(فکر و فلسفہ) مبادیٔ علم کلام (۴) - مکرم محمود

9 /

مبادی ٔعلم ِکلام (۴)سعید عبداللطیف فودہ
ترجمہ : مکرم محمود

پچھلی قسط میں امام ابوالحسن الاشعریؒ کا ابتدائی مختصر تعارف ہو چکا ہے ۔ اس قسط میں ان کا کچھ مزید تعارف‘ ان کے فضائل و مناقب‘ ان کے کارہائے نمایاں‘ اعتزال سے اہل ِسُنّت کی طرف رجوع کے قصے کا تفصیلی بیان ہے۔ ان کے حوالے سے کچھ مائل بہ تجسیم گروہوں کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا ازالہ بھی کیا گیا ہے ۔ ذیل میں علامہ ابن تیمیہ ؒ کے حوالے سے مصنف نے کافی سخت موقف اپنایا ہے ۔ یہ بہرحال مصنف کا اپنا اجتہاد ہے۔ چونکہ ترجمہ ترتیب سے چل رہا ہے اس لیے اس سارے حصہ کا ترجمہ بھی بعینہٖ دے دیا گیا ہے ۔ عنوانات راقم الحروف کے لگائے ہوئے ہیں ۔
امام اشعری ؒکا اعتزال سے رجوع کیسے ہوا؟
ایک اہم بات کا جاننا عاقل کے لیے ضروری ہے کہ: جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ جب امام اشعری کو ایک زمانہ معتزلہ کے عقائد پرگزرگیا‘ یہاں تک کہ آپ کا شمار ائمہ ٔمذہب میں ہونے لگا اور آپ مخالفین کو مناظرے اور دلائل سے خاموش کیا کرتے تھے‘ پھر آپ نے مذہب اہل ِسُنّت والجماعت کی طرف رجوع کیا۔ ایک مذہب سے دوسرے مذہب کی طرف تحوّل کا یہ واقعہ ہمارے لیے یقیناًکچھ بصیرتوں کا حامل ضرور ہوگا ۔مگر سوال یہ ہے کہ یہ تبدیلی ہو کیسے گئی ؟ اس تحوّل کا صحیح ادراک جو امام کی سیرت سے منقول واقعات اور معقول سے بھی موافقت رکھتا ہو‘ ایک عاقل کے لیے نہایت ضروری ہے ۔ ہم اللہ کی مدد سے اس اہم بات کی وضاحت کی کوشش کرتے ہیں ۔
امام اشعری نے مذہب اعتزال پر غورو خوض کیا اور معروف طریقے پر اس مذہب کے مسائل کا احاطہ کیا اور ان کی حدبندی کی ۔ یہ ایک ایسے انسان کی جس کی نیت اللہ کے لیے خالص ہے‘ صفات میں داخل ہے کہ وہ عقائد کے معاملات میں اپنا کل دارومدار تقلید پر نہیں رکھتا ‘چاہے جس کی وہ تقلید کرتا ہو وہ علماء کا امام ہی کیوں نہ ہو‘اس کے بجائے وہ اپنے فکر کو کام میں لاتا ہے اور جن افکار کو اس نے اپنایا ہوتا ہے اور جن کا وہ دفاع کرتا ہے ان پر بھی وہ غورو خوض کرتا رہتا ہے ۔ یہ کوئی عیب کی بات نہیں ہے کہ انسان کسی بات کو حق سمجھے‘ پھر جب دلیل سے اسے اس بات کا غلط ہونا معلوم ہو جائے تو جو بات اس پر اب واضح ہوئی ہے وہ اس کی طرف رجوع کرے۔ ایسا طرزِعمل اس کی روح کے بے عیب ہونے ‘ اخلاص اور بلندہمتی کی دلیل ہے ۔ اس لیے ہم یہ کہتے ہیں کہ جب امام اشعری نے معتزلہ کے ہر مسئلہ پر الگ سے غور کیا تو ان میں سے بہت کا غلط ہونا ان پر واضح ہوگیا ۔ انہوں نے اپنے معتزلی مشائخ سے باری باری مناظرہ کیا تاکہ ان پرحق واضح ہوجائے ۔ وہ جان بوجھ کر ان پراعتراضات وارد کرتے تھے اور پھر ان اعتراضات کی توجیہہ کی کاوش بھی کرتے ۔ جب مسائل بہت زیادہ ہوگئے تو ان پر اپنی غلطی واضح ہوگئی ۔
متکلمین اہل ِسُنّت والجماعت کا کامل منہج
ان کے نزدیک یہ ضروری ہوگیا کہ جن اصولوں پر مذہب اعتزال کی بنیاد قائم ہے‘ ان پر ازسرِنو غور کیا جائے۔ اس کے نتیجے میں ان کو ایسے فکری نتائج حاصل ہوئے جنہوں نے امام اشعری کے ایک عبوری دور کو ممکن بنایا ‘جس سے گزر کر وہ اس کامل منہج عقلی تک پہنچ سکتے تھے۔ ایک ایسا منہج جس کی بنیاد پر قرآن وسُنّت سے درست معانی بھی اخذ کیے جاسکیں اور ایسا فہم بھی حاصل ہوجائے جومکمل طور پر اپنی بنیادیں شریعت میں وارد ہونے والی نصوص و اخبار پر رکھتا ہو ۔یہ فہم کسی ایسے معاملے سے ٹکراتا نہ ہو جس کی تائید عقل کرتی ہو۔ وہ منہج اور فہم نصوص کے مابین اختلاف کا باعث نہ بنے تاکہ ان میں سے کسی کو چھوڑنا نہ پڑے ۔وہ داخلی ہم آہنگی رکھتا ہو اور اقوالِ سلف کی توضیح اور تفسیر کرتا ہو‘ وہ سلف حق کہ جن کے بارے میں صاحب ِشریعت نے صلاح اور تقویٰ کی شہادت دی ہے۔
پھر اس منہج اور اس کے اصولوں کو انہوں نے اپنی کتابوں میں بیان کیا ۔ لوگوں کو ان کی طرف دعوت دی اور انہی قواعد کی بنیاد پر اپنے مخالفین سے مناظرے کیے ۔ جب یہ اصول و قواعد مشہور ہوئے اور علمائے شریعت نے ان پر غور کیا تو انہوں نے قرآن و سُنّت‘ اپنے فہم‘ جو اقوالِ سلف ان تک پہنچے تھےاوران اصول و قواعد میں مطابقت محسوس کی ۔ اس غوروفکر اور اجتہاد کے بعدان کا گویا اتفاق ہوگیا کہ امام ابوالحسن الاشعری اہل ِسُنّت والجماعت کے نمائندے ہیں ‘انہوں نے ان ہی کے طریقہ کو ظاہر کیا ہے اور اس کی بنیاد پر مخالفین کا ردّ کیا ہے ۔ امام صاحب کا یہی امتیاز ہے کہ انہوں نے سلف صالح کے عقائد کا دفاع کیا ‘ اہل ِسُنّت کے طریقے کی تحقیق کی اور اس کو دلائل سے مضبوط کیا ۔ مخالفین کے مذہب میں جو مسائل تھے ان کو بیان کیا ۔ ان کے طریقے میں جو نقص ‘ اجمال اور ابہام رہ گیا تو اس کو بعد میں آنے والے علمائے اہل ِسُنّت نے دور کردیا اور ان کی شرح و وضاحت کی۔ یہ کام علماء نے شریعت کے تحفظ کے لیے کیا ۔ ہم امام اشعری کو معصوم نہیں سمجھتے بلکہ محض ان کی قدرومنزلت ‘ عمل کی عظمت ‘ اللہ کی دی گئی توفیق اور ان کی جو تعریف و مدح علمائے اہل ِسُنّت نے کی ہے‘ اس کو بیان کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔
امام اشعری کا اعتزال سے مذہب اہل ِسُنّت تک تدریجی سفر
اس مختصر کلام سے یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ امام اشعری مذہب اعتزال سے مذہب اہل ِسُنّت کی طرف اچانک نہیں آگئے تھے‘ جیسا کہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں۔ ان کی زندگی کے واقعات اورعام طور پر انسانوں کے احوال سے مناسبت و مطابقت یہی بات واضح کرتی ہے کہ یہ تدریجی طور پر کامل ہونے کے قصہ کا بیان ہے ۔ اس تدریج سے ہروہ انسان لازماً گزرتا ہے جو حق تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے ‘ غوروفکر کرتا ہے اورجسے مخالفین کے ساتھ مناظرے درپیش ہوتے ہیں ۔ امام صاحب کا یہ تحوّل اس وجہ سے کوئی خیانت نہیں ہے کہ انہوں نے تعلیم تو معتزلہ سے حاصل کی تھی۔ خیانت تو یہ ہوتی کہ وہ حق کے واضح ہوجانے کے بعد بھی انہیں کے ساتھ چلتے رہتے ۔ نہ ہی امام صاحب کی یہ تبدیلی کوئی خواب دیکھنے کا نتیجہ تھی ۔ ہاں‘ آپ نے خواب میں نبی محترمﷺ کو دیکھا تھا اور آپ کا یہ دیکھنا گویا ایک بشارت تھی ۔ یقیناً ہم اس طرح کے عمدہ خواب کے منکر نہیں اور نہ ہی اس کی اہمیت سے غافل ہیں۔ البتہ وہ معقول اور مقبول توجیہہ جو عام طور پربشری عادات کا بھی احاطہ کرتی ہے اورجس کو اختیار نہ کرنے کی بھی کوئی وجہ ہمارے پاس نہیں ‘ وہ یہی ہے کہ یہ خواب امام صاحب نے اپنی کاوشوں کو راہِ حق میں اخلاصِ نیت کے ساتھ کھپانے کے بعد دیکھا ۔چنانچہ خواب میں اللہ کے نبیﷺ کو دیکھنا آپ کی ان کوششوں کا گویا ایک صلہ تھا اور اس طریقہ پر چلنے کے لیے ان کے عزم مصمّم کو ایک غیبی امداد فراہم کی گئی تھی ۔
کیا امام اشعریؒ نے کوئی نیا مذہب ایجاد کیا؟
امام صاحب نے کوئی نیا مذہب ایجاد نہیں کیا بلکہ ان کا کل عمل اہل سُنّت کے اقوال کی شرح اور ان کو دلائل سے مدد فراہم کرنا ہے ۔قاضی عیاض امام صاحب کے حالات زندگی کے بیان میں کہتے ہیں:
’’آپ نے اہل ِسُنّت کے لیے بہت سی تصانیف لکھیں ۔ آپ نے اثبات ِسُنّت کے ساتھ صفاتِ باری تعالیٰ میں قدم ‘ کلام ‘ قدرت اور رئویت ِباری تعالیٰ کے حوالے سے اہل بدعت کے انکار کے ردّ پر دلائل قائم کیے۔ معتزلہ نے سمعیات سے متعلق جن امور کا انکار کیا ‘مثلاً پُل صراط ‘ میزان ‘ شفاعت ‘ حوضِ کوثر ‘ عذابِ قبر ‘ ان سب پر بھی دلائل قائم کیے ۔یہ تمام واضح دلائل قرآن و سُنّت سے بھی ماخوذ تھے اور عقل سے بھی ۔ اہل بدعت ‘ ملحدین اور روافض کے شبہات کو دور کیا ۔ ان مباحث کے حوالے سے مبسوط تصانیف فرمائیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے امت کو نفع پہنچایا ۔ آپ نے معتزلہ سے مناظرے بھی کیے ‘جو آپ قصداً کیا کرتے تھے۔ اس حوالے سے آپ سے پوچھا گیا : آپ اہل ِبدعت سے کیوں ملتے ہیں‘ حالانکہ خود ان سے دور رہنے کا کہتے ہیں؟ پھر اہل ِبدعت اس وقت غالب بھی ہیں اوران کی باتیں شائع وذائع بھی ؟ آپ نے فرمایا :وہ طاقت والے لوگ ہیں ۔کوئی بادشاہ ہے ‘کوئی قاضی ہے ‘وہ اپنے اس مرتبہ کی وجہ سے ہم تک تو نہ آئیں گے ۔اگر ہم ان تک نہ جائیں تو حق کیسے ظاہر ہوگا اور یہ کیسے جانا جائے گا کہ اہل حق میں دلائل سےحق کی نصرت کرنے والے بھی موجود ہیں۔(ظاہر ہے کہ یہ بات اس علم کے متخصصین کے لیے ہے نہ کہ ہر کس و ناکس کے لیے) ۔
آپ کے اکثر مناظرے جبائی معتزلی کے ساتھ ہیں ۔ اس سے آمنا سامنا بہت سی مجالس میں ہوا ۔ امیر بصرہ ابن وفاء کی مشہور مجلس مناظرہ میں امامت کے مسئلے پر بھی ایک مناظرہ ہوا ‘جو آپ کے علمی مقام اور فنی دسترس کے اظہار کا باعث بنا ۔
ایک زمانہ آیا کہ آپ کی تصانیف کثیر ہوگئیں ۔ آپ کی بات سے فائدہ اٹھایا جانے لگا‘ اہل ِحدیث و اہل ِفقہ پر دین و سُنّت کی حفاظت کے لیے کی جانے والی آپ کی کوششیں آشکار ہوگئیں تو اہل سُنّت نے آپ کی کتب سے اخذ و استفادہ کیا ۔ امام صاحب کے طریقہ کو سیکھا ۔ ایک کثیر تعداد آپ کے متبعین اور طلبہ کی ایسی ہوگئی کہ جنہوں نے دین و سُنّت کی حفاظت کے ان مناہج کی تعلیم حاصل کی اور ملت اسلامیہ کی نصرت کے لیے دلائل سیکھے تو وہ آپ کے نام سے پہچانے جانے لگے ۔ پھر آگے ان کے شاگردوں اور متبعین کی تعریف بھی اسی نام سے ہونے لگی ۔ اس سے پہلے یہ لوگ’’مثبتہ‘‘ کے نام سے جانے جاتے تھے ۔ اس نام کی اصل وجہ معتزلہ تھے کہ مثبتہ نے سُنّت و شریعت میں ان باتوں کو ثابت کیا جن کی نفی معتزلہ نے کی تھی ۔ سُنّت کی حفاظت کرنے والے ائمہ پہلے اسی نام سے جانے جاتے تھے۔ مثلاً اصحاب حدیث میں سے محاسبی ‘ ابن کلّاب ‘ عبدالعزیز بن عبدالملک المکی ‘ کرابیسی وغیرہ ۔ یہاں تک کہ امام ابوالحسن الاشعری آگئے اور ان کی شہرت ہوئی تو طلبہ اور ان کے فہم سے اخذ کرنے والوں نے اپنی نسبت ان کی طرف کی۔ امام شافعی ‘ امام مالک‘ امام ابوحنیفہ اور دوسرے ائمہ (رحمہم اللہ)کے ماننے والے جو ان کی کتابوں کو پڑھتے ہیں‘ شریعت میں ان کے فہم اور طریقہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں‘ اس کی پیروی کرتے ہیں ‘ اپنی طرف سے کسی چیز کا اضافہ نہیں کرتے اور ان کی طرف اپنی نسبت کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔ اسی طرح کا معاملہ امام اشعری کا ہے ۔ مشرق و مغرب سے لوگ ان کے دلائل سے استفادہ کرتے ہیں اور ان کے طریقہ پر چلتے ہیں ۔بے شمار لوگ ان کے مذہب اور طریقہ کی تعریف کرتے ہیں ۔
امام اشعری کے مخالفین
امام ابو حنیفہ کی پیروی کرنے والا ایک گروہ جو اصول میں اعتزال پر تھا‘ مثلاً عبد الجبار قاضی الرّی‘ تنوخی اور اس کے علاوہ غالی ائمہ معتزلہ امام اشعری کے خلاف تھے ۔ دوسری طرف وہ قوم بھی امام اشعری کے خلاف تھی جو اپنا انتساب تو امام احمد بن حنبلؒ کی طرف رکھتی تھی لیکن انہوں نے تاویل کو مکمل طور پر چھوڑنے میں اتنا غلو کیا کہ تشبیہ کے قائل ہوگئے ۔ ان میں سے اکثر اصحابِ علم نہ تھے مگر چونکہ ان کا انتساب سُنّت اور حدیث کی طرف کیا جاتا تھا اس لیے عوام ان کے اقوال قبول کرلیتے تھے ‘معتزلہ کی طرح ان سے تنفر نہ رکھتے تھے۔ انہوں نے عوام کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ امام اشعری بدعتی تھے اور ان کی طرف ایسے اقوال منسوب کیے کہ (جو انہوں نے کبھی کہے ہی نہ تھے بلکہ ) انہوں نے اپنی زندگی ایسے اقوال کے کہنے والوں کو جھٹلا نے اور گمراہ کہنے میں گزاردی ۔
ابن حزم الاندلسی الظاہری نے اپنی کتاب ’’النصائح والفضائح‘‘ میں آپ پر اور دوسرے ائمہ اشاعرہ پر جھوٹ اور بے بنیاد طعن و تشنیع کی بھرمار کردی ۔ البتہ اپنی کتاب’’الفصال‘‘(اصل میں یہ ’’الفصل فی الملل والأھواء و النحل‘‘ ہے) میں آپ کی تعریف بھی کی اور اہل حدیث کا متکلم کہا جن کے اقوال پر شافعی اور مالکی ائمہ راضی ہیں ۔ بہت سے اہل حدیث نہ صرف آپ سے راضی ہیں بلکہ آپ کے اقتباسات بھی نقل کرتے ہیں ۔ بعض نے تو امام اشعری اور آپ کے اصحاب سے درس لیا ۔ یہاں تک کہ اس طریقہ میں خود امام سمجھے جانے لگے اور امام اشعری کے طریقے پر متعدد کتابیں بھی تصنیف کیں۔‘‘
پھر (قاضی عیاض ) کہتے ہیں:
’’جو آپ کی تالیفات پر نظر ڈالے گا وہ یہ جان لے گا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی توفیق خاص سے امداد فرمائی ہے ۔ ان کے بارے میں ایک حدیث بھی نقل کی جاتی ہے ۔نہ میں اس کی اصل سے واقف ہوں اور نہ روایت کرتا ہوں اس لیے تذکرہ نہ کروں گا۔‘‘( اس حدیث کا آگے تذکرہ ہوگا) (ترتیب المدارک:۵ / ۲۴)
قاضی عیاض کا کلام ختم ہوا جو کہ معتبر ائمہ مالکیہ میں سے ہیں ۔ یہ کلام مختصرہونےکے باوجود بہت سے قیمتی نکات کا حامل ہے‘ جوغور کرےاورحاضرہوتویقیناً پا جائے ۔ امام تاج الدین السبکی فرماتے ہیں:
’’جان لو کہ امام ابوالحسن الاشعری نے کوئی نئی رائے ایجاد نہیں کی اورنہ ہی کسی نئے مذہب کی بنا ڈالی۔ وہ تو مذہب ِسلف ہی کوبیان کرنےاور اصحابِ رسولؐ ہی کے طریقہ پر جدوجہد کرنے والے تھے ۔ مذہب کا انتساب آپ کی طرف اس وجہ سے کیا جاتا ہے کہ طریق سلف کو واضح کرنے والے اور اس کی حدود کا تعیّن کرنے والے آپ ہی تھے ۔ آپ طریق سلف سے نہ صرف چمٹے رہے بلکہ اس پر دلائل بھی قائم کیے ۔ دلائل میں آپ کی پیروی کرنےوالا اشعری کہلایا ۔ میں اپنے والد صاحب (امام تقی الدین السبکی) سے کئی دفعہ یہ عرض کرچکا ہوں کہ مجھے حافظ ابن عساکر پر تعجب ہے کہ انہوں نے جب بھی امام اشعری کے متبعین کے گروہ کا اندازہ لگایا ہے تو کم ہی لوگوں کا تذکرہ کیا ہے ۔ اگروہ اس کام کا حق ادا کرتے تو چاروں مذاہب کے اکثر علماء کو لازماً شامل کرتے کہ وہ عقائد میں ان ہی کے رستے کے پیرو تھے۔ والد صاحب نے جواب دیا کہ ابن عساکر نے صرف ان لوگوں کو شمار کیا ہے جنہوں نے اس طریقہ میں کوئی کوشش و محنت کی ہے ( اس وجہ سے ان کا عقائد میں اشعری ہونا سامنے آیا )‘ورنہ اصل بات تو وہی ہے جو تم نے کہی کہ تمام مذاہب کے اکثر علماء آپ کے ساتھ ہیں ۔
شیخ الاسلام عزالدین بن عبد السلام نے ایک جگہ ذکر کیا کہ امام اشعری کے عقیدہ پر شافعی ‘ مالکی ‘ حنفی اور بہت سے حنابلہ متفق ہیں۔ آپ کی اس بات میں اس زمانے کے ایک بڑے مالکی شیخ ابو عمرو بن الحاجب اور حنفیہ کے ایک شیخ جمال الدین الحصیری نے موافقت کی۔‘‘ (طبقات الشافعیہ الکبریٰ:۳ / ۳۶۵)
ایک اور موقع پرتاج الدین السبکی فرماتے ہیں:
’’المایرقی کہتے ہیں کہ اہل سُنّت کے ترجمان کے طور پر امام اشعری پہلے متکلم نہ تھے بلکہ وہ تو اپنے سے پہلوں کے طریقہ پر ہی چلے ہیں اور جن آراء کی انہوں نے دلائل سے تائید کی وہ بھی معروف ہیں۔ بس ہوا یہ کہ دلائل کے اعتبار سے اور وضاحت میں وہ آراء اوروہ طریقہ (آپ کی اس کاوش کی وجہ سے ) زیادہ نمایاں ہوگئے ۔ آپ نے نہ کوئی نئی بات نکالی اور نہ ہی کوئی نیا مذہب ایجاد کیا ۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اہل مدینہ کا مذہب امام مالک کی طرف منسوب ہے اور جو اہل مدینہ کے طریقہ پرہوتا ہے اسے مالکی کہا جاتا ہے‘ حالانکہ امام مالک بھی تو اپنے سے پہلوں کی راہ پر ہی چلے ہیں بلکہ آپ توبہت ہی زیادہ اپنے بڑوں کی پیروی کرنے والے تھے ۔ (امام مالک کی کاوشوں سے ) یہی ہوا کہ توضیح وبیان میں اضافہ ہوگیا تو اس طریقہ کو آپ کی طرف منسوب کیا جانے لگا ۔ یہی معاملہ امام اشعری کا ہے ۔ سلف کے مذہب کی شرح و توضیح اوردلائل سے اس کی نصرت میں آپ سے آگے کوئی نہیں تھا ۔ یہاں تک کہ القابسی کہتے ہیں کہ ابوالحسن حق کی نصرت کرنے والوں میں سے ہی ایک تھے ۔ اہل عدل و انصاف سے کوئی آپ کو اس رتبہ سے معزول کرنے کا نہیں سوچ سکتا اور نہ آپ کے عہد میں کسی دوسرے کو آپ سے بلند رتبہ سمجھ سکتا ہے ۔ آپ کے بعد اہل حق آپ کی راہ پر ہی چلے ہیں ۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ اما م اشعری ایک دن وفات پاگئے اوراہل ِسُنّت تھے کہ آپ پر روتے تھے اور اہل ِبدعت خوشیاں مناتے تھے ۔‘‘ (طبقات الشافعیہ الکبریٰ:۳ / ۳۶۷)
امام سبکی امام بیہقی کا طویل کلام نقل کرتے ہیں ۔ امام بیہقی کو جاننے والے جانتے ہیں (کہ وہ کس رتبہ اور مقام کے آدمی تھے ) ہم ان کا کچھ کلام یہاں نقل کرتے ہیں:
’’شیخ ابوالحسن الاشعری کے فضائل و مناقب اس قدر زیادہ ہیں کہ اس مختصر رسالہ میں ان سب کا ذکر ممکن نہیں۔ طوالت میں بوریت کا ڈر بھی ہوتا ہے ۔ میں اللہ کے حکم سے ان کے شرف کا جوان کے آباءواجداد کی نسبت سے ہے‘ ذکر کروں گا ۔ آپ کے علم اورحسنِ اعتقاد کےاعتبار سے فضل اوراس بڑے مقام و مرتبہ کا بھی ذکر کروں گا جو آپ کے اصحاب کی کثرت سے ظاہر ہے ۔ وہ اصحاب جو آپ کا اور آپ کے اَتباع کا دفاع کرتے ہیں ۔ ‘‘ (طبقات الشافعیہ الکبریٰ:۳ / ۳۹۷)
آپ کے تعارفی احوال اور نسب کا تذکرہ کرنے کے بعد امام بیہقی فرماتے ہیں :
’’ یہاں تک کہ نوبت ہمارے شیخ امام اشعری تک آگئی ۔ انہوں نےدین میں کوئی نئی بات ایجاد نہیں کی اورنہ ہی بدعت کو لے کر آئے بلکہ صحابہ و تابعین اور ان کے بعد آنے والے اصولِ دین کے ائمہ کے اقوال ہی کو لیا اور شرح و وضاحت سے ان اقوال کی نصرت کی ۔بےشک آپ جو فرماتے ہیں اوراصولِ دین میں جوآپ کا منہج ہے وہ نہایت معقول ہے‘ اہل اہواء چاہے جو بھی سمجھتے رہیں ۔ ان اہل اہواء کا کہنا ہے کہ آپ کی بعض آراء سیدھی راہ سے ہٹی ہوئی ہیں اور یہ کہ آپ اپنے بیان ودلائل میں اہل ِسُنّت کی نمائندگی نہیں کرتے۔
آپ نے اپنے سے پہلے آنے والے بہت سے ائمہ کے اقوال کی نصرت فرمائی۔ مثلاً امام ابوحنیفہ اور سفیان الثوری اہل کوفہ میں سے ‘ امام اوزاعی اور کچھ دوسرے ائمہ اہل شام میں سے‘امام مالک اور شافعی اہل حرمین میں سے۔ اسی طرح اہل حجاز میں سے اور دوسرے بلاد کے ائمہ کی ۔ امام احمد بن حنبل اہل حدیث میں سے ‘ اللیث بن سعد اور اہل آثار میں سے امام بخاری اور امام مسلم وغیرہ رحمۃ اللہ علیہم ۔ ‘‘
یہاں تک کہ امام بیہقی کہتے ہیں کہ آپ کا شمار کسی خاص زمانے کے نہیں بلکہ تمام زمانوں کے اہل ِسُنّت کے چوٹی کے علماء میں ہونے لگا ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول اکرمﷺ نے ایک پیشین گوئی فرمائی تھی کہ اللہ تعالیٰ ہر صدی میں ایسے لوگ مبعوث فرمائیں گے جواُس کے دین کی تجدید کریں گے ۔ پھر امام بیہقی وہ حدیث اشعریین لے کرآتے ہیں جس کی طرف اشارہ قاضی عیاض نے بھی کیا تھا کہ‘ آپﷺ نے فرمایا : ’’سب سے زیادہ ذہانت والے لوگ سامنے آئیں‘‘ تو اشعری قبیلے کے لوگ آگے آئے‘ جن میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے ۔ پھرآپ ؐ نے فرمایا:’’ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے۔تمہارے پاس اہل یمن میں سے لوگ آئیں گے جو دماغ میں سب سے زیادہ تیز اور دل کے سب سے زیادہ نرم ہوں گے۔‘‘ایک حدیث میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :
{فَسَوْفَ یَاْتِی اللہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗٓ } (المائدۃ:۵۴)
’’عنقریب اللہ ایسی قوم کو لائے گا کہ جن سے اللہ محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘
تو آپ ﷺ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری کی کمر تھپتھپاتے ہوئے کہا کہ وہ اس کی قوم میں سے ہوں گے۔‘‘ پھر امام بیہقی فرماتے ہیں:
’’جب اہل بدعت کی کثرت ہوگئی اورانہوں نے کتاب و سُنّت کے ظاہر کو چھوڑ دیا ‘ اللہ تعالیٰ کی جو صفات نصوص میں وارد ہوئی ہیں(مثلاً حیاۃ ‘ قدرت ‘ علم ‘ ارادہ ‘ سمع ‘ بصر‘ کلام ‘ مشیٔت‘بقا) ان کا انکار کیا ‘ معراج ‘ عذابِ قبر ‘ میزان ‘ اہل ایمان دوزخ سے نکالے جائیں گے ‘ اللہ کے نبیﷺ کے لیے حوضِ کوثر اور شفاعت‘ اہل جنت کے لیے دیدارِ خداوندی ‘ خلفائے اربعہ کا برحق ہونا ان سب باتوں کے واضح معانی میں جھگڑنے لگے(تاویلات کیں‘ عجیب و غریب مطلب نکالے ) اوراس باطل زعم میں مبتلا ہوگئے کہ ان میں کوئی بات درست نہیں ہے اور نہ ہی عقل ورائے کی میزان پر پوری اترتی ہے ‘ تو پھر اللہ تعالیٰ نے ابو موسیٰ اشعریؓکی نسل سے ایک امام کو پیدا کیا ۔اس نے دین کی مدد کی اور زبان و بیان سے خدا کے دین سے روکنے والوں کے خلاف جہاد کیا۔ اس بات کو اہل یقین کے لیے مزید واضح کردیا کہ کتاب و سُنّت جو علم لے کر آئے اورجس راہ پر ہمارے سلف تھے‘ سیدھی عقلوں کے لیے وہی درست راہ ہے ۔‘‘(طبقات الشافعیہ الکبریٰ:۳ / ۳۹۸)
امام بیہقی کی اس کتاب کے بارے میں جس سے ہم نے ایک مختصراقتباس ابھی نقل کیا ہے ‘ امام سبکی کہتے ہیں:
’’ اس کتاب اور اس کے مصنف جس کے دین ‘ تقویٰ ‘ حافظہ ‘ باخبری ‘ علم ‘ ثقاہت ‘ امامت اور ثبات سے تم واقف ہو ‘ کی بات کا اگر خلاصہ بیان کیا جائے تو یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ اور ان کی بہترین طریقہ پر پیروی کرنے والے علماء ‘ فقہاء اورمحدثین امت‘ امام اشعری کے عقیدہ پر تھے ‘ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ امام اشعری ان کے عقیدہ پر تھے ۔ آپ کمر ہمت کس کر کھڑے ہوئے اور اس عقیدہ کے دفاع کے لیے جدوجہد کی ۔ اس علمی ذخیرہ کی حفاظت کی کہ اس تک اہل باطل کی رسائی غلط نیت سے نہ ہوسکے اورغلو کرنے والوں کی تحریفات سے محفوظ رہے۔‘‘ (الطبقات الکبریٰ: (۳ / ۳۹۹)
شیخ علیش اپنے فتاویٰ میں ایک سوال کہ کیا امام اشعری علم توحید کے وضع کرنے والے تھے‘ کے جواب میں فرماتے ہیں:
’’اصل میں تو اللہ تعالیٰ ہی اس کا وضع کرنے والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بہت سی آیات عقائد اور ان کے دلائل و براہین کے بیان کے لیے نازل فرمائیں ۔ اس علم پرکچھ مرتّب کلام امام اشعری سے پہلے ہمیں امام مالک کے ہاں بھی مل جاتا ہے ۔ علامہ الیوسی اپنی کتاب ’’قانون‘‘ میں فرماتے ہیں :’’ اس علم کلام کے وضع کرنے کے حوالے سے امام اشعری کا نام لیا جاتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے ہی اس علم کی باقاعدہ تدوین کی‘ اس کے مطالب کو مرتب کیا اور اس کی بنیادوں کو واضح کیا ۔ آپ امام اہل سُنّت ہیں‘ اس میں کوئی شک نہیں لیکن ان کو اس علم کا وضع کرنے والا کہنے میں کچھ اشکال ہے ۔ یہ علم آپ سے پہلے بھی تھا اور کچھ علماء اس میں غورو خوض کیا کرتے تھے ‘مثلاً قلانسی اور عبداللہ بن کُلاّب ۔ یہ لوگ شیخ اشعری کی آمد سے قبل ’’مثبتہ‘‘ کے عنوان سے جانے جاتے تھے ‘کیونکہ معتزلہ جن باتوں کی نفی کیا کرتے تھے یہ ان کو ثابت کرتے تھے ۔ پھر ایک اہم بات یہ ہے کہ علم کلام کے عنوان کا انطباق اہل سُنّت کے موافقین اور مخالفین سب کے علم پر ہوتا تھا ۔ شیخ نے اس علم کی تحصیل ابوعلی جبائی سے کی تھی جس کا قصہ ہمیں معلوم ہے ۔تو پھر اس علم کے وضع کرنے والے شیخ ابوالحسن الاشعری کیسے ہوسکتے ہیں ؟
بہتر یہی ہے کہ اسے قرآنی علم قراردیا جائے کیونکہ اس کے بنیادی مسائل کا بیان قرآن مجید میں پایا جاتا ہے۔ مثلاً عقائد‘ نبوات اورسمعیّات کا۔ اسی طرح زمین و آسمان اورنفوس کی تخلیق کے ذکرسےان کےحدوث کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ یہ سب محدِث اورصانع کے وجود پر موقوف ہیں ۔ باطل مذاہب کی طرف بھی اشارات پائے جاتے ہیں۔ مثلاً اہل تثلیث ‘ ثنویت کے قائلین اور مادہ پرستوں کا رد کیا جاتا ہے۔اہل باطل اور منکروں کے شبہات کا جواب دیا جاتا ہے‘ کبھی وجودی طور پر دکھلا کر اور کبھی امکان کو ثابت کرکے ۔ مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
{کَمَا بَدَاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ ط} (الانبیاء:۱۰۴)
’’ہم اسے دوبارہ اسی طرح لوٹا دیں گے جس طرح ہم نے پہلے بنایا تھا۔‘‘
اور :
{قُلْ یُحْیِیْہَا الَّذِیْٓ اَنْشَاَہَآ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ط وَہُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُنِ (۷۹) }
’’آپ جواب دیجیے! کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے انہیں اول مرتبہ پیدا کیا ہے‘ جو سب طرح کی پیدائش کا بخوبی جاننے والا ہے۔‘‘
اسی طرح:
{الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَآ اَنْتُمْ مِّنْہُ تُوْقِدُوْنَ(۸۰)} (یٰسٓ)
’’وہی جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کردی جس سے تم یکایک آگ سلگاتے ہو۔‘‘
(پہلی دو آیات میں امکان کا بیان ہے ۔ تیسری آیت میں ایک واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔)
اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام اوردوسرے انبیاء کے دلائل کا تائید ی انداز میں ذکر کیا گیا ہے ۔ حضرت لقمان کی حکمتوں کا ذکر بھی ہے ۔ اور بھی بہت کچھ ہے جو سب اگر بیان کیا جائے تو ایک طویل قصہ ہوجائے ۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺبھی ان معاملات میں کلام فرماتے ہیں۔ مثلاً علم نجوم اور آفتوں اور بیماریوں کے ایک انسان سے دوسرے انسان کو لگ جانے کے بارے میں عربوں کے اعتقاد کو باطل قراردیا ہے ۔اور بھی بہت سے دوسرے مسائل میں کلام فرمایا ۔ اور یہ (علم الکلام کو امام اشعری سے پہلے کا قرار دینا) اس صورت میں ہے کہ اس علم کو علم الٰہیات(یا مابعد الطبیعیات) سے الگ شمار کیا جائے۔ اور اگر اسے الٰہیات(یا مابعدالطبیعیات) ہی قرار دیا جائے کہ اس کو تنقیح کے عمل سے گزارنے کے بعد حق کو باطل سے الگ کر کے ملت نے قبول کیا ہے‘ تو پھر اس بات میں کوئی شک ہی نہیں کہ اس علم کی وضع بہت قدیم ہے۔‘‘(الیوسی ؒکا کلام ختم ہوا)
ہمارے مشائخ کے شیخ ‘ علامہ امیر یعنی الیوسی فرماتے ہیں:’’مشہور ہے کہ امام اشعری اس علم کے وضع کرنے والے ہیں ۔ اصل میں ایسا نہیں ہے ۔ حضرت عمر بن الخطابؓ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ان معاملات میں کلام فرمایا ہے ۔ امام مالک نے تو ایک رسالہ بھی لکھا تھا ۔ ہاں یہ درست ہے کہ آپ نے باقیوں کی نسبت اِس علم توحید سےزیادہ اعتناء کیا ہے ۔‘‘ ( شیخ علیش کے فتاویٰ سے کلام ختم ہوگیا) (فتح العلی المالک فی الفتوی علی مذھب الامام مالک: ۱ / ۱۸‘ طبعہ سنۃ ۱۹۵۸ء)
ان کےعلاوہ علم توحید میں بہت سا کلام اکابر ِصحابہ اور خاص طور پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے ۔ جو بھی اسلاف سے اس علم کے بارے میں معانی حاصل ہوئے‘ اکثرعلماء نے ان پر ہی اعتماد کرتے ہوئے اس کی شرح و وضاحت کی‘ اس کو وسعت دی اور اس پرعلم کی مکمل شاندارعمارت تعمیر کی ۔ جو ہم نے علماء کا کلام نقل کیا ہے وہ اس بات کو بیان کرنے کے لیے کافی ہے کہ امام اشعری امامِ اہل سُنّت والجماعت ہیں اوراشاعرہ اہل ِ سُنّت والجماعت کے حقیقی نمائندہ ہیں ۔ اس بات کی وہی مخالفت کرسکتا ہے جو ہمارے ان علماء کی قدرومنزلت سے واقف نہیں ہے جو اُمّت ِمسلمہ کے لیے روشنی کے میناروں کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
امام اشعریؒ کی زندگی کے دواَدوار
گزشتہ بحث سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ امام اشعری کی زندگی کے دو ادوار ہیں۔ پہلا جب وہ معتزلہ کے افکار کے قائل تھے اور ان کا دفاع کیا کرتے تھے ‘بلکہ وہ ان کےبڑے لوگوں میں سے تھے یہاں تک کہ وہ چالیس سال کی عمر تک پہنچ گئے ۔ اس بارے میں ہم حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے کہ آپ کا عبوری دور کب شروع ہوا ‘ البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایساآپ کی فکری ترقی وعروج کے آغازسے ہی ہوگیا تھا کیونکہ آپ بچپن ہی سے معتزلہ کے ساتھ اختلاط رکھتے تھے۔ اس عبوری دور میں آپ برسوں رہے ‘ جس کے آخری حصے میں آپ نے اپنے اور معتزلہ کےفکر کو پرکھنا شروع کیا اوران کے مشائخ سے مناظرے کیے ۔ یہ وہی درمیانی دور ہے جس کا تذکرہ پہلے بھی ہو چکا ہے۔ آخر کار معتزلہ کے بہت سے اصولوں کا غلطی پر ہونا آپ پر واضح ہوگیا ۔ آپ کافکری سفر معتزلہ سےعلیحدگی اوراہل سُنّت کی طرف رجوع کا باعث بنا ۔ پھر آپ نے پہلے گزرے ہوئے علماء ومتکلمین مثلاً قلانسی اورحارث محاسبی وغیرہ کی کاوشوںسے بھر پور فائدہ اٹھایا ۔
امام اشعری نے اہل ِسُنّت کی آراء کی توضیح و تنقیح میں تصنیف وتالیف بھی فرمائی اورمخالفین کا ردّ کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ ان کاوشوں کا اثر دیگرعلماء نے محسوس کیا ‘جنہوں نے اقوالِ اہل ِسُنّت پر آپ کی حُجّت کو تسلیم کیا اوراپنی نسبت آپ کی طرف کی ۔ اس دوسرے مرحلہ کے بارے میں غالب گمان یہی ہے کہ کوئی۲۴ سال رہا ۔ یہ مرحلہ تیسری صدی ہجری سے شروع ہوا اور آپ کی وفات پر ہی ختم ہوا ۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے!