رسالۃ ’’ظہور العدم بنور القدم‘‘ (۳)
از: مولانا اشرف علی تھانویؒ
تسہیل و تعلیق:مکرم محمود
(اس قسط کو پچھلی اقساط کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو بات واضح ہو گی۔عبارت تسہیل شدہ متن کی ہے اور بریکٹس میں تسہیل شدہ متن کی شرح و وضاحت ہے۔)
آغاز تسہیل
اب حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی ؒکے موقف کا بیان باقی رہ گیا ہے۔اس بات میں تو وہ شیخ اکبر ابن عربی ؒکے ساتھ متفق ہیں کہ عالم کو موجود حقیقی نہیں سمجھتے لیکن یہ جو غیر حقیقی وجود ممکنات کے لیے ثابت ہوتا ہے اس کی کیفیت کے بیان میں شیخ اکبر سے مختلف ہیں۔حضرت مجدد یہ فرماتے ہیں کہ عالم کی تخلیق سے پہلے صرف ایک ذاتِ حق ہی اپنے تمام اسماء و صفات کے ساتھ حقیقی طور پر موجود تھی۔ان سے اسماء و صفات کے علاوہ عموم کے مرتبے میں کچھ اعتباری حقائق تھے یعنی ان اسماء و صفات کے بالمقابل (مرتبہ عدم میں)کچھ مفاہیم جو ذات حق میں معدوم ہیں(یعنی ذات حق ان سے منزہ ہے)جیسے علم کے مقابلے میں جہل‘قدرت کے مقابلے میں عجز وغیرہ۔پس یہ دو مختلف چیزیں ہیں۔ایک طرف کمالات ہیں کہ وہ وجودی حقائق ہیں‘دوسری طرف نقائص ہیں جو اصلاً معدوم ہیں۔
حق تعا لیٰ نے جب عالم کو پردئہ عدم سے ظاہر کرنا چاہا تو ان کمالات کی تجلی ان عدمات(معدومات)پر فرمائی۔ ان میں ان کمالات کی صورت منعکس ہو گئی اور اس انعکاس کی وجہ سے ایسے حقائق ظاہر ہو گئے کہ ان کا مادہ تو یہ عدمات ہیں اور ان کی صورت یہ عکوس ہیں(مادہ یہاں حقیقت کے معنوں میں ہے یا اس کو ماہیت بھی کہا جاسکتا ہے۔عالم کی حقیقت و ماہیت تو یہ معدومات ہی ہیں۔ اس کو صورت اسماء و صفات کی تجلی کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے)۔یہی اعتباری حقائق (یعنی عدمات )ممکنات کی ماہیات ہیں۔ چونکہ یہ عدمات نقائص ہیں اس لیے اسماء وصفات کے عین نہیں ‘جیسا کہ اعیانِ ثابتہ اسماء و صفات کے عین تھے۔چونکہ ان میں کمالات منعکس ہو چکے ہیں اس لیے وہ محض معدومات بھی نہ رہے۔ان کو وجود حقیقی بھی حاصل نہیں ہے کیونکہ وہ تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی کو حاصل ہے اور نہ ہی ان کو خیالِ محض کہا جاسکتا ہے جیسا کہ وجودی صوفیاء کا مسلک ہے ‘ورنہ نقائص کی عینیت کمالات کے ساتھ لازم آئے گی(اگر ان معدومات و نقائص کو وجود حقیقی حاصل ہو گیا تو گویا وہ کمالات کے عین ہو گئے‘ کیونکہ کمالات یعنی اللہ کی ذات و صفات ہی حقیقتاً موجود ہیں۔ خیالِ محض کہنے سے کمالات کی نقائص کے ساتھ عینیت اس طرح لازم آئےگی کہ خیال ایک اعتبار سے حقیقت کا عین ہوتا ہے‘ جس طرح ہم وجودی صوفیاء کے موقف میں دیکھ آئے ہیں کہ وہاں اعیانِ ثابتہ کو ظاہرِ وجود پر متجلی فرمایا گیا اور ممکنات کو ایک وجود تخیلی حاصل ہو گیاجس کی حقیقت وہ اعیانِ ثابتہ ہی ہیں ۔یہ تخیلی وجود من وجہ عین ہے اعیانِ ثابتہ کا۔وحدت الوجودی نظام فکر میں اعیانِ ثابتہ کمالات ہی ہیں کیونکہ وہ عین ہیں اسماء و صفات کے۔حضرت مجدد کے نظام فکر میں ممکنات کی حقیقت اعیان ثابتہ نہیں بلکہ عدمات ہیں۔ اس لیے اگر اسماء و صفات یا دوسرے الفاظ میں وجودات کی تجلی عدمات پر ہونے سے عدمات و نقائص کو وجود تخیلی حاصل ہو گا تو یہ اسماء و صفات کا عین ہو جائے گا ‘کیونکہ خیال وجودی ہوتا ہے‘ وہ عدمات کا عین نہیں ہو سکتا جبکہ ظلی وجود ماننے سے یہ اشکال لازم نہیں آتا‘کیونکہ ظل عدمی ہوتا ہے یعنی وہ روشنی کے نہ ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔واللہ اعلم)[وجودیہ کے موقف پر یہ اشکال سامنے نہ آسکتا تھا کہ وہاں ممکنات کے خیالی وجود کی عینیت کمالات ظاہر وجود کے ساتھ لازم آتی تھی کیونکہ وجودِ خیالی کوئی چیز نہ تھا۔](اس بریکٹ []والی عبارت میں متن کی جس عبارت کی تسہیل کی گئی ہے وہ انہی بریکٹس کے ساتھ وہاں پائی جاتی ہے ۔مطلب یہ کہ یہ حضرت تھانوی کی عبارت نہیں ہے اور اس کے مفہوم میں کچھ ابہام ہے۔بہرحال میں نے حضرت تھانوی ؒکی اس بریکٹ سے پہلے والی عبارت کی اپنی تفہیم و وضاحت بساط بھر پہلے بریکٹ میں عرض کر دی ہے)۔
خلاصہ یہ ہے کہ ان عدمات کا وجود نہ حقیقی ہے اور نہ خیالی بلکہ ان دونوں کے بیچ میں ہے اور اس کو وجودِ ظلی کہتے ہیں(خیالی بظاہر کچھ بھی نہیں ہوتا مگر اس کی حقیقت وجود ہے۔ظل بظاہر کچھ ہوتا ہے مگر اس کی حقیقت عدم ہے)۔ظل یا سایہ کا یہی معاملہ ہوتا ہے کہ جس کا وہ سایہ ہوتا ہے وہ اگر غائب ہو جائے تو وہ ختم ہوجاتا ہے مگر آنکھوں کی شعاع کے بند ہونے سے وہ معدوم نہیں ہوتا۔ان کے نزدیک ظلی وجود پہلے دی گئی مثال میں اس آئینہ کے سایہ کی طرح ہے جو دھوپ میں بنتا ہے۔اس سایہ کی حقیقت عدمِ نور ہے اور یہ خاص شکل و صورت‘ گول ہو یا چوکور‘ روشنی کے احاطے سے پیدا ہوتی ہے۔اگر دھوپ نہ ہو تو یہ خاص شکل بھی پیدا نہ ہو(شروع میںدی گئی مثال میں خیال کی تشبیہ آئینہ میں بننے والے سورج کی ٹکیا کے عکس سے دی گئی تھی کہ وہ اپنی ذات میں کچھ نہیں ہے‘حقیقت اس کی سورج ہی ہے۔مگر آئینہ کا سایہ جو اپنی صورت کے اعتبار سے خیال کے مقابلے میں زیادہ حقیقی ہے کہ آنکھ کی شعاع کے بند ہو جانے سے یہ معدوم نہیں ہوتا جبکہ عکس غائب ہو جاتا ہے)۔ہو سکتا ہے کہ مولانا روم ؒکے مندرجہ ذیل شعر میںعدم میں تصرف کرنے کو ہی بیان کیا گیا ہو:
پس خزانہ صنع حق باشد عدم
کہ بر آرد ازو عطاہا دمبدم
مبدع آمد حق و مبدع آن بود
کہ بر آرد فرع بے اصل و سند
(دفتر پنجم قبیل سرخی مثال عالم نیست ہست نما و عالم ہست نیست نما)
’’عدم اللہ تعالیٰ کی صناعی کا خزانہ ہے۔اس سے وہ مستقل مخلوقات کو وجود بخشتا رہتا ہے۔حق ہی پیدا کرنے والا ہے اور وہ ایسا پیدا کرنے والا ہے کہ ایسی فرع نکالتا ہے جس کی کوئی اصل اور سند ہی نہیں ہے۔‘‘
مولانا روم کے اس شعر کا اگر یہی مطلب ہو تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ وحدت الشہود کا اجمالی قول حضرت مجدد صاحب سے پہلے کا ہے‘ جس طرح وحدت الوجود کا اجمالی قول بھی حضرت شیخ اکبر ابن عربی سے پہلے کا ہے۔یہ پورا بیان ہے حضرت مجددصاحب کے مشرب کا جس کو وحدت الشہود کا عنوان دیا جاتا ہے۔ ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو اس کی حقیقت بھی وحدت الوجود ہی ہے جیسا کہ ابن عربی کی طرح مجدد صاحب کے ہاں بھی وجودِ حقیقی واحد ہی ہے۔فرق اتنا ہے کہ ابن عربی وجودِ ظلی کی نفی کرتے ہیں جبکہ مجدد صاحب اس کے قائل ہیں ۔ اصطلاحی طور پر وحدت الوجود کے یہ معنی ہوں گے کہ وجود کی وحدت کو ثابت کرناوجودِ ظلی کی نفی کے ساتھ۔مجدد صاحب وجودِ ظلی کی نفی کے قائل نہیں اس لیے ان کے مشرب کا عنوان وحدت الوجود نہیں ہوا۔(یہاں پر یہ اشکال بہرحال پیدا ہوتا ہے کہ وجود ظلی کے اثبات کے ساتھ وجود کی وحدت کیسے برقرار رہ سکتی ہے جبکہ وجود ظلی کو وجود نفس الامری حضرت تھانوی نے ہی آگے ارشاد فرمایا ہے!)
جہاں تک حضرت مجدد صاحب کے موقف کا عنوان وحدت الشہود قرار پانا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت مجدد صاحب شیخ اکبر کا عذر یہ بیان فرماتے ہیں کہ ان کو وجودِ حقیقی کے نور کے غلبے کی وجہ سے وجودِ ظلی کا مشاہدہ نہ ہوا‘ صرف وجود حقیقی و واحد کا ہی مشاہدہ ہوا جیسے بغیر قلعی شدہ آئینے کا سایہ کامل طور پر ظاہر نہیں ہوتا ‘کیونکہ اس میں سے دھوپ بھی چھن کر آرہی ہوتی ہے‘ اس لیے بعض اوقات کمزور نگاہ والوں کو سایہ نظرنہیں آتا بلکہ ہر طرف دھوپ ہی پھیلی ہوئی نظر آتی ہے۔(رسالہ کے آغاز میں جو مثال بیان کی گئی ہے اس میں بغیر قلعی کے آئینہ فرض کرنے کی وجہ بھی اس تطبیق کے نتیجے میں سمجھ آجاتی ہے )۔ حضرت مجدد صاحب نے اس حقیقت سے پردہ اٹھایا کہ وحدت الوجود اصطلاحی اصل میں وحدت الشہود ہے‘ اس وجہ سے ان کے مشرب کا عنوان وحدت الشہود ہو گیا۔گویا شیخ اکبرنے مسئلہ کی اصل حقیقت وحدت الوجود کو سمجھا جبکہ حضرت مجدد صاحب نے اسی مسئلہ کی حقیقت کو وحدت الشہود کی حیثیت سے ظاہر کیا ۔شیخ اکبر عالم کے وجود کی مکمل نفی کرتے ہیں اس لیے صرف وجودِ حق ہی کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ مجدد صاحب عالم کے لیے ظلی وجود ثابت کرتے ہیں لیکن مشاہدہ وجود حقیقی کا ہی کرتے ہیں‘ جیسے دن میں ستاروں کی موجودگی کے باوجود ان کا مشاہدہ نہیں ہو پاتا حالانکہ ان کو موجود سمجھا بھی جاتا ہے(یہ توجیہات مکتوباتِ حضرت مجدد ہی سے ماخوذ ہیں)۔اصطلاحی ناموں میں فرق کی یہی وجہ ہے‘ ورنہ وحدت الوجود کے لغوی معنی کے قائل ہونے میں دونوں شریک ہیں۔ شیخ اکبر ہوں یا مجدد صاحب دونوں وجود کو جزئی حقیقی کہتے ہیں(یعنی وجود ایک کلی مفہوم نہیں ہے کہ جس کے مصداقات بہت سے ہوں بلکہ اس کی مصداق ایک ایسی حقیقت ہے جو واحد ہے)۔پس چاروں مذاہب میں سے تین(حکماء اسلام‘قائلین بوحدت الوجود‘قائلین بوحدت الشہود)اس دعویٰ(وجود کے جزئی حقیقی ہونے )پر متفق ہیں۔صرف علماء ِظاہروجود کو کلی مشکک اور اس کے مصداقات کو متعدد مانتے ہیں۔(کلی مشکک کی اصطلاح کی تعریف پہلے کی جا چکی ہے۔ویسے تمام علماء ِظاہرکی طرف اس مسلک کی نسبت محل ِنظر ہے۔ایک رائے کے مطابق اکثرمتکلمین کے ہاں وجودِ کلی متواطی ہے۔)
مجدد صاحب کے موقف پر بہت سے وہ اعتراضات بھی وارد نہیں ہوتے جو وجودیہ کے موقف پر ہوتے تھے‘اگرچہ ان پر بھی جواب کے بعد ان کا اثر نہ رہا جبکہ یہاں تو وارد ہی نہیں ہوتے۔مثلاً دوسرا شبہ (شبہات کا بیان پہلے ہو چکا ہے وہاں سے رجوع کیا جاسکتا ہے)اس لیے وارد نہیں ہوتا کہ شہودیہ کے نزدیک عالم کا وجود ظلی ہے‘ خیالی نہیں اور وجودِ ظلی وجودِ نفس الامری ہی کی ایک قسم ہے(وجود ظلی کو وجودِ نفس الامری کی ایک قسم مان کر وجود کے جزئی حقیقی ہونے کا موقف کچھ مفہوم نہیں ہوپا رہا۔اگرچہ حضرت تھانوی حضراتِ وجودیہ و شہودیہ کے مابین نزاعِ حقیقی کے قائل ہیں‘ جیسا کہ دونوں مواقف کی توضیحات سے اظہر من الشمس ہو جاتا ہے لیکن شاید وجودیہ و شہودیہ کے مواقف کی دوسرے مواقف سے امتیاز کے لیے یا مجدد صاحب کی بعض عبارات کی توجیہ کے لیے وجود کے جزئی حقیقی ہونے کے قول میں شہودیہ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔لیکن یہ اشکال بہرحال اپنی جگہ پر باقی رہے گا کہ وجودِ ظلی کو وجودِ نفس الامر ی کی ایک قسم مان کر وجود کو جزئی حقیقی کہنا کیسے ممکن ہے۔واللہ اعلم)۔تیسرا شبہ اس لیے وارد نہیں ہوتا کیونکہ شرور و نقائص کی اصل عدمات کو مانا جاسکتا ہے(وجودی نظام فکر میں ممکنات کی ماہیات چونکہ اعیانِ ثابتہ تھے اس لیے وہاں یہ اعتراض وارد ہوتا ہے‘ اگرچہ انہوں نے اس کا مناسب جواب دے دیا۔ یہاں تو وہ اعتراض سامنے ہی نہیں آتا کیونکہ ممکنات کی ماہیا ت عدمات ہیں نہ کہ اعیانِ ثابتہ)۔چوتھا اعتراض اس لیے وارد نہیں ہوتا کیونکہ یہ تمام کمالات کی مستقل تجلی کے قائل ہیں( عدمات باہم متمیز تھے اضافی اور اعتباری طور پر۔اس کی کچھ تفصیل آگے آئے گی۔ہر عدم پر اس کے متقابل وجود کی تجلی ہوئی جس سے ممکنات کو وجود ظلی حاصل ہوا)۔پانچواں شبہ یہاںپر اس لیے پیش نہیں آتا کیونکہ شہودیہ کے نزدیک تجلی کرنے والے اور جس پر تجلی کی جا رہی ہے ان میں باہم عینیت کا احتمال ہی نہیں(کہ تجلی کے بارے میں یہ سوال پیدا ہو کہ وہ کیسے ہوئی)۔
جہاں تک پہلے شبہ کی بات ہے تو وہ یہاں بھی پیش آسکتا ہے ۔عدمات پر اسماء و صفات کی تجلی کا مطلب کیا ہے؟ یہ سوال یہاں اجمال کے ساتھ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔اجمالی طور پر اس کا جواب وہی ہے جو وحدت الوجود پر اس شبہ کے وارد ہونے پر دیا گیا تھا۔تفصیل کے ساتھ اس مسئلہ کو جب اٹھایا جائے گا تو اس کا تفصیلی جواب پہلے دیے گئے تفصیلی جواب سے فرق ہو جائے گا‘کیونکہ یہ تفصیلی سوال بھی وہاں کے تفصیلی سوال سے فرق ہے اور یہ بات ذرا سے غور و فکر سے معلوم ہو سکتی ہے کہ یہ زیادہ مشکل بھی ہے‘کیونکہ اس میں عدم کے لیے وجود کے احکام بیان کیے گئے (یعنی تجلی عدمات پر ہو رہی ہے مگر جس پر تجلی ہو اس کا موجود ہونا پہلے ضروری ہے)۔پھر ان عدمات کے لیے قدم کا حکم کرنا بھی ضروری قرار پاتا ہے۔اگرچہ جواب کے بعد یہ اعتراض ختم ہو جاتا ہے لیکن اس اعتراض اور اس سوال کے مشکل ہونے میں شبہ نہیں ہے اور اسی وجہ سے یہ کہنا کہ وحدت الوجود عقل سے زیادہ دور ہے بنسبت وحدت الشہود ‘ زیادہ قرین ِعقل نہیں ہے۔(اگرچہ اس رسالہ میں حضرت تھانوی نے اپنے موقف کے بیان سے گریز کیا ہے مگر یہاں سے ایک گونہ اشارہ ملتا ہے کہ ان کے ہاں رجحان عقلی طور پر وحدت الوجود کی طرف ہے۔واللہ اعلم) وہ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ عدمات جب کسی بھی قسم کے وجود سے متصف ہی نہیں ہیں تو پھر وہ وجودات(اسماء و صفات)کے منعکس ہونے کا محل و مقام کیسے بن گئے جبکہ کسی وجودی شئے کا محل و مقام بننے کے لیے موجود ہونا تو ضروری ہے؟اس کا جواب یہ ہے کہ عدمات چاہے موجود نہ ہوں مگر ہیں واقعی(یعنیrealتو نہیں ہیں مگر ہیںactual)۔مثلاً یہ قضیہ لازمی طور پر سچ ہے کہ ذاتِ حق میں عجز معدوم ہے۔اگر یہ عجز کا عدم واقعی نہ ہوگا تو‘ معاذ اللہ‘ عجزکا وجود واقعی ہو گا کیونکہ ارتفاعِ نقیضین محال ہے(اجتماع یا ارتفاعِ نقیضین کا محال ہونا عقل اور وجود کا بنیادی قانون ہے اور تمام محالات کا تعین اسی اصول سے ہوتا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ یہ صرف قانونِ عقلی ہے بلکہ جملہ موجودات میں جاری ہے۔اس کا سادہ بیان یہ ہے کہ وجود عدم نہیں ہو سکتا اور نہ عدم وجود ہو سکتا ہے اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ نہ عدم ہو نہ وجود۔نقیضین اور ضدین میں فرق یہ ہے کہ نقیضین کی دونوں اطراف میں سے ایک عدمی ہوتی ہے اور ایک وجودی‘جیسے ’’ہونا‘‘اور ’’نہ ہونا‘‘ہے‘ لہٰذا نقیضین میں نہ اجتماع ہو سکتا ہے اور نہ ارتفاع۔ ضدین میں دونوں اطراف وجودی ہوتی ہیںمثلا سفید اور کالا ۔یہ دونوں جمع تو نہیں ہو سکتے یعنی اجتماعِ ضدین محال ہے مگر ارتفاعِ ضدین محال نہیں ہے یعنی یہ ممکن ہے کہ نہ کالا ہو اور نہ سفید بلکہ سرخ ہو۔اس مثال میں بھی نقیضین کا بیان ہے کہ عجز یا موجود ہوگا یا معدوم۔عجز اگر معدوم نہ ہوگا یا دوسرے الفاظ میں اس کا عدم واقعی نہ ہوگا تو لازمی بات ہے کہ عجز موجود ہوگا‘کیونکہ یہ دو ہی صورتیں ممکن ہیں‘ کوئی تیسری صورت ممکن نہیں ہے اور عجز کا ذاتِ واجب میں موجود ہونا محال ہے جس پر دلائل قائم ہیں۔) عجز کا وجود ذاتِ حق کے لیے محال ہے۔ لہٰذا عدم کی واقعیت ثابت ہو گئی۔
اس طرح دوسرے عدمات کا معاملہ ہے۔اگر یہ شبہ پیش کیا جائے کہ قضیہ موجبہ(جس میں کسی کے لیے کوئی شئے ثابت کی جائے)کے لیے موضوع کا وجود شرط ہے(یعنی موضوع ہوگا تو اس کے لیے کوئی محمول ثابت کیا جائے گا)اور یہاں جو موضوع ہے یعنی عجز وہ موجود ہی نہیں تو یہ قضیہ موجبہ کہ عجز معدوم ہے کیسے صحیح ہو گا؟جواباً عرض ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ موجبہ(affirmative) بھی حقیقت میں سالبہ(negative) ہے(جس میں موضوع سے محمول کی نفی کی جاتی ہے)۔یعنی یہ کہ عجز موجود نہیں ہے لیکن یہ سالبہ واقعی ہے تو عدم کا واقعی ہونا تو بہرحال ثابت ہی رہا۔اگر اس کو قضیہ موجبہ بھی مان لیا جائے تب بھی محقق ماہرین ِمنطق نے اس اشتراط (کہ قضیہ موجبہ کے لیے موضوع کا وجود شرط ہے)ہی کو تسلیم نہیں کیا۔اس مسئلہ پر حمد اللہ(مولوی حمداللہ شرح سلم العلوم از محب اللہ بہاری) نے بحث کی ہے اور ان کے نزدیک موضوع ومحمول(subject and predicate)میں صرف تعلق شرط ہے جو یہاں پایا جاتاہے(یعنی موضوع کا تصور کفایت کرتا ہے اور اس کا وجود ضروری نہیں )۔بہرحال جب عدمات کی واقعیت ثابت ہو گئی تو وہ(وجودات کے لیے)انعکاس کا محل بن سکتے ہیں۔ یہ بات تسلیم شدہ نہیں ہے کہ وجودی کے انعکاس کا محل و مقام بننے کے لیے وجودیت شرط ہے ۔صرف واقعیت کافی ہے اور وہ پائی جا تی ہے۔اگریہ اعتراض کیا جائے کہ عدم تو قدیم(یعنی ہمیشہ سے ہے)ہے اور اگر اس عدم کو واقعی مان لیا گیا تو واقعیات کا قدم لازم آجائےگا(یعنی ایک واقعی شئے قدیم قرار پائے گی اور سبحانہ و تعالیٰ کے علاوہ کچھ بھی قدیم نہیں ہے)۔اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ کسی چیز کے عدم کا قدم اس کے قدم کا عدم ہے(یعنی کسی کا ہمیشہ سے معدوم ہونا درحقیقت اس بات کا بیان ہے کہ وہ قدیم نہیں ہے۔قدیم کہتے ہی اس کو ہیں جو غیر مسبوق بالعدم ہو یعنی اس سے پہلے عدم نہ ہو‘ جبکہ جس کا عدم قدیم ہو وہ تو ہے ہی معدوم۔اب وہ وجود میں آسکتی ہے اگر وہ معدوم ممکن ہو۔لیکن اگر وہ معدوم ممتنع ہو تو وہ وجود میں آ ہی نہیں سکتا‘ہاں نفس تصور اس کا بھی ممکن ہے۔یہاں عدمات کے لیے جو واقعیت ثابت کی گئی ہے تو وہ واقعیت کوئی وجودی حکم نہیں ہے بلکہ صرف تصور کی واقعیت ثابت کی گئی ہے نہ کہ وجود کی)۔ یہاں یہ قدم کا عدم ہی تو مطلوب ہے(کہ باری تعالیٰ کے علاوہ ہر شئے حادث ہے)اور اس سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا‘صرف الفاظ وحشت کا باعث بنتے ہیں مگر اصل اعتبار تو معانی کا کیا جاتا ہے نہ کہ الفاظ کا۔اگر یہ کہا جائے کہ عدم تو ایک واحد حقیقت ہے (حقیقت یہاں مجازی معانی میں ہے)‘اس کے اجزا الگ الگ نہیں ہیںنہ ان میں باہم کوئی تمیز ہے تو پھر اسماء و صفات جو مختلف ہیں (اور باہم متمیز ہیں)ان کی تجلی اس پر کیسے ہوئی کہ اس سے ایک محل پر مختلف احوال کا ایک ساتھ وارد ہونا لازم آتا ہے حالانکہ یہ غیر معقول ہے(اس کی غیر معقولیت واضح ہے)؟اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے باوجود کہ عدم ایک واحد حقیقت ہے مگر جس کی طرف وہ اضافت رکھتا ہے اس میں تمایز ہے(یعنی اسماء و صفات)اس لیے اس میں بھی ایک اضافی اور اعتباری تمییز پیدا ہو جاتی ہے(عدم اپنی ذات میں تو کچھ نہیں ہے۔اس کا تصور وجود کی نسبت ہی سے پیدا ہوتا ہے۔جب اس کا مجازی وجود ہی نسبی اور اضافی ہےتو یہی نسبت اور اضافت اس میں اضافی و اعتباری تمییز کا باعث بھی بن سکتی ہے۔اس میں کیا اشکال ہے)۔پس جیسے حال میں تعدد ہے ‘اس کی وجہ سے محل میں بھی تعدد ہو گیا اور کوئی اشکال نہ رہا۔
شبہات تو سب دور ہو گئے۔باقی جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ اس انعکاس کی حقیقت کیا ہے تو کشفی امور کی حقیقت ہمیں کیا معلوم ہوتی ‘عقلاء عقلی امورکی حقیقت بیان کرنے سے عاجز ہیں۔چنانچہ (ذہن یا حس میں)جن ارتسامات اور انتفاشات(ثبت ہو جانا‘جم جانا‘منعکس ہو جانا ‘نقش ہو جانا)جیسے محسوس صورتوں کا حس مشترک اور خیال میں ثبت ہو جانا اور ثابت رہنا ‘ جزئی معانی کا وہم اور حافظہ میں نقش ہو جانا ‘ کلی معانی کا ادراک عقل کے ذریعے ہونا اور ان کا عقل فعال میں محفوظ ہونا ‘ یہ آخری بات سب سے زیادہ بے جوڑ ہے۔بہرحال یہ سب فلسفیوں اور حکماء کے دعویٰ ہیں جن میں سے کچھ سے بعض حکماء اسلام بھی متفق ہیںمگر آج تک اس کی حقیقت نہ جان سکے اور اسی وجہ سے باہم بھی اس بارے میں کثرت سے اختلاف کرتے ہیں۔(یہاں حضرت تھانوی نے حواس خمسہ باطنہ کا بیان کیا ہے جو بہت سے حکماء اور فلاسفہ کے ہاں معروف ہے۔حس مشترک ‘خیال‘وہم‘حافظہ اور متصرفہ یہ پانچ باطنی حواس ہیں۔متن میں متصرفہ کو ہی غالباً عقل کہا گیا ہے کیونکہ ترکیب و تحلیل اسی کا کام ہے۔عقل فعال حکماء کے تصور عقول عشرہ میں سے دسویں عقل ہے جو عالم سفلی میں صورتوں کو دینے والی اور اعراض کو بخشنے والی ہے اور انفرادی نفوس و عقول کے ساتھ براہ راست ربط رکھتی ہے۔)پس اگر اسماء و صفات کے عدم پر اثر انداز ہونے کی حقیقت معلوم نہ ہو مگر کوئی عقلی یا نقلی دلیل اس کے خلاف بھی نہیں ہے تو صرف حقیقت نہ معلوم ہونے کی وجہ سے انکار کرنا ضروری نہیں ہے۔
شہودی مذہب کا بیان بھی الحمدللہ مکمل ہو گیا اور ہمارا مقصد بھی حاصل ہو گیا۔اب بطورِ اختتام ان دونوں مذاہب میں فرق کا خلاصہ عرض کرتا ہوں اور پھر ایک وصیت پر اس رسالے کو مکمل کرتا ہوں ۔
وحدت الوجود کے قائلین کے نزدیک اس عالم کی حقیقت اسماء و صفات ہی ہیں جن کی ظاہر وجود پر تجلی کے نتیجے میں اس عالم کا وجود خیالی پیدا ہوا۔اس عالم کو کبھی بالکل معدوم محض کہہ دیا جاتا ہے(یعنی کہ گویا وہ ہے ہی نہیں)مگر اس کے ساتھ بہت سے احکام اس سے متعلق ہیں ۔کبھی اس عالم کے بارے میں یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ حق کا عین ہے۔ دونوں کا حاصل ایک ہی ہے(یعنی معدوم محض کہنے اور عین حق کہنے کا‘کیونکہ عالم کا وجود خیالی ہے مگر اس خیال کو خیال حادث پر قیاس نہیں کیا جا سکتا)۔وحدت الشہود کے قائلین کے نزدیک اس عالم کی حقیقت عدمات ہیں جن پر اسماء و صفات کی تجلی ہوئی جس کے نتیجے میں عالم کا وجودِ ظلی پیدا ہوا۔اس لیے وہ عالم کو نہ معدومِ محض سمجھتے ہیں اور نہ یہ کہتے ہیں کہ وہ عین حق ہے(یہاں ان دو مواقف میں حقیقی اختلاف بالکل ظاہر و باہر ہو جاتا ہے۔ اور یہ کہنا کہ یہ اختلاف لفظی ہے ‘اس کی کوئی حکمت تو ہو سکتی ہے مگر حقیقت کے مطابق اس کو نہیں کہا جاسکتا ۔واللہ اعلم)۔باقی اس عالم کے بارے میں یہ کہنے میں وجودی اور شہودی دونوں شریک ہیں کہ اس عالم کو حقیقی وجود حاصل نہیں اور اس میں اہل ِ ظاہر کی ملامت کے دونوں ہدف ہیں(حضرت تھانوی نے اہل ِظاہر کا جو موقف وجود کے بارے میں نقل کیا ہے وہ کلی مشکک ہونے کا ہے۔اس اصطلاح کی شرح پہلے بیان کی جا چکی ہے۔ اہل ظاہر کے مذہب کی رو سے بھی اگر عالم کے وجود کو غیر حقیقی اللہ تعالیٰ کے وجود کی نسبت سے کہہ دیا جائے تو اس کی گنجائش ہے۔جیسے ممکنات کا علم واجب کے علم کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے اسی طرح ممکنات کو وجود کا معاملہ واجب کے وجود کے مقابلے پر ہے۔اس طرح علماء ِظاہر کا مو قف حضرت مجدد صاحب کے موقف کے بہت قریب آجاتا ہے اور اہل ِظاہر کی ملامت کو مجدد صاحب پر سے بہت حد تک ختم کیا جا سکتا ہے کیونکہ دونوں عالم کے لیے وجود نفس الامری کے قائل ہیں۔ وجودِ ظلی ‘وجودِ نفس الامری ہی کی ایک قسم ہے۔اس کوحضرت تھانوی پہلے بیان کر چکے ہیں۔وجودِ خیالی وجودِ نفس الامری نہیں ہے۔حقیقی اختلاف یہاں پر واضح ہوتا ہے۔واللہ اعلم)۔ یہ ملامت شیخ ابن عربی پر زیادہ اس لیے ہے کہ ان کے کلام کو غلط سمجھے ہیں(اس کے دو مطالب ہو سکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ ان کو موقف کو ہی نہیں سمجھے ‘دوسرا یہ کہ اس بات کو نہیں سمجھ سکے کہ یہ موقف کسی قطعی عقلی یا نقلی دلیل کے خلاف نہیں ہے۔ایسا لگتا ہے کہ بہت سے حضرات سے غلط سمجھنے کا یہ دوسرا مطلب متعلق ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔اور اس رسالے ’’ظہور العدم بنور القدم‘‘ میں حضرت تھانوی نے بنیادی طور پر یہ بات بیان کی ہے کہ یہ مسئلہ علمی اور کلامی ہے جس میں اختلاف کی گنجائش ہے۔کسی عقلی و نقلی دلیل کے خلاف نہیں ہے تو اس کی بنا پر تضلیل‘تکفیر اور تفسیق درست رویہ نہیں ہے)حالانکہ یہ بات ظاہر ہے کہ اگر شیخ کا کلام محض گمراہی ہوتا تو حضرت مجدد صاحب اس کو بیان کرنے کے بجائے اس کو باطل قرار دے کر شیخ ابن عربی کی تضلیل اور تکفیر کرتے۔بجائے اس کے وہ شیخ کو غلطی پر سمجھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول لوگوں میں شمار کرتے ہیں‘ جیسا کہ ان کے مکتوبات میں اس کابیان ہے۔(حضرت مجدد صاحب نے ابن ِعربی کو گمراہ کہنے یا کافر قراردینے کے بجائے ان کو غلطی پر سمجھا ہے اور نہایت ادب کے ساتھ اپنے تئیں اس غلطی کی اصلاح کی ہے اور ان کو مقبولانِ بارگاہ الٰہی میں شمار کیا ہے۔اس کے بیان میں مکتوبات کی بہت سی عبارتیں نقل کی جاسکتی ہیں۔)
وصیت
عام طور پر علم الکلام سے متعلق تمام مسائل میں اور خاص طور پر ان مباحث میں جن کا تعلق ذات و صفات سے ہے‘ بغیر کسی قطعی عقلی یا نقلی دلیل کے محض ظنیات کی بنیاد پر کوئی حکم کرنا ‘ (ظنیات میں کشف بھی شامل ہے)اور کشف ظنیات میں بھی سب سے کمتر درجے پر ہے‘شدید خطرے کا مقام اور سلف صالحین کے مسلک کے خلاف ہے۔جن بزرگوں نے ان موضوعات پر کچھ کلام کیا ہے ان میں سے اکثر کا مقصد شبہات اور خواہشات کے پیچھے پڑنے والوں کا ردّ تھا(جیسے مجدد صاحب نے وجودی موقف میں غلو کرنے والوں کی اصلاح کی غرض سے اس مسئلے پر کلام کیا)۔اگر بعض بزرگوں نے اس کو مقصود بنایا جو خلافِ احتیاط ہے(حضرت تھانوی نے یہاں ان پر کوئی حکم نہیں لگایا‘ بس ان کے ایک فعل کو خلافِ احتیاط کہا ہے)ایسے مسائل میں سلامتی اسی میں ہے کہ نصوص سے آگے پیچھے نہ ہوا جائے اور سلف کے مسلک پر عمل کیا جائے اور ان کے اس ارشاد کہ ’’جس کو اللہ نے مبہم رکھا ہے اس کو مبہم ہی رہنے دو‘‘ کو مشعل ِراہ بنایا جائے۔اگر کوئی حقیقت جو نص سے زیادہ ہو (یعنی نص میں اس کا واضح بیان نہ ہو)اور وہ کسی بھی دلیلِ ظنی سے ‘اور ظاہر ہے کہ کشف بھی اس میں شامل ہے ‘واضح ہو جائے اور وہ کسی قطعی عقلی دلیل اور کسی ظنی یا قطعی نقلی دلیل کے خلاف بھی نہ ہو تو اس میں زیادہ غور و خوض نہ کریں اور دونوں جانب کا احتمال سمجھیں۔چونکہ یہ مسئلہ بھی جس کے بارے میں اس رسالے میں کلام کیا گیا ہے‘انہی مسائل میں سے ہے جن کا تعلق ذات وصفات سے ہے اور اس کی بنیاد بھی حادث اور قدیم کے مابین ربط کا مسئلہ ہے(اگر علمی طور پریہ سوال پوچھا جائے کہ وحدت الوجود بنیادی طور پر کس سوال کا جواب ہے یا کس مسئلے کا حل ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حادث اور قدیم کے مابین ربط کے مسئلے یا سوال کا)اس لیے اس کے ساتھ بھی یہی معاملہ رکھیں۔ اجمالی طور پر یہ عقیدہ تو پورے یقین کے ساتھ رکھیں کہ عالم پہلے معدوم تھا ‘اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے علم و قدرت اور ارادے سے وجود بخشا۔باقی جہاں تک اس سوال کامعاملہ ہے کہ کیسے پیدا فرمایا ‘تو اس میںنہ غور و فکر کریں اور نہ(بلاضرورت)کلام کریں‘جس طرح تقدیر کے مسئلے میں احادیث میں بھی یہی تعلیم دی گئی ہے کہ اجمالی طور پر اس کے اعتقاد کو فرض اور شرطِ ایمان بیان کیا گیا ہے اور تفصیل کے درجے میں غور و فکر کرنے اور بات کرنے کو منع فرمایا گیا ہے۔(یہاں پر یہ بات قابل غور ہے کہ متکلمین اسلام نے اس مسئلے پر کلام فرمایا ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انہوں نے اس نبوی ممانعت کی پروا نہیں کی!یقیناً ایسی بات نہیں ہے بلکہ وہ کلام کچھ ضرورتوں سے کیا گیا ہے۔ مثلاً یہ کہ جب کچھ باطل فرقوں نے جبر و قدر کے مسئلے میں افراطی و تفریطی تصورات بیان کرنے شروع کیے تو متکلمین ِاہل ِسُنّت کو اس بات کی حاجت ہوئی کہ وہ ان باطل نظریات کا ردّ کریں اور اس مسئلے میں صحیح عقیدہ مدلل بیان کریں ۔لہٰذا انہوں نے یہ کیا اور اس مسئلے پر طول طویل کلام بھی کرنا پڑا۔اسی طرح کا معاملہ یہاںہوا کہ جب کچھ بزرگوں سے حادث اور قدیم کے ربط وجود کی وحدت کے بارے میں کچھ معارف ظاہر ہوئے جن میں سے بعض کے ہاں اس کے اظہار کی وجہ احوال کا غلبہ تھا اور بعض کے ہاں قوتِ عقلیہ کا کمال‘اور ظاہر ہے کہ یہ اظہار عوام کے لیے تھا ہی نہیں‘لیکن کچھ غیر محتاط صوفیاء اور شاعروں کے ہتھے چڑھنے کی بنا پر اس سے عقائد کی خرابی پیدا ہونا شروع ہو چکی تھی جس کے ردّ ِ عمل میں علماء ِظاہر نے ان بزرگوں کی بھی تضلیل و تکفیر شروع کر دی۔اس رسالہ کا وجہ جواز بھی یہیں سے جنم لیتا ہے کہ اس مسئلے کا صحیح صحیح علمی و کلامی بیان کیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ یہ مسئلہ کسی بھی قطعی عقلی و نقلی دلیل کے خلاف نہیں ہے)۔ اللہ ہی توفیق دیتا ہے ہر مقلد‘محقق‘ناقل اور تدقیق کرنے والے کو۔تمت الحمدللہ!
ژژژ
tanzeemdigitallibrary.com © 2025