومت تشکیل دیں گے‘ اور یہ کیسے ہو گا کہ وہ قومی نصب العین کی بجائے بین الاقوامی نصب العین سے محبت کرنے لگیں؟اگر وہ عوام کے نمائندے اور منتظمین ہوں گے تو بین الاقوامیت یا دوسروں کی بھلائی کا جذبہ صرف اُن ہی کا نصب العین نہیں ہوگا بلکہ یہ ملک کے سب لوگوں کا نصب العین ہوگا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ کسی سماجی طبقے میں اسکول کی تعلیم اُس وقت تک نسلِ نو میں نصب العین کی کوئی تبدیلی نہیں لا سکتی جب تک سب سے پہلے بحیثیت ِمجموعی بالغ آبادی کے نصب العین میں تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔
یہ نتیجہ ڈیوی کے اِس نقطۂ نظر سے مطابقت رکھتا ہے کہ تعلیمی عمل کسی سماجی طبقے کے بڑوں کے عقائد و نظریات کو اِس کے جوانوں اور نابالغ افراد کو منتقل کرنے کا نام ہے‘ اور کسی سماجی طبقے کی پسند و ناپسند وہ دو قوتیں ہیںجن کے نتیجے میں منتقلی کا یہ عمل وقوع پذیر ہوتا ہے۔ جو سماجی طبقہ قومی نصب العین سے محبت کرتا ہے اُس سے قومی نصب العین تقاضا کرتا ہے کہ اپنے جوانوں اور نابالغ افراد کے ایسے عقائد و اعمال کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھے جو اِس کے ساتھ ہم آہنگ ہیں جبکہ اُن عقائد و اعمال کے لیے ناگواری کا اظہار کرے جو اُس کی ضد ہیں۔ نتیجے کے طور پر سماجی طبقے کے یہ افراد قومی نصب العین سے بالکل اپنے بڑوں کی طرح محبت کرنا شروع کردیتے ہیں اور یہ (نصب العین) اُن کے لیے بھی اُن تمام باطنی ثمرات کا حامل ہو جاتا ہے جن باطنی ثمرات کا حامل یہ بڑوں کے لیے ہوتا ہے۔ جہاں تک نسلِ نو کا تعلق ہے ‘اگر اِس نصب العین میں کوئی تبدیلی کرنا ہے تو اِس کا اظہار سب سے پہلے سماجی طبقے کے بڑوں (کے عقائد و اعمال) میں ہونا چاہیے۔ انہیں اپنے نصب العین کی اُن بعض باتوں سے‘ جن سے وہ پہلے محبت کرتے تھے‘ تنفر کا آغاز کرنا چاہیے اور اُن باتوں سے محبت کرنا چاہیے جو اُن کے نصب العین میں نہیں تھیں اور جن سے پہلے وہ نفرت کرتے تھے۔ اُن کی محبتوں اور نفرتوں‘ اُن کے عقائد و نظریات‘ اُن کے رویوں اور میلانات میں یہ تبدیلی کہاں سے آئے گی؟ یہ کیسے ممکن ہو گا کہ بڑوں کو مجبور کریں کہ بعض باتوں سے محبت کرنا اور بعض دیگر باتوں سے نفرت کرنا چھوڑ دیں؟ وہ تعلیم جو اُنہوں نے اپنے بچپن سے پائی ‘اِس اَمر کی یقین دہانی کراتی ہے کہ اُن کی موجودہ محبتیں اور نفرتیں بعینہٖ (جیسے کہ وہ ہیں) جاری رہیں گی اور کسی نئی اتنی زبردست تعلیم کے لیے کوئی اہتمام نہیںہے کہ اِن محبتوں اور نفرتوں کو جڑ سے اُکھاڑ دے اور اِن کی بجائے نئی محبتوں اور نفرتوں کا نقش دِل میں بٹھا دے۔ چنانچہ یہ بات واضح ہے کہ قومی نصب العین کو تعلیمی لحاظ سے محکم بنانے کے لیے اِس میں تبدیلی اور اصلاح کے حوالے سے ڈیوی کی تجاویز پر عمل کرنا (اتنا) آسان نہیں ہے۔ اِس اَمر کے لیے ضرورت ہے کہ پوری آبادی کی نئے سرے سے تعلیم ہو اور یہ تعلیم ایک ایسا قائد یا قائدین کی جماعت دے جو نئے عقائد سے متاثر ہو اور دوسروں میں اِن کی تحریک پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ اگر وہ سب لوگوں کو اپنا ہم خیال بنانے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ بات کسی عظیم علمی انقلاب سے کم نہ ہوگی‘ جس کے بعد ایک نئی قوم ایک نئے نصب العین سے محبت کرنے اور اُسے پورا کرنے کے لیے سامنے آئے گی۔ نئے نصب العین کے بارے میں اَب مزید یہ نہیں کہا جائے گا کہ وہ قومیت پر مبنی ہے۔ یہ ضروری ہو گا کہ اِسے نیا نام دیا جائے تاکہ اِس کا پرانے ترک شدہ نصب العین سے فرق کیا جا سکے اور اُس ذہنیت کو خدا حافظ کہا جائے جو اِس کے نام پر فریفتہ تھی۔ مثال کے طور پراِسے بین الاقوامیت‘ انسان دوستی یا کسی اور ایسے نظام کا نام دیا جا سکتا ہے جو اِسے زیادہ مناسب طور پر بیان کرنے کے اہل ہو۔
یہ سوچنا انتہا درجے کی سادگی ہے کہ ایک قومی ریاست ایثارپیشہ یا آفاقی نقطۂ نظر کی حامل ہو سکتی ہے‘ دوسری قوموں کے حسد یا عداوت سے مستثنیٰ ہو سکتی ہے‘ اپنے قومی مفادات کا لحاظ رکھے بغیر دوسری قوموں کے ساتھ تعاون پر مبنی اچھے تعلقات قائم رکھ سکتی ہے‘ دوسری ریاستوں کے قومی مفادات کی خاطر اپنی قومی خود مختاری‘ قومی وفاداری یا حب الوطنی کو پس ِپشت ڈال سکتی ہے اور پھر بھی اُسے ایک الگ قوم کے طور پر اپنے وجود کا بھرپور احساس رہے اور وہ اپنے قومی مفادات کا مناسب طریقے سے دھیان رکھ سکے۔ کسی سماجی نصب العین کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ بیک وقت آفاقی اور علاقائی ہو۔ ہر سماجی طبقہ (بلاشبہ جس کا وجود ہی اُس سماجی نصب العین پر منحصر ہوتا ہے کہ جس سے یہ محبت رکھتا اور جس کی یہ خدمت بجا لاتا ہے) اپنے نصب العین کی ماہیت میں راسخ کچھ ایسے مخصوص میلانات کا حامل ہوتا ہے جو اِسے ایک خاص انداز میں سوچنے‘ محسوس کرنے اور عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں‘ بالکل ایسے ہی حتمی انداز میںجیسے کسی درخت پر (صرف) اُسی کا پھل لگتا ہے۔ ایک قومی ریاست کا طرزِ عمل صحیح معنوں میں اپنے نصب العین ہی سے متعین ہوتا ہے اور کوئی فرد اِسے اپنی خواہش کے مطابق نہیں بدل سکتا جب تک کہ وہ ریاست کو پرانے نصب العین کے ترک کرنے اور اُس نئے نصب العین سے محبت کرنے پر مجبور نہ کردے جو ایک بدلے ہوئے طرزِ عمل کا متقاضی ہوتا ہے۔ قوم انسانوں کا ایک سیاسی و سماجی و ثقافتی گروہ ہے جس کا وجود ہی باقی انسانیت سے اپنے الگ تشخص کے باعث قائم رہتا ہے۔ اِس کے اندر اپنی زندگی اور انفرادیت سے زیادہ سے زیادہ باخبر رہنے کے لیے جس قدر ہو سکے دیگر گروہوں سے ثقافتی اور معاشرتی لحاظ سے الگ رہنے کا میلان ہوتا ہے۔ یہ چاہتی ہے کہ اِس کی اپنی زبان ہو‘ اِس کی اپنی تاریخ ہو‘ اِس کی اپنی روایات ہوں اور اِس کا اپنا امتیازی نوعیت کا طرزِ عمل اور طرزِ حیات ہو۔ یہ ہر معاملے میں دوسری قوموں پر سبقت چاہتی ہے۔ گروہ کی سرحدوں سے باہر نکلتا ہوا انسانیت کی بہبود اور آفاقیت کا جذبہ اس کی فطرت ہی سے کوئی میل نہیں رکھتا۔ قومی گروہ کی وحدت اور سا لمیت دوسرے گروہوں سے اس کے جداگانہ تشخص کے احساس ہی کی حامل ہے۔ نیز اِس ضرورت کے باعث ہے کہ یہ (قومی گروہ) محسوس کرتا ہے کہ اپنے آپ کا اُن (دیگر گروہوں) کے مقابلے میں دفاع کرے۔ چنانچہ جب تک یہ (گروہ) قومی گروہ ہی کی صورت میں رہتا ہے یہ کُل انسانیت کو بغل گیر کرنے کے لیے اپنی تنگ دامن ہمدردیوں کا دائرہ وسیع نہیں کر سکتا۔ جب یہ خود غرضی سے دست بردار ہوجاتا ہے تو اپنے وجود کی پہچان کھو بیٹھتا ہے۔ جب کوئی قوم ایک اصول کے طور پر سچے دِل کے ساتھ دوسری قوموں سے مبنی بر اخلاق اور مبنی برانصاف سلوک کرنے کا فیصلہ کر لیتی ہے تو درحقیقت اُس کا نصب العین قومیت (Nationalism) سے اخلاقیت (Moralism)یا کسی دوسرے ایسے مسلک میں بدل جاتا ہے جس سے اُس کا نیا طرزِ عمل ہم آہنگ سمجھا جاتا ہے‘ گو لوگ اُسے قومیت (کا نصب العین) ہی کہتے رہتے ہیں۔ اگر ڈیوی اِس بات پر یقین رکھتا ہے‘ جیسے کہ واقعتاً اُسے یقین ہے کہ قومی طرزِ خیال جیسا کہ ہے‘ اِس قدر متعصبانہ ہے کہ مکمل اور مناسب طور پر قابلِ تدریس نہیں تو پھر اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ یہ سفارش کرتا ہے کہ اِس نصب العین کو آفاقی اور ایثارپیشہ بنانے کے لیے اِس کی اصلاح کی جائے یا پھر یہ سفارش کرتا ہے کہ اِسے کسی ایسے نصب العین سے بدل دیا جائے جو آفاقی اور ایثارپیشہ ہو۔ اُس کے اپنے معیارات کے حساب سے بھی دیکھ لیں تو ایسا قومی نصب العین‘ چاہے وہ کسی بھی ملک کا ہو‘ جو جمہوریت کا حمایتی ہو‘ بہرصورت تعلیمی لحاظ سے مسترد کیے جانے کے قابل ہے۔ اِن حقائق سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ نصب العین کی قدر و قیمت کی پیمائش کے لیے ڈاکٹرڈیوی کا پیمانہ کارگر نہیں ہے۔
ڈاکٹر ڈیوی سماجی نصب العین کی قدر و قیمت کا قابلِ بھروسا پیمانہ کیوں نہ مہیا کرسکا؟ اِس کی وجہ یہ اَمر ِواقعہ ہے کہ وہ اِس بات کا احساس کرنے میں ناکام رہا کہ علمی ذخیرہ‘ عادات‘ رویے‘ مہارتیں‘ عقائد‘ خیالات‘ نظریات‘ خواہشات و ارادے‘ معیارات و اقدار‘ مفادات و مقاصد‘ اُمیدیں اور آرزوئیں نیز رغبتیں اور کراہتیں‘ جیسے کہ اُس نے خود تسلیم کیا ہے‘ کسی سماجی طبقے کے تعلیمی ورثے کی تشکیل کرتی ہیں۔ یہ تعلیمی ورثہ کے وہ عناصر ہیں جو ایک ایسے تصور سے وجود میں آتے ہیں جو انہیں اِس اَمر سے آگاہ کرنے والے پیمانے کے طور پر استعمال کرتا ہے کہ حسن و قبح کیا ہے‘ اَچھائی و برائی کیا ہے‘ سچ اور جھوٹ کیا ہے! بالفاظِ دیگر ایک سماجی نصب العین اساسی طور پر حسن‘ خیر اور صداقت کا حامل ہوتا ہے۔ متنوع سماجی نصب العینوں کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ مختلف انسانی سماجی طبقات حسن‘ خیر اور صداقت کے مختلف تصورات رکھتے ہیں۔ ہر سماجی طبقہ اِن خوبیوں کو اپنے نصب العین سے منسوب کرتا ہے اس بات سے قطع نظر کہ وہ واقعی اِن خوبیوں کا حامل ہے یا نہیں! حقیقت یہ ہے کہ صرف ایک ہی نصب العین ہو سکتا ہے جس میں فی الواقع یہ خوبیاں بدرجہ ٔ اَتم موجود ہوں۔ اگر ڈیوی اِن حقائق کا احساس کرلیتا تو وہ آسانی سے اِس نتیجے پر پہنچ جاتا کہ کسی سماجی نصب العین کے لیے صرف ایک ہی قابلِ بھروسا پیمانہ یا معیار ہو سکتا ہے اور وہ (پیمانہ یا معیار) یہ (دیکھنا) ہے کہ آیا یہ (سماجی نصب العین) حقیقتاً حسن‘ خیر اور صداقت کی تمام خوبیوں کا بدرجہ اَتم مالک ہے یا نہیں!
جیمز راس کا فلسفہ ٔ تعلیم(Educational Philosophy of James Ross)
اب ہم عہد ِحاضر کے ایک اور ممتاز ماہر تعلیم سر جیمز راس کے فلسفہ ٔ تعلیم کا مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ تعلیم کا فلسفہ رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے لکھتا ہےـ:
’’تعلیم سے متعلق تمام سوالات بنیادی طور پر فلسفے کے سوالات ہیں۔‘‘
تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فلسفے کا موضوع کیا ہے؟ وہ بجا طور پر اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ فلسفہ حقیقت کی ماہیت اور انسان کی فطرت سے بحث کرتا ہے۔
’’چنانچہ فلسفیانہ تحقیق کا موضوع حقیقت بذاتہٖ سے کم کچھ نہیں۔ جب ایسا ہے (تو یہ بات ذہن میں رہے کہ)صاحبِ زبور حضرت دائودؑ کے اُسی قدیم استفسار کی طرح فلسفے کی دنیا میں ایک بڑا سوال ہمیشہ سے یہ رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ یعنی یہ کہ:انسان کیا ہے؟ آسمانوں اور چاندستاروں پر غوروخوض کی حیثیت ہمیشہ سب کچھ اپنے دامن میں سمیٹ لینے والے ان سوالات کے مقابلے میں ثانوی رہی ہے کہ زندگی کی ماہیت کیا ہے‘ انسان کی فطرت کیا ہے‘ اس کا مبدا اور مقدر کیا ہے‘ اس کی جدوجہد کی منزل کیا ہے!‘‘
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے مطابق تعلیم کے صحیح فلسفے کی بنیاد حقیقت کی ماہیت اور انسانی فطرت کے صحیح فلسفے ہی پر رکھی جا سکتی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ ایسا فلسفہ صرف فلسفہ تصوریت (Idealism) ہی ہو سکتا ہے جوکائنات کے خمیر میں شامل حسن‘ خیر اور صداقت کی ایسی خوبیوں کے طور پر زور دیتا ہے جن کی انسان کو تلاش و جستجو کرنا چاہیے۔ وہ اپنی کتاب ’’تعلیمی نظریے کی اساس‘‘ (Ground Work of Educational Theory) میں لکھتا ہے:
’’اس کتاب میں بالعموم یہ استدلال اختیار کیا گیا ہے کہ شعبۂ تعلیم میں سب سے زیادہ قابل قدر مقاصد اور تحریکیں وہ ہیں جو فطرت پسند یا افادیت پسند فلسفے سے ماخوذ نہیں بلکہ اَقدار کے تصوریت پسند فلسفے سے ماخوذ ہیں۔ صداقت‘ حسن اور خیر ایسی کامل خوبیاں ہیں جو روحانی کائنات کے خمیر میں شامل ہیں اور انسان صرف اور صرف ان خوبیوں کی تلاش و جستجو ہی سے اپنی تکمیل کر سکتا ہے۔ یہ خوبیاں انتہائی قدروقیمت کی حامل ہیں۔ ان (خوبیوں) کے وجود کی بقا اُن کا حق ہے جو ہم سے احترام اور اطاعت کا تقاضا کرتی ہیں۔ چنانچہ تعلیم ہر شے سے بڑھ کر یقیناً نوجوانوں کو ایسی باتوں کی راہ پر لگائے گی جو سچی‘ مخلصانہ‘ منصفانہ‘ پاک صاف‘ خوب صورت اور اچھی شہرت کی حامل ہوں۔‘‘
ہم ان کامل خوبیوں کا سراغ کیسے پا سکتے ہیں؟ اُس کے خیال میں ان کامل خوبیوں تک رسائی کا راستہ مذہب سے ہو کر گزرتا ہے۔ چنانچہ مذہب ہی کو تعلیم کی بنیاد بنانا چاہیے۔
’’عہدِحاضر میں صاحبِ فکر لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا یقین کامل ہے کہ اگر تہذیب کی بلند سطح کو وجود میں لانا اور برقرار رکھنا ہے‘ نیز وقفے وقفے سے وقوع پذیر ہونے والی بدتہذیبی کی لغزشوں کے خلاف دفاع کرنا ہے تو تعلیم کی بنیاد لازمی طور پر مذہب پر رکھنا ہوگی۔‘‘
تاہم جب یہ بات طے کرنے کا وقت آتا ہے کہ متعلّم کو کون سا مذہب مدّ ِنظر رکھنا چاہیے تو وہ فلسفے کو سرے سے بھول جاتا ہے۔ یہ جاننے کے لیے کہ کن مذہبی اَقدار کو تعلیم کی بنیاد بننا چاہیے اور کیوں‘ وہ حقیقت ِ وجود اور انسان کی فطرت کے حقائق سے مدد لینے کے بجائے من مانے انداز میں ایک خاص مذہب یعنی عیسائیت کے حق میں فتویٰ دے دیتا ہے۔ یوں وہ دیگر مذاہب کے ماننے والے تمام سماجی طبقوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ بلاشبہ ہر سماجی طبقہ ہر ممکن بہترین تعلیم حاصل کرنے کا یکساں طور پر آرزومند ہوتا ہے ‘تاہم راس (Ross)انہیں کوئی مشورہ نہیں دیتا جس کی اس جیسے تعلیمی فلسفی سے توقع ہو سکتی تھی۔چنانچہ وہ لکھتا ہے:
’’آئیے !ہم اس ابہام سے پاک ہو جائیں کہ ہم مذہب سے کیا مراد لیتے ہیں۔ہم کچھ ایسا چاہتے ہیں جو خداپرستی کے مبہم سے عقیدے یا کسی ضابطۂ اخلاق سے چاہے وہ کتنا ہی ارفع کیوں نہ ہو‘ کہیں زیادہ حیات آفریں ہو۔ یہودیت‘ بدھ مت‘ اسلام یا کوئی بھی دوسرابلند مرتبت مذہب جو برطانوی دولت ِمشترکہ کے ہمارے جیسے بہت سے بھائی بندوں کی زندگی میں ہدایت اور تحریک فراہم کرتا ہے‘ کی عزت و توقیر میں کمی کیے بغیر ہم لازمی طور پر اس بات پر زور دیں گے کہ مذہب سے مراد مسیحی مذہب ہے۔ خود مادرِ وطن کے شہریوں کی بڑی اکثریت کی بھی یہی رائے ہے۔ چنانچہ مسیحی مذہب کو یقینی طور پر قوم کی وسیع تر حیات کے ساتھ ساتھ اسکولوں کے روایتی مقام کی جانب پلٹنا چاہیے۔‘‘
اس کے بعد وہ فروری ۱۹۴۰ء میں شائع شدہ ’’دی ٹائمز‘‘ لندن کے ایک اداریے کا حوالہ دیتا ہے جس میں اداریہ نگار شکوہ کرتا ہے کہ ’’ایک ایسا ملک جو مبینہ طور پر مسیحی ہے اور ایک ایسا ملک جو اس وقت مسیحی اصولوں کے دفاع میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگا رہا ہے‘ وہاں قومی تعلیم کا ایسانظام ہے جو مستقبل کے شہریوں کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ خالصتاً غیرمذہبی تعلیمی پرورش پائیں۔‘‘ وہ اس نقطۂ نظر کا اظہار کرتا ہے کہ ’’صرف مذہب جس تعلیم کی بنیاد ہوگا وہی تعلیم‘ تعلیم کا نام پانے کی مستحق ہے‘‘ اور ’’مذہب کے بغیر تعلیم حقیقتاً ہر گز تعلیم نہیں ہے۔‘‘ وہ کہتا ہے کہ ’’اچھی شہریت کی بنیاد کردار پر ہے اور ایک انسان کے لیے کردار کا انحصار اس کے معتقدات پر ہوتا ہے۔‘‘ وہ پوچھتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی ریاست ’’ان سادہ سی صداقتوں کو نظرانداز کرنے کی ہمت رکھتی ہو اور مذہبی تعلیم کو ایک ایسا دشوار کام سمجھے کہ جس کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہ ہو‘‘۔ ’’دی ٹائمز‘‘ کا اداریہ نگار کہتا ہےـ:
’’کئی سالوں سے ہم روحانی راس المال پر گزارہ کر رہے ہیں یعنی مستقبل کو کچھ دینے کی بجائے ماضی سے وراثت میں ملی روایات کے سہارے جی رہے ہیں۔ مسیحیت کو ہوا سے دل میں نہیں اتارا جا سکتا۔ یہ فلسفہ نہیں بلکہ ایک تاریخی مذہب ہے۔ اگر اس کے اُن حقائق کی جن پر اس کی بنیاد ہے‘ تعلیم نہیں دی جاتی اور اس نوع کی تدریس کو ہمارے تعلیمی نظام کا مرکز نہیں بنایا جاتا تو یہ یقینی طور پر زوال پذیر ہو جائے گا۔ نوجوانوں کی تعلیم و تربیت میں نہایت بلند مرتبہ علم کو نہایت بلند مقام و مرتبہ دیا جانا ضروری ہے۔‘‘
آخر میں سر راس پر زور سفارش کرتا ہے کہ:
’’مذہب کی حیثیت یقینی طور پر درسی نظام الاوقات پر ایک مضمون سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اگرچہ اس کے خصوصی مطالعے کے لیے وقت کا تو لازماً تعین کیا جائے گا تاہم اسے ایک ایسی سرگرمی اور جذبہ ہونا چاہیے جو (مدرسے کی ساری) زندگی اور مشاغل پر حاوی ہو۔ ہمیں طلبہ کو مسیحی اخلاق و عقائد کی محض تلقین کرنے سے کچھ بڑھ کر سعی کرنا ہوگی۔ ہمیں یقیناً اپنی تہذیب کی مسیحی بنیادوں کا محض معروضی مطالعہ فراہم نہیں کرنا بلکہ (طلبہ کو صحیح معنوں میں ) عیسائی بنانے کے لیے کوئی سوچا سمجھا قدم اٹھانا ہے۔ ہم بحیثیت مجموعی لازماً اس امر کی کوشش کریں گے کہ طلبہ کے لیے ایسا سازگار ماحول تخلیق کیا جائے کہ وہ ازخود مسیح کے لیے اپنی عقیدت کا اظہار کرنے والے نیز اپنے عقیدے کو کسی اصول و ضابطے کے تحت پیش کرنے والے اور صدقِ دل سے اس پر ایمان لانے والے بن جائیں۔ ڈاکٹر جے ڈبلیو سکنر نے جان ویزلے کے الفاظ میں یہ بات کہی ہے کہ ہمارے اسکولوں کو لازماً (مسیحیوں کی) تربیت گاہیں ہونا چاہیے۔ ہم یقیناً اپنے طلبہ کے اذہان میں وہ بیج بوئیں گے جس سے خدا کے احکام بجا لانے والے اور چاہنے والے نیز بندوں کی مدد کرنے والے اور ان سے محبت کرنے والے پیدا ہوں۔ ہم ہر صورت اپنی کوششیں جاری رکھیں گے چاہے ہم ان (کوششوں) کے فوری نتائج دیکھ سکیں یا نہ دیکھ سکیں۔‘‘
تعلیمی مسئلے کے حوالے سے اس زاویۂ نظر کو علمی یا سائنسی نہیں کہا جا سکتا۔ اگرچہ ان وجوہ کی بنا پر جن کی تفصیل اس کتاب کے آئندہ ابواب میں بیان ہوگی‘ راس کی اس بات سے اتفاق کرنا ناگزیر ہے کہ بشمول مسیحیت تمام عظیم مذاہب میں کچھ ایسی یکساں بنیادی مذہبی اقدار ہیں جنہیں لازمی طور پر نظامِ تعلیم کی اساس بننا چاہیے۔ تاہم اس کی اس بات سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا کہ برطانیہ کے شہریوں کی بڑی اکثریت کے لیے بحیثیت مجموعی تعلیم کی بنیاد مسیحیت کو بنانے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس مذہب پر یقین رکھتے ہیں۔ اگر بحیثیت تعلیمی فلاسفر اس کا حاصلِ فکر یہی تھا کہ کسی سماجی طبقے کے لیے تمام مذاہب میں سے صرف مسیحیت ہی سب سے زیادہ تعلیمی استعداد کی حامل ہے تو اس نتیجے پر پہنچنا اس کا حق تھا ‘تاہم بحیثیت تعلیمی فلاسفر اپنے اس حاصل ِ فکر کے حوالے سے دیگر ماہرین تعلیم کے استفادے کے لیے اسے کوئی دلیل یا علمی توجیہہ بھی دینی چاہیے تھی۔ بدقسمتی سے اس کا رویہ ایک تعلیمی فلاسفر کی نسبت ایک پادری سے زیادہ مشابہ ہے‘ کیوں کہ ایک تعلیمی فلاسفر تعلیم کے موضوع پر صرف علمی و منطقی نقطۂ نظر سے بات کرتا ہے۔ (جاری ہے)
tanzeemdigitallibrary.com © 2026