(ایمانیات) مباحث ِ عقیدہ (۲۶) - مؤمن محمود

9 /

مباحث ِعقیدہ(۲۶)مؤمن محمود

لَا يَكُوْنُ إِلَّا مَا يُرِيْدُ
آج ان شاء اللہ ’’لَا يَكُوْنُ إِلَّا مَا يُرِيْدُ‘‘ کا بیان ہو گا‘یعنی’’ نہیں ہوتا مگر جو خدا چاہتا ہے۔‘‘ یہ عقیدہ طحاویہ کی عبارت ہے۔ علماء نے کہا ہے کہ یہ تقدیر کے عقیدے کا پورا بیان ہے‘ یعنی اگر ایک جملے میں تقدیر کے عقیدے کو بیان کرنا ہو تو اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی مشیت‘ اس کے ارادے اور اس کے علم کے بغیر کائنات میں کچھ نہیں ہوتا۔ چاہے کسی مسلمان کا اسلام ہو یا کسی کافر کا کفر یا کسی منافق کا نفاق ‘ ایجاد ہو یا اعدام ‘ احیاء ہو یا اماتہ ‘ رزق ہو یا جو بھی افعال اس کائنات میں جاری ہیں‘ وہ سب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے علم‘ اس کی مشیت اور اس کے ارادے کے مظاہر ہیں۔ پس ’’ لَا يَكُوْنُ إِلَّا مَا يُرِيْدُ ‘‘ یہی عقیدۂ قدر ہے۔ البتہ اس عقیدے کی کچھ وضاحت اور تفصیلات ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ہمیں اس خوش فہمی سے نکل جانا چاہیے کہ یہ عقیدہ بہت آسان اور سادہ ہے‘ جسے سمجھنا بآسانی ممکن ہے۔ اس طرح کے دعوے کہ چند منٹ ‘یا ایک گھنٹے یا دس نشستوں میں اس کا حل ہو جائے گا ‘ سب فضول ہیںاور علماء نے اس کو پسند نہیں کیا بلکہ اس کے برعکس بیان کیا ہے۔ لہٰذا سب سے پہلے جو بیان کیا جائے گا وہ خود امام طحاوی علیہ الرحمہ کا قدر کے بارے میں متن ہے ‘ صرف یہ دکھانے کے لیے کہ تیسری صدی میں بھی علماء کس نگاہ سے عقیدۂ قدر کو دیکھ رہے تھے۔
امام طحاوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
وَأَصْلُ الْقَدَرِ سِرُّ اللَٰهِ تَعَالٰى فِي خَلْقِهِ لَمْ يَطَّلِعْ عَلَى ذَلِكَ مَلَكٌ مُقَرَّبٌ وَلَا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ
’’عقیدۂ تقدیرکی اصل اللہ کا وہ راز ہےجو اس کی مخلوقات میں(جاری) ہے کہ جس پر کوئی ملک مقرب بھی مطلع نہیں ہوا اور نہ کسی نبی مرسل کو اس پر واقفیت حاصل ہوئی۔‘‘
وَالتَّعَمُّقُ وَالنَّظَرُ فِي ذَلِكَ ذَرِيعَةُ الْخِذْلَانِ وَسُلَّمُ الْحِرْمَانِ وَدَرَجَةُ الطُّغْيَانِ
’’اس میں تعمق کا مظاہرہ کرنا اور غور و فکر کرنا خذلان کی راہ ہے(یعنی یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی رحمت سے دور ہونا ہے)‘ یہ محرومی کی سیڑھی ہے (یعنی اس سیڑھی پر چڑھ کر انسان اللہ کے قریب نہیں بلکہ محروم ہوتا ہے) اور یہ سرکشی کے درجے پر قدم رکھنا ہے۔‘‘
فَالْحَذَرَ كُلَّ الْحَذَرِ مِنْ ذَلِكَ نَظَرًا وَ فِكْرًا وَ وَسْوَسَةً
’’پس پوری طرح بچو اس سے‘( یعنی اس عقیدۂ تقدیر میں) غور و فکر کرنے سے‘ نظر دوڑانے سے اور وسوسوں سے بچو۔‘‘
فَإِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى طَوَى عِلْمَ الْقَدَرِ عَنْ أَنَامِهِ وَنَهَاهُمْ عَنْ مَرَامِهِ
’’کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علمِ قدر کو مخلوقات سے لپیٹ لیا ہے (یعنی کسی کو اس کا علم نہیں دیا) اور مخلوقات کو منع کیا ہے کہ اس کی تلاش میں پڑیں۔ ‘‘
عقیدئہ تقدیر : ماورائے عقل ہے ‘ خلافِ عقل نہیں
بعض چیزیں اللہ تعالیٰ نے انسانوں سےمخفی رکھی ہیں لیکن انہیں ترغیب دی ہے کہ اگر تم اس راہ پر چلو گے تو واضح کر دوں گا۔ البتہ یہاں فرمایا کہ علمِ قدر لپیٹ بھی لیا ہے اور ساتھ منع بھی کیا ہے کہ اس کی تلاش میں نہ پڑنا‘ کیونکہ یہ عقل سے ماورا ہے؛ خلافِ عقل نہیں ہے‘ ماورائے عقل ضرور ہے۔ ہمارے تمام علماء کے پاس جب عقیدۂ تقدیر کے اصل مقام پر آ کر بات مشکل ہوتی ہے تو آخری پناہ گاہ یہی آیت ہے جو انہوں نے بیان فرمائی:
كَمَا قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰى فِي كِتَابِهِ: {لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْئَلُوْنَ(۲۳) } (الانبياء)
’’جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا: اللہ سے سوال نہیں ہوتا کہ وہ کیوں کرتا ہے لیکن ان سے (مخلوقات سے) سوال ضرور ہوگا (کہ یہ کیوں کرتے ہیں)۔‘‘
فَمَنْ سَأَلَ لِمَ فَعَلَ؟ فَقَدْ رَدَّ حُكْمَ الْكِتَابِ وَمَنْ رَدَّ حُكْمَ الکِتَابِ كَانَ مِنَ الْكَافِرِيْن
’’ پس جس نے( اللہ تعالیٰ سے) یہ سوال کیا کہ(تو نے) کیوں کیا‘ تو اس نے کتاب کے حکم کو رد کر دیا۔ اور جس نے کتاب کے حکم کو رد کر دیا وہ کافروں میں سے ہو گیا۔‘‘
یہ عبارت بہت ہی صریح ہے ‘جس میں بتایا گیا ہے کہ قدر کی اصل ایک پنہاں راز ہے۔ سلطنت عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری علیہ الرحمہ کی ایک بہت دقیق کتاب ہے جس کا نام ہے: ’’موقف البشر تحت سلطان القدر‘‘ (سلطانِ قدر کے تحت انسان کا موقف)۔ اس کے آخر میں انہوں نے مسئلہ تقدیر کو حل کرنے کی بہت کوشش کی کیونکہ وہ بہت بڑے متکلم تھے‘ لیکن پھر بالکل تواضع سے بتاتے ہیں کہ وہ مسئلہ حل نہیں ہوا‘ بس زیادہ سے زیادہ تقریب کی ہے‘ آخر کار مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ انہوں نے بہت خوب صورت بات کی کہ جو بھی یہ دعویٰ کرے کہ یہ مسئلہ سادہ ہے‘ سمجھنے میں بہت آسان ہے ‘ بآسانی سمجھایا جا سکتا ہے اوربآسانی سمجھ آ جاتا ہے اور بآسانی حل ہو جاتا ہے‘ تو جو بھی یہ کہے گا وہ عقیدۂ تقدیر بیان کرتے وقت ضرور کوئی نہ کوئی بات غلط بیان کرےگا۔ یعنی وہ اہلِ سُنّت کا عقیدہ بیان نہیں کر رہا ہوگا ‘ کیونکہ اہلِ سُنّت کا عقیدہ اتنا سادہ نہیں ہے۔
عقیدئہ تقدیر: ماہیت نہیں بلکہ اہمیت
یہ بیان عقیدۂ قدر کی ماہیت کا نہیں بلکہ صرف اس بات کا تھا کہ عقیدۂ قدر کی اہمیت کیا ہے۔ اس کا علم ہم سے مطوی ہے یعنی لپیٹ لیا گیا ہے‘ اور ہمیں منع کر دیا گیا ہے کہ ہم اس کی کھود کرید کریں۔ البتہ اس کا قطعاً یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ نبی اکرمﷺ نے اس مسئلے کا صحیح طریقے پربیان کرنے سے بھی منع فرمایا ہو ۔ آپﷺ نے اس مسئلے کوکھول کر بیان کیا ہے ۔ عقیدۂ قدر کے ارکان کیا ہیں اور کن کن باتوں کو ماننا ضروری ہے‘ یہ سب باتیں کھول کر بیان فرمائی ہیں۔ سب سے پہلے ایک حدیث پڑھتے ہیں جس سے یہ بات واضح ہو جائے کہ رسول اکرمﷺ کو اس مسئلے میں گفتگو پسند نہیں تھی۔ امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ اپنی مسند میں روایت کرتے ہیں:
عَنْ عَمرو ابْنِ شُعَیْبٍ عَنْ جَدِّہِ، قال: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ ذَاتَ يَوْمٍ وَالنَّاسُ يَتَكَلَّمُوْنَ فِيْ القَدَرِ، قَالَ: وَ كَأَنَّمَا تَفَقَّأَ فِيْ وَجْهِهِ حَبُّ الرُّمَّانِ مِنَ الغَضَبِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُمْ: ((مَا لَكُمْ تَضْرِبُوْنَ كِتَابَ اللّٰهِ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ؟))
’’حضرت عمرو بن شعیب اپنے دادا (حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما )سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم ﷺ (اپنے حجرۂ مبارکہ سے) باہر تشریف لائے اور لوگ قدر کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔ (راوی فرماتے ہیں کہ) یہ سن کر نبیﷺ کا چہرہ اتنا سرخ ہو گیا گویا انار کے دانے آپ کے چہرے پر نچوڑ دیے گئے ہوں (یعنی جیسا سرخ رنگ انار کا ہوتا ہے اس طرح آپﷺ کا رنگ غصے سے سرخ ہوگیا)۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ اللہ کی کتاب کے ایک حصے کو دوسرے سے ٹکراتے ہو!‘‘
گویا صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے درمیان گفتگو یہ چل رہی تھی کہ کچھ صحابہ کہہ رہے تھے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات بھی نازل فرمائی ہیں جن میں عمل کی نسبت انسان کی طرف کی گئی ہے‘ انسان کی طرف ارادے کی نسبت بھی ہے اور مشیت کی نسبت بھی ہے۔ اس کے مقابلے میں کچھ صحابہ ایسے ہوں گے جو کہہ رہے ہوں گے کہ نہیں‘ ادھر دیکھو کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اگر اللہ چاہے تو یہ ہو جائے‘ اور تم چاہ بھی نہیں سکتے مگر یہ کہ اللہ چاہے‘ اور اگر اللہ چاہتا تو تمام انسان مسلمان ہوتے‘ اور کوئی شخص اللہ کے اذن‘ ارادے اور مشیت کے بغیر ایمان نہیں لاتا۔ یہ ساری آیات بھی تو قرآن میں موجود ہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
((بِهَذَا هَلَكَ مَن كَانَ قَبْلَكُمْ)) قَالَ: فَمَا غَبَطْتُ نَفْسِيْ بِمَجْلِسٍ فِيْهِ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ أَشْهَدُہُ، بِمَا غَبَطْتُ نَفْسِيْ بِذَالِكَ الْمَجْلِسِ، أَنِّيْ لَمْ أَشْهَدْهُ.
’’اسی طریقے سے تم سے پہلے لوگ ہلاک ہوئے تھے۔‘‘( راوی کہتے ہیں کہ) ’’جب بھی نبی ﷺ کسی مجلس میں ہوتے تھے اور میں وہاں نہ ہوتا تو میری شدید خواہش ہوتی تھی کہ کاش میں وہاں ہوتا‘ سوائے اس مجلس کے کہ یہاں میری خواہش یہ ہوئی کہ کاش میں اس مجلس میں نہ ہوتا۔‘‘
اگرچہ نبی ﷺموجود تھے لیکن چونکہ آپ ﷺ نے شدید غصے کا اظہار فرمایا تو راوی فرماتے ہیں کہ میری خواہش ہوئی کہ کاش میں اس مجلس میں حاضر ہی نہ ہوتا‘ اگرچہ ہر اُس مجلس میں حاضر ہونے کی میرے دل میں خواہش رہتی تھی جس میں اللہ کےرسول ﷺ بنفسِ نفیس موجود ہوتے تھے۔
یہاں سے معلوم ہوا کہ یہ بات نبی مکرم ﷺ کو پسند نہیں تھی‘ خصوصاً جیسا کہ ’’الجام العوام‘‘ میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ ہم عوام ہی میں سے ہیں۔ جس طرح ایک اصطلاح ہے اخص الخواص‘ تو اس کے مقابلے میں ہم عام العوام ہیں۔ کچھ خواص ہیں اور کچھ اخص الخواص ہیں‘ اسی طرح کچھ عوام ہیں اور کچھ عام العوام۔ چونکہ ہم عام العوام ہیں لہٰذا ہمارے لیے بالکل مناسب نہیں کہ ہم ان مسائل میں گفتگو کریں اور ان کو حل کرنے کا دعویٰ کریں۔ جہاں نبی اکرم ﷺ نے اس سے منع فرمایا وہیں آپ ﷺنے عقیدۂ تقدیر کو کھول کر بیان بھی فرمایا۔ گویا عقیدۂ تقدیر کا صحیح بیان تو مطلوب ہے لیکن عقیدۂ تقدیر کے بارے میں اپنی عقلی موشگافیاں پسندیدہ نہیں ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ نبی مکرمﷺ کی احادیث میں عقیدۂ قدر کی اہمیت کیا ہے اور صحابہ کے ہاں اس کا کیا مقام تھا!
قدریہ
مشہور حدیث ہے جسے حدیث ِجبرائیل کہا جاتا ہے‘ لیکن اس کا ایک پس منظر بھی ہے۔ ایک تابعی یحییٰ بن معمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم بصرہ میں تھے۔ وہاں صحابہ کے زمانے میں ایک صاحب پیدا ہوئے جن کا نام معبد الجہنی تھا۔ یہ قدریہ کے بانی تھے اور قدریہ کا نعرہ یہ تھا: لَا قَدَرَ وَ الْاَمْرُ اُنُفٌ یعنی تقدیر کوئی شے نہیں ہے اور معاملہ ابھی شروع ہو رہا ہے۔ ابھی شروع ہونے سے مراد یہ ہے کہ پہلے سے کچھ نہیں ہے ۔ نہ پہلے سے علم ہے اور نہ پہلے سے ارادہ ہے۔ لہٰذا یہ جو قدریہ اوائل تھے‘ یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے علم کے بھی منکر تھے‘ اگرچہ معتزلہ علم کے منکر نہیں ہیں۔ اسی بنا پر ان قدریہ کی تکفیر بھی ہوئی ہے اور صحابہ نےفرمایا کہ اللہ کے رسولﷺ ان سے بری ہیں۔ یحییٰ بن معمر فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے بصرہ میں معبد الجہنی نے یہ گفتگو شروع کی۔ میں اور حمید بن عبدالرحمٰن الحمیری‘ جو یمن کے ایک صاحب تھے‘ ہم نے باہم طے کیا کہ ہم حج یا عمرہ کے لیے جب مکہ اور مدینہ جائیں گے تو کسی صحابی ٔرسول ﷺسے ملاقات کر کے ان سے یہ مسئلہ دریافت کریں گے کہ یہ کیا معاملہ ہے۔
فَانْطَلَقْتُ أنا و حُمَيدُ بنُ عبدِ الرَّحمَنِ الحِميَريُّ حاجَّينِ أو مُعتَمِرَينِ، فقُلنَا: لَوْ لَقِيْنَا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ فَسَأَلْنَاهُ عَمَّا يَقُوْلُ هَؤُلَاءِ فِيْ الْقَدَرِ
’’تو میں اور حمید بن عبدالرحمٰن الحمیری حج یا عمرہ کے ارادے سے روانہ ہوئے‘ ہم نے (دل میں) کہا کہ کاش ہمیں اصحابِ رسول ﷺمیں سے کوئی مل جائے تو ہم ان سے پوچھیں کہ یہ لوگ جو قدر کے بارے میں کہہ رہے ہیں اس کی حقیقت کیا ہے۔‘‘
یہ بھی ایک برکت اور نعمت تھی کہ اس زمانے میں کچھ اصحابِ رسولؐ موجود تھے۔ گویا یہ کہہ رہے ہیں کہ نئی نئی باتیں پیدا ہو رہی ہیں تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ سے جا کر پوچھ لیتے ہیں۔
فوُفِّقَ لَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ دَاخِلًا المَسْجِدَ، فَاكْتَنَفْتُهُ أَنَا وَصَاحِبِيْ أَحَدُنَا عَنْ يَمِيْنِهِ، وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ
’’ہمیں توفیق یوں حاصل ہوئی کہ مدینہ کی مسجد میں داخل ہوتے وقت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما مل گئے۔ میں نے اور میرے ساتھی نے انہیں گھیر لیا‘ ایک ان کی دائیں طرف کھڑا ہو گیا اور دوسرا بائیں طرف۔‘‘
فَقُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ إِنَّهُ قَدْ ظَهَرَ قِبَلَنَا نَاسٌ يَقْرَؤُوْنَ الْقُرْآنَ، وَ يَتَقَفَّرُوْنَ الْعِلْمَ، وَ ذَكَرَ مِنْ شَأْنِهِمْ، وَأَنَّهُمْ يَزْعُمُوْنَ أَنْ لَّا قَدَرَ، وَ أَنَّ الْأَمْرَ أُنُفٌ
’’میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن (یہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی کنیت تھی)! ہمارے ہاں کچھ لوگ پیدا ہوئے ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں اور علم کی کھوج میں رہتے ہیں‘ اور ان کا دعویٰ ہے کہ تقدیر کوئی شے نہیں اور معاملہ ابھی شروع ہو رہا ہے۔‘‘
القرآنیون
یہاں ایک عجیب مماثلت ہے جو علماء کو ہمیشہ سے تشویش میں مبتلا رکھتی ہے کہ جو لوگ ’’قرآن قرآن‘‘کا بہت زیادہ نعرہ لگاتے ہیں‘ ان کے ہاں کچھ گمراہیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ جیسے ہمارے ہاں بھی ’’اہل ِقرآن‘‘ کے نام سے ایک گروہ پیدا ہوا جو اصلاً منکرین ِحدیث تھا‘ اور عرب دنیا میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں ’’القرآنیون‘‘کہا جاتا ہے اور یہ اپنی نسبت قرآن کی طرف کرتے ہیں۔ ڈاکٹر اسرار احمد علیہ الرحمہ نے بھی اپنی کتاب ’’جماعت شیخ الہند اور تنظیم اسلامی ‘‘میں یہ نقل کیا ہے کہ جو بھی تحریک قرآن کے نام پر کھڑی ہوتی ہے تو علماء کو تشویش پیدا ہو جاتی ہے کہ یہ کچھ نہ کچھ گڑبڑ کریں گے ‘کیونکہ یہ ’’قرآن قرآن‘‘ کا نعرہ لگاتے ہیں۔ اب دیکھیے کہ یہ دو حضرات بھی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس آئے اور کہہ رہے ہیں کہ ’’یقرأون القرآن‘‘ (یعنی یہ لوگ قرآن بہت پڑھتے ہیں) ‘ اور ان کے بارے میں کچھ اور باتیں بھی بتائیں۔ ویسے تو قرآن پڑھنا اچھی بات ہے‘ لیکن اس میں اشارہ یہ تھا کہ سُنّت وغیرہ کو یہ کوئی حیثیت نہیں دیتے۔ لہٰذا ہم آپ سے پوچھنے آئے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث بیان فرمائیے جس سے یہ مسئلہ واضح ہو جائے۔
قَالَ: فَإِذَا لَقِيْتَ أُولٰئِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّيْ بَرِيْءٌ مِّنْهُمْ، وَأَنَّهُمْ بُرَءَاءُ مِنِّي، وَالَّذِيْ يَحْلِفُ بِهِ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عُمَرَ لَوْ أَنَّ لِأَحَدِهِمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فَأَنْفَقَهُ مَا قَبِلَ اللّٰهُ مِنْهُ حَتّٰى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ
’’حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا: جب تم واپس جا کر ان سے ملو تو انہیں بتا دینا کہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں۔ (بعض روایات میں آتا ہے کہ ’’ورسول اللّٰہ‘‘ یعنی اللہ کے رسول بھی ان سے بَری ہیں۔) فرمایا: اس ہستی کی قسم جس کی قسم عبداللہ بن عمر کھاتے ہیں‘ اگر ان میں سے کسی کے پاس اُحد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور وہ اسے خرچ کر دے تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس سے قبول نہیں فرمائے گا جب تک وہ تقدیر پر ایمان نہ لے آئے۔‘‘
یہ بات بہت سی روایات میں موجود ہے۔ ہم ساری روایات نقل نہیں کریں گے‘ لیکن صحابہ سے یہ بات تواتر کے درجے میں پہنچی ہوئی ہے کہ جب تک ایمان بالقدر نہ ہو‘ کوئی نیکی قبول نہیں ہوتی‘ جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما یہاں فرما رہے ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے فرمایا: ’’حَدَّثَنِيْ أَبِيْ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ‘‘ اور پھر حدیث ِجبرائیل بیان فرمائی۔ گویا یہ اس حدیث کا سیاق و سباق ہے‘ اور اس میں شاہد و دلیل یہ ہے کہ جب سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی ﷺ سے ایمان کے بارے میں دریافت کیا تو آپﷺ نے فرمایا:
((أَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰهِ، وَ مَلَائِكَتِهِ، وَ كُتُبِهِ، وَ رُسُلِهِ، وَ الْيَوْمِ الْآخِرِ، وَ تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ)) (صحیح مسلم، کتاب الایمان)
’’یعنی اللہ پر‘ اس کے فرشتوں پر‘ اس کی کتابوں پر‘ اس کے رسولوں پر اور یومِ آخرت پر ایمان لاؤ‘ اور تقدیر پر ایمان لاؤ‘ چاہے وہ خیر ہو یا شر‘ سب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے ہے۔‘‘
اسی طرح کی بہت سی روایات نقل کی گئی ہیں جن میں صحابہ فرماتے ہیں کہ ہم ایسے لوگوں سے‘ خاص طور پر معبد الجہنی اور اس کے گروہ سے‘ بے زار ہیں اور یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺپرایمان نہیں رکھتے‘ جن کا دعویٰ تھا: ’’لَا قَدَرَ وَ الْاَمْرُ اُنُفٌ‘‘۔
امام مالک نے ’’موطا‘‘ میں ایک روایت نقل کی ہے کہ سہیل بن مالکؒ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس تھا تو ان سے پوچھا گیا : قدریہ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نےفرمایا کہ میری رائے یہ ہے کہ تم ان سے توبہ کرواؤ‘ اگر توبہ کر لیں تو فبہا‘ اور اگر نہ کریں تو قتل کر دو۔ بعض علماء نے اس سے یہ استدلال کیا کہ گویا یہ مرتد ہیں۔ صحابہؓ نے بھی ان سے براءت کا اظہار کیا ہے‘ کیونکہ جب انہوں نے اللہ کی تقدیر کا بالکلیہ انکار کر دیا تو گویا وہ دین سے خارج ہو گئے۔
حضرت آدمؑ اور حضرت موسیٰ ؑکا مکالمہ
پھر بہت سی روایات ہیں جن میں نبی اکرم ﷺنے تقدیر کا عقیدہ بیان فرمایا ہے۔ امام مالک نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک مشہور روایت نقل کی ہے‘ جو دیگر کتب میں بھی موجود ہے۔ ان روایات کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جہاں رسول اللہ ﷺ نے جھگڑنے سے منع فرمایا ہے‘ وہاں عقیدۂ تقدیر کا بیان بھی فرمایا ہے‘ لہٰذا عقیدۂ تقدیر کا صحیح بیان جھگڑنے کےمعنی میں نہیں آتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
تَحَاجَّ آدَمُ وَمُوْسٰى ، فَحَجَّ آدَمُ مُوْسٰى
’’ آدم اور موسیٰ علیہما السلام میں محاجہ (مناظرہ) ہوا‘ اور آدم موسیٰ علیہما السلام پر غالب آگئے‘‘
فَقَالَ لَهُ مُوْسٰى: أَنْتَ آدَمُ الَّذِيْ أَغْوَيْتَ النَّاسَ وَ أَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ؟
’’حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام سے کہا: کیا آپ وہی آدم ہیں جنہوں نے سب لوگوں کو گمراہ کیا اور انہیں جنت سے نکلوا دیا؟ (یعنی سب وہیں سکون سے ہوتے)‘‘
فَقَالَ آدَمُ: أَنْتَ الَّذِيْ أَعْطَاهُ اللّٰهُ عِلْمَ كُلِّ شَيْءٍ وَاصْطَفَاهُ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَتِه؟ قَالَ: نَعَمْ!
’’حضرت آدم علیہ السلام نے جواب دیا: کیا آپ وہی موسیٰ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہر شے کا علم عطا فرمایا اور اپنی رسالت کے ذریعے لوگوں پر چن لیا؟ حضرت موسیٰ ؑنے فرمایا: جی ہاں( میں وہی ہوں)!‘‘
قَالَ: اَفَتَلُوْمُنِيْ عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ؟
’’حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا: تو کیا تم مجھے اس بات پر ملامت کر رہے ہو جو میرے پیدا ہونے سے پہلے ہی میری تقدیر میں لکھی جا چکی تھی؟‘‘
نبی مکرمﷺ فرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے‘ یعنی حضرت آدم علیہ السلام جیت گئے۔ اس روایت سے کچھ غلط معانی بھی پیدا ہو سکتے ہیں‘ لیکن اس کے بیان کا مقصد یہ ہے کہ رسول اکرمﷺ کے مطابق حضرت آدم ؑکی یہ دلیل بڑی قوی تھی۔ جب حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے پیدا ہونے سے پہلے ہی اللہ کی یہ منصوبہ بندی طے تھی کہ میں اسی طرح کروں گا‘ جنت سے نکال دیا جاؤں گا اور زمین پر آ جاؤں گا‘ لہٰذا مجھے ملامت نہ کرو۔
اس حدیث کی شرح علماء نے کی ہے‘ کیونکہ اس سے ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں تو منع کیا گیا ہے کہ تقدیر کے ذریعے حجت نہ پکڑی جائے‘ جیسا کہ مشرکینِ مکہ حجت پکڑتے تھے اور اللہ تعالیٰ نےان کا ردّ فرمایا:
{لَوْ شَآئَ اللہُ مَآ اَشْرَکْنَا } (الانعام:۱۴۸)
’’اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے۔‘‘
تقدیر سے حجت پکڑنے کی جائز صورت
یہاں بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام تقدیر سے حجت حاصل کر رہے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ یہاں حجت تقدیر سے حاصل کی جا رہی ہے‘ لیکن علماء نے اس کے جو بہت سے جوابات دیے ہیں ان میں سے ایک بہت قوی جواب یہ ہے کہ یہ حجت توبہ تائب ہونے اور گناہ کی معافی مل جانے کے بعد پکڑی جا رہی ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہوا کہ گناہ کر لیا اور توبہ نہ کی اور تقدیر سے حجت پکڑ لی‘ جیسا کہ ابلیس نے کیا تھا کہ جب اس نے سجدہ نہیں کیا اور کہا گیا کہ کیوں نہیں کیا‘ تو اس نے کہا:
{بِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ} (الحجر:۳۹)
’’تو نے مجھے گمراہ کیا‘( میرا کوئی قصور نہیں)‘‘
جبکہ حضرت آدم علیہ السلام اپنے قصور اور کوتاہی کا اعتراف فرما چکے ہیں:
{رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَاسکتۃ وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ(۲۳)}
’’اے ہمارے ربّ‘ ہم نے اپنے اوپر ستم کیا‘ اب اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہوجائیں گے۔‘‘
گویا جو شخص توبہ تائب ہو چکا ہو اور اللہ کی طرف سے اس کی توبہ کی قبولیت کا پروانہ بھی آ چکا ہو — یہ بات حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی معلوم تھی کیونکہ ان کی کتاب میں بھی یہ ذکر ہے کہ آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہو گئی تھی۔ چنانچہ جب توبہ قبول ہو گئی اور معافی مل گئی‘ اس کے بعد یہ کہنا کہ تمہارا قصور ہے‘ درست نہیں۔ کسی مسلمان کو اس کے اس گناہ پر جس سے وہ توبہ تائب ہو چکا ہو‘ عارنہیں دلائی جا سکتی اور اسے قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ لہٰذا یہ گفتگو توبہ تائب ہو جانے کے بعد کی ہے‘ اور اسی لحاظ سے حضرت آدم علیہ السلام ‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔ اگرچہ اس کے اور بھی کچھ جوابات دیے گئے ہیں‘ لیکن یہ ایک ایسا جواب ہے جس سے ‘ان شاء اللہ ‘اشکال دور ہو جاتا ہے۔
اس کے بعد ایک مشہور حدیث ہے جسے امام مالک نے اپنی ’’موطا‘‘ میں نقل کیا ہے۔ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک صاحب نے اس آیت کے بارے میں سوال کیا:
{وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ  بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّیَّـتَہُمْ وَ اَشْہَدَہُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ ج اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ط قَالُوْا بَلٰی ج }(الاعراف:۱۷۲)
یہ مشہور ’’آیتِ الست‘‘ ہے۔ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو بھی سنا کہ ان سے بھی اس آیت کے بارے میں یہی سوال کیا گیا تھا‘ تو آپ ﷺنے جو جواب دیا وہی میں تمہیں بتائے دیتا ہوں۔ آپ ﷺنے فرمایا:
((إِنَّ اللَٰهَ خَلَقَ آدَمَ ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ بِيَمِينِهِ وَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً فَقَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلْجَنَّةِ وَبِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَعْمَلُونَ))
’’اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا‘ پھر اپنا دایاں ہاتھ (جو اللہ کی شان کے لائق ہے) ان کی پیٹھ پر پھیرا اور وہاں سے ایک ذریت نکالی اور فرمایا: انہیں میں نے جنت کے لیے پیدا کیا ہے‘ اور یہ اہلِ جنت کے اعمال ہی کریں گے۔‘‘
((ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً فَقَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلنَّارِ وَبِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ يَعْمَلُونَ))
’’پھر دوبارہ ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور مزید ذریت نکالی اور فرمایا: انہیں میں نے آگ کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ اہلِ نار کے اعمال کریں گے۔‘‘
تقدیر کے ہوتے ہوئے عمل کا فائدہ
فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَفِيمَ الْعَمَلُ؟
’’تو ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہﷺ! پھر عمل کس چیز میں ہے؟ ‘‘
یہی اشکال جو ہمارے ذہنوں میں بھی آتا ہے‘ وہاں ایک صاحب نے پوچھ لیا: یعنی جب سب طے ہو چکا تو عمل کا کیا فائدہ؟
ایک دوسری صحیح روایت میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں:
((خَلَقْتُ هٰؤُلَاءِ لِلْجَنَّةِ وَ لَا أُبَالِي))
’’انہیں میں نے جنت کے لیے پیدا کیا اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔‘‘
یہاں ’’لا أبالی‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی فعل کے انجام کا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا کہ کوئی اس کا بدلہ لے لے گایا یہ پوچھے گا کہ یہ کیوں کیا؟ جیسا کہ فرمایا:
{وَلَا یَخَافُ عُقْبٰىہَا(۱۵) } (الشمس)
یعنی اللہ کو انجام کا کوئی اندیشہ نہیں۔اس سوال کے جواب میں نبی ﷺنے کوئی لمبی چوڑی فلسفیانہ تشریح نہیں فرمائی‘ جیسی ہم پیش کرتے ہیں‘ بلکہ فرمایا کہ حقیقت یہی ہے‘ بس اس کا بیان کر دیا۔ جب صحابی نےپوچھا کہ پھر کیا عمل کریں‘ تو آپﷺ نے فرمایا:
((إِنَّ اللَٰهَ عَزَّوَجَلَّ إِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، حَتَّى يَمُوتَ عَلَىٰ عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيُدْخِلَهُ بِهِ الْجَنَّةَ))
’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو جنت کے لیے پیدا فرماتا ہے تو اس سے جنت والوں کے اعمال ہی سرزد کرواتا ہے( اللہ اسے اہلِ جنت کے عمل میں استعمال فرماتا ہے)‘ یہاں تک کہ اس کی موت اہلِ جنت کے اعمال میں سے کسی ایک عمل پر آتی ہے اور اسی کے ذریعے اللہ اسے جنت میں داخل فرما دیتا ہے۔‘‘
اور اس کے برعکس:
((وَإِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، حَتَّى يَمُوتَ عَلَىٰ عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ النَّارِ، فَيُدْخِلَهُ بِهِ النَّارَ)) (سنن الترمذی:۳۰۷۵)
’’ اور جب کسی بندے کو آگ کے لیے پیدا فرماتا ہے تو اس سے اہلِ نار کے اعمال کرواتا ہے‘ یہاں تک کہ اس کی موت اہلِ نار کے اعمال میں سے کسی ایک عمل پر آتی ہے اور اسی کے ذریعے اللہ اسے دوزخ میں داخل کر دیتا ہے۔‘‘
اسی طرح ایک اور روایت طاؤس الیمانیؒ سے منقول ہے۔ یہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قریبی شاگردوں میں سے ہیں اور بہت مشہور ہیں۔ یہ یمن سے آئے تھے۔ وہ فرماتے ہیں:
أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیه وسلم يَقُولُونَ: كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ
’’میں نے رسول اللہ ﷺ کے بہت سے صحابہ سے ملاقات کی‘ وہ سب فرماتے تھے کہ ہر شے تقدیر کے ساتھ ہے۔‘‘
ذہانت اور بے وقوفی بھی مقدّر ہیں
طاؤسؒ مزید فرماتے ہیں:
سَمِعْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: ((كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ، حَتَّى الْعَجْزُ وَالْكَيْسُ ))
’’میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر شے تقدیر کے ساتھ ہے‘ یہاں تک کہ عاجزی اور ذہانت بھی۔‘‘
جیسا کہ ہم نے شروع میں قرآن کی یہ آیت نقل کی تھی:
{اِنَّا کُلَّ شَیْ ئٍ خَلَقْنٰـہُ بِقَدَرٍ(۴۹)} (القمر)
’’بے شک ہم نے ہر چیز کو تقدیر کے ساتھ پیدا کیا۔ ‘‘
یعنی ذہانت اور بے وقوفی‘ یہ سب چیزیں بھی تقدیر ہی کے ساتھ ہوتی ہیں۔ کسی کو ذہانت زیادہ ملی ہے اور کوئی زیادہ ’’کَیِّس ‘‘یعنی زیادہ سوچنے سمجھنے والا ہے۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:
((النَّاسُ كَالْمَعَادِنِ)) ’’لوگ معدنیات کی مانند ہیں۔‘‘
چنانچہ انسانوں کے اندر مختلف صلاحیتیں بھی تقدیر کے ساتھ ہیں۔اس کے بعد اور بھی بہت سی روایتیں نقل کی گئی ہیں جن میں صحابہ کے اقوال ہیں‘ اور جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سب کے سب اس بات پر متفق ہیں کہ رسول اللہﷺ ان قدریہ سے بَری ہیں۔
ایک اور صحیح روایت ہے جس میں اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی ذریت نکالی اور فرمایا: ((هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي)) یعنی یہ جنت میں ہیں‘ مجھے پرواہ نہیں۔ یہاں ’’لا أبالی ‘‘کا اضافہ ہے۔ ایک پوچھنے والے نے پوچھا: فَعَلَامَ نَعْمَلُ؟ پھر ہم عمل کس بنیاد پر کریں؟ آپ ﷺنے فرمایا:((عَلَىٰ مَوَاقِعِ الْقَدَرِ))  یعنی تم تقدیر کے واقع ہونے کی جگہوں پر ہی عمل کرو گے‘ گویا تمہارا عمل بھی خود تقدیر ہی کا جزو ہوگا۔
اگلی حدیث بھی طویل ہے جس میں رسول اکرمﷺ بقیع الغرقد میں موجود تھے اور یہی الفاظ ارشاد فرمائے۔ یہ حدیث امام مسلم نے اپنی صحیح میں ’’کتاب القدر‘‘ یعنی تقدیر کےبیان میں نقل کی ہے‘ اور وہ بھی پوری حدیث لے کر آئے ہیں۔ اسی طرح اور بھی بہت سی احادیث ہیں‘ لیکن ان تمام سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ نبی مکرمﷺ نے ایک طرف عقیدۂ تقدیر میں جھگڑنے سے منع فرمایا اور دوسری طرف اسے کھول کر بیان بھی فرمایا۔ ہمارے ائمہ نے بھی‘ جیسا کہ امام طحاوی کی عبارت ہم نے شروع میں دیکھی‘ یہ بیان فرمایا ہے کہ عقیدۂ تقدیرکے اندر کچھ راز ایسے ہیں جو قابلِ فہم نہیں۔ یہاں ’’قابلِ فہم نہ ہونے‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ یہ خلافِ عقل ہیں‘ بلکہ یہ کہ کچھ باتیں ماورائے عقل ہیں‘ کیونکہ ان کا تعلق اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی صفت ِارادہ اور صفت ِقدرت سے ہے۔ چنانچہ جہاں ہمارے علماء اور نبی ﷺ نے ان معاملات میں جھگڑنے سے منع فرمایا ہے‘ وہیں ان معاملات کو کھول کر یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ عقیدہ رکھنا کیا ہے۔
عقیدئہ تقدیر پر متجددین کا حملہ
پچھلی صدی کی ابتدا میں جب مغرب کا غلبہ ہوا تو کچھ لوگوں کے ہاں یہ خیال پیدا ہوا کہ یہ مسلمانوں کا عقیدۂ تقدیر ہے جس نے انہیں پیچھے چھوڑ دیا؛ یہ لوگ ہر بات کو اللہ کی طرف سےسمجھتے ہیں اور ہر بات پہلے سے طے شدہ مانتے ہیں‘ یہ طرزِعمل عمل چھوڑنے پر آمادہ کرتا ہے۔ لہٰذا مسلمان پیچھے رہ گئے اور دوسری دنیا آگے نکل گئی۔ چنانچہ (ان کے خیال میں) یا تو مسلمانوں نےعقیدۂ تقدیر کو صحیح نہیں سمجھا‘ اور اگر صحیح سمجھ بھی لیا ہے تو اس کے اندر کچھ مسائل ہیں۔ ایک پوری فکری رَو چلی جو مفتی محمد عبدہ علیہ الرحمہ سے شروع ہوئی اور پھر ان کے شاگردوں اور شیوخِ ازہر تک پہنچی۔ مثال کے طور پر اس وقت شیخ بخیت رحمہ اللہ ایک بڑے عالم تھے‘ اسی طرح شیخ شلتوت بھی شیوخِ ازہر میں سے تھے‘ اور مفتی محمد عبدہ کے شاگردوں میں سید رشید رضا تھے۔ پھر ہندوستان میں بھی اسی طرح کچھ ہوا۔ مغرب کا غلبہ قائم تھا اور ہر جگہ یہی صورت حال تھی۔ لہٰذا عقیدۂ تقدیر پر بھی حملے ہوئے اور بہت سی جگہوں پر عقیدۂ تقدیر کو موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے ایک ایسا موقف اختیار کیا گیا جو اہلِ سُنّت کانہیں تھا‘ لیکن اسے اہلِ سُنّت کے نام پر پروموٹ کیا گیا۔
شیخ مصطفیٰ صبری کی کتاب ’’موقف البشر تحت سلطان القدر‘‘ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی بڑے بڑے علماء عقیدۂ تقدیر میں معتزلی ہو گئے تھے‘ اور شیخ نے ان کا زبردست طریقے سے ردّ فرمایا ہے۔عقیدۂ تقدیر پر جدید و قدیم کے حوالے سے متعدد کتابیں پڑھی ہیں اور یہ مسائل کچھ دیکھے ہیں‘ لیکن اس ناقص مطالعے میں شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری کی کتاب سے بڑھ کر کوئی ایسی کتاب نظر نہیں آئی جس میں صحیح طریقے پر مسئلے کا احاطہ کیا گیا ہو اور محلِ نزاع یعنی جھگڑے کی اصل جگہ کو پہلے واضح کیا گیا ہو۔ بہت سی کتابوں میں مصنّفین لکھتے چلے جاتے ہیں‘ لیکن جو اصل بات ہے جہاں آ کر پھنسنا ہوتا ہے‘ وہ مقام درمیان میں کہیں آتا ہی نہیں‘ اور تمام مسائل بظاہر حل بھی ہو جاتے ہیں۔ اسے ایک اصطلاح میں ’’تسویدُ البیاض‘‘ کہا جاتا ہے‘ یعنی صفحے پرصفحے لکھتے چلے جانا‘ بیاض کو سیاہ کرتے چلے جانا‘ لیکن بالآخر مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ ایسی بہت سی کتابیں ہیں اور کچھ بڑے بڑے لوگوں کی بھی ایسی کتابیں ہیں جنہوں نے بہت کچھ لکھا ہے۔
اس کے مقابلے میں الانتباھات المفیدہ میں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ نے صرف دو تین صفحے عقیدۂ تقدیر پر لکھے ہیں‘ لیکن انہوں نے فوراً اس مسئلے کو پہچان لیا جو اس زمانے میں ہو رہا تھا۔ ہندوستان میں بھی کچھ بڑے بڑے علماء یہی کام کر رہے تھے‘ تو آپ نے فوراً پہچان لیا کہ یہ معتزلی موقف ہے‘ یہ عقیدۂ تقدیر نہیں بلکہ اس کی غلط تفسیر ہے۔ لہٰذا انہوں نے مختصراً بیان فرما دیا کہ جو عقیدہ تم اس وقت بیان کر رہے ہو‘ یہ عقیدۂ تقدیر نہیں ہے۔شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری علیہ الرحمہ نے تمام مواقف کھول کر بیان کر دیے ہیں۔ یہ سارے مواقف یہاں بیان نہیں کیے جائیں گے‘ کیونکہ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا‘ ان باتوں سے منع کیا گیا ہے۔ البتہ یہ موقف چاہے قدریہ کا ہو یا جبریہ کا‘ یا ان کے درمیان کے بہت سے مواقف ہوں جنہیں معتزلہ‘ اشاعرہ‘ ماتریدیہ‘ امام الحرمین الجوینی‘ اور ابن تیمیہ و ابن قیم علیہم الرحمہ کا موقف کہا جاتا ہے‘ تو یہ درمیانی مسالک ہیں جو سب کسی نہ کسی درجے میں اہلِ سُنّت میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک انتہا قدریہ کی ہے اور ایک انتہا جبریہ کی‘ اور سوائے معتزلہ کے‘ جنہیں میں نے درمیان میں شمار کیا ہے‘ باقی سب اہلِ سُنّت میں شمار ہوتے ہیں؛ معتزلہ اہلِ سُنّت میں شمار نہیں ہوتے۔
قدریہ کا موقف
پہلے صرف دونوں انتہاؤں کا بیان مناسب ہےکہ جبریہ کون ہیں اور قدریہ کون ہیں‘ اور کیا ان دونوں کی تکفیر ہوئی ہے؟ قدریہ دو قسم کے ہیں: ایک قدریہ اوائل ہیں اور ایک قدریہ اواخر ہیں جنہیں معتزلہ کہا جاتا ہے۔ اور دوسری انتہا پر جبریہ ہیں۔ قدریہ اوائل کا موقف یہ تھا: ’’لا قدر و الأمر أنف‘‘ یعنی کوئی تقدیر نہیں ہے اور (ہر)معاملہ ابھی (اسی وقت) شروع ہوتا ہے۔ نہ کوئی پہلے سے علم ہے اور نہ ارادہ۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کا علم ازلی بھی نہیں ہے‘ یعنی اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہر چیز کو پہلے سے جانا ہوا بھی نہیں بلکہ معاملات فی الحال ظاہر ہو رہے ہیں۔ گویا سب کچھ حالت ِارتقا میں ہے۔اس تصور میں شاید خدا بھی حالت ِارتقا میں ہے۔ ان لوگوں کی تکفیر ہوئی ہے جنہوں نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے علم ِازلی کا انکار کر دیا۔ انہوں نے علمِ ازلی کا انکار کیوں کیا؟ ان کا اصل مسئلہ یہ تھا کہ انسانی ارادے کو آزاد کیا جائے‘ کیونکہ یہ مسئلہ انتہائی معرکۃ الآراء اور محیر العقول مسائل میں سے ہے۔ مسئلہ یہ پیش آیا کہ انسانی ارادے پر سے جکڑ ختم کی جائے تاکہ انسان اپنے اعمال میں مسئول بنے۔ ان کے نزدیک اللہ کا علمِ ازلی بھی انسان کو قید کر رہا ہے‘ اور انسان مکلف وجود ہے‘ لہٰذا اس کی تکلیف اورمکلف وجود کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اللہ کا نہ ارادہ قدیم ہو اور نہ علم قدیم ۔ چنانچہ انہوں نے اللہ کے ارادے اور علم قدیم کو انسان کے ارادے‘ قدرت اور علم پر قربان کر دیا۔ان کو قدریہ اوائل کہا جاتا ہے۔
جبریہ کا موقف
ان کے برعکس دوسری انتہا پر جبریہ ہیں۔ جبریہ نے کہا کہ قرآن اور احادیث میں تو بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم سابق بھی ہے‘ اللہ کا ارادہ ازلی بھی ہے‘ اللہ ہی کی مرضی سے ہر شے ہوتی ہے: ’’لا يكون إلا ما يريد‘‘ ’’ما شاء اللّٰه كان وما لا يشاء لا يكون‘‘ یہ ساری نصوص کہاں گئیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ نصوص اصل ہیں۔ لہٰذا انہوں نے اِن نصوص پر توجہ مرکوز کی اور اُن نصوص کو چھوڑ دیا جن میں انسان کی طرف ارادے کی نسبت تھی‘ قدرت کی نسبت تھی‘ عمل اور فعل کی نسبت تھی۔ انہوں نے کہا کہ انسان بالکل مجبور ہے‘ مانند اس کے کہ جیسے ہوا چلتی ہے اور پتے یا ٹہنیاں ہلتی ہیں؛ ٹہنی اور پتوں کی حرکت ہر قسم کے ارادے سے خالی ہے‘ بس ہوا آتی ہے اور انہیں ہلا دیتی ہے۔انسان بھی ایسا ہی وجود ہے۔ انہوں نے انسان کے اختیاری اور اضطراری اعمال میں کوئی تفریق نہیں کی اور کہا کہ انسان پورے کا پورا اضطرار ہے‘ حالانکہ وجدانی طور پر انسان جانتا ہے کہ اس کے کچھ اعمال اضطراری ہیں اور کچھ اختیاری بھی۔ جبریہ کا کہنا ہے: ’’كَمَا تُحَرِّكُ الرِّيَاحُ الأَغْصَانَ‘‘ جیسا کہ ہوائیں ٹہنیوں کو ہلاتی ہیں‘ اسی طرح تقدیر کی ہوائیں انسان کو ہلاتی رہتی ہیں جس میں کسی قسم کا کوئی ارادہ نہیں۔
جبریہ کی تکفیر ہوئی کہ نہیں؟ امام الحرمین ابو المعالی الجوینی سے جب یہ پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ان کی تکفیر اس وقت ہوگی جب یہ تکلیف (شرعی ذمہ داری) کا انکار کریں۔ کچھ لوگ ایسےتھے جنہوں نے اس کے نتیجے میں کہا کہ یہ تکلیف اور یہ شریعت سب بے معنی ہے‘ کیونکہ جب انسان کے پاس اختیار ہی نہیں ہے اور چونکہ تکلیف کی بنیاد اختیار پر رکھی گئی ہےلہٰذا تکلیف بھی نہیں۔ جنہوں نے تکلیف اور شریعت کا انکار کر دیا وہ کافر ہو گئے۔ البتہ ایسے لوگ کم تھے۔ ان میں سے اکثر نے کہا کہ انسان کا حال وہی ہے جو ہم نے بیان کیا ہے‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اسے سزا بھی ملے گی اور جزا بھی‘ تو بس اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے‘ وہ جو چاہے کرے‘ کیونکہ یہ اللہ کی مخلوق ہے اور اللہ سے کوئی سوال نہیں کر سکتا۔ جن لوگوں نے یہ کہا کہ تکلیف اور شریعت برقرار ہے‘ انہیں کافر نہیں کہا گیا۔ ان سے کہا گیا کہ تم معاملات کو بالکل نہیں سمجھ رہے‘ لیکن چونکہ تم شریعت کا انکار نہیں کر رہے تو تمہیں کافر نہیں کہا جا سکتا۔ ویسے بھی کوئی شخص نظری سطح پر تو جبری ہو جاتا ہے لیکن عملی سطح پر کوئی بھی اس طرح جبری نہیں ہوتا‘ یعنی اگر اسے تھپڑ مارا جائے تو آگے سے ضرور مارے گا‘ اگرچہ یہ کہہ سکتا ہے کہ تھپڑ بھی تقدیرکا حصہ ہے۔
معتزلہ کا موقف
یہ دو انتہائی مواقف ہوئے۔ قدریہ بالکل ایک انتہا پر کھڑے ہیں‘ اور ان سے تھوڑا نیچے اتر کر جو اسلام میں داخل ہیں وہ معتزلہ ہیں‘ جنہیں خاص معنی میں قدریہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس لیے کہ انہوں نے انسان کی طرف ارادے اور اعمال کی نسبت کی اور کہا کہ انسان اپنے اعمال اور ارادے کا خالق خود ہے؛ اللہ تعالیٰ نے اسے بس ایسا پیدا کر دیا ہے اور وہ اپنی مرضی سے اپنا ارادہ بھی پیدا کرتا ہے اور اپنے اعمال کا خالق بھی ہے۔ البتہ انہوں نے اللہ کے علمِ سابق کا انکار نہیں کیا‘ ارادۂ سابقہ کا انکار کر دیا۔ یعنی ان کے نزدیک اللہ کے علم میں تو ہے کہ ہونا کیا ہے‘ علم کے موافق طے ہے اور اللہ نے لکھ دیا ہے‘ لیکن علم تابعِ معلوم ہوتا ہے‘ یعنی علم صرف انکشاف کرتا ہے‘ مجبور نہیں کرتا۔ علم کی صلاحیت انکشاف ہوتی ہے کہ اس سے چیزیں کھل جاتی ہیں‘ اس سے کوئی مجبور نہیں ہو رہا ہوتا۔ اگر مجھے کسی کے بارے میں یقینی علم حاصل ہو جائے کہ وہ فلاں کام کرے گا‘ تو میرے علم نے اسے کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ معتزلہ کہتے ہیں کہ علم کےنتیجے میں جبر لازم نہیں آتا‘ جبر لازم آتا ہے ارادے کے نتیجے میں۔ اگر یہ کہا جائے کہ اللہ نے ارادہ ایسا کیا تھا کہ تم ایسا کرو‘ اور تمہارے اعمال اور ارادوں کا خالق اللہ ہے‘ تب مسئلہ پیدا ہوگا۔ لہٰذا انہوں نے کہا کہ ارادۂ الٰہی کو قدیم ماننے سے جبر لازم آتا ہے۔
اگرچہ قدریہ اوائل نے علم کا بھی انکار کیا تھا اور معتزلہ کو بھی خوب پھنسایا تھا کہ علم سے بھی جبر لازم آتا ہے اور تم جبر سے نہیں بچ سکتے‘ لیکن یہ اور مسائل ہیں۔ صحیح قول یہ ہے کہ معتزلہ کے مسلک میں بھی جبر لازم آتا ہے‘ لیکن کسی اور درجے پر پہنچ کر۔ بعض مسالک میں جبر بالکل پہلے مرحلے پر لازم آ رہا ہے‘ بعض میں دوسرے پر‘ بعض میں تیسرے پر اور بعض میں چوتھے پر۔ یہ معتزلہ کا موقف تھا۔
یہ بات بتانا مقصود تھی کہ اکثر لوگوں نے معتزلہ کا موقف اختیار کر لیا؛ اس کی صورت یہ ہوئی کہ بہت سے لوگوں کی زبانی یہ سنا جاتا ہے کہ اللہ ہر چیز پہلے سے جانتا ہے۔ پھر اس کی مثالیں دی جاتی ہیں کہ جیسے ایک استاد پہلے سے جان لیتا ہے اور اگر وہ اپنے پاس لکھ لے کہ فلاں طالب علم اتنے نمبر لے گا اور فلاں اتنے‘ تو استاد کا علم تخمینی ہوتا ہے جبکہ اللہ کا علم تخمینی نہیں بلکہ قطعی ہوتا ہے۔ لیکن لکھ لینے سے طالب علم مجبور تو نہیں ہو جاتا کہ اس نے اتنے نمبر ہی لینے ہیں‘ وہ تو اپنی آزاد مرضی سے لے گا۔ اس طرح کی مثالیں آج کل اہلِ سُنّت میں سے بھی بہت سے لوگ دیتے ہیں اور اس طرح بیان کرتے ہیں کہ پہلے سے علم سابق تو ہے‘ لیکن پہلے سے ساری چیزوں کی تقدیر نہیں بنائی گئی‘ بس علم سابق ہے اور ارادۂ سابقہ نہیں ہے۔ یہ بھی عقیدۂ تقدیر نہیں ہے‘ کیونکہ یہ بعینہٖ وہی مسلک ہے جو معتزلہ کا تھا۔
یہاں حضرت تھانوی علیہ الرحمہ کےمختصر اقتباس کا ذکر بھی مناسب ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ تفسیر کی غلطی ہے جو تم لوگ کر رہے ہو‘ اصل بات ایسی نہیں ہے۔ ماضی میں بھی علماء یہی بیان کرتے آئے ہیں اور حضرت تھانویؒ بھی اسی کو بیان کر رہے ہیں۔
الانتباھات المفیدہ  اور مسئلۂ تقدیر
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ نے الانتباھات المفیدہ میں ’’ متعلق مسئلہ تقدیر‘‘ کے عنوان سے اس مسئلے کی وضاحت فرمائی ہے۔ فرماتے ہیں:
’’مرجع اس مسئلہ کا علم و تصرفِ ارادۂ خداوندی ہے۔‘‘
یعنی شروع ہی میں واضح فرما دیا کہ اس مسئلے کا تعلق علم اور تصرفِ ارادۂ خداوندی ‘دونوں ہی صفات سے ہے‘ محض علم سے نہیں ہے۔ آگے فرماتے ہیں:
’’جو خدا کا اور اس کی صفاتِ کمال کا قائل ہوگا اس کو اس کا قائل ہونا واجب ہوگا۔ مگر اس وقت اس مسئلہ میں بھی چند غلطیاں کی جاتی ہیں۔ بعض تو سرے سے اس کا انکار ہی کرتے ہیں اور بنائے انکارمحض ان کا یہ خیال ہے کہ اس مسئلہ کے اعتقاد سے تدبیر کا ابطال ہوتا ہے۔ اور تدبیر کا معطل ہونا اصل بنیاد ہے تمام کم ہمتی و پستی کی۔‘‘
یہی وہ خیال تھا جو اُس وقت ہر جگہ پھیلا ہوا تھا (کہ عقیدۂ تقدیر مسلمانوں کی پستی کا سبب ہے)۔ فرماتے ہیں:
’’اور واقع میں یہ خیال ہی خود غلط ہے۔ کوئی شخص اپنے سوئے فہم سے تدبیر کو باطل و معطل سمجھ جاوے تو یہ مسئلہ اس کا ذمہ دار نہیں۔ لیکن کسی نص نے تدبیر کا ابطال نہیں کیا بلکہ سعی و اجتہاد و کسب معیشت و تزود لسفر و تدابیر دفع مفاسد و مکائد عدو وغیرہ بے شمار نصوص میں مصرحاً وارد ہیں۔‘‘
پھر فرماتے ہیں:
’’بعض احادیث میں اس اشکال کا کہ دوا و دعا وغیرہ کیا دافع قدر ہیں‘ کیا مختصر و کافی جواب ارشاد فرمایا گیا ہے کہ : ذَلِكَ مِنَ الْقَدَرِ كُلِّهِ‘‘
یعنی جب نبی اکرمﷺ سے پوچھا گیا کہ ہم جو دعا‘ رقیہ وغیرہ کرتے ہیں ’’هَلْ نَدْفَعُ بِهَا قَدَرَ اللّٰہِ؟‘‘  کیا اس کے ذریعے اللہ کی تقدیر کو دفع کر دیتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’هِيَ مِنْ قَدَرِ اللّٰہِ‘‘ یہ بھی تو اللہ کی تقدیر میں سے ہے۔ اس کے بعد فرماتے ہیں:
’’اور بعض نے نصوص صریحہ کو دیکھ کر انکار کی تو گنجائش نہیں دیکھی مگر یہ سمجھ کر کہ اس میں انسان کا مجبور اور غیرمختار ہونا ‘ جو کہ خلاف ِمشاہدہ ہے‘ لازم آتا ہے‘ اس کی تفسیر بدل ڈالی۔‘‘
یعنی بعض نے کہا کہ انکار تو نہیں کرنا‘ چلو اس کا کوئی نیا فہم نکال لیتے ہیں۔ یہ بہت اہم بات ہے۔ اس مسئلے پر متعدد لوگوں کے رسائل پڑھے ‘ ان میں سے بعض میں بات واضح نہیں ہو رہی ہوتی‘ اگرچہ ضخیم رسالے ہوتے ہیں۔ البتہ حضرت تھانویؒ نے یہاں بالکل واضح فرما دیا۔ اگر پرانے علماء کو صحیح طریقے پر پڑھا جائے اور پھر جدید لوگوں کو پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نئے لوگ لکھتے چلے جا رہے ہوتے ہیں‘ لیکن مسئلے کی تقریر اور تحریر نہیں ہو رہی ہوتی؛ بات ہی پتہ نہیں چلتی کہ محلِ نزاع کیا ہے‘ اصطلاحات کی وضاحت نہیں ہوتی‘ بلکہ ابہام ہوتا ہے۔ لکھنے والے کے ذہن میں بھی اور پڑھنے والے کے ذہن میں بھی بات یکساں مبہم رہتی ہے۔ سب سے پہلے اس تعیین کی ضرورت ہوتی ہے کہ اختلاف کس جگہ پر ہے ‘ اور پھر اصطلاحات کی وضاحت کے ساتھ گفتگو کی جائے۔
بہرحال حضرت تھانویؒ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں نے تفسیر بدل ڈالی:
’’اور اس کی یہ تفسیر قرار دی کہ تقدیر علم الٰہی کا نام ہے‘ اور علم چونکہ معلوم میں متصرف نہیں ہوتا‘ اس لیے اس کے تعلق سے وہ اشکال لازم نہیں آتا۔ اور مثال اس کی نجومی کے مطلع ہونے اوراس کے پیشین گوئی کرنے سے دی کہ اگر وہ کہہ دے کہ فلاں تاریخ فلاں شخص کنویں میں گر کر مرجاوے گا‘ اور ایسا ہی واقع ہو گیا تو یوں نہ کہیں گے کہ اس نجومی نے قتل کر دیا۔‘‘
یعنی انہوں نے اس مسئلے سے نکلنے کے لیے تفسیر بدل دی۔ تفسیر یہ بدلی کہ تقدیر علمِ الٰہی کا نام ہے اور علمِ الٰہی سے جبر لازم نہیں آتا‘ لہٰذا اشکال وارد نہیں ہوا۔ اس کی یہی مثالیں آج تک بھی دی جا رہی ہیں: نجومی والی اور استاد والی۔ حضرت تھانویؒ نے یہ سب نقل فرمانے کے بعد جواب دیا:
’’لیکن نصوص میں نظر کرنے والا دریافت کر سکتا ہے اور عقلی مسئلہ بھی ہے کہ جس طرح کوئی واقعہ تعلق ِعلمِ الٰہی سے خالی نہیں اسی طرح کوئی واقعہ تعلق ارادۂ الٰہیہ سے بھی خالی نہیں‘ اور تقدیر کی یہی حقیقت ہے۔‘‘
یہی اصل مسئلہ ہے اور یہی عقیدۂ تقدیر کا بیان ہے: جس طرح کوئی واقعہ تعلق ِعلمِ الٰہی سے خالی نہیں‘ اسی طرح کوئی واقعہ تعلق ارادۂ الٰہیہ سے بھی خارج نہیں‘ اور تقدیر کی حقیقت یہی ہے۔ پھر فرماتے ہیں:
’’اور اگر کوئی شخص اپنی اصطلاح میں اس کا نام تقدیر نہ رکھے‘ لیکن خود اس تعلق ارادہ کا تو انکار نہیں کر سکتا۔‘‘
یعنی تم تقدیر کا نام بدل کر صرف علم رکھ لو‘ تو پھر بھی تعلقِ ارادہ باقی رہے گا اور یہ مسئلہ اپنی جگہ برقرار ہے۔یہ وہ مسئلہ ہے جو اس زمانے میں وبا کی صورت میں پھیلا اور ایک اعتزالی مذہب غالب آنا شروع ہو گیا۔ مفتی محمد عبدہ علیہ الرحمہ نے بھی مسئلہ تقدیر پر کتاب لکھی اوراس میں اعتزالی مسلک کو ترجیح دی۔ اسی طریقے پر بعد میں آنے والوں کو بھی یہی سمجھ آئی کہ گویا اس مسئلے سے نکلنے کی راہ یہی ہے۔
بہرحال ایک طرف جبریہ تھے اور ایک طرف قدریہ‘ اور قدریہ سے کچھ نیچے معتزلہ ہیں جن کی تکفیر نہیں کی گئی۔ یہ مسئلہ اتنا محیر العقول اور معرکۃ الآراء کیوں بنا‘ اس کی ایک وجہ تو بالکل عقلی ہے۔ انسان وجدانی طور پر محسوس کرتا ہے کہ وہ اختیار رکھنے والا وجود ہے اور اسے ذمہ دار بنایا گیا ہے‘لیکن دوسری طرف وہ اپنے ارادے کو خارجی عوامل کے تابع بھی محسوس کرتا ہے۔
تصوّر ِجبریت صرف مذہبی نہیں
جبریت (Determinism) کا تصور صرف مذہب کی طرف سے نہیں آیا بلکہ ہر جگہ ایسا ہی ہے؛ پرانے فلسفوں میں بھی ہے اور جدید سائنس میں بھی سائنسی جبریت (scientific determinism) موجود ہے۔ انسان وجدانی طور پر کچھ اور محسوس کرتا ہے جبکہ حقائق کچھ اور بتا رہے ہوتے ہیں‘ اس اعتبار سے بھی یہ مسئلہ پیچیدہ ہے۔البتہ ہمارے سامنے اس وقت مسئلہ یہ نہیں ہے کہ انسانی عقل میں یہ مسئلہ کہاں ٹکراتا ہے۔ جب اہلِ سُنّت اس پر گفتگو کرتے ہیں تو ان کا اصل مطمحِ نظر نصوص ہوتی ہیں ۔ کچھ نصوص میں انسان سے ارادہ سلب کر لیا گیا ہے اور ہر جگہ اللہ کی مشیت ہی کا تصرف بتایا گیا ہے۔ مثال کے طور پر:
{وَمَا تَشَآئُ وْنَ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ(۲۹) } (التکویر)
’’اور تمہارے چاہے بھی کچھ نہیں ہوسکتا جب تک کہ اللہ نہ چاہے جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔‘‘
{وَلَوْ شَآئَ رَبُّکَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ کُلُّہُمْ جَمِیْعًاط } (یونس:۹۹)
’’اور (اے نبیﷺ!) اگر آپ کا رب چاہتا تو زمین میں جتنے لوگ بھی ہیں سب کے سب ایمان
لے آتے۔ ‘‘
{وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللہِ ط } (یونس:۱۱)
’’کسی جان کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ ایمان لائے مگر اللہ کے اِذن سے۔ ‘‘
{وَلَوْ شَآءَ اللہُ مَا اقْتَتَلُوْاقف} (البقرۃ:۲۵۳)
’’اور اگر اللہ چاہتا تو وہ آپس میں نہ لڑتے۔‘‘
{وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ز } (الاعراف:۱۷۹)
’’اور ہم نے جہنّم کے لیے پیدا کیے ہیں بہت سے جِنّ اور انسان۔ ‘‘
دوسری جگہ انسان کی طرف ارادے کی نسبت بھی ہے۔ مثلاً:
{اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ ق نَّـبْـتَلِیْہِ فَجَعَلْنٰـہُ سَمِیْعًا  بَصِیْرًا(۲)} (الدھر)
’’ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے ملے جلے نطفے سے‘ ہم اس کو اُلٹتے پلٹتے رہے‘ پھر ہم نے اس کو بنا دیا سننے والا‘ دیکھنے والا۔‘‘
{وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْ قف فَمَنْ شَآئَ فَلْیُؤْمِنْ وَّمَنْ شَآئَ فَلْیَکْفُرْج } (الکہف:۲۹)
’’اور آپؐکہہ دیجیے کہ یہی حق ہے تمہارے رب کی طرف سے۔ تو اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔ ‘‘
{ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہٖ ج وَمَنْ اَسَآئَ فَعَلَیْہَاز} (الجاثیۃ:۱۵)
’’جس کسی نے اچھّا کام کیا تو اُس نے اپنے ہی (بھلے کے) لیے کیا‘ اور جس کسی نے برا کام کیا تو اس کا وبال بھی اُسی پر ہو گا۔‘‘
جبر ِمتوسط
دونوں طرف متعدد نصوص موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان نصوص کو کیسے مانا جائے؟ جو فرق سامنے آتے ہیں‘ مختلف گروہوں نے انہی سے اپنا اپنا موقف اخذ کیا۔ کسی نے ایک طرح کی نصوص پر توجہ مرکوز کی اور کسی نے دوسری نصوص پر۔ کسی نے اپنے آپ کو قدریہ بنا لیا اور انسانی ارادے کو آزاد قرار دے دیا‘ جبکہ کسی نے دوسری نصوص پر ڈیرا جما کر انسانی ارادے کو بالکل مجبور ٹھہرا دیا اور انسان کو جمادات کی مانند قرار دیا جنہیں خارجی عوامل حرکت دیتے ہیں۔ اہلِ سُنّت نے کہا کہ ہم دونوں طرف کی آیات کو یکساں مانتے ہیں۔ جہاں انسان کی طرف ارادے کی نسبت ہوئی ہے‘ ہم بھی ارادے کی نسبت مانتے ہیں۔ جہاں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا کہ انسان کا ارادہ‘ چاہے وہ جزوی ارادہ ہو جو ابھی اسے کرنا ہے‘ وہ بھی اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے‘ تو ہم یہ بھی مانتے ہیں۔ لہٰذا اہلِ سُنّت کے مسلک کو ’’جبر ِ متوسط‘‘ کہا جاتا ہے۔
لیکن اسے ’’جبر‘‘ کیوں نہیں کہتے؟ اس لیے کہ انسان کو اختیار دیا گیا ہے۔ اس کے پاس اختیار ہے کہ وہ عمل کرے یا نہ کرے‘ ایمان لائے یا نہ لائے۔ البتہ اسے اپنے اختیار میں اختیار نہیں ہے‘ یعنی اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی کی مرضی نافذ العمل ہوتی ہے‘ لیکن وہ انسان کے ارادے کے ذریعے نافذ العمل ہوتی ہے۔ اللہ کا علم اور اُس کا ارادہ یہ ہے کہ انسان اپنے ارادے سے یہ کام کرے گا۔ اس لیے اسے جبر نہیں کہا جا سکتا‘ کیونکہ جبر وہاں ہوتا ہے جہاں مجبور شخص اپنی مرضی کے خلاف کرنے پر آمادہ ہو جائے (اسی کو اکراہ کہتے ہیں)۔ لیکن جہاں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کسی سےکچھ کرواتے ہیں‘ وہ اپنی مرضی سے وہ کام کرتا ہے۔
اختیار و اسطۂ جبر ہے
شیخ مصطفیٰ صبری نے اسے بہت خوب صورت الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ہر جبر میں ایک ’’واسطۂ جبر‘‘ ہوتا ہے۔ واسطۂ جبر کبھی ڈنڈا بھی ہو سکتا ہے کہ ڈنڈے کے زور پر کام کروا لیا جبکہ وہ شخص نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔ یہاں واسطۂ جبر کیا ہے؟ یہاں واسطۂ جبر اس کا اپنا اختیار ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ اگر آپ کسی شخص کو قائل کر کے کسی کام پر آمادہ کر لیں‘ تو گویا آپ نے اس کے ارادے پر دخل اندازی تو کی ہے‘ لیکن وہ شخص اپنی مرضی سے قائل ہو کر وہ کام کر رہا ہے۔ خدا کا ارادہ اسی طرح عمل پذیر ہوتا ہے۔ وہ کبھی بھی بندے کے ارادے سے ٹکرا کر کام نہیں کرتا۔ ایسا نہیں ہوتا کہ اللہ نے زبردستی کروایا اور وہ نہیں چاہ رہا تھا‘ بلکہ بیچ میں جو واسطۂ جبر ہے وہ اختیار ہے۔ جب واسطۂ جبر اختیار ہوا تو انسان کا عمل کلیتاً اختیاری ہو گیا۔
شیخ مصطفیٰ صبری فرماتے ہیں کہ تکلیف اور مسئولیت کے لیے بس یہ بات کافی ہے کہ واسطۂ جبر انسان کے اندر اختیار کی صورت میں رکھا گیا ہے۔ البتہ اس اختیار کی تخلیق میں اور اس پر اثر انداز ہونے والے عوامل جو انسان کے ارادے اور اختیار کو بناتے ہیں‘ اس میں انسان کا کوئی عمل دخل نہیں۔ یعنی انسان عمل میں مختار ہے لیکن اپنے اختیار میں مختار نہیں ہے۔ اس کی فلسفیانہ تشریح بہت تفصیلی ہے‘ لیکن خلاصہ کچھ اس طرح ہے کہ اختیار کی ماہیت ہی یہ ہے کہ اختیار تو ہے لیکن اس پر اثر انداز ہونے والے عوامل انسان کے تابع نہیں ہوتے۔ ہر انسان یہ جانتا ہے کہ اس کے ارادے کی تحریکات اور محرکات عموماً اس کے اختیار سے خارج ہوتے ہیں۔
لہٰذا جہاں معتزلہ نے یہ کہا کہ انسان اپنا ارادہ خود پیدا کرتا ہے‘ وہ بھی یہ مانتے ہیں کہ ارادے پر جو چیزیں اثر انداز ہوتی ہیں وہ انسان کے اختیار میں نہیں ہیں۔ لہٰذا بالآخر کسی نہ کسی مرحلے پر پہنچ کر جبر لازم آ ہی جاتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ اشاعرہ و ماتریدیہ کے نزدیک اللہ تعالیٰ بالواسطہ (اختیار کے ذریعے) ارادہ پیدا فرما رہے ہیں‘ جبکہ معتزلہ کے نزدیک جزوی ارادہ تو انسان خود پیدا کر رہا ہے لیکن اس ارادے کو پیدا کرنے والے عوامل اس کے اختیار میں نہیں ہیں۔
سر ِقدر ماورائے عقل ہے
بہرحال اہلِ سنّت کہتے ہیں کہ ہم دونوں طرف کی تمام آیات کو مانتے ہیں اور ان کا اقرار کرتے ہیں۔ اب اصل مسئلہ کہاں آ تا ہے؟ وہ یہی ہے کہ ان دونوں طرح کی نصوص میں توافق کیسے ہوگا! شیخ مصطفیٰ صبری علیہ الرحمہ کی وضاحت سے بھی مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوتا۔ انسان کا اختیار ہے‘ لیکن جب یہ کہہ دیا کہ اختیار سے بھی وہی ہوگا جو اللہ نے ارادہ کیا ہے‘ تو پھر یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے کیسے متوافق ہوتی ہیں؟ کیسے ان میں مطابقت پیدا کی جا سکتی ہے؟ یہی وہ ’’روحِ قدر‘‘ یا ’’سرِّ قدر‘‘ہے جو انسانوں سے مخفی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو مکلف بنایا ہے اور اللہ کے ارادے ہی سے سب کچھ ہو گا‘ یہاں تک کہ انسان کا ارادہ بھی اللہ کے ارادے کے تابع ہوگا‘ تو ان میں توافق کیسے ہوگا؟
اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہ مسئلہ خلافِ عقل نہیں بلکہ ماورائے عقل ہے۔ اس لیے کہ عقل دونوں باتوں کو اپنی اپنی جگہ مانتی ہے۔ عقل یہ کہتی ہے کہ انسان کے پاس ارادہ ہونا چاہیے کیونکہ وہ مکلف وجود ہے‘ اور عقل یہ بھی کہتی ہے کہ خدا وہی ہے جس کے ارادے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ عقل نے دونوں جگہ جو قضیے مانے ہیں وہ درست ہیں۔ ایک طرف انسان چونکہ مسئول اور مکلف وجود ہے تو اس کے پاس ارادہ اور قدرت ہونی چاہیے۔ عقل نے یہ بات تسلیم کر لی۔ دوسری طرف عقل نے یہ بھی تسلیم کر لیا کہ خدا وہ ہے جس کے ارادے‘ علم اور قدرت کےبغیر کائنات میں کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی شخص مسلمان ہو جائے اور اللہ کی مشیت نہ ہو‘ یا کوئی شخص کافر ہو جائے اور اللہ کی مشیت نہ ہو۔ قرآن مجید اور احادیث ِنبویہ میں ہر وقت اللہ تعالیٰ سے توفیق کے طالب رہنے کا ذکر ہے۔ جس کو اللہ توفیق دے وہ ایمان لائے گا اور جس کو توفیق نہ ملے وہ ایمان نہیں لا سکتا۔ یہ سب باتیں بتا رہی ہیں کہ جب اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے معونت اور امداد حاصل نہیں ہوتی تو انسان کچھ نہیں کر سکتا‘ ایمان بھی نہیں لا سکتا۔
لہٰذا عقلِ صحیح دونوں باتیں مانتی ہے۔ خدا بھی ایسا ہی قادر مطلق اور مرید مطلق ہے اور انسان بھی مختار ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ خدا کے ارادے اور بندے کے ارادے میں توافق کیسے ہوگا؟ یہ توافق خارج از عقل ہے۔ اس لیے کہ اللہ کے ارادے اور قدرت کی حقیقت ہم سے ماورا ہے‘ اور جن دو چیزوں میں توافق کرناہے ان دونوں کی حقیقت اور ماہیت جاننا ضروری ہے‘جو ہم نہیں جان سکتے۔ لہٰذا توافق نہیں ہو سکے گا‘ اگرچہ دونوں قضیے اپنی جگہ بالکل درست ہیں۔ انسان کے پاس بھی ارادہ ہونا چاہیے‘ اور اللہ کے ارادے کے سوا کچھ نہیں ہونا چاہیے۔یہ اہلِ سُنّت کا عقیدۂ قدر ہے۔
قرآن حکیم کی ایک آیت کے بارے میں علماء نے فرمایا ہے کہ وہ عقیدۂ قدر کا خوب صورت بیان ہے‘ کیونکہ اس میں تمام نصوص کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نےفرمایا:
{وَلَوْ شَآئَ اللہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّلٰــکِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآئُ وَیَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ ط وَلَتُسْئَلُنَّ عَمَّا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۹۳)}
’’اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ایک ہی اُمّت بنا دیتا‘ لیکن وہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔ اور تم سے ضرور پوچھا جائے گا اُس بارے میںجو کچھ تم کرتے تھے۔‘‘
پہلے مشیت کا بیان آیا: {وَلَوْ شَآئَ اللہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً } اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک اُمّت بنا دیتا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں نہیں بنایا؟ اس کا جواب ’’ وَلٰكِن‘‘ سےدیا جو استدراک کے لیے ہے۔{ وَّلٰــکِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآئُ وَیَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ طوہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے ۔ یہ عقیدۂ تقدیر کا مکمل بیان ہو گیا۔ اب انسان کی مسئولیت کہاں ہے؟ آیت کا اگلا جزو اس کا جواب ہے:
{وَلَتُسْئَلُنَّ عَمَّا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۹۳)}
’’اور جو تم عمل کرتے رہے ہو اس کے بارے میں تم سے سوال ضرور ہوگا ۔‘‘
یہ اللہ کی مشیت اور ارادے کا بیان بھی ہے اور انسان کو مکلف بنانے کا بیان بھی۔ جب سارا اختیار اللہ کے پاس ہے تو سوال انسان سے کیسے ہوگا؟ یہی سرِّ قدر ہے‘ یہی روحِ قدر ہے‘ اور یہی وہ راز اور لغز (پہیلی) ہے جو انسانی عقل سے ماورا ہے اور انسان اسے سمجھ نہیں پا رہا‘ اگرچہ دونوں قضیے عقلی بھی ہیں اور شرعی بھی‘ اور دونوں اپنی جگہ درست ہیں۔
یہ ہے وہ مسئلہ جسے عقیدۂ تقدیر کہتے ہیں اور اسے ماننا بہت ضروری ہے۔اس عقیدے سے یہ بالکل لازم نہیں آتا کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ جائے اور کوئی عمل نہ کرے۔ اس عقیدے سے کم ہمتی اور پستی بھی لازم نہیں آتی‘ بلکہ قوتِ لازم آتی ہے۔ اگر اسے صحیح طریقے سے سمجھا جائے تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے محبت پیدا ہوتی ہے۔ اگر خدا ایسا نہ ہو تو اسے خدا ماننے میں ہی تامل ہو جاتا ہے‘ کیونکہ اگر میرا ارادہ خدا کے ارادے کے سوا کچھ کررہا ہے تو میں شاید خدا کو نہیں مان رہا بلکہ اپنے جیسے ایک وجود کو مان رہا ہوں‘ گویا میرے ارادے کے تابع خدا کا ارادہ ہو گیا۔ لہٰذا یہ عقیدۂ قدر ہے‘ اسے اسی طرح جاننا چاہیے۔ اس میں زیادہ موشگافیوں کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے‘ اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنی چاہیے۔